Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • مُلک کےمعاشی حالات ٹھیک نہیں:بجٹ کےبعد حکومت ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت ہوجائے گی:عمران خان

    مُلک کےمعاشی حالات ٹھیک نہیں:بجٹ کےبعد حکومت ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت ہوجائے گی:عمران خان

    اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لگتا ہے طاقتور حلقے جاری سیاسی و معاشی بحران سے پریشان ہو چکے ہیں۔ بجٹ کے بعد حکومت ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت ہو جائے گی۔

    بنی گالہ میں اینکر پرسنز اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران عمران خان نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے، مضبوط قیادت شفاف الیکشن کے ذریعے ہی سامنے آ سکتی ہے، چیری بلاسم اینڈ کمپنی الیکشن کمیشن میں اپنے بندے بٹھا کر دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔ موجودہ بجٹ کو آئی ایم ایف کسی صورت نہیں مانے گا، اس وقت پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر ممالک امداد نہیں کر رہے، عالمی اداروں کو بھی موجودہ حکومت کی نا اہلی کا یقین ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر ممالک کو یقین ہے عوا م اس حکومت کے ساتھ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا انتظار ہے، کوئی بھی یہ نہ سمجھے کہ لانگ مارچ ختم ہو گیا ہے، آنے والے دنوں میں اسلام اباد کارُخ کروں گا، ہم نے بڑی تعدد میں عوام کو سڑکوں پر نکال کر دکھایا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ دیگر بھی اہم تعیناتی کی جا رہی ہیں، پنجاب پولیس میں بھی بڑے پیمانے پر تبادلے ہو رہے ہیں۔ اہم تعیناتیوں، تقرر و تبادلوں کا واحد مقصد الیکشن چوری کی تیاری ہے، ہمیں معاملات کا اندازہ ہے اور مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ نے کہا کہ لگتا ہے طاقتور حلقے جاری سیاسی و معاشی بحران سے پریشان ہو چکے ہیں۔ بجٹ کے بعد لگتا ہے حکومت ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت ہو جائے گی۔ موجودہ سیاسی عدم استحام سے نکلنے کا واحد راستہ عام انتخابات ہیں۔ حکومت کے فسطائی ہتھکنڈوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتخابات کی تاریخ ملنے تک جدوجہد جاری رکھوں گا۔ مسلم لیگ (ن) کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا، صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے انتخابات ہیں، اگر ایسا نہیں ہوتا تو سارا ملبہ نیوٹرلز پرگرے گا۔ ہماری حکومت میں ملک بالکل ٹھیک جارہا تھا اور یہی بات نیوٹرلز کو بھی بتاتے رہے۔ حکومت کی تبدیلی سے بیرونی دنیا کا سارا اعتماد جاتا رہا ہے، وفاقی بجٹ دراصل چند ماہ کا بجٹ دیا ہے ناں کہ ڈیڑھ سال کا، اصل مسئلہ کرنٹ اکاونٹ ڈیفیسٹ کا ہے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت ملک کومعاشی تباہی کی طرف لے کر جا رہی ہے، جولائی سے کمر توڑ مہنگائی کا غریب عوام سامنا کیسے کریں گے۔ حکومت سے نکلنے کے بعد میرے سامنے 2 ہی راستے تھے، طاقتورحلقوں سے معافی مانگ کر پاؤں پکڑتا یا عوام کے پاس جاتا، میں نے دوسرا راستہ اپنایا اورعوام کے پاس گیا، لگ رہا ہے حالات سے پریشان تمام حلقے بحران سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں۔ 3 برس مہنگائی کا رونا رویا جاتا رہا اب ثابت ہو گیا ہے کہ ان میں کوئی اہلیت نہیں ہے۔ ہم پر قرضے لینے کا الزام بھی غلط ہے، ہم نے 52 ارب ڈالر قرضہ لے کر 38 ارب ڈالر واپس کیا۔

  • پنجاب کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور دیہاڑی دار طبقہ کیلئے خوشخبری

    پنجاب کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور دیہاڑی دار طبقہ کیلئے خوشخبری

    پنجاب حکومت 13جون کو آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کرے گی۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23کا صوبائی بجٹ وفاقی طرز کا ہو گا، بجٹ میں مہنگائی پر کنٹرول کے لیے خصوصی امدادی پیکج متعارف کروایا جائے گا،عوام کی قوت خرید میں اضافے کے لیے اشیاء خورونوش کی قیمتیں کنٹرول کی جائیں گی
    ٭

    زرائع کے مطابق لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے توانائی کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا، کم وسیلہ افراد کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں خصوصی رعایت دی جائے گی،پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں کرلگایا جارہا،صوبائی محصولات میں دی گئی رعایت برقرار رکھی جائے گی.

    آٹے کی کم قیمت پر دستیابی کا وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا سہولت پیکج آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا،پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ بلحاط حجم پہلے سے بہتر ہو گا ، بجٹ کا بڑا حصہ ترقیاتی مقاصد کے حصول پر خرچ کیا جائے گا، پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت کی اولین ترجیح سماجی شعبہ کی ترقی اور معیشت کی بحالی ہو گی.

    بجٹ 2022-23 میں تعلیم، صحت، زراعت، مواصلات کے میدان میں کئی اہم اقدامات متعارف کروائے جارہے ہیں ، آئندہ بجٹ میں پائیدار ترقیاتی مقاصد کے حصول کے لیے ضلعی سطح پر عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے گا ، پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ متوازن اور عوام دوست بجٹ ہو گا،پنجاب کا آئندہ بجٹ سرکاری ملازمین اور دیہاڑی دار طبقہ دونوں کے لیے خوشخبری لائے گا۔

    صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑنے کہا کہ پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز بجٹ ہوگا،مالی سال2023۔2022 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا.

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے بجٹ منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کا اجلاس 13 جون کو طلب کرلیا ہے، اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کریں گے، اجلاس میں پنجاب کی کابینہ کے اراکین شریک ہوں گے، اجلاس میں بجٹ کی منظوری دی جائے گی،جلاس میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ اور سالانہ اخراجات کی منظوری لی جائے گی

    پنجاب کا بجٹ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان پیش کریں گے، میاں مجبتی شجاع الرحمان کو وزارت خزانہ کا چارج دیا جائے گا.

  • بجٹ میں نئے ٹیکس ؟ عام شہری کتنے متاثر ہوں گے؟مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    بجٹ میں نئے ٹیکس ؟ عام شہری کتنے متاثر ہوں گے؟مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    لاہور:بجٹ میں نئے ٹیکس ؟ عام شہری کتنے متاثر ہوں گے؟مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی،اطلاعات کے مطابق سینئرصحافی مبشرلقمان نے پاکستان کے اس سال کے بجٹ کے بارے میں حیران کُن انکشافات کیے ہیں وہ کہتے ہیں کہ سچ یہ ہےکہ اس ملک میں غریبوں کے لیے کوئی نہیں سوچتا یہ سب بڑوں کےلیے بجٹ ڈیزائن ہوتے ہیں اور ان بڑوں کو ہی فائدہ پہنچانے کا ایک فن ہے

    بجٹ 2022 تا 2023 موبائل کی درآمد پر بھی 1600 تک لیوی عائد

    انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ پیش کرنے کےبعد حکومتی لوگ کہہ رہے ہیں‌کہ بڑا متوازی بجٹ ہے لیکن اس کا پتہ دو تین ماہ بعد چلے گا جب بجلی اورپٹرول کی قیمتوں کے بڑھ جانے سے غریب پر بوجھ پڑے گا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ تو اپنے کے غریب کے لیے وزیراعطم کے پاس بھی گئے اور کہا کہ تین مرلےمیں رہنے والے کو بجلی مفت دی جائے اوراس کا بوجھ ان لوگوں پر ڈالا جائے جو بڑی بڑی کوٹھیوں اور بنگلوں میں رہتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ المیہ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود اکثرلوگوں کوبجٹ کے بارے میں بھی نہیں پتہ اور نہ ہی کوئی شخص بجٹ کی باریکیوں کے بارے میں جانتا ہے جو کہ اسے جاننا چاہیے

    ‏چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا

    مبشرلقمان نے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ لیوی تیس روپے تک بڑھائی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ پھروہی بات کہ ہرصورت میں غریب مارا جاتا ہے ، ان کا کہنا تھاکہ اگریہ ٹیکس سیگریٹ پر بڑھا دیئے جائیں تو سالانہ اربوں روپے کے ریونیو میں اضافہ ہو اورپھرسگریٹ کی تباہ کاریوں سے بھی شہریوں کو بچایا جائے

    انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن اس کے باوجود زرعی ضروریات پوری نہیں ہورہی ، انہوں نے پانی کےبحران کے متعلق بتایاکہ ملک میں بہت زیادہ رقبے پر گنے کی کاشت کیجاتی ہے جو کہ بہت زیادہ پانی اپنے استعمال میں لاتا ہے ، بہتر یہ تھا کہ کپاس کاشت کی جائے آمدن بھی زیادہ اور پانی کے بحران سے بھی بچاو

     

    مبشرلقمان نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے کہا تھاکہ اس ملک کے غریب پررحم کیئجیئے اور کم سے کم ٹیکسز لگائیں ، انہوں نے کہا پچھی حکومت نے بھی کچھ ایسی ہی غلطیاں کی تھیں جب بلیک منی کومارکیٹ میں لانے کےلیے ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی ،مبشرلقمان نے کہا کہ بھارت کی طرح کرنسی کا رنگ یا شکل تبدیل کردیں دیکھیں گے کہ کس طرح لوگ ساری چپھائی ہوئی دولت باہرلاتے ہیں ،

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    انہوں نے کہا کہ اس ملک میں غریبکی کوئی زندگی نہیں ہمیشہ پارلیمنٹرین کے لیے بجٹ بنتے ہیں ،بڑے بڑے صنعت کاروں کے لیے بجٹ بنتے ہیں لیکن غریب کوکوئی نہیں پوچھتا

  • بجٹ 2022 تا  2023 موبائل کی درآمد پر بھی 1600 تک لیوی عائد

    بجٹ 2022 تا 2023 موبائل کی درآمد پر بھی 1600 تک لیوی عائد

    بجٹ 2022 تا 2023 موبائل کی درآمد پر بھی 1600 تک لیوی عائد:

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئے بجٹ میں موبائل فونز کی در آمد پر 100 روپے سے لے کر 1600 تک کی لیوی عائد کی جا چکی ہے ۔
    مزید تفصیلات کے مطابق فنانس بل 23-2022 کے مطابق بجٹ میں 30 ڈالر کے موبائل فون پر 100 روپے لیوی عائد کی گئی ہے ۔نئے مالی سال کے بجٹ میں 500 ڈالر کے موبائل فون پر 4 ہزار روپے لیوی عائد کی گئی ۔30 ڈالر سے 100 ڈالر مالیت کے موبائل فونز میں 200 روپے لیوی مقرر کی گئی ہے ۔ مزید براں 200 ڈالر کے درآمدی موبائل فون پر 600 روپے لیوی عائد ہو گئی ہے۔ 350 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 1800 روپے لیوی دینا پڑے گی ۔700ڈالر مالیت کے موبائل فون پر 8 ہزار روپے اور 701 ڈالر یا پھر اس سے زیادہ مہنگے موبائل فون پر 16 ہزار روپے لیوی عائد ہوگی ہے ۔

    خیال رہے کہ مجودہ دور میں موبائل فون ہر انسان کی ضرورت ہے ۔اس کے بغیر کوئی انسان کس دور بیٹھے بندے سے رابطہ بھی نہیں کر سکتا ہے ۔اب تو لوگ موبائل فونز کو اپنے آفس ورک کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں ۔ موبائل فون جہاں پر بڑوں کی ضرورت ہے وہاں بچوں کی بہت ضرورت بن گیا ہے ۔کرونا جیسے وبائی مرض کے بعد بچوں کے سکول کا سارا کام موبائل پر آتا تھا ۔مزید یہ کہ بچے موبائل کے ذریعے آن لائن کلاسز سے بھی استفادہ کرتے ہیں ۔ اسلئیے مجودہ دور میں موبائل فون ہر انسان کی ضرورت بن چکا ہے ۔
    پاکستان میں بہت سے موبائل فونز کے برینڈز موجود ہیں ۔ان میں سے چند یہ درج ذیل ہیں۔
    اوپو
    رئیل می
    سامسنگ گیلیکسی
    اوپو رینو
    ٹیکنو
    ِان فینیکس
    ٹیکنو سپارک
    کیو موبائل
    نوکیا موبائل
    ویووہ موبائل
    جی رائٹ موبائل وغیرہ شامل ہیں ۔

  • ‏چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا

    ‏چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا

    لاہور:عمران خان نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے مالی سال 2022-ء2023ء کا بجٹ چیئر مین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے مسترد کر دیا۔

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ ہم امپورٹڈ حکومت کے پیش کردہ اس عوام دشمن اور کاروبار دشمن بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ امپورٹڈ حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا بجٹ افراط زر (11.5%) اور اقتصادی ترقی (5%) کے غیر حقیقی مفروضوں پر مبنی ہے۔

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    عمران خان نے لکھا کہ حساس قیمتوں کا انڈیکس آج24فیصد تک جاپہنچا ہے جو 25 سے 30 فیصد تک پہنچ جائے گا جس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہو گا۔سابق وزیراعظم نے لکھا کہ شرح سود بڑھنے سے ترقی کا عمل رُک جائے گا۔ ہماری تمام ترقی پسند ٹیکس اصلاحات، غریبوں کے حامی پروگرام جیسے کہ صحت کارڈ، کامیاب پاکستان کو روکا جا رہا ہے۔

    انہوں نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ ہمارےدور میں کی گئیں انقلابی ٹیکس اصلاحات روکی جارہی ہیں، صحت کارڈ اور کامیاب پاکستان جیسےغریب دوست اقدامات ختم کیے جارہے ہیں۔

    حمزہ شہبازکی سی ٹی ڈی کیلئے نئی پوسٹوں پر بھرتی کی منظوری

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ پرانا پاکستان کا غیر تصوراتی بجٹ قوم کو مزید بوجھ اور مشکلات میں ڈالے گا۔انہوں نے مزید لکھاکہ یہ بجٹ حقیقت کے برعکس ہے، اس بجٹ سے قوم پر مزید بوجھ اور مصائب پیدا ہونگی۔

  • پاکستان میں فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیےبجٹ میں بڑی رقم مختص

    پاکستان میں فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیےبجٹ میں بڑی رقم مختص

    اسلام آباد:پاکستان میں فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیےبجٹ میں بڑی رقم مختص،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے سال 2022 اور 2023 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ’بائنڈنگ فلم فنڈ‘ اور ’نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ‘ کے قیام کا اعلان کردیا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ پیش کرتے ہوئے شوبز انڈسٹری کے لیے مراعات کا اعلان کیا اور بتایا کہ حکومت فنکاروں کے لیے ’میڈیکل انشورنس پالیسی‘ کو متعارف کرانے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ ایک ارب روپے فنڈ کے ساتھ ’بائنڈنگ فلم فنڈ‘ کے قیام عمل میں لایا جائے گا جب کہ ایک ارب روپے کی لاگت سے ’نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ، نیشنل فلم اسٹوڈیو اور پوسٹ پروڈکشن فیسلٹی سینٹر‘ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    انہوں نے پروڈیوسرز اور سینما مالکان کو ٹیکس چھوٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سینما ہالز، فلم میوزیم اور پروڈکشن ہاؤسز بنانے والے افراد کو بھی پانچ سال کی انکم ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے۔متفاح اسماعیل نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی فلم سازوں کو مشترکہ منصوبوں کے تحت پاکستان میں 70 فیصد شوٹنگ کا پابند کیا جائے گا، تاکہ ملکی سیاحت و صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے ڈسٹری بیوٹرز اور پروڈیوسرز پر عائد 8 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کو بھی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فلم و ڈراما کی پروڈکشن کے آلات کی خریداری پر بھی پانچ سال تک کی کسٹم ڈیوٹی کی معافی کا اعلان کیا۔

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کسٹم ایکٹ 1969 اور فنانس بل 2018 میں ترمیم کرتے ہوئے فلم و ڈراما پروڈکشن کے آلات منگوانے پر سیلز ٹیکس صفر کرکے انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔

    مفتاح اسمٰعیل خوش نصیب وزیرخزانہ:پہلی باربجٹ پیش کرنے کا عمل پرسکون رہا

    حکومت کی جانب سے بجٹ میں فلم و ڈراما انڈسٹری کے لیے مراعات کے اعلان سے چند دن قبل پاکستان ٹیلی وژن میں فلم ڈویژن کا افتتاح بھی کیا گیا تھا جب کہ ’پاک فلکس‘ نامی اسٹریمنگ ویب سائٹ بنانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جہاں پر پی ٹی وی کے مواد کو آن لائن دکھایا جائے گا۔

  • چھوٹے ریٹیلرز سے ٹیکس وصولی اب بجلی کے بلوں کیساتھ کی جائے گی

    چھوٹے ریٹیلرز سے ٹیکس وصولی اب بجلی کے بلوں کیساتھ کی جائے گی

    اسلام آباد:چھوٹے ریٹیلرز سے ٹیکس کی وصولی اب بجلی کے بلوں کے ساتھ کی جائے گی، بجٹ میں حکومت نے تجویز دے ڈالی۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق چھوٹے ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے فکسڈ انکم اور سیلز ٹیکس کا نظام تجویز کیا جارہا ہے، یہ ٹیکس 3 ہزار سے 10 ہزار روپے تک ہوگا۔

    اس کے علاوہ حکومت بڑے ریٹیلرز کے لیے پوائنٹ آف سیلز کے نظام میں مزید وسعت دے گی اور انعامی سکیم کو بھی جاری رکھا جائے گا، معیشت کو دستاویز کرنے کی خاطر نادرا اور ایف بی آر کے درمیان معلومات کے تبادلے کا نظام بہتر کیا جائے گا۔

    کس گاڑی پر کتنا ٹیکس ہوگا؟ ایف بی آر نے تجاویز پیش کردیں،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 1600 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں پر ٹیکس دگنا کرنے کی تجویز دے دی۔

    ایف بی آر نے 850 سی سی تک گاڑیوں پر 10ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ 851 سی سی سے 1000 سی سی تک گاڑیوں پر 20 ہزار روپے، 1001 سی سی سے 1300 سی سی تک گاڑیوں پر 25 ہزار روپے ٹیکس اور 1301 سی سی سے 1600 سی سی تک گاڑیوں پر 50 ہزار ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔

    1601 سی سی سے 1800سی سی تک گاڑیوں پر ڈیڑھ لاکھ روپے اور 1801 سی سی سے 2000 سی سی تک گاڑیوں پر دو لاکھ روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    2001 سی سی سے 2500 سی سی تک گاڑیوں پر 3 لاکھ روپے، 2501 سی سی سے 3000 سی سی تک گاڑیوں پر 4 لاکھ روپے اور 3000سی سی سے زائد گاڑیوں پر 5لاکھ روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کیلئے ٹیکس سلیبز 12 سے کم کرکے 7 کردیے۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا اور انہوں نے تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس کی حد 12لاکھ روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا۔بجٹ تجویز کے مطابق 6 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس استثنیٰ ہوگا اور 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک تنخواہ پر 100 روپے ٹیکس ہوگا۔

    بجٹ میں 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 7 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ 24 لاکھ سے 36 لاکھ آمدن تک 84 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور سلیبز پر 12.5 فیصد انکم ٹیکس الگ ٹیکس ہوگا۔

    بجٹ تجویز کے مطابق 36لاکھ سے 60 لاکھ روپے آمدن پر 2لاکھ 34 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور 17.5 فیصد الگ سے انکم ٹیکس ہوگا جبکہ 60 لاکھ سے ایک کروڑ 20 لاکھ آمدن پر 6 لاکھ 54 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور الگ سے 22.5 فیصد انکم ٹیکس دینا ہوگا۔

    بجٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 20 لاکھ 4 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور اس آمدن پر32.5 فیصد ٹیکس الگ سے ادا کرنا ہوگا۔مفتاح اسمٰعیل خوش نصیب وزیرخزانہ:پہلی باربجٹ پیش کرنے کا عمل پرسکون رہا:کوئی شورشرابابھی نہ ہوا،اطلاعات کے مطابق آج حکومت کی طرف سے سال 2022 اور 2023 کا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا ہے اوراس بجٹ کی پیشی کا مثبت پہلو یہ ہےکہ اس کے پیش کیے جانے کے دوران بالکل خاموشی چھائی رہی

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    اسلام آباد کی فضائیں بڑی پُرسکون تھیں اوراسمبلی کے اندرجب مفتاح اسمعیل بجٹ پیش کررہے تھے توکسی کی طرف سے احتجاج ، شورشرابے یا مزاحمت کی کیفیت نہیں تھی بلکہ ہر طرف سے داد دی جاتی رہی،مفتاح اسمعیل بھی اس دوران بغیرکسی مزاحمت کے بجٹ پیش کرتے رہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بجٹ جب پیش کیا جارہا تھا تو اس وقت حکومتی اراکین کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی یا تو خاموش رہے یا پھرمفتاح اسمٰعیل کو داد دینے کے لیے کبھی کبھارڈیسک بجا دیا کرتے تھے ، یوں مفتاح اسمٰعیل ایک خوش نصیب وزیرخزانہ ہیں جن کو اپوزیشن کی طرف سے کسی سخت ردم عمل یا مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    یاد رہے کہ آج وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے مالی سال 23-2022 کے لیے 95کھرب حجم کا بجٹ پیش کردیا۔اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے بجٹ پیش کرنا شروع کیا۔تحریک انصاف کی جانب سے حسب معمول ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور اپوزیشن کی نشستیں خالی رہیں۔

    بجٹ 2022-23، وزیر خزانہ کی مکمل تقریر کا متن باغی ٹی وی پر

    بجٹ 2022،2023 میں اہم فیصلے کئے گئے جس کے مطابق :
    کل اخراجات کا تخمینہ 9ہزار 502 ارب روپے ہے۔
    قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 3ہزار 144ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 800ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    ملکی دفاع کے لیے ایک ہزار 523ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 550ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    پنشن کی مد میں 530ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    سبسڈیز کے لیے 699ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    گرانٹس کی مد میں ایک ہزار 242 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 364ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    ایک کروڑ طلبہ کو بے نظیر اسکالرشپ دی جائے گی۔
    تعلیم کے لیے 109ارب روپے بجٹ میں مختص کیے گئے ہیں۔
    کم از کم ایک لاکھ سے زائد ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس ہو گا۔
    40ہزار ماہانہ سے کم آمدن والوں کو ماہانہ 2ہزار روپے دیے جائیں گے۔
    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
    1600سی سی اور اس سے زائد کی گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔
    سولر پینل کی درآمدات پر صفر سیلز ٹیکس عائد ہو گا۔
    ماحولیاتی تبدیلی کے لیے 10ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت میں وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی ہے لہٰذا ملکی معیشت کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں کو قوم کی وسیع تر حمایت حاصل ہے۔

  • آئیندہ مالی سال کیلئے اقتصادی ترقی کا ہدف 5 فیصد مقرر،بجٹ دستاویز

    آئیندہ مالی سال کیلئے اقتصادی ترقی کا ہدف 5 فیصد مقرر،بجٹ دستاویز

    9500ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ برائے 23-2022 آج پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا.وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل بجٹ قومی اسمبلی پیش کریں گے

    بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی ساال کیلئے اقتصادی ترقی کا ہدف 5 فیصد مقرر کیا گیا ہے، ‏ایف بی آر 7255ارب کا ٹیکس جمع کرے گا،نان ٹیکس کی مد میں 1626 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے،دستاویزکے مطابق وفاق سے صوبوں کو 4215 ارب روپے منتقل کئے جائیں گے. دفاعی بجٹ کے لیے 1586 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے،آئندہ مالی سال کیلئے 1232 ارب روپے کی گرانٹس دی جائیں گے.

    بجٹ دستاویز کے مطابق قرض اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 3523 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ حکومتی امور چلانے کیلیے 550 ارب خرچ ہوں گے،
    ‏پنشن کی مد میں 530 ارب،سبسڈیز کی مد میں 578 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے.

    رواں مالی سال 2021،22کی قومی اقتصادی سروے رپورٹ آج جاری کی جائے گی،رپورٹ میں صنعت، خدمات، زراعت اوردیگرشعبوں کے اہداف شامل ہوں گے.
    ‏توانائی سمیت مہنگائی، قرضوں کی ادائیگیوں پر سمت کا تعین کیا جائے گا.کیپٹل مارکیٹ، آبادی، ماحولیاتی تبدیلی اور سماجی تحفظ کا کارکردگی پر روشنی ڈالی جائے گی.

    دستاویز کے مطابق رواں مالی سال 2021-22کی اقتصادی شرح نمو 5.97فیصد رہی،‏زرعی شعبہ کی شرح نمو 4.4 فیصد، صنعت 7.2 اور خدمات کے شعبے کی شرح نمو 6.2فیصد رہی،آئندہ مالی سال کےلیے اقتصادی شرح نمو کا ہدف 5فیصد مقرر کیا گیا ہے،اقتصادی شرح نمو کو6 فیصد تک بڑھانے کی کوشش کی جائے گی.

  • پنجاب کا بجٹ  تاریخ ساز ہوگا ،عطا ءاللہ تارڑ

    پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز ہوگا ،عطا ءاللہ تارڑ

    صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑنے کہا کہ پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز بجٹ ہوگا،مالی سال2023۔2022 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا.

    صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑ کی ہوم اکنامکس کالج لاہور میں ویمن ایمپاورمنٹ اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی.

    اس موقع پر صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑکا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ قابل تشویش ہے ۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آگاہی مہم وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ہمارے گزشتہ دور حکومت میں عورت کے خلاف تشدد بل اور عورت کے تحفظ کابل پاس ہوا ۔

    عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ نئی قانون سازی اشد ضروری ہے ۔ معاشرے کی سماجی ترقی اور فلاح کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہروں میں سموگ کی مقدار تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے ۔ شہروں میں سموگ کی روک تھام کے لیےاقدامات اٹھانا پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ آنے والی نسلوں کے لیے نقصان دہ ہے.

    عطاء اللہ تارڑکا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ حکومت
    مالی سال2023۔2022 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا. پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز بجٹ ہوگا ۔

    عطا اللہ تارڑنے کہا کہ عام آدمی کو ریلیف مہیا کرنا ہمارا بنیادی ایجنڈا ہے. اس سال صحیح معنوں میں عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ گزشتہ دور میں ترقیاتی بجٹ کم کر دیا گیا ہم دوبارہ اسے بڑھائیں گے ۔ عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانا وزیراعلی پنجاب کا مشن ہے۔ پنجاب کا بجٹ متوازن ہو کا جس میں تمام سیکٹرز پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی صوبائی کابینہ کو جلد مکمل کر لیا جائے گا.

  • وفاقی بجٹ،پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکیورٹی سخت،سرکاری ملازمین سراپا احتجاج

    وفاقی بجٹ،پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکیورٹی سخت،سرکاری ملازمین سراپا احتجاج

    وفاقی بجٹ 2022-23 آج پیش کیا جائے گا، اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہاؤس اور اطراف کی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ ریڈ زون سیل کردیا گیا جبکہ ایکسپریس چوک ، نادرا چوک پہلے ہی بند ہے،سرینا ہوٹل کا راستے پر بھی کنٹینرز لگا دئیے گئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی بجٹ اجلاس کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایوان کے باہر پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق غیر متعلقہ افراد کی پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی ہوگی جب کہ اجلاس میں صرف وہی شریک ہو سکیں گی، جنہیں اس سلسلے میں باقاعدہ مدعو کیا گیا ہے۔

    قبل ازیں وفاقی بجٹ میں اپنے مطالبات منظور کروانے کے لیے سرکاری ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس تک احتجاج کیا. رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے سرکاری ملازمین نے احتجاجی مارچ کی کال دی تھی

    مارچ کے سلسلے میں سرکاری ملازمین نے وزارت خزانہ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کیا، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو شاہراہ دستور کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑا۔ اس موقع پراسلام آباد پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش بھی کی گئی جب کہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا ہے۔