Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقما ن نے کہا ہے کہ ایک طرف امریکہ ہو یا یو این ورکنگ گروپ کا مطالبہ کپتان کے لیے اچھی خبریں آرہی ہیں ۔ مگر دوسری جانب پی ٹی آئی میں لوگ لڑ لڑ پاگل ہورہے ہیں بلکہ یوں کہا جا ئے کہ ۔ایٹ کتے کی لڑائی جاری ہے ۔ویسے اس میں لڑائی میں کتے کا تو مجھے پتہ ہے ایٹ کا آپ نے پتہ کرنا ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلے خوش خبریوں پر بات کر لیتے ہیں ۔ امریکہ کے بعد اقوام متحدہ بھی عمران خان کے حق میں کھول کر سامنے آگیا ہے یار دوست اس کو پی ٹی آئی کی خوش قسمتی قرار دے رہے ہیں حالانکہ میری نظر میں عمران کےا چھے رابطوں سمیت ان کی پہنچ کہاں کہاں تک ہے ۔ اس کی زندہ مثال ہے ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ پاکستان کے چہرے پر کالک تھوپنے کے اس منصوبے میں پی۔ٹی۔آئی کو بھارت، امریکہ اور اسرائیل کا بھرپور تعاون حاصل ہے ۔ ایک چیز میں پہلے بتا دوں کہ میں موجودہ حکومت کا حمایتی نہیں ہوں۔ پر نواز شریف کے برعکس، سی پیک اور بی۔آر۔آئی کو عمران خان نے سرد خانے میں ڈال کر چین دشمن طاقتوں کے دل میں نرم گوشہ پہلے ہی بنا رکھا ہے۔ جبکہ زلفی بخاری اور شہباز گل تو چین دشمنی کے سرخیل ہیں ۔ پی ٹی آءی کی حکومت میں ان کے چین میں کسی وفود کے ساتھ جانے پر بھی پابندی تھی ۔ اور یہ پابندی چین کی جانب سے تھی ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹوری کی طرف واپس آئیں تو بتایا جا رہا ہے کہ یو این ورکنگ گروپ کا یہ بیان ذلفی بخاری کی کارکردگی کی وجہ ہے جو انھوں نے نامور لا فرم کے ذریعے اقوام متحدہ میں پٹیشن دائر کروائی اور اس کے بعد کا رزلٹ آپکے سامنے ہے ۔ جبکہ امریکہ میں جو پاکستان کے خلاف بل پاس کیا گیا اس کے پیچھے شہباز گل کے ہاتھ بتائے جاتے ہیں ۔ بہرحال وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کی گرفتاری اور مقدمات پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا ہے ۔ جبکہ عون چوہدری نے تمام تانے بانے وہاں ملا دیے جو کہ اکثر عمران خا ن پر الزام لگتا رہتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سینئرزکو کہنا چاہتا ہوں ان مگرمچھوں کو بے نقاب کریں، مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ آپ کے لنکس کس کےساتھ ہیں؟ آپ کون ہوتے ہیں پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے؟ یہ لوگ پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف مہم چلاتے ہيں۔ پی آر فرم حاصل کرنے کے پیسے کہاں سے آتے ہیں ؟ جہاں سے آپ کو پیسہ مل رہا ہے ایک ایک اکاؤنٹ کو عوام کے سامنے لاؤں گا، پی ٹی آئی کے لوگوں کو کہ رہا ہوں کہ آپ استعمال ہورہے ہیں، ان کو مقصد صرف اتنا ہے کہ ملک میں انتشار پھیلے آگ لگے ۔ یہ بڑے سنگین الزام ہیں اس پر تحریک انصاف کو ضرور ردعمل دینا چاہیے ۔ کیونکہ پیسے کے حوالے سے فارن فنڈنگ کیس میں پہلے بھی باتیں ہوتی رہیں کہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت انڈیا اور اسرائیل سے فنڈنگ آتی رہی ہے جبکہ ان کے مخالفین یہاں تک الزام لگاتے رہے ہیں کہ شوکت خانم کے ذریعے اکٹھی کی جانی والی فنڈنگ سیاست کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے ۔ پر یہ جواب تب ہی دیا جا سکتا ہے جب پی ٹی آئی میں آپسی رسہ کشی ختم ہو ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ڈ ب و کو کوئی ٹاسک ملا ہوا ہے،کوئی بعید نہیں اس سب کے پیچھے خود عمران خان ہے، جتنا میں عمران خان کوجانتا ہوں اتنا کوئی نہیں جانتا، عمران خان نے دو گروپس کو بلایا مجھے نہیں لگتا معاملہ حل کرے گا، 22 سال جہانگیر ترین، قریشی اور علیم کی لڑائی ختم کروائی تھی، جب ایران سعودی عرب کی صلح کروانے جا رہا تھا تو میں نے کہا تھا پہلے ترین اور قریشی کی لڑائی تو ختم کر وا دو، چالاکیاں اس کی دیکھیں،جیل میں بیٹھ کر کیا کر رہا ہے،دو روز قبل تحریک انصا ف کی کور کمیٹی نے اعلان کیا تھا جو بھی پارٹی قیادت پر تنقید کرتا ہے سخت جواب دیا جائے گا، پارٹی چھوڑنے والوں کو پارٹی پر تنقید ،تبصرے کرنے کا کوئی حق نہیں، رؤف حسن پر الزام لگ رہے وہ تو خود 5 لاکھ تنخواہ لے رہے، شیر افضل مروت نے فواد کو جواب دیا اور کہا کہ ایسے بھاگ رہا تھا جیسے ہتھنی بھاگ رہی تھی، بات تو صحیح کی ہے شیر افضل مروت نے،یہ ایٹم سانگ چلتے رہیں گے، جس طرح کا یہ بندہ ہے فواد عنقریب بات گالم گلوچ تک جائے گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے لیے ایک خطرہ بڑھتا دیکھ رہا ہوں کہ بجلی کے بلوں پر کچھ جماعتوں نے سیاست کرنے ٹھان لی ہے ۔ اور یہ وہ جماعتیں ہیں کہ ویسے تو یہ اتنی سیٹیں نہیں جیتیں ۔ مگر ان کے ورکرز دھرنا دینے ، جلاو گھیراو کرنے ، جلسے کرنا ، جلو س نکالنے میں بڑے تیز ہیں ۔ اور ایک بار یہ اسلام آباد پہنچ گے تو حکومت کے لیے بڑا درد سر بن جایں گے ۔ ابھی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بارہ جولائی کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ مرکزی مسلم لیگ ان کا بھی اس سے ملتا جلتا اعلان میں نے سنا ہے ۔ فرض کریں اگر یہ اسلام آباد میں اچھا پاور شو کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور دوسرے مرحلے میں جے یوآی سمیت دیگر مذہبی سمیت اپوزیشن جماعتیں اس میں شمولیت کا اعلان کر دیتی ہیں ۔ تو بات بجلی کے بلوں سے سیاسی مطالبات تک بھی پہنچ سکتی ہے کیونکہ جے یو آئی کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے بھی ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے ۔ تو اگلے دوماہ میں کب کیا ہوجاے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے ۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کےحوالے سے پالیسیز پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے،یوسف رضاگیلانی

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • کھلاڑی "پارٹیز” میں جانے کے ڈالر لیتے رہے،مبشر لقمان کی بات کی تصدیق

    کھلاڑی "پارٹیز” میں جانے کے ڈالر لیتے رہے،مبشر لقمان کی بات کی تصدیق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکا اور بھارت سے میچ ہاری، بعد ازاں سپرایٹ تک نہ پہنچ سکی اور واپسی کی راہ لی

    قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے شائقین کرکٹ کو مایوس کیا،ایسے میں شائقین کرکٹ نے سوشل میڈیا پر اپنا غصہ نکالاتو وہیں یہ بات سامنے آئی کہ کھلاڑیوں کی توجہ کرکٹ کی بجائے”پارٹیز” پر تھی اور کھلاڑی رات کو دو دو بجے تک ہوٹلوں میں پارٹیز میں شریک رہے ، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی امریکا میں ڈالروں میں کمائی کر رہے ہیں وہ تو وہاں سیلفی لینے کے بھی ڈالر لے رہے ہیں،پارٹیز میں شریک ہونے کے بھی ڈالر لئے جا رہے ہیں، مبشر لقمان نے نجی ٹی وی پر سوال اٹھایا تھا کہ کرکٹرز نے امریکہ میں ایک ایک تصویر کے کئی ڈالرز لیے ہیں تو کیا وہ ظاہر بھی کریں گے؟

    مبشر لقمان کی جانب سے کھلاڑیوں کے ڈالر لینے کی بات کی تصدیق آج دیگر میڈیا اداروں نے بھی کر دی، مبشر لقمان جو بات کئی روز قبل کر چکے تھے، آج پاکستان کے معروف میڈیا کے ادارے جنگ اور جیو نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ امریکا میں کھلاڑی پارٹیز میں شریک ہونے کے لئے ڈالر لیتے رہے،جیو ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "2 جون کی رات 11 بج کر 30 منٹ سے 1 بجے کے دوران پارٹیز کے لیے مشہور ’CAVALLI ریسٹورنٹ‘ میں قومی ٹیم کے 5 کھلاڑیوں عماد وسیم، محمد عامر، حارث رؤف ، شاداب خان اور عثمان خان نے ایک پروگرام میں شرکت کی، اس پروگرام کے پروموٹر ’شکاری‘ کے مطابق اس پروگرام میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو دو سے ڈھائی ہزار ڈالرز ادا کیے گئے اور آرگنائزر نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آنے والوں سے 25 ڈالرز فی کس لیے، جب یہ بات پاکستانی میڈیا میں موضوع بحث بنی، تو کھلاڑیوں نے پروموٹر شکاری سے کہا کہ اب بات پھیل گئی ہے، پروگرام باہر کے بجائے کسی کے گھر پر رکھا جائے، اگر 4 کھلاڑیوں کو 2 ہزار ڈالرز تک بھی مل گئے، تو شاپنگ کے پیسے نکل جائیں گے”۔

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • بابراعظم  کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بابراعظم کے حوالہ سے ویڈیو میں میں نے جو بات کی اور لوگ جو سمجھ رہے ہیں اس میں آسمان زمین کا فرق ہے

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری ویڈیو جس کو ہر آدمی کوٹ کر رہا ہے، میں جاہل لوگوں کی باتوں کا جواب نہیں دینا چاہتا،انہوں نے میری ویڈیو نہیں دیکھی، میں نے یہ بات کی کہ بابراعظم کو بھائی نے گاڑی گفٹ کی اور اس کی فیملی نے ویڈیو بھی اپلوڈ کی، اب مجھے بابر اعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن نہیں پتہ چل رہا، مجھے وہ بتا دیں تا کہ میں چپ ہو جاؤں، اگر بابراعظم کے بھائی کی اتنی آمدن ہے کہ وہ آٹھ کروڑ یا چار پانچ کروڑ کی گاڑی گفٹ کر سکتا ہے اور وہ ڈیکلیئرڈ ہے تو پھر میرا اور آپکا بات کرنا نہیں بنتا لیکن اگربابر نے ہی اسکو پیسے دیئے،اور بھائی نے گفٹ کا نام دے دیا، بابر کے ٹیکس ریٹرن میں بھی نہیں اور بھائی کے بھی،میری کہی ہوئی بات کیا ہے، لوگوں کی سمجھی ہوئی بات کیا ہے،دونوں میں آسمان زمین کا فرق ہے، میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا اور کہا تھا کہ انکو مار پڑے گی اور یہ یہ ہو گا،یہ سپر ایٹ میں نہیں جائیں گے

    محسن نقوی کرکٹ کو نہیں سمجھتے اس لیے انہیں عہدہ نہیں رکھنا چاہیے،مبشر لقمان
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کرکٹ کو نہیں سمجھتے اس لیے انہیں یہ عہدہ نہیں رکھنا چاہیے،کرکٹرز نے امریکہ میں ایک ایک تصویر کے کئی ڈالرز لیے ہیں تو کیا وہ ظاہر بھی کریں گے، کل سلمان بٹ نے جی این این پرمیرے متعلق بات کی ،سلمان بٹ میں ہمت ہوتی ،واقعی وہ کسی کا نمک حلال ہوتا یا نمک حلالی کی ہوتی،توبتاتا لوگوں کو،میرے آگے قرآن اٹھا کر اس نے کہاتھا کہ اس نے سپاٹ فکسنگ نہیں کی ہے.اور کل وہ ڈیفنڈ کر رہا ہے اسکو، چور کیا کرے گا، دوسری کی چوری نہیں ڈیفنڈ نہیں کرے گا،محسن نقوی کو کرکٹ کا نہیں پتہ،جو کرکٹ کو سمجھتا ہو،ظہیر عباس،ماجد خان، صادق محمد کی طرز کی لوگ جو کرکٹ اور منیجمنٹ کو سمجھتے ہوں ایسے لوگ چیئرمین پی سی بی ہونے چاہئے، محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں، چار پانچ انکے چینل ہیں اور بھی انکے بزنس ہیں تو ایسے میں سارے کام مشکل ہوتے ہیں.

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    لڑکیاں بھی ہندوستانی اور افسر بھی انڈین ، پھر "ہنی ٹریپنگ” کا الزام آئی ایس آئی پر کیوں ؟؟؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل بھارتی میڈیا بلکہ گودی میڈیا کا پسندیدہ موضوع ہنی ٹریپ ہے ۔ آپ اس گودی میڈیا کی رپورٹنگ دیکھیں گے تو محسوس ہوگا کہ ہر بھارتی افسر کو عورت کے ذریعے کمپرومائز کیا جا سکتا ہے ۔مطلب اس نے پتہ نہیں کون سے ۔سادھو کی دی دوائی کھا لی ہے ۔ کہ وہ راسپوٹین بن گیا ہے ۔ حالانکہ خود جو بالی وڈ نے فلمیں بنا دی ہیں ان کے مطابق تو ان کا اصل مسئلہ ان کی بیگمات کی بے راہ روی ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہرحال جو منظر کشی کی گئی ہے اس کے مطابق بھارتی فوج کے بڑےبڑے میجر جنرل رینک ، برئیگیڈ ر رینک کے افسر ہوں یا پھر ڈی آرڈی او کے سائنسدان بس ایک میسج کی مار ہیں ۔ یہاں تک تو کہانی سمجھ آتی ہے ۔ پر اب ان کا الزام ہے کہ ا س سب کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے ۔ بلکہ یہ تو یہاں تک کہانی سنا رہے ہیں کہ آئی ایس آئی اتنی ایڈوانس ہوچکی ہے کہ اس کام کے لیے لڑکیاں بھی بھارتی ہائر کی جا رہی ہیں ۔ پر یہ سب بکواس اور جھوٹ ہے ۔ یہ سچ ہے کہ بھارتی افسران ناڑے کے ڈھیلے ہیں اور ایک برہنہ تصویر کے لیے ملکی راز بیچنے میں دیر نہیں لگاتے مگر یہ سراسر جھوٹ ہے کہ بھارتی لڑکیوں کو ہائر کیا جاتا ہے ۔اچھا یہاں میں بڑے ادب اور احترام سے کہنا چاہوں گا کہ افسروں سمیت عورتیں بھی بھارت ہی کی بک رہی ہیں ۔ اور میں آپکو بتاوں بھارت کے پاس کون سا ایسا راز ہے جو پاکستانی آئی ایس آئی نے چرانا ہے ۔ آئے روز فائٹر جیٹ بھارت کے زمین بوس ہوتے ہیں میزائل ان کے چلنےسے پہلے ٹھوس ہوجاتے ہیں ۔ پھر جس دفاعی نظام اور برہوموس پر ان کو ناز ہے ۔ اس کو پاکستان نے ابھی نندن کو چائے پلا کر دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم کہاں ہیں اور یہ بھارتی کہاں ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال یہ ایک لمبی لسٹ ہے جو بھارتی افسران اپنے ملکی راز پتہ نہیں کس کس ملک کی عورت کو بیچ چکے ہیں ۔ اور الزام پاکستان پر آتا ہے۔ ان کی ۔را۔ کو پتہ لگانا چاہیے کہیں اس کے پیچھے سی آئی اے ، ایم آئی سکس نہ ہوں ۔کیونکہ اکانامک ٹائمز کی اسٹوری کے مطابق بھارت کا روس سے لیا ہوا ایس ۔ فور ہنڈر کا دفاعی نظام کمپرومائز ہوچکا ہے ۔ یہ معاہدہ جب ہو رہا تھا تو اس سے تو امریکہ سمیت یورپ کو چڑ تھی کہ روس سے کیوں سامان خرید رہے ہو ۔ خریدنا ہی ہے تو ان سے خریدو ۔ پاکستانی آئی ایس آئی کو ایسے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔دراصل چلیں میں آپکو پہلے ہی بتا دیتا ہوں یہ بھارتی کچھ بالی وڈ سے زیادہ ہی متا ثر ہوگئے ہیں ۔ انھوں نے سلمان اور شاہ رخ خان کو کچھ زیادہ ہی آئیڈلائز کر لیا ہے۔ کہ آئی ایس آئی دیپکا اور کترینہ کیف جیسی حسیناؤں کو بھیجے گی ان کو قابو کرنے کے لیے ۔ حالانکہ ان سب افسران کی شکل رجنی کانت جیسی ہے ۔ ایک اور چیز بڑی مزیدار سامنے آئی ہے کہ ان میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جن کا تعلق بی جے پی سے ہے یا ماضی میں یہ آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں ۔ تو اس پوائنٹ کو لے کر کانگریس جو مودی سمیت حکومت کے کپڑے اتار رہی ہے ۔ وہ الامان الحفیظ ہے ۔ اسی لیے آسان طریقہ بھارتی حکومت سمیت گودی میڈیا کے لیے ایک ہی ہے کہ بھارت میں کچھ بھی ہو اس کے تانے بانے پاکستان اور آئی ایس آئی سے جوڑ دو ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے سب دیکھنے والوں کے لیے مفت مشورہ ہے کہ کسی انڈین آفیسر کا نمبر مل جائے تو آپ نے بس ایک میسج ہی کرنا ہے اور اگر ویڈیو چیٹ کرلی پھر تو چاہے آپ اسکی پچھلی ہزار سال کی راشی نکلوا لیں ۔ یعنی جو مرضی راز نکلوا لیں ۔اور اگر آپ ہزار ڈالر کہیں ان افسران کو رشوت لگادیں تو پھر دیکھیں ان کی پھرتیاں ۔ براہموس اور ایس فور ہنڈر کے راز کیا پورے پورے میزائل لا کر آپکےقدموں میں رکھ دیں گے ۔ ویسے یہ سیکس اسکینڈل بھارتی فوج میں کوئی نئے نہیں ہیں ۔ ایک پوری تاریخ ہے ۔ بالی وڈ خود اس پر فلمیں بنا چکا ہے ۔ بھارتی نیوی میں تو کوئی افسر اپنے بیوی آگے پیش نہیں کرتا تو ترقی ہی نہیں ملتی اور یہ ایک عام کلچر ہے وہاں پر ۔ پھر وائف سویپنگ کے بغیر تو بھارتی فوج میں آپ آگے نہیں بڑھ سکتے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ اہم واقعات آپکو بتاتا ہوں ۔ سات مئی دوہزار تئیس کو انڈین ریاست مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی سکواڈ ۔اے ٹی ایس۔ نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ۔ڈی آر ڈی او۔ کے ایک سائنسدان کو گرفتار کیا۔ ان پر پاکستان کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اے ٹی ایس نے کہا ہے کہ یہ ۔ہنی ٹریپ۔کا معاملہ ہے اور پردیپ کورولکر نامی ایک سینیئر سائنسدان، جو پونے میں کام کرتے تھے، ایک نوجوان لڑکی سے واٹس ایپ اور ویڈیو کالز کے ذریعے رابطے میں تھے۔پھر تصویریں ، ویڈیوز پتہ نہیں کیا کیا بھیجتے رہے ۔ اس لڑکی کو لندن میں ملنے کی تیاری بھی کی ۔ پلان بھی بنایا مگر اپنے آپ میں بنے ٹائیگر کا یہ پلان پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پایا اور پہلے ہی بھارتی ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ گیا ۔ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے اس قسم کا معاملہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ دوسال قبل یعنی نومبردوہزار بائیس میں دلی پولیس نے مبینہ طور پر انڈین وزارت خارجہ کے لیے کام کرنے والے ایک ڈرائیور کو اس وقت گرفتار کیا جب سکیورٹی ایجنسیوں نے پولیس کو الرٹ کیا کہ ڈرائیور ۔ہنی ٹریپ۔ ہو کر کسی کو خفیہ معلومات فراہم کر رہا تھا۔ اس وقت تقریبا آٹھ سو کے قریب ایسے بھارتی افسران ہیں جن پر انکوائری چل رہی ہے اور یہ فوج سمیت میزائل پروگرام اور ایٹمی پروگرام سے وابستہ لوگ ہیں ۔مطلب آسوٹھ ایک بہت بڑا فگر ہے ۔ آپ اندازہ کریں یہ انڈینز ناڑے کے کتنے ڈھیلے تھے ۔ پھر انیس سو اسی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ۔۔را۔۔ کے ایک افسر جو۔۔ایل ٹی ٹی ای۔۔ کے معاملات دیکھتے تھے، ایک امریکی ایئر ہوسٹس کی زلفِ گرہ گیر کے ایسے اسیر ہوئے کہ ان کے فرشتوں کو بھی پتہ نہ چلا کہ محترمہ ۔سی آئی اے۔ کی ایجنٹ ہیں اور انہیں استعمال کررہی ہیں۔ جب تک انہیں خبر ہوتی، وہ جیل کی کوٹھری تک پہنچ چکے تھے۔۔ اسی طرح دوہزار چار میں ایک امریکی خاتون دو بھارتی افسروں ۔ پال اور داس گیتا۔ سے ملیں، ان سے پینگیں بڑھائیں ، پھر ان افسروں کے لیپ ٹاپ ایسے غائب ہوئے کہ آج تک نہیں ملے۔ جبکہ قانوناً حساس اطلاعات آفس سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ بہرحال دونوں حضرات جیل کی ہوا کھارہے ہیں۔ ایسے واقعات کی کمی نہیں،دوہزار نو میں سُکھ جندر سنگھ نامی افسر کو ایئر کرافٹ کے سودے کے لیے ماسکو بھیجا گیا مگرآپ سودے کو بھلا کر ایک روسی خاتون کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پائے گئے۔ راجستھان کے ایک فوجی افسر بنگلہ دیشی خاتون کے ساتھ ۔۔فیس بک۔۔پر دوستی کرتے نظر آئے۔ تفتیش پر پتہ چلا کہ محترمہ ان سے ملنے کئی بار راجستھان کا بارڈر کراس کرکے ہندوستان آچکی ہیں۔ ایک ایسی ہی حسینہ ڈھاکہ کے تربیتی کالج میں ایک ہندوستانی افسر کو پھنسا چکی تھیں۔ خوش قسمتی سے نوجوان افسر کو اس کے ضمیر کی آواز نے بچالیا۔ اس نے فوراً اپنے باس کو خبر کی اور افسر کو ہندوستان واپس بلالیا گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر آج سے ایک دہائی قبل کی بات ہے جب اسلام آباد میں تعینات انڈین فارن سروس کی پریس انفارمیشن سیکرٹری مادھوری گپتا کا معاملہ اس وقت اہمیت کا مرکز بن گیا جب دوہزار دس میں دہلی پولیس کے سپیشل سیل نے ان پر ۔پاکستان کی خفیہ ایجنسی، آئی ایس آئی۔ کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ انھیں اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دوہزار اٹھارہ میں ایک ذیلی عدالت نے انھیں تین سال کی سزا سنائی لیکن ساتھ ہی انھیں ضمانت پر رہا بھی کر دیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا۔مادھوری گپتا نے وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے افسران اور ان کے خاندان کے افراد کی پاکستانی جاسوسوں کو تعیناتی کی معلومات دی تھیں۔ بہرحال دوہزار اکیس میں چونسٹھ سالہ مادھوری گپتا کی موت کے بعد یہ معاملہ بھی ختم ہوگیا۔ درحقیقت ۔ہنی ٹریپنگ۔ کا عمل رومانوی یا جنسی تعلق بنا کر ہدف سے معلومات نکالنا ہے۔ یہ معلومات یا تو بڑی رقم کے لین دین کے لیے استعمال ہوتی ہیں یا پھر سیاسی وجوہات کی بناء پر ان میں جاسوسی شامل ہوتی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں انڈیا سمیت کئی ممالک میں ۔۔ہنی ٹریپ۔۔ کے کئی کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جہاں غیر قانونی وصولی یا بلیک میلنگ کے الزامات عائد کیے گئے۔پھر۔۔ بی رمن۔۔ کی کتاب ۔۔دی کاو بوائز آف را: ڈاؤن میموری لین۔۔ بھی اس جانب اشارہ کرتی ہے۔ اس کے مطابق ماسکو میں تعینات ایک نوجوان انڈین سفارت کار کو ایک روسی رقاصہ سے پیار ہو جاتا ہے۔ جب روس کی انٹیلیجنس ایجنسی کے جی بی نے اس ڈانسر کے ذریعے اس سفارت کار سے کچھ معلومات لینا چاہی تو اس نے صاف انکار کر دیا اور دلی آ کر وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو ساری بات بتا دی۔ سفارت کار کو زیادہ محتاط رہنے کی تنبیہ کے ساتھ معاف کر دیا گیا لیکن اس کے بعد سے انڈین فارن سروس کے تمام افسران کو ۔دوسرے ممالک میں ایسے کسی بھی فتنے سے بچنے کی ہدایت دی گئی، جو آج تک جاری ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہانیاں تو بہت ہیں مگر قصہ مختصر، جنسی بے راہ روی کسی کو نہیں بخشتی۔ اگرآپ اقتدار کے نشے میں چور ہوس کا شکارہیں تو جلدآپ کا زوال یقینی ہے۔ کیونکہ حسن کا مایاجال اتنا دلفریب اور توبہ شکن ہوتا ہے کہ آدمی سب کچھ بھول کر اس کا اسیر ہوجاتا ہے۔ بات جو بھی ہو، یہ طے ہے کہ صدیوں سے شہد کی یہ مکھیاں بڑے پیار سے شہد کے میٹھے گھونٹ اپنے شکار کے حلق میں انڈیل رہی ہیں اوران کے شکار شہد چکھتے ہی ایسے مدہوش ہوجاتے ہیں کہ انہیں دنیا ومافیہا کی خبر نہیں رہتی۔ یاد رہتا ہے تو صرف ان مکھیوں کا تعاقب اوران کی اطاعت۔ اپ اس دیوانگی کو ۔ ہنی ٹریپ ۔۔ کہنا چاہیں تو کہیں لیں ۔

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا ورلڈ کپ سے آوٹ ہونا کرکٹ کے لیے المیہ ہےیہ میں نہیں دنیا کے بڑے بڑے کرکٹر ز اور اسپورٹس تجزیہ کار کہہ رہے ہیں ۔ پر ایک چیز پر یہ سب بھی متفق ہیں کہ پاکستان کے باہر ہونے پر دکھ ہوا لیکن پاکستان کا کرکٹ سسٹم اس کا ذمے دار ہے ۔ جہاں ہر بجن سنگھ گیری کرسٹن کو مشورہ دے رہے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ وقت ضائع نہ کریں ہندوستان واپس آجائیں۔ تو سہواگ کا ماننا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے لیے میری ٹیم میں بابر اعظم کی جگہ نہیں۔ مائیکل وان ، ناصر حسین ، وریندر سہواگ ، سری کانت سب پاکستان کرکٹ کو لے کر پریشان بھی ہیں اور مشورہ دیتے ہوئے بھی دیکھائی دیتے ہیں کہ اگر کل صبح آپکو بابر اعظم ، شاہین شاہ آفریدی ، محمد رضوان ، شاداب خان کی انڈیا ، آسٹریلیا ، انگلینڈ کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی سلیکشن کرنی ہو تو ان کی جگہ ہی نہیں بنتی ۔ کیونکہ ٹی ٹوئنٹی میں جو اسٹرائیک ریٹ درکار ہے یہ اس پر کھیلتے نہیں ہیں ۔ پھر چاہے بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی میں ویرات کوہلی سے زیادہ رنز کیوں نہ بنا رکھے ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر ایک وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آج تک میچ کتنے جتوائے ۔ کتنی ٹرافیاں وہ گھر لے کر آئے ۔ کیونکہ یہ پاکستان کی اجتماعی کامیابی کو ترجیح دینے کے بجائے ذاتی سنگ میل کو ترجیح دیتے رہے ہین ۔ اصل میں تو پاکستان کرکٹ ٹیم کا لیول اور کیلیبر اب ایسوسی ایٹ ٹیمز والا بھی نہیں رہا۔پرتنخواہیں اور مراعات ہم ان کو انڈیا ، انگلینڈ اور آسٹریلیا والی دے رہے ہیں بلکہ کچھ پلیئر ز کو تو کرکٹ بورڈ نے باقاعدہ داماد بنا یا ہوا ہے ۔اگر جلد کوئی بہتری نہ لائی گئی تو مجھے لگتا ہے کہ کچھ ہی سالوں میں پاکستانی کرکٹ فینز اس بات کی خوشی منایا کریں گے کہ پاکستان ٹیم نے ورلڈ کپ کے کوالیفائینگ راؤنڈ میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آئر لینڈ،زمبابوے،کینیڈا،امریکہ،یوگنڈا،افغانستان پاکستان سے بہتر ہو گئی ہیں ۔پاکستان کو اب کرکٹ ایسی ٹیموں کے خلاف ہی کھیلنی چاہئیے۔حارث رؤف کو دیکھ لیں۔کھیلا بھی نہیں جاتا ہے،ٹیم کو میچز بھی ہروانے ہیں،اور اوپر سے فینز سے بھاگ بھاگ کے لڑ بھی رہا ہے۔کسی نے جو بھی کہا ہو کیا انٹرنیشنل کرکٹر ایسا کرتے ہیں۔ میں نے تو آج تک نہیں دیکھا ۔ اس حوالے سے احمد شہزاد نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے فاسٹ بولر حارث رؤف سے ہمدردی کے لیے سوشل میڈیا پر جو پوسٹیں لگائیں وہ انہیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں خراب کارکردگی پر قوم سے معافی مانگنے کے لیے بھی لگانی چاہیے تھیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت جو سب سے بڑا سوال ہے وہ یہ کہ اگر بابر اعظم کپتان نہیں رہتے تو کیا ان کی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں جگہ بنتی ہے ۔ اب اس حوالے سے متضاد قسم کی خبریں گردش میں ہیں ۔ ایک تو کہا جا رہا ہے کہ کپتان بابر برقرار رہیں گے باقی ٹیم سے سات سے آٹھ لوگوں کی چھٹی کر دی جائے گی ۔ اور بابر اعظم ڈومیسٹک کھیلنا شروع کر دیں گے جہاں وہ نئے ٹیلنٹ کو پنپین گے اور ٹیم میں نئے لوگون کو شامل کریں گے ۔ مجھے اس کہانی پر کوئی اتنا زیادہ بھروسہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر ٹیلنٹ ہنٹ بابر نے ہی کرنا ہے تو پھر سلیکٹرز کی کیا ضرور ت ہے ۔ اور بابر اتنا ہی قابل ہوتا تو کم ازکم ابرار احمد کو ضرور موقع دیتا ۔ مگر ٹیم میں ہوتے ہوئے بھی مسٹری اسپنر بابر الیون میں اس لئے نہیں کھیلا کہ وہ بابر اعظم کی پرانی فرنچائز کے شہر کا ہے، کیسی شرمناک حقیقت ہے ، شان مسعود اور سعود شکیل شجرِ ممنوعہ اور چار اوپنرز ٹیم کے ساتھ گئے مڈل آرڈر خالی، سونے سوہگہ یہ کہ چار اوپنرز کے ہوتے ہوئے بھی دو مڈل آرڈر بیٹسمین بابر اور رضوان اوپننگ کر رہے تھے، اوپنرز مڈل آرڈر میں تھے، کوئی تیاری نہیں، کوچ نے ٹورنامنٹ میں ہی ٹیم کو پہلی مرتبہ جوائن کیا، ورلڈ کپ سے پہلے کوئی کنڈیشننگ میچ نہیں، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ یہ کھیلنےضرور گئے تھے لیکن کرکٹ میچ نہیں۔سیاست کھیلنے گئے تھے ۔ شریکوں اور رقیبوں سے اپنے پرانے اسکور برابر کرنے گئے ۔ کیونکہ بابر اعظم کا گروپ اور سوشل میڈیا بہت پاور فل ہے، پہلے اس نے اپنے فرسٹ کزنز عمراکمل، کامران اکمل اور عدنان اکمل کو باہر کرایا اور اب پورے پٹھان گروپ کے خلاف کمپین چل رہی ہےاور سارا ملبہ ان پر ڈالنے اور بابر اینڈ کو۔ کو "کلین چٹ” دینے کا کام ہو رہا ہے، گھوم پھر کر ہونا یہی ہے کہ یہی نا اہل ٹیم پر مسلط رہیں گے، گزشتہ سال انڈیا میں شرمناک شکست کے بعد بھی ٹیم میں دکھاوے کیلئے وقتی تبدیلیاں ہوئی تھیں لیکن اس ورلڈ کپ میں پھر وہی ٹیم، وہی ناکام کپتان، وہی ڈرپوک ٹک ٹک اوپنرز بابر اور رضوان، اور اس سے برا رزلٹ۔ پھر بابر اعظم کا بحیثیتِ کپتان پی ایس ایل میں بھی ریکارڈ دیکھ لیں، کراچی کا بھٹہ بٹھا کر اب زلمی پر طبع آزمائی کر رہا ہے۔تو جناب اگر پچھلی بار کی طرح صرف خانہ پوری کرکے بابر کو ہی کپتان رکھا گیا۔ تو اس ملک میں کرکٹ کا اللہ حافظ سمجھیں ۔ بلکہ ۔ انا لله و انا الیه راجعون ۔ پڑھ لینا ۔

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

  • محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ اوربھی بہت دکھ ہیں ۔غلطی سے آپ کبھی اخبار اٹھا کر صرف جرائم کا صفحہ پڑھ لیں ۔ بس پھر آپ کانوں کو بھی ہاتھ لگائیں گے اور دعائیں بھی کریں گے کہ خدانخواستہ کبھی آپ یا آپکا جاننے والا اس سپچوئیشن میں نہ پھنسے ۔

    مبشر لقما ن آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہناتھا کہ بہرحال گزشتہ روز مجھےسے اخبار اٹھانے کی غلطی ہوگی اور سیدھا میں نے جرائم کا صفحہ کھول لیا کہ دیکھوں توصحیح ملک میں چل کیا رہا ہے پھر کیا تھا ۔ وہ وہ انکشافات ہوئے کہ کرکٹ میں ہار ، بجٹ ، سیاست کے مسائل یہ سب کچھ بہت چھوٹا لگنے لگے اور اصل بڑے مسائل یہ معاشرتی مسائل لگنے لگے ۔ بہرحال ایک اسٹوری تو میں نے کئی دنوں سے سن رکھی تھی کہ کراچی میں سیکورٹی گارڈ نے ٹک ٹاکر کو گولی مار دی ۔ اب جناب معاملہ یہ ہے کہ یہ کیسسز بڑھنا شروع ہوگئے ہیں ایک واقعہ تو اسی ہفتے لاہور میں ہوگیا جہاں سیکورٹی گارڈ نے اپنی مالک کو گولی مار دی پھر ایک اور واقعہ کراچی میں پھر رپورٹ ہوگیا ۔ پتہ نہیں پولیس اور حکومت کب جاگیں گے ۔ کہ عجیب ملک ہے کہ لوگ اپنے محافظوں کے ہاتھوں قتل ہونے لگے ہیں ۔ ویسے اس گرمی کے موسم میں سخت چھبنے والے کپڑے پہن کر ،بھاری بھرکم بوٹوں کے ساتھ ڈیوٹی کرنا کسی غذاب سے کم نہیں ہے ۔ اور جو معاشی صورتحال چل رہی ہے ۔ پھر جو سیکورٹی کمپنیاں ان لوگوں کا استحصال کرتی ہیں وہ ایک علیحدہ کہانی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کی ناحق جان لے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی سے شروع کریں تو سخی حسن سرینا موبائل مارکیٹ کے سکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کر کے ٹک ٹاکر کو قتل کر دیا۔ اسی وقت پولیس نے گارڈ کو گرفتار کرکے کلاشنکوف اپنے قبضے میں لے لی ہے ۔ مقتول دو بچوں کا باپ اور بے روزگار تھا جو گزر بسر کے لیے ٹک ٹاک اور وی لاگنگ کرتا تھا۔ جو اسٹوری رپورٹ ہوئی ہے اس کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے والا شخص مارکیٹ میں دکانداروں اور دیگر افراد سے پاک بھارت کرکٹ میچ کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کے لیے ویڈیو بنا رہا تھا اور جاتے ہوئے اس نے سیکیورٹی گارڈ سے بھی میچ کے حوالے سے سوال کیا لیکن اچانک اس نے گالی دی اور اسلحہ لوڈ کرکے سعد کو گولی مار دی ۔ تاہم مارکیٹ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران ٹک ٹاکر کا رویہ اچھا تھا ایسی کوئی بات نہیں دیکھی جو ناگوار ہو۔مقتول سعد احمد کے بارے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی ملنسار اور لوگوں کے کام آنے والا تھا، مقتول والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور بفرزون کا ہی رہائشی تھا جس نے چند ماہ قبل ہی ٹک ٹاک اور وی لاگنگ کا کام شروع کیا تھا۔ پھر واقعہ کی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے جس میں سیکیورٹی گارڈ احمد گل ولد زواتا خان کو انتہائی قریب سے سعد احمد کو گولی کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ سیکیورٹی گارڈ احمد گل نے ابتدائی طور پر بتایا کہ نوجوان ٹک ٹاک بناتے ہوئے میری طرف اشارے کررہا تھا۔ عین ممکن ہے کہ یہ شخص ذہنی مریض ہو ۔ کسی کلچرل شاک کا شکار ہو ۔ مطلب کسی دور دراز کے ایسے علاقے سے ہو جہاں یہ چیزیں عام نہیں اور کراچی جیسے بڑے شہر اور وہ بھی موبائل مارکیٹ میں آکر یہ سب کچھ اس کے لیے قابل قبول نہ ہو ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میرے ایک دوست ہیں جو فوج میں ہیں تو جب ان کی لاہور میں پوسٹنگ تھی تو انھوں نے ایک دن بتایا کہ جو لوگ دور درازعلاقوں یا باڈر سے ڈیوٹی کرکے جب لاہور آتے ہیں تو اکثر سے سڑک پار نہیں کی جاتی ۔ ایکسڈنٹ سمیت اور بہت سے مسائل ہیں جن کا ان کو سامنا کرنا پڑتا ہے اور سیٹ ہونے میں کئی ماہ لگتے ہیں ۔ بہرحال سعد احمد کے اہلخانہ احتجاج کر رہے ہیں کبھی پریس کلب جا رہے ہیں تو کبھی کہیں ۔ کہ ہمیں انصاف دیا جائے ۔ پر ان کو کون بتائے اور سمجھائے اس ملک میں عام بندےکو انصاف کہاں ملتا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جس کمپنی کے لیے یہ سیکورٹی گارڈ احمد گل کام کرتا تھا اس کا لائسنس کینسل ہوتا ۔ جس دوکان پر یہ کھڑا ہو تاتھا اس کے مالک پر پرچہ ہوتا ۔ جبکہ ریاست سعد احمد کے اہلخانہ اور اس کمپنی سمیت دوکاندار سے اچھی خاصی رقم بطور ہرجانہ لے کر دیتی ۔ جبکہ قتل کرنے والے گارڈ کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی اور جلد سے جلد ۔ یہ نہیں کہ دس دس سال بیس بیس سال کیس سیشن کورٹس میں چلتا ۔ پھر ہائی کورٹس جاتا ، پھر سپریم کورٹ ۔ جو عام معمول ہے پاکستان میں ۔ اسی لیے میں نے کہا ہے کہ غریب اور عام بندے کے لیے کوئی انصاف نہیں ہے اس ملک میں ۔آپ دیکھیں جب چور اور ڈکیت آتے ہیں تو ان گارڈ ز سے گولی چلتی نہیں اور عام معصوموں کی یہ جانیں لے رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ تحقیقات میں گارڈ احمد گل کی سیکیورٹی کمپنی تعاون سے گریز کررہی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جواب نہیں دے رہے ،آفرین ہے ویسے پولیس والوں پر بھی یہاں ڈنڈا نہیں چلا رہے کوئی عام یا سادہ بندہ ہوتا توڈنڈے مار مار بندہ مار دیتے ۔اس کے گھر والوں کو اٹھا لیتے ۔ بڑے بندے کو دیکھ کر پتہ نہیں پولیس والوں کی کیوں سیٹی گم ہوجاتی ہے ۔ بہرحال سیکیورٹی کمپنی سے کسی بھی شخص نے بیان ریکارڈ نہیں کرایا، بس اتنا معلوم ہوسکا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ احمد گل چار ماہ قبل سرینا موبائل مارکیٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ واقعہ تو میڈیا پر آنے کے بعد نظر میں آگیا ۔ میں آپکو بتاؤں اور بھی بہت سے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔ جیسےکراچی میں ہی سیکورٹی گارڈ نے کچرا چننے والے بچے کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ پھر ماڈل کالونی کی رہائشی عمارت کے سکیورٹی گارڈ نے جھگڑے کے دوران ساتھی گارڈ پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں دوسرا گارڈ زخمی ہوگیا۔اور دو دن پہلے لاہور کی غالب مارکیٹ میں سکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کرکے اپنی ہی نجی سکیورٹی کمپنی کے مالک کو قتل کردیا ۔ جس کے بعد گارڈ کو گرفتار کرلیا گیا ۔ گرفتار گارڈ نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ نجی سکیورٹی کمپنی کا مالک ملازمین پر سختی کرتا تھا۔پولیس نے سکیورٹی گارڈ مدنی جلیل کا بیان ریکارڈ کرلیا ہے ، جس میں سکیورٹی گارڈ نے نجی کمپنی کے مالک غلام رسول پر جادوٹونے کا الزام لگا دیا ہے ۔ کہ صبح اٹھتا تو منہ سے خون آتا اور کہیں بھی مجھے نوکری نہیں ملتی تھی۔ پانچ سال پہلے نجی کمپنی میں کام کرتا تھا مالک نے نکالا تو اسکے بعد کام نہیں ملا۔ پولیس نے ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد تفتیش کے لئے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا۔واقعہ کی کلوز سرکٹ فوٹیج میں دیکھا گیاہے کہ مقتول غلام رسول اپنی گاڑی پر دفتر کے سامنے پہنچ کر گاڑی کی ڈکی سے سامان نکال رہا تھا، اسی دوران سکیورٹی گارڈ مدنی نے آکر مقتول سے ہاتھ ملایا اور ڈکی سے مقتول کی گن نکال کر فائرنگ کر دی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام واقعات اسی ماہ کے ہیں ۔ یقیقنا اس کے علاوہ بھی ہوں گے ۔ مگر آپ کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری حکومت ہر معاملے میں سوئی ہوئی ہے ۔ کسی کواسلحہ دیکر کھڑے کر دینا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ سب سے پہلے ماہانہ بنیاد پر اس کا دماغی معائنہ بہت ضروری ہے ۔ پھر اسلحہ صرف ایسی جگہوں پر گارڈ نے پاس ہونا چاہیئے جہاں چوری ڈکیتی کا خطرہ ہو ۔یا کسی کی جان کو خطر ہ ہو ۔ جیسے بینک ، جیولری شاپس یا جہاں بہت زیادہ پیسہ کا لین دین ہوتا ہو ۔ یہ ہر جگہ گارڈ کو گن دیکر کھڑے کردینے کا کوئی تک نہیں ہے ۔ پھر وفاقی سمیت صوبائی حکومتوں نے عام بندے کی تنخواہ اب تو سینتس ہزار مقرر کردی ہے ۔ جوکہ مجھے معلوم ہے کوئی بھی سیکورٹی کمپنی گارڈ کو نہیں دیتی ۔ پھر اس سخت موسم میں گرم کپڑے، بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ کا نہ ہونا ، بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی ۔ یہ سب عوامل مل کر کسی بھی جرم کا سبب بن سکتے ہیں یہ مت سمجھیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا اس کے پاس اسلحہ اور اس اسلحہ کا رخ وہ کب آپ کی طرف موڑ دے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ فورا ان سیکورٹی کمپنیوں کو پراپرریگولیٹ کیا جائے ۔ ان کے بھرتی کے نظام کی سخت سے سخت نگرانی کی جائے ۔ اور سخت چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے ۔ پر مسئلہ یہ ہے کہ نقوی صاحب تو کرکٹ کے معاملہ میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو کیا معلوم کہ ملک میں چل کیا رہا ہے ۔ بہرحال کم ازکم صوبوں کو اس حوالےسے لازمی قانون سازی کرنی چاہیے ۔

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

  • پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو لگاتار تین مرتبہ وزیر اعظم بنے۔اس ریکارڈ کو اب جا کر مودی نے توڑا ہے۔ اور یہ بھی لکھ لیں ۔جلد مودی ایک اور ریکارڈ بھی توڑےگا وہ ہے بھارت کو توڑنے کا ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسی لیے میری نظر میں اس سال کی سب سے دھماکا خیز خبر بھارتی انتخابات کے نتائج تھے۔ جس کو عالمی میڈیا نے بھر پور کوریج دی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی انتخابات کے نتائج خطے کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان بد ترین سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے دو چار ہے۔ ان حالات میں مودی کا دو تہائی اکثریت نہ لے پانا پاکستان کے لیے نیک شگون ہے۔ ورنہ پاکستان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔شرارتیں تو مودی اب بھی کرے گا ایسا نہیں کہ وہ باز آجائے کیونکہ انسان کی خصلت نہیں بدل سکتی ۔ آپ دیکھیں ابھی مودی کو لولی لنگڑی حکومت سنبھالے صرف دو دن نہیں گزرے اوربھارتی سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے بنگلادیشی سرحد کے نزدیک ایک نہتے شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔جبکہ اس سال کے چار پانچ ماہ میں بھارتی فوج کی سرحد پر فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بنگلادیشی شہریوں کی تعداد دس سے تجاوز کرچکی ہے ۔ پھر گزشتہ دو انتخابات میں مودی نے اپنی جیت پر سارک ممالک کے سربراہوں کو مدعو کیا تھا۔ لیکن اس دفعہ سارک ممالک کے سربراہوں کو مدعو نہیں کیا گیا ہے حیرانی کی بات ہے۔ شاید شاک بہت گہرا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی کی شرانگیزیوں کا اندازہ پاکستان اور چین سمیت اب کینیڈ ا کو بھی مکمل طور پر ہو چکا ہے ۔ آپ دیکھیں ہردیپ سنگھ کے قتل کو ایک سال مکمل ہونے پر کینیڈا میں ہزاروں افراد نے بھارت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اور یہ کوئی چھوٹا موٹا مظاہرہ نہیں تھا پچاس ہزار سے زائد افراد مودی سرکار کے خلاف اور پردیپ سنگھ سے اظہاریکجہتی کیلیے وینکوور کی سڑکوں پر نکل آئے۔یہ نعرے بھی لگے کہ خالصتان بن کر رہے گا۔ پھر آپ دیکھیں حکومت تشکیل پاتے ہی مودی کی مسلم دشمنی سامنے آچکی ہے ، کیونکہ مودی حکومت کی بہتر رکنی کابینہ میں تیس وزرا ء اور اکتالیس وزرائے مملکت شامل ہیں، جبکہ پانچ اقلیتی اراکین شامل ہیں مگر کسی مسلمان رکن کو شامل نہیں کیا گیا۔اور ایسا پلان کرکے جان بوجھ کر کیا گیا ہے ۔ ویسے مودی کی نئی کابینہ میں کسی مسلم وزیر کے نا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے علاوہ این ڈی اے اتحاد کی کسی دوسری جماعت سے بھی کوئی مسلمان الیکشن جیت کر رکن اسمبلی منتخب نا ہو سکا تاہم بھارتی آئین کے مطابق نریندر مودی کو یہ اختیار بھی حاصل تھا کہ وہ کسی بھی غیر منتخب شخص کو وزیر مملکت یا مشیر مقرر کر سکتے تھے جسے کے لیےچھ ماہ کے اندر الیکشن لڑ کر منتخب ہونا ضروری تھا، تاہم انہوں نے ایسا کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ بھارتی آبادی کے چودہ فیصد مسلمانوں کی لوک سبھا میں نمائندگی پانچ فیصد سے بھی کم ہے جبکہ الیکشن میں جو چوبیس مسلمان امیدوار کامیاب ہوکر رکن اسمبلی منتخب ہوئے ان میں سے اکیس کا تعلق اپوزیشن اتحاد ۔۔انڈیا۔۔ سے ہے، ایک رکن کا تعلق انڈیا مجلس اتحاد مسلمین سے جبکہ دو مسلمان امیدوار آزاد حیثیت میں کامیاب ہوکر لوک سبھا پہنچے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسر ی جانب دنیا بھر کے سربراہان مملکت کی طرح پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ن لیگ کے صدر نواز شریف نے مودی جی کو مسلسل تیسری بار وزیراعظم بننے پر گرمجوشی سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں مسلسل تیسری بار کامیابی بھارتی عوام کے اعتماد کا اظہار ہے، آئیں ہم نفرت کو امید سے بدل کر اسےدو ارب انسانوں کی ترقی کا موقع بنائیں۔بات تو اچھی تھی مگر مودی نے اس کا الٹا مطلب لیا بلکہ یوں کہیں ۔ کتے کی دم کبھی سیدھی نہیں ہوتی ۔ردعمل میں مودی نے کہا کہ بھارت کے عوام ہمیشہ امن، سیکیورٹی اور ترقی پسند خیالات کےحامی رہے ہیں، بھارتی عوام کی سیکیورٹی اور خوشحالی ہمیشہ ہماری ترجیح رہے گی۔جبکہ یاد ہو تو اسی سال مارچ میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اس حوالے سے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اس وقت بھی انڈین قیادت کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی اور سکیورٹی جیسے اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ اب ایک بار پھر نواز شریف نے مودی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جن کے ساتھ ان کا اچھا ذاتی تعلق ہے اور شہباز شریف بھی انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے حوالے سے ماضی میں بات کر چکے ہیں۔ اس پر میں یہ ہی کہوں گا کہ سمجھ سے باہر کہ ن لیگ انڈیا کے معاملے پر پتہ اتنا کیوں نیچے لگ جاتی ہے ۔ یہ پہلے بھی مودی کی اماں کو ساڑھیوں اور آموں کے تحفے بھیجتے رہے ہیں جبکہ بغیر ویزے کے اپنی شادیوں پر بھی مود ی کو مدعو کر تے رہے ہیں مگر بھارت نے ہر بار اس جذبہ خیر سگالی کا جواب نفرت سے دیا ہے ۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ جب تک مودی ہے پاک بھارت تعلقات معمول پر نہیں آسکتے ہیں کیونکہ ان کی سیاست کا تمام دارومدار ہی پاکستان اور مسلم دشمنی پر ہے ۔ تو وہ کیسے اپنی اس پالیسی کو بدلیں گے ۔ اب آپ دیکھیں بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے دوسری بار وزیر خارجہ کا حلف اٹھاتے ساتھ کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ برسوں پرانے دہشت گردی کے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔ جس میں دراندازی کا معاملہ بھی شامل ہے۔حالانکہ یہ معاملہ پاکستان کا اٹھانا بنتا ہے گزشتہ چند سالوں میں بھارت نے چن چن کر پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کروائی ہے ۔ جس کے ثبوت دفتر خارجہ دنیا بھر کے سامنے رکھ چکا ہے ۔ پھر کلبوشن یادو جیسا جاسوس پاکستان کی سرزمین سے پڑا گیا اس سے بڑا پاکستان میں بھارتی دراندازی کا ثبوت کیا ہوگا ۔ پتہ نہیں ہم اتنا ڈرتے کیوں ہیں ۔ بہرحال بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی کہا ہے کہ اُن کے ساتھ کچھ سرحدی مسائل ہیں اور ہماری توجہ اس بات پر ہوگی کہ انہیں کیسے حل کیا جائے۔

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

  • شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی آخری حکومت ہے بلکہ حکومت میں کسی قسم کا عمل دخل بھی آخری بار ہو رہا ہے، ن لیگ کے کرتا دھرتاؤں کو شاید پتہ ہے ،اسی لیے ن لیگی رہنما پارٹی پالیسی کے برعکس بیانات دے رہے ہوتے ہیں، یہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں ن لیگ عنقریب تاریخ کا حصہ بننے جا رہی ہے، یہ جب نکلے گی تو بہت زیادہ ہو گیا تو ق لیگ بن کرنکلے گی یا جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کی طرح ہو جائے گی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بجٹ کے بعد وزیراعظم نے وفاقی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے،مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں سے سینئر سیاسی رہنماؤں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کو کابینہ کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے اور احسن اقبال کو اہم ٹاسک دے دیا گیا ہے، پیپلز پارٹی کو وزارتوں کے حوالہ سے مشاورت جاری ہے،وزیراعظم کی صدر مملکت سے ہوئی، احسن اقبال اس کے بعد متحرک ہو گئے ہیں، احسن اقبال نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور قمر زمان کائرہ سے بھی رابطہ کر لیا ہے، میں ڈیڑھ ماہ پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آئے گی اور بجٹ کے بعد آئے گی، بجٹ میں وہ کہیں گے یہ ہمیں منظور نہیں عوامی بجٹ نہیں لیکن اسکے بعد وہ کابینہ میں شامل ہوجائیں گے، پی آئی اے کی نجکاری بارے بھی پیپلز پارٹی کہے گی کہ یہ تو اب ہو چکا ہم کیا کر سکتے ہیں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کا ہم سب کو پتہ ہے وہ دو تین لوگوں کے ساتھ ملکر نئی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں، تین چار سال بعد اس جماعت کی بڑی گنجائش ہو گی، ن لیگ کے ناراض لوگ اس میں آئیں گے، پی ٹی آئی کے ناراض بھی اس میں آئیں گے، دیگر جماعتیں جو اپنے وزن تلے دب رہی ہیں انکے لوگ بھی اس میں آئیں گے، وقت سے پہلے کہہ رہا ہوں کہ ن لیگ کی آخری حکومت ہے، اسکی ایک وجہ ہے، 2013 میں نئے ووٹ ن لیگ کے خلاف پڑے، 2018 میں جو الیکشن ہوئے اس میں بھی نئے ووٹرز ن لیگ کے خلاف پڑے ڈیڑھ کروڑ کے قریب، اب جو الیکشن ختم ہوئے، اس میں نئے ووٹ ن لیگ کے خلاف پڑے ہیں، 2028 میں نئے ووٹرز کی تعداد دو سوا دو کروڑ ہو گی جو ن لیگ کے حق میں نہیں ہوں گے، دیگر ووٹ بینک بھی کم ہو گا، اسی لئے شاہد خاقان عباسی جو اب پارٹی بنا رہے ہیں، وہ کسی کی برائی نہیں کر رہے عمران خان کو کہتے ہیں سیاسی طور پر ڈیل کرنا چاہئے اسی طرح پیپلز پارٹی کو بھی، وہ وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں، وہ ہر ایک کو قابل قبول ہیں، نہ وہ وی آئی پی پروٹوکول کے خواہشمند ہیں،

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • بی جے پی کے ساتھ بڑا ہاتھ ہو گیا، مودی آؤٹ،گیم پلان پر کام شروع

    بی جے پی کے ساتھ بڑا ہاتھ ہو گیا، مودی آؤٹ،گیم پلان پر کام شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارتی الیکشن کا رزلٹ دیکھ کر گودی میڈیا کے لوگ رزلٹ دیکھ کر لائیو آن ایئر روتے دیکھ رہے ہیں ۔ ان میں ہی سے ایک کمپنی ایکسس مائی انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر پردیپ گپتا ہیں جو دوران انٹرویو رو پڑے ہیں ۔ کیونکہ ایک جون کو ۔ایکس مائی انڈیا۔۔کے ایگزٹ پول نے بھارت کی حکمراں جماعت کے لیے تین سو اکسٹھ سے چار سو ایک نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت سے جیتنے کی پیش گوئی کی تھی۔دوسرے پول پنڈتوں نے بھی کہا تھا کہ یہ انتخابات بی جے پی کا اب تک کا سب سے بڑا مینڈیٹ ہو سکتا ہے لیکن اب تک کے نتائج ایگزٹ پولز کے دعوؤں کے برعکس ہیں۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مطلب گودی میڈیا نے جو مرضی رائے سازی کرنے کی کوشش کی ۔اس میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔اور اب رونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ۔ کہاں چار سو سیٹیں لینے کے دعوے کیے جا رہے تھے ۔ مگر سادہ اکثریت تک نہیں ملی ۔بلکہ مودی اگر تیسری بار وزیر اعظم بنے بھی تو مانگے تانگے کی سیٹیں لے کر بنیں گے ۔ اور اتحادی کسی وقت بھی ان کی کرسی ہلا سکیں گے ۔ حقیقت میں بھارتی عوام نے نفرت کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے ۔ اس بار بی جے پی کے بڑے برج بھی الٹ گئے ہیں ۔ بی جے پی کا گڑھ سمجھے جانے والے اتر پردیش میں بڑے جھٹکے لگے ہیں ۔ ایودھیا تک میں ہار گئے ہیں ۔مطلب فیض آباد کے مقام پر مودی نے جہاں جنوری میں رام مندر کا افتتاح کیا تھا وہاں تک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ پھر مودی حکومت کے پندرہ کے قریب وزیر تک الیکشن ہار گئے ہیں ۔ لسٹ تو کافی لمبی ہے مگر چند ایک اہم لوگوں کے نام آپکو بتا دیتا ہوں ۔ سمرتی ایرانی جنہوں نے دوہزار انیس کے انتخابات میں راہول گاندھی کو پچپن ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی اس بار کانگریس کے امیدوار کشور لعل کے مقابلے میں ہار گئیں۔کیرلہ کی سیٹ پر مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر کانگریس کے ششی تھرور سے ہار گئے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کو سماج وادی پارٹی کے اتکرش ورما کے ہاتھوں شکست ہوئی،ریاستی وزیر تعلیم سبھاش سرکار مغربی بنگال بھی ہار گئے۔ پھر مہاراشٹرا بھی بی جے پی کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ مہاراشٹرا میں کانگریس نے بی جے پی کے مقابلے میں تقریبا دوگنا زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ تامل ناڈو میں بھی بی جے پی صرف ایک نشست حاصل کرپائی جبکہ مغربی بنگال میں بھی بی جے پی ممتا بنر جی کے سامنے نہ ٹک سکی۔ ہریانہ اورجھاڑ کھنڈ میں ٹکر کا مقابلہ ہوا جبکہ بہار میں بھی کانگریس اتحاد کسی حد تک مضبوط ہوئی ۔ اسی وجہ سے این ڈے اے نے تین سو کا ہندسہ بھی عبور نہیں کیا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت مودی کی سربراہی میں چوبیس جماعتی اتحاد این ڈی اے کو دو سو بانوے نشستوں پر برتری حاصل ہے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی دوسو چالیس سیٹیں شامل ہیں۔یوں دیکھاجائےتو دوہزار انیس کے مقابلے میں بی جے پی اس بار پچاس سے زائد سیٹیں ہاری ہے کیونکہ تب انھوں نے لوک سبھا کی تین سو تین نشستیں جیتی تھیں۔ دوسری جانب کانگریس کی سربراہی میں چوبیس جماعتی اتحاد انڈیا نے دوسو اکتیس نشستوں پرآگے ہے۔ آپ دیکھیں مودی کی یہ ہار اتنی غیر متوقع تھی ۔ کہ انڈین اسٹاک مارکیٹ اس خبر کے بوجھ برداشت نہ کر پائی اور کریش کر گئی ۔ ایک ہی دن میں چار ہزار تین بیس پوائنٹس نیچے گر گئی ۔ جبکہ چار سالوں کی سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ۔اسی وجہ سے سرمایہ کاروں کے تیس لاکھ کروڑ بھارتی روپے ڈوب گئے۔اس میں مودی کے ارب پتی دوست گوتم اڈانی کے بھی ایک کھرب روپے ڈوب گئے ہیں ۔ پھر کل ہی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پارٹی ورکرز سے خطاب کیا ۔ اپنی طرف سے تو وہ وننگ سپیچ کرنے آئے تھے ۔ مگر یہ ایک ہارے ہوئے شخص کی تقریر تھی ۔ اعلان تو کر دیا ہے کہ حکمران اتحاد این ڈی اے تیسری بار سرکار بنانے جارہا ہے۔دوسری جانب کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ہم نے یہ الیکشن صرف بی جے پی کے خلاف نہیں بلکہ پوری ریاستی مشینری کے خلاف لڑا، خفیہ ایجنسیاں، بیوروکریسی اور آدھی عدلیہ بھی ہمارے خلاف تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نےپارٹیاں توڑیں، وزرائے اعلیٰ کو جیلوں میں ڈالا اور ہر ہتھکنڈا استعمال کیا لیکن کانگریس رہنماؤں نے متحد ہوکر حکومت کے خلاف انتخاب لڑا۔ انتخابی نتائج سےمودی جی کو عوام کا بڑا پیغام ملا ہے کہ ہمیں مودی نہیں چاہیے۔ ویسے باٹم لائن یہ ہی ہے کہ بھارتی عوام نے ووٹ کی طاقت سے بتا دیا ہے کہ مودی ہمیں بالکل اچھے نہیں لگے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل کانگریس نے بی جے پی کو اُسی کے ہتھیار سے کاری ضرب لگائی ہے اور۔ اب کی بار چار سوپار۔۔کا بی جے پی کانعرہ ووٹر زکیلئے خوف کی علامت بنادیا تھا، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور راہول گاندھی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ اگر بی جے پی کو چار سو نشستیں مل گئیں تو وہ آئین بدل دے گی اور کوٹہ سسٹم ختم کردے گی۔ یوں راہول کی آئین بچاؤ موثرانتخابی مہم کے نتیجے میں کانگریس کو ننانوے نشستیں ملی ہیں جو دوہزار انیس کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہیں،اور اب ایک بار پھر دس برس بعد غیرمعمولی نشستیں جیت کربھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نریندر مودی سمیت حکمراں اتحاد کے لیے پھر سے ڈراؤنا خواب بن گئی ہے۔ اسطرح دس سال میں پہلی بار کانگریس قائدحزب اختلاف کے طورپر اپنے لیڈر کو پیش کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے۔تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ راہول گاندھی ہی اپوزیشن لیڈر بنیں گے یا نہیں۔ کانگریس اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں تونہیں تاہم یہ واضح ہو گیا ہے کہ کانگرس کا انڈیا اتحاد مودی کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو اگلی بار کرارا جھٹکا دینے کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ دوسری جانب کی بات کریں تو ان غیر متوقع نتائج کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب رہیں گی لیکن انھیں ہمیشہ یہ خطرہ رہے گا کہ حزب اختلاف حکمراں اتحاد سے ناراض جماعتوں کو اپنی جانب راغب کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ بی جے پی کے لیے کمزور مینڈیٹ کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی حکومت کے برعکس اب ان کو اپنے نامکمل ایجنڈے کو جاری رکھنے کے لیے علاقائی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔اسی لیے آنے والے دنوں میں جو علاقائی پارٹیاں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ان میں کانگریس کی حلیف سماج وادی پارٹی ہے، جو اتر پردیش کی اسی نشستوں میں سے سنتیس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ ٹی ایم سی جو کہ بنگال میں برسر اقتدار ہے نے بیس نشستیں حاصل کی ہیں اور گذشتہ انتخابات کے مطابق میں ان کی نشستوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب مودی کی حلیف جنتا دل یونائٹیڈ نے بہار میں بارہ اور ٹی ڈی پی نے آندھرا پردیش میں سولہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس نئی حکومت کے لیے نامکمل وعدے جیسا کہ۔ون نیشن ون الیکشن۔ اور یکساں سول کوڈ ۔جس کے تحت اقلیتوں کے شادی اور وراثت کے قوانین کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ کو پورا کرنا مشکل ہو گا۔ جبکہ ۔ون نیشن ون الیکشن۔ وعدے کے تحت بی جے پی پارلیمانی اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی وقت میں کروانا چاہتی ہے۔ پھر ان انتخابات میں علاقائی پارٹیوں کو اہمیت حاصل ہونے کی وجہ سے مودی اور ان کے اہم ساتھی امت شاہ کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے مبینہ طور پر مرکز میں حکومتی طاقت کے عمل پر اہم اثر پڑے گا ۔ یعنی پہلے جیسا تاثر تھا کہ طاقت کا مرکز مودی اور امت شاہ ہیں اور وہی سارے فیصلے لیتے ہیں، اب چونکہ مودی دوسری علاقائی جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے لہذا انھیں ان پارٹیوں کی بھی سننا پڑے گی۔ یہ خاص طور پر مودی اور امیت شاہ کے لیے آسان نہیں ہو گا ۔پھر اتحادی سیاست کا مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت میں عدم استحکام کے امکانات رہیں گے کیونکہ چھوٹی پارٹیوں کو حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اپنی طرف بڑی اور بہتر وزارتوں کے وعدے کے ساتھ راغب کر سکتی ہیں۔پھر یہ انتخابات اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مودی اب ۔۔دیوتا ۔۔ نہیں رہے۔ جو انھوں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ میں بھگوان کا اوتار ہوں ۔ اب سے مودی صرف ایک عام سیاستدان ہے، جو کہ کافی چھوٹاہو گیا ۔

    اداروں کی یونیفارم پہننا خلافِ قانون،محترمہ عملی کام بھی کریں، بیرسٹر سیف

    مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی خود کو ثابت کرنا پڑا،مریم نواز

    اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی دکھی تو ہو گا کیونکہ اس نے بڑی محنت اور توجہ سے اپنے آپ کو ایک الگ برانڈ بنایا تھا ۔ جس طرح برینڈ والی کمپنیاں لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے کے لیے مختلف تشہیری مہمات چلاتی ہیں، ویسے ہی مودی نے باقاعدہ اپنی پبلسٹی کی اور اس سلسلے میں وہ روایتی، ڈیجیٹل، اور سوشل میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتا رہا ۔بلکہ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے انڈیا کے طاقتور میڈیا کا بازو مروڑ کر اسے ۔گودی میڈیا۔ بنا دیا ۔ مودی نے صرف انڈیا ہی میں نہیں، بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پہچان بنانے پر بڑی توجہ دی ہے۔ ان کے عالمی لیڈروں سے لمبے لمبے مصافحے آپ کو یاد ہوں گے۔ مگر یاد رکھیں پاپولسٹ لیڈر ز کا اینڈ یہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ تو قتل ہوجاتے ہیں یا زندہ رہیں تو یوں ذلیل ورسوا ہو کر رندہ درگارہ ہو جاتے ہیں ۔

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • خبرغم،باغی ٹی وی کےکالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی وفات پا گئیں

    خبرغم،باغی ٹی وی کےکالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی وفات پا گئیں

    روزنامہ اوصاف اور باغی ٹی وی کے کالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی وفا ت پا گئی ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون

    باغی ٹی وی کے مستقل کالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی ،انکے بڑے بھائی ذاکر قریشی کی اہلیہ وفات پا گئی ہیں،مرحومہ کیپٹن ریٹائرڈ ثریا کی وفات امریکہ میں ہوئی ہے، شہزاد قریشی کی بھابھی کی وفات پر سی ای و باغی ٹی وی،معروف اینکر پرسن مبشر لقمان و باغی ٹی وی کی ٹیم نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت کی ہے، دعا ہے رب تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے، آمین

    باغی ٹی وی کےکالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی سپردخاک،سیاسی و سماجی شخصیات کی تعزیت
    باغی ٹی وی اور روزنامہ اوصاف کے تجزیہ کار شہزاد قریشی کی بھابھی اور ذاکر قریشی کی اہلیہ کیپٹن ریٹائرڈ ثریا مختصر علالت کے باعث وفات پا گئی تھیں جن کی امریکہ میں نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کر دی گئی ہے،دریں اثناء ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار،وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی پرویز رشید،روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹر اور اے بی این نیوز کے چیئرمین راجہ مہتاب خان،سینیٹر عرفان صدیقی،ممبر قومی اسمبلی قمرالاسلام ،مسلم لیگ ن یو کے صدر زبیر گل ،سینیٹر ناصر بٹ،ممبر صوبائی اسمبلی راجہ شوکت عزیز بھٹی،لند ن اور ہالینڈ میں موجود پاکستانی سفراء ،آزاد کشمیر و پنجاب کے اعلیٰ پولیس افسران،سول بیورو کریٹس ،ممبر راولپنڈی کینٹ بورڈ ملک عثمان،صحافیوں ،سیاسی سماجی شخصیات کی کثیر تعداد نے شہزاد قریشی سے انکی بھابھی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے ،مختلف شخصیات نے ٹیلی فون کال پر اور گھر آکر شہزاد قریشی سے تعزیت کی ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالی مرحومہ کے درجات بلند اور لواحقین کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطافرمائے،آمین