Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • نئے سال کے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے،مراد علی شاہ

    نئے سال کے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے،مراد علی شاہ

    سندھ کابینہ نے نئے مالی سال 27-2026ء کے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی، سندھ کے مالی سال 27-2026ء کے لیے 2.7 ٹریلین روپے سے زائد بجٹ تخمینے کا امکان ہے۔

    صوبائی کابینہ کے اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نئے سال کے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے سندھ حکومت بلاول بھٹو کی ہدایت پر غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے محنت کشوں کے لیے کم از کم اجرت کا بھی نئے بجٹ میں فیصلہ کیا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ آج سہ پہر سندھ اسمبلی میںے 3,500 ارب روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ پیش کریں گے ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں صوبائی ترقیاتی بجٹ میں 298 ارب روپے کی بڑی کٹوتی جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ میں 418 ارب روپے کے نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، غیر ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 2,142 ارب روپے سے 2,560 ارب روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا بڑا حصہ تنخواہوں، پنشن اور دیگر جاری اخراجات پر مشتمل ہوگا۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق ضلعی ترقیاتی بجٹ کو 55 ارب روپے سے کم کرکے 15 ارب روپے تک محدود کرنے کی تجویز ہے، جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی پروگرام کو 520 ارب روپے سے کم کرکے 385 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہےنئے مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 3715 ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں، تاہم ترقیاتی اخراجات میں کمی کے باوجود مختلف شعبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ بلدیات اور کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے 99 ارب 76 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 7 ارب 94 کروڑ روپے، صحت کے لیے 17 ارب 43 کروڑ روپے اور تعلیم کے مختلف منصوبوں کے لیے 25 ارب 86 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    آبپاشی کے لیے 30 ارب 80 کروڑ روپے، ورکس اینڈ سروسز کے لیے 31 ارب 59 کروڑ روپے اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40 ارب 86 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے تعلیمی شعبے میں اسکول ایجوکیشن کے 404 منصوبوں کے لیے 13 ارب 95 کروڑ روپے، کالج ایجوکیشن کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے اور جامعات و تعلیمی بورڈز کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں کچے کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے جبکہ خصوصی افراد کے محکمے کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، اسی طرح ایس ڈی جی میگا اسکیموں کے لیے تقریباً 29 ارب 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 8 فیصد اضافے جبکہ کم از کم اجرت میں 20 فیصد اضافہ بھی زیر غور ہے۔

    سندھ اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث 5 روز تک جاری رہے گی، جبکہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بجٹ تقریر میں رواں مالی سال کی کارکردگی اور حکومتی ترجیحات پر روشنی ڈالیں گے-

  • پنجاب کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی

    پنجاب کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی،جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے بجٹ دستاویز پر دستخط کر دیے۔

    بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چیف سیکریٹری سمیت صوبائی وزرا کی کارکردگی کو سراہا،انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک یونٹ بن کر کام کیا اور بجٹ کی تیاری میں غیر معمولی محنت کا مظاہرہ کیا وفاق کو حصہ دینے کی مد میں بڑی رقم کی ادائیگی کے باعث مالی دباؤ ضرور آیا، تاہم حکومت نے بھرپور کوشش کی کہ اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہ ہو مالی مسائل اور عالمی حالات کے باوجود ایسا بجٹ تیار کیا گیا ہے جو عوامی خوشحالی اور ترقی پر مرکوز ہے اورمالی مسائل اور عالمی حالات کے باوجود کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے بجٹ کا بنیادی مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنا ہے امیدہے کہ حکومت گزشتہ برسوں کی طرح عوام کی توقعات پر پورا اترے گی، انہوں نے پنجاب ریونیو اتھارٹی کو ریونیو بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی یہ امید کا بجٹ ہے اور حکومت اپنے وسائل سے عوام کو مزید ریلیف فراہم کرے گی، واضح رہے کہ صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان آج پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کا مجموعی بجٹ 5850 ارب روپے سے زائد جبکہ ترقیاتی بجٹ 752 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے تاہم حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق ہوگاپنجاب کو این ایف سی کے تحت قابل تقسیم محاصل سے 3793 ارب 70 کروڑ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ صوبائی محصولات کی مد میں 1330 ارب روپے آمدن متوقع ہےذرائع کے مطابق پنجاب حکومت وفاق کو 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دے چکی ہے، جس کے باعث ترقیاتی بجٹ کا حجم مجموعی بجٹ کا تقریباً 47 فیصد رہ جائے گا۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق تنخواہوں کیلئے 650 ارب روپے، پنشن کیلئے 505 ارب 80 کروڑ روپے اور پنجاب فنانس کمیشن کیلئے 800 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سماجی تحفظ کیلئے 25 ارب روپے، ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 150 ارب روپے اور سبسڈی کی مد میں 80 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا امکان ہے صحت کے شعبے کیلئے 680 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ رکھا گیا ہے جبکہ مفت ادویات کیلئے 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کینسر اور فالج کے مریضوں کیلئے ادویات کی فراہمی کیلئے بھی خصوصی فنڈز رکھے جائیں گے۔

    تعلیم کے شعبے کیلئے 900 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، بجٹ میں طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ، الیکٹرک اسکوٹیز اور سائیکل اسکیمیں شامل ہیں، جبکہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کیلئے 20 ارب روپے سے زائد رکھنے کا تخمینہ ہے پرواز کارڈ کیلئے 7 ارب روپے، کسان کارڈ کیلئے 10 ارب روپے، جبکہ ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کیلئے مجموعی طور پر 3 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ رمضان پیکیج کیلئے 35 ارب روپے اور یونیورسٹی گرانٹس کیلئے 18 ارب روپے رکھنے کا امکان ہے۔

    بجٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو اولین ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ان منصوبوں کیلئے 200 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، آئندہ بجٹ میں مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

    اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب ، وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • مالی سال 2026-27 کا بجٹ آج پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

    مالی سال 2026-27 کا بجٹ آج پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

    پنجاب حکومت مالی سال 2026-27 کا بجٹ آج 2 بجے پنجاب اسمبلی میں پیش کرے گی۔

    پنجاب اسمبلی کا 43 واں بجٹ اجلاس 16 جون بروز منگل دوپہر 2 بجے منعقد ہوگا جس کی صدارت اسپیکر ملک محمد احمد خان کریں گے ،اجلاس میں آئندہ مالی سال کا اہم بجٹ پیش کیا جائے گا جس میں ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اخراجات کے نئے اہداف مقرر کیے جائیں گے۔

    بجٹ کا مجوزہ حجم 5 ہزار 131 ارب روپے ہو گا، بجٹ میں تنخواہوں کیلئے 650 ارب، پنشن کیلئے 505 ارب 80 کروڑ مختص ہوں گے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق ہوگا، مزدور کی ماہانہ اُجرت میں بھی اضافہ متوقع ہےبجٹ میں تعلیم کیلئے 900 ارب سے زائد، صحت کیلئے 680 ارب کے حجم کا تخمینہ لگایا گیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شروع کردہ تمام منصوبوں کی فنڈنگ میں اضافہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز ہے-

  • بجٹ پر مثبت ردعمل آیا  آئندہ مالی سال میں مزید معاشی بہتری کی توقعات ہیں، محمد اورنگزیب

    بجٹ پر مثبت ردعمل آیا آئندہ مالی سال میں مزید معاشی بہتری کی توقعات ہیں، محمد اورنگزیب

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ ایران امریکا جنگ بندی میں نمایاں کردار پاکستان کے لیے قابل فخر بات ہے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل پر امریکا اور ایران کی قیادت نے اعتماد کیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گونگ تقریب سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل، مخلصانہ اور انتھک ثالثی کوششوں نے معاہدے کو حتمی مرحلے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیامفاہمتی یادداشت پر دستخط کے اعلان سے نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کے لیے بھی مثبت معاشی امکانات پیدا ہوئے ہیں،ایران امریکا جنگ بندی معاہدے پر آئندہ جمعہ کو دستخط ہوں گے گزشتہ 3 ماہ سے پاکستان اس معاہدے کی تگ دو کر رہا تھا۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ پیش ہوچکا ہے اور پارلیمنٹ میں اس پر بحث جاری ہے بجٹ نے سفر کی درست سمت کی نشاندہی کر دی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کیسے ہو گی بجٹ کے حوالے سے مثبت ردعمل آیا آئندہ مالی سال میں مزید معاشی بہتری کی توقعات ہیں گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان نے تنازع کے ابتدائی معاشی اثرات کو مؤثر انداز میں سنبھالا، جبکہ امن معاہدہ ممکنہ ثانوی معاشی اثرات کے خدشات کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے ہال میں سرمایہ کاروں کا اعتماد گونج رہا ہےاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مضبوط کارکردگی اور سرمایہ کاروں، خصوصاً نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو معیشت پر اعتماد کا مظہر قرار دیا بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران ملک میں 11 آئی پی اوز ہوئے، جو قریباً 2 دہائیوں کی بلند ترین سطح ہے سروس لانگ مارچ ٹائرز کا پروجیکٹ اس وقت پنپ رہا تھا جب دنیا بھر میں کورونا کے سبب معاشی دباؤ تھا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے چین کے دورے کے دوران سی پیک بی ٹو بی ہو گیا ہے پاکستان اور چین کے درمیان بی ٹو بی تعلقات میں روز بروز بہتری آرہی ہےپاکستان جیسا منافع دنیا کے کسی ملک کی اسٹاک مارکیٹ میں نہیں ہے،سی پیک کے اگلے مرحلے میں کاروباری اداروں کے درمیان روابط کلیدی اہمیت کے حامل ہوں گے اور سروس لانگ مارچ اس کی ایک نمایاں مثال ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سرمایہ کاری، سرمایہ منڈیوں کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو پاکستان اسٹاک ایکسچینج فرخ سبزواری نے کہا کہ معاشی دباؤ کے باوجود وزیر خزانہ نے ایک مثبت بجٹ پیش کیا ہے، جس میں سپر ٹیکس کے خاتمے کے ساتھ دیگر کئی ریلیف دیے گئے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ کے بیان ’تیل کو بہنے دو‘ نے عالمی منڈیوں میں تبد یلی رونما کی ہےکمپنی کی لسٹنگ سے چینی سرمایہ کاروں اور باہمی شراکتی کاروباروں کے لیے نئی راہیں کھلیں گی، رواں سال پی ایس ایکس میں جین زی کی جانب سے متعدد نئے اکاؤنٹس کھلوائے گئے ہیں۔

    سروس لانگ مارچ کے سی ای او عمر سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں بہت کم ایسی کمپنیاں ہیں جو خاندانی اقدار اور پیشہ ورانہ مہارت کو اس کامیابی سے یکجا کر پاتی ہیں سروس گروپ کی کمپنیوں کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مجموعی مارکیٹ کیپ 1ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے سروس انڈسٹریز، ایس ایل ایم اور سروس گلوبل کی مشترکہ مارکیٹ کیپ ایک ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے سروس گروپ پاکستان کے کاروباری شعبے میں نئی مثا لیں قائم کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔

  • پنجاب حکومت  5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش کرے گی

    پنجاب حکومت 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش کرے گی

    پنجاب حکومت کل 5131 ارب روپے کا بجٹ پیش کرے گی-

    پنجاب کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 3569 ارب 60 کروڑ روپے ہوگا بجٹ میں تنخواہوں کیلئے 650ارب،پنشن کیلئے 505 ارب 80 کروڑمختص ہیں، سرکار ی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق ہوگا،سماجی تحفظ کیلئے 25 ارب،ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 150 ارب،آپریشنل اخراجا ت کیلئے 580 ارب 20 کروڑ رکھنے کی سفارشات کی گئی ہے، دیگر پروگرام سرمایہ کاری کیلئے 221 ارب 90 کروڑ رکھے جائیں گے۔

    بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں کیلئے 54 ارب رکھنے کی سفارشات،دیگر ترقیاتی و سرمایہ جاتی اخراجات کیلئے 570 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،صحت کےلیے 680 ارب روپےکےمجموعی حجم کا تخمینہ،مفت ادویات کے لیے 100 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ،تعلیم کے لیے پنجا ب حکومت 900 ارب روپے سے زائد کے بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے-

    طلبا کے لیے لیپ ٹاپ ، الیکٹرک سکوٹیز اور سائیکل کی اسکیمیں شامل ہے، طلبہ کے لیے ہونہار اسکالرشپ منصوبہ کے لیے 20 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ،یونیورسٹی گرانٹس کی مد میں 18 ارب روپے کا تخمینہ ہے پرواز کارڈ کے لیےپنجاب حکومت 7 ارب روپے کا تخمینہ ہے،رمضان پیکج کے لیے 35 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کا تخمینہ ہے،سبسڈی کی مد میں 80 ارب روپےسےزائدکا،کسان کارڈ کے لیے 10 ارب روپے ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کے لیے 3 ارب روپے کا تخمینہ ہے-

  • بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان

    بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا ظالمانہ نظام نافذ ہے، بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملتا، صرف نمبرز تبدیل کردیئے جاتے ہیں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کا 0.5 فیصد ہے، جب آپ تعلیم اور صحت کو آؤٹ سورس کر ر ہے ہیں تو کیسے نظام چلے گا، تعلیم کی ایمرجنسی نافذ کر کے بجٹ کم کر دیا ہے، اگر تعلیم پر بجٹ مختص بھی ہے تو خرچ نہیں ہوتا بجٹ میں عوام کو کچھ نہیں ملا، بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے، ایف بی آر اپنا ہدف پورا نہیں کرتا، عام آدمی 60 فیصد ٹیکسز دے رہا ہے، پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنا چاہیے، پی ایس ڈی پی میں ایم این ایز کے فنڈز کو ختم کیا جائے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سرکاری گاڑی 1300سی سی سے زائد کی نہیں ہونی چاہیے، آپ سرکار کی گاڑی 1300 سی سی سے کم کر دیں، آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز ختم کریں، یہ ایف بی آر کے بابو 3400 سی سی گاڑیوں پر گھومیں اور بوجھ عوام پر پڑے؟ اس ملک میں سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہو سکا، 26 ویں ترمیم میں جنہوں نے سود ختم کرنے کی شق ڈلوائی وہ بتائیں پالیسی ریٹ ایک فیصد کیسے بڑھ گیا صرف مفادات کے حصول کے لیے نورا کشتی کی جاتی ہے، بجلی، پیٹرول، گیس کی قیمتوں سے براہ راست عوام کو فرق پڑتا ہے، حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے، بجٹ میں بہت سی رقم اپنی نااہلی چھپانے کے لیے رکھی گئی ہے۔

  • حکومت کا 2 ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا 2 ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے دو پرانے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنا اور ان کی مالی مشکلات میں کمی لانا ہےسال 2022 کا 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور سال 2025 کا 10 فیصد ایڈہاک الاؤنس اب مستقل طور پر بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دیا گیا ہےاس فیصلے سےسرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہو گا جس کے اثرات مستقبل میں ملنے والی مراعات، پنشن اور دیگر الاؤنسز پر بھی مرتب ہوں گے۔

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنسمیں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے یہ فیصلہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور روزمرہ سفری اخراجات میں اضافے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو مالی سہولت فراہم کی جا سکے ان اقدامات سے ملازمین کے معیار زندگی میں بہتر ی آئے گی جبکہ بنیادی تنخواہ بڑھنے کے باعث ہاؤس رینٹ سمیت دیگر مراعات کا حجم بھی خود بخود بڑھ جائے گا حکومت نے اسے موجودہ معاشی حالا ت میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا ہے۔

  • ن لیگ کے وزراء  بلاول بھٹو کو منانے ان کے چیمبر میں پہنچ گئے

    ن لیگ کے وزراء بلاول بھٹو کو منانے ان کے چیمبر میں پہنچ گئے

    ن لیگ کے وزراء چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو منانے ان کے چیمبر میں پہنچ گئے۔

    مسلم لیگ ن کے وزراء اسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو منانے کیلئے ان کے چیمبر پہنچ گئےبلاول بھٹو زرداری نے بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے ،کورم پورا کرنا پیپلزپارٹی کی ذمہ داری نہیں، پیپلزپارٹی کی ٹوکن حاضری ہوگی اراکین کی مرضی ہے اجلاس میں جائیں یا نہ جائیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان معاملے پر حکومت سے سخت نالاں ہے، گلگت بلتستان معاملے پر ن لیگ کا رویہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ٹھیک نہیں۔

    پیپلزپارٹی اراکین کی ایوان میں ٹوکن انٹری ہوگی پیپلزپارٹی اراکین پانی کے مسئلے پر پلے کارڈز کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے شازیہ مری اور دیگر خواتین پلے کارڈز کے ساتھ اسپیکر ڈائس کے پاس جمع ہوئے پیپلزپارٹی کی خواتین اراکین نے سندھی میں نعرے لگائے-

  • وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے،صدر کی وزیراعظم کو ہدایت

    وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے،صدر کی وزیراعظم کو ہدایت

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی، داخلی و علاقائی صورتحال اور دیگر اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرا عظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ بھی موجود تھےملاقات میں سینیٹر شیری رحمان، رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر احد چیمہ بھی شریک تھے، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور اور رکن قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے بھی شرکت کی۔

    ملاقات کے دوران ملکی معیشت، آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ، گلگت بلتستان کے حالیہ انتخا بات، آزاد کشمیر کی صورتحال، امن و اما ن اور دیگر قومی اہمیت کے معاملات پر گفتگو کی گئی بجٹ تجاویز اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے صدر مملکت نے زور دیا کہ وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائےصدر نے ہدایت کی کہ آنے والے بجٹ میں اقتصادی ترقی کی شرح اور عوامی فلاحی منصوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صدرِ مملکت کو اپنے حالیہ دورہ ایران اور علاقائی سطح پر ہونے والے سفارتی رابطوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

  • کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے،شرجیل میمن

    کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پانچ ایم جی ڈی پلانٹس کے منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے-

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک ٹریلین روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں یہ بجٹ عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے وژن کی عکاسی کرتا ہےسندھ حکومت نے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز حیدرآباد اور بینظیرآباد کے لیے سات، سات ارب روپے کے ترقیاتی پیکیجز مختص کیے ہیں تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    سینئر وزیر نے کورنگی کازوے کی تعمیر اور شاہراہِ بھٹو کی توسیع کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور شہری آمدورفت کی سہولت کے لیے یہ منصوبے اہمیت کے حامل ہیں کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پانچ ایم جی ڈی پلانٹس کے منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے، جن سے شہر کے پانی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔