Baaghi TV

سعودی تیل کے ٹینکرز باب المندب سے واپس لوٹ گئے

saudia

یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کا سمندری محاصرہ کرنے اور سعودی تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد بحرِ احمر سے ایشیا جانے والے سعودی خام تیل کے دو بڑے ٹینکرز منگل کے روز واپس لوٹ گئے۔

حوثیوں کی جانب سے جہاز رانی کی کمپنیوں کو خط کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی کہ کوئی بھی جہاز جو سعودی تیل لوڈ یا ان لوڈ کرے گا اس پر حملہ کیا جائے گا۔
اس تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں دو فیصد سے زائد بڑھ کر 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

یمن بحرِ احمر کے جنوبی راستے باب المندب کے قریب واقع ہے، اور اس اہم راستے کی بندش سے توانائی بحران اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے خلیجی ممالک کے تیل اور دیگر مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے بحرِ احمر ایک انتہائی اہم متبادل راستہ بن چکا ہے۔ اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ کے دونوں بڑے تیل برآمد کرنے والے راستے ایک ساتھ بند ہو جائیں گے۔

پہلے ہی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی سے خلیجی خطے سے تیل کی زیادہ تر برآمدا ت متاثر ہیں،ا س مصیبت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے اپنی خام تیل کی 70 فیصد برآمدات بحرِ احمر کی ینبع بندرگاہ کی طرف موڑ رکھی ہیں، ینبع سے یورپی ممالک کو جانے والے جہاز نہر سویز کے ذریعے شمال کی طرف اور ایشیا جانے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں اعداد و شمار کے مطابق جون میں باب المندب کے راستے روزانہ 7.4 ملین بیرل تیل منتقل ہوا جو عالمی پیداوار کا تقریباً سات فیصد ہے۔

یمن میں حوثی تحریک کی شروعات 1990 کی دہائی میں ہوئی اور وہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی عرب کی حمایتی حکومت کے خلاف نبرد آزما ہیں دونوں فریقین کے درمیان 2022 میں ہونے والا معاہدہ قائم تھا، لیکن گزشتہ ہفتے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کی وجہ سے تنازع دوبارہ بڑھ گیا حوثیوں نے اس کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتے ہوئے ابہا ایئرپورٹ پر میزائل داغے۔

More posts