Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس13 جون کوطلب،بجٹ پیش کون کرے گا؟معمہ بن گیا

    پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس13 جون کوطلب،بجٹ پیش کون کرے گا؟معمہ بن گیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس 13 جون کو طلب کر لیا.پنجاب کا بجٹ 13 جون کی دوپہر دو بجے اسمبلی میں پیش کیا جاے گا تاہم
    یہ بجٹ کون پیش کرے گا؟ اس حوالے سے ابھی نوٹفکیشن ہونا باقی ہے.زرائع کے مطابق اسمبلی میں بجٹ وزیر خزانہ پیش کرتے ہیں مگر پنجاب کی نئی حکومت ابھی تک وزیر خزانہ کا تقرر نہیں کر سکی.اور نہ ہی ابھی تک کابنیہ کی تشکیل مکمل کی جا سکی ہے،زرائع کے مطابق پنجاب کابنیہ کیلئے میاں مجتبی شجاع الرحمان کا نام بطور وزیر خزانہ پنجاب زیر غور ہے.مگر ابھی تک ان سے وزارت کا حلف نہیں لیا گیا ،توقع ہے کہ آئیندہ 48 گھنٹوں کے دوران پنجاب کابنیہ کی تشکیل مکمل کر لی جائے گی اور نئے وزراء حلف اٹھا لین گے.

    دوسری طرٍف پنجاب اسمبلی میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 25ہزار پر عملدرآامد کے مطالبے کی قرارداد جمع کرائی گئی ہے.قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی،قرارداد کے متن میں کہاگیا ہے کہ متعدد فیکٹریاں مزدور کو 18سے 20ہزار ماہانہ تنخواہ دے رہی ہیں ، مہنگائی کے دور میں مزدور کےلئے بیس ہزار میں گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے.

    قرارداد کے متن میں میں کہا گیا کہ مہنگائی کی وجہ سے سب سے زیادہ عام آدمی متاثر ہورہا ہے ، قرارداد میں وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ نجی فیکٹریوں میں مزدور کی کم از کم اجرت ماہانہ 25ہزار پر عملدرآمد کرایا جائے اورجو فیکٹری مالک مزدور کو 25ہزار سے کم تنخواہ دے اس کو بھاری جرمانہ کیا جائے.

    پنجاب اسمبلی میں آج ہی کے دن ایک اور قرارداد جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں کوفعال کیا جائےاور مجسٹریٹوں کی تعداد بڑھائی جائے،قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پرئس کنٹرول کمیٹیاں اور مجسٹریٹ کی قلت کی باعث ناجائز منافع خور من مرضی کے ریٹ وصول کررہے ہیں ، دکاندارمارکٹیوں میں سبزیاں اور پھل اپنے ریٹس پر فروخت کررہے ہیں، سادہ لوح شہری ناجائز منافع خوروں کی رحم و کرم پر ہیں، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فوری فعال کیا جائےاورلاہور سمیت صوبے بھر میں مجسٹریٹوں کی تعداد بڑھائی جائے.

  • بجٹ، عوام پر بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری

    بجٹ، عوام پر بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری

    حکومت نے بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دے دی، آیئندہ سال کے لیے بجٹ کا حجم 9 ہزار 500 ارب کے قریب ہوگا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 23-2022 کے سالانہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہے کا فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ میں قرض اور قرض پر سود ادائیگی کے لیے 21 ارب ڈالر، بیرونی قرض ادائیگی کے لیے 3500 ارب روپے اور اگلے سال کا بجٹ جی ڈی پی کا 2.2 فیصد سرپلس رکھے جانے کی تجویز ہےجبکہ بجٹ میں سبسڈی کے لیے 650 ارب روپے مختص کئے جائیں گے.

    ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڑ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ جیا گیا ہے ، بجٹ میں وِد ہولڈنگ ٹیکسز کو کم کیا جائے گا، جن وِد ہولڈنگ ٹیکسز سے آمدن نہیں ہو رہی انہیں ختم کیا جائےگا جبکہ نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکسز برقرار رہیں گے، وِد ہولڈنگ ٹیکسز کے ذریعے ڈاکیومینٹیشن جاری رہے گی۔

    آئیندہ مالی سال عوام پر بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری بھی کی گئی ہے ،زرائع کے مطابق آئندہ سال بلاواسطہ ٹیکس وصولیاں بڑھانے کی تجویزبھی دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاواسطہ ٹیکس وصولیوں میں 1048 ارب روپے اضافے کی سفارش کا امکان ہے.بلاواسطہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4695 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویززیرغورہے۔

    آئندہ بجٹ میں مجموعی آمدن کا تخمینہ تقریباً 9 ہزار ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی ہے۔ ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 7255 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے، نان ٹیکس کی مد میں 1626 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

  • وزیر خزانہ آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ کل پیش کریں گے

    وزیر خزانہ آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ کل پیش کریں گے

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ کل پیش کریں گے-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں وفاق کے اخراجات کا تخمینہ 8894 روپے ہوگا،وفاقی بجٹ 2022-23 کا کل حجم 9500 ارب روپے ہونے کا امکان ہے،فیڈرل بورڈ آف ریونیو 7255ارب کا ٹیکس جمع کرے گا،نان ٹیکس کی مد میں 1626 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا-

    مہنگائی کی اوسط شرح 8فیصد کے ہدف کی نسبت 13.3 فیصد تک پہنچ گئی

    ذرائع کے مطابق وفاق سے صوبوں کو 4215 ارب روپے منتقل ہوں گے،دفاعی بجٹ کے لیے 1586 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ،آئندہ مالی سال 1232 ارب روپے کی گرانٹس دی جائیں گے،قرض اورسود کی ادائیگیوں پر3523 ارب روپےکا تخمینہ اور حکومتی امور چلانے کےلیے 550 ارب روپے کا تخمینہ،پنشن کی مد میں 530 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ جبکہ سبسڈیز کی مد میں 578 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا-

    پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 587 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 8894 روپے ہوگا، بجٹ میں توانائی شعبے کےلیے 500 ارب روپے کی سبسڈی کا تخمینہ،بجٹ میں آئی پی پیز کو 190 ارب روپے کی سبسڈی کا تخمینہ لگایا گیا ،بجٹ میں آر ایل این جی کی مد میں 20 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی –

    ذرائع کے مطابق زیرو ریٹڈ سیکٹر کو ایل این جی کی فراہمی پر سبسڈی دی جائے گی جبکہ بجٹ میں صنعتوں کے لیے 52 ارب روپے کی سبسڈی کا تخمینہ لگایا گیا ہے-

    غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے،صدر عالمی بینک

  • 2022-23 بجٹ، 10 ہزار ارب روپے اور خسارہ 500 ارب روپے

    2022-23 بجٹ، 10 ہزار ارب روپے اور خسارہ 500 ارب روپے

    2022-23 بجٹ، 10 ہزار ارب روپے اور خسارہ 500 ارب روپے ہے

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق خسارے کو کم رکھنے کے لیے معاشی شرح نمو 4 فیصد سے کم ہونے کا امکان ہے بجٹ ڈیٹا منظوری کے لیے کسی وقت بھی کابینہ کو پیش کر دیا جائے گا،خسارہ کم رکھنے کا مقصد اخراجات اور مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے، مہنگائی کی شرح 12 فیصد اور وفاقی اخراجات کو 700 ارب روپے تک محدود کرنا ہے، 300 ارب روپے قرضوں پر سود کی واپسی اور ایمرجنسی اخراجات کے لیے ہوں گی،نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق اخراجات اور مہنگائی کم رکھنے کے فارمولے سے معیشت سست پڑنے کا خطرہ مول لیا گیا ،یہ خطرہ ٹیکس محصولات کے حجم کو 25 فیصد مزید بڑھانے سے بڑھے گا،معیشت سکڑنے کا خطرہ مول لیے بغیر بجٹ بنانا ممکن نہ تھا

    آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی بجٹ 800 ارب روپے مختص کیا جائے گا،وفاقی وزارتوں اور محکموں کا بجٹ 538 ارب روپے مختص کیا جائے گا،سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ این ایچ اے کو 121 ارب روپے ملے گا، آبی وسائل کیلئے 96 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے لیے 96 ارب 36 کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے ،ترقیاتی کاموں کےلیے کابینہ ڈویژن کو60 ارب کا بجٹ ملے گا، توانائی کے شعبے میں پیپکو کے لیے49 ارب روپےکا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، ریلوے کے لیے 33 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، خیبرپختونخوا میں ضم قبائلی علاقوں کےلیے50 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، اٹامک انرجی کمیشن کے لیے25 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گاہائرایجوکیشن کمیشن کو 41 ارب 87 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ ملے گا، ایوی ایشن کے لیے ڈھائی ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا،

    ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کے لیے9.5 ارب روپےکا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا،تعلیمی منصوبوں کے لیے6 ارب روپے کاترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا ،ہاؤسنگ کے لیے11 ارب 60 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا،وزارت داخلہ کے لیے 10 ارب 47 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا ،وزارت صحت کے لیے 12 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا ،وزارت غذائی تحفظ کےلیے12 ارب روپےکاترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا، میری ٹائم افیئرزکے لیے3.1 ارب روپےکا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 96 ارب 36 کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

    اگلے مالی سال کا بجٹ 10جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

  • پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 587 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 587 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    پنجاب کے آئندہ مالی سال 2022-23 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق پہلا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 587 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب کیلئے 35 فیصد بجٹ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال پنجاب میں 13 میگا ترقیاتی پراجیکٹ شروع کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

    مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے ہر رکن کے لیے 50 کروڑ روپے ترقیاتی اسکیم کی تجویز پر غور ہو رہا ہے،غیر ملکی قرضوں سے منصوبوں کے لیے 28 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ضلعوں کے جاری اور نئے منصوبوں کے لیے 114 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، میگا منصوبوں کی تکمیل کے لیے 237 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔

    ترجیحی منصوبوں کے لیے 20 ارب روپے کا بلاک ایلوکیشن فنڈ جبکہ پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت 15 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز پر بھی کام ہو رہا ہے۔

    دوسری طرف و زیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ عوام کو مشکل وقت میں ریلیف دینے کیلئے آٹے پر 200 ارب روپے سبسڈی دے رہے ہیں ۔چینی اورگھی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے جلد خوشخبری دیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے لاہور کے سابق چیئرمینوں اوروائس چیئرمینوں نے ملاقات کی جس میں وزیر اعلی نے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے ہدایات دیں۔

    ملاقات میں میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن، توصیف شاہ، کبیر تاج، صبغت اللہ، دستگیر شاہ، احمد بٹ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ عوام کو مشکل وقت میں ریلیف دینے کیلئے آٹے پر 200 ارب روپے سبسڈی دے رہے ہیں، چینی اورگھی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے جلد خوشخبری دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ سے منتخب ہسپتالوں میں کینسر اوردیگر ادویات مفت ملیں گی، اندرون لاہور میں بجلی کے لٹکتے ہوئے تار اورگیس کی عدم فراہمی کے مسائل حل کریں گے، پارکنگ کے مسائل کرنے کیلئے پارکنگ پلازے بنانے کا جائزہ لیں گے۔

    وزیراعلی نے مزید کہا کہ کوٹ خواجہ سعید،سید مٹھا اوریکی گیٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا، عوام کے دکھوں کے مداواے اور مسائل کے حل کیلئے ہر چھوٹے بڑے شہر جاؤں گا، سیاست نہیں خدمت پر یقین رکھتا ہوں، واسا کو پانی کی فراہمی کیلئے ہدایات جاری کردی ہیں، لاہور بھر کے فلٹریشن پلانٹس کو بحال کیا جارہا ہے، طویل سیاسی جدوجہد کرنے والے اور ظلم برداشت کرنے والے پارٹی کارکنوں کوسلام پیش کرتا ہوں

  • آئندہ مالی سال مختلف وزارتوں کیلئے ترقیاتی فنڈز میں کمی کیے جانے کا امکان

    آئندہ مالی سال مختلف وزارتوں کیلئے ترقیاتی فنڈز میں کمی کیے جانے کا امکان

    لاہور: آئندہ مالی سال مختلف وزارتوں کیلئے ترقیاتی فنڈز میں کمی کیے جانے کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی بجٹ 2022،23حکومت کو مشکل معاشی حالات کا سامنا ہے آئندہ مالی سال مختلف وزارتوں کیلئے ترقیاتی فنڈز میں کمی کیے جانے کا امکان ہے وفاقی بجٹ23-2022 میں ترقیاتی بجٹ کا حجم بھی کم کیا جائے گا –

    وزیر اعظم نے غریبوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال23-2022میں ترقیاتی بجٹ 700 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے ،رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے رکھا گیا تھا، ترقیاتی بجٹ آئندہ مالی سال میں رواں مالی سال کے مقابلے میں 22 فیصد کم ہوگا-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پاور ڈویژن کے لیے 50 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز دی گئی ، جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے آئندہ بجٹ میں 120 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز اور ضم شدہ اضلاع کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 40 ارب روپے تجویزدی گئی ہے-

    پرویزالہٰی سے پی ٹی آئی ارکان پنجاب اسمبلی کے وفد کی ملاقات

    ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئند ہ مالی سال میں این ایچ ایچ اے کا بجٹ رواں بجٹ کے مقابلے میں 6 ارب روپے کم ہوگا،ضم شدہ اضلاع کیلئے رواں مالی سال کے مقابلے میں 14 ارب روپے کی کمی ہو گی -ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے آئندہ مالی سال کے لیے 30 ارب روپے تجویز دی گئی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کیلئے آئندہ بجٹ میں اضافے کا امکان،ذ

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے ایچ ای سی کیلئے بجٹ میں کٹوتی نہ کرنے کی ہدایت کی ہے تجاویز کو حتمی منظوری اور مزید جائزے کیلئے پلان کوآرڈینشن کمیٹی میں پیش کیا جائے گا-

    ذرائع کے مطابق پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس4 جون کو طلب کیا گیا ہے جبکہ مالی سال 23-2022 کا سالانہ بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا-

    پیٹرول پمپ پر گاڑیوں میں ایندھن بھرنے کی ملازمت اختیار کرنے والی باہمت لڑکیاں

    دوسری جانب صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس 6 جون کو طلب کر لیا ہے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کوسہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہو گاصدر نے قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت طلب کیا گیا ہے-

  • اساتذہ وسرکاری ملازمین شدید معاشی پسماندگی کا شکار،تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ

    اساتذہ وسرکاری ملازمین شدید معاشی پسماندگی کا شکار،تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ

    حکومت ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہوں میں ضم کر کے پے سکیل ریوائز کرے۔ رانا لیاقت علی

    تنخواہوں اور پنشن میں 50 فیصد، ہاؤس رینٹ،میڈیکل اور کنوینس الاؤنس میں 3 گنا اضافہ کیا جائے۔
    پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر چوہدری سرفراز، سید سجاد اکبر کاظمی، رانا لیاقت علی، سعید نامدار، نادیہ جمشید، چوہدری محمد علی، میاں ارشد، ملک سجاد، مصطفیٰ سندھو، رانا الیاس، مرزا طارق،طاہر اسلام،رانا خالد، غفار اعوان، نذیر گجر، مبینہ راشد، طارق زیدی، مرزا اختر بیگ، چوہدری عباس ودیگر نے کہا ہے کہ اساتذہ و سرکاری ملازمین نظام حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں حکومتی کارکردگی میں ملازمین کا کردار نمایاں ہے دیگر طبقات کی طرح منہگائی نےاساتذہ وسرکاری ملازمین کو بھی متاثر کیا ہے سرکاری ملازمین شدید معاشی پسماندگی کا شکار ہیں حالات اس نہج پر پہنچ چکے کہ سرکاری ملازمین فاقہ کشی کا شکار ہو رہے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں آسمان کو چھوتی منہگائی کے مقابلے میں انتہائی قلیل ہیں اساتذہ سمیت سرکاری ملازمین کے معاشی و معاشرتی حالات میں بہتری کے لیے وزیراعظم پاکستان،وفاقی وزیر خزانہ،وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر خزانہ سے مطالبہ ہے کہ آیندہ بجٹ 23- 2022 میں 1- تمام ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہوں میں ضم کر کے پے سکیل ریوائز کئے جائیں، تنخواہوں اور پنشن میں کم از کم 50 فیصد اضافے دیا جائے۔

    2- ہاؤس رینٹ،میڈیکل، کنویس الاونس میں 3 گنا اضافہ کیا جائے۔
    3- دیہی اور شہری ہاؤس رینٹ میں تفریق ختم کی جائے،دیہی علاقوں میں تعینات ملازمین کو کم از کم 10 ہزار روپے ماہانہ رورل/ ہارڈ ایریا الاونس دیا جائے۔4- خواتین اساتذہ کو اساتذہ کو منٹرنٹی لیو کیساتھ ہر ماہ بیسک تنخواہ بطور منٹرنٹی الاونس دیا جائے۔5- بناولنٹ فنڈ گرانٹ،امداد،وظائف میں 100 فیصد اضافہ اور گریڈ 1 تا گریڈ 22 تک انہیں یکساں کیا جائے۔6- وفاق کی طرز پر صوبائی ملازمین کو بھی 3 درجاتی ٹائم سکیل پرموشن دیا جائے۔7- صوبہ پنجاب کے ملازمین کو فروری 2022 میں اعلان کردہ 15 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس یکم مارچ سے دینےکا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے( وفاق،خیبر پختونخواہ،بلوچستان کی طرز پر)

    8- پری میچور ریٹائرمنٹ کے لیے 55 سال عمر کی شرط کا نوٹیفکیشن منسوخ کیا جائے۔ اگر ہمارے مطالبات پورے نا کئے گئے تو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے دھرنا دیا جائے گا جس کا فیصلہ آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس اجلاس میں ہو گا۔

  • بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کرنے کا مطالبہ

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

    آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ملک ابرار حسین نے بجٹ 2022-23میں حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ مدارس اور کم فیسوں والے نجی تعلیمی اداروں کے لیے الگ سے فنڈز مختص کیے جائیں، مدارس ملک کی سب بڑی این جی او ہیں جو یتیم،غریب اور بے سہارا بچوں کوحکومتی مدد کے بغیر تعلیم،رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کر رہے ہیں اسی طرح کم فیسوں والے پرائیویٹ سکول بھی شرح خواندگی میں اضافہ کے لیے حکومت کا ہاتھ بٹاتے ہیں اس لیے ان کی مدد اور کارکردگی کو مزید بہتربنانے کے لیے بجٹ میں الگ سے رقم مختص کی جائے۔

    ان خیالات ا ظہارانہوں نے گزشتہ روزیہاں سے جاری کردہ اپنے ایک خصوصی بیان میں کیا۔ ملک ابرار حسین کا کہنا تھاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں شرح خواندگی ساٹھ فیصد کا ہندسہ بھی ٹچ نہیں کرسکی ہے۔ الٹا روزبروز ہمارا معیار تعلیم کم ہوتا جارہاہے جبکہ رہی سہی کسر کورونا وبا میں لگائی جانے والے بلاجواز اور غیرمنطقی پابندیوں نے نکال دی ہے۔ ان حالات میں حکومت کو چاہیے کہ دینی مدارس اور بالخصوص ایسے نجی تعلیمی ادارے جو انتہائی کم فیس لے رہے ہیں کوریلیف دینے کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات اٹھائے

    ۔حکومت کم فیسوں والے نجی تعلیمی اداروں کا ڈیٹا اکٹھا کرے اور پانچ سال سے زائد عرصہ سے چلنے والے تمام چھوٹے سکولوں کے لیے فنڈز اور مراعات کااعلان کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ چھوٹے سکولوں میں پرائیویٹ اساتذہ کی ٹریننگ، بجلی اور گیس کے بلز میں رعایت، رجسٹریشن فیس میں کمی،رجسٹریشن اور رینوول میں سہولت جبکہ اپنی عمارت کے لیے آسان اقساط پر پلاٹ اور آسان قرضے فراہم کیے جائیں۔

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبرکرائم کے ملزم پکڑنے کیلئے ہمارے پاس یہ چیز نہیں،ڈائریکٹر سائبر کرائمز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    پاکستان میں سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ،ہراسمنٹ کی کتنی شکایات ہوئیں درج؟

    لینڈ مافیا کے ساتھ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی ملی بھگت،عدالت کا بڑا حکم

    سات سالہ گھریلو ملازمہ کو استری سے جلانے پر ملزمان میاں بیوی گرفتار

    تیس برسوں میں ساٹھ طالبات کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سکول ٹیچر گرفتار

  • بھارت میں بجٹ پیش، عام آدمی کو نہ مل سکا ریلیف، کسان بھی دیکھتے رہ گئے

    بھارت میں بجٹ پیش، عام آدمی کو نہ مل سکا ریلیف، کسان بھی دیکھتے رہ گئے

    بھارت میں بجٹ پیش، عام آدمی کو نہ مل سکا ریلیف، کسان بھی دیکھتے رہ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے نیا بجٹ پیش کر دیا ہے

    مودی سرکار کی وزیر خزنہ نرملا نے چوتھی بار عام بجٹ پیش کیا، بھارتی میڈیا کے مطابق مودی سرکار کی جانب سے پیش کئے جانے والے بجٹ میں عام آدمی کو کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، بجٹ سفارشات میں انکم ٹیکس کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ، بھارتی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ آر بی آئی جلد ڈجیٹل کرنسی جاری کرے گا، یعنی بھارت میں ڈجیٹل کرنسی کے لئے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس ضرور زیادہ ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے جب حکومت نے ڈیجیٹل کرنسی کے دروازہ کھولے ہیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بجٹ میں امید کی جا رہی تھی کہ کسانوں کے لئے بڑے اعلانات کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، جو بھی اعلانات ہیں وہ کسانوں کے فوری فائدہ کے نظر نہیں آتے ،بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ کسانوں کے کھاتوں میں 2.37 لاکھ کروڑ روپے کی ایم ایس پی کی رقم براہ راست بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ بجٹ کے دوران آنے والے دنوں میں کیمیکل سے پاک قدرتی کھیتی کو فروغ دینے کا اعلان کیا گیا اس کے تحت دریائے گنگا کے ساحل پر 5 کلومیٹر کے گلیارے کو پہلے مرحلہ کے تحت منتخب کیا جائے گا تلہن کے بیج کی درآمد کو کم کرنے کی سمت میں کام کرتے ہوئے گھریلو طور پر پیداوار کو بڑھایا جائے گا،وزیر خزانہ نے کسانوں تک تکنیک پہنچانے کی سمت میں بھی کام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی ماڈل کے تحت اسکیم لائی جائے گی، جس سے کسانوں تک ڈیجیٹل اور ہائی ٹیک تکنیک پہنچائی جا سکے یہاں تک کہ کسانوں کی کھیتی کا جائزہ لینے کے لئے ڈرون ٹیکنالوجی کی بھی مدد لی جائے گی نیز ڈرون کے ذریعے کھاد اور جرثیم کش دواؤں کے چھکڑکاؤ کو بھی فروغ دیا جائے گا

    بھارتی کسان نے کس پارٹی کی ٹی شرٹ پہن کر خودکشی کی؟

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ہیروں کے زیورات کی کسٹم ڈیوٹی کم کر دی ہے لیکن چھتریوں پر امپورٹ ڈیوٹی بڑھا دی ہے یعنی زیورات سستے ہوں گے اور چھتریاں مہنگی ہوں گی۔ کارپوریٹ ٹیکس اور سر چارج میں کمی کر دی گئی ہے ،وزیر خزانہ نے ایوان میں کہا کہ حکومت کو اس مرتبہ سب سے زیادہ جی ایس ٹی موصول ہوا ہے ایک ملک ایک رجسٹریشن کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ ریاستوں کو ایک لاکھ کروڑ روپے دیئے جائیں گے۔ خواتین کے لئے کئی اعلانات کئے گئے ہیں۔ طلباء کی تعلیم کے لئے بھی اعلان ہوئے ہیں اور ریلوے کے تعلق سے بھی تعمیراتی کاموں کا اعلان کیا گیا ہے

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    مطالبات نہ مانے گئے تو بھارت بند کردیں گے،احتجاج کرنیوالے کسانوں کا بڑا اعلان

    بھارت بند کا اعلان، کسانوں کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت مل گئی

    مودی کا جہاز خریدنے کیلیے پیسے ہیں لیکن کسانوں کو دینے کیلئے نہیں،پرینکا گاندھی مودی پر برس پڑیں

    مودی کیخلاف کسانوں کی تحریک میں تیزی، آج ہو گا تاریخ”بھارت بند”

    حکومت کے خلاف احتجاج ،وزیراعلیٰ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا

    کسانوں کا بھارت بند، ٹرین روک دی ،احتجاج جاری

    کسانوں کے احتجاج میں شامل خاتون نے لگایا مودی پر سنگین الزام

    مودی سرکار کی تجویز نامنظور،کسانوں نے دوبارہ بڑا اعلان کر دیا

    مر جائیں گے لیکن گھر نہیں جائیں گے، بھارت میں کسانوں کا اعلان

    نہ تھکیں گے، نہ رکیں گے،بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری، بھوک ہڑتال شروع

    ایئر انڈیا کی عدم سرمایہ کاری مکمل، ایل آئی سی کا آئی پی او بھی جلد آئے گا ملک کے 16 لاکھ نوجوانوں کو ملازمت فراہم کی جائے گی اگلے 3 سالوں کے دوران بہتر صلاحیت والی 400 نئی وندے بھارت ٹرینیں لائی جائیں گی دریائے گنگا کے ساحل پر 5 کلو میٹر چوڑے گلیارے میں کسانوں کی زمین پر توجہ دی جائے گی ملک بھر میں کیمیکل سے پاک قدرتی کھیتی کو فروغ دیا جائے گا ایک جماعت ایک ٹی وی چینل کو بڑھا کر 200 چینل کیا جائے گا ،ڈیجیٹل یونیورسٹی کا قیام ہوگا سال 2022-23 کے درمیان قومی شاہراہوں کی لمبائی 25 ہزار کلومیٹر کی جائے گی سال 2023 کو موٹا اناج سال قرار دیا گیا، ربی 2021-22 میں 163 لاکھ کسانوں سے 1208 میٹرک ٹن گیہوں اور دھان خریدا جائے گا ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم کو مارچ 2023 تک بڑھایا جائے گا، گارنٹی کور کو 50 ہزار کروڑ سے بڑھا کر 5 لاکھ کروڑ کیا جائے گا شہریوں کی سہولت کے لئے ای پاسپورٹ جاری کئے جائیں گے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو چارجنگ اسٹیشن نہیں مل پاتے لیذا بیٹری کے تبادلہ کی پالیسی مرتب کی جائے گی دفاعی شعبہ میں آتم نربھر بھارت کو فروغ دیا جائے گا اور مختص رقم کا 68 فیصد گھریلو بازار میں خرچ کیا جائے گا آر بی آئی ڈیجیٹل روپیہ جاری کرے گا، جس کے لئے بلاک چین اور دیگر تکنیکوں کا سہارا لیا جائے گا نئی ٹیکس اصلاحات لائی جائیں گی اور اگلے دو سالوں تک اس کا اعلان کر دیا جائے گاکریپٹو کرنسی پر آمدنی کا 30 فیصد ٹیکس کے طور پر حکومت کو ادا کرنا ہوگا اور اگر نقصان ہوتا ہے تو بھی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

     

    اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کے بجٹ سے کسانوں، غریبوں، نوجوانوں اور متوسط طبقہ کو کچھ نہیں ملا،مودی حکومت کا صفر والا بجٹ! تنخواہ داروں، متوسط طبقہ، غریب اور وسائل سے محروم افراد، نوجوانوں، کسانو کو اس بجٹ سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا

    بھارتی عزائم جاننے کے باوجود دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا، وزیر خارجہ

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    برطانیہ میں کورونا ویکسین سب سے پہلے کس کو لگائی گئی؟

    کرونا ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں بندر کا ڈی این اے ڈالا جائے گا،شہری عدالت پہنچ گیا

    کورونا ویکسین لگنے سے 500 کے قریب بھارتیوں کی حالت بگڑ گئی

    ایٹمی دھماکوں کا سہرا نواز شریف نہیں بلکہ کس کو جاتا ہے؟ شیخ رشید کے انکشاف سے سب حیران

    اگر یہ کام ہو جائے تو سب مسائل حل ہو جائیں گے ،شیخ رشید

    ‏بھارت کا ایٹمی آبدوزیں بڑھانے کا فیصلہ، دفاعی بجٹ پر بھونکنے والوں کو دشمن سے پہلے کچلنا چاہیے، وینا ملک

  • اگلے 3 ماہ تک قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں،شوکت ترین نے "نوید” سنا دی

    اگلے 3 ماہ تک قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں،شوکت ترین نے "نوید” سنا دی

    اگلے 3 ماہ تک قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں،شوکت ترین نے "نوید” سنا دی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پاس ہوگا آپ دیکھتے جائیں،

    اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کیلئے زیادہ دباو نہیں ڈالیں گے،ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں،معیشت کی بہتری کے لیےآئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، اب معیشت درست سمت کی جانب گامزن ہے اگلے 3 ماہ تک قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں حکومت کو بہت سے معاشی چیلنجز کا سامنا رہا،کورونا کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑکورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،ملک میں جاری مہنگائی مصنوعی ہے۔ اس کیساتھ ہمارا تجارتی خسارہ بھی بڑھا ہے، ہو سکتا ہے کہ اگلے دو تین ماہ اشیا کی قیمتیں کم نہ ہوں۔

    شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ خوردنی تیل، پٹرولیم مصنوعات، دالوں کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ،آئی ٹی برآمدات میں اضافے سے معیشت کو استحکام ملا،تعمیرات اور ٹیکسٹائل شعبوں کو مراعات دی گئیں ،افغان بحران کے باعث ہماری کرنسی پر بھی دباؤ آیا ،کورونا کے باوجود صنعتی پہیے کو رکنے نہیں دیا گیا ،برآمدات کو بڑھانے کیلئے بھرپور اقدامات کیے گئے،پسماندہ طبقات کے ریلیف کیلئے احساس راشن پروگرام لے کر آئے تعمیرات اور ٹیکسٹائل شعبوں کو مراعات دی گئیں کسانوں کو بلاسود قرضے دیئے جارہے ہیں،

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    لاہور پریس کلب کے باہر فائرنگ، کرائم رپورٹر جاں بحق