Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

    حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں پی ٹی آئی نے جو اس ملک کے ساتھ کیا ہے وہ شاید کوئی نہیں کر سکا ہے ۔ اس وقت ایک بے یقیقنی کی کیفیت ہے ۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ آگے کیا ہوگا ۔ معیشت کیسے ٹھیک ہوگی ، کب ٹھیک ہوگی ۔ پھر سٹریٹ کرائم سمیت دہشت گردی نے بھی ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ دن دیہاڑے لاہور جیسے شہر میں دھماکہ ہوجاتا ہے تو اب دن دیہاڑے صحافی پریس کلب کے باہر قتل بھی ہونا شروع ہوچکے ہیں ۔ یہ حالات خود بخود نہیں ہوئے اس کی قصور وار حکومت ہے ۔ کیونکہ پنجاب پولیس سمیت ہرسرکاری محکمے کو اس حکومت نے صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا ادارہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دراصل عمران خان نے اس ملک کو ایک ایسے اندھے کنویں دھکیل دیا ہے ۔ کہ اب شاید کسی کے پاس کوئی حل نہیں رہ گیا ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ پوری کی پوری حکومت اور پارٹی کے ہاتھ پاوں پھولے ہوئے ہیں ۔ تو غلط نہ ہوگا ۔ اس وقت پوری پی ٹی آئی میں عمران خان سے لے کر نیچے تک ہرکوئی یہ منجن پیچنے کی کوششوں میں ہے کہ سارا قصور میڈیا کا ہے ۔ حالانکہ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ قصور وار کون ہے ۔ اب جب پکڑ پکڑ کر لائے گئے کبوتروں کا پھر سے اڑ جانے کا وقت ہوچکا ہے تو ان کے بیانات دیکھ لیں ۔ بلکہ ان کی حرکتیں دیکھ لیں ۔ کیا کسی statesmanکو ملک کے وزیر اعظم کو ایسی باتیں زیب دیتی ہیں ۔ جو عمران خان تقریریں فرما رہے ہیں ۔ ۔ پھرعوام کو فضول کی بحثوں میں مشغول رکھنے کی بھونڈی واردات ڈالی جاتی ہے ۔ کہ نظام ہی ٹھیک نہیں ہے حالانکہ مسئلہ نظام میں نہیں ۔ ۔ مسئلہ پی ٹی آئی میں ہے ۔ ۔ مسئلہ امپورٹ کیے ہوئے مشیروں میں ہے ۔ ۔ مسئلہ اے ٹی ایم وزیروں میں ہے ۔۔ مسئلہ کرائے کے ترجمانوں میں ہے ۔ اور سب سے بڑا مسئلہ عمران خان میں ہے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں ۔ مسئلہ کپتان کی انا ہے ۔ کہ پنجاب میں وسیم اکرم پلس اور کے پی کے میں محمود خان سے بہتر کوئی ہے ہی نہیں ۔ چاہے عوام ان کی بیڈگورننس کے سبب ایڑھیاں رگڑ رگڑ مر جائے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت نہ شفاف ہے نہ ہی صاف ہے ۔ جتنی نااہلی اور کرپشن اس دور میں ہے ۔ اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔ یہ تو جس دن جائیں گے تو عوام کو پتہ چلے گا کہ ۔۔۔ ۔ اور کس کس کی پی ٹی آئی کی بدولت محرومیاں ایسی دور ہوئی ہیں کہ وہ ارب پتی کیا کھرب پتی بن گئے ہیں ۔ ۔ میرے کپتان ریاست مدینہ یا اخلاقیات کا جتنا مرضی ورد کرلیں مگر سچ یہ ہے کہ میرٹ کو نہیں مانتے۔ یہ پیپلزپارٹی یا ن لیگ پر جتنی مرضی تنقید کریں کہ یہ Friends & Familyکو ہی نوازتے ہیں تو یہ ہی چیز عمران خان پر بھی ٹھیک بیٹھتی ہے کہ ان کے اردگرد بھی ان کے دوست اور صرف خوشامدی ہی ہیں ۔ یوں میرٹ کا جو قتل اس دور میں ہوا اسکی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ ۔ پھر جتنی بھی آج تک آئین اور قانون کی انھوں نے باتیں کی ہیں کسی ایک پر بھی عمل نہیں ۔ کیونکہ حکمران بن کر کپتان نے آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری پر یقین چھوڑ دیا ہے ۔ یہ میں کوئی ہوا میں تیر نہیں چلا رہا ہوں ۔ جس طریقے سے قوانین انھوں نے پارلیمنٹ سے پاس کروائے ہیں جس طرح انھوں نے پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا ہے ۔ کیا کبھی اس سے پہلے ایسا ہوا ہے ۔ جیسے کپتان کے دور میں نیب ہو ، اپنے وزیروں پر کرپشن کیسسز ہوں ، فیصل واڈا والا معاملہ ہی دیکھ لیں یا پھر فارن فنڈنگ کیس ہی ہو ۔ تو کس منہ سے پی ٹی آئی دعوی کر سکتی ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو تو ربڑ اسٹیپ کیا ہی یہاں تک کہ کابینہ کو بھی انھوں نے کچن کیبنٹ بننے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ اقرباء پروری اور سفارش کلچر جو اس دور میں پروان چڑھا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا ۔ ۔ آپ دیکھیں اس قوم کے ساتھ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ جو پارٹی الیکشن میں دھاندلی کے خلاف 126دن تک دھرنے دیے اسلام آباد میں بیٹھی رہی ۔ جب اس کو حکومت ملی تو ننگے ہوکر اس نے دھاندلی خود کی ۔ کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن ہوں یا پھر ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کس سے کیا چھپا ہوا ہے کس کو نہیں معلوم کہ اس دور میں کون ووٹ چوری میں ملوث رہا ہے ۔ ۔ پھر بیوروکریسی اچھی ہے یا بری ہے ۔ مگر جس طرح پی ٹی آئی نے ان کو تباہ وبرباد کرنے کی کوشش کی ہے اس کی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ عملی طور پر پی ٹی آئی نے سرکاری افسروں کو اپنا ذاتی غلام بنانے کی کوشش کی ۔ ان کو اپنی سیاست چمکانے سمیت مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی لیے پولیس ہو ، نیب ہو، ایف آئی ہو یا ایف بی آر، کسی بھی ادارے کا نام لےلیں سب کو اپنی من مرضی سے چلانا اور اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنا ہی پی ٹی آئی کی سیاست اور حکمرانی کا اہم جزورہا ہے ۔ ۔ آزادی اظہار کا جتنا گلا اس دور میں گھوٹا گیا کیا ماضی میں کبھی نہیں ہوا ۔ بلکہ بہت سوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ کپتان نے ضیاالحق دور کی یادیں تازہ کروادیں ۔ صرف صحافی ہی نہیں کون کون کب کب کہاں کہاں سے اٹھایا گیا ہے اگر کوئی اس لسٹ کو compileکرلے تو اس حکومت کے خلاف ایک لمبی چوڑی چارج شیٹ بن جائے ۔ پھر جو پاکستان کی فارن پالیسی کا مذاق اس دور میں بنا ہے اس سے پہلے نہیں بنا ۔ حکومت کی تمام توجہ یہ ہی رہی کہ عمران خان نے تقریر کتنی اچھی کی ۔ ہاتھ کیسا ملایا ۔ کپڑے کیسے پہنے ۔ اسٹائل کیا مارا ۔ مگر عمران خان کی تقریروں سے جو نقصان ہوا وہ نہیں بتایا گیا ۔ کیونکہ معاملہ فہمی تو ان کے پاس سے بھی نہیں گزری ۔ سچ یہ ہے کہ دنیا میں مسئلہ کشمیر پر اب ہماری آواز سننے کو کوئی تیار نہیں ۔ پھر افغان مسئلے کے بعد مغرب سمیت ہمارے بہت سے دوست برادر اسلامی ممالک بھی اب ہم سے کنی کتراتے ہیں ۔ واحد چین ہے جو ہمارے ساتھ کھڑا ہے ویسے اس کو بھی پاکستان سے متنفر کرنے کی عمران خان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کیونکہ جس طرح اس دور میں سی پیک کو سپوتاژ کرنے کی کوشش ہوئی ۔ ایسا نہ زرداری دور میں ہوا نہ ہی نواز شریف دور میں ہوا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم یہ سوالات اٹھاتے ہیں تو عمران خان برا مناتے ہیں۔ ان کی پارٹی ، انکے وزیر ہم کو صحافت سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ بہترین طرز حکمرانی کے متعلق ماضی میں عمران خان کیا کیا باتیں کیاکرتے تھے،کیا کیا وعدے اُنہوں نے نہیں کیے، اصلاحات اصلاحات کے نعرے لگائے، الیکشن منشور میں وعدے بھی کیے لیکن عمل زیرو ہوا ۔ بلکہ الٹا ہمارے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ یہاں تک کہ بڑے شہر بدبو اور کچرے کا ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں ۔ ۔ اب ایک ایک کرکے ان کی ہر چیز ایکسپوز ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ جیسے اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ جناب وزیراعظم کا تھا۔ جناب اسد عمر کے مطابق جن رپورٹس کی بنیاد پہ قائد مسلم لیگ ن کی جو میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں وہ جھوٹی نکلی اور بھی انھوں نے بہت کچھ کہا اور جو بھی کہا وہ بہت بڑی بڑی شہہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی نمایاں خبر بنی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اب جو نواز شریف کو وطن واپس لانے کے روز ٹی وی پر دعوے کیے جاتے ہیں یہ بھی سب جھوٹ کا پلندہ ہیں کیونکہ ان کے اپنے سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے 18 جنوری کو ہونے والے کابینہ کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس کو بتایا ہے کہ نوازشریف کو برطانیہ سے واپس لایا جانا آسان نہیں۔ انہوں نے اجلاس میں عارف نقوی کا حوالہ بھی دیا تھا کہ کس طرح امریکہ، برطانیہ سے عارف نقوی کی حوالگی کے لیے بے بس ہوا بیٹھاہے۔ ۔ تو آجکل یہ جو اٹارنی جنرل خط لکھ رہے ہیں ۔ شہباز شریف کو کیسوں میں گھسیٹنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ جو دوبارہ سے خصوصی میڈیکل بورڈ بن رہے ہیں۔ کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ اسے سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ۔ مجھے عمران خان کی ایک بات یاد ہے جو انھوں نے دھرنے کے دنوں میں کہی تھی کہ میں وزیر اعظم بن گیا تو۔۔۔ ۔۔۔ میرے پاکستانیوں !! میں آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔۔۔۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس وقت عمران خان صرف جھوٹ بول رہے تھے ۔

  • علاقائی امن اور افغان عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں: آرمی چیف

    علاقائی امن اور افغان عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں: آرمی چیف

    راولپنڈی :علاقائی امن اور افغان عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں: اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کیلئے ‏سنجیدہ عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے یونانی سفیر نے الوداعی ملاقات ‏کی جس میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکیورٹی اور افغان صورتحال پرگفتگو کی گئی۔
    ملاقات میں مختلف شعبوں میں تعاون کا فروغ بھی زیرغور آیا۔

    اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کےفروغ کیلئے ‏پرعزم ہے خطے میں امن ،مستحکم اور خوشحال افغان عوام کےلئےکوشاں ہیں۔

    یونانی سفیر نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور بارڈر مینجمنٹ ‏سمیت علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کا بھی اعتراف کیا۔

  • کل بڑوں بڑوں‌ کو دیکھا ایک میز پر:غریب نظر نہیں آئے مجھے اکٹھے کسی میزپر:مبشرلقمان

    کل بڑوں بڑوں‌ کو دیکھا ایک میز پر:غریب نظر نہیں آئے مجھے اکٹھے کسی میزپر:مبشرلقمان

    لاہور:کل بڑوں بڑوں‌ کو دیکھا ایک میز پر:غریب نظر نہیں آئے مجھے اکٹھے کسی میزپر:مبشرلقمان نے اچھی خبر کے ساتھ ساتھ کچھ اچھی رویوں کی بھی درخواست کردی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سنیئر تجزیہ نگار ، معروف صحافی مبشرلقمان نے کل ملاقاتوں کے ایک اہم سلسلے کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ہے ان میں سے چند بڑے ناموں کو بھی ذکرکرگئے

    یہ ملاقات کہاں ہوئی اس کا تو انہوں نے نہیں بتایا مگرایک بڑی پتے کی بات کہہ گئے ہیں ،اس حوالےسےانہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرملاقاتوں کے اس سلسلے کا ذکر کرتے ہوئے بڑے بڑے نام بھی بتادیئے جوایک ہال میں اکٹھے تھے

    مبشرلقمان کہتےہیں‌ کہ انہیں یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ پاکستان کے بڑے بڑے چہرے ایک جگہ اکٹھےہیں‌،اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کل ایک شام چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ، مولانا فضل الرحمن ،سراج الحق ، شیخ رشید ،رحمن ملک ،عمران اسماعیل اور بہت سے دوسرے لوگوں سے ملاقات کی۔

     

    مبشرلقمان نےاس ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے اور بھی بڑے بڑے نام بتائے جن مں سلیم صافی، ڈاکٹرشاہد مسعود ،حامد میر اور بہت سے معروف شخصیات وہاں موجود تھیں‌

    مبشرلقمان نے ان ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جہاں یہ اچھی خبر دی کہ سب کو ایک جگہ پر دیکھا وہاں ان کا مقصود یہ بھی ہے کہ اس ملک کی غریب عوام کو بھی ایسے مل جل کررہنا چاہیے ، غریب عوام کو بس اپنی اور اپنے اہل وعیال کی فکرکرنی چاہیے اور ان جماعتوں اور لیڈروں کی سیاست کی خاطر آپ میں نہیں لڑنا چاہیے یہ سب بڑے ایک ہیں ، انکو جب بھی بیک ڈور دیکھیں گے یہ سب اکٹھے ہوں گے اور دعا بھی ہےکہ پاکستان کی قیادت ہمیشہ اکٹھی رہے لیکن غریبوں کو خواہ مخواہ ان کی صفائیاں دینے اور ان کے ترجمان بن کرایک دوسرے سے لڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ بھی سب اکٹھے رہیں ، خوش رہیں تاکہ نفرت اور حسد کی آگ سے محفوظ رہیں, اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پرتوجہ دیں

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سب بڑے ہمیشہ بیک دی ڈور ایک ہوتے ہیں‌ مگرغریب ان کی سیاست کو تحفظ دینے کی خاطر خواہ مخواہ دشمنیاں مول لیتے ہیں ، ایک دوسرے کا گریبان نوچتے ہیں ، لعن طعن کرتے ہیں ، ایسا نہیں ہونا چاہیے ،ایسی سوچ اور فکر سے آزاد ہوکر آپس میں بھائی چارے کی فضا پیدا کریں‌، ان کہنا تھا کہ خدارا اپنی فکر کریں‌اپنے لیڈروں کی نہیں اپنے بچوں ، ملک وقوم کے لیے قربانی دیں اپنے لیڈروں کی سیاست کو بچانے کے لیے نہیں ، یہ سب ایک ہیں‌ ،آپ بھی سب ایک بن کررہیں‌اپنے لیے قوم کے لیے اور ملک کے لیے

  • حماد اظہر سے شکوہ :ایم این اے آفتاب صدیقی دل برداشتہ ہوکرمستعفی ہوگئے

    حماد اظہر سے شکوہ :ایم این اے آفتاب صدیقی دل برداشتہ ہوکرمستعفی ہوگئے

    کراچی:حماد اظہر کو شکایتی خط:ایم این اے آفتاب صدیقی دل برداشتہ ہوکرمستعفی ہوگئے،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو شکایتی خط لکھنے کے ایک روز بعد پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے ایم این اے آفتاب صدیقی نے پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ملک میں گیس بحران پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی نے حماد اظہر کے رویے کو انتہائی شرمناک قرار دے دیا تھا۔

     

     

    پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی نے وفاقی وزیر حماد اظہر کو خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ میرے حلقے این اے 247 کراچی میں گیس کی سپلائی بالکل نہیں ہے، اکتوبر سے گیس کا ایشو چل رہا ہے، آپ کو بارہا میسیج بھی کیے لیکن آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ کا رویہ انتہائی شرمناک ہے۔

     

     

    شکاتی خط لکھنے کے بعد حکومتی پالیسیوں سے ناراض رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی اہم زمہ داری سے سبکدوش ہوگئے اور انہوں نے وزارت بحری امور کے پارلیمانی سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

     

     

    آفتاب صدیقی نے چیف وہپ عامر ڈوگر کو استعفیٰ ارسال کیا اور لکھا کہ ناگزیر وجوہات کی بنا پر کام جاری نہیں رکھ سکتا، درخواست ہے کہ استعفیٰ کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔خیال رہے کہ آفتاب صدیقی کو 13 دسمبر 2019 کو پارلیمانی سیکرٹری میری ٹائم افئیر مقرر کیا گیا تھا۔

  • پی ٹی آئی کی شکست کے ذمہ داروزرا کے نام سامنے آ گئے:وزارتیں واپس لینے کا امکان

    پی ٹی آئی کی شکست کے ذمہ داروزرا کے نام سامنے آ گئے:وزارتیں واپس لینے کا امکان

    پشاور:خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود بلدیاتی الیکشن میں بدترین کارکردگی کے بعد پی ٹی آئی شکست کے ذمہ داروں کے نام سامنے آ گئے۔

    ذرائع کے مطابق 19 دسمبر کو خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں پشاور، مردان، صوابی، بنوں، ڈی آئی خان و دیگر اضلاع میں ہارنے کی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئی، تحریک انصاف کی شکست میں اضلاع کی سطح پر ذمہ داروں کا تعین کر دیا گیا، تحصیل مئیر پشاو کا ٹکٹ گورنر شاہ فرمان ، کامران اور تیمور سلیم جھگڑا کی سفارش پر دیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مئیر کے ٹکٹ پر سفارش پر ارباب شہزاد خاندان کی مخالفت پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، مردان کے تمام ٹکٹ عاطف خان خان کی سفارش پر دئیے گئےتھے، صوابی میں تمام ٹکٹ سپیکر اسد قیصر اور صوبائی وزیر شہرام ترکئی کی سفارش پر دیئے گئے۔ ناقص کارکردگی پر گورنر، سپیکر اسد قیصر سمیت 4 صوبائی وزراء اور 11 اراکین اسمبلی شکست کے ذمہ دار قرار پائے۔

    متھرا میں ارباب نور عالم اور ایم پی اے ارباب وسیم شکست کا ذمہ دار قرار پائے۔ تحصیل بڈھ بیر میں گورنر شاہ فرمان اورایم این اے ناصر موسی زئی کے درمیان اختلافات پر شکست کا سامناکرنا پڑا۔

    ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بلدیاتی الیکشن کے دوران مخالف امیدوار کی حمایت کرنے پر چارج شیٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹس دیئے جائینگے، پارٹی پالیسی کیخلاف جانے والےایم پی ایزاورایم این ایزکےخلاف کاروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے ایم این ایز،ایم پی ایزکوشوکازکے علاوہ مزید کوئی کاروائی نہیں کی جاسکتی۔

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی ملاقات ہوئی، وزیراعظم کو بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی ناقص کارکردگی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بلدیاتی انتخابات کے مایوس کن نتائج کی وجوہات بتائی گئی۔ رپورٹ میں ساتھ نہ دینے والے ارکان پارلیمنٹ اور سینئر رہنماؤں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰٓ محمود خان کو اگلے مرحلے کی حکمت عملی سے متعلق گائیڈ لائنز دی۔

    ذرائع کے مطابق مہنگائی اور ٹکٹوں کی غلط تقسیم کے ساتھ ساتھ مقامی رہنماوں کے آپسی اختلافات شکست کی بڑی وجہ قرار دیئے گئے۔

     

     

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا براہ راست منتخب تحصیل ناظم گورننس کو بہتر بنائیں گے، ایسے نظام سے مستقبل کے لیڈرز تیار ہوں گے، خیبرپختونخوا بلدیاتی الیکشن پر شور شرابہ کیا جا رہا ہے، کسی کو احساس نہیں کہ یہ انتخابات جدید اور تبدیل شدہ نظام کی شروعات ہیں، ایسا نظام کامیاب جمہوریت میں ہوتا ہے، 74 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہمارے پاس با اختیار بلدیاتی نظام ہے۔

  • رمضان المبارک کی آمد میں 101 دن باقی:پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا:ماہرین فلکیات نے پیشن گوئی کردی

    رمضان المبارک کی آمد میں 101 دن باقی:پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا:ماہرین فلکیات نے پیشن گوئی کردی

    لاہور:رمضان المبارک کی آمد میں 101 دن باقی:پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا:ماہرین فلکیات نے پیشن گوئی کردی ،اطلاعات کے مطابق عالم اسلام ہجری سال 1443 (2022 عیسوی) کے لیے رمضان کے بابرکت مہینے کا بے تابی سے انتظار کر رہا ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق پاکستان میں ماہ صیام کی آمد کو فی الحال تین ماہ اورگیارہ دن باقی ہیں۔

    مصری فلکیات کے انسٹی ٹیوٹ کے مطابق عرب ممالک میں یکم اپریل 2022 بہ مطابق 29 شعبان المعظم کی شام کو رمضان المبارک کا چاند دیکھا جائےگا۔ توقع ہے کہ اسی شام رمضان المبارک کا چاند نظرآجائے گا۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق پاکستان میں 31 مارچ 2022 بمطابق 29 شعبان المعظم کا چاند نظرآنے کی امید ہے اس حساب سے پاکستان میں پہلا روزہ یکم اپریل 2022 کو ہوگا

    اور فلکیاتی اعتبار سے سعودی عرب میں‌ ماہ رمضان کا آغاز 2 اپریل 2022 بروز ہفتہ کو ہوگا اور اس طرح فلکیاتی حسابات کے مطابق ماہ مقدس کی آمد میں 102 دن باقی ہیں۔

    جہاں تک ماہ رجب کے آغاز کی بات ہے تو رجب کا چاند 29 جمادی الثانی 1443 ہجری بہ روز منگل سعودی وقت کے مطابق ٹھیک 8:46 بجے (قاہرہ وقت کے مطابق 7:46) پر پیدا ہوگا۔

    ماہر فلکیات کےمطابق مصری ادارہ فلکیات کے ابتدائی حسابات سے پتا چلتا ہے کہ سال 1443 ہجری کے لیے رجب کی پہلی تاریخ بدھ 2/2 2022 کو ہوگی۔

    خیال رہے کہ ہجری، قمری یا اسلامی کیلنڈر مہینوں کے تعین کے لیے قمری چکر پر مبنی حساب کتاب رکھتا ہے۔ بعض عرب ممالک جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے قمری کیلنڈر کو سرکاری کیلنڈرکے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اسلامی کیلنڈر کا آغاز حضرت عمر فاروق کے دور سے ہوا۔ انہوں نے 12 ربیع الاول بہ مطابق 24 ستمبر622 سے قمری اسلامی سال کا آغاز ھجرت مدینہ سے کیا۔

  • کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

    کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

    کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں دھماکے سے باغی ٹی وی کے بیورو آفس کو بھی نقصان پہنچا ہے

    دھماکہ غنی چورنگی پر حبیب بینک میں ہوا، باغی ٹی وی کا بیورو آفس بھی غنی چورنگی کے قریب ہے، باغی ٹی وی کے دفتر کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں، دھماکے کی آواز اتنی زوردار تھی کہ باغی ٹی وی آفس تک آواز سنائی دی اور دفتر میں ایسے لگا جیسے زلزلہ آیا ہو

    باغی ٹی وی کراچی کے بیورو چیف ضمیر ملک کا کہنا ہے کہ دفتر کے شیشے ٹوٹے ہیں، ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ جہاں دھماکہ ہوا تقریبا تین منٹ قبل میں وہاں سے گزرا اور دفتر کی طرف آیا، دفتر پہنچا تو دھماکہ ہو گیا، ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد افرا تفری مچ گئی ، جائے وقوعہ کو پولیس و رینجرز نے سیل کیا ہے،، ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے تو کچھ ایسے افراد بھی تھے جو لوٹ مار کے چکر میں تھے، کئی افراد نقدی لوٹ کرفرار بھی ہو چکے تھے، تا ہم بعد میں پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لیا

    باغی ٹی وی آفس میں کام کرنے والے عملے نے دھماکے کے بعد مختصر بریک کے بعد دوبارہ کام کا آغاز کر دیا ہے

    نجی بینک میں ہونیوالے پراسرار دھماکے کے نتیجے میں اب تک 15 اموات ہو چکی ہیں، نجی بینک کے علاوہ دیگر قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ شیر شاہ واقعے میں 15افراد جاں بحق اور16زخمی ہوئے ہیں،امدادی کاموں کاسلسلہ جاری ہے ،جلد علاقہ کلیئر ہوجائے گا،سندھ حکومت میں جلد 1122ایمرجنسی سروس شروع کردی جائے گی،دکھ کی اس گھڑی میں عالمگیر خان کےساتھ ہیں، عالمگیر خان کے والد کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتا ہوں،2 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے،

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے شیر شاہ میں زیرزمین سیوریج کے بندنالے میں دھماکے سے نجی بینک کی عمارت کی تباہی اور اطراف کی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان، 11 افراد کے جاں بحق ہونے پر بے حد دکھ اور افسوس ہے۔متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ واقعے کے محرکات کا پتہ چلایا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات دی جائیں۔ اللہ تعالی مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔ آمین

    شیرشاہ دھماکے کے واقعے کے حوالے سے کے ایم سی کیماڑی کے حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نالے میں دھماکا کیمیکل پانی کی گیس بھرنے سے ہوا ہے، اور اس نالے میں سائٹ ایریا کی فیکٹریوں سے کیمیکل والا پانی گرتا ہے حکام کے مطابق 14 فٹ کا یہ نالہ سائٹ ایسوسی ایشن کی حدود میں آتا ہے شیرشاہ نالے کی گزشتہ کئی سال سے صفائی نہیں ہوئی جب کہ نالے کی صفائی سائٹ ایسوسی ایشن ہی کی ذمے داری ہے 20 کلو میٹر طویل اور چودہ فٹ چوڑا یہ نالہ لیاری ندی تک جاتا ہے شیرشاہ نالے پر مکانات اور دیگر تجاوزات بھی قائم ہیں

    دوسری جانب وئی سدرن گیس کمپنی کا بیان سامنے آیا ہے سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹیکنیکل اسٹاف کے مطابق دھماکے کے قریب کوئی گیس پائپ لائن نہیں سوئی سدرن کے مطابق جائے وقوعہ پرگیس کے آثار نہیں، علاقے کی گیس سپلائی نارمل ہے لہٰذا دھماکے کوسوئی سدرن پائپ لائن سےنہیں جوڑا جا سکتا

    دھماکے میں زخمی اور مرنے والوں کی لسٹ سامنے آئی ہے،دھماکے کے نتیجے میں مرنے والوں میں میرابت خان، منور خان، ذیشان، محمد یونس،انعام اللہ شاہ،شفیع اللہ ،دلاور خان شامل ہیں ، چار لاشوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی، زخمیوں میں غلام مصطفیٰ،محمد ارشد،غلام اکبر، جمیل احمد،عبدالغفار، حماد،ریاض محمود،کشمیر خان، صوبہ خان،عبدالوہاب اور ایک نامعلوم شامل ہے،

    چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی شیر شاہ کے علاقے میں ہونے والے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی کہ فوری تفتیش کا آغاز کرکے دھماکے کی نوعیت اور سدباب کا تعین کیا جائے، دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کے فی الفور علاج معالجے کو یقینی بنایا جائے،

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شیر شاہ کے قریب دھماکے کا نوٹس لے لیا وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو انکوائری کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ انکوائری میں پولیس کا افسر شامل کیا جائے،وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری صحت کو سول اسپتال میں سہولیات کی فراہمی کی ہدایات بھی کیں انتظامیہ کو اسپتال اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کی بھی ہدایات بھی کیں

    ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضیٰ وہاب نے شیر شاہ دھماکے کا نوٹس و اظہار افسوس کیا ہے ایڈ منسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے

    گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کراچی دھماکہ میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے گورنر سندھ نے ایڈیشنل آئی جی اور کمشنر کراچی سے واقعےکی رپورٹ طلب کرلی

    ڈپٹی کمشنر ویسٹ کا کہنا ہے کہ نالے کےاوپر تعمیرات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے ممکنہ طور پر دھماکہ نالے میں گیس بھرنے سے ہوا ،عمارت کے حوالے سے نوٹسز جاری کیے تھے،عمارت کے مالکان نے دستاویزات دکھائیں جس کی بناپر عمارت نہیں گرائی گئی

    وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ عمارت گرنے کا واقعہ افسوسناک ہے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،پہلی ترجیح زخمیوں کواسپتال میں سہولیات فراہمی کا ہے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور سعید غنی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں،

    ترجمان کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شیر شاہ میں نالے پر قائم نجی بینک کی برانچ میں دھماکہ گیس لیکیج سے ہوا ،واقعے میں دہشتگردی سمیت کسی قسم کی تخریب کاری کے شواہد ابھی تک نہیں ملے پولیس جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے واقعے میں 12 افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہوئے

    رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان نے شیر شاہ کراچی میں دھماکے پر تشویش کا اظہارکیا ہے،اور دھماکے میں متعدد افراد کے جانبحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے،رابطہ کمیٹی کا کہناتھا کہ اللہ مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں،ایم کیو ایم پاکستان کے تمام کارکنان جانبحق افراد کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔زخمیوں کو بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ملبے میں دبے ہوئے افراد کو ریسکیو کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، دھماکے کی نوعیت جانچنے کے لئے مکمل تحقیقات کی جائیںمیڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے سے متاثرہ بلڈنگ نالے کے اوپر بنائی گئی تھی، تحقیقات کی جائیں کہ نالے کے اوپر بلڈنگ کیسے بنائی گئی،کراچی میں تواتر کے ساتھ بلڈنگ کنٹرول کے اداروں کی نااہلی کی وجہ سے لوگوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے۔ متعلقہ اداروں اور ان میں موجود کالی بھیڑوں سے سختی سے نمٹنے اور سزائیں دینے کی ضرورت ہے

    چیئرمین قومی وطن پارٹی آفتاب خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ کراچی دھماکہ میں 12 افراد کےانتقال اور درجنوں زخمیوں کا سن کردلی دکھ ہوا،میری تمام ہمدریاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں یہ سانحہ بھی ناجائزتجاوزات اور نالوں پربنی عمارتوں کا شاخسانہ تھا۔شہری اداروں کو چاہیے کہ فوری اورموثراقدمات اٹھائیں تاکہ ایسے مزید سانحات سے بچا جا سکے .

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ نالوں پر عمارتوں کا بننا جائز نہیں ہے، غیرقانونی طور پرہونے والی تعمیرات پر ایکشن لیا جا رہا ہے، کراچی کے نالوں میں قائم کی گئی تجاوزات کو ہٹایا جائے،نالوں پر ہونے والی تجاوزات ختم کرنے سے پہلے متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کی جائے نالوں پر تجاوزات بنانا کسی بھی صورت جائز نہیں نالوں پر تعمیرات کرنے والے اصل ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

  • پاکستان عالمی اورعلاقائی معاملات میں جرمنی کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے:آرمی چیف

    پاکستان عالمی اورعلاقائی معاملات میں جرمنی کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے:آرمی چیف

    راولپنڈی:پاکستان عالمی اورعلاقائی معاملات میں جرمنی کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی اورعلاقائی معاملات میں جرمنی کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جرمنی کے خصوصی نمائندے برائے پاکستان افغانستان کی ملاقات۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے اموراور علاقائی سلامتی کے امور پر بات چیت ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ افغانستان میں انسانی المیے کو روکنے کیلئے امداد پہنچانے کے لئے فوری طور پر ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورتحال بالخصوص انسانی امداد میں تعاون، شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرمن نمائندے نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، علاقائی استحکام کے لیے خصوصی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

  • تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار

    تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار

    تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ کہ ایک تو عوام کو کوئی ریلیف نہیں دینا دوسرا روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا بیان ضرور دینا ہے جو عوام کے زخمی پر نمک پاشی کے مترادف ہو ۔ جہاں وزیر اطلاعات فواد چوہدری مہنگائی پر اپنی ماہرانہ رائے دینے سے باز نہیں آرہے ہیں تو شہریار آفریدی بیرون ملک جا کر صحافیوں کو تڑیاں لگا رہے ہیں تو شبلی فراز قومی بھنگ پالیسی کا اعلان کررہے ہیں ۔ رہی بات علی امین گنڈا پور کی ۔ تو وہ ہر کسی کے ساتھ ہی چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جب ایسی کارکردگی ٹی وی سکرینوں کی زینت بنی ہوتو پھر وہ ہوتا ہے ہے جو آج لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شہبازگِل کے ساتھ ہوا ہے ۔ جہاں خاتون پروفیسرنے شہبازگِل سے ڈگری لینے سے انکار کردیا اور خاتون پروفیسر کا نام باربار پکارنے پر بھی وہ اسٹیج پرنہ آئیں۔ اس حوالے سے جب صحافی نے شہباز گل سے سوال کیا گیا کہ خاتون پروفیسر نے ٹوئٹ کے ذریعے آپ سے ڈگری لینے سے انکار کیا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھاکہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کو حق حاصل ہے۔ ویسے یہ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں مجھ تو ڈر ہے کہ کہیں جب یہ ووٹ مانگنے جائیں گےتو بات کہیں برابھلا کہنے سے جوتیاں اور گندے انڈے پڑنے تک نہ پہنچ جائے ویسے اس کا ایک مظاہرہ ہم آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھ چکے ہیں جب علی امین گنڈاپور پر ایسی ہی کاروائی کی گئی تھی جب وہ سنجے دت کے طرح فائرنگ کرتے ہوئے ایک جگہ سے گزرے تھے ۔ اب تازہ تازہ جو علی امین گنڈا پور نے فضل الرحمان کو ٹارگٹ کیا ہے اس ہر جے یو آئی ف کے حافظ حمد اللّٰہ نے علی امین گنڈا پور کوتسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ جس میں انھوں نے علی امین گنڈا پور کو سیاست کے بجائے فلم انڈسٹری میں سلطان راہی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور آج کل اس لیے خوش ہیں کہ ان کے لیڈر نے بھنگ کی کاشت شروع کر دی ہے۔ بھنگ کے بعد آپ کو بلیک لیبل شہد استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بات تو ہے رسوائی کی ۔ پر مجھے امید ہے کہ جلد علی امین گنڈا درعمل میں مزید کوئی نئی بونگی ماریں گے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال تحریک انصاف کے لیے اچھی خبر نہیں آرہی ہے ۔ کے پی کے میں جو بلدیاتی الیکشن ہورہا ہے اس میں پی ٹی آئی کی حالت کافی پتلی ہے ۔ اسکی وجہ ہے ۔ جب فواد چوہدری کبھی کہیں گے کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف فضول مہم بنا دی جاتی ہے کہ جی قیمت میں اضافہ ہو گیا، اگر تین روپے قیمت ہے سات روپے ہو گئی تو کیا قیامت آگئی؟تو کبھی کہتے ہیں کہ گیس ختم ہوگی اب سستی گیس نہیں ملے گی۔ ان بیانات اور حرکتوں کے بعد کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عوام کیوں پی ٹی آئی سے متنفر ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم کی طرح حکومتی وزراء جو مرضی دعوے کرتے رہیں۔ عالمی ادارے پاکستان کو مہنگائی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا ملک قرار دے چکے ہیں۔ یوں پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک شام، صومالیہ اور جنوبی سوڈان کی صف میں آکھڑا ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حکومتی صفوں میں شامل مٹھی بھر اشرافیہ نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جن کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ ملک کی نصف آبادی غربت اور افلاس کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اپوزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو خبر یہ ہے کہ جہانگیر ترین بھی پاکستان سے لندن پہنچ گئے ہیں ۔ وہ دو ہفتے لندن میں رہیں گے۔ جہاں وہ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان سے پہلے ایاز صادق بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور پچیس لوگوں کے حوالے سے خبر بھی زیر گردش ہے کہ جنرل الیکشن میں ٹکٹ کا وعدہ کیا جائے تو وہ پانسہ پلٹ دیں گے ۔ میں تصدیق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر کہنے والے تو کہہ رہے ہیں جہانگیر ترین شاید اسی سلسلے میں لندن پہنچے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے اس وقت جہانگیر ترین نے بھی ساری ہی آپشنز رکھی ہوئی ہیں ۔ گزشتہ دنوں انکی یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تصویر بھی وائرل تھی جس کے بعد چہ مگویاں شروع ہوگئی تھیں ۔ میں آپکو یہ بتادوں کہ اس وقت ترین گروپ میں لگ بھگ 25 سے 30 قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں ۔ اور ان میں زیادہ تر electables ہیں ۔ ویسے چند ہفتے قبل ہی جہانگیر ترین یہ دعوی کر چکے ہیں ۔ کہ میری تاحیات انتخابی نااہلی ٹیکنیکل بنیادوں پر ہے۔ یہ جلد ختم ہو جائے گی۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آنے والے الیکشن میں پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ ایک بڑا گروپ ہوگا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نتھی رہے گا یا پرواز کرکے کس اور جگہ چلا جائے گا ۔ اچھا صرف جہانگیرترین ہی نہیں اپنی نااہلی کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں بلکہ محمد زبیر بھی مریم نواز کے حوالے سے دعوی کر رہے ہیں کہ اگلا الیکشن وہ لڑیں گی اور تمام کیس بھی ختم ہونگے ۔ اچھا مجھے غیب کا علم تو نہیں پر اگر زبیرعمر کہہ رہے ہیں تو یقینی طور پر وہ کسی انفارمیشن کی بنیاد پر ہی کہہ رہے ہوں گے ۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ ان کے تعلقات پنڈی اور اسلام آباد دنوں جگہ کافی اچھے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ایاز صادق اگر لندن جاکر اپنی رائے نوازشریف کو دینا چاہتے ہیں تو ان کا حق بنتا ہے، میرا خیال ہے عام انتخابا ت2022ء کے اوائل یا درمیان میں ہوں گے۔ ۔ فارمولہ بھی خواجہ آصف نے بتا دیا ہے کہ کیسے اس حکومت کو گھر بھیجا جائے گا ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔موجود حکومت کو نکالنا ہے تو تحریک عدم اعتماد سے نکالیں، کسی غیر آئینی طریقے سے ان کو نہیں نکالنا چاہیے۔ ان کی اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ اسی صورت ممکن ہے جب اتحادی تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیں یا پھر پی ٹی آئی کے اپنے عمران خان سے داغا کریں اور تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ ڈالیں ۔ جو حالات بنتے دیکھائی دے رہے ہیں اس میں ممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ کیونکہ حکومت کی کسی بھی قسم کی کوئی کارکردگی نہ ہونے کہ وجہ سے پی ٹی آئی کی popularityمیں روز بروز کمی ہوتی جارہی ہے اور اگلے جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا بڑے جگرے والا کام ہے ۔ اس کی مثال میں آپکو دے دیتا ہوں جیسے لاہور این اے 133کے الیکشن میں جمشید اقبال چیمہ نے راہ فرار اختیار کی وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جیسے کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹکٹیں دیتے ہوئے جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی آپکے سامنے ہے کہ لوگ تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں لے رہے تھے یہاں تک پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں ۔ اب جو بلدیاتی الیکشن اور خانیوال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا رزلٹ سامنے آئے گا اس سے چیزیں مزید واضح ہوجائیں گی ۔ کہ حکومت وقت پورا کرے گی یا وقت سے پہلے انتخابات ہون گے ۔ دوسرا خانیوال میں ضمنی الیکشن کی بڑی وجہ شہرت یہ بھی بنی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نون جبکہ مسلم لیگ نے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر کو اپنا امیدوار بنا لیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر خانیوال میں ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے ٹی ایل پی کی پرواز کیا ہوگی یہ بھی معلوم ہوجائے گا کیونکہ علامہ سعد رضوی وہاں ایک تگڑا جلسہ بھی کر آئے ہیں ساتھ ہی انھوں نے اہلسنت کی تمام جماعتوں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں کہ ہر جگہ مشترکہ امیدوار لائے جائیں ۔ اب یہ ٹی ایل پی فیکڑ ن لیگ کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے یا پی ٹی آئی کو ۔۔۔ اس خانیوال کے ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے واضح ہوجائے گا ۔ اس لیے یہ الیکشن مستقبل کا سیاسی منظر نامہ ہوگا اس لیے یہ کافی اہم مانا جا رہا ہے ۔ ۔ میں آپکو بتاوں جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو کہا جائے گا کہ ۔۔۔ سیاسی شعبدہ بازیوں ۔۔۔ نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ ہم نے اپنی معیشت تو کیا سنبھالنی تھی۔ مقروض ہی ہوتے چلے گئے۔ قرضے اتارنے کے لیے مزید نئے قرضے لیے اور قرضوں کے اس جال سے کبھی نہ نکل سکنے کی بنیاد ڈال دی گئی ہے ۔ ۔ لب لباب یہ ہے کہ ایک طرف حکمرانوں کے رنگین و سنگین بیانات ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کی حالت زار دیدنی ہے۔ ۔ اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی پر قابو پانا مریخ پر آکسیجن کی تلاش کی طرح ناممکن ہوچکا ہے ۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی منتخب جمہوری حکومت آٹا ، چینی ،دودھ ، گھی ، سبزی،گوشت اور دالوں جیسی کچن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو عوام اسے دوسرا آئینی دورانیہ انعام کے طور پر بخش دیتے ہیں ورنہ اسکے خلاف ووٹ ڈال کر اسکو تاریخ بنا دیتے ہیں

  • بھارت کی بگڑتی ہوئی صورت حال چند سالوں میں9لاکھ کے قریب ہندوستانیوں نے ملک چھوڑدیا

    بھارت کی بگڑتی ہوئی صورت حال چند سالوں میں9لاکھ کے قریب ہندوستانیوں نے ملک چھوڑدیا

    نئی دہلی :بھارت کی بگڑتی ہوئی صورت حال چند سالوں میں 9 لاکھ کے قریب ہندوستانیوں نے ملک چھوڑدیا ،اطلاعات کے مطابق ہندوستانی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا کہ 2017 سے اب تک 8,81,254 ہندوستانی شہریوں نے اپنی شہریت چھوڑ دی ہے۔

    مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیانند رائے نے یکم دسمبر کو پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ گزشتہ سات سالوں میں 20 ستمبر تک 6,08,162 ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کی ہے۔ ان میں سے 1,11,287 لوگوں نے اس سال ستمبر تک اپنی ہندوستانی شہریت ترک کردی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 10,645 غیر ملکی شہریوں نے، جن میں سے زیادہ تر پاکستان (7,782) اور افغانستان (795) سے ہیں، نے 2016 اور 2020 کے درمیان ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت 100 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی بیرون ملک مقیم ہیں۔

    مذکورہ اعداد و شمار کیرالہ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہیبی ایڈن کے سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نے لوک سبھا کو فراہم کیے تھے۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مرکزی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پین انڈیا نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (NRC) بنانے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ مرکزی وزیرنے کہا کہ یہ قانون 10 جنوری 2020 کو نافذ ہوا، دسمبر 2019 میں اس کے ابتدائی نوٹیفکیشن کے فوراً بعد پورے ملک میں زبردست مظاہرے ہوئے۔