Baaghi TV

Tag: بجلی

  • چین نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا

    چین نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا

    چین میں شمسی توانائی کے فارمز نے تنصیب شدہ بجلی کی صلاحیت کے لحاظ سے کوئلے کے پلانٹس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق جولائی میں شمسی توانائی کے فارمز نے تنصیب شدہ بجلی کی صلاحیت کے لحاظ سے کوئلے کے پلانٹس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اگرچہ شمسی توانائی کی بجلی کی کل پیداوار اب بھی کوئلے سے کافی کم ہے، لیکن تنصیب شدہ صلاحیت میں یہ برتری ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔

    توانائی کے انتظامیہ کے اعداد و شمار اور سرکاری میڈیا کے مطابق، جولائی کے آخر تک چین کے پاس 1,288 گیگا واٹ (GW) شمسی توانائی کی صلا حیت تھی،جبکہ کوئلے کی صلاحیت 1,285 گیگا واٹ تھی،بجلی کی پیداوار میں شمسی توانائی کا حصہ کم ہے، کیونکہ یہ سورج کی چمک کے بغیر بجلی پیدا نہیں کر سکتی توانائی انتظامیہ نے پہلے بتایا تھا کہ سال کی پہلی چھ ماہی میں بجلی کی آمیزش میں ونڈ اور سولر پاور کا حصہ 24.6 فیصد تھا، جبکہ کوئلہ 49.7 فیصد تھا، یہ پہلا موقع تھا جب کوئلے کا حصہ 50 فیصد سے نیچے آگیا۔

    قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت پہلے ہی کوئلے کی صلاحیت سے تجاوز کر چکی تھی،پچھلے سال مارچ میں، چین کی تنصیب شدہ ونڈ اور سولر پاور پہلی بار کوئلے کے فلیٹ سے تجاوز کر گئی تھی،اگرچہ چین کے مجموعی فلیٹ میں اضافہ جاری ہے، تاہم اس سال چین کی نئی شمسی تنصیبات میں پچھلے سال کے مقا بلے میں کمی آئی ہےاس کی وجہ فکسڈ فیڈ ان ٹیرف سے مارکیٹ پر مبنی قیمتوں میں تبدیلی ہے۔

  • بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

    بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

    حکومت نے اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کااجلاس ہوا،اجلاس میں، اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،متعلقہ حکام کو آئندہ ہفتے کے آغاز تک مشاورتی عمل مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی، جس کے بعد کمیٹی نجکاری سے متعلق آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔

    اجلاس میں اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،کمیٹی نے نجکاری کمیشن کو پاور ڈویژن کے ساتھ جاری مشاورت آئندہ ہفتے کے آغاز تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کی جانب سے مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد کابینہ کمیٹی نجکاری کے حوالے سے آئندہ فیصلہ کرے گی۔

    اجلاس کے دوران نجکاری پروگرام کا دائرہ وسیع کرنے اور مزید سرکاری اداروں کو پروگرام میں شامل کرنے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں،کمیٹی نے نجکاری ڈویژن کی سفارشات میں ترامیم کے ساتھ ان تجاویز کی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ نجکاری کمیشن کے بجٹ کی بھی ترامیم کے ساتھ منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں سالانہ نجکاری پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا اور نجکاری کے آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیاانہوں نے مختلف وزارتوں اور محکموں کے درمیان بروقت اور مؤثر رابطہ یقینی بنانے پر بھی زور دیا،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری حکومت کے وسیع تر نجکاری پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، مالی بوجھ کم کرنا اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے خدمات کے معیار میں بہتری لانا ہے۔

    اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے متعلق موجودہ پیش رفت میں مشاورتی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد نجکاری کے اگلے مراحل طے کیے جائیں گے۔

  • ایک ماہ کیلئے بجلی فی یونٹ مہنگی ہو گئی

    ایک ماہ کیلئے بجلی فی یونٹ مہنگی ہو گئی

    نیپرا نے ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بجلی 33 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی-

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 33 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق اس اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین سمیت تمام متعلقہ بجلی صارفین پر ہوگا، جبکہ اضافی چارجز رواں ماہ جولائی کے بجلی کے بلوں میں وصول کیے جائیں گے۔

    اس سے قبل سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مئی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا کو بھجوائی تھی، تاہم اتھارٹی نے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد 33 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی۔

  • بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان

    بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان

    بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان ہے-

    سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے مئی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دائر کر دی،نیپرا میں درخواست منظور ہونے کی صورت میں ملک بھر کے صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

    سی پی پی اے کے مطابق مئی کے دوران ملک میں 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ جبکہ بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی، اس کے مقابلے میں مئی کے لیے ابتدائی فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا تھا، جس کے باعث 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی گئی، مئی میں بجلی کی پیداوار کا 33.27 فیصد حصہ ہائیڈل ذرائع سے حاصل کیا گیا، جبکہ 13.54 فیصد درآمدی کوئلے، 11.66 فیصد مقامی کوئلے، 8.31 فیصد مقامی گیس اور 0.16 فیصد فرنس آئل سے بجلی پیدا کی گئی۔

    نیپرا اس درخواست پر منگل کو سماعت کرے گا، جہاں سی پی پی اے کے پیش کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا-

  • بجلی فی یونٹ 82 پیسے مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی فی یونٹ 82 پیسے مہنگی ہونے کا امکان

    مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے-

    سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مئی کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی ہے اگر درخواست من و عن منظور کر لی گئی تو بجلی صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    درخواست کے مطابق مئی کے دوران 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی،اس کے مقابلے میں فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے لگایا گیا تھا، جس کے باعث اضافی لاگت صارفین سے وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    سی پی پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں سب سے زیادہ 33.27 فیصد بجلی پانی سے پیدا کی گئی مقامی کوئلے سے 11.66 فیصد، درآمدی کوئلے سے 13.54 فیصد اور فرنس آئل سے 0.16 فیصد بجلی پیدا ہوئی اسی طرح مقامی گیس سے 8.31 فیصد جبکہ درآمدی ایل این جی سے 11.81 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جوہری ایندھن سے 14.25 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

    نیپرا سی پی پی اے کی درخواست پر 30 جون کو سماعت کرے گا، جس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافے یا عدم اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

  • نیپرا کا ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان

    نیپرا کا ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان

    ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، یہ فیصلہ بجلی حکومتی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

    نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں یہ کمی جنوری تا مارچ 2026 کی سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے، جبکہ اس کا اطلاق جون سے اگست 2026 تک تین ماہ کے لیے ہوگا اس ریلیف کا اطلاق ملک بھر کے تمام صارفین پر ہوگا، جس میں کے الیکٹرک کے صارفین بھی شامل ہیں۔

    بجلی کی قیمت میں کمی کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 67 ارب 17 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ریلیف ملے گا، یہ اقدام سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین پر بجلی کی لاگت کا بوجھ کم کرنا ہے۔

  • بجلی فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

    ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔

    بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے،بجلی کی قیمت میں اضافے کی صورت میں اطلاق کے الیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز کے صارفین پر ہو گا۔

    سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

    حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔

    سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

  • کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی تیاری

    کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی تیاری

    وفاقی حکومت نے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی تیاری شروع کر دی جس کے تحت آئندہ صرف مخصوص مستحق افراد ہی رعایت کے اہل ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے اور نئی پالیسی کے تحت ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے تمام صارفین کو دی جانے والی عمومی سبسڈی مرحلہ وار ختم کی جائے گی یکم جنوری 2027 سے صرف وہی گھرانے رعایت حاصل کر سکیں گے جو حکومت کی مقرر کردہ مالی شرائط پر پورا اتریں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ اقدام عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط کے مطابق کیا جا رہا ہے تاکہ سبسڈی صرف کم آمدنی والے اور مستحق طبقے تک محدود رکھی جا سکےمجوزہ پالیسی کے تحت بجلی، گیس اور آٹے جیسی بنیادی سہولیات پر سبسڈی صرف ان افراد کو دی جائے گی جن کی ماہانہ آمدنی 20 سے 30 ہزار روپے کے درمیان ہو گی نئے نظام میں صارفین کے کوائف کو نادرا کے ریکارڈ سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ مالی حیثیت کی تصدیق کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم متعارف کروانے پر بھی غور جاری ہے اصلاحات نافذ ہونے کے بعد 200 یونٹ تک بجلی پر رعایت صرف ان صارفین کو ملے گی جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ ہوں گے یا حکومت کے مقرر کردہ غربت کے معیار پر پورا اتریں گے۔

  • بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

    ملک بھر میں بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے-1

    ملک بھر کے لیے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں جمع کرا دی گئی ہے،درخواست اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت دی گئی ہے، جو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے نیپرا میں دائر کی گئی،نیپرا نے درخواست پر سماعت 2 جون کو مقرر کر دی ہے، جس کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

  • خیبرپختونخوا حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کردیا

    خیبرپختونخوا حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کردیا

    خیبرپختونخوا میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے نافذ کیا گیا اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی توانائی صورتحال کے پیش نظر جو پابندیاں لگائی گئی تھیں، وہ اب ختم کردی گئی ہیں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران مارکیٹیں، دکانیں اور تجارتی مراکز رات 8 بجے بند کرنے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک بند کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے یہ نظام عارضی طور پر نافذ کیا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے رابطہ کر کے اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کی سفارش کی تھی،صوبائی حکومت نے کاروباری سرگرمیوں اور مارکیٹوں کے اوقات کار سے متعلق تمام پابندیاں فوری طور پر معطل کرتے ہوئے انہیں تاحکم ثانی ختم کردیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے شہریوں، تاجروں، مارکیٹ مالکان، پلازہ مالکان، شادی ہالز، ریسٹورنٹس، صنعتکاروں اور سرکاری دفاتر سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بجلی کی بچت کے اقدامات جاری رکھیں اس کے ساتھ غیر ضروری اور آرائشی لائٹنگ کے استعمال سے گریز، ائیرکنڈیشنرز کا محتاط استعمال اور بجلی کے غیر ضروری استعمال سے بچنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔