Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • رواں مالی سال24-2023 کا بجٹ لاگو

    رواں مالی سال24-2023 کا بجٹ لاگو

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے مطابق پانچ بڑے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے رواں مالی سال24-2023 کے بجٹ میں اٹھائے گئے اقدامات لاگو کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایکٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا، فنانس ایکٹ 2023کے زریعےبجٹ میں عائد کردہ مجموعی طور پر 415 ارب روپے کے مزید ٹیکس لاگو کردیئے ہیں اب 30 کروڑ کی بجائے 50 کروڑ سالانہ آمدن پر 10 فیصد سپر ٹیکس نافذ ہوگا،فنانس ایکٹ2023کے نافذ ہوتے ہی پٹرولیم لیوی 50 سے بڑھا کر 55 روپے کرنے کے بعد آمدنی پراضافی سپرٹیکس بھی نافذ کردیا ہےسپرٹیکس کیلئےانکم سلیب30 کروڑسےبڑھا کر50 کروڑکردی گئی ہے-

    قابل ٹیکس اشیا کی غیر رجسٹرڈ لوگوں کو سپلائی پر سیلز ٹیکس کی شرح 3 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کردی ہے، بچوں کے500 روپے مالیت تک کے 2 گرام کے دودھ کے ڈبے پر سیلز ٹیکس5 فیصد سے بڑھا کر6 فیصد کردیا ہے،بینکنگ کمپنیوں کی 30 کروڑ سے زیادہ آمدن پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگ گیا، سالانہ 15 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 0 سطح پر برقرار رکھی گئی ہے، بڑے شعبوں میں 30 کروڑسے زیادہ کمانے پربھی10 فیصد ٹیکس دینا ہوگا-

    بڑےشعبوں میں پیٹرولیم، گیس، ادویہ سازی، شوگر، ٹیکسٹائل پربھی، فرٹیلائزر، لوہا،اسٹیل،ایل این جی ٹرمینل،آئل مارکیٹنگ،آئل ریفائنر، ایئرلائنز، آٹوموبائلز، بیوریجز،سیمنٹ، کیمیکلز، سگریٹ، تمباکوسیکٹر بھی شامل ہیں کھاد پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد، ماہانہ دو لاکھ روپے سے زائد کی تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح میں اڑھائی فیصد اضافہ کردی گئی ہے جبکہ نان فائلرز کیلئے پچاس ہزار روپے سے زائد کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر 0.6 فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔

    سالانہ40 کروڑ سے50 کروڑ کمانےوالی کمپنیوں سے8 فیصد سپر ٹیکس لیا جائیگا،35 کروڑ سے 40 کروڑ آمدن پر سپرٹیکس کی شرح 4 سے بڑھ کر6 فیصد ہوگئی ہےسالانہ 30 کروڑ سے 35 کروڑ روپے آمدن پر 4 فیصد، 25 کروڑ سے 30 کروڑ آمدن پر 3 فیصد ،20 کروڑ سے 25 کروڑ روپے آمدن پر 2 فیصد،15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے آمدن پر 1 فیصداورسالانہ 15 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح صفر سطح پر برقراررکھی گئی ہےاسی طرح ماہانہ دو لاکھ روپے سے زائد یعنی سالانہ 24 لاکھ سے زائد آمدن پر انکم ٹیکس 2.5 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے-

    پراپرٹی کی خرید وفروخت پر ایک فیصد ٹیکس بڑھادیا گیا ہے، پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس ایک سے بڑھا کر دو فیصد کردیا ہے پراپرٹی کی خرید و فروخت سے مزید 45 ارب روپے حاصل ہوں گے۔

    اس کے علاوہ ڈرگ ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ادویات سازوں اور سپلائرز سمیت پوری سپلائی چین کو بھی ٹیکس سے چھوٹ دیدی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے مالی سال 24-2023 کے وفاقی بجٹ میں 2000 سی سی سے زائد گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کر دیاہے۔

  • قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023  کا وفاقی بجٹ منظور

    قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023 کا وفاقی بجٹ منظور

    اسلام آباد: آئندہ مالی سال 24-2023 کا وفاقی بجٹ منظور کرلیا گیا ،قومی اسمبلی نے فنانس بل 24-2023 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی بجٹ کا کل تخمینہ 14 ہزار 480 ارب روپے ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ ساڑھے 900 ارب روپے ہوگا،جبکہ حکومت کی جانب سے بہت سی ترامیم بھی کی گئی ہیں، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی حد 50 روپے سےبڑھاکر 60 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے، جس کے بعد آئی ایم ایف معاہدے کی ایک اور شرط پوری ہوگئی ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ بجٹ میں 215 ارب سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 ارب سے بڑھا کر 9 ہزا 415 ارب کردیا گیا پنشن ادائیگی 761 ارب سے بڑھا کر 801 ارب کردی گئی ہےآئندہ مالی سال کے منظور شدہ بجٹ کے مطابق این ایف سی کے تحت 5 ہزار 276 ارب روپے کے بجائے 5 ہزار 390 ارب روپے ملیں گے۔

    غلام محمود ڈوگر کیجانب سے لینڈ مافیا کی سرپرستی کا انکشاف،اینٹی کرپشن کی تحقیقات شروع

    پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے جعلی ویڈیو شئیر کرنے پررانا ثناء اللہ کا …

    فنانس بل میں مزید ترمیم کے تحت 215 ارب کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 459 ارب روپے کے بجائے 466 ارب روپے کردی گئی ہے پراپرٹی کی خرید اور فروخت پر ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 2 فیصد کرنے کا امکان ہے، پراپرٹی ٹیکس بڑھانے سےحکومت کو 45 ارب کے اضافی ٹیکس وصول ہوں گے کھاد پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا بھی امکان ہے، کھاد پر فیڈرل ایکساٸز ڈیوٹی بڑھانے سے 35 ارب اضافی وصول ہوں گے انکم ٹیکس میں سالانہ 24 لاکھ سے زائد آمدن پر ٹیکس 2.5 فیصد اضافہ کیا ہے پرانی ٹیکنالوجی والے پنکھوں اور پرانے بلب پریکم جنوری 2024 سے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کی ترمیم منظور کی گئی ہے، یہ ترمیم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیش کی اب پرانی ٹیکنالوجی والے پنکھوں پر یکم جنوری 2024 سے 2 ہزار روپے فی پنکھا ٹیکس عائدہوگا، پرانے بلب پر یکم جنوری 2024 سے 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

    آئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے،شاہ محمود قریشی

    فیصل آباد سے بدنام زمانہ انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر کو گرفتار

    استور کے جنگل میں آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا،ہزاروں درخت جل گئے

  • آئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے،شاہ محمود قریشی

    آئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے،شاہ محمود قریشی

    ملتان: تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قوم کے سامنے پیش کیا گیا بجٹ کچھ اور ہے اور منظور کرایا جانے والا بجٹ کچھ اور ہو گا۔

    باغی ٹی وی: ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 215 ارب روپے کے مزید ٹیکسز لگا دیئے گئے ہیں، قوم پہلے ہی مہنگائی میں پس چکی ہے فنانس بل کو ریوائز کیا جا رہا ہے، جو پہلے ٹیکس لگے ہیں وہ موجود ہیں اور ان میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہےآئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے، قوم کے سامنے پیش کیا گیا بجٹ کچھ اور ہے اور منظور کرایا جانے والا بجٹ کچھ اور ہو گا۔

    استور کے جنگل میں آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا،ہزاروں درخت جل گئے

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعتیں تقریباً 40 فیصد بند ہو چکی ہیں اورمزید بند ہو رہی ہیں،انڈسٹریز اس وقت بحران کی کیفیت میں ہیں اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی پروڈکشن متاثر ہو رہی ہے ٹیکسٹائل اور زراعت کا برا حال ہے، ملک کی معیشت سکڑ رہی ہے اور حکمران جو بات کر رہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہیں، زرعی شعبہ بھی بحران کا شکار ہے، کھاد مہنگی ہوتی جا رہی ہے،اس پر 5 فیصد ڈیوٹی لگادی گئی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔

    پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے جعلی ویڈیو شئیر کرنے پررانا ثناء اللہ کا …

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ وزیرِ خارجہ نے امریکی صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم کے اعلامیے پر تبصرہ نہیں کیا، امریکی صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم کی ملاقات کے اعلامیے میں کشمیریوں کی پامالی کا ذکر تک نہیں، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر کوئی تبصرہ ہی نہیں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر سب خاموش ہیں-

    آئی ایم ایف کا اعتراض،بجٹ میں پیش کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم واپس لے لی گئی

  • آئی ایم ایف کا اعتراض،بجٹ میں پیش کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم واپس لے لی گئی

    آئی ایم ایف کا اعتراض،بجٹ میں پیش کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم واپس لے لی گئی

    عالمی مالیاتی فنڈ (آ ئی ایم ایف) کے مطالبے پر بجٹ میں پیش کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم واپس لے لی گئی، ایمنسٹی اسکیم کا مقصد ملک میں ڈالر کی قلت پر قابو پانا تھا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق بیرون ملک سے ایک لاکھ ڈالر بھجوانے پر ذرائع آمدن ظاہر نہ کرنےکی چھوٹ دی گئی تھی، بیرون ملک سے رقوم بینکنگ چینل کے ذریعے بھیجنےکی شرط عائد کی گئی تھی اور آئی ایم ایف نے اس ایمنسٹی اسکیم پر اعتراض اٹھایا تھا۔

    اس کے علاوہ 2 ہزار سی سی سے بڑی لگژری گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ کھاد کی فروخت پر 3 روپے فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہے۔

    انسانی اسمگلنگ میں ایجنٹ مافیا کے ساتھ اداروں کے افسرملوث ہوتے ہیں،وزیر دفاع

    خیال رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نویں جائزے اور پروگرام کی بحالی کی راہ میں رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقاتوں اور رابطوں سے یہ پیشرفت ممکن ہوئی ہے، وزیراعظم اور ایم ڈی آئی ایم ایف کے درمیان پیرس میں رابطوں اور ملاقاتوں سے بریک تھرو ہوا ہے۔

    جاپان میں نئے جان لیوا وائرس کا انکشاف

    دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے ( آ ئی ایم ایف) کی مشاورت ی مشاورت سے نئے فنانس بل کی تیاری جاری ہےآئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کے لیے نئے بجٹ میں تبدیلیوں کا امکان ہےوزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ بجٹ میں 215 ارب سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 ارب سے بڑھا کر 9 ہزا 415 ارب کردیا گیا۔

    انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، 2 انسانی اسمگلرز گرفتار

    ذراٸع کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط پر دی گئی سبسڈی واپس لیے جانے کی تیاری کی جارہی ہے پراپرٹی کی خرید اور فروخت پر ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 2 فیصد کرنے کا امکان ہے، پراپرٹی ٹیکس بڑھانے سےحکومت کو 45 ارب کے اضافی ٹیکس وصول ہوں گے کھاد پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا بھی امکان ہے، کھاد پر فیڈرل ایکساٸز ڈیوٹی بڑھانے سے 35 ارب اضافی وصول ہوں گے انکم ٹیکس میں سالانہ 24 لاکھ سے زائد آمدن پر ٹیکس 2.5 فیصد اضافہ کیا ہے۔

    منی لانڈرنگ کیس:ضمانت ملنے کے باوجود پرویز الہی کی رہائی نہ ہو سکی

  • ظلم یہ کرتے ہیں گالیاں ہم کھاتے ہیںِ، کیا ہم اس لیے حکومت میں آئے تھے؟ نور عالم خان

    ظلم یہ کرتے ہیں گالیاں ہم کھاتے ہیںِ، کیا ہم اس لیے حکومت میں آئے تھے؟ نور عالم خان

    قومی اسمبلی اجلاس کا اجلاس ڈپٹی سپیکر کی صدارت میں ہوا

    پببلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ اجلاس ہے صرف دو وزیر آتے ہیں، گرمی میں عوام کا بڑا حال ہے نہ بجلی کا وزیر آ رہا ہے نہ پانی کا، پورے ملک میں بجلی کا بحران ہے،ظلم یہ کرتے ہیں گالیاں ہم کھاتے ہیںِ، کیا ہم اس لیے حکومت میں آئے تھے؟ بجلی کا نرخ تو روز بڑھ رہا ہے لیکن لوگوں کو بجلی نہیں دی جا رہی،کیا پشاور، پنجاب، بلوچستان، لاڑکانہ اور سکھر کے عوام پاکستانی نہیں ہیں، ہم بے عزتی کے لیے یہاں نہیں بیٹھے ہیں، لوڈ شیڈنگ کرنی ہے تو وقت مقرر کریں، اس معاملے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے ،

    نور عالم خان کا کہنا تھا کہ ملک میں درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری چل رہا ہے، مہنگی بجلی تو عوام کو دی جائے، خدارا ہوش کے ناخن لیں اور معاملے کو حل کریں، لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور سوئی گیس کی فراہمی کنٹرول سے باہر ہے،جمعے کے دن 12 سے 2 بجے لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہیئے، تاکہ لوگ جمعہ کی نماز تو سکون سے پڑھ سکیں ،ڈپٹی سپیکر صاحب اس پر رولنگ دیں،

    اندیشہ ہے کہ ایک متنازعہ بینچ کا فیصلہ بھی متنازعہ ہو گا،رانا ثناء اللہ
    قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے انصاف پر مبنی ہوں، انصاف ہوتے نظر آنا چاہئیے۔نامزد چیف جسٹس نے بینچ کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھایا ،بینچ مقدمہ سننے اور فیصلہ سننے کے لئے بضد ہے۔7 رکنی بینچ الیکشن کیس میں 3 ارکان تک آ گیا ۔ہو سکتا ہے یہ بینچ بھی 9 سے کم ہو کر 4 تک آ جائے۔ اندیشہ ہے کہ ایک متنازعہ بینچ کا فیصلہ بھی متنازعہ ہو گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے آپ کو بینچ سے الگ نہیں کیا۔اس کے باوجود دوبارہ بینچ بنا دیا گیا۔بابا رحمتے اس وقت نفرت کا نشان بن چکا ہے۔ پارلیمان کی کمیٹی جب اس کے بیٹے کو بلاتی ہے تو حکم امتناعی جاری کیا جاتا ہے۔ موجودہ بحران کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری عدالتیں انصاف نہیں کر رہیں۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ کے ججز سیاست کر رہے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی نے وحشیانہ طریقے سے پنجاب کو لوٹا۔ اگر آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کسی کا ٹرائل نہیں ہو سکتا تو کالعدم قرار دیں۔ یہ آرٹیکل اس لئے موجود ہے کہ دفاعی تنصیبات پر حملے کی صورت میں ٹرائل ہو۔قومی اسمبلی اجلاس میں نماز جمعہ کے لئے 3 بجے تک وقفہ کر دیا گیا

    ایک شخص نے نوجوان ذہنوں میں زہر بھر دیا نفرت، انتقام، بداخلاقی، اداروں کے خلاف بے اعتباری کا، شائستہ پرویز
    ممبر قومی اسمبلی شائستہ پرویز نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی پاکستان کی تاریخ کا تاریک دن تھا، ایک جتھے نے جناح ہاؤس اور کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر دھاوا بولا،میں بطورِ پاکستانی اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہوں،اس دن پاکستان میں جو ہوا وہ ایک شخص کی غیر زمہ دارانہ تقریروں کا نتیجہ تھا جس پر پوری قوم شرمسار ہے،یہ فوج ہماری ہے، اور افواجِ پاکستان پر ہمیں فخر ہے،ہماری فوج وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دیتی ہے،یہ ہماری ماؤں کے بیٹے، بہنوں کے بھائی اور بیٹیوں کے سہاگ ہیں، جو وطن کی راہ میں قربان ہوتے ہیں،ہم ان کی قربانیوں کے قرض دار ہیں،ایک شخص نے نوجوان ذہنوں میں زہر بھر دیا نفرت، انتقام، بداخلاقی، اداروں کے خلاف بے اعتباری کا،ہمیں ہنگامی بنیاد پر اقدامات کرنے ہوں گے اور اس کا آغاز تعلیمی اداروں سے کرنا ہوگا، تربیت پر توجہ دینی ہوگی، وسائل مہیا کرنے ہوں گے تاکہ اس کا سدباب ہوسکے،ہمارا نعرہ تعلیم سب کے لیے کے بجائے معیاری تعلیم سب کے لیے ہونا چاہیے جس کے لیے وسائل کی دستیابی اور فیوچر لائن آف ایکشن کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے یوتھ پروگرام قابل ستائش ہے ۔ قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا نظام فرسودہ اور پرانا ہو چکا ہے،سرمایہ کاری میں ترقی کے لئے مسائل کی نشاندھی پہلی شرط ہے ۔

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

  • کے پی کے  بجٹ کا آغاز مالی خسارے کے ساتھ

    کے پی کے بجٹ کا آغاز مالی خسارے کے ساتھ

    خیبرپختونخوا حکومت مالی سال 2023-24 کا آغاز 4 ارب روپے کے خسارے سے کرے گی ۔ محکمہ خزانہ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کو مالی سال مکمل کرتے وقت 4 ارب خسارے کا سامنا ہوگا جس کیلئے وفاق سے بات چل رہی ہے۔ پیشگی ادائیگیاں ہوگئیں تو یہ خسارہ آئندہ ماہ کی ادائیگی میں مکمل کر لیا جائے گا جس کے باعث نئے سال کے آغاز کو خسارے سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔
    محکمہ ترقی و منصوبہ بندی ذرائع کے مطابق اس وقت ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 50 ارب روپے ٹھیکیداروں کے بقایاجات ہیں جو مالی سال 2022-23 کے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں خرچ کئے گئے ہیں۔ ان ادائیگیوں کیلئے صوبائی حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہیں جس کے باعث اب یہ ادائیگیاں بھی آئندہ برس کی جائیں گی۔ اگر ٹھیکیداروں کی رقم اس میں شامل کرلی جائے تو خیبرپختونخوا حکومت کو مجموعی طور پر 54 ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور آئندہ مالی سال کا آغاز 54 ارب کے خسارے سے ہوگا جس نے صوبائی حکومت کیلئے مالی بحران کے شدید ہونے کے اشارے دے دئیے ہیں۔

  • پنجاب کی نگران حکومت  آج بجٹ پیش کرے گی

    پنجاب کی نگران حکومت آج بجٹ پیش کرے گی

    لاہور: پنجاب کی نگران حکومت آج بجٹ پیش کرے گی۔

    باغی ٹی وی: محکمہ خزانہ پنجاب کے ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت 1368 ارب روپے سے زائد کا مجموعی بجٹ پیش کرے گی 4 ماہ کے بجٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 426 ارب 87 کروڑ روپے اور غیرترقیاتی منصوبوں کے لیے 941 ارب 34 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جوائنٹ پریروٹیزکمیٹی نے بجٹ کےاعداد و شمارکی منظوری دے دی ہے اور نگران کابینہ آج اجلاس میں 4 ماہ کے بجٹ کی منظوری دے گی۔

    گریڈ ایک سے 16 تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اور گریڈ 17 سے 22 تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے گا جب کہ پنشن میں اضافےکا فیصلہ کابینہ کےاجلاس میں ہوگا محکمہ ہائر ایجوکیشن منصوبوں کے لیے 69 ارب 8 کروڑ، لٹریسی اور غیررسمی تعلیم کے لیے 4 ارب 64 کروڑ روپے،پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکے لیے 64 ارب 84 کروڑ روپے اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے لیے 58 ارب 21 کروڑ روپے مختص کرنےکی تجویز ہے۔

    پنجاب پولیس؛ بیمار اہلکاروں کے علاج کیلئے 1 کروڑ 11 لاکھ 86 ہزار …

    ذرائع کے مطابق صنعت و تجارت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 32 ارب 18 کروڑ، محکمہ اطلاعات و ثقافت کے لیے 3 ارب 41 کروڑ ، توانائی کےلیے 10 ارب 60 کروڑ روپے اورخواتین کی بہبود کےلیے 2 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنےکی تجویز ہے صوبائی حکومت مختلف بینکوں کی 565 ارب روپے کی مقروض ہے اور اس سال 32 ارب روپے سود کی مد میں ادا کرے گی-

    دوسری جانب آئندہ مالی سال کے بجٹ پر حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اختلافات سامنے آئے ہیں، اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس آج طلب کیا ہے چیئرمین پیپلز پارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور دونوں جماعتوں کے مالی امور سے متعلق وزرا اورماہرین اجلاس میں شریک ہوں گے۔

    یونان میں عوام کا تارکینِ وطن کے خلاف پالیسیوں پر احتجاج

    واضح رہےکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سوات میں جلسے سے خطاب کے دوران وزیر اعظم سے بجٹ میں وعدے پورے نہ کرنےکا شکوہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پیسا نہ ملا تو پیپلز پارٹی بجٹ منظور نہیں ہونے دے گی۔

    اپنے خطاب کے دوران انہوں نے وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم پر دوہرے معیار کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کچھ اور بجٹ میں کچھ اور سامنے آیا، اس وقت ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، وزیراعظم اپنی ٹیم میں شامل ان لوگوں سے ضرور حساب لیں جو وعدے پورے کرنے میں رکاوٹ ہیں ہمیں وزیراعظم کی نیت پر شک نہیں، انہوں نے خود سیلاب کی تباہی دیکھی، وہ سیلاب متاثرین سے کیے گئے وعدے پورے کریں، ہم عوام کا خیال رکھتے ہیں جب کہ دوسری جماعتیں مخصوص افرادکا خیال رکھتی ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب سےطویل ملاقات

  • وزیر اعظم شہباز شریف 22 جون کو پیرس پہنچیں گے

    وزیر اعظم شہباز شریف 22 جون کو پیرس پہنچیں گے

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جمعرات کو پیرس میں مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے-

    باغی ٹی وی :” دی نیوز” کے مطابق شہباز شریف ماحولیات سے متعلق بین الاقوامی سمٹ میں شرکت کریں گے جبکہ شاہد خاقان عباسی آج سے شروع ہونے والے ایئر پیرس شو میں مہمان ہوں گے شہبازشریف جمعرات 22 جون کو پیرس پہنچیں گے جہاں شاہد خاقان پہلے سے موجودہوں گے-

    شاہد خاقان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کا رکن قومی اسمبلی ہونے کے ناطے وہ جنرل کونسل کے بھی ممبر ہیں ‘اجلاس میں شرکت کیلئے انہیں کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں تھی اگر میں ملک میں ہوتا تو جنرل کونسل اجلاس میں ضرورت شرکت کرتا مجھے اس بات کا علم نہیں کہ مفتاح اسماعیل مجھے ملنے کراچی سے اسلام آباد آئے تھے ۔

    امریکی وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب سےطویل ملاقات

    شاہدخاقان نے جنرل کونسل اجلاس کے موقع پر پارٹی عہدیداران کے الیکشن کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ وطن واپسی کے بعد اس معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے ۔

    انہوں نے کہا کہ بجٹ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی بجٹ منظوری کیلئے پارٹی نے انہیں بلایا تووہ فوراًوطن واپس آئیں گے تاہم انہیں ایسے کوئی صورتحال نظرنہیں آتی کہ بجٹ کی منظوری کیلئے کسی ایک رکن کی موجودگی ضروری ہو۔

    پنجاب پولیس؛ بیمار اہلکاروں کے علاج کیلئے 1 کروڑ 11 لاکھ 86 ہزار …

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم اور پی ایم ایل این کے مضبوط رہنما شاہد خاقان عباسی نے بیرون ملک ہونے کے باعث گزشتہ جمعہ کو یہاں منعقدہ اپنی پارٹی کے جنرل کونسل اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔

  • کابینہ  کا سائز چھوٹا کرنے کی بجائے بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا،خالد مسعود سندھو

    کابینہ کا سائز چھوٹا کرنے کی بجائے بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو اور جنرل سیکرٹری محمد اعظم چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں موجود سیاسی و معاشی بحران کے ذمہ دار وہ سب سابقہ حکمران ہیں جو گزشتہ 30 سالوں سے ملک میں برسر اقتدار رہے ہیں۔سابقہ حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ہمیشہ ترجیح دی ہے، جنہوں نے غلط پالیسیاں بنا کر، کرپشن کرکے، ناجائز مراعات حاصل کرکے اور قرضے معاف کروا کر ملک کو معاشی اور اقتصادی بحران سے دوچار کیا ہے اور اب آئی ایم ایف کا بہانہ کرکے مشکل فیصلوں کا سارا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں کارکنان اور ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ کو چاہیے کہ اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات اگر ایک سال کے لیے روک لیں تو ان میں کوئی ایک بھی بھوکا یا پیاسا نہیں مرے گا ہم گارنٹی دیتے ہیں، آج بھی بجٹ خسارہ درست کرنے کے لیے شاہانہ حکومتی اخراجات کم کرنے، کابینہ کا سائز چھوٹا کرنے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی بجائے سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جارہا ہے ۔آئی ایم ایف امریکہ انڈیا اور دوسرے پاکستان مخالف ممالک کے تعاون سے جو پالیسیاں ہمارے اوپر مسلط کررہا ہے،

    خالد مسعود سندھوکا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان کا متوسط طبقہ پس کر رہ گیا ہے،پاکستان میں سالانہ دو ہزار 660 ارب روپے کی مراعات مختلف مدات میں اشرافیہ کو دی جاتی ہیں ۔موجودہ معاشی حالات میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے کہ حکمرانوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ ٹیکس چوری،اشرافیہ کو مراعات اور اربوں روپے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں جیسے مسائل پر توجہ دی جائے، آئی ایم ایف نے حکومتی اشرافیہ کے شاہانہ اخراجات کو نظر انداز کرکے صرف غریب سے زندہ رہنے کا بھی حق چھیننا چاہتا ہے ملک کو تباہ کرنے میں آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے حکمرانوں کا برابر کا ہاتھ ہے جو غریب مکاؤ پالیسی پر عمل کرنے جارہے ہیں۔

    ملک کی ترقی میں مزدوروں اور محنت کشوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے

    بہن بھائیوں کو بھی عید کی خوشیوں میں اپنے برابر کاشریک کریں 

    قرضے لیکر معیشت میں کبھی بھی استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا،

  • بی آر ٹی   پشاور کے کرایوں میں یکم جولائی سے اضافہ کا امکان

    بی آر ٹی پشاور کے کرایوں میں یکم جولائی سے اضافہ کا امکان

    شدید ترین مالی خسارے کے باعث آئندہ نئے مالی سال کے بجٹ میں بی آر ٹی کے سبسڈی اڑھائی ارب روپے سے کم کر کے ڈیڑھ ارب روپے کرنے کی تجویز سامنے آگئی ہے جس کے باعث بی آر ٹی کیلئے آئندہ برس سروس جاری رکھنا شدید مشکل ہو جائے گا۔ سبسڈی کم کرنے کے بعد اضافی ملازمین کو فارغ کرنے یا کرایوں میں اضافہ کرنے کی تجاویز پر عمل درآمد کیا جائے گا
    رواں مالی سال کے بجٹ میں سابق حکومت کی جانب سے بی آر ٹی پر سبسڈی اڑھائی ارب روپے مختص کئے گئے تھے شدیدترین مالی خسارے کے باعث صوبائی حکومت نے کمپنی کو آدھی رقم جاری کی ہے ۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق سبسڈی کے حجم میں کمی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بی آر ٹی کے کرایوں میں یکم جولائی سے اضافہ کیا جائے گا۔ یا پہلے سے موجودہ اضافی ملازمین کو فارغ کیا جائے گا۔55نان آپریشنل بی آر ٹی کی گاڑیوں کے بارے میں بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔