Baaghi TV

Tag: بجلی

  • بادلوں کیساتھ دھند کا سلسلہ جاری

    بادلوں کیساتھ دھند کا سلسلہ جاری

    قصور
    شدید دھند و بادلوں کا سلسلہ جاری،سردی کی شدت میں اضافہ،واپڈا کی طرف سے بجلی کی آنکھ مچولی جاری
    تفصیلات کے مطابق قصور میں شدید دھند کیساتھ بادلوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں سخت اضافہ ہو گیا ہے دھند کے باعث گرڈ اسٹیشن ٹرپ کرنے سے بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے
    ساتھ ہی گیس صارفین بھی پریشر کم ہونے کے باعث پریشان ہیں اور مجبورا ایل پی جی گیس استعمال کرنے پر مجبور ہیں

  • رشوت خور واپڈا ،نصف صدی پرانی تاریں

    رشوت خور واپڈا ،نصف صدی پرانی تاریں

    قصور
    لیسکو قصور لوگوں کیلئے عذاب رشوت ستانی کام چوری اور ہٹ دھرمی میں سب سے آگے نصف صدی پرانی تاریں بار بار جوڑ لگا کر دل کو تسلی دینا وطیرہ بنا لیا بوسیدہ تاریں لوگوں کے سروں پر لٹکتی موت
    تفصیلات کے مطابق قصور واپڈا ضلع بھر کے سب محکموں میں سے سب سے زیادہ کرپٹ کام چور اور ہڈ حرام ہے نصف صدی پرانی بجلی کی تاریں بار بار جوڑ لگا کر اپنے اور لوگوں کے دلوں کو تسلی دیتے ہیں اور نئی تاریں بیچ کر کھا جاتے ہیں قصور کے نواحی گاؤں کھارا میں 2 دن قبل بجلی کی ایک تار گر گئی جو کہ ہر گرمیوں میں گرتی ہے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نا ہوا جسے واپڈا اہلکاران حسب عادت جوڑ لگا کر چلتے بنے وہی تار آج صبح 6 بجے پھر گر گئی جو کہ سپارہ پڑھنے جانے والے بچوں کے بلکل قریب ہی گری تاہم خوش قسمتی سے بچے محفوظ رہے واضع رہے یہ تاریں نصف صدی پرانی ہیں اور اس پورے گاؤں میں 25 کے قریب ٹرانسفارمر ہیں اور سارے گاؤں کی تاریں نصف صدی پرانی ہیں جنہیں ٹوٹنے پر جوڑ لگا کر مرمت کیا جاتا ہے بدلا نہیں جاتا مگر کاغذات میں راشی محکمہ درجنوں بار ان تاروں کے پیسے کھا چکا ہے
    لوگوں نے وزیراعلی پنجاب اور چیئرمین واپڈا سے نوٹس لے کر بجلی کی بوسیدہ لائن کو تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ کوئی جانی نقصان نا ہو

  • اوکاڑہ کے گرد و نواح میں تیز آندھی شدید بارش، بجلی کے پول ٹوٹ گئے

    اوکاڑہ کے گرد و نواح میں تیز آندھی شدید بارش، بجلی کے پول ٹوٹ گئے

    اوکاڑہ(نامہ نگار) اوکاڑہ کے گرد و نواح میں تیز آندھی اور شدید بارش ہوئی۔ نواحی علاقے نول پلاٹ میں تیز آندھی کیوجہ سے بجلی کے مین پول ٹوٹ گئے جسکے باعث غوث فیڈر کی بجلی معطل ہوگئی۔ بجلی کے مین پول دربار بالا پیر کے قریب گرے ہیں۔ واپڈہ حکام کے مطابق مرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں بعض علاقوں میں موسم خوشگوار رہا اور گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے۔

  • آئی پی پیز کی مہنگی بجلی از عدنان عادل

    بجلی بنانے کی نجی کمپنیاں عرف عام میںآئی پی پیز کہلاتی ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی کے وسط میںبے نظیر بھٹوکے دوسرے دور حکومت میں ان کا ڈول ڈالا گیا۔ مقصد تھا کہ نجی شعبہ خاص طور سے بیرونی سرمایہ کار بجلی بنانے کے منصوبے لگائیں تاکہ ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔کہا گیا کہ حکومت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں کہ وہ اربوں روپے سے یہ منصوبے لگائے۔ اس وقت کے حکمرانوں نے بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے جن کی شرائط کا زیادہ تر فائدہ نجی کمپنی کو تھا‘ بجلی خریدنے والے سرکاری ادارہ اور صارفین کو نہیں۔ ایک تو نجی کمپنیوں کو حکومت نے یہ ضمانت دی کہ وہ ہر حال میں ان کی بجلی کی ایک خاص مقدار کی قیمت لازمی طور پر ادا کرے گی خواہ استعمال کرے یا نہ کرے۔ یہ ضمانت اس لیے دی گئی کہ بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کار اربوں روپے لگاتا ہے۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں سرمایہ نہیں لگا سکتا کہ اس کی بنائی ہوئی چیز منڈی میں فروخت ہو یا نہ ہو۔ دوسرے‘ان کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا جو نرخ (ٹیرف) مقرر کیاگیا وہ بہت زیادہ تھا۔ اس معاملہ پراسو قت ماہرین نے بہت شورمچایا لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہوگئی۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ مہنگی۔ اس مہنگی بجلی کے باعث ملک میں کارخانے چلانا مشکل ہوتا چلا گیا کیونکہ مال بنانے پر لاگت دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہوگئی۔

    بے نظیر بھٹو دور میں کیے گئے معاہدوں کی عمر پچیس سے تیس سال تھی۔اب یہ منصوبے عوام کا خون چوس کراور صنعتوں کوتباہ و برباد کرنے کے بعد اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں۔انیس سو ستانوے میں نواز شریف کی دوسری حکومت آئی تو انہوں نے سرکاری پلانٹ جیسے کوٹ ادو پاور پلانٹ بھی نجی شعبہ کو اونے پونے داموں‘ قسطوں پر فروخت کردیے۔اور ان ہی سے مہنگے داموں بجلی خریدنے کے معاہدے بھی کرلیے۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے آئی پی پیز کی ایک نئی پالیسی دی۔ توقع تھی کہ اس بار ملکی مفاد کے پیش نظر بہتر پالیسی دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہُوا۔ اس دور میںبھی نجی شعبہ میں بجلی بنانے کے جو معاہدے ہُوے ان میں کم و بیش وہی شرائط تھیں جو ماضی میں تھیں۔ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو پھر انہوں نے ایک اورنئی آئی پی پی پالیسی دی۔ اسکے تحت چینی سرمایہ کاروں نے بھی کوئلہ اور ایل این جی (قدرتی گیس) سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے۔ چین ہمارا دوست ملک ہے۔ اس سے ہمارے تزویراتی (اسٹریٹجک) تعلقات ہیں۔ان منصوبوں کی لاگت اور ان کے زیادہ نرخوں پر بات کرنا ایک حساس معاملہ ہے۔ایف آئی اے نے آئی پی پیز پر جو تحقیقات کی ہیں ان میں ان کی ہوش رُبا منافع خوری سامنے آئی ہے۔ یہ درست ہے کہ آئی پی پیز نے پاکستانی قوم کو ہزاروں ارب روپے کا چونا لگایا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کمپنیوںنے جو بھی مال سمیٹا ہے اُسکی اجازت انہیں قانونی معاہدوں کے تحت دی گئی۔ یہ توپا لیسی بنانے والوں کی نااہلی ہے یا بدنیتی ہے کہ انہوں نے ایسے یکطرفہ عہد نامے بنائے جن سے بجلی کے صارفین کو نقصان ہوا۔

    پہلی گڑ بڑ تو ان کمپنیوں نے پلانٹ لگانے کی قیمتوں میں کی۔فرض کیجیے کہ ایک پلانٹ اگر ایک سو روپے میں لگتا ہے تو اسکی قیمت سوا سو روپے یا ڈیڑھ سو روپے ظاہر کی اور نیپرا(بجلی کا نرخ مقرر کرنے کا ریگولیٹری ادارہ) نے اسے قبول کرلیا۔ دوسرے‘ بجلی کے پلانٹ بنانے والی کمپنیاںجیسے جنرل الیکٹرک وغیرہ احتیاط کے طور پر اپنے پلانٹ کی ایفی شنسی(یعنی یہ مشینری کتنے تیل سے کتنی بجلی بنائے گی ) اصل سے کم رکھتی ہیں تاکہ اگر کوئی اونچ نیچ ہو تو انہیں بعد میںجرمانہ ادا نہ کرنا پڑے۔ اسکا فائدہ بھی آئی پی پیز نے اٹھایا۔ اگر ایک پلانٹ ایک سو لیٹر تیل یا اسکے برابر گیس سے بجلی بنارہا تھا تو دستاویزات میں سوا سو لیٹر بتایا گیا ۔نیپرانے بجلی کا نرخ بھی سوا سو لیٹر پر مقرر کیا۔یوں اس کمپنی کوحقیقت میں پچیس لیٹر تیل کی بچت ہورہی تھی ۔ظاہر ہے اس کام میں بہت بڑی مقدار میں تیل استعمال ہوتا ہے تو یہ فرق کروڑوں روپے سالانہ میں جا پہنچتا ہے۔ زیادہ تر آئی پی پیز نے پاکستانی عوام کاخون چوس کر اسطرح لمبا چوڑا مال بنایا ۔بجلی بنانے والے پلانٹ میں تیل کی اصل کھپت اوردستاویزات میں ظاہر کردہ کھپت کے فرق کو مدّنظر رکھے بغیر بجلی کا نرخ مقرر کرنا نیپرا کی نالائقی ہے۔

    اب تک آئی پی پیز کے جو معاہدے ہوئے وہ ہماری بدقسمتی ہے۔ لیکن ماضی میںجو ہونا تھا ‘سو ہوگیا۔ اب حکومت ان پر انکوائری کروا کر ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت پاکستان کی ضمانت کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت ان کی خلاف ورزی کرے یا اُن کوقانونی جواز کے بغیر منسوخ کرے تو یہ کمپنیاں نہ صرف پاکستانی عدالتوںسے رجوع کرسکتی ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تصفیہ کے عالمی ادارہ میں بھی جاسکتی ہیں۔اس سے پہلے پاکستان حکومت عالمی ادارہ میںریکوڈک کا مقدمہ اور ترکی کی بجلی بنانے کی کمپنی’ کارکے ‘کا دائر مقدمہ ہار چکی ہے اور اسے اربوں ڈالر کے بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔ اب اگر ان معاہدوں کو یکطرفہ طور پر چھیڑا گیا تو یہ کمپنیاں عدالت میںچلی جائیں گی جہاں حکومت کا مقدمہ جیتنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ بیرونی اور نجی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ اس معاملہ کا حل یہی ہے کہ حکومت ان کمپنیوں سے بات چیت کے ذریعے معاہدوں پر نظر ثانی کرلے اور تیل کی اصل کھپت کو سامنے رکھ کر بجلی کے نرخ آئندہ کے لیے کم کروالے۔ اگر ایسا ہوسکے تو عوام کے لیے یہ بھی بڑا ریلیف ہوگا۔
    عدنان عادل

  • رات 9 بجے سے تاحال بجلی بند پورا محکمہ چھٹی پر

    رات 9 بجے سے تاحال بجلی بند پورا محکمہ چھٹی پر

    قصور بیشتر علاقوں میں رات 9 بجے سے بجلی بند لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے لیسکو کے افسران و کمپلین سنٹرز کے نمبرز بند
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح کے اکثر دیہات میں رات 9 بجے سے بجلی بند ہے جو کہ تاحال بند ہی ہے جس سے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں جبکہ کاروباری حضرات اپنے کاموں سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں کل رات سے قصور کے بیشتر محلوں کے علاوہ،موضع کھارا،اوراڑہ نو و کلاں ،اٹھیل پور،کلے والا ،نول و دیگر گاؤں دیہات میں بجلی بند ہے
    لوگوں نے لیسکو قصور کے افسران و کمپلین سنٹرز کے نمبرز ملائے ہیں مگر اکثر نمبر بزی جا رہے ہیں اور جو ملتے ہیں انہیں کوئی اٹینڈ نہیں کر رہا

  • 30 سے 40 سال پرانے کھمبے حادثے کا سبب

    30 سے 40 سال پرانے کھمبے حادثے کا سبب

    قصور
    شہر اور گردونواح کے دیہات میں لگے بجلی کے کھمبے لوگوں کیلئے موت کا پروانہ 3 سے 4 دہائیاں پرانے کھمبے کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں
    تفصیلات کے مطابق قصور شہر اور گردو و نواح کے دیہات میں لگے ہزاروں میں سے سینکڑوں بجلی کے کھمبے لوگوں کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں 30 سے 40 سال پرانے کھمبے اپنی مدت پوری کر چکے ہیں بعض سیمنٹ کے کھمبے تو بلکل ٹوٹ چکے ہیں جبکہ لوہے کے کھمبے زنگ آلود ہو کر گل چکے ہیں جن میں سے بیشتر کو شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بانس و لکڑی کے سہارے سے کھڑا کیا ہوا ہے خدانخواستہ اگر کوئی کھمبا گرے تو بہت بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے حالانکہ لوگوں نے کئی بار لیسکو قصور کے حکام کو بتایا بھی ہے مگر لیسکو اہلکاران کے کان پر جو تک
    نہیں رینگی
    شہریوں نے ڈی سی قصور اور ایس ای لیسکو قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ ان پرانے بوسیدہ کھمبوں کی جگہ نئے کھمبے لگائے جائیں تاکہ لوگ حادثے سے بچ سکیں

  • پاکستان کا فرانس کے ساتھ بڑا معاہدہ طے پاگیا

    پاکستان کا فرانس کے ساتھ بڑا معاہدہ طے پاگیا

    اسلام آباد:حکومت پاکستان کا فرانس کیساتھ بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے 50.2 میلن یورو کا معاہدہ طے پا گیا ، اس منصوبے کے تحت درگئی اور چترال کے ہائڈرو پاور پلانٹس کی بحالی اور ان کی قوت پیداوار کو بڑھانے کیلئے کام کیا جائے گا ،
    تفصیلات کے مطابق سیکرٹری اکنامک افیئرز ڈویژن نور احمد سے فرانس کے سفیر مارک بیرٹی نے ملاقات کی اور چترال اور مالا کنڈ کے ہائڈرو پاورپروجیکٹس کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے منصوبے پردستحط کیے گئے،
    یادرہے کہ درگئی اور چترال کے پاور پلانٹس گرین انرجی کا بہترین سورس ہیں اور ان سے علاقہ مکینوں کو سستی بجلی مہیا کی جا رہی ہے اور اگران پراجیکٹس کی بحالی کا منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوگیا تو نہ صرف قوت پیداوارمیں اضافہ ہوگا بلکہ علاقے میں ترقی کے نئے راستے بھی کھلیں گے