Baaghi TV

Tag: بارش

  • کراچی میں بارش،بجلی غائب،پروازیں تاخیر کاشکار،فوج مدد کو پہنچ گئی

    کراچی میں بارش،بجلی غائب،پروازیں تاخیر کاشکار،فوج مدد کو پہنچ گئی

    شہر قائد کراچی کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی ہے،
    کراچی کے علاقوں نارتھ کراچی، سائٹ ایریا،سرجانی ٹاؤن، منگھوپیر، ناردرن بائی پاس، کورنگی انڈسٹریل ایریا اور ملیر میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے،شاہراہ فیصل پر پھسلن کے باعث متعدد موٹر سائیکل سوار گر کر زخمی ہوگئے ہیں، گڈاپ، سرجانی ٹاؤن، تیسر ٹاؤن، صدر کے علاقے میں کہیں ہلکی، درمیانی اور کہیں بوندا باندی کا سلسلہ جاری ہے،کراچی میں بارش کے ہوتے ہی کے الیکٹرک کے 145 فیڈر ٹرپ کر گئے کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی معطل ہو کر رہ گئی.

    پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی نمائندے شہر قائد میں بارش کے بعد نکاسی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے نکل پڑے،ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نےشہر کے اولڈ ایریاز اور نشیبی علاقوں میں پانی کی نکاسی کے انتظامات کا جائزہ لیا،

    محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں ہونے والی بارش کے اعدادوشمار جاری کردیئے،
    سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاون میں 7ملی میٹرریکارڈ ہوئی،کیماڑی میں 5ملی میٹر،اورنگی ٹاون میں 4.8 ملی میٹر،قائدآباد میں 4ملی میٹربارش ہوئی،پی اے ایف بیس مسرورپر2.5ملی میٹر،کورنگی،سعدی ٹاون میں 2ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی، یونیورسٹی روڈ پر1.5ملی میٹر،ڈی ایچ اے فیز2،اولڈ ائیرپورٹ اورجناح ٹرمینل پر1 ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی،سب سے کم بارش پی اے ایف بیس مسرور پر0.9ملی میٹرریکارڈ ہوئی.

    کراچی میں بارش کی وجہ سے ایئر پورٹ پر بھی مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، پروازوں کی آمد و روانگی میں تاخیر دیکھنے میں آئی ہے،بارش کی وجہ سے کراچی اسلام آباد کی پی آئی اے کی پرواز پی کے 368 کی روانگی میں سوا گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئی جبکہ کراچی اسلام آباد کی دوسری پرواز پی کے 308 کی روانگی میں بھی ایک گھنٹے کی تاخیر ہے،ملتان کی پرواز پی کے 330 بھی ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوگی جبکہ کراچی سے پشاور کی پرواز ڈھائی گھنٹے تاخیر سے جائے گی

    پاک فوج کی کراچی کے بارش سے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کی تیاریاں مکمل ہیں،حالیہ پیشنگوئی کے مطابق ہونے والی بارش کے نتیجے میں صورتحال سے نمٹنے کیلئے ڈرینج سسٹمز اور پمپنگ کے ذریعے پاک فوج کی جانب سے پانی کی نکاسی کا سلسلہ جاری ہے،پاک فوج کے جوان مقامی انتظامیہ کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کے ہمراہ موجود ہیں،پاک فوج کی مختلف ریسکیو ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں،پاک فوج قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں رین ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام بلدیاتی اداروں، انتظامیہ اور اسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے چھٹیاں منسوخ کر دی تھیں،وزیراعلیٰ سندھ نے عوام سے غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے کی اپیل بھی کی ہے جبکہ کنٹونمنٹ ہیڈکوارٹر میں بھی ایمرجنسی سیل قائم کیا گیا ہے،میئر کراچی مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ شہر کے نالوں اور چوکنگ پوائنٹ کو کھول دیا گیا ہے۔

  • گوادر میں بارش سے ہر طرف تباہی،حکومتی مشنری غائب،مکین دربدر

    گوادر میں بارش سے ہر طرف تباہی،حکومتی مشنری غائب،مکین دربدر

    بلوچستان کے علاقے گوادر میں مسلسل بارش سے نظام زندگی درہم برہم ہو گیا، 16 گھنٹے کی مسلسل بارش نے ہر چیز تباہ کر دی، مکین پریشان، حکمران خاموش، کوئی مدد کرنے کو تیار نہیں، کھلے آسمان تلے سرد موسم میں مکین رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں

    گوادر میں 2010 کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر تیز بارش ہوئی ہے ۔تیز بارش کی وجہ سے پانی گھروں اور بازاروں میں داخل ہوگیا ہے ۔شہریوں کا سامان ڈوب گیا، شہری بے بس اور مدد کے منتظر ہیں، ایسے میں بلوچستان حکومت صرف بیانات دے رہی ہے ابھی تک کوئی مدد کو نہیں پہنچا،گوادر شہر اس وقت تالاب بن چکا ہے، مکانات اور گھروں کی چار دیواریاں زمین بوس ہورہی ہیں، شہر کے مکین بے یار و مددگار پڑے ہیں۔ 90 فیصد گوادر پانی میں ڈوب چکا ہے۔ نکاس کا ناقص نظام، سڑکیں تالاب بن گئیں۔ حکومتی مشینری منظر سے غائب ہے، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔گوادر میں 168.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جب کہ بارش کے باعث شہر کو بجلی کی فراہمی معطل اور کئی علاقوں موبائل نیٹ ورک بند ہوگئے ہیں،ادھر جیوانی کی حالت بھی انتہائی مخدوش ہے جہاں سیلابی صورتحال سے 3 برساتی بند ٹوٹ گئے اور کئی مکانات اور چاردیواریاں گرگئیں۔

    گوادر میں مسلسل بارش کے باعث امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا ہے، گزشتہ کئی گھنٹوں سے بارش کے جاری رہنے والے سلسلے میں مزید اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ کل سے ملک پر نئے سسٹم کے تحت ہیوی اسپیل دکھائی دے رہا ہے، سردیوں کی بارش عموماً اتنی شدت کی نہیں ہوتی، گودار میں اس بار غیر معمولی بارش ہوئی ہے اور گوادر میں ان مہینوں میں اتنی بارش پہلے کبھی نہیں ہوئی، گوادر میں کل دوبارہ تیز بارش کا امکان ہے

    گوادر میں بارشوں سے تباہی،شہباز شریف کا اظہار تشویش
    دوسری جانب نامزد وزیراعظم شہباز شریف نے بارش سے ہونے والی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین سے ہمدردی ہے، مشکل کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں،شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) بلوچستان کےکارکنان کو متاثرین کی فوری امداد کرنے کی ہدایت کی ہے

    نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں، رابطہ سڑکیں زیرآب آنے سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے گوادر کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کر دی،اور کہا کہ بارش سے متاثرہ افراد کی مدد کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔

    علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے آج بھی گوادر سمیت بلوچستان کے 14 اضلاع میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کوئٹہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مختار مگسی کے مطابق گوادر میں منگل کو چند گھنٹوں کے دوران 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی جس کی وجہ سے اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی

    انتظامیہ گوادر کے شہریوں کی مدد کے لئے فوری اقدامات کرے،بلاول
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گوادر میں بارش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلسل برسات کی وجہ سے گوادر میں ہنگامی صورت حال پیدا ہوچکی ہے،گوادر میں برسات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال ہنگامی امدادی اقدامات کے متقاضی ہے،بارش کی وجہ سے گوادر کے گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہوچکا ہے، شہری نقل مکانی پر مجبور ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے مصیبت میں پھنسے گوادر کی شہریوں کی مدد کریں، انتظامیہ گوادر کے شہریوں کی مدد کے لئے فوری اقدامات کرے،

    سابق وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ گوادر میں بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے،گوادر کو آفت زدہ قرار دیا جائے،

  • آٹھ فروری،یوم انتخابات، ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا

    آٹھ فروری،یوم انتخابات، ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا

    آٹھ فروری کو ملک بھر میں انتخابات ہو رہے ہیں، تمام تر تیاریاں و انتظامات مکمل ہو چکے ہیں ،

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات عرفان ورک کا کہنا ہے کہ الیکشن کے دن ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا،پنجاب ،خیبرپختونخواہ ،سندھ اور گلگت بلتستان میں بھی موسم خشک رہے گا،ملک کے پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث موسم شدید سرد رہے گا ،شمال مشرقی پنجاب کے بعض اضلاع میں صبح کے اوقات میں دھند چھائے رہنے کا امکان ہے ،تاحال بارش کا اسپیل متوقع نہیں ہے اگلے ہفتے تک موسم خشک اور سرد رہے گا ،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں‌ 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز اور 2 لاکھ 66 ہزار 398 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جب کہ پولنگ کیلئے 14 لاکھ 90 ہزار انتخابی عملہ ذمہ داریاں انجام دے گا، 16 ہزار 766 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 29 ہزار 985 کو حساس قرار دیا گیا ہے، پولنگ اسٹیشن پر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پریزائیڈنگ افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات دیے گئے ہیں جب کہ حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کے باہر پاک فوج تعینات ہوگی

    چار انتخابی حلقوں میں امیدواروں کی اموات کے باعث پولنگ ملتوی کردی گئی ہے،پی کے 91 کوہاٹ 2 سے امیدوار عصمت اللہ خٹک کے انتقال کے سبب پولنگ ملتوی کی گئی ہے، اس کے علاوہ این اے 8 باجوڑ، پی کے 22 باجوڑ 4 میں امیدوار ریحان زیب کی موت پرکل پولنگ نہیں ہوگی،پی پی 266 رحیم یارخان 12 میں امیدوار اسرار حسین کےانتقال پرکل الیکشن نہیں ہوگا، ان حلقوں میں عام انتخابات کے بعد دوبارہ شیڈول جاری کیا جائے گا.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • اسلام آباد میں بارش کے بعد فضا میں زہریلے ذرات کی کمی

    اسلام آباد میں بارش کے بعد فضا میں زہریلے ذرات کی کمی

    اسلام آباد(محمداویس)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بارش کے بعد فضاء صحت مند ہوگئی بارش سے زیریلے ذرات کی مقدار مقررہ حد سے کم ہوگئے ۔پی ایم ٹوپوائنٹ فائیو کی مقدار 10تک آگئی ہے بارش سے پہلے مسلسل زہریلی ذرات کی مقدار مقررہ مقدار سے ڈبل رہی جبکہ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) نے فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کسی قسم کا اقدام نہیں اٹھایا ۔

    جمعرات کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہلکی بارش کے بعد فضائی آلودگی ختم ہوگئی اور جڑواں شہروں کی فضاء صحت مند ہوگئی ۔اور زہریلے ذرات جن کی مقدار 35سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ان کی مقدار 10تک آگئی بارش سے پہلے ان کی مقدار میں ڈبل سے بھی زیادہ اضافہ ہواتھا مگر پاک ای پی اے نے اس کوکم کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا ۔

    واضح رہے کہ راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بارش ہوئی ہے، بارش کے بعد موسم شدید سر د ہو گیا تو دوسری جانب سموگ میں بھی کمی ہوئی ہے،

    بیجنگ یونیورسٹی کے سینٹر فار پروڈکٹیو میڈیسین کی معروف جریدے جرنل انوائرمینٹل انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کی فضائی آلودگی سے مردوں اورخواتین دونوں میں بانجھ پن کاخطرہ نمایاں حدتک بڑھ جاتاہے طبی تحقیق کے دوران فضائی آلودگی سے آبادی کے لیے بڑھنے والے خطرات کاتجزیہ کیاگیا۔ ماہرین نے چین کے 18 ہزارجوڑوں کے اعدادوشمار کاتجزیہ کرنے پر دریافت ہواکہ ایسے علاقے جہاں چھوٹے ذرات کی آلودگی کی شرح زیادہ ہوتو ان علاقوں میں بانجھ پن کاخطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتاہے تحقیق میں یہ تعین نہیں کیاجاسکاکہ فضائی آلودگی کس طرح بانجھ پن کاباعث بن سکتی ہے مگر یہ پہلے سے معلوم ہے کہ آلودہ ذرات سے جسم میں ورم بڑھ جاتاہے جس سے مردوں ناورخواتین کاتولیدی نظام متاثر ہوسکتاہے۔رپورٹ کے مطابق بانجھ پن دنیا بھر میں لاکھوں جوڑوں کی زندگی کومتاثرکرتاہے مگر اس حوالے سے فضائی آلودگی کے اثرات پر اب تک کچھ خاص کام نہیں ہواہے۔فضائی آلودگی سے قبل ازوقت پیدائش اور پیدائش کے قت کم وزن جیسے مسائل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہناہے کہ زہریلی ذرات PM2.5کی مقداراگر 35µg/m³سے بڑھ جائے تویہ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں اس سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوتاہے اور خاص کردمہ کے مریضوں کوسانس لینے میں دشوار ی ہوتی ہے آنکھ ناک اورگلے میں سوزش،پھیپھڑوں کاکینسر، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے۔ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ شہری گھروں سے باہرنکلتے وقت ماسک لازمی استعمال کریں۔غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔(محمداویس)

  • لاہور سمیت کئی شہروں میں بارش،سموگ میں کمی،لاک ڈاؤن جاری

    لاہور سمیت کئی شہروں میں بارش،سموگ میں کمی،لاک ڈاؤن جاری

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت کئی شہروں میں‌بارش، سموگ میں کمی آ گئی تاہم لاک ڈاؤن جاری رہے گا،

    بارش سے سردی میں معمولی اضافہ ہوا ہے،لاہور کے مختلف علاقوں میں صبح کے وقت بارش ہوئی،بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے تیز ہوائیں چلنے سے مختلف علاقوں میں بجلی کا ترسیلی نظام بھی متاثر ہو گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا .

    دوسری جانب لاہور سمیت مختلف شہروں کے جزوی لاک ڈاؤن میں تبدیلی کر دی گئی ،حکومت پنجاب نے 8 اضلاع میں مارکیٹس آج بروز جمعتہ المبارک کو کھولنے کی اجازت دے دی ہے، محکمہ پرائمری ہیلتھ کئیر پنجاب کی جانب سے ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ،نئے ترمیم شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق شاپنگ مالز سمیت مارکیٹس آج کھولی جا سکیں گی جبکہ ہفتے اور اتوار کو بند رہیں گی، آج بروز جمعہ شاپنگ مال اور مارکیٹس معمول کے مطابق کھلیں گی، ریسٹورنٹ، سینما، جم بھی آج کھلے رہیں گے

    بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کا فیصلہ 

    فردجرم عائد کرنی تھی توکرونا ہو گیا،عدالت نے شہباز شریف کو پھر طلب کر لیا

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

  • پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے،قائمہ کمیٹی

    پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے،قائمہ کمیٹی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان میں کچی کنال کی بحالی کے علاوہ،واپڈا ملازمین کی اپ گریڈیشن کے ٹائم سکیل کا معاملہ،کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں واپڈا کے حوالے سے دی گئی رپورٹ پر عملدرآمد، ڈسٹرکٹ حیدرآباد سندھ میں 15.19 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے معاملات،نیلم جہلم منصوبے کے ٹنل میں پڑنے والے کریک،جنرل منیجر تربیلا کی جانب سے 2021 سے اب تک کی جانے والی تربیلا دیم منصوبے میں تقرریوں کے معاملات کی تفصیلات، ضلع ہرنائی بلوچستان کے علاقوں میں سیلابی بچاؤسے متعلقہ کاموں کے معاملات ،گڈوالیاں ڈیم کی لیکج کے حوالے سے انکوائری رپورٹ کے معاملات کے علاوہ مہمند ڈیم میں سیلاب کی وجہ سے پڑنے والے کریکس اور دیگر نقصانات اور ان کی اب تک کی مرمت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 31 مارچ2023 کو سینیٹر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان میں کچی کنال کی بحالی کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے جس کا تعلق تین صوبوں سے ہے۔ کچی کنال سے ملحقہ علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے سیلاب آتے ہیں اگر موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تو اس پانی کو بہتر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو بتایا کہ کوہ سلیمان کے پہاڑوں سے بہت زیادہ پانی آتا ہے۔ صوبائی محکمہ پنجاب ایری گیشن نے کوہ سلیمان کے علاقے میں کام کرنا ہے۔ بہتر ہے کہ ان کی موجودگی میں معاملے کا جائزہ لیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں محکمہ پنجاب ایری گیشن کو بریفنگ کے لئے طلب کرلیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کوہ سلیمان میں مسلسل بارشیں ہونا شروع ہو گئی ہیں بڑے سیلابی ریلے آتے ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ جب پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ کچی کنال بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ سائفن بنائے جائیں، دریاؤں کے قریب بند بنائیں جائیں اور مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ کچی کنال بے شمار جگہوں پر سیلابی ریلے کی زد میں آجاتی ہے اس کا بند اوپر اٹھایا ہوا ہے۔ پانی کچی کنال کو ہٹ کرتا ہے۔جو اسٹرکچر ابھی بنا ہوا ہے وہ اس سیلابی پانی کو کنڑول نہیں کر سکتا،13 نالوں کا پانی آتا ہے اور ریلہ ایک لاکھ کیوسک تک ہو جاتا ہے۔ ایک جامع پلان کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت پنجاب اور بلوچستان حکومت کو درخواست دی ہے کہ ایک جامع پلان دیں۔

    واپڈا ملازمین کی اپ گریڈیشن کے ٹائم سکیل کے معاملے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے جو پالیسی دی گئی ہے اس سے بہتر واپڈا کی ٹائم اسکیل اپ گریڈیشن کی اپنی پالیسی ہے جس پر 2001 سے عمل کیا جارہا ہے۔ نئی پالیسی سے ملازمین کا نقصان ہوگا۔

    کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں واپڈا کے حوالے سے دی گئی رپورٹ پر عملدرآمد کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جو ہدایات دی گئی تھیں ان پر عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ نے کہا کہ گزشتہ کمیٹی اجلاس مورخہ18جولائی2023 کو کمیٹی کے ایجنڈا آئٹم 6 پر کہا تھا کہ تربیلا ڈیم T-iv اورT-v پاور ونگ کے ملازمین کو 30 فیصد الاؤنس مل رہا تھا جبکہ واٹرو نگ کے ملازمین اس الاؤنس سے محروم تھے۔کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ اس تضاد کو ختم کیا جائے اور برابر ی کی بنیاد پر الاؤنسز دیئے جائیں کیونکہ دونوں ونگ کے ملازمین ایک جگہ پر کام کر رہے ہیں۔جس پر وزارت آبی وسائل اور واپڈا حکام نے کہا تھا کہ ہم اس تضاد کو ختم کر یں گے اور سب ملازمین کو برابر الاؤنس دیئے جائیں گے۔ جبکہ آج کے ہونے والے کمیٹی اجلاس میں ان ہدایات پر عملدرآمد طلب کیا گیا تھا۔ جس پر وزارت آبی وسائل اور واپڈا حکام نے بتایا کہ کمیٹی کی ہدایات پر من وعن عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ تربیلا ڈیم کام کرنے والے ہزاروں ملازمین میں کمیٹی کی ہدایت پر عملدرآمد کرنے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور تربیلا ڈیم ملازمین نے چیئرمین واراکین کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈسٹرکٹ حیدرآباد سندھ میں 15.19 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے معاملات کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پیسے عدالت میں جمع کر ا دیئے گئے ہیں۔ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کو دینے ہیں کس کو نہیں یہ معاملہ عدالت میں ہے۔
    نیلم جہلم منصوبے کے ٹنل میں پڑنے والے کریک کے حوالے چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید صابر شاہ نے کہا کہ اتنا بڑا منصوبہ تھا کس طرح اس جگہ کی نشاندہی نہیں کی جا سکی تھی۔ کیا مزید بھی ایسے نقصانا ت ہو سکتے ہیں۔ جب منصوبہ شروع کیا گیا تھا تو اس پر موثر کام کیوں نہیں کیا گیا۔جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم ٹنل کا یہ نقصان سیلاب کی وجہ سے نہیں بلکہ جعفرافیائی مسئلے سے ہوا تھا۔ ٹنل کی 42 میٹر کی جگہ پر نقصان ہوا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کسی بھی منصوبے کو اگر 100 سالہ معیاد کے مطابق بنایا جائے تو خرچ زیادہ ہوتا ہے مگر معیار بہتر ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں 30 سالہ معیاد کے مطابق کم خرچ سے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم منصوبے میں مرمت کے بعد منصوبے کی پیدا وار میں بہتر ی آئی ہے اور تقریبا سالانہ 50 ارب کی سالانہ آمدن ہو گی۔

    جنرل منیجر تربیلا کی جانب سے 2021 سے اب تک کی جانے والی تربیلا ڈیم منصوبے میں تقرریوں کے معاملات کی تفصیلات سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید صابر شاہ نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیلات بشمول میرٹ لسٹ میٹرک کے نمبر، ڈومیسائل، تعلیمی قابلیت و دیگر معلومات فراہم کی جائیں۔

    ضلع ہرنائی بلوچستان کے علاقوں میں سیلابی ریلوں سے بچاؤسے متعلقہ کاموں کے معاملات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کو پی سی ون تیار کرنے کا کہہ دیا ہے جسے ہی فراہم کر دیا جائے گا کمیٹی کو آگاہ کر دیں۔گڈوالیاں ڈیم کی لیکج کے حوالے سے انکوائری رپورٹ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق عمل کیا جارہا ہے۔ تین گیج اسٹیشن قائم کر کے ڈیٹا اکھٹا کیا جارہا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے انکوائری کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی تھی وہ بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایک ماہ کا ٹائم دیا تھا انہوں نے جامع رپورٹ کے لئے مزید دو ماہ کا وقت مانگا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ نے کہا کہ انکوائری میں ان لوگوں کو شامل نہ کریں جو ڈیزائنگ میں شامل تھے۔ غیر متعلقہ لوگ شامل کیے جائیں۔ جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 30 سال کی سروس والے گریڈ 19 کے آفسر کو انکوائری کمیٹی کا ہیڈ بنایا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ڈیم میں جو پانی آتا ہے وہ غائب ہو جاتا ہے لیکج کی نشاندہی کریں اورا س مسئلے کی رپورٹ بھی انکوائری کمیٹی کو فراہم کی جائے۔

    مہمند ڈیم میں سیلاب کی وجہ سے پڑنے والے کریکس اور دیگر نقصانات اور ان کی اب تک کی مرمت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بہت بڑے سیلابی ریلے کی وجہ سے یہ مسئلہ آیا تھا اس وقت دریا پر ادارہ کام نہیں کر رہا تھا ٹنل پر کام کر رہے تھے۔ عارضی بند بنایا گیا تھا تین لاکھ کیوسک کا ریلہ آیا تھا۔ پوری ڈائی تباہ نہیں ہو ئی تھی بلکہ اس میں تھوڑا سا نقصان ہوا تھا۔

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

  • پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کا خطرے سے خبردار کر دیا

    پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کا خطرے سے خبردار کر دیا

    اسلام آباد: مون سون کی بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کا خطرہ بڑھنے لگا۔

    باغی ٹی وی: پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے دریائے راوی اور دریائے چناب سے متصل نالوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے بھارت میں دریائے ستلج اور بیاس پر ڈیمز تقریبًا پانی سے بھر چکے ہیں-

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائےستلج اور بیاس کےبالائی علاقوں میں بارشوں کےامکانات ہیں آئندہ 24 گھنٹے میں بالائی علاقوں میں طوفانی بارشوں کے امکانات ہیں،مون سون بارشوں کا سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے گنڈا سنگھ والا اور زیریں علاقوں میں طغیانی کے بھی امکانات ہیں۔

    مختلف شہروں میں آج گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، وسطی پنجاب، خطہ پوٹھوہار اور بالائی خیبر پختونخوا میں بھی بارش متوقع ہے لاہور، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ میں بارش متوقع ہے۔ سیالکوٹ، نارووال، گجرات، میانوالی اور سرگودھا میں بارش کا امکان ہے۔ خوشاب، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور بھکر میں بھی بارش متوقع ہے۔

    انتخابات میں مداخلت کا الزام ، ٹرمپ پر فرد جرم عائد

    اسی طرح محکمہ موسمیات کی طرف سے منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، راولپنڈی، اٹک اور جہلم میں بارش کا امکان ہے۔ چکوال، مری اور گلیات میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے گلگت بلتستان میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، سندھ کےساحلی علاقوں میں بھی بوندا باندی کاامکان ہےآزاد کشمیر میں بھی چند مقامات پرگرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے خضدار، کوہلو اور قلات میں تیز ہواؤں کے ساتھ بادل برسیں گے۔

    پاک چین دوستی اورسی پیک کوسبوتاژ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی،چین

  • ملک بھر میں جولائی میں ہونے والی مون سون بارشوں کےاعداد و شمار جاری

    ملک بھر میں جولائی میں ہونے والی مون سون بارشوں کےاعداد و شمار جاری

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے 31 جولائی تک ملک بھر میں ہونے والی مون سون بارشوں کےاعداد و شمار جاری کردیے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جولائی میں معمول سے 70 فیصد زائد بارشیں ہوئیں جبکہ جولائی کے دوران ملک بھر میں اوسطاً 107.5 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں جولائی کی معمول کی اوسط بارش 63.3 ملی میٹر ریکارڈ ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں گلگت بلتستان میں معمول سے 233 فیصد زائد ( 44.3 ملی میٹر ) بارش ہوئی، گلگت بلتستان میں جولائی کی معمول کی اوسط بارش کا ریکارڈ 13.3 ملی میٹر ہے۔

    سندھ میں معمول سے 143 فیصد زائد ( 146 ملی میٹر) بارش ہوئی، سندھ میں جولائی کی معمول کی بارش کا اوسط 60.2ملی میٹر ہے۔ جولائی میں بلوچستان میں معمول سے 111فیصد زائد (62.7 ملی میٹر ) بارش ہوئی، اس مہینے میں بلوچستان میں اوسطاً 29.7 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ جولائی میں پنجاب میں معمول سے 47 فیصد زائد ( 152.8ملی میٹر ) بارش ہوئی جبکہ اس مہینے میں اوسطاً 104 ملی میٹر بارش پڑتی ہے۔ جولائی میں آزاد جموں وکشمیر میں معمول سے 31 فیصد زائد ( 227.7 ملی میٹر) بارش ہوئی، جبکہ یہاں جولائی میں بارش کا اوسط 173.9 ملی میٹر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کا کیس، فیصلہ آج، عمران خان کی نیب،پولیس میں طلبی بھی آج
    توشہ خانہ کیس، آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے ،جج ہمایوں دلاور
    علی امین گنڈا پور کے گھر چھاپہ،غلیل،ڈنڈے،سیلاب ریلیف کا سامان برآمد
    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی
    زیادہ بھیک کے لئے سفاک باپ نے کمسن بچی کو جلا دیا
    اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں خیبرپختونخوا میں معمول سے 19فیصد زائد ( 127.2 ملی میٹر ) بارش ہوئی، جولائی میں خیبرپختونخوا میں 106.7 ملی میٹر اوسط بارش ہوتی ہے۔

  • مون سون بارشیں، سیلاب،183 افراد کی موت،266 زخمی

    مون سون بارشیں، سیلاب،183 افراد کی موت،266 زخمی

    انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے پاکستان میں بارشوں کے بعد ہونے والے نقصانات کے حوالہ سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 25 جون سے شروع ہونے والے بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں پاکستان میں اب تک 183 افراد کی موت ہو ئی ہے اور 266 افراد زخمی ہوئے ہیں،

    انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے نقصانات کی رپورٹ دو اگست کو جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ پاکستان میں شدید بارش اور سیلاب کا خطرہ ہے، پاکستان میں مون سون کی بارشیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں ، وہ علاقے جو گزشتہ برس سیلاب سے متاثر ہوئے تھے، پھر متاثر ہو سکتے ہیں، گزشتہ برس سیلاب سے 33 ملین افراد متاثر اور 1739 کی موت ہو ئی تھی، اب موجودہ بارشوں کے بعد این ڈی ایم اے نے جو رپورٹ جاری کی اسکے مطابق اب تک رواں برس بارشوں کے بعد کی صورتحال کے نتیجے میں 183 افراد کی موت ہو چکی ہے، بلوچستان اور کے پی کے متعدد اضلاع شدید بارش کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں،

    بلوچستان میں خاران، آواران، ژوب، قلعہ سیف اللہ، نصیر آباد، لسبیلہ، اوستہ محمد اور صحبت پورمیں شدید بارش ہوئی،صوبہ بلوچستان میں اب تک 12 افراد جاں بحق، 14 زخمی، 334 مکانات تباہ ہوئے، جن کو جزوی طور پر نقصان پہنچا، اور 332 مکانات مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بلوچستان کا ضلع واشک بری طرح متاثر ہوا اور 200 مکانات ضلع میں مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔

    کے پی کے میں خیبر، سوات، بٹگرام، مانسہرہ، کرک، مردان، شانگلہ، اپر کوہستان، اپر دیر، لوئر دیر، بونیر، مالاکنڈ،باجوڑ، ایبٹ آباد، اپر چترال، اور لوئر چترال متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں، این ڈی ایم اے کے مطابق 17 سے 30 جولائی کے درمیان شدید بارشیں ہوئی، اس دوران سیلاب آیا اور 53 افراد کی موت ہوئی جبکہ 67 افراد زخمی ہوئے، خیبرپختونخوا میں بھی سیلاب کے باعث 219 مویشی لقمہ اجل بن گئے۔ شدید بارشوں نے دو اسکولوں اور 379 مکانات کو نقصان پہنچایا، جن میں 74 مکمل طور پر تباہ ہو ئے جبکہ 305 کو جزوی نقصان پہنچا۔

    صوبہ سندھ میں، ضلع دادو کی چھ یونین کونسلیں سیلابی پانی سے متاثر ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 183 دیہات اور 102,268 افراد متاثر ہوئے کیونکہ اہم سڑکیں زیر آب ہیں۔ لوگ آمدورفت کے لیے متبادل راستے استعمال کر رہے ہیں۔سندھ میں 10 اموات اور 21 افراد زخمی ہوئے۔ حال ہی میں سیلابی پانی نے سکھر اور جیکب آباد کی آبادی کو متاثر کیا ہے۔ضلع میں 324 مکانات کو جزوی اور 18 کو مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔3,528 ایکڑ فصل کا رقبہ تباہ ہوا ہے ،

    دوسری جانب ایک اور رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مون سون بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے، رپورٹ کے مطابق لورالائی میں3 ،پنجگور ، ژوب اور نصیر آباد میں 2 ،2 افراد ہلاک ہوئے جبکہ آواران، قلعہ سیف اللہ، خضدار، ڈیرہ بگٹی، پشین،کیچ اور جھل مگسی میں بارشوں کے باعث ایک ایک ہلاکت ہوئی جاں بحق ہونے والوں میں 8 مرد، 2 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں جب کہ بارشوں سے صوبے میں 24 افراد زخمی بھی ہوئے

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے کا ریلیف آپریشن 9 جولائی سے جاری ہے۔صوبہ بھر میں اب تک 222 ریلیف کیمپس لگائے گئے ہیں۔حفاظتی اقدامات کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔سیلابی ریلوں سے ننکانہ میں 454،اوکاڑ ہ 4075، قصور 7039،ویہاڑی 100 ،مظفر گڑھ  2124،خانیوال 48،ننکانہ 454افرا د کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیا۔ قصورمیں 47058، اوکاڑہ 69868 ویہاڑی 1349 سیالکوٹ میں 41ننکانہ 1013لیہ میں 214افراد کو ٹرانسپورٹ مہیا کی گئی۔اسی طرح قصورمیں 2412،مظفر گڑھ 1758،ننکانہ 885،اوکاڑہ 132، ویہاڑی 305،خانیوال میں 200مویشیوں کو ریسکیو کیا گیاجبکہ ننکانہ میں 855 افراد میں راشن کے بیگز تقسیم کئے گئے۔

    ترجمان نے بتایا کہ سیلابی پانی سے بہاولپور میں تین، اوکاڑہ 77جھنگ 40مظفرگڑھ پانچ خانیوال 23ننکانہ 8لیہ میں 65 بستیاں پانی سے متاثر ہوئیں۔بہاولپور میں 220ایکڑ، اوکاڑہ میں 20275ایکڑ، ویہاڑی 19061ایکڑ، خانیوال 9ہزار ایکڑننکانہ 816ایکڑلیہ 5762ایکڑ فصلوں کو نقصان پہنچا۔ نگراں ڈ ی جی پی ڈی ایم ایعمران قریشی نے کہا کہ سیلابی پانی سے اوکاڑہ میں ایک شخص جاں بحق جبکہاوکاڑہ میں چار اور سیالکوٹ میں چھت گرنے سے د و افراد زخمی ہوئے۔پی ڈی ایم اے کنٹرول روم 24 گھنٹے دریاؤں کی صورتحال مانیٹر کر رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی محنت لائق تحسین ہے

  • 4 تا 6 اگست منگلا میں سیلاب کا خطرہ

    4 تا 6 اگست منگلا میں سیلاب کا خطرہ

    ۔سنٹرل فلڈ انفارمیشن سیل ڈی جی پی آر کے مطابق پنجاب کے دریاؤں کی سیلابی صورتحال نارمل ہونا شروع ہو گئی۔ آنے والے دنوں میں مون سون بارشوں کی شدت میں کمی کے امکانات بھی ہیں۔ سنٹرل فلڈ انفارمیشن سیل ڈی جی پی آر کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق تربیلا، چشمہ، کالا باغ، جسڑ شاہدرہ، بلوکی، جہلم اور چناب کے مقامات پر پانی کا بہاؤ نارمل ہے جبکہ دریائے ستلج اور سلیمانکی میں اسلام، دریائے راوی میں سدھنائی اور دریائے سندھ میں تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 70934 اخراج 63024 ہیڈ اسلام میں بالترتیب 54306 اور 53706 ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح دریائے سندھ میں تونسہ بیراج سے 357457 کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ سنٹرل فلڈ انفارمیشن سیل کے مطابق 4 سے 6 اگست کے دوران منگلہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب اضلاع کی انتظامیہ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل رکھے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے بھی دریائی کٹاؤ کہ وجہ سے چناب میں بہہ جانے والے موضع جات پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایات کی ہیں۔ تحصیل بھوانہ کے موضع ساہمل کوریا اور ٹھٹہ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نبیل جاوید نے ڈی سی چنیوٹ کو بحالی کے کاموں کیلئے فوری فنڈز فراہم کرنے، ایمرجنسی بنیادوں پر بحالی کا کام مکمل کرنے اور سیلاب متاثرین کو جلد از جلد باوقار رہائش فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ایس ایم بی آر نے اجلاس کو ہدایت دیتے ہوئے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟