Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • قومی اسمبلی میں نئے مالی سال25-2024 کا بجٹ منظور، اپوزیشن کا واک آوٹ

    قومی اسمبلی میں نئے مالی سال25-2024 کا بجٹ منظور، اپوزیشن کا واک آوٹ

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا

    قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ 25-2024 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے، قومی اسمبلی نے 18ہزار 887 ارب روپے کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا ہے،بجٹ منظور ہونے سے قبل سنی اتحاد کونسل نے ایوان سے واک آؤٹ کر لیا، سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی غیر موجودگی میں فنانس بل منظورہوا.بجٹ منظور ہونے پر حکومتی اراکین نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو مبارکباد دی.

    قومی اسمبلی میں بین الاقوامی فضائی سفر کےلیے ٹکٹوں پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی شق منظور کرلی گئی، یکم جولائی سے بین الاقوامی سفر کے لیے اکانومی اور اکانومی پلس ٹکٹ پر 12500 روپے ٹیکس دینا ہوگا،یکم جولائی سے امریکا اور کینیڈا کیلئے بزنس کلاس اور کلب کلاس ٹکٹ پر ٹیکس میں ایک لاکھ روپے تک اضافے کی منظوری دی گئی ،مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے سفر کےلیے بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر ڈیڑھ لاکھ روپے ٹیکس دینا ہوگا، یورپ کے فضائی سفر کےلیے بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر 2 لاکھ 10 ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا،مشرق بعید، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فضائی سفر پر بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر 2 لاکھ 10ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا۔

    ضروری نہیں کہ پیکجڈ دودھ کی حوصلہ افزائی کی جائے،ہمیں صحت مند قدرتی دودھ کی طرف جانا ہوگا۔وزیر خزانہ
    قومی اسمبلی اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے رکن علی محمد خان نے کہا ہے کہ بچوں کے دودھ، اسٹیشنری اور صحت کے آلات پر ٹیکس واپس لیا جائے،علی محمد خان نے ایل پی جی اور لیپ ٹاپس پر بھی ٹیکس واپس لینے کی ترمیم پیش کی، جس پر وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اسٹیشنری، دل کی بیماریوں سے متعلقہ آلات پر ٹیکس پہلے ہی واپس لیا جاچکا، ضروری نہیں کہ پیکجڈ دودھ کی حوصلہ افزائی کی جائے،ہمیں صحت مند قدرتی دودھ کی طرف جانا ہوگا۔

    اراکین کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ترمیم کثرت رائے سے منظور
    پیپلزپارٹی نے اراکین پارلیمنٹ کی مراعات بڑھانے سے متعلق ترمیم ایوان میں پیش کر دی،قومی اسمبلی نے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ترمیم کثرت رائے سے منظور کر لی،ارکان پارلیمنٹ تنخواہ و مرات ایکٹ میں ترمیم فنانس بل کے ذریعے کی جا رہی ہے ،پیپلز پارٹی کے عبد القادر پٹیل نے ترمیم پیش کی،اراکین اسمبلی کا سفری الاؤنس 10روپے کلومیٹر سے بڑھا کر25روپے کر دیا گیا،اراکین پارلیمنٹ کے بچ جانے والے سالانہ فضائی ٹکٹس استعمال نہ ہونے پر منسوخ کرنے کی بجائے اگلے سال قابل استعمال ہونگے، اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا اختیار وفاقی حکومت سے لیکر متعلقہ ایوان کی فنانس کمیٹی کے سپرد کر دی گئی،اپوزیشن نے تنخواہوں اور مراعات سے متعلق پیپلز پارٹی کی ترمیم کی مخالفت کی،ترمیم کے مطابق سالانہ ٹریولنگ ووچرز 25سے بڑھا کر 30کردیا گیا،

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا نے فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کیا،وزیراعظم
    قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری و دیگر اراکین شریک ہوئے.وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے دوران اراکین سے ملتے رہے تو وہیں بلاول زرداری نے بھی اراکین سے ملاقاتیں کیں،وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو حصہ دیا گیا ہے، 2010 میں این ایف سی کا آخری ایوارڈ ہوا تھا، اس وقت دہشتگردی عروج پرتھی، اس میں صوبوں کےحصے میں کے پی کا حصہ ایک فیصد رکھا گیا ، کےپی کو590ارب روپےدہشتگردی کی روک تھام کی مدمیں ملے، دوسرےکسی صوبےکواس مد میں ایک روپیہ بھی نہیں ملا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا نے فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کیا،اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ایک فیصد حصہ کےپی کے کےلیے الگ سے رکھا گیا،وہ ایک فیصد حصہ آج تک مل رہا ہے۔چاروں صوبوں نے مل کر این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق کیا تھا ،اس وقت وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف زرداری تھے،میں خود اس این ایف سی ایوارڈ میں شریک تھا ، صوبوں کے حصوں سے پہلے خیبرپختونخواہ کا ایک فیصد شیئر رکھا گیا ،دوہزار دس سے اب تک دہشتگردی کی کاوشوں پر خیبر پختونخواہ کو 590 ارب دیے گئے ،ہم نے چیف سیکرٹری کے لیے تین ناموں کا پینل دیا خیبرپختونخواہ حکومت نے کسی کا انتخاب نہیں کیا ۔ اگر خیبرپختونخواہ حکومت چاہے تو ایک اور پینل دینے کو تیار ہیں ۔ اب تک خیبرپختونخواہ میں سی ٹی ڈی نامکمل ہے ۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے فنانس بل میں ترامیم ایوان میں پیش کردیں
    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حقیقت پر بات کرنی چاہیے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کیسا ہے، کرنسی مستحکم ہے اور یہ ایسے ہی رہے گی، سرمایہ کار واپس آرہے ہیں، پچھلے مہینے غذائی مہنگائی 2 فیصد پر تھی،وفاقی وزیر خزانہ نے فنانس بل میں ترامیم ایوان میں پیش کردیں،انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں اضافے کی ترمیم پیش کی،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل میں دیگر ترامیم بھی ایوان میں پیش کیں جس کے بعد اپوزیشن نے فنانس بل کے خلاف ترامیم پیش کیں جن کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مخالفت کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کرپشن اور چوری کو ٹھیک کرنا ہے، ایف بی آر کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے کر جانا ہے نجکاری دو سے تین سال کا منصوبہ ہے، انرجی سیکٹر اور پاور سیکٹر کی ریفارم بجٹ کا حصہ ہیں۔

    ویگوڈالے پی ٹی آئی والوں کے پیچھے پھرتے ہیں اس سے بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی ،عمر ایوب
    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے بجٹ 25-2024 کو پاکستان کےعوام کےخلاف اکنامک دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے لوگ عوام کے قاتل ہیں اور ان کے خون کے ذمہ دار ہیں،وزیر داخلہ محسن نقوی نے ساڑھے چار سو ارب روپے کی گندم امپورٹ کی، اب اس گندم کو ایکسپورٹ کرنے کی بات ہو رہی ہے، یہ کابینہ ہے یا سرکس ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، نیب گندم اسکینڈل کی تحقیقات کرے، اس بجٹ سے افراط زر بڑھے گی، یہ عقل کے اندھے ہیں، ان کو معیشیت کا پتہ ہی نہیں ہے، قیمتیں عارضی کم ہوئی ہیں اب دوبارہ بڑھیں گی، بجلی کی قیمت 70 روپے سے بڑھ کر 85 روپے پر جائے گی، اس بجٹ کے ساتھ کوئی اقتصادی گروتھ نہیں ہوگی، یہ عوام اور انڈسٹری مخالف بجٹ ہے، ہم پورے بجٹ کو مسترد کرتے ہیں،حکمران جماعت نے تسلیم کیا بجٹ (آئی ایم ایف) سے بنوایا گیا ہے، کسانوں کی کمرتوڑدی، اب گندم برآمدکرنےکی کوشش ہوگی، پہلےاربوں روپے بنائے اب پھراربوں روپے بنائیں گے۔ویگوڈالے پی ٹی آئی والوں کے پیچھے پھرتے ہیں اس سے بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی ۔ وفاقی حکومت خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کو پورے فنڈز فراہم نہیں کررہی ۔وفاقی حکومت پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والوں سے بدلہ لے رہی ہے ۔ میڈیا پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں ۔

    خود وزیر اعظم نے یہ تسلیم کیا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ہے،زرتاج گل
    زرتاج گل نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ فارم 47والی حکومت کا بجٹ ہے،موجودہ حکومت کو کوئی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے،خود وزیر اعظم نے یہ تسلیم کیا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ہے، اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آپ نے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا ہے ،وزیراعظم سے پوچھنا چاہتا ہوں خیبرپختونخواہ کو چیف سیکرٹری اور آئی جی اپنی مرضی سے لگانے کی اجازت کیوں نہیں ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سنی اتحا د کونسل کے رکن علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کےبجٹ کومسترد کرتےہیں عوام نے بجلی، گیس، پانی کےبل اورکرائےدینے ہیں

    کے پی کو اس بات پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے کہ وہاں کے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر علی خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل میں کوئی کفایت شعاری پلان نہیں رکھا گیا، اس حکومت میں سب سے زیادہ لوگ بے روزگار رہے ہیں،کے پی کو اس بات پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے کہ وہاں کے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ،پی آئی اے اور ڈسکوز کی نجکاری کی بات کی جارہی ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس میں یہ لوگ ترامیم کرنا چاہ رہے ہیں، موجودہ حکومت میں مہنگائی سب سے زیادہ ہے، موجودہ حکومت میں ڈالرکاریٹ سب سےزیادہ ہے، بہت سےممالک میں انکم ٹیکس نہیں لیکن یہاں لگایا گیا ہے، حکومت نے سی سی آئی سےمنظوری نہیں لی۔

    بعد ازاں قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی شدیدنعرے بازی میں فنانس بل منظور کرلیاگیا،حکومتی ترامیم کی منظوری پر اپوزیشن نے ووٹنگ چیلنج کردی، جس پر اسپیکر نے گنتی کروانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ مجھے نظر آرہا ہے کس کی اکثریت ہے پھر بھی گنتی کروا دیتا ہوں۔

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وزیراعظم شہبازشریف کی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات ہوئی ہے،دونوں رہنمائوں میں ملاقات قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ہوئی،وزیراعظم نے بلاول بھٹو کے ساتھ ان کی نشست پر جاکر ملاقات کی ،وزیراعظم نے بلاول بھٹو سے مصافحہ کیا ،دونوں رہہنمائوں نے کچھ دیر تک تبادلہ خیال بھی کیا،وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کی بجٹ کی حمایت پر بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا ، بلاول زرداری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کے مفاد میں اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کریں گے ،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • جب تک پورے نظام میں تبدیلی نہیں لاتی سکون سے نہیں بیٹھوں گی، مریم نواز

    جب تک پورے نظام میں تبدیلی نہیں لاتی سکون سے نہیں بیٹھوں گی، مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اپنی کارکردگی سے شکست دیں گے،

    مریم نواز نے خطاب کیا تو اس دوران اپوزیشن کی جانب سے شورشرابا کیا گیا تا ہم مریم نواز نے اپنا خطاب جاری رکھا اور کہا کہ نظام حکومت میں بہتری کیلئے درکار کئی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں،باقی قیدیوں کو وہ سہولیات میسر نہیں جو عمران خان کو میسر ہیں،اپوزیشن عوامی خدمت میں نہیں انتقامی کاروائیوں میں مصروف رہی ہے، اپوزیشن کے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں،پی ٹی آئی نے اپنی 100 دن کی کارکردگی کا اشتہار دیا تھا، اس میں لکھا تھا کہ ہم مصروف تھے، آپ خدمت میں نہیں انتقامی کاروائیوں میں مصروف تھے،مجھے نواز شریف کی سپورٹ حاصل ہے، شہباز شریف نے بھی میری حوصلہ افزائی کی ہے، ہم نے پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کیا ہے، پہلی بار پنجاب کی عوام پر زیرو ٹیکس لگا ہے،نواز شریف نے کہا بانی پی ٹی آئی کو چاہے مزید اے سی لگوا دیں پروا ہ نہیں ،عمران خان کی جیل میں دوسرا اے سی بھی لگا دو اعتراض نہیں، سیاسی مخالفین سے انتقام لینا بہت آسان کام ہے، بانی پی ٹی آئی کو جو مرضی سہولت مل جائے ہماری طرف سے کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہیے، 100 روز میں پنجاب کی حکومت نے انقلابی اقدامات کیے ہیں،جو بول کر جاؤں گی اس کو ایک سال میں پورا کروں گی، پنجاب کا بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر نہیں، ہم نے کاغذی نہیں کیش پیک منصوبے شروع کیے، مہنگائی میں بہت حد تک کمی ہو چکی ہے،برسوں بعد ان کی نااہلی کے بعد عوام کو سکھ کا سانس آیا ہے،ان کے چار سال میں ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں،

    شرم و حیا کے نعرے لگانیوالوں کو توشہ خانہ میں لوٹ مار کرتے وقت شرم کیوں نہ آئی، مریم نواز
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو شرم و حیا کے نعرے لگارہے انکو یہ شرم تب کیوں نہیں آئی جب فوجی تنصیبات پر حملے کررہے تھے اور توشہ خانہ میں لوٹ مار کررہے تھے،پنجاب بھر کے سکولوں میں پری سکول سے پانچویں جماعت تک مفت دودھ کا منصوبہ شروع کریں گے،مفت دودھ کی فراہمی کے منصوبے پر 27 ارب روپے لاگت آئے گی،ہم نے یہ بھی سنا کہ 4 سال حکومت کرنے کے بعد ایک "کریمنل” جملہ کہا گیا میں آلو پیاز کے ریٹ پتہ کرنے نہیں آیا لیکن میں آج ان کے ریٹس میں تاریخی کمی کے بعد یہاں آئی ہوں،

    میرا عہدہ جہازوں گاڑی کے استعمال کےلئے نہیں یہ عوام کی خدمت کا جذبہ ہے،وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے جو مشکل فیصلے کئے اس سے آٹا اور روٹی کی قیمت میں واضح کمی آئی، آٹے کا تھیلا جا تیراں سو اسی کا مل رہا تھا اب وہ آٹھ سو روپے میں دستیاب ہے، اپوزیشن اپنا گلا پھاڑنے کے بجائے کے پی میں روٹی کی قیمت کم کروائے،گندم کی قیمت میں واضح کمی لانے سے براہ راست فائدہ عام آدمی کو ہوا، پیٹرول و ڈیزل کی قیمت کا ثمر عوام کو ملا ، عید الاضحی پر بسوں میں اضافی کرایہ ان مسافروں کو واپس کیا ،سوال تو اٹھتا ہے زمین سے خزانہ تو نہیں نکلا یا تیل کے کنویں تو نہیں نکلے وہی بیوروکریسی اور وہی وسائل ہیں کیونکہ ہمارے دل میں سوچ عوام کی ہے۔ میرا عہدہ جہازوں گاڑی کے استعمال کےلئے نہیں یہ عوام کی خدمت کا جذبہ ہےعیدالاضحی پر تین دن آلائشوں کو صاف کیاگیا وہ تاریخی ہے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے پنجاب کی ایڈمنسٹریشن نے کام کیا، ذیشان رفیق نے پنجاب کی دل سے خدمت کی، سڑکوں کی وہ بدبو ان کے زمانے میں آتی تھی اس بار وہ بدبو شہر لاہور سے نہیں آئی بلکہ خوشبو آئی، ذخیرہ اندوزی ناجائز تجاوزات خاتمہ قیمتوں کے کنٹرول کےلئے نئی انفورسمنٹ اتھارٹی بنائی جا رہی ہے جو قیمتوں کو کنٹرول کرے گی۔ مریم کی دستک پروگرام سے عوام کی دہلیز تک پہنچایا رمضان پیکج دروازہ کھٹکھٹا کر بجایا ، پینسٹھ سروسز کو پنجاب کے ہر ضلع تک پہنچائیں گے یہ کرنا آسان نہیں ان کی نااہلی سے مجرمانہ اقدام کی وجہ سے مشکل تھا،

    انتظامی امور میں سیاسی مداخلت کی جگہ نہیں ،کرپشن کرنیوالوں کو نشان عبرت بنائیں گے،مریم نواز
    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ہم خدمت میں پیچھے نہیں بلکہ بہت آگے جائیں گے، کرپشن ان کی مہربانی سے پاکستان کے طول وعرض میں پہنچ چکی ہے،تین ماہ میں سو پروگرام کی لانچ کے بعد کرپشن کو ختم کرنے کےلئے کام کررہی ہوں،جلد ایسا سسٹم لائوں جو جہاں رشوت مانگے اس کے خلاف سخت ایکشن ہوگا، جو عوام کا پیسہ جیب میں ڈالتے ہیں انہیں پنجاب حکومت نشان عبرت بنا دے گی،انتظامی امور میں سیاسی مداخلت کی جگہ نہیں دی، ایک تقرری بغیر میرٹ کے نہیں ہوگی کوئی وزیر اعلیٰ دعویٰ نہیں کر سکتا اس کے دور میں ایک تقرری بھی سفارش سے نہیں ہوئی، پیپلزپارٹی کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے بھی اسی بات کو مانا اگر ن لیگ کے کہنے پر کوئی تقرری نہیں ہوگی تو ہم بھی نہیں کہیں گے، بہتر پنجاب بنانے کےلئے اتحادیوں کی شکر گزار ہوں،تاریخی کسان پیکج لا رہے ہیں چار سو ارب روپے کا پیکج آ رہا ہے،تیس ارب روپے سے تاریخی کی سب سے بڑی ٹریکٹر سکیم شروع کررہے ہیں، ہر فصل کےلئے بلاسود ڈیڑھ لاکھ روپے قرضہ دیں گے، بیج، ادویات کےلئے ڈیڑھ لاکھ روپے کسان کو ملے گا،کسان کو کہنا چاہتی ہوں کسی کے بہکارے میں مت آئیں آنے والے وقت میں کسان بہت خوشحال ہوگا، کسانوں شرپسند اور پروپیگنڈہ ، لڑائیاں کروانے عناصر کی بات میں نہ آنا،ایگری کلچر ریفارمز ایک چھت میں تمامُ سہولیات دیں گے، ایک چھت کے نیچے کسان کو کوالٹی سیڈ کوالٹی کھاد دیں گے ، کسان کا ہاتھ نہ کٹے کم محنت میں زیادہ پیسہ ملے تو زراعت کے نظام کو میکانائز کریں گے، آٹھ ارب منصوبے میں جدید آلات کے پہلے مرحلے میں تھریشر اور سپر سیڈ دیں گے چالیس فیصد کسان کو دینا پڑے گا،ہماری محنت کش مائیں بہنیں کھیتوں میں کام کرتی ہیں دھوپ و گرم پانی میں گھنٹوں کام کرتی ہیں سلام پیش کرتی ہوں،بہت سارے لوگوں کا تعلق دیہات ہے سولر ٹیوب ویل لا رہے ہیں بجلی و ڈیزل کی مد میں کسان کو سبسڈی دیں گے، آئل سیڈ کی پیداوار کو بڑھائیں گے تاکہ تیل کی قیمت کو نیچے لائیں،تیس ارب روپے کے ٹریکٹر کسانوں کو دیں گے ستر فیصد حکومت تو تیس فیصد حکومت دے گی،حلفا کہتی ہوں تعلیم میں پی ٹی آئی کا انرولمنٹ فراڈ اور جعلی تھا،میپنگ سکول بنائی ہے تاکہ کسی بھی چیز کی کمی کو پورا کریں گے،پہلی بار تعلیم کے شعبہ کو کریکولم ، ٹیچر کا احتساب اور سکلڈ ڈویلپمنٹ پروگرام، آئوٹ آف بچوں کو اچھے سکولوں میں بھیجیں گے، جب تک پورے نظام میں تبدیلی نہیں لاتی سکون سے نہیں بیٹھوں گی، چھوٹے بچوں کےلئے تعلیمی نظام کو تبدیل کروں گی، نوازشریف چلڈرن لائبریری قائم کررہے ہیں کے بجٹ کی منظوری دیدی ہے، ارلی ایجوکیشن پروگرام اور سپیشل ایجوکیشن پروگرام لا رہے ہیں، ہمت کارڈ دینے جا رہی ہوں جس سے تین سے چار ماہ کا خرچہ ہوگا،جو وہیل چئیر نہیں لے سکتا اب معذور افراد کو وہیل چئیر گھر پہنچائوں گی، سکولز کا دورہ کیا تو بتایا گیاکہ اکثر بچے ناشتہ کرکے نہیں آتے عاجزی سے اعلان کرتی ہوں پنجاب بھر میں کلاس ون تک فری کھانا دیں گے، ستائیس ارب روپے کی لاگت سے کلاس تھری سے فائیو تک مفت دودھ سکولوں میں بچوں کو دیا جائے گا، جنوبی پنجاب لیہ بھکر راجن پور سے مفت دودھ والی سکیم کو شروع کریں گے، تمام بچوں کو فری دودھ سکول کی چھٹیوں کے بعد دیا جائے گا،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

  • ڈکیتی مزاحمت پر رواں برس84قتل،فی کس 10 لاکھ دینگے،وزیراعلیٰ سندھ

    ڈکیتی مزاحمت پر رواں برس84قتل،فی کس 10 لاکھ دینگے،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ اسمبلی کے بجٹ سیشن کےدوران ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ رواں برس کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر 84 افراد کو قتل کیا گیا، بدقسمتی سے ان واقعات میں کوئی مزدور مارا گیا کوئی طالب علم مارا گیا۔ یہ ہماری غلطی تھی کہ ہم ان لوگوں کے گھر نہیں گئے اسٹریٹ کرائم میں جاں بحق شہریوں کے لواحقین کی مدد کے لئے 10 لاکھ روپے دئیے جائیںگے، ہم کیس ٹو کیس جائزہ لیں گے، اگر معاوضے کی رقم بڑھانی پڑی تو دیکھیں گے،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم کام کرتے ہیں ،اس لیے ہمیں ووٹ ملتے ہیں ،سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، سندھ حکومت کے علاؤہ کیا کسی صوبائی حکومت نے ایئرپورٹ بنایا ہے ؟اب تھر کی خواتین بھی پنک بسیں چلائیں گی ،تھرپار کر میں پیاز کی چار ارب کی کاشت ہوئی ۔متعدد اسمال ڈیمز بنائے کام کیا اور اپنے کام سے اپوزیشن کا صفایا کیا ،تھر میں ایک سیٹ بھی پی پی نہیں جیتی تھی ،اب پی پی نے اپوزیشن کا صفایا کردیا،سندھ اسمبلی اپنی لیڈر شپ کے اصولوں کے مطابق چل رہی ہے، محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے جسے بلاول بھٹو نے کر دکھایا،صدرآصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو نے ہمیں بتایا اور سکھایا کہ عوام کی خدمت کس طرح کرنی ہے،کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں ووٹ مل رہے ہیں

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاق کے روڈ خراب ہیں جن پر آپ سفر کرتے ہیں اور تنقید سندھ حکومت پر کرتے ہیں ، سندھ حکومت کے زیر کنٹرول سڑکوں کی صورتحال قدرے بہتر ہے،کوشش ہے کہ ملیر ایکسپریس وے کو چودہ اگست تک قائد آباد تک عام ٹریفک کے لئے کھول دیں ۔  وفاق کو کہا ہے کہ لیاری ایکسپریس وے ہمیں دیں تاکہ اس پر ہیوی ٹریفک چلا سکیں ، مگر پتہ نہیں وفاق کو کیا مسئلہ ہے، آپ یہاں بیٹھ کر بس پی پی کی برائی کرتے ہیں ،ہم کام کرتے ہیں اس لئے ووٹ ملتے ہیں ،ابھی تو گزشتہ پانچ برس کے کچھ ترقیاتی منصوبوں پر بات کی ہے

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں،شیری رحمان

    سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں،شیری رحمان

    منگل کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔

    سرکاری ملکیتی ادارے گورننس اینڈ آپریشنز ترمیمی آرڈیننس سینیٹ میں پیش کردیا گیا وزیر مملکت خزانہ علی پرویز ملک نے آڈیننس پیش کیا۔ سرکاری ملکیتی ادارے گورننس اینڈ آپریشنز ترمیمی آرڈینسس بل متعلقہ کمیٹی کےسپرد کردیا گیا.

    سینیٹر خالدہ عطیب نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کل ایمل ولی نے کہا کہ میرا تعلق مہاجر قومی موومنٹ سے ہے، میں وضاحت کروں کہ میرا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے،میں اس بات کی تصیح کرتی ہوں کہ ہم بلا تفریق ہر قومیت کی بات کرتے ہیں۔

    اگر اپوزیشن کو دیوار سے لگائیں گے تو ایوان کو چلنے نہیں دیں گے، شبلی فراز
    قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہاکہ پریزائیڈنگ افسران کا رویہ نامناسب رہا ہے آئندہ ایسے پریزائیڈنگ نہ بنائیں جو پانچ منٹ کی ملنے والی ذمہ داری کو پامال کریں ہمارے سولات اور توجہ دلائو نوٹس شامل نہیں کیے جاتے جو قابل مذمت ہے آپ اپوزیشن کو دیوار سے لگانا چاہتے ہیں ایسا نہیں چلے گا ہمارے سوالات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ، یہ ہمارا آئینی و قانونی حق بنتا ہےہم یہاں حکومت کو بے نقاب کرنے کے لیے ہیں سوالات کی اجازت نہ دینا تشویشناک ہے، میں مسترد کیے گئے سوالات کی فہرست چیئرمین سینیٹ کو فراہم کروں گا ،پیپلزپارٹی کی پارلیمانی لیڈر نے گزشتہ روز ایک قرارداد پیش کی آپ جو قرارداد منظور کرنا چاہتے ہیں وہ یکطرفہ طور پر لگا دیتے ہیں وہ قرارداد ہمیں دکھائی تک نہیں گئی آپ نے ہائوس کو ایک راجواڑہ بنا دیا ہےاگر اپوزیشن کو دیوار سے لگائیں گے تو ایوان کو چلنے نہیں دیں گے، پیپلزپارٹی خود کو جمہوری جماعت کہنا بند کردے آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ ہمیشہ یہاں بیٹھے رہیں گے اس زعم میں کوئی نہ رہے کہ ہم یہ ہیں ہم وہ ہیں ،کل آپ کو ہماری ضرورت پڑے گی ،ہمیں آج بھی ہے ، چیئرمین سینیٹ ایوان کے کسٹوڈین ہیں کسی ایک جماعت کے نہیں ،چیئرمین سینیٹ ہمارے تحفظات کو ختم کریں ۔

    قائد حزب اختلاف روزانہ ماتھے پر غصہ لے کر آتے ہیں،اتنا سریا اچھا نہیں ہوتا، شیری رحمان
    سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ میں نہیں سمجھتی کہ سوالات نظر انداز ہونے چاہئیں قائد حزب اختلاف سراپا احتجاج ہیں، قرارداد سے متعلق قائد حزب اختلاف غلط بیانی کررہے ہیں، میں نے وزیرقانون سے قرارداد پر اپوزیشن کے دستخط کروانے کی التجا کی تھی وزیرقانون نے بتایا کہ وہ دستخط نہیں کررہے یہ نہیں ہوسکتا کہ حکومت قرارداد لائے اور اپوزیشن سے بات نہ کرے،اپوزیشن لیڈر سن لیں اتنا سریا اچھا نہیں ہوتا ،میں بطور اپوزیشن لیڈر آپ کو ساتھ لے کر چلتی تھی، کسی ایک رکن کی بھی توقیر ہوتی ہے قائد حزب اختلاف روزانہ ماتھے پر غصہ لے کر آتے ہیں، پاکستان میں جتھوں کا معاملہ ایک حساس معاملہ ہے، ہم نے قرارداد میں صرف خیبرپختونخواہ کا نہیں پنجاب اور دیگر صوبوں کا بھی ذکر کیا آپ اپنے گریبان کو جھانکیں کنپٹی پر پستول رکھ کر باتیں کی، شاید قائد حزب اختلاف کو ایسا کرنے کی ہدایات ہیں میں روز کھڑے ہوکر نہیں کہتی کہ ہمارے سب سے زیادہ ممبر ہیں دہشتگردی کے خلاف آپریشن پہلے بھی ہوئے ہیں آپ نے ہمیں بجٹ پر بحث نہیں کرنے دی، آپ نے ایوان میں جو رویہ رکھا بہت افسوسناک ہے کوئی معقول بات لے کر آئیں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے ،سینیٹ کے بجٹ کے حوالے سے اختیارات بہت محدود ہیں یہ ایوان سیکنڈ کلاس نہیں ہے یہ صوبوں میں توازن رکھتا ہے سینیٹ نے قومی اسمبلی کو 128 بجٹ سفارشات پیش کی ہیں جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ،امریکہ میں بجٹ دونوں ایوانوں سے منظور ہوتا ہے .قومی اسمبلی سینیٹ کے کئی دن کے کام کو ایک منٹ میں مسترد کردیتی ہے، بجٹ میں ہمارا کردار اس لئے نہیں کہ سینیٹ براہ راست منتخب نہیں ہوا سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں گے قائد ایوان اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر سینیٹ کے اختیارات کا دفاع کیا ۔

    امن کی بحالی کے لیے استحکام پاکستان آپریشن کی حمایت کرتے ہیں،سینیٹر منظور احمد کاکڑ
    سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں دو سو یونیورسٹیاں ہیں جن کے لئے بجٹ میں صرف ساٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں ہمیں اپنی نئی نسل کو معیاری تعلیم دینے کی ضرورت ہےہمیں نوجوانوں کو تعلیمی وظائف دینے کے لئے فنڈز رکھنے چائیےہمیں عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لئے سوچنا ہو گاپاکستان میں امن کی بحالی کے لیے استحکام پاکستان آپریشن کی حمایت کرتے ہیں ہمیں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہے امن ہو گا تو ملک ترقی کرے گا۔سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

  • وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی،بلاول

    وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی،رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ برائے سال 2024-25 پر عام بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کو مشورہ ہے کہ اتحادیوں اور اپوزیشن کیساتھ مشاورت ہونی چاہیے تھی،حکومت بننے سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا تھا جس کے تحت چاروں صوبوں کی پی ایس ڈی پی میں ہم سے مشاورت لے کر بنانی چاہیئے تھی۔ مگر افسوس کے ساتھ حکومت نے اس شرط پر عمل نہیں کیا اگر اس شرط پر عمل ہوتا تو بہتر نتائج سامنے آتے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اورنج ٹرین کا مقابلہ کرنا ہے یا دیگر تو اپنے وسائل سے کیسے منصوبے لے کر آسکتے ہیں ؟پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ جو بینظیر نے شروع کی تھی،اسی کو ہم آگے رکھیں، تھرکول کا کامیاب منصوبہ ہویا روڈ ز ،انفراسٹرکچر کا،یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے ہی کامیاب ہوتے ہیں، اگر صوبے ہدف حاصل نہیں کرتے تو اپنے بجٹ سے ہدف پورا کریں گے، سر پلس سیلز ٹیکس کی صورت میں صوبے اضافی ریونیو اپنے پاس رکھیں گے، امید ہے کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم پاکستان کو مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہوگی، حکومت اب تک مہنگائی کو قدرے کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، پی ٹی آئی حکومت میں باجوہ ڈاکٹرائن کے نام پر اپوزیشن نشانے پر تھی، ہم پاکستان کے بنیادی مسئلے کا دفاع کرنے کے لیے ایک ہوئے، اٹھارہویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کی سازش کی گئی،ہمارا سیاسی فلسفہ پروگریسو ٹیکسیشن میں یقین رکھتا ہے، ہم عام آدمی کو محصولات کی مد میں ریلیف دینے میں اب تک ناکام رہے ہیں، ہر بجٹ بلاواسطہ ٹیکسیشن پر زور دیتا ہے

    نیب اور معیشت ساتھ نہیں چل سکتے،نیب کو ختم کرنا ہو گا،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سیاست آگے بڑھانے کے لئے ایک دوسرے کو جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کو نیب قانون سے استثنیٰ دیا جائے جبکہ ایس آئی ایف سی کے منصوبوں کو بھی نیب سے استثنیٰ دیا گیا ہے ، ہمیں نیب ختم کرنا ہےاور بیوروکریسی کو طاقتور بنانا ہے۔ہمارے منشور میں ہے کہ نیب کو ختم کیا جائے،نیب کے خاتمے سے معیشت کو بھی فائدہ ہوگا،پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہا ہوں نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،بزنس مین ڈرپوک ہوتا ہے وہ پیسہ انوسٹ کرتا ہے تو اسے نیب گھیر لیتا ہے یہ معیشت کیلئے بہتر نہیں ہے . دودھ پہ اٹھارہ فیصد ٹیکس لگانا کسی سیاستدان نہیں بلکہ بابو کا فیصلہ ہے ،سٹیشنری پہ ٹیکس لگانا بھی کسی بابو کا فیصلہ ہے اس قسم کے احمقانہ فیصلے واپس لیے جائیں حکومت کو یقین دلاتا ہوں ہم حکومت کے ساتھ ہوں گے

    عوام کا مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیل جائے گا کون نہیں،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں عوام کے مسائل کیا ہیں عوام کے مسائل حل کریں گے عوام کو مسائل سے نکالیں گے عوام کا مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیل جائے گا کون نہیں،وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کو مشورہ ہے کہ اتحادیوں اور اپوزیشن کیساتھ مشاورت ہونی چاہیے تھی، وزیراعظم نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی، چارٹر آف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوسکتا، چارٹر آف اکانومی معیشت کی ترقی کا پہلا قدم ہوگا، اس کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے، نیشنل چارٹر آف اکانومی بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہوگا،وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی، اربوں کی سبسڈی کسانوں کودیں تومعاشی انقلاب آئےگا،

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا

    آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے عوام دشمن قرار دے دیا۔

    قومی اسمبلی میں اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ اس ایوان کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتی ہوں، اس وقت ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی اور بیروزگاری ہےپوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا یہ بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق ہے؟ کسانوں، مزدوروں، غریبوں کے لیے اس بجٹ میں کچھ نہیں، نئے سال کا بجٹ عوام کی نمائندگی نہیں کرتا، بجٹ کی ترجیحات میں کسان، عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا، کیا پاکستان کے لوگ اس عوام دشمن بجٹ کے مستحق ہیں؟ہمیں عام آدمی کے ریلیف کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں کسان کو مضبوط کرنا ہوگا، کسان کو کبھی سیلاب، کبھی گندم درآمد کا مسئلہ ہے ہمیں ملک کے غریب ترین شہریوں کوسہولیات فراہم کرنا ہوں گی، ہمیں پاکستان اور قوم کی خوشحالی کےلیےکام کرنا ہوگا۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ جذباتی لمحات ہیں کہ وہ اس ایوان سے خطاب کر رہی ہیں جس کا حصہ نانا نانی دادا والدین اور بھائی بھی رہے ہیں۔ہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدرآصف علی زرداری پارٹی کی سینیر قیادت اور خاص طور پر نواب شاہ کے پی پی کے جیالوں اور جیالیوں کی شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے عوام کی ترجمانی کرنے موقع فراہم کیا۔ اس وقت ہم ایک مرتبہ پھرچیلنجنگ حالات میں ہیں۔ حکومت اس سال کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کر رہی ہے کہ ہم بدترین بیروزگاری افراط زر، غربت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم سب اس شاندار ملک کے شہری ہیں اور ہمیں اس بجٹ سے بہت سی امیدیں تھیں۔ہم ایسا بجٹ کی امید کر رہے تھے کہ پاکستان کے عوام کی ضروریات کے مطابق ہوگا اور اس بجٹ میں ہمارے کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود ہوگی۔ ہمیں ایسے بجٹ کی ضرورت تھی جو بڑی کارپوریشنوں کو فائدہ نہ پہنچائیں اور جس کی قیمت ہمارے معاشرے کے غریب لوگ ادا نہ کریں۔ ہم ایسے بجٹ کی توقع کر رے تھے جس میں سبسیڈیز غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کو دیکھ کر انہیں ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ ایک ایسے بجٹ کی ضرورت تھی کہ جو امیر کو اور امیر اور غریب کو اور غریب نہ بنائے۔ ہمیں ایک ایسے بجٹ کی ضرورت تھی جس میں غریب اور امیر کے درمیان فرق کم ہوتا۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اسپیکر سے پوچھا کہ جو بجٹ ان کے سامنے ہے کیا وہ یہ سارے مقاصد پورے کرتے ہے؟ اور کیا پاکستان کے عوام اس بجٹ کے مستحق ہیں۔ پاکستان کے عوام اس سے بہتر بجٹ کے مستحق ہیں اور ہم سب کو متحد ہو کر اپنے شہریوں کے لئے بہتری کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے حالی ہی میں خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان نے اتحاد کے بارے بات کی۔ یہی اس وقت کی ضرورت ہے کہ اس وقت تقسیم کرنے والی سیاست سے ہماری قوم کو خطرہ ہے۔ ہم اپنے نظریات اپنے اصولوں اور اپنے اعمال میں تقسیم ہیں اور مخالفت کو ہتھیار بنا رہے ہیں اور اپنے اختلافات کو تشدد سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں منتخب نمائندوں کی حیثیت سے تمام چیزوں سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برداشت اور تسلیم کرنے جیسے الفاظ صرف تقریروں تک محدود نہیں رہنے چاہیے بلکہ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ ہم نے ایک ہو کر تقسیم کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہوگااور عوام کے لئے عوام کی ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ ہم سب نے ایک ساتھ مل کر اپنے عوام کو ریلیف دینے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے کیونکہ عوام اس شدید گرمی میں 15-15 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہے ہیں۔ اس شدید گرمی میں 15 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تشدد کے مترادف ہے۔ ہمارا کسان مشکل سے فصل اگاتا ہے اور اسے سیلاب میں گنوا دیتا ہے اور جب اس فصل آتی ہے تو اسے فصلوں کے خریدار نہیں ملتے۔ ہمیں اپنے کسان کو مضبوط بنانا ہوگا جو سیلابوں، طوفانوں اور گندم درآمد کرنے جیسے فیصلوں کا سامان کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے متوسط طبقے کی مدد کرنے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے جنہیں نوکریوں کا تحفظ بھی نہیں ہے۔ ہمیں اپنے انسانی وسائل کو ترقی دینا ہوگی اور سب سے غریب طبقات کو براہ راست ریلیف مہیا کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی ہم اپنے عوام کی جانب سے منتخب کرنے کا جواز حاصل کر سکیں گے۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ سیاست کے ایک نئے دور کی ابتداءدیکھیں گی جس میں سب ایک ساتھ مل کر اس ملک اور اس کے شہریوں کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کام کر یں گے۔

    پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے بینظیر بھٹو کے قتل پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔قومی اسمبلی میں کہا کہ جو بھی حکومت آتی ہے وہ کرنے والا کام نہیں کرتی، شازیہ مری کی تمام باتوں سے متفق ہوں، فوج اور سکیورٹی اداروں کے بغیر آپ کچھ نہیں ہیں 16جون 1948ء کو قائداعظم نے فوجی افسروں سے کہا پالیسیاں بنانا آپ کا کام نہیں، عوام نے لیاقت علی خان کو چنا، کیوں اسے چن دیا گیا، قوم کو بے نظیربھٹو کے قاتلوں کا اصل چہرہ دکھایا جائے۔

  • سینیٹ اجلاس،وفاقی بجٹ پر بحث،بینظیر کی سالگرہ پر خراج عقیدت پیش

    سینیٹ اجلاس،وفاقی بجٹ پر بحث،بینظیر کی سالگرہ پر خراج عقیدت پیش

    سینیٹ اجلاس 23 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی چئیرمین سیدال خان کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث ہوئی ۔

    سینیٹر بونجو بھیل نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ آج بےنظیر بھٹو شہید کا جنم دن ہے محترمہ نے پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی انسانی حقوق کے لئے طویل جدوجہد کی انکی خدمات کے لئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا جائے ،ڈپٹی چیئرمین نے کہاکہ پورے ایوان کی جانب سے بےنظیر بھٹو شہید کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔جمہوریت کے لئے انکی جدوجہد کو سراہتا ہوں محترمہ شہید پاکستان اور مسلم امہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔۔ایوان میں متحرمہ بےنظیر بھٹو شہید کے اہصال ثواب کے لئے دعا مغفرت کرائی گئی دعا سینیٹر ساجد میر نے کرائی ۔

    کب تک عالمی اداروں سے بھیک مانگتے رہیں گےکیا کبھی کوئی بھکاری بھی خوشحال ہو سکا ؟سینیٹر بلال احمد خان
    سینیٹر بلال احمد خان نے اظہار خیال نے کہاکہ سب سے پہلے بے نظیر بھٹو شہید کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں انہی کے دئیے گئے وژن کے مطابق پیپلزپارٹی آج بھی جمہوریت کو آگے لے کر جا رہی ہے۔بدقسمتی سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوتا رہا لیکن ٹیکس دائرہ کار نہیں بڑھ سکاایف بی آر نے ٹیکس دائرہ کار بڑھانے کے لئے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں اپنائی اس بار بجٹ میں نو ہزار ارب روپے ٹیکس محصولات کا ہدف رکھا گیا ہےحکومتی اخراجات گیارہ ہزار ارب روہے تک پہنچ گئے ہیں اگر حکومتی اخراجات اسی طرح بڑھتے رہے تو سو سال میں بھی ہم معاشی استحکام حاصل نہیں کر پائیں گے، بھاری ٹیکسوں کے باوجود حکومتی اخراجات اور پی ایس ڈی پی کے لئے فنڈز اکٹھے نہیں پائیں گے، پاکستان سونے تابنے لوہے سمیت قدرتی وسائل سے مالامال ہے76 برسوں میں ہم۔کان کنی کو صنعت کا درجہ نہیں دے سکےتعمیراتی شعبے سے 72 صنعتیں وابستہ ہیں لیکن ہم نے اس شعبے کو بھی صنعت کا درجہ نہیں دیا ہم اپنی معدنیات مٹی کے بھاو دوسروں کو بیچ رہے ہیں ریکوڈک میں سونے تابنے کے ذخائر اس کی بڑی مثال ہے اگر ہم خود ان ذخائر کو ڈویلپ کر پاتے تو ہم ایک ارب ڈالر کی بھیک کے لئے در در کی ٹھوکریں نہ کھاتے۔بجٹ میں کان کنی اور معدنی وسائل سے متعلق کوئی پالیسی نہیں بجٹ میں صرف ٹیکس لگانے پر ہی توجہ دی گئی اپنے سرکاری اداروں کو اونے ہونے داموں بچا جا رہا ہے۔ہر پاکستانی شہری ہر ایک چیز پر ٹیکس دینے کے باوجود ٹیکس چور کہلاتا ہےہر پاکستانی ٹیکس ادا کرنے کے باوجود بھی نان فائلر کہلاتا ہےکب تک عالمی اداروں سے بھیک مانگتے رہیں گےکیا کبھی کوئی بھکاری بھی خوشحال ہو سکا ہےبحیثیت قوم کیا ہم اپنی نئی نسل کو بھی بھکاری بنائیں گے ہمیں اپنی نئی نسل کو معاشی بحالی سے متعلق واضح روڈ میپ دینا ہو گا۔

    عوام کو روزگار دینے کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہےپاکستانی عوام مایوس ہو کر بیرون ملک جا رہے ہیں،سینیٹر قاسم مندوخیل
    سینیٹر قاسم مندوخیل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اٹھارہ ہزار ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیاعوام کو روزگار دینے کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہےپاکستانی عوام مایوس ہو کر بیرون ملک جا رہے ہیں مہنگی بجلی کی وجہ سے پاکستانی صنعت کار کارخانے چلانے کے قابل نہیں ہر پاکستانی ضرورت کی ہر چیز پر بلواسطہ ٹیکس ادا کر رہا ہےیہ کون ہیں جو ملک چلا رہے ہیں اور انھیں عوامی مسائل کا ادراک نہیں۔فیصل آباد میں ٹیکسائل کے ستر کارخانے تھے اب صرف تیس رہ گئے ہیں سرمایہ کار تیزی سے ملک سے باہر جا رہے ہیں ہمیں اپنے عوام کی بھلائی کیلئے امریکہ کی لڑائیوں میں حصہ دار نہیں بننا چاہئیےامریکی مفاد کی لڑائیوں کی وجہ سے آج بھی ہمارے معاشرے میں دہشت گردی ہےرئیل اسٹیٹ پر بھاری ٹیکس لگانے سے تعمیراتی صنعت تباہ ہو جائے گی ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں بلوچستان کے پہاڑوں سے لے کر پنجاب کے زرخیز کھیتوں تک ہر قسم کے وسائل موجود ہیں

    بہت ہی لاچار اور مجبوریوں والا بجٹ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بنایا گیا ،سینیٹر امیر ولی الدین چشتی
    سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ بہت ہی لاچار اور مجبوریوں والا بجٹ ہےیہ بجٹ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بنایا گیا ہے ایک صحتمند اور تعلیم یافتہ معاشرہ ہی ہمیں آگے لے جا سکتا ہے.پہلی بار تعلیم اور صحت کے شعبے پر بھاری ٹیکس عائد کر دیا گیامڈل کلاس پر بھاری ٹیکس لگا کر تباہ کر دیا گیا.ہمارا شرح سود پورے خطے کے مقابلے میں زیادہ ہےگروتھ ریٹ خطے میں سب سے کم ہےہماری پالیسیوں میں تسلسل نہیں، پہلے بتایا گیا کہ الیکڑک گاڑیاں ماحول کے لئے بہتر ہیں، اس میں سرمایہ لگائیں چھ ماہ بعد ہی الیکڑک گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس لگا دیا گیا لگتا ہے کہ بجٹ بہت ہی جلد بازی میں بنایا گیاہمیں 25سے 30 سال کے لئے معاشی پالیسیاں اپنانا ہونگی اس مقصد کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا ہو گا

    سب سے زیادہ ریونیو دینے کے باوجود سب سے زیادہ محرومیاں بھی سندھ میں ہیں،سینیٹر ندیم احمد بھٹو
    سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اٹھارہ ہزار ارب روپے کے بجٹ میں کوئی ٹھوس پالیسی نظر نہیں اتی غریب طبقہ مہنگائی میں پس چکا ہےہمیں معیشت کے حوالے سے میثاق معیشت کرنا ہو گاآئین کے تحت ہر پانچ سال میں این ایف سی ایوارڈ کا اعلان ضروری ہے،آخری این ایف سی ایوارڑ پیپلزپارٹی دور حکومت میں کیا گیاسب سے زیادہ ریونیو سندھ دیتا ہے،کراچی منی پاکستان ہے، کراچی سب کو روزگار دیتا یےپی ایس ڈی پی میں صوبوں کے لئے فنڈز مختص کرنا کا عمل غیر منصفانہ ہےکراچی میں کے فور، سرکلر ریلوے کے منصوبے بروقت مکمل ہونے چائیے تھے وفاق ان منصوبوں کی جلد تکیمل کے لئے فنڈز مختص کرے سب سے زیادہ ریونیو دینے کے باوجود سب سے زیادہ محرومیاں بھی سندھ میں ہیں پیپلزپارٹی نے جمہوریت کی مضبوطی کے لئے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیاپانی کی تقسیم 1991 کے معاہدے کے مطابق کی جائےقدرتی اور معدنی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہوتا ہے1973 کا متفقہ آئین ، اٹیمی پروگرام، پورٹ قاسم، سٹیل ملز ، یوٹیلیٹی سٹورز ، میزائل ٹیکنالوجی ، زرعی اصلاحات پیپلزپارٹی نے کرائےخیبر پختونخوا کو نام شناخت پیپلز پارٹی نے دی صدر آصف علی زرداری نے صدارتی اختیارات کو کم کر کے پارلیمان کے حوالے کئے سندھ کے ایس ائی وی ٹی میں دل کے مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے

    وفاق میں غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرنا ہو گا،سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
    سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں آئی پی پیز کے ساتھ اپنے معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لینا ہو گا21 سو ارب روپے ہم کپیسٹی ادائیگوں کی مد میں ائی پی پیز کو دیتے ہیں ہمیں بجلی کے ان مہنگے معاہدوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی ائی پی پیز کے ساتھ مہنگی بجلی معاہدوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں مہنگی بجلی کے باعث ہمارے ٹیکسوں کی بڑی رقم ان نجی بجلی کارخانوں کو چلی جاتی ہےہمیں اندرونی اور بیرونی قرضوں کو کم کرنا ہو گاہر پاکستانی کی سال میں صرف چالیس ہزار آمدن ہےہر پاکستانی پر دو لاکھ 80 ہزار سے زیادہ قرضہ ہےحکومتی اخراجات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہواسود کی ادائیگی اور دفاع پر خرچ کے بعد ہمارے پاس صرف 33 فیصد فنڈز رہ جاتے ہیں سات ہزار ارب سے زیادہ بجٹ خسارہ ہے جو مہنگے قرضوں سے پورا کیا جاتا ہےہمیں وفاق میں غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرنا ہو گااٹھارویں ترمیم کے تحت جو وزارتیں صوبوں کے پاس چلی گئیں ان کی وفاق میں کوئی ضرورت نہیں ایران سے سالانہ ایک ارب ڈالر مالیت کا ایندھن سمگل ہو کر پاکستان پہنچتا ہےکار ساز کمپنیاں انڈر انوسئنگ کے ذریعے خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں

    بجٹ کے عوام دشمن سے ملک دشمن ہونا زیادہ بری بات ہے ،سینیٹر ساجد میر
    سینیٹر ساجد میر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہرسال ایک طرف سے بجٹ کو بہترین اور دوسری طرف سے بدترین کہاجاتا ہے بجٹ پر متوازن بحث نہیں ہوتی ہے ۔ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں ان حالات میں بجٹ بنالینا ہی بڑی بات ہے ۔ دفاعی اخراجات دشمن سے بچنے کے لیے ضروری ہیں ۔قرض واپس کرنا بھی ضروری ہے ۔ سول انتظامیہ پر بھی اربوں روپے خرچ ہوں گے صوبوں کو حصہ دینے یے بعد کچھ بھی نہیں بچتا ہے 18ہزار ارب میں آدھا قرض لینا پڑے گا ٹیکس بیس کو بڑھایا جائے یہ مشکل راستہ ہے مگر یہ ضروری ہے ہمیشہ سے ہمارے حالات ایسے نہیں تھے ۔ کہاگیا کہ ملک پر 22خاندان مسلط ہیں جس پر نیشنلا ئزیشن کردی گئی۔ بجٹ کے عوام دشمن سے ملک دشمن ہونا زیادہ بری بات ہے ۔ ملک کا جو حال ہوا ہے اس سے نجکاری کی ضرورت ہے نیشنلا ئزیشن نے ملک کو تباہ کیا ہوا ہے ۔ پی آئی اے میں سیاسی بھرتی کی گئی ہے اس لیے پی آئی اے کی نجکاری کی مخالفت کی جارہی ہے ۔

    دو ماہ کا انتظامی بجٹ منظور کر کے پورے بجٹ پر نظر ثانی کی جائے۔سینیٹرشہادت اعوان
    سینیٹرشہادت اعوان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بینظیربھٹو کی یوم ولادت پر ایوان میں دعا کرانے پر سب کا مشکور ہوں ۔ پی ایس ڈی پی پر حکومت نے ہماری جماعت کے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی ہے ۔ پیپلزپارٹی ۔نے مسلم لیگ ن کا اس شرط پر ساتھ دیا تھا کہ پی ایس ڈی پی منصوبوں میں مشاورت کی جائے گی پی ایس ڈی پی میں ہمارے ساتھ کوئی مشاورت نہیں ہوئی ،ایک طرف حکومت فنڈز نہ ہونے کا رونا روتی ہے دوسری جانب کئی نئے منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل کر دئیے گئے۔وفاقی حکومت نے صوبوں نے سرپلس کو پیشگی طور پر اپنی آمدن میں ظاہر کر دیا جو غلط ہے ملازمت پیشہ افراد اور پنشنرز کو افراط زر کے مطابق اضافہ دینا چائیے تھاکراچی میں سب سے بڑا مسلہ پانی کا ہےاس مالی سال کے فور منصوبے پر ستر ارب روپے مختص ہونے تھےبجٹ میں کے فور کے لئے صرف 25 ارب روپے رکھے گئےریلوے کی اراضی کو خالی کرانے کے نام پر ہزاروں لوگوں کو بےگھر کیا گیاوفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بےگھر افراد کو روسری جگہ اباد کریں گے جو نہیں ہو سکابجٹ کو چودہ دنوں میں منظور کرنا درست نہیں صحت اور تعلیم کے شعبوں پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا جس سے مہنگائی کا طوفان ائے گاہم اتحادیوں نے عوام کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھاہم نے مہنگائی ختم کرنے اور روزگار دینے کے وعدے کئے تھےبجٹ میں تو اس سب کے برعکس نظر ا رہا ہےرئیل اسٹیٹ پر بھاری ٹیکس لگانا درست نہیں دو ماہ کا انتظامی بجٹ منظور کر کے پورے بجٹ پر نظر ثانی کی جائے۔

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    تنخواہیں بڑھانے سے ملازمت پیشہ افراد کو کوئی فائدہ نہیں ہوا،سینیٹر ذیشان خانزادہ ن
    سینیٹر ذیشان خانزادہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اپنے نجی شعبے کو مضبوط کرنا ہو گاحکومتوں کا کام کارروبار چلانا نہیں بلکہ پالیسی سازی ہوتا ہےروزگار کے مواقع نجی شعبہ ہی پیدا کرتا ہے،امریکہ کی ایپل کمپنی اور بھارت کی ریلائنس کمپنی اس کی مثالیں ہیں معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہےمہنگی بجلی کے مسلے پر سولر انرجی کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہےسرکاری شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے نو ہزار ارب جبکہ حکومتی اخراجات گیارہ ہزار ارب ہیں تنخواہیں بڑھانے سے ملازمت پیشہ افراد کو کوئی فائدہ نہیں ہوا،کے ایس ای کو گذشتہ سال ساڑھے تین سو ارب کی سبسڈی دی گئی جو بہت زیادتی ہے

    پنجاب میں سڑکوں کو عرق گلاب سے دھویا جا رہا ہے،سینیٹر افنان اللہ
    سینیٹر افنان اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ درست ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں کاش یہ بات اس وقت یاد ہوتی جب اپ امپائر کی انگلی کھڑی کرنے کا کہا جاتا تھاپنجاب حکومت نے مختصر عرصے میں بہترین اقدام کئےخیبر پختونخوا میں کونسے منصوبے مکمل ہوئے وہ بھی بتا دیں وزیراعلی خیبرپختونخوا ہر روز دھمکیاں دیتے ہیں وہ زبردستی گرڈ اسٹیشن کھلوا رہے ہیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سرعام کہتے ہیں کہ بجلی چوری کوئی بری بات نہیں۔کاش کہ اپ خیبر پختونخوا میں کوئی ایک اچھا منصوبہ بھی پیش کر سکتےمیاں نواز شریف کا خواب تھا کہ ملک کا نارتھ سے ساوتھ حصہ موٹروے سے منسلک ہوآج یہ خواب اپنی تعبیر کے قریب ہےجلد حیدراباد سکھر موٹر وے کا حصہ بھی مکمل ہو جائے گاسٹاک مارکیٹ میں انڈکس ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پےمہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی پنجاب میں تو سڑکوں کو عرق گلاب سے دھویا جا رہا ہےہمیں تنقید برائے تنقید نہیں کرنی چائیے

    بلوچستان میں دس افراد کے اغواء کا معاملہ سینیٹر کامران مرتضی نے ایوان میں اٹھا دیا
    ڈپٹی چیئرمین نے چیف سیکرٹری اور ائی جی، وزارت داخلہ بلوچستان سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزارت داخلہ ایف سی بھی رپورٹ طلب کر کے اگلے سیشن میں پیش کرے۔سینیٹ اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا.

    عوام نے مینڈیٹ پی ٹی آئی کو دیا اور حکومت کسی اور نے بنا لی،سینیٹر علی ظفر
    تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہاکہ میں بات کرنا چاہتا تھا، لیکن حکومتی سائیڈ سے کوئی ذمہ دار موجود نہیں وزیر خزانہ کو آج ایوان میں موجود ہونا چاہیئے تھاہماری طرف سے اٹھائے گئے نکات پر جواب کس نے دینا ہے بجٹ دستاویزات کو دیکھنے کو موقع پر ملا ہے یہ بجٹ عوام دشمن بجٹ ہے اس بجٹ میں ماسوائے ٹیکس پیئر کی کمر ٹوٹنے کے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی یہ حکومت عوام کی نمائندگی نہیں کر رہی عوام نے مینڈیٹ پی ٹی آئی کو دیا اور حکومت کسی اور نے بنا لی جب کبھی کوئی غیر نمائندہ حکومت ٹیکس لگاتی ہے تو اس کا ردعمل آتا ہے تین واقعات تاریخ میں درج ہے برطانیہ، امریکہ اور فرنچ ریپبلکن میں انقلاب آ چکے یہ کمر توڑ ٹیکس والا بجٹ اگر منظور ہو گیا تو بہت جلد اس ملک میں انقلاب آ جائیگا، فنانس منسٹر کو میں جانتا ہوں ان کی ٹیکسیشن کے بارے علم کافی کم ہے ان کا حکومتی تجربہ بہت کم ہے وہ سیدھے ایچ بی ایل صدر سے فنانس منسٹر بن گئےفنانس منسٹر نے تقریر میں کہا کہ میں مرض کی شناخت کر دی ہے نا کے مطابق مرض کیا ہے وہ یہ کہ ضرورت سے زیادہ حکومتی مداخلت ہےانہوں نے کہا کہ مارکیٹ گیوں اکانومی ہونی چاہیئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرے میں نے بجٹ تفصیل سے دیکھا ہے فنانس منسٹر کی تقریر سے متعلق کوئی چیز اس بجٹ میں موجود نہیں۔مزید نوٹ چھپے جائیں گے تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا بجٹ تباہی کی ریسیپی (نسخہ )ہے ۔40%بجٹ میں ٹیکس بڑھایا جارہاہے اس سے گروتھ میں کمی ہوگی ۔بجٹ میں کہاگیا کہ ہم بزنس پر ٹیکس بڑھائیں گے صارف پر نہیں لگارہے ہیں مینوفیکچررز یہ ٹیکس صارف پر منتقل کردیں گے یہ خسارے کا بجٹ ہے اس بجٹ سے صرف اس مخلوق کو فائدہ ہوگا جس کو کھانے پینے کی ضرورت نہیں ہے جو کھانے والی مخلوق ہوگی اس کا برا حال ہوجائے گا ۔جس نے بھی بجٹ بنایا ہے اس نے قوم کا نہیں سوچا کہ اس کا کیا بننے گا ۔آدھا سے زیادہ بجٹ قرض واپس کرنے میں لگ جائے گا ۔ہت سال قرض واپس کرنے کے لیے مزید قرض لے رہے ہیں اور یہ پہیا چل رہاہے اس کو ختم کرنے کا کوئی نہیں سوچ رہا ہے ۔جب تک عوام کا چوری شدہ مینڈیٹ واپس نہیں کریں کہ یہ سسٹم نہیں چلے گا اگلے تین ماہ میں منی بجٹ آجائے گا ۔الیکشن کمشین آف پاکستان پاکستان کے ان حالات کا ذمہ دار ہیں اس بجٹ کی وجہ سے پراپرٹی اور کنسٹرکشن کا کاروبار ختم ہوجائے گا ۔ یہ ایسا بجٹ ہے کہ اس میں ایک صوبہ کے لوگ ایوان میں موجود نہیں ہیں ۔ ہمیں ڈیکٹیٹ نہیں کیا جاسکتا کہ آئی ایم ایف کہے رہا ہے کہ یہ کرو تو ہم یہ قانون سازی کررہے ہیں ۔

    وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز نے کہاکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تقریر ہورہی ہے اس وجہ سے وزیرقانون ایوان میں نہیں آئے ہیں ۔

    جمعیت علماء اسلام (ف) کامران مرتضیٰ نے کہاکہ اگر ایوان میں ہم سب بھی نہ ہوں تو ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے سینیٹر علی نے کہاہے کہ کے پی کے کی نمائندگی نہیں ہے اس لیے بجٹ کے لیے ایوان مکمل نہیں ہے ۔ سینیٹ بجٹ پر سفارشات ہی دے سکتا ہے ۔ایس آئی ایف سی کو چھوٹے صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔ اس سے فائدہ نہیں نقصان ہوگا بلوچستان اور کے پی کے کو اس سے نکال دیا ہے ایک تہائی رقبے پر سیکورٹی فورسز کی عمل داری ختم ہوگئی ہے ۔ معاشی انصاف نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ حالات بن رہے ہیں ۔کوئٹہ میں دس لوگ اغوا کیا گیا ہے کیا پہلے کوئٹہ میں زبان کی بنیاد پر اس طرح کے واقعات ہوتے تھے ۔ اس صوبے میں نمبر ون ایجنسی سب سے زیادہ آپریٹ کرتی ہے اس نے الیکشن کو ہی دیکھا ہے یہ معاملات نہیں دیکھ رہے ہیں ۔ ان لوگوں کو عوام نے منتخب نہیں کیا انہوں کو اسٹیبلشمنٹ نے منتخب کیا ہے ۔ اللہ کرے اس ملک میں انقلاب آئے ۔ جو اس ملک کو کنٹرول کررہے ہیں وہ ملک کو چھوڑیں گے تو ملک کا بھلاہوگا۔ اس ملک کے اکثریت کے ساتھ شودروں والا سلوک کیا جارہاہے ۔ بلوچستان کے بچے 20 سال سے واپس نہیں آرہے ہیں اب تو پنجاب سے بھی بچے اٹھائے جارہے ہیں چمن دھرنے کے مسائل حل نہیں کئے جارہے ہیں ان پر پرچے درج کئے جارہے ہیں۔ ڈی چوک اسلام آباد میں فلسطینوں سے اظہار یکجہتی والے دھرنے پر کار چڑھانے والے حادثے پر سینیٹ نے رپورٹ طلب کی تھی ابھی تک رپورٹ نہیں آئے ۔فلسطین کے لیے بجٹ میں یہ لکھ دیں کہ ہم روز بددعائیں دیں گے ۔

    بیرون ملک غیر ملکیوں کے ساتھ جام یہ ٹکرائیں اور الزام ہم پر ،سینیٹر قرۃ العین پی ٹی آئی پر برس پڑیں
    پیپلزپارٹی کے سینیٹر قرۃ العین نے کہاکہ پی ٹی آئی کے دوستوں نے بجٹ کی آڑ میں خوب دل کی بھڑاس نکالی ہمارے علاقے میں بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہےگیس آتی نہیں لیکن گیس کے شعبے کے لئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، پی ٹی آئی نے ہم پر فرنگیوں کو سپورٹ کرنے کا الزام لگایاپی ٹی آئی والے لندن مئیر صادق خان کے مقابلے میں یہودی گولڈ سمتھ کے بیٹے کی حمایت کرتے رہے بیرون ملک غیر ملکیوں کے ساتھ جام یہ ٹکرائیں اور الزام ہم پر لگاتے ہیں ہم سے زیادہ پاکستانی کوئی نہیں۔ہمارے لیڈر نے تو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایاہمارے لیڈر نے تو ملک کو تقسیم ہونے سے بچایااپ کا لیڈر تو حکومت سے اترنے کے بعد ملک پر بم پھینکے کا کہتا ہے،پی ٹی آئی والوں نے تو کہا تھا کہ ان کا لیڈر سمارٹ ہے اس لئے انھیں موسم اچھا لگتا ہے،بلاول بھٹو زرداری نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر خصوصی فنڈ قائم کرایا پی ٹی آئی والے ہمیں ہرگز کمزور نہ سمجھیں۔۔ہم شریف ہیں کمزور نہیں ہیں۔

    اے این پی کے سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہاکہ بجٹ میں ٹیکس کی بھرمار کردی گئی ۔ دوائیوں پر ٹیکس واپس لیا جائے۔پراپرٹی پر ٹیکس کم کیا جائے ۔

    جن لوگوں نے زندگی میں ریل نہیں دیکھی ان کو بھی نان فائلر ہونے کی سزا دی جا رہی ہے،سینیٹر پونجو بھیل
    پیپلزپارٹی کے سینیٹر پونجو بھیل نے کہاکہ 19 کھرب کے بجٹ میں قرضوں پر سود کے لئے کتنی رقم رکھی گئی ہےہمیں اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے چائیےسندھ ملکی ریونیو میں ستر فیصد حصہ دیتا ہےبجلی کی سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ سندھ میں ہےجہاں سے گیس نکل رہی ہے ، وہاں مقامی افراد کو گیس میسر نہیں تھرپارکر میں بجلی پیداوار کے کارخانے لگائے گئے ہیں لیکن مقامی افراد کو گیس نہیں دی جا رہی بھٹو شہید نے سوشلزم کو ہماری پالیسی قرار دیا تھا اب سرکاری اداروں کو بیچا جا رہا ہے۔غریب کے لئے دو وقت کا نوالہ کمانا ممکن نہیں رہاہمارے علاقوں میں انتہا درجے کی غربت ہےجن لوگوں نے زندگی میں ریل نہیں دیکھی ان کو بھی نان فائلر ہونے کی سزا دی جا رہی ہے

  • بلوچستان کا  22 جون کو پیش کیا جانے والا آئندہ مالی سال کا بجٹ سر پلس رہنے کا امکان

    بلوچستان کا 22 جون کو پیش کیا جانے والا آئندہ مالی سال کا بجٹ سر پلس رہنے کا امکان

    کوئٹہ: بلوچستان کا 870 ارب روپے سے زائد کا بجٹ 22 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع محکمہ خزانہ کے مطابق بجٹ میں تعلیم ، صحت، بلدیات اور امن وامان پر خصوصی توجہ دی گئی ہے 3 ہزار نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی، ارکان اسمبلی کے لئے بھی ترقیاتی فنڈز مختص کیے جانے کا امکان ہے 22 جون کو پیش کیا جانے والا آئندہ مالی سال کا بجٹ سر پلس رہنے کا امکان ہے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے 220 ارب سے زائد مختص کئے جائیں گےتعلیمی بجٹ میں ریکارڈ 52 فیصد کا اضافہ کرکے اسے 115 ارب کر دیا گیا ہے، جب کہ صحت کے لیے 68 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔

    محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق پولیس، لیویز میں 3000 نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی، بلدیات کے بجٹ میں 110 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 16 سے بڑھا کر 35 ارب کیا جائے گا، جب کہ سولرآئزیشن اور گرین پاکستان کے لیے پچاس پچاس ارب مختص کئے جائیں گے۔

    جاپان میں48 گھنٹوں کے اندر موت کا سبب بننے والے ”گوشت خور …

    نان فائلر کی موبائل سم، بجلی اور گیس کنکشن بھی منقطع کرنے کی تجویز

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ:بھارت اور کینیڈا کے درمیان میچ بارش کی وجہ سے منسوخ

  • وفاق سندھ کو بھی پاکستان سمجھ کر ترقیاتی اسکیمیں دے،وزیراعلیٰ سندھ

    وفاق سندھ کو بھی پاکستان سمجھ کر ترقیاتی اسکیمیں دے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہماری صوبائی حکومت نے تھر میں ایئرپورٹ بنایا ہے، کسی صوبائی حکومت نے کہیں پر نہیں بنایا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ3500 میگا واٹ بجلی ہم فیصل آباد کو تھر سے دے رہے ہیں،سندھ کا ترقیاتی بجٹ سب سے زیادہ ہے،بجٹ میں دیئے گئے ایک ہزار ارب روپے کے منصوبے مکمل ہوں گے ،سندھ حکومت ہماری نہ پہلی حکومت ہے نہ آخری ہم طویل المدتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں ،وفاق نے کے فور کے لیے 25 ارب روپے رکھے ہیں،آئندہ مالی سال 3.5 فیصد کا شرح نمو کا ہدف مشکل لگتا ہے،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں ہماری تعریف تو سخت ترین دشمن بھی کرتے ہیں، بجٹ میں پرانی اسکیمیں مکمل کرنے پر زور رہے گا، مشکل حالات میں بجٹ بنایا، شرح نمو کا ہدف حاصل کرینگے،وفاق سندھ کو بھی پاکستان سمجھ کر ترقیاتی اسکیمیں دے، اگلے سال سندھ ریونیو بورڈ کا ہدف 350 ارب روپے ہو گا، وفاق سے 1900 ارب روپے ملنے کی امید ہے ،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ اگریکلچر ٹیکس کو ہم کس طرح بہتر کریں وہ ہم نے دیکھا ہے، ہم نے کم از کم تنخواہ 37000 روپے رکھی ہے، سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کی ابتدائی تنخواہ 37000 روپے ہوگی، گریڈ ایک سے 6 تک 30فیصد، گریڈ 7 تا 16 تک 25 فیصد تک اور گریڈ 17 تا 22 تک 22 فیصد تنخواہیں بڑھائی ہیں۔ ہمارے بجٹ کا کل حجم 3.056 ٹرلین روپے ہے، ہم کوشش کریں گےکہ اگلے سال ہم گروتھ پر جائینگے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سال یہ کام نہیں کریں گے، ساٹھ ارب روپے ہم نے ترقیاتی بجٹ میں رکھے ہیں، ترقیاتی پروگرامز میں 956 ارب روپے ہیں، نگراں حکومت نے منتخب حکومت کی ترقیاتی اسکیمز بند کردیں۔صوبائی اے ڈی پی میں 493.092 ارب، ڈسٹرکٹ اے ڈی پی میں 55 ارب روپے، ایف پی اے میں 334 ارب روپے اور وفاقی اے ڈی پی میں 76.971 ارب روپے شامل ہیں۔ آئین میں لکھا ہے کہ ہر ہانچ سال میں ایک نیا این ایف سی آنا چاہیے دو ہزار بیس میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی اب دو ہزار پچیس میں این ایف سی آنا ہے ہم وفاقی حکومت کے اتحادی نہیں اسے سپورٹ کر رہے ہیں،3500 میگا واٹ بجلی ہم فیصل آباد کو تھر سے دے رہے ہیں، ہماری صوبائی حکومت نے تھر میں ایئرپورٹ بنایا ہے، کسی صوبائی حکومت نے کہیں پر نہیں بنایا۔

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • سندھ اسمبلی ،وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ پیش کر دیا

    سندھ اسمبلی ،وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ پیش کر دیا

    سندھ اسمبلی میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کیا گیا
    سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت میں ہوا، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 30کھرب روپے سے زائد تخمینے کا بجٹ پیش کیا، بجٹ دستاویز کے مطابق سندھ کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 959 ارب روپے ہوگا، ترقیاتی بجٹ میں جاری شدہ ترقیاتی اسکیمز بھی شامل ہیں،صوبائی بجٹ میں 32 ارب محمکہ تعلیم اور 18 ارب روپےصحت جبکہ محکمہ توانائی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    سندھ حکومت بازی لے گئی، تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا فیصلہ
    بجٹ تجویز کے مطابق صوبائی اسمبلی کیلئے فنڈز میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ تنخواہوں میں 22 سے30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،لوکل گورنمنٹ329 ارب روپے کے مجوزہ بجٹ کیساتھ ٹاپ تھری میں شامل ہے،بجٹ بنیادی طور پر سیلاب سے متاثرہ کی بحالی اور غریبوں کیلئے سماجی تحفظ پر مرکوز ہے، گریڈ 1 سے 16 تک ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد تک اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گریڈ 17 سے زائد والے ملازمین کی تنخواہ میں 22 فیصد تک اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم اجرت 37 ہزار مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بجٹ پیش کرتے وقت اپوزیشن نے سندھ اسمبلی میں احتجاج کیا اور بجٹ دستاویزات پھاڑ دیں، اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر جاری رکھی.

    سندھ حکومت کامختلف محکموں میں 5 ہزار 295 نوکریاں دینے کا فیصلہ
    نئے مالیاتی بجٹ میں مختلف محکموں کیلئے 5295 نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ محکمہ زراعت میں ایک ہزار نوکریاں دی جائیں گی، ایجوکیشن ایڈمنسٹریشن میں 3 ہزار 45 نوکریاں دی جا ئیں گی، سندھ اسمبلی میں 271، محکمہ انسانی حقوق میں 6، کالج ایجوکیشن میں 74 آسامیاں پیدا کی گئیں، ہائیر سیکنڈری میں 355، ایلیمنٹری اینڈ مڈل ایجوکیشن میں 118آسامیاں پیدا کی گئی ہیں،پرائمری ایجوکیشن میں 35 ، محکمہ قانون اور پارلیمانی میں 93 نوکریاں دی جائیں گی، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں 31نئی خالی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں، فنانس اور ایس اینڈ جی ای ڈی ڈیپارٹمنٹس میں 30،30 نوکریاں دی جائیں گی، نئے مالیاتی بجٹ میں ان ملازمتوں کیلئے 17 ارب 13 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں.

    وفاقی حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی،وفاقی حکومت نے سرکلر ریلوے کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے،وزیراعلیٰ سندھ
    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال میں سولر کےذریعے 5 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جائے گی، اس منصوبے کے لئے 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،کراچی میں سرکلر ریلوے کی بحالی کے لئے دوسال سے بجٹ مختص کررہے ہیں، وفاقی حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی،وفاقی حکومت نے سرکلر ریلوے کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے،وزیراعظم نے سی پیک منصوبے میں سرکلر ریلوے پر کام شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی ،سرکلر ریلوے کی کنسلٹنسی کیلئے 45ملین کا بجٹ رکھا گیا ہے ،حکومت سندھ سرکلر ریلوے کی جب جہاں ضرورت ہوگی فنڈز دے گی ،

    خدمات پر سندھ سیلز ٹیکس کی شرح 13 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ٹیلی کام خدمات پر 18 فیصد ان پٹ ٹیکس کریڈٹ وصول کرنے کی سفارش کی گئی ہے،1500 سے3 ہزار سی سی تک کی امپورٹڈ گاڑیوں پر لگژری ٹیکس ساڑھے 4 لاکھ کرنے کی تجویز ہے،پرفیشنل ٹیکس کو 500روپے سے بڑھا کر 2ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے،پیٹرول پمپس ،سی این جی اسٹیشنز پر پروفیشنل ٹیکس 5ہزار سے بڑھاکر 20 ہزار کرنے کی تجویز ہے،800سے لیکر2100سی سی تک کی گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس 500سے بڑھا کر 5ہزار کرنے کی تجویز ہے،بورڈ آف ریونیو کی تمام لیویز کو بھی بڑھانے کی تجویز ہے،سندھ حکومت کی ہوائی کے ٹکٹ اور الاٹمنٹ پر بھی ڈیوٹی چارجز بڑھانے کی تجویز ہے.
    مختلف پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے روٹ پرمٹ اور گڈز گاڑیوں کی فیس میں اضافے کی تجویز

    انتخابات میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا وقت شروع ہورہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ
    قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا پری بجٹ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹری خزانہ اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے، سندھ کابینہ اجلاس میں نئے مالی سال 25-2024ء کی بجٹ تجاویز پر غورکیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کے 10 نکات پر عملدرآمد کے حساب سے بجٹ بنایا گیا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو کے انتخابات میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا وقت شروع ہورہا ہے، بجٹ میں غربت کے خاتمے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی تجاویز ہیں، اجلاس میں نئے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی تجویز پر غور کیا گیا، سندھ کابینہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہے،