Baaghi TV

Tag: بجلی

  • ایک ماہ کیلئے بجلی فی یونٹ مہنگی ہو گئی

    ایک ماہ کیلئے بجلی فی یونٹ مہنگی ہو گئی

    نیپرا نے ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بجلی 33 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی-

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 33 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق اس اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین سمیت تمام متعلقہ بجلی صارفین پر ہوگا، جبکہ اضافی چارجز رواں ماہ جولائی کے بجلی کے بلوں میں وصول کیے جائیں گے۔

    اس سے قبل سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مئی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا کو بھجوائی تھی، تاہم اتھارٹی نے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد 33 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی۔

  • بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان

    بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان

    بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان ہے-

    سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے مئی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دائر کر دی،نیپرا میں درخواست منظور ہونے کی صورت میں ملک بھر کے صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

    سی پی پی اے کے مطابق مئی کے دوران ملک میں 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ جبکہ بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی، اس کے مقابلے میں مئی کے لیے ابتدائی فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا تھا، جس کے باعث 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی گئی، مئی میں بجلی کی پیداوار کا 33.27 فیصد حصہ ہائیڈل ذرائع سے حاصل کیا گیا، جبکہ 13.54 فیصد درآمدی کوئلے، 11.66 فیصد مقامی کوئلے، 8.31 فیصد مقامی گیس اور 0.16 فیصد فرنس آئل سے بجلی پیدا کی گئی۔

    نیپرا اس درخواست پر منگل کو سماعت کرے گا، جہاں سی پی پی اے کے پیش کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا-

  • بجلی فی یونٹ 82 پیسے مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی فی یونٹ 82 پیسے مہنگی ہونے کا امکان

    مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے-

    سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مئی کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی ہے اگر درخواست من و عن منظور کر لی گئی تو بجلی صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    درخواست کے مطابق مئی کے دوران 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی،اس کے مقابلے میں فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے لگایا گیا تھا، جس کے باعث اضافی لاگت صارفین سے وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    سی پی پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں سب سے زیادہ 33.27 فیصد بجلی پانی سے پیدا کی گئی مقامی کوئلے سے 11.66 فیصد، درآمدی کوئلے سے 13.54 فیصد اور فرنس آئل سے 0.16 فیصد بجلی پیدا ہوئی اسی طرح مقامی گیس سے 8.31 فیصد جبکہ درآمدی ایل این جی سے 11.81 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جوہری ایندھن سے 14.25 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

    نیپرا سی پی پی اے کی درخواست پر 30 جون کو سماعت کرے گا، جس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافے یا عدم اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

  • نیپرا کا ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان

    نیپرا کا ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان

    ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، یہ فیصلہ بجلی حکومتی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

    نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں یہ کمی جنوری تا مارچ 2026 کی سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے، جبکہ اس کا اطلاق جون سے اگست 2026 تک تین ماہ کے لیے ہوگا اس ریلیف کا اطلاق ملک بھر کے تمام صارفین پر ہوگا، جس میں کے الیکٹرک کے صارفین بھی شامل ہیں۔

    بجلی کی قیمت میں کمی کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 67 ارب 17 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ریلیف ملے گا، یہ اقدام سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین پر بجلی کی لاگت کا بوجھ کم کرنا ہے۔

  • بجلی فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

    ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔

    بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے،بجلی کی قیمت میں اضافے کی صورت میں اطلاق کے الیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز کے صارفین پر ہو گا۔

    سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

    حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔

    سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

  • کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی تیاری

    کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی تیاری

    وفاقی حکومت نے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی تیاری شروع کر دی جس کے تحت آئندہ صرف مخصوص مستحق افراد ہی رعایت کے اہل ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے اور نئی پالیسی کے تحت ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے تمام صارفین کو دی جانے والی عمومی سبسڈی مرحلہ وار ختم کی جائے گی یکم جنوری 2027 سے صرف وہی گھرانے رعایت حاصل کر سکیں گے جو حکومت کی مقرر کردہ مالی شرائط پر پورا اتریں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ اقدام عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط کے مطابق کیا جا رہا ہے تاکہ سبسڈی صرف کم آمدنی والے اور مستحق طبقے تک محدود رکھی جا سکےمجوزہ پالیسی کے تحت بجلی، گیس اور آٹے جیسی بنیادی سہولیات پر سبسڈی صرف ان افراد کو دی جائے گی جن کی ماہانہ آمدنی 20 سے 30 ہزار روپے کے درمیان ہو گی نئے نظام میں صارفین کے کوائف کو نادرا کے ریکارڈ سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ مالی حیثیت کی تصدیق کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم متعارف کروانے پر بھی غور جاری ہے اصلاحات نافذ ہونے کے بعد 200 یونٹ تک بجلی پر رعایت صرف ان صارفین کو ملے گی جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ ہوں گے یا حکومت کے مقرر کردہ غربت کے معیار پر پورا اتریں گے۔

  • بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

    ملک بھر میں بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے-1

    ملک بھر کے لیے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں جمع کرا دی گئی ہے،درخواست اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت دی گئی ہے، جو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے نیپرا میں دائر کی گئی،نیپرا نے درخواست پر سماعت 2 جون کو مقرر کر دی ہے، جس کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

  • خیبرپختونخوا حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کردیا

    خیبرپختونخوا حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کردیا

    خیبرپختونخوا میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے نافذ کیا گیا اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی توانائی صورتحال کے پیش نظر جو پابندیاں لگائی گئی تھیں، وہ اب ختم کردی گئی ہیں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران مارکیٹیں، دکانیں اور تجارتی مراکز رات 8 بجے بند کرنے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک بند کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے یہ نظام عارضی طور پر نافذ کیا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے رابطہ کر کے اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کی سفارش کی تھی،صوبائی حکومت نے کاروباری سرگرمیوں اور مارکیٹوں کے اوقات کار سے متعلق تمام پابندیاں فوری طور پر معطل کرتے ہوئے انہیں تاحکم ثانی ختم کردیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے شہریوں، تاجروں، مارکیٹ مالکان، پلازہ مالکان، شادی ہالز، ریسٹورنٹس، صنعتکاروں اور سرکاری دفاتر سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بجلی کی بچت کے اقدامات جاری رکھیں اس کے ساتھ غیر ضروری اور آرائشی لائٹنگ کے استعمال سے گریز، ائیرکنڈیشنرز کا محتاط استعمال اور بجلی کے غیر ضروری استعمال سے بچنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

  • بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار

    بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار

    وزارتِ توانائی اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے درمیان ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز کا معاہدہ طے پا گیا، جس کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

    سرکاری میڈیا رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں قریباً ایک کروڑ بجلی صارفین کو اسمارٹ میٹرز فراہم کیے جائیں گے،حکام کے مطابق اس اقدام سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے جبکہ توانائی کے شعبے کو ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے وژن کے تحت بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جو پاور سیکٹر اصلاحات کا حصہ ہے، ان اصلاحات کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، بجلی چوری میں کمی لانا اور بلنگ میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مسابقتی عمل کے ذریعے اسمارٹ میٹرز کی لاگت میں قریباً 40 فیصد کمی حاصل کی گئی ہے نئے بجلی کنکشنز کے لیے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ روایتی میٹرز کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔

    حکام کے مطابق موجودہ تھری فیز، کمرشل اور صنعتی کنکشنز کو بھی مرحلہ وار اسمارٹ میٹرز میں تبدیل کیا جائے گا نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی منظوری کے بعد خراب میٹروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کو مزید تیز کردیا گیا ہےاسمارٹ میٹرز کے اجرا سےریکوری میں بہتری، لائن لا سز میں کمی اور مجموعی کارکردگی میں اضافہ متوقع ہے،یہ اقدام پاور سیکٹر کی مالی صورتحال کو مستحکم کرنے اور شفافیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • پنجاب میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ

    پنجاب میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ

    پنجاب بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق ملک بھر کی تمام ڈسکوز میں بجلی کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے اور بجلی کا اوسط شارٹ فال ساڑھے 3 ہزار میگاواٹ سے بھی بڑھ گیا ہے، لاہور سمیت پنجاب بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہورہا ہے اور لیسکو میں شارٹ فال ایک ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہوگیا ہے۔

    ذرائع این ٹی ڈی سی کے مطابق آر ایل این جی ہائیڈرو اور آئل کی قلت کے باعث زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، جان بوجھ کر لوڈشیڈنگ کا شیڈول نہ دینا غیراعلانیہ بندش کا باعث بن رہا ہے 2کی بجائے 6،6 گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے اور یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔