باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پروگرام کھرا سچ کی ٹیم کوریج کے لئے لبنان جار ہی ہے
ٹی وی چینل 365 کا آج باضابطہ افتتاح ہوا، 365 میں پاکستان کا مقبول ترین پروگرام کھرا سچ جمعہ سے اتوار شام آٹھ بجے نشر ہو گا،365 کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 365 پہلا چینل ہو گا اور کھرا سچ وہ پہلا پروگرام ہو گا جس کی ٹیم لبنان جا رہی ہے،جہاں جنگ ہو رہی ہے، بہت سے لوگ ہمیں ڈرا چکے ہیں لیکن ہم نے کہا کہ یہ مہینہ آزادی پاکستان کا ہے اور اسی مہینے میں ہم آزادی فلسطین کی رپورٹنگ کریں گے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تمام 365 کی ٹیم کو مبارکباد ہو، تمام ٹیم نے کم وقت میں ریکارڈ کام کیا، کھرا سچ ایک جانا پہنچانا نام ہے جو کبھی بند بھی ہو جاتا ہے اور کبھی بند کر بھی دیا جاتا ہے،کبھی ہم پر پرچے کٹ جاتے ہیں، کبھی ہم عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہوتے ہیں، کھرا سچ تحقیقاتی شو ہے، ہماری دلچسپی اس میں نہیں کہ مہمان کتنا بڑا ہے ہماری دلچسپی اس میں ہے کہ عوام کے مسائل کیا ہیں،عام پاکستانی کی زندگی کو کیا فرق پڑتا ہے اور اس کو ہم کتنا بہتر کر سکتے ہیں، میں بتاؤں کہ مجھے دو تین چینلز سے آفر تھی میں نے بڑا سوچ کر 365 کو جوائن کیا ،پہلے پتہ کہ مالکان کوئی پراپرٹی ڈیلر تو نہیں کیونکہ ہم نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کا بھانڈا بھی پھوڑنا ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج بڑے عرصے کے بعد مزمل سہروردی ہمارے ساتھ انکے پاس بہت خبریں ہیں
مبشر لقمان نے مزمل سہروردی سے سوال کیا کہ اب مہنگائی سے گزارہ نہیں ،بجلی کے بلوں سے گزارہ نہیں ہو رہا، گھر کے کرایوں سے زیادہ بجلی کے بل ہو گئے ہیں،جواب شور مچا رہے ہیں عمر ایوب وغیرہ یہ سب کرمنل ہیں پہلے کر چکے ہیں عوام کا کیا قصور ہے، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ انرجی کرائسز ملک کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے، انرجی بحران سب کے لئے ہے، اسکے لئے مجھے بڑی حد تک امید تھی کہ امیر لوگوں ،کاروباری لوگوں کی جن کی آئی پی پیز ہے وہ پاکستان کی محبت میں ایک دن رضا کار انہ میڈیا پر آئیں گے اور کہیں گے کہ ہم معاہدہ ری وزٹ کرتے ہیں،یہ پاکستان کی بات ہے، حب الوطنی کا تقاضا ہے، میں میاں منشاسمیت سب سے درخواست کرتا ہوں کہ ملک نہیں چلتا، پاکستان ہے تو منشا ہے، پاکستان ہے تو رزاق داؤد ہے، کچھ پاکستان کا سوچیں اس سے پہلے کہ حکومت بازو مروڑ کر زبردستی کروائے، ان سب کو سامنے آنا چاہئے، انکی خاموشی مجرمانہ خاموش ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ ایسی بات کر رہے ہیں کہ دودھ کی رکھوالی کے لئے بلا، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ جب آپ ملک کی بات کرتے ہیں …مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے لئے یہ کچھ کرتے تو یہ نوبت نہ آتی ،بے ضمیر لوگوں سے آپ درخواست کرنا چاہ رہے ہیں….ان لوگوں کے پاس غیر ملکی نیشنلٹی ہیں، کسی کی جائیداد کینیڈا میں ہے تو کسی کی یوکے میں،…مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ان کا سرمایہ تو انہوں نے پاکستان سے ہی بنایا ہے.میں ان سے درخواست کر رہا ہوں اگر وہ نہیں مانیں گے تو پھر کہوں گا کہ شہباز شریف کو ڈنڈا اٹھا لینا چاہئے، پہلے ان سے درخواست، وہ نہیں مانیں گے تو پھر عاصم منیر سے درخواست کر لیں گے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عاصم منیر کتنوں کی بات سنے، قیدی نمبر 804 درخواست کر رہا،عاصم منیر سن ہی نہیں رہے، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ قیدی نمبر 804 سے کوئی مسئلہ نہیں ہے،کون سے ہزاروں لوگ اس کے لئے نکل رہے ہیں، ملک جام ہے، ایسا کچھ نہیں ہے،کے پی گورنمنٹ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کو آپریٹ کر رہی ہے، اپوزیشن کوآپریٹ کر رہی ہے، پارلیمنٹ چل رہی ہے ملک کا نظام چل رہا ہے تو پھر کیا مسئلہ ہے، قیدی804 سے تو کوئی مسئلہ نہیں وہ تو جیل میں ہے لیکن توانائی کا مسئلہ ایسا ہے کہ اس سے ملک نہیں چل رہا.عمران خان نے کچھ مواقع گنوائے ہیں جب مذاکرات ہو سکتے تھے، اس وقت مجھے ایسی کوئی صورت نہیں آ رہی کہ اس سے بات ہو، مائنس عمران نظام بہت اچھا چل رہا ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ اچھی خبر یہ ہے کہ جن لوگوں نے خلیل الرحمان قمر پر تشدد کیا، حبس بے جا میں رکھا، انکو پکڑ لیا گیا، 12 افراد کو پکڑ ا گیا جن میں خواتین بھی ہیں،یہ واقعہ آئی اوپنر ہے سوسائٹی کے لئے کہ ہم کس قدر گر گئے ہیں، خلیل الرحمان قمر کی وجہ سے یہ واقعہ مشہور ہوا، آئے روز ہم سنتے ہیں کہ لڑکی نے سڑک پر لفٹ لی اور آگے جا کرقمیض کا کپڑا پھاڑ دیا اور بلیک میل کیا کہ اتنے پیسے دو ورنہ شور مچا دوں گی،یہ جب سے موبائل کیمرہ آیا ہے ہر آدمی ایک انویسٹی گیٹو صحافی بن گیا ہے اور اپنے طریقے سے استعمال کر رہا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیفے میں یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں ملتے تھے، کہا جاتا ہے کہ یہ آئس کا نشہ کرتے تھے ،غریب آئس کا نشہ کرتا ہے، اس روز دو لوگ تھے حسن شاہ اورایک اور ، ٹی وی دیکھ رہے تھے جس میں خلیل الرحمان قمر کا پروگرام چل رہا تھا جس میں وہ حسب عادت تبرا کر رہے تھے خواتین کے حوالہ سے وہ کئی باری گھٹیا گفتگو کر چکے ہیں جس کی ہمارے معاشرے میں گنجائش نہیں، ہمیں سب کی عزت کرنی چاہئے، انہوں نے پلان بنایا کہ یہ خلیل الرحمان قمر امیر بڑا ہے،ا سکو سبق بھی سکھانا ہے، اسی کو اغوا کرتےہیں وہاں سے ساری پلاننگ شروع ہوئی،اس گینگ کے مزید لڑکے،لڑکیاں شامل ہو جاتی ہیں، آمنہ بھی مرکزی کردار بن جاتی ہے اس منصوبے کے تحت خلیل الرحمان قمر کہتےہیں کہ مجھے فون آیا اور خاتون نے کہا کہ میں لندن سے آئی ہوں، فین ہوں، ڈرامہ یا فلم بنانا چاہتی ہوں،صبح ساڑھے چار بجے وہاں چلا گیا، کمال کی بات ہے ،اتنی صبح ریلوے یا ایئر پورٹ جا رہے ہیں یا ہسپتال چیک اپ کروانے جا رہے ہیں؟ کسی کو ملے بھی نہیں اور پہلی بار اسکے گھر جا رہے ہیں، خلیل الرحمان قمر نے وضاحت دی کہ ڈاکٹر نے دھوپ پر نکلنے سے منع کیا، یہ ڈاکٹر کون ہے، بیماری کیا ہے، میری سمجھ سے باہر ہے،مجھے حیرانگی ہوئی،اور پھر جب یہ پریس کانفرنس کر رہے تھے تو میں نے اپنی ٹیم سے خاص طور پر پوچھا کہ ٹائم کیا ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ دوپہر ڈیڑھ بجے کا ٹائم ہے،وہ دوپہر میں جا رہے ہیں پریس کانفرنس کی، وہاں گئے ہوں پھر واپسی ہوئی ہو گی، جسم کو کچھ نہیں ہوا،کوئی مسئلہ نہیں ہوا، یہ کس قسم کی بیماری اور ڈرامے ہیں،بیماری بھی ایسی کہہ رہے جو شاید انگریزوں کو ہوتی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ نگار ہیں تو ڈرامائی تشکیل دینا انہیں آتی ہے، آمنہ عروج بھی رات و رات امیر ہونا چاہتی ہیں ، انہوں نے ہنی ٹریپ کا پروگرام بنایا اور موصوف ٹریپ ہو گئے، 75 سال عمر ہے، موصوف کو سوچنا چاہئے تھا،بقول انکے کہ جیسے ہی میں اندر گیا لڑکے اندر آئے اور مارپیٹ کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر کہیں اور جگہ لے گئے، حبس بے جا کا طویل سلسلہ، ایک جگہ سے دوسری جگہ، لاتیں،مکے یہ سب چلتا رہا، ایک آدھا فائر بھی چلا جو ٹانگ کے قریب سے گزرا، دوسرے جو لوگ ہیں وہ کہتے ہیں کہ خلیل الرحمان قمر کو جب فائر کی آواز آئی تو ان کی حالت غیر ہو گئی تھی، انکو لگا کہ انکا ہارٹ فیل نہ ہو جائے،اسی لئے فوری کہا کہ ایک کروڑ تاوان کی بجائے دس لاکھ کر دیں،پولیس نے جلدی کاروائی کی، اے ٹی ایم کے کیمرے دیکھے، پھر ملزمان کی گرفتاریاں شروع ہوئیں،سب پکڑے گئےلیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہوا کیوں، ایک تو یہ کہ ہمارے معاشرے میں ہوا، دوسرا خلیل الرحمان قمر کی کمزوری ہر ایک کو پتہ ہے کہ وہ کچھ معاملات میں کتنے کمزور ترین انسان ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس سارے ڈرامے سے ریکور کرنے میں خلیل کو پانچ دن لگے، میرا خیال ہے کہ اب خلیل کو ٹراما اور ڈرامہ کا مطلب بخوبی سمجھ آ گیا ہے،مجھے بتایا گیا ہے کہ خاتون نے جو گھر رینٹ پر لیا ہوا تھا وہ اسی مقصد کے لئے تھاوہاں کیمرہ وغیرہ ضرور ہو گا، یہ دیکھیں کہ خلیل الرحمان قمر کے لئے بھی ایک سبق ہے، کچھ عرصہ پہلے انہوں نے کہا تھا کہ عورتیں مرد کے برابر نہیں اگرہیں تو اغوا کر کے دکھائیں، اس طرح کی فضول باتیں کی تھیں تو وہ ہو گیا، آمنہ نے کر دیا، کسی کو کمتر نہیں سمجھنا چاہئے، میں کسی مجرم کی تعریف نہیں کر سکتا ،میں تشدد کی مذمت کروں گا، خلیل پر ہونے والے تشدد کی بھی مذمت کر رہا ہوں، لیکن کہتاہوں کہ دیکھیں کمزوری کیا ہے کہ صبح ساڑھے چار بجے پہنچ گئے، او ر ڈاکٹر ایسا پیدا کر دیا جیسے نواز شریف کا ڈاکٹر ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے حکومت کو درپیش چیلنجز کا حل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حکومت اپنے اخراجات کم نہیں کرتی مسائل کم نہیں ہوں گے، حکومت کو معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سخت فیصلے لینے ہوں گےورنہ حکومت کو نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مبشر لقمان نے پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات میں کمی نہیں کر رہی اور اب پاکستان کا معاشی مستقبل چیلنجوں اور مواقع دونوں کے ساتھ ملا جلا ہے۔ سست شرح نمو: اقتصادی پیشین گوئیاں اگلے چند سالوں میں 1.8% سے 2.8% کے قریب ترقی کی پیش گوئی کرتی ہیں، جو کہ نمایاں طور پر غربت کو کم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ زیادہ افراط زر: افراط زر ایک بڑی تشویش ہے، فی الحال 25% کے قریب ہے لیکن آنے والے سال میں اس میں کمی متوقع ہے۔ قرضوں کا بڑا بوجھ: پاکستان پر قرضے بہت زیادہ ہیں، جو اسے معاشی جھٹکوں کا شکار بنا رہے ہیں محدود غیر ملکی ذخائر: کم زرمبادلہ کے ذخائر ضروری اشیاء کی درآمد کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
The government is not reducing its costs and now Pakistan's economic future is a mixed bag with both challenges and opportunities. Here's a breakdown: Slow growth: Economic forecasts predict growth around 1.8% to 2.8% in the next few years, which isn't enough to significantly…
مبشر لقمان نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ اگر پاکستان ترقی کرنا چاہتا ہے تو حکمرانوں کو اپنے اخراجات میں زبردست کمی کرنی ہو گی اور مالیاتی آمدنی کے نئے مواقع دیکھنا ہوں گے۔ حکومت ابھی تک ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اندازوں کے مطابق 10 ملین سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے جا چکے ہیں۔
If Pakistan's wants to progress it must drastically reduce its costs of governance and develop new financial revenue streams. The government so far has failed to do either. It is becoming increasingly tough to live on a daily basis and as per estimates over 10 million people have…
ایک اور پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے ان ہی مالکان کے ساتھ دوبارہ دستخط کرکے حکومت اور اسے چلانے والوں نے ظاہر کیا ہے کہ وہ صرف اپنے لیے پیسہ چاہتے ہیں اور بڑے پیمانے پر مسائل سے نمٹنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ امن و امان کی بڑھتی ہوئی صورتحال ایک اور سنگین خطرہ ہے۔ اس حکومت کو اب نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے حکومت کو فوری طور پر باب 11 (دیوالیہ پن کے قوانین) کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے، حکومت معاشی بار کو بڑھانے میں اب تک بری طرح ناکام رہی ہے۔ اسے زیادہ تخلیقی ہونے کی ضرورت ہے ۔ اگر حکومت ایسا نہیں کر سکتی تو پھر بتانے کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں۔
واضح رہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، بجٹ میں ٹیکسوں پر ٹیکس لگائے گئے، بجلی کی قیمتیں بڑھا دی گئیں،پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، شہری اپنے گھروں کی چیزیں فروخت کر کے بجلی کے بل دے رہے ہیں وہیں حکومت کی جانب سے مراعات اور اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، حکومت کی شاہ خرچیاں جاری ہیں، عوام پر ٹیکس لگا دئے گئے لیکن اراکین اسمبلی کی مراعات میں بجٹ میں اضافہ کیا گیا، مہنگائی کی وجہ سے لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں لیکن یہاں لولی پوپ دیا جا رہا کہ مہنگائی کم کریں گے، بجلی میں ریلیف دیں گے، مگر کب، جب غریب بجلی کے بلوں کے لئے اپنے کپڑے تک فروخت کر چکا ہو گااور وزیراعظم شہباز شریف کی وہ تقریر سن رہا ہو گا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لئے میں اپنے کپڑے تک بیچ دوں گا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستانی اداروں کے اندر ہم آہنگی کا فقدان پاکستانی مفاد کے لئے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے، پاکستان کا ایک ادارہ پاکستان کو استحکام کی پٹڑی پر چلانے کی کوشش کرتا ہے تو دوسرا اسکے مخالف میں زور لگاتا ہے،یہ سلسلہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کا ھصہ ہے، ہمارا المیہ ہے کہ جب کسی نے استحکام کی کوشش کی تو اس کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اس وقت طبل جنگ بج چکا ہے، حکومت اور اپوزیشن اس وقت آمنے سامنے ہیں،پی ٹی آئی کے خدشات، فارورڈ بلاک حقیقت میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے، نومئی کے 12 مقدمات میں عمران خان کی گرفتاری ڈال دی گئی ہے، وفاقی وزیر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کی جائے گی،ملک نے اگر ترقی کرنی ہے تو پاکستان اور تحریک انصاف ایک ساتھ نہیں چل سکتے، پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں آسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے سابق صدر عارف علوی، بانی پی ٹی آئی اور سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا کیس چلایا جائے، ان تینوں اشخاص کے خلاف وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ پنجاب کے کمشنر ہمارے اراکین اسمبلی کو فون کر کے دباؤ ڈال رہے ہیں، حلف ناموں پر دستخط نہ کرنے کا کہا جا رہا ہے، شہباز شریف اور مریم لالچ کی پیشکش کر رہی ہے، ابھی قانونی جنگ جیتنے کے بعد پی ٹی آئی کو سیاسی جنگ جیتنا باقی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عوام سبھی سیاسی بازیگروں سے متنفر ہو چکے ہیں، حکومت نے ٹیکسز کی بھر مار کر دی،ایسے میں عوام کہاں جائے، نواز شریف نے اجلاس محرم کے بعد تک ملتوی کر دیا ہے، تھوڑا پیچھے جائیں جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی تو بین الاقوامی طور پر پراپیگنڈہ کیا گیا، پاکستان میں سیاسی تبدیلی کو پاک فوج کے اشاروں سے جوڑا گیا، دلچسپ سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان میں بحرانوں کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عمران خان ایک اچھا کھلاڑی ہے، موصوف سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال کی وجہ سے مقبول ہیں، لیکن اپنی حکومت کے دوران کوئی کام نہیں کر سکے، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر کچھ بھی نہ بنا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے یکے بعد دیگرے پی ٹی آئی ، عمران خان اور بشری بی بی کو ریلیف ملنے کا سلسلہ جاری ہے مگر اس کے باوجود مستقبل قریب میں ان کو جیل سے باہر نکلنا ممکن دیکھائی نہیں دے رہا ہے کیونکہ ہر ریلیف کے بعد ایک نیا کیس پھن پھیلائے کھڑا ہوتا ہے ۔ کل بھی ایسا ہی ہوا ۔ جب اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کردیا ہے تاہم فوری طور پر عمران خان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی ۔ کیونکہ اسلام آباد کی سیشن عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی عدت کیس میں رہائی کی روبکار تو جاری کردی ہےتاہم پانچ دیگر کیسز میں روبکار جاری نہ ہونے کے سبب بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن نہیں ہوئی ۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پھر کل ہی وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کا نئے ریفرنس کے لیے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر نیب عدالت اگر ضروری سمجھتی ہے تو بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کا ٹرائل جیل میں کرے۔ اب جو سپریم کورٹ کی جانب سے مخصوص نشتوں پر فیصلہ دیا گیا ہے اس پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ روزانہ کوئی نہ کوئی خبر اور پریس کانفرنس آرہی ہے ۔ نواز شریف سمیت شہباز شریف بھی بڑے بڑے اعلانات کررہے ہیں ۔ جیسے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف نے ن لیگ کے مرکزی رہنماؤں کا اجلاس پیر کو مری میں بلالیا ہے۔نواز شریف نے مریم نواز کو بھی مری طلب کیا ہے۔ جبکہ نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر کچھ اہم سوالات ہیں جو حکو مت کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جب پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی تو ان کو یہ نشستیں کیسے مل گئیں ۔ دوسرا سوال کہ جس چیز کا تقاضا نہیں کیا گیا جو ریلیف مانگا نہیں گیا وہ کیسے دے دیا گیا۔ تیسرا اور سب سے اہم سوال کہ اگر تحریک انصاف نے الیکشن ہی نہیں لڑا ،مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں جمع کرائی تو کیسے ان کو یہ نشستیں دی جا سکتی ہے۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کا اگر فیصلہ غلط تھا تو اس کو بروقت چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔ دراصل سیاسی بے یقینی ملک پر ایسی چھائی ہے کہ چھٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے ۔ پھر ہر عدالتی فیصلے کے بعد منظر صاف ہونے کے بجائے مزید دھندلا ہو جاتا ہے ۔ وجہ صاف ہے کہ جب سیاسی معاملات عدالت میں جائیں گے اور اس پر جب فیصلے آئیں گے تو کسی کے حق میں ہونگے اور کسی کے خلاف ۔ تو یہ بات یقینی ہے کہ کوئی خوش ہوگا اور کوئی غصہ سے تلملا اٹھے گا ۔ بہرحال جو فیصلہ آیا ہے ۔ اس پر حکومت سمیت بہت سوں کو بڑے تحفظات ہیں ۔ مگر دوسری جانب پی ٹی آئی والے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں جبکہ اکثر تو اب پھر تاریخیں دینا شروع ہوگئے ہیں ۔ کہ عمران اڈیالہ آج باہر آیا تو کل ۔ جبکہ شہباز شریف آج گئے یا کل ۔ اب یہ ڈانسسنگ چیئرز کا کھیل پھر شروع ہوچکا ہے ۔پھر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں عمر ایوب نے یہ بھی کہا کہ آئین کی غلط تشریح کرنے والے پر آرٹیکل چھ لگنا چاہیے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی پر سری لنکا کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان ونندو ہسارنگا نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ہسارنگا کا کہنا ہے کہ ٹیم کے مفاد میں یہی ہے کہ میں کپتانی سے سبکدوش ہوکر بطور عام پلیئر کھیلوں، میں بطور عام پلیئر سری لنکن ٹیم کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔اب شاید صرف پاکستانی کپتان بابر اعظم ہی بچے ہیں جو ورلڈکپ میں اتنی بری پرفارمنس کے باوجود بھی غیرت نہیں کھا رہے ورنہ دنیا بھر کی ٹیمز کے پلیئر ز نے خراب کارکردگی کے بعد استعفی دیے ہیں ۔ بلکہ پورے پور ے بورڈز مستعفی ہوچکے ہیں ۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ پر بابر اعظم ابھی لابنگ کر رہے ہیں اپنی خراب کارکردگی اور بدترین کپتانی کا ملبہ بھی دیگر پلیئر ز پر ڈالنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ اپنے پسندیدہ صحافیوں اور بورڈ میں موجود لوگوں کی مدد سے کوچز کی رپورٹ کی صرف وہ چیزیں باہر نکلوا رہے ہیں جس کا فائدہ ان کو اور باقیوں کو نقصان ہو ۔ اس لیے بابر بمقابلہ شاہین پوری ایک کمپین چل پڑی ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے یہاں ابھی تک ٹسل چل رہی ہے کہ بابر ٹھیک تھا یا رضوان یا شاہین ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ٹیم سیاست زدہ ہو چکی ہے ۔ کیونکہ فاسٹ بولر شاہین آفریدی کے حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو ان کے رویے کے حوالے سے شکایت کی گئی تھی کہ ان کا کوچز سے رویہ مناسب نہیں تھا ۔ اس حوالے سے مزید چھان بین کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ شاہین آفریدی کی بیٹنگ کوچ محمد یوسف سے تلخی ہوئی تھی جو شدت اختیار کر گئی تھی، واقعہ ورلڈ کپ میں نہیں بلکہ اس سے قبل انگلینڈ کے دورے کے موقع پر پیش آیا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ ہیڈنگلے میں نیٹ پریکٹس کے دوران بیٹنگ کوچ محمد یوسف، فاسٹ بولر شاہین آفریدی کی نو بالز کی نشاندہی کررہے تھے، بار بار نشاندہی پر شاہین آفریدی ناراض ہوئے اور اس موقع پر دونوں کے درمیان بحث ہوئی جو شدت اختیار کرگئی تھی ۔ بعد ازاں ٹیم منیجمنٹ نے شاہین آفریدی کی سرزنش کی، شاہین آفریدی کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا جس پر انہوں نے ٹیم کے سامنے محمد یوسف سے معافی مانگی تھی۔ شاہین آفریدی کی جانب سے معافی مانگنےکے بعد منیجمنٹ نے معاملے کو رفع دفع کردیا تھا۔ پھر سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کیلئے شان مسعود کو کپتان برقرار رکھنے اور وائٹ بال فارمیٹ کیلئے محمد رضوان کو کپتان بنانے کی حمایت کی ہے۔ بابراعظم میں اعتماد کم ہے وہ کپتانی کیلئے بہتر انتخاب نہیں۔ پھر سابق کپتان سرفراز احمد نے بھی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے لیے محمد رضوان کو کپتان بنانے کا مشورہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محمد رضوان نے ماضی میں کے پی کے کو تمام ڈومیسٹک ایونٹس اپنے کپتانی میں جتوائے ہیں۔ سرفراز احمد نے کہا کہ اگر ہم سسٹم کو صحیح راستے پر رکھنا چاہتے ہیں تو بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سرفراز نواز اور سرفراز احمد دونوں ہی مجھ سے بہتر کرکٹ کو جانتے اور سمجھتے ہیں پر مجھے لگتا ہے کہ کسی نئے لڑکے کو کپتان بنانا چاہیئے کیونکہ یہ تینوں بابر ، شاہین اور راضوان سیاست میں ملوث رہے ہیں ۔ ان میں سے کسی کو بھی دوبارہ کپتان بنایا گیا تو پھر وہ ہی گروپنگ اور سیاست ٹیم میں دوبارہ شروع ہو جائے گا ۔ یہاں ہم کو انڈین ماڈل کو اپنانا چاہیئے جب انھوں نے ٹیم میں پلیئر ز کی بڑھتی سیاست کو کنڑول کرنے کے لیے دھونی کو تمام سینئر پلیئرز پر کپتان لگا دیا اس کے بعد دھونی بھی ثابت کیا کہ ان کی سلیکشن ٹھیک تھی اور انھوں نے ون ڈے سمیت ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹائٹل بھی بھار ت کو جتوا کر دیا ۔ پر موجودہ صورتحال میں جس طرح شاہین آفریدی کے رویے پر میڈیا رپورٹس سامنے آنے لگی ہیں، اس سے لگتا ہے کہ شاید اگلا نشانہ وہ بنیں گے ۔کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ سلیکشن کمیٹی اور مینجمنٹ کے بعد اب کھلاڑیوں کا نمبر بھی آسکتا ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کوچز کی رپورٹ میں جن کھلاڑیوں کی نشاندہی کی گئی انہیں کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ان سب میں کپتان بابر اعظم سائیڈ میں آرام سے بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں حالانکہ شکستوں کی بڑی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے، وہ بطور قائد اور بیٹر اپنا کردار ادا نہ کر سکے، اصل سوال جواب ان سے ہونے چاہیئں، بابر کو بھی کم از کم شائقین سے معافی تو مانگنا چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ گزشتہ ایک دو سال میں وہاب ریاض نے بڑا عروج دیکھا ہے ، نگراں حکومت میں جھنڈے والی گاڑی میں گھومتے رہے،لاہور کی بارش میں ان کے دورے کی تصاویر اور ویڈیوز آپ نے بھی دیکھی ہوں گی۔ جتنی جلدی ان کے عروج کو زوال آیا اتنا بہت کم ہی دیکھا گیا ہے ۔ جب ذکا اشرف چیئرمین پی سی بی بنے تو وہاب کو چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سونپ دی گئی، محمد حفیظ سابق بورڈ چیف کے بہت قریب ہیں، ان کے تجویز کردہ ناموں میں وہاب بھی شامل تھے،وہ کمیٹی کا سربراہ بن گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ہی روز بعد دونوں میں اختلاف ہو گیا، وہاب میچ فکسنگ میں جیل جانے والے سابق کرکٹر سلمان بٹ کو کمیٹی میں لے آئے، اس پر طوفان برپا ہوگیا،حفیظ کا کہنا تھا کہ سلمان کو فیصلہ سازی کا حصہ نہیں ہونا چاہیے، حکومتی مداخلت پر ذکا اشرف کو فیصلہ تبدیل کرنا پڑا، بعد میں سابق وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے میٹنگ میں جب سلمان کی شمولیت پر سوال کیا تو ورچوئل طور پر شریک حفیظ نے فیصلے کی ذمہ داری وہاب پر ڈال دی، اس سے تعلقات میں اور گہری لکیر آ گئی،سلیکشن معاملات میں بھی اختلافات ہوئے، پھر جب بورڈ میں تبدیلی آئی اور محسن نقوی چیئرمین بن گئے تو حفیظ کو ملاقات کا وقت بھی نہیں ملا اور فارغ کر دیا گیا، شاید ان کے دل میں یہ بات آتی ہو کہ وہاب اس پر کیوں چپ رہا۔ نگراں حکومت میں محسن نقوی کے ساتھ کام کرنے والے وہاب ریاض چیف کے بغیر نئی سلیکشن کمیٹی میں بھی برقرار رہے، ان کی رائے پر ہی ہر فیصلہ ہوا کرتا تھا، پھر ان کے لیے سینئر منیجر کا عہدہ تخلیق کرتے ہوئے برطانیہ اور امریکا بھی بھیج دیا گیا، اس وقت تک وہ پاکستان کرکٹ کی دوسری طاقتور ترین شخصیت تھے، کھلاڑی یہ باتیں کرنے لگے تھے کہ ۔۔وہاب بھائی بدل گئے۔۔ پھر ورلڈکپ آیا اور وہاب بھائی کی قسمت ہی بدل گئی۔ امریکا میں چند ڈالرز دے کر کھلاڑیوں کے ساتھ تقریب میں تصاویر بنوانے کا اشتہار سامنے آیا، رات گئے تک پلیئرز کے ہوٹل سے باہر رہنے کی باتیں افشا ہوئیں۔ وہ کہتے ہیں نا ۔ ۔ تھوڑی میں بہوتا پڑ گیا ۔ کچھ ایسا ہی وہاب کے ساتھ ہوا ہے ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اکتوبر تک اس ملک میں ایمرجنسی لگنے والی ہے، یا کچھ بھی ہو سکتا ہے، ایک بات جو طے پائی، فیصلہ آ گیا اس پر ردعمل دے سکتا ہوں،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ آج آئین اور قانون کی دھجیاں اڑ گئی ہیں، ہمارے انصاف کا نمبر دیکھیں، آخر میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر ہیں،اب ایک آئینی بحران پیدا ہو گیا، مخصوص نشستوں کے حوالہ سے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فیصلہ آٹھ پانچ سے ہے،الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی ہے، پی ٹی آئی کو مخصوص سیٹیں ملیں گی، پی ٹی آئی حقدار ہے، الیکشن کمیشن لسٹ جمع کروائے، سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں دی جائیں گی،پی ٹی آئی 15 دن میں مخصوص نشتوں کی فہرست دے گی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات تھے تاہم پی ٹی آئی والوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی کے خلاف نعرے بازی کی جو انہوں نے سن لی ہو گی ، سپریم کورٹ کے باہر قیدیوں والی گاڑیاں بھی موجود تھیں،پولیس الرٹ تھی، تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان، لطیف کھوسہ و دیگر سپریم کورٹ پہنچے ہوئے تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کمرہ عدالت وکلا، صحافیوں سے بھرا ہوا تھا، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد دو روز مشاورتی اجلاس بلایا تھا ،سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کی سماعت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی کی سربراہی میں 13 بینچ شامل تھے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جمعہ کا دن تھا، جمعہ کا دن پٹواریوں کے لئے بھاری ہوتا ہے،جمعہ کے روز کے کئی فیصلوں نے ایوان اقتدار کو ہلایا ہے،نواز شریف ،جہانگیر ترین کو جمعہ کے روز ہی نااہل کیا گیا تھا،مریم نواز، کیپٹن ر صفدر کو سزائیں جمعہ کے روز ہی سنائی گئی تھیں،شریف برادران، ن لیگ کے لئے جمعہ کا دن بھاری رہتا ہے،جمعہ کو ہی پانامہ جے آئی ٹی بنی تھی، اور جمعہ کو ہی نواز شریف کو سزا ہوئی تھی،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہو کیا رہا ہے، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے بارے میں سپریم کورٹ کو آئین کی پیروی کرنی چاہئے تھی جو نہیں کی گئی، فیصلے پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کچھ ایسے جج ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو سیاسی طور پر سمجھتے ہیں آنیوالے دنوں میں فائدہ ہو گا، سنی اتحاد کونسل نے مخصو ص نشستوں کی فہرست جمع نہیں کروائی تھی بلکہ یہ لکھ کر دیا تھا کہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا خود آزاد الیکشن لڑے، اپنی ہی پارٹی پر الیکشن نہیں لڑے،لگ یہ رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ میرٹ پر نہیں دیا، کوئی فرق نہیں پڑتا، چائے کی پیالی میں اٹھنے والا طوفان ہے،کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، فرق پڑے گا تو ہو سکتا ہے کہ کچھ ججز کو پرابلم ہو کہ دو تہائی اکثریت ملنے سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایکسٹینشن نہ مل جائے، وہ تو اب خوش ہوں گے، لیکن پشاور ہائیکورٹ نے پانچ صفر سے فیصلہ دیا تھا،چیف الیکشن کمشنر وہ بھی ایک جج ہیں، انکا بھی ایک فیصلہ تھا،جب سپریم کورٹ نے بتایا کہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی تو چیف الیکشن کمشنر کو خود سے استعفیٰ دے دینا چاہئے، ہو گا کیا، پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھر گئی ہے، پہلے بھی انکی زبان اینٹی پاکستان تھی، اور وہ کافی آگے بڑھ بڑھ کر بول رہے تھے،اب انکو اور شہہ مل جائے گی، پھر کام نہیں ہو گا اس ملک میں کیونکہ سیاسی جھگڑے ہو رہے ہیں، کام نہیں ہو گا تو پھر ایمرجنسی لگے گی،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا اب دوبارہ بھی بتار ہا ہوں کہ اگلے دو ماہ بہت بھاری ہیں ۔ ایک طرف افغانستان کے بارڈ ایریا ز میں سورش ، دوسری طرف مشکل معاشی صورتحال ، پھر چین سمیت سعودی عرب سے پیسوں کا نہ ملنا ۔ اوپر سے ملکی سیاسی صورتحال میں بھونچالی کیفیت نے ملک کا بٹھا بیٹھا دیا ہے ۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی نے وہ کہتے ہیں نا کہ چوتھا گیئر لگا دیا ہے ۔ جو کچھ وہ کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں ۔ کہ کسی طرح عمران خان کو اب جیل سے باہر نکالا جائے ۔ اسی لیے بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے اور عمران خان نے چیف جسٹس پر عدم اعتماد کے اظہار سمیت بھوک ہڑتال کا اعلان کرکے اپنا آخری کارڈ بھی کھیل دیا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی پیش رفت کا عمران خان کو کتنا فائدہ ہو گا یا نقصان ۔ پر اس صورتحال کو دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی بھانپ لیا ہے اور اسی لیے آج نواز شریف نے ملک بھی ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم چلانے کا فیصلہ کر لیا ۔جس سے یہ تاثر ضرور ملا ہے کہ کچھ پک ضرور رہا ہے ۔ پر ایک چیز ہے کہ عمران خان نے بڑی چالاکی سے وہاں وہاں چوٹ ماری ہے کہ اس کی تکلیف ہو ۔ سب سے پہلے چیف جسٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کرکے جہاں ان کو متنازع کرنے کی کو شش ہے ساتھ ہی یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ اب جو بھی فیصلے آئے وہ ان کو نہیں مانیں گے جبکہ بھوک ہڑتال کا اعلان صرف اپنے ورکرز سمیت سوشل میڈیا وارئیرز کے لیے نیا نقطہ فراہم کیا ہے کہ وہ عمران خان کو نیلس منڈیلا سے تشبیہ دے کر اس ملک سمیت عالمی لیڈ ر ثابت کر دیں ۔ مگر اصل چوٹ عمران خان نے ریاستی اداروں کو افغانستان پر بات کرکے کی ہے ۔ اور ایک بار پھر انھوں نے طالبان کے لیے سافٹ کارنر ظاہر کرکے دکھتی رگ کو چھیٹر دیا ہے ۔ کہ وہ اپنی سیاست کے لیے ملکی سلامتی کے ساتھ کھیلتے رہیں گے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری نظر میں عمران خان کی تمام باتوں میں تضاد ہے کہ جس روک ٹوک ، پابندیوں اور سہولتیں نہ دینے کا ذکر وہ کر رہے ہیں ۔اگر اس سب کو سچ مان لیا جائے تو ان کو اس طرح پیشی پر میڈیا سے گفتگوکرنے کی اجازت نہیں ہونے چاہیئے تھی ۔ آپ خود فیصلہ کرلیں کون سی ایسی چیز ، بات یا الزام ہے جو انھوں نے نہیں لگایا ۔ یہاں تک چیف جسٹس سے چیف آف آرمی سٹاف تک سب کا نام لے کر بات کی ۔ اور بغیر کسی ثبو ت کے الزامات کی بوچھاڑ بھی کر دی ۔ مگر ان کی کوئی بھی بات سینسر نہیں ہوئی ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت بڑے اچھوں اچھوں کے بجلی اور مہنگائی نے کڑاکے نکال دیے ہیں ۔ جس سے پوچھو وہ بجلی کا بل پکڑ ے رو تا دیکھائی دے رہا ہے ۔ کوئی اپنا زیور بیچ رہا ہے ۔ کوئی کولر ، کوئی اے سی ،کوئی فریج، غرض بجلی کا بل دینے کے لیے اب عوام کو چیزیں بیچنا پڑ رہی ہیں ۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ ملک ڈوب رہا ہے اور گاڑی ہاتھ سے چھوٹ رہی ہے۔ غریب زندہ رہنے کی جستجو میں ہے۔ بجلی کے بل دیکھ کر ملک میں درجنوں افراد ہارٹ اٹیک کا نشانہ بن چکے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کے مطابق کراچی میں شدید لوڈ شیڈنگ پر نہ صرف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں بلکہ جہانگیر روڈ، پٹیل پاڑہ کا رہائشی نوکری پیشہ شخص تاج محمد کو لوڈ شیڈنگ کے باعث رات تین بجے دل کا دورہ پڑا، جس سے وہ انتقال کر گیا جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا اور کرائے کے گھر میں رہتا تھا۔ مگر حکومت نے بےحس ہو کر کل پھر بجلی بم گرا دیا ہے ۔ میں بتاوں یہ ایک لاوا پک رہا ہے ۔ اور آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ اس وقت عوام کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ احتجاج کہاں اور کس کے خلاف کرنا ہے ۔ ابھی تو صرف بجلی دفاتر کے باہر ہی دھاوے بولے جا رہے ہیں لائن مین سمیت ایس ڈی اوز کو مارا جا رہا ہے ۔ پر یو نہی اگر اشرفیہ عوام کا معاشی قتل کرتی رہی تو کچھ بعید نہیں کہ سری لنکا یا حالیہ کینیا جیسے احتجاج پاکستان میں بھی ہوجائیں ۔ کیونکہ صورتحال یہ ہے کہ بجلی کا فی یونٹ بنیادی ٹیرف اڑتالیس روپے چوراسی پیسے مقرر کیا گیا ہے اس میں اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس ڈالیں تو ستاون روپے اور ایڈجسمنٹ کے بعد فی یونٹ پنسٹھ روپے کا ہو جائے گا ۔ اب اتنی مہنگی بجلی سے اشرافیہ تو کوئی فرق نہیں پڑنا کیونکہ ان کی بجلی، گیس، پیٹرول ،علاج ،گھومنے پھرنے کے تمام خرچے توعوام کی جیبوں سے نکالے ٹیکسوں سے ادا کیے جاتے ہین ۔ پر عوام نے اب یا تومر جانا ہے یا پھر اپنا رخ اس اشرافیہ کر طرف کر لینا ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو دنیا بھر کے ممالک کی اشرافیہ بےرحم ہوتی ہے۔ مگر پاکستانی اشرافیہ گمینگی کے کسی اعلی ترین درجے پر فائز ہے ۔ اب تو میرے جیسوں کے گھر بھی اے سی چلتا ہے تو پسینہ خشک ہونے کے بجائے مزید پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے ساتھ ہی دل کی ڈھرکنیں تیز ہوجاتی ہیں ۔ پھر ملک کے غریبوں کی خبریں تو میڈیا پر آتی ہی نہیں مگر اداکارہ نشو بیگم بھی اپنے بجلی کے بل پر سخت سیخ پا ہیں جن کا ایک ماہ کا ایک لاکھ روپے کا بجلی بل آیا ہے۔ مشہور اداکار راشد محمود نے تو اپنا بجلی کا بل دیکھ کر اللہ سے موت مانگ لی ہے اور کہا ہے کہ اگر حکمران ہمیں کچھ نہیں دے سکتے تو ہم سے ہماری زندگیاں کیوں چھین رہے ہیں۔ سوچیں بجلی بلوں کے باعث یہ مشہور لوگ بھی بلبلا اٹھے ہیں اور کروڑوں غریب جن کی میڈیا میں خبریں نہیں آتیں ان کا کیا حال ہے۔ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔اسی لیے تو میں میڈیا پر حیران ہوں کہ سب کے سب فلاسفر بنے ہوئے ہیں ۔ سیاست کی ماں بہن ایک کر رہے ہیں حالانکہ اصل ایشو یہ ہے ۔ کہ اس پر بات کی جائے حکومت سمیت آئی پی پیز اور وزیر خزانہ کو آڑے ہاتھوں لیا جائے ۔ ان کے کپڑے اتارے جائیں ۔ رپورٹرز سمیت اینکرز کو چوکوں چوراہوں میں جا کر عوام کے دکھ ، درد اور تکالیف کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھے لوگوں تک پہنچنا چاہیئے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے جب کل میں نے بھارت کی سٹرکوں پر ورلڈ کپ جیتنے پر جشن اور پاکستان میں عوام کو پیڑول پمپوں کے باہر لائنوں میں لگے دھکے کھاتےدیکھا ہے ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی ابھی نہیں لگائی، مطلب لگائی ضرور جائے گی۔ لیوی نہ لگانے کے باوجود حکومت نے یکم جولائی سے مہنگائی کے ستائے عوام پر پٹرول بم گرانے سے گریز نہیں کیا اور پٹرول ساڑھے سات روپے، ڈیزل ساڑھے نو روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں دس روپے اضافہ کر دیا ہے۔ آپ دیکھیں وزیر خزانہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ نئے ٹیکسوں سے لوگ دباؤ میں ہیں۔ پر کرتے کچھ نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کو چاہیئے کہ قوم کو بتائیں کہ وہ جس شدت کے ساتھ ٹیکس لینے کی بات کر رہے ہیں اس کے جواب میں ٹیکس ادا کرنے والوں کو کیا دے رہے ہیں، کیا وزیر خزانہ قوم کو بتائیں گے کہ مخصوص شعبوں کو ٹیکس میں رعایت دینے سے خزانے پر بڑھنے والا بوجھ کون اٹھائے گا۔ کیا وزیر خزانہ قوم کو بتا سکتے ہیں کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کیوں نہیں کیے، کیوں اربوں کے فنڈز اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو جاری ہوں گے، کیا خون پسینے کی کمائی ٹیکس میں اس لیے جمع کروائی جائے گی کہ وفاقی و صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی اپنا سیاسی مستقبل محفوظ بنا سکیں۔ کیا یہ تنخواہ دار طبقے پر حکومتی ظلم نہیں ہے۔ جو ٹیکس دیتا نہیں حکومت میں اس سے ٹیکس لینے کی طاقت نہیں اور جو ٹیکس دیتے ہیں ان پر مزید بوجھ کے سوا حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں تو پھر یہ نظام حکومت کس کام کا ہے، کیا یہ عوام کے لیے ہے یا پھر یہ مخصوص طبقے کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھاکہ حقیقت میں لوگ ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور حکومت ان پر ٹیکسوں کا مزید دباؤ بڑھاتی جا رہی ہے۔ دیگر حکومتی ٹیکسوں کے برعکس بجلی کے بلوں پر ہی تیرہ چودہ ٹیکس حکومت پہلے ہی وصول کر رہی ہے۔ حکومت کے ادارے بجلی عوام کو فروخت کر کے بھاری منافع کما رہے ہیں۔ اس لیے ڈرنا چاہے اس وقت سے جب خیبر سے گوادر تک پاکستان کے بیشتر شہروں میں مختلف مقامات پر بجلی متاثرین ٹولیوں کی صورت میں جمع ہونا شروع ہوں گے ۔ پھر پولیس کے بس میں بھی ان ٹولیوں کو روکنا ممکن نہیں ہوگا ۔ عام آدمی ٹیکس دیتا رہے ، حکمران اور سرکاری افسران مراعات لیتے رہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عام آدمی دھکے کھاتا رہے اور حکمران طبقہ مزے کرتا رہے۔ اب بجٹ میں جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے کیا ملک کے کروڑوں لوگ اس بوجھ کو اٹھانے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ یقینا یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔ لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔اگر حکومتی اخراجات، مراعات پر بات کی جائے تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان حکمرانوں کو آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے۔ کہ حکومت کو عوام پر ٹیکس لگانے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرنے چاہییں۔ قرضہ لیکر پانچ سو ارب روپے ایم این اے اور ایم پی ایز کو بانٹا جائیگا جو ماضی میں بھی غلط تھا، ان پیسوں میں سے ایک تہائی کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔ ڈیزل اور ایل پی جی کی اسمگلنگ روک کر ٹیکس جمع کریں تو کوئی اور ٹیکس لینے کی ضرورت نا پڑے، ملک میں ایک طبقہ ہے جس کی آدھی آمدن حکومت لے جائے گی، ایسا دنیا میں وہاں ہوتا ہے جہاں پیدائش سے لیکر مرنے تک کی انسان کی تمام بنیادی ذمہ داریاں حکومت لیتی ہے۔