مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے-
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مئی کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی ہے اگر درخواست من و عن منظور کر لی گئی تو بجلی صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
درخواست کے مطابق مئی کے دوران 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی،اس کے مقابلے میں فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے لگایا گیا تھا، جس کے باعث اضافی لاگت صارفین سے وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سی پی پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں سب سے زیادہ 33.27 فیصد بجلی پانی سے پیدا کی گئی مقامی کوئلے سے 11.66 فیصد، درآمدی کوئلے سے 13.54 فیصد اور فرنس آئل سے 0.16 فیصد بجلی پیدا ہوئی اسی طرح مقامی گیس سے 8.31 فیصد جبکہ درآمدی ایل این جی سے 11.81 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جوہری ایندھن سے 14.25 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
نیپرا سی پی پی اے کی درخواست پر 30 جون کو سماعت کرے گا، جس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافے یا عدم اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
