Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    بیجنگ : اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور امریکہ کے درمیان حالات خراب ہورہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی سفارتی جنگ اس وقت عروج پر ہے ، امریکہ نے چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں‌ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس پر چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

    حالیہ برسوں میں امریکہ نے کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا ایسا فیصلہ کبھی نہیں کیا۔ اس سے قبل اوباما انتظامیہ نے 2014 میں روس میں ہونے کھیلوں کے دوران اعلیٰ حکام کو نہیں بھیجا تھا لیکن ان کے متبادل وفد بھیجا گیا تھا۔

    ادھر بائیڈن انتظامیہ چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ پر بڑی نقاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے علاقے میں جہاں بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ شہری مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ مسئلہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے پیر کو اس معاملے پر اپنے مختصر بیان کے دوران خاص طور پر سنکیانگ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے ’مظالم‘ اور ’نسل کشی‘ نے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو ہوا دی۔

    اسی طرح امریکہ اور چین کے مابین تائیوان کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کشیدہ ہیں۔

    دوسری جانب چین میں کھیلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات حالیہ ہفتوں میں چینی ٹینس سٹار پینگ شوائی کے حوالے سے تنازعے کے ساتھ مزید بڑھ گئے ہیں، جنہوں نے حکمران جماعت کے ایک سیاست دان پر جنسی حملے کا الزام عائدکیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بظاہر منظر عام سے غائب ہیں، جن کی حفاظت کے حوالے سے سابق اور موجودہ ٹینس سٹارز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  • اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی پھروارننگ

    اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی پھروارننگ

    نیویارک :عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 2.2 ارب سے زیادہ افراد آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعداد، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ متاثرہ افراد میں سے 50 فیصد کا مرض قابل علاج ہے۔

    اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پوری دنیا میں نابینا افراد کی تعداد 2050 تک 11 کروڑ 50 لاکھ کا ہندسہ عبور کرسکتی ہے جو موجودہ تعداد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا ہوگی۔ اس کے سالانہ نقصان کا تخمینہ 410.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

    جبکہ پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد افراد بینائی سے محروم ہیں۔

    اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی وارننگ،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگرآنکھوں کی بیماروں سے متعلق احتیاط نہ برتی گئی تودنیا کی چوتھائی آبادی آنکھوں کے خطرناک امراض کی شکار ہوجائے گی جس کا نتیجہ خطرناک نکل سکتا ہے

    عالی ادارہ صحت کے مطابق ان میں سے نصف کیسز، یا ایک ارب کے قریب کیسز، روکے جا سکتے ہیں کیونکہ انہیں محض لاپرواہی (یا آگاہی کی کمی) کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا تھا۔ڈبلیو ایچ او کی اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے نابینا پن یا بینائی سے محرومی کے کیسز میں ڈرامائی اضافہ ہو سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق دنیا میں تقریباً 1.8 بلین لوگ پری بائیوپیا کا شکار ہیں۔ اس بیماری میں لوگ آس پاس کی چیزیں نہیں دیکھ پاتے۔ یہ بیماری بڑھتی عمر کے ساتھ آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میوپیا (ایک بیماری جس میں لوگ دور کی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتے) دنیا میں 2.6 بلین لوگوں میں موجود ہے۔اس میں سے 312 کروڑ مریض 19 سال سے کم عمر کے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں موتیا کے مریضوں کی تعداد 65 ملین اور گلوکوما کے مریضوں کی تعداد تقریباً 7 ملین ہے۔

    اگرچہ دنیا میں ٹریکوما کے مریضوں کی تعداد 20 لاکھ ہے اور یہ بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ بصارت کی خرابی سے جڑا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ معیار زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ اس کا اثر زیادہ ترمعمرافراد پر پڑتا ہے۔نابینا پن نہ صرف معاشی انحصار کو بڑھاتا ہے اور پیداواری صلاحیت کو کم کرتا ہے بلکہ یہ معیشت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی دستاویز میں لکھا گیا ہے کہ بصارت کے نقصان اور علاج نہ کیے جانے والے مایوپیا سے عالمی معیشت کو 244 بلین ڈالر اور پریس بائیوپیا کو 25.4 بلین ڈالر کی پیداواری نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بصارت کی کمزوریوں کے کیسز زیادہ آمدنی والے طبقے کی نسبت کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے میں زیادہ ہیں۔ دنیا کے کل بصارت سے محروم افراد (217 ملین) میں سے 62 فیصد صرف ایشیا میں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا مرد یا عورت ہونے کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موتیا بند اور trachomatous بیماریاں خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہیں اور یہ بیماری کم اور درمیانی آمدنی والے گروپوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔اس معاملے میں دیہی اور شہری فرق بھی ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں موتیا بند کے زیادہ کیسز ہیں اور ان کے آپریشن کی کوریج بھی کم ہے۔

    یاد رہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ، آنکھوں کی مناسب دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے،یہ بھی یاد رہےکہ انہیں حقائق کی حساسیت سے متعلق ڈبلیو ایچ او نے دو سال قبل اپنی پہلی ورلڈ ویژن رپورٹ میں متنبہ کیا تھا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب نابیناپن میں بے اضافہ ہونا ہے۔اب تازہ رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت نے خبردارکرتے ہوئے عالمی قوتوں کواس پرفی الفور کام کرنے پر زور دیا ہے ،

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملے کے لیے امریکہ واتحادی جواب کے لیےتیار،اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ مشرقی یورپ میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھا دے گا اور روس کو اس کی جانب سے ’شدید اقتصادی نقصان‘ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین کے معاملے پر پچھلے 24 گھنٹوں سے صورت حال بڑی ہے اہمیت اختیار کرگئی ہے ، آج بھی وائٹ ہاوس اور پینٹا گان میں بڑی بڑے اہم اجلاس جاری ہیں‌ اس سلسلے میں‌ کل صحافیوں سے ایک پریس کال میں انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو نیٹو کے مشرقی اتحادی اضافی فوجیوں اور صلاحیتوں کی درخواست کریں گے اور امریکہ فراہم کرے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ یوکرین پر روسی متوقع حملے کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس بھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ اگر روس یوکرین سے پیچھے نہیں ہٹتا، اس کی خودمختاری اور آزادی کے لیے خطرہ بنتا ہے تو ہم اور ہمارے اتحادی کارروائی کے لیے تیار ہوں گے۔‘ وائٹ ہاؤس کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج یعنی منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان ویڈیو کال متوقع ہے۔

    ذرئع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ صدر بائیڈن صدر پوتن کو اس کال کے دوران خبردار کریں گے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اسے سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب یوکرین کی سرحد پر دسیوں ہزار فوجی جمع ہونے کے بعد امریکہ روس کو یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ اپنی ورچوئل ملاقات سے قبل بائیڈن نے پیر کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں سے بھی بات کی، جس کے بعد مغربی طاقتوں نے اس ’عزم‘ کا اظہار کیا کہ یوکرین کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔

    ایک سینیئر امریکی عہدیدارنے دعویٰ‌کیا ہے کہ امریکی صدر اپنے یوکرینی ہم منصب ولادو میر زیلنسکی کو بھی فوری طور پر پوتن کے ساتھ اپنی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جو منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو رہی ہے، کیونکہ دسیوں ہزار روسی فوجی یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات ہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو نہیں معلوم کہ آیا پوتن نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی دستوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں، تاہم وہ براہ راست امریکی مداخلت کی دھمکی دینے سے باز رہے۔

    اس امریکی عہدیدار نے بڑے وثوق سے کہا کہ اگر روس نے حملہ کیا تو امریکہ اور یورپی اتحادی سخت ’جوابی معاشی اقدامات‘ کرسکتے ہیں جو روسی معیشت کو اہم اور شدید اقتصادی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس کے علاوہ صدر بائیڈن یہ واضح کریں گے کہ اگر پوتن پیش قدمی کرتے ہیں تو مشرقی خطے کے اتحادیوں کی طرف سے اضافی افواج، دفاعی صلاحیتوں اور مشقوں کے لیے موجود درخواست پر امریکہ کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔

    وائٹ ہاؤس نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ بائیڈن کی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ مکمل بات چیت میں روس سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈونباس میں تنازع کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ یوکرین کے مطابق روس کی سرحد کے قریب ایک لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔

    دوسری جانب روس کسی بھی جنگی ارادے کی تردید کرتا ہے اور مغرب پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاتا ہے، خاص طور پر بحیرہ اسود میں فوجی مشقوں کے ساتھ، جسے وہ اپنے اثر و رسوخ کے ایک حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔ پوتن مغرب سے یہ وعدہ چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا، جو سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ٹرانس اٹلانٹک اتحاد ہے۔

    پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کو ایک سنگین خطرے کے طور پر لے رہا ہے۔ روس کے صدر کے دفتر نے پیر کو کہا تھا کہ ماسکو بائیڈن- پوتن کال سے کچھ زیادہ توقعات نہیں رکھتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ہے کہ امریکہ اب بھی سمجھتا ہے کہ روس اور مغرب کے درمیان یوکرین کی روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ جنگ ​​بندی پر عمل درآمد سے متعلق منسلک معاہدے ممکن تھے۔

    ترجمان کی طرف سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کے لیے ہمارے سامنے ایک موقع، ایک آپشن موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر روس اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تو امریکہ ’بھاری اثرات والے اقتصادی اقدامات کو لاگو کرنے کے لیے تیار ہے، جو ہم نے ماضی میں استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔‘

     

     

  • وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع:اہم فیصلے متوقع

    وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع:اہم فیصلے متوقع

    اسلام آباد:وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع:اہم فیصلے متوقع ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہوگیا۔اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں سیالکوٹ سانحہ پر بھی بات چیت کی جائے گی، سیالکوٹ سانحہ پر ملزمان کے خلاف کاروائی پر کابینہ ارکان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کا 17 نکاتی ایجنڈہ جاری کر دیا گیا ۔

    ذرائع کے مطابق آج وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ کو وزارتوں اور اداروں میں سی ای اوز اور ایم ڈیز کی خالی آسامیوں پر بریفنگ دی جائے گی،سکائی ونگز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل فلائیٹ لائسنس کے اجرا کی منظوری دی جائے گی،افغان باشندوں کو کسی تیسرے ملک میں جانے کے لیے زمینی یا فضائی محفوظ راستہ دینے کی منظوری دی جائے گی۔

    اجلاس میں انٹرنیشنل این جی اوز کے لیے ویزے کے طریقہ کار کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا جبکہ عمر سعید خان کو سیکیورٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیے جانے کی منظوری دی جائے گی۔وفاقی کابینہ اجلا س میں گیپکو اور ٹیسکو کے سی ای اوز کی تعیناتی کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔

    اجلاس میں پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی مارکنگ فیس پر نظرثانی کی منظوری دی جائے گی،ڈی جی پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کراچی کی منظوری دی جائے گی۔کابینہ اجلاس میں اوگرا کی سال 2019-20 کی رپورٹ پیش کی جائے گی،کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق بھی کرے گی،

    کابینہ کمیٹی برائے لیجیسلیٹو کیسز کے فیصلوں کی توثیق کی جائے گی،کابینہ کو معاشی اعشاریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ اجلاس میں شعبہ زراعت کی 5 بڑی فصلوں سے متعلق کارکردگی پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ یوریا فرٹیلائزر کی ٹی سی پی کے ذریعے درآمد سے متعلق رولز 2004 میں جزوی استثنیٰ کی منظوری دی جائے گی۔

  • مولوی صاحب جان دیو:آپ تاں اسمبلی توباہرجےسانوں وی کہڈناچاہندےجے”ن لیگ نےاستعفےدینےکی مخالفت کردی

    مولوی صاحب جان دیو:آپ تاں اسمبلی توباہرجےسانوں وی کہڈناچاہندےجے”ن لیگ نےاستعفےدینےکی مخالفت کردی

    اسلام آباد :مولوی صاحب جان دیو:آپ تاں اسمبلی توباہرجےسانوں وی کہڈنا چاہندے جے”:ن لیگ نےاستعفےدینےکی مخالفت کردی،اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل بڑی جماعت مسلم لیگ ن نے ایک بار پھر اسمبلیوں سے استعفے دینے کی مخالفت کر ‏دی۔

    ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم اسٹئیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں استعفوں پر ن لیگ نے پھر مخالفت کرتے ہوئے کہا ‏کہ ہماری جماعت میں اسمبلی سے استعفوں پر دو رائے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مولانا بار بار ن لیگ کو استعفے دینے پر مجبور کررہے ہیں اس پرن لیگ کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ”مولوی صاحب جان دیو:آپ تاں اسمبلی توباہرجےسانوں وی کہڈنا چاہندے جے

    لیگی رہنما نے کہا کہ کچھ لوگ مخالف اوربعض استعفےمناسب وقت پر دینا چاہتے ہیں پی پی کےبغیر استعفے ‏دیے تو حکومت اہم بل پاس کرا لے گی۔

    اجلاس میں لانگ مارچ کو مارچ کے آخر میں کرنے کی تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے کہا گیا کہ پی پی کو بھی اب ‏اتحاد میں شامل کر لیں۔

    لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ استعفوں کی بجائے اسمبلی کامستقل بائیکاٹ کریں اگر مستقل بائیکاٹ کرنا ہے تو پی ‏پی کو ساتھ ملا لیں۔لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ شہبازشریف نےکہا ہےکہ مرادعلی شاہ بھائی کی طرح ہے پی پی والے ‏دشمن نہیں ہیں۔

  • بھارتی نژاد گیتا گوپی ناتھ آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرتعینات:پاکستان کومحتاط رہنے کی ضرورت

    بھارتی نژاد گیتا گوپی ناتھ آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرتعینات:پاکستان کومحتاط رہنے کی ضرورت

    واشنگٹن:بھارتی نژاد گیتا گوپی ناتھ آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرتعینات:پاکستان کومحتاط رہنے کی ضرورت
    ،اطلاعات کے مطابق بھارتی نژاد گیتا گوپی ناتھ کوعالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر(اول ) تعینات کردیا گیا ہے ۔وہ آئندہ برس کے آغاز میں جیوفری ایکاموتو کی سبکدوشی پر عہدے کا چارج سنبھالیں گی۔

    گیتا گوپی ناتھ اس وقت آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ کی حیثیت فرائض انجام دے رہی ہیں ۔انہیں جنوری 2022 میں ہارورڈ یونیورسٹی میں اپنی تدریسی ذمے داریاں سنبھالنے واپس جانا تھا تاہم اب انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ بطور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (اول ) کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ گیتا نے آئی ایم ایف میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (اول) کی ذمے داری سنبھالنے پرآمادہ ہوگئی ہیں۔

    کرسٹینا جارجیوا نے مزید کہا خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ کرونا نے ہمارے رکن ممالک کو درپیش میکرو اکنامک چیلنجز کے پیمانے اور دائرہ کار میں اضافہ کیا ہے، میں سمجھتی ہوں کہ عالمی سطح پر معروف میکرو اکنامسٹ میں شمار کی جانے والی گیتا گپتا کے پاس بالکل وہی مہارت ہے جس کی ہمیں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (اول) کے کردار کے لیے ضرورت ہے۔عالمی سطح کی میکرواکنامسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ فنڈ میں بطور چیف اکنامسٹ کئی سال کا تجربہ انہیں منفرد طور پر اہل بناتا ہے اور وہ صحیح وقت پر صحیح شخص ہیں۔

    بھارتی نژاد گیتا گوپی ناتھ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اپنی نامزدگی کی خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (اول)بننے کا اعزاز حاصل ہورہا ہے۔فنڈز کا کام کبھی وبا کے دور سے زیادہ اہم نہیں رہا۔رکن ممالک کو درپیش چیلنجز کے مقابلے میں مدد فراہم کرنے کیلیے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہوں۔

    دوسری طرف آئی ایم ایف نے پاکستان میں ریاستی خزانے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے – حکومت پاکستان اب ریاستی خزانے سے کسی بھی قسم کے قرضے بغیر مناسب عمل اور دستاویزات کے نہیں لے سکے گی۔ کاغذی کرنسی پرنٹ نہیں کر سکتے جیسا کہ ماضی میں ہو رہا تھا۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اب گورنر اسٹیٹ بینک باقر رضا کی کمان سنبھالنے والی ایک خاتون بھارتی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر گیتا گوپی ناتھ کا سامنا کرنا پڑے گا جو کہ بھارتی مفادات کے تحفظ کی ضامن ہیں‌

  • امریکی بھی سندھی ثقافت کے دلدادہ نکلے:سندھی کلچرل ڈے: امریکی قونصل جنرل نے کمال کردکھایا

    امریکی بھی سندھی ثقافت کے دلدادہ نکلے:سندھی کلچرل ڈے: امریکی قونصل جنرل نے کمال کردکھایا

    کراچی :امریکی بھی سندھی ثقافت کے دلدادہ نکلے:سندھی کلچرل ڈے: امریکی قونصل جنرل کی سندھی زبان میں مبارکباد ،اطلاعات کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں سندھی ثقافت کا دن بھرپور جوش و خروش سے منایا جارہا ہے، سندھی ثقافتی دن کے موقع پر جرمن قونصل جنرل بھی ثقافتی رنگوں میں رنگ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے تمام ہی علاقوں میں سندھی ثقافت کا دن جوش وخروش کے ساتھ منایا جارہا ہے بچے، بوڑھے، نوجوان اور خواتین کی جانب سے اپنی ثقافت سے محبت بھرپور اظہار کیا جارہا ہے۔

     

     

    سندھی کلچر ڈے کے موقع پر صوبے کے مختلف شہروں میں سماجی و سیاسی تنظیموں اور پریس کلب کے تعاون سے راگ و رنگ کی محافل، مشاعرہ ، لوک گیتوں پر رقص کی تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

     

    سندھی ثقافتی دن کے موقع پر جرمن قونصل جنرل بھی ثقافتی رنگوں میں رنگ گئے،جرمن قونصل جنرل ہال گرزیگلر نے جرمن پرچم کے رنگوں پر مشتمل سندھی ٹوپی پہن کر سندھی ثقافت اور پاک جرمن دوستی زندہ باد کا پیغام دیا۔

    ادھر امریکی قونصل جنرل نے بھی سندھی زبان میں کلچرل ڈے کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سندھ صوفیوں کی سرزمین ہے، جنہوں نے یہاں امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا، سندھ کے تمام باسیوں کو کلچرل ڈے کی مبارکباد۔

     

    کراچی ،سکھر ، حیدرآباد، جیکب آباد، دادو، نواب شاہ، پڈعیدن اور خیرپور میں بھی ریلیاں نکالی جارہی ہیں جس میں نوجوان، بچے سندھی اجرک ٹوپی پہنے بھرپور انداز میں شریک ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھی ثقافت کی ایک خوبصورت پہچان دیگر سوغاتوں کے علاوہ سندھی ٹوپی اوراجرک بھی ہے، یہاں کے رہنے والے مہمانوں کوسندھی ٹوپی اوراجرک تحفتاً دے کر اپنی محبت کا دل سے اظہار کرتے ہیں۔

  • ترک صدر طیب اردگان پر قاتلانہ حملہ ناکام بنادیا گیا

    ترک صدر طیب اردگان پر قاتلانہ حملہ ناکام بنادیا گیا

    انقرہ:ترک صدر طیب اردگان پر قاتلانہ حملہ ناکام بنادیا گیا ،اطلاعات کے مطابق ترک سیکیورٹی فورسز نے ترک صدر طیب اردگان پر قاتلانہ حملے کی کوشش ناکام بنادی۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک صدر رجب طیب ارگان پر صوبے سیرت میں بم دھماکے کے ذریعے حملے کی کوشش کو ترک سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنادیا۔

    ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ طیب اردگان صوبے سیرت میں ایک ریلی میں شریک تھے، اس دوران پولیس کی گاڑی جو ریلی کی حفاظت پر مامور تھی، سیکیورٹی فورسز نے گاڑی کے نیچے سے بم برآمد کیا جس کو فوراً بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنادیا۔

    ترک میڈیا کے مطابق واقعہ کے بعد فرانزک ٹیموں نے کار کو گھیرے میں لیکر انگلیوں کے نشانات اور دیگر شواہد جمع کرلیے ہیں جب کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ حملہ ترکی مخالف تنظیم کی طرف سے کیا گیا ہےجس کے خلاف سیکورٹی فورسزنے کارروائی شروع کردی ہے

  • عمران خان کی جگہ جومرضی آئےلیکن کپتان ہمیں اچھا نہیں‌ لگتا:ہٹانےکےلیےہرتیرآزمائیں گے:شہبازشریف

    عمران خان کی جگہ جومرضی آئےلیکن کپتان ہمیں اچھا نہیں‌ لگتا:ہٹانےکےلیےہرتیرآزمائیں گے:شہبازشریف

    لاہور: عمران خان کی جگہ جومرضی آئے لیکن کپتان ہمیں اچھا نہیں‌ لگتا:ہٹانے کے لیے ہرتیرآزمائیں گے:،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے، اپوزیشن تمام آئینی سیاسی اور قانونی ہتھیار بروئے کار لائے گی اور قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔

    پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا سیالکوٹ واقعہ سے سر شرم سے جھک گئے، حکومت اس واقعہ کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے۔ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے تو اسے سیاسی رنگ دیا گیا لیکن ہم نے نہ صرف اس واقعہ بلکہ ماضی قریب میں بھی اس طرح کے کسی واقعہ کو کبھی سیاسی رنگ نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ معاشی تباہی جاری رہی تو خدانخواستہ پاکستان کو خطر ات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کورونا نے صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں تباہی مچائی ہے، لیکن آج مہنگائی کے حوالے سے پاکستان دنیا کی فہرست میں تیسر ے نمبر پر ہے۔ اگر جنگی بنیادوں پر کام نہ کیا گیا تو پھر ہمیں تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا

    شہباز شریف نے کہا کہ ۔آئی ایم ایف کی نئی شرائط نے پوری قوم کو گلے سے جکڑ لیا ہے، قوم کے ہاتھ اور پاؤں زنجیر سے باندھ دیئے ہیں۔ ہمسایہ ملک80ء کی دہائی میں آئی ایم ایف کے پاس گیا اور آج تیس سال ہو گئے ہیں اس نے اس سے جان چھڑ الی ہے۔ حکومت نے انتالیس مہینوں میں71سالہ تاریخ کا 70فیصد قرضہ لے لیا۔ ہمیں بھی ورثے میں قرضے ملے لیکن ہم نے نہ صرف ادائیگی کی بلکہ دس ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے لگائے، روڈ انفراسٹرکچر بنایا۔ اگر بلین ٹری منصوبہ سچ ہوتا تو آج سموگ نہ ہوتی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے قرضوں پرکمیشن بنایا تھا لیکن اس کی رپورٹ نہیں آئی، ہمارے ادوار میں قرضوں میں کرپشن نہیں ملی اگر ملتی تو یہ رات بارہ بجے بھی لوگوںکو اٹھا کر اس کا بتاتے۔ تجارتی خسارہ 23 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، صورتحال کو فی الفور کنٹرول کرنے کیلئے اجتماعی اذہان کو جمع کرنا ہوگا۔ یہ تاریخ کی بدترین نااہل، نا تجربہ کار اور کرپٹ حکومت ہے۔

    صدر ن لیگ نے کہا کہ دھاندلی کی پیداوار سلیکٹڈ حکومت کی بد ترین گورننس نے ہر چیز کوتہ و بالا کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے احکامات پر قوم کو غلام بنا رہے ہیں۔ اگر فی الفور کوئی اجتماعی فیصلہ نہ ہوا تو پاکستان کے مفاد کو سنگین خطرات لاحق ہوجائیں گے، پھر آپ کو دفاع کو بھی قرضے لے کر فنانس کرنا پڑے گا۔ ایک سے زیادہ آئینی سیاسی آپشنز ہوتے ہیں اور ہم اس کے مطابق حکمت عملی بنائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر مشاورت نہیں کی، اگر آر ٹی ایس بند ہو سکتی ہے تو ای وی ایم بند ہو سکتی ہے۔ اوورسیز ہمارے سروں کے تاج ہیں انہیں ووٹ کا حق دینے کے طریقہ کار پر اختلاف ہے حکمران بدنیتی سے دھاندلی کے ذریعے ووٹوں کو بکسوں میں ڈلوانا چاہتے ہیں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کریں۔ جو ہمیں دن رات چور اور ڈاکو کہتے ہیں پتہ چلے انہوں نے کس طرح بھارت اور دوسرے ممالک سے فنڈ ز لئے۔ حکومت دروغ گوئی میں سب سے آگے ہے ان کا جھوٹ بولنے اور یوٹرن لینے میں کوئی ثانی نہیں ، انہوںنے ملک کا کباڑہ کر دیا ،معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ عمران خان حکومت کو ایماندار کہنا سفید جھوٹ ہے۔

  • عوام کوعمران خان کے خلاف کیسے گمراہ کیا جائے:پی ڈی ایم سٹیئرنگ کمیٹی میں‌ سفارشات کی تیاری

    عوام کوعمران خان کے خلاف کیسے گمراہ کیا جائے:پی ڈی ایم سٹیئرنگ کمیٹی میں‌ سفارشات کی تیاری

    لاہور:عوام کوعمران خان کے خلاف کیسے گمراہ کیا جائے:پی ڈی ایم سٹیئرنگ کمیٹی میں‌ سفارشات کی تیاری ،اطلاعات کے مطابق عمران خان مخالف اپوزیشن اتحاد کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس آج منعقد ہوا جس میں عمران خان کے خلاف عوام کو کیسے سڑکوں پر لایا جائے سےمتعلق سفارشات کو حتمی شکل دی گئی

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی نے لانگ مارچ اور استعفوں سے متعلق سفارشات تیار کر لیں، ان سفارشات کو پی ڈی ایم کے سرابراہی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

    پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفوں کے آپشن پر غور کیا گیا۔اجلاس میں مہنگائی ، بیروزگاری اور خراب معیشت سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا جبکہ لانگ مارچ اور استعفوں کی حمایت میں سفارشات تیار کی گئیں جو کل پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔

    کمیٹی اراکین نے اتفاق کیا کہ لانگ مارچ ہونا چاہیے اور استعفے بھی دینے چاہیں تاہم لانگ مارچ اور استعفی کب دینے ہیں اس کے وقت اور تاریخ کا تعین سربراہی اجلاس میں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق لانگ مارچ سے پہلے چاروں صوبوں میں کنونشن منعقد ہوں گے جبکہ احتجاجی جلسے بھی کئے جائیں گے۔