Baaghi TV

Tag: باب المندب

  • پاکستانی تیل بردار جہاز باب المندب سے نکلنے میں کامیاب

    پاکستانی تیل بردار جہاز باب المندب سے نکلنے میں کامیاب

    حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرہ احمر میں کی جانے والی ناکہ بندی کے باوجود دو پاکستانی ایندھن بردار جہاز سعودی عرب کا خام تیل لے کر بغیر کسی،،نرکاوٹ کے باب المندب اور بحیرہ احمر سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے۔

    بحری نقل و حمل پر نظر رکھنے والی عالمی انٹیلی جنس کمپنی ’ونڈوارڈ‘ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، افرامیکس کلاس کے ان دونوں تیل بردار جہازوں نے سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے خام تیل لوڈ کیا اور اپنا ٹریکنگ سسٹم مسلسل آن رکھتے ہوئے واپس پاکستان روانہ ہوئے۔

    ونڈوارڈ کے مطابق 20 جولائی کو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بندرگاہوں اور متعلقہ جہاز رانی پر ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے، چین سے منسلک بحری جہازوں کے علاوہ سعودی عرب سے وابستہ دیگر تمام تیل بردار جہازوں کو یا تو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا یا پھر انہیں طویل اور دشوار گزار راستہ، یعنی کیپ آف گڈ ہوپ سے چکر لگا کر گزرنا پڑ رہا تھا۔

    ایسے کشیدہ ماحول میں پاکستانی جہازوں کا یہ محفوظ سفر ایک انتہائی اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہےپاکستانی جہازوں کا یہ کامیاب بحری سفر ایک ایسے وقت میں ممکن ہوا ہے جب کچھ ہی دن قبل پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے حوثیوں کو واضح اور سخت وارننگ دی تھی۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اور حکام کی جانب سے اپنے بیان میں کہا گیا تھا کہ ”کسی بھی پاکستانی پرچم بردار بحری جہاز پر کیا جانے والا کوئی بھی حملہ ملک کی سلامتی اور قومی تحفظ کے لیے برا راست خطرہ تصور کیا جائے گا-

  • سعودی تیل کے ٹینکرز باب المندب سے واپس لوٹ گئے

    سعودی تیل کے ٹینکرز باب المندب سے واپس لوٹ گئے

    یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کا سمندری محاصرہ کرنے اور سعودی تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد بحرِ احمر سے ایشیا جانے والے سعودی خام تیل کے دو بڑے ٹینکرز منگل کے روز واپس لوٹ گئے۔

    حوثیوں کی جانب سے جہاز رانی کی کمپنیوں کو خط کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی کہ کوئی بھی جہاز جو سعودی تیل لوڈ یا ان لوڈ کرے گا اس پر حملہ کیا جائے گا۔
    اس تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں دو فیصد سے زائد بڑھ کر 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

    یمن بحرِ احمر کے جنوبی راستے باب المندب کے قریب واقع ہے، اور اس اہم راستے کی بندش سے توانائی بحران اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

    آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے خلیجی ممالک کے تیل اور دیگر مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے بحرِ احمر ایک انتہائی اہم متبادل راستہ بن چکا ہے۔ اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ کے دونوں بڑے تیل برآمد کرنے والے راستے ایک ساتھ بند ہو جائیں گے۔

    پہلے ہی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی سے خلیجی خطے سے تیل کی زیادہ تر برآمدا ت متاثر ہیں،ا س مصیبت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے اپنی خام تیل کی 70 فیصد برآمدات بحرِ احمر کی ینبع بندرگاہ کی طرف موڑ رکھی ہیں، ینبع سے یورپی ممالک کو جانے والے جہاز نہر سویز کے ذریعے شمال کی طرف اور ایشیا جانے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں اعداد و شمار کے مطابق جون میں باب المندب کے راستے روزانہ 7.4 ملین بیرل تیل منتقل ہوا جو عالمی پیداوار کا تقریباً سات فیصد ہے۔

    یمن میں حوثی تحریک کی شروعات 1990 کی دہائی میں ہوئی اور وہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی عرب کی حمایتی حکومت کے خلاف نبرد آزما ہیں دونوں فریقین کے درمیان 2022 میں ہونے والا معاہدہ قائم تھا، لیکن گزشتہ ہفتے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کی وجہ سے تنازع دوبارہ بڑھ گیا حوثیوں نے اس کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتے ہوئے ابہا ایئرپورٹ پر میزائل داغے۔

  • حوثیوں کی سعودی عرب کیلئے آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکی

    حوثیوں کی سعودی عرب کیلئے آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکی

    صنعاء: یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یمنی بندرگاہوں پر بحری ٹریفک سے متعلق عائد پابندیاں اور رکاوٹیں ختم نہ کی گئیں تو سعودی بحری جہازوں کے لیے آبنائے باب المندب بند کر دی جائے گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کو ایک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یمنی بندرگاہوں پر بحری نقل و حمل میں حائل تمام رکاو ٹیں فوری طور پر ختم کی جائیں تاکہ تجارتی اور انسانی امدادی سرگرمیاں بحال ہو سکیں، اگر مقررہ مدت کے اندر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو سعود ی عرب سے وابستہ بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی وہ اس اقدام کو یمن پر عائد بحری پابندیوں کے جوا ب میں ضروری سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

    آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے اس راستے سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل، گیس اور تجارتی سامان دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچایا جاتا ہےماہرین کے مطابق اگر اس اہم بحری راستے پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور شپنگ انڈسٹری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کی اس تازہ دھمکی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔