Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • حکومت کا پیش کردہ وفاقی بجٹ عوام و تاجر دوست بجٹ ہے، نعیم میر کا دعویٰ

    حکومت کا پیش کردہ وفاقی بجٹ عوام و تاجر دوست بجٹ ہے، نعیم میر کا دعویٰ

    آل پاکستان انجمن تاجران کی سپریم کونسل کے چیئرمین نعیم میر نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ بجٹ کے حوالے سے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا پیش کردہ وفاقی بجٹ عوام و تاجر دوست بجٹ ہے، وزارت خزانہ نے مشاورت کے ساتھ تجاویز کو من و عن کو قبول کیا معاشی صورتحال کے باوجود متوازن بجٹ پیش کیاجانا شہباز شریف حکومت خراج تحسین کی مستحق ہے،

    نعیم میر کا کہنا تھا کہ حکومت کا آخری بجٹ ہے اس کے بعد الیکشن میں جا رہے ہیں، پی ڈی ایم کو حکومت نو مئی کی ملی نو مئی کے بعد ہی گورننس دکھانے کا موقع ملا ہے،نو مئی قابل مذمت اور قابل افسوس دن ہے سیاسی عدم استحکام عروج پر تھا، یہ وقت ہے پی ڈی ایم کی حکومت تاجروں کی حکومت ہے اب کارکردگی دکھائے،وفاقی بجٹ میں جو اہداف مقرر کئے اس پر عمل درآمد کرے ،سیلز ٹیکس کالا ٹیکس اور جبری قانون تھا جو قاسم کے ابو کے دور کا ٹیکس لگایا گیا اب ختم کر دیا گیاہمارے مطالبات پر بجلی کے بلوں پر ٹیکس نافذ نہیں کیاگیا نان فائلر پر نیا ٹیکس لگایا گیا، نان فائلر پر 0.6ٹیکس لگایا گیا جو اچھا اقدام ہے،وفاق کو 57ریونیو کا اٹھارہویں ترمیم سے صوبوں کو دینا ہے،وفاق نان ٹیکس ریونیو کو زیادہ بڑھائے اب سات ہزار تین سو ارب قرض کی صورت میں ادا کرنا ہے،اگر ڈالر مہنگا ہوجاتا ہے تو آٹھ ہزار ارب کا قرضہ دینا ہوگا قرض لے کر ہی قرض ادا کر سکتے ہیں کیونکہ کوئی چوائس نہیں،سرکولر ڈیڈ پر صوبے اپنا حصہ ڈالنے پر تیار نہیں

    نعیم میر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف استحکام پاکستان پارٹی بن چکی ہے،این ایف سی ایوارڈ کے تحت جو وفاقی فنڈز کا مسئلہ حل کرے،سولر سسٹم اور اعلی ڈیوٹیاں ختم کر دی گئی ہیں جس سے عوام کو فائدہ ہوگا، اٹھارہویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ سارا پیسہ صوبے کے پاس ہے وفاق تو کنگلا ہوگیا ہے،صوبے دفاع و قرض کیلئے پیسے دیں پورے پاکستان کے قرضے ستائیس کلومیٹر والی حکومت نے ادا کرنے ہیں،گھریلو صارفین کو قرضہ دیں تاکہ وہ سولر سسٹم سے بجلی کی مشکلات سے باہر نکل جائے،مہنگی بجلی سے مہنگے خریدار کو اگر نہیں دیں گے تو اس سے نیا سرکولر ڈیڈ پیدا ہوجائے گا،مہنگی بجلی مہنگے گاہک کو دیں سستے گاہک کو سولر دیں،احسن اقبال سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے یکم جولائی سے رات آٹھ بجے فیصلہ نافذ ہوگا ،تجارتی مراکز کو رات آٹھ بجے بند ہوں گی،،پولیس غنڈوں اور قانون شکنوں کے خلاف احتجاج کریں گے،

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

  • کارکنان کو اشتعال دلانے والا ایک ہی آدمی تھا وہ عمران خان ہے، رانا ثناءاللہ

    کارکنان کو اشتعال دلانے والا ایک ہی آدمی تھا وہ عمران خان ہے، رانا ثناءاللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کابینہ اجلاس سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کا اپنا پانسہ پلٹ چکا ہے ،ْان کو سمجھ لگ جائے گی، انہوں نے ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا ،

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو نفرت لوگوں میں منتقل کی انہوں نے اس کا علاج خود ہی کرلیا ہے، عمران خان کا ارادہ تھا کہ کہ ملک کے کسی حادثے سے دو چار کیا جائے آج وہ خود ہی اس حادثے سے دو چار ہوچکے ہیں،جن لوگوں نے شہدا کے قبروں پر ڈنڈے برسائے توڑ پھوڑ کی انکو معاف نہیں کیا جائے گا،جو خواتین جلاو گھیراو میں ملوث ہیں انکو قانون ہی رعایت دے سکتا ہے ،سزا میں کمی ہو سکتی ہے، کارکنان کو اشتعال دلانے والا ایک ہی آدمی تھا وہ عمران خان ہے، اشتعال دلانے والے جو دوسرے اور تیسرے درجے کے لوگ ہیں وہ کچھ خوف سے کچھ لالچ سے دوسری پارٹیوں میں گئے ہیں ،

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ آمد کے موقع پر کہا ہے کہ ‏تعلیم، صحت کے فروغ اور آبادی پر کنٹرول سے پاکستان کی ترقی کی راہ ہموار ہو گی ،سستی اور بلا تعطل توانائی کی فراہمی سے معیشت و کاروبار میں نئی تیزی آئے گی، رواں سال 6210 ارب روپے ٹیکس ریونیو جمع ہوئے، رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں لاکھ12 ہزار نئے ٹیکس دہندگان کو رجسٹرڈ کیا ،وفاقی ترقیاتی بجٹ سے معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی اورروزگار بڑھے گا،تجارتی خسارے میں 40.4 فیصد کمی معاشی اقدامات کی درستگی ظاہر کرتی ہے ،تجارتی خسارہ 25.8 ارب ڈالر ہوگیا جو 43.4 ارب ڈالر تھا ، یہ بہتری کی جانب آغاز ہے ،درآمدات میں 29.2 فیصد کمی ہوئی جس کے معاشی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئ5ای فریم ورک پاکستان میں معاشی ترقی کا گیم چینجر ثابت ہو گا،ایکسپورٹس،ای پاکستان،واٹر اینڈ فوڈ سیکیورٹی ٹرن آ راؤنڈ پاکستان کے ستون ہیں، فریم ورک سےبرآمدات میں اضافے کے لیے نئے کاروبار، روزگار کی حوصلہ افزائی ہوگی،

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشی اہداف حاصل نہ ہونے کا مطلب حکومتی ناکامی نہیں ہے، ہم نے سیاست قربان کرکے ریاست بچائی اور معاشی تباہی کے سامنے بندھ باندھا ہے، جہانگیر ترین کی جماعت سے ن لیگ کو کوئی خطرہ نہیں، جہانگیر ترین کی جماعت سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے،
    عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے اور ملکر مشکلات کو حل کریں گے اگرہم سیاست کو بچاتے تو ملکی حالات اور بھی خراب ہوجاتے . سیاست گنوائی لیکن حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا دفاع بجٹ کے حساب سے دفاعی صلاحیت کو نہ تولا جائے ،عام آدمی کو ریلیف ضرور ملے گا لیکن حالات کے مطابق ہوسکتا ہے کہ ریلیف نہ دے سکیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ سرکاری ملازمین، غریبوں کے لیے بہترین بجٹ ہے،بلاول بھٹو زرداری اگلے وزیراعظم ہوں گے ساری توجہ الیکشن پر ہے،قاسم کے ابا کہتے تھے کھمبے کو کھڑا کر لوں جیت جائے گا وہ باتیں کہاں گئی،

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

  • وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی بجٹ اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی بجٹ اجلاس

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی بجٹ اجلاس جاری ہے
    ‏وفاقی کابینہ نے 1150 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی) کی منظوری دے دی‏ پنجاب کے 36 اضلاع میں 60 منی سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیے جائیں گے ،خیبرپختونخواکے 34 اضلاع میں 50 منی اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کا پلان ہے،سندھ کے 29 اضلاع میں 40 منی اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کا پلان ہے پاکستان اٹامک انرجی کیلئے 26 ارب 10 کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کیے جائیں گے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے 15 کروڑ، پیٹرولیم ڈویژن کیلئے ایک ارب 50 کروڑ مختص کئے جائیں گے،پلاننگ ڈویژن کیلئے 24 ارب 89 کروڑ، تخفیف غربت و سماجی تحفظ کیلئے 50 کروڑ رکھنے کا فیصلہ‏ کیا گیا ہے، حکومت نے آئندہ مالی سال میں کھیلوں کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے،

    وفاقی کابینہ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا بھی حتمی فیصلہ کیا جائے گا وزارت خزانہ کے حکام کابینہ کو بجٹ لے آؤٹ پر بریفنگ دیں گے بجٹ کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا کابینہ اجلاس میں 24 مئی اور 7 جون کے اقتصادی رابطہ کمیٹی کےفیصلوں کی توثیق ہوگی

    وفاقی بجٹ ، اراکین اسمبلی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، حکومتی اراکین اسمبلی میں سے مصدق ملک ، خواجہ آصف پارلیمنٹ پہنچ گئے ،بجٹ دستاویزات پارلیمنٹ میں پہنچا دی گئیں ،اے این پی کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی بھی پارلیمنٹ پہنچ گئے مسلم لیگ ن کے رہنما انجینئر امیر مقام پارلیمنٹ پہنچ گئے ایم کیو ایم پاکستان کی رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ پارلیمنٹ پہنچ گئی

    وزیر اطلاعت مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ آمد کے موقع پر کہا ہے کہ ‏تعلیم، صحت کے فروغ اور آبادی پر کنٹرول سے پاکستان کی ترقی کی راہ ہموار ہو گی ،سستی اور بلا تعطل توانائی کی فراہمی سے معیشت و کاروبار میں نئی تیزی آئے گی، رواں سال 6210 ارب روپے ٹیکس ریونیو جمع ہوئے، رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں لاکھ12 ہزار نئے ٹیکس دہندگان کو رجسٹرڈ کیا ،وفاقی ترقیاتی بجٹ سے معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی اورروزگار بڑھے گا،تجارتی خسارے میں 40.4 فیصد کمی معاشی اقدامات کی درستگی ظاہر کرتی ہے ،تجارتی خسارہ 25.8 ارب ڈالر ہوگیا جو 43.4 ارب ڈالر تھا ، یہ بہتری کی جانب آغاز ہے ،درآمدات میں 29.2 فیصد کمی ہوئی جس کے معاشی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئ5ای فریم ورک پاکستان میں معاشی ترقی کا گیم چینجر ثابت ہو گا،ایکسپورٹس،ای پاکستان،واٹر اینڈ فوڈ سیکیورٹی ٹرن آ راؤنڈ پاکستان کے ستون ہیں، فریم ورک سےبرآمدات میں اضافے کے لیے نئے کاروبار، روزگار کی حوصلہ افزائی ہوگی،

    بجٹ اجلاس آج سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا . وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 2023-24 کا بجٹ پیش کریں گے ، بجٹ کا حجم 13 ہزار 800 ارب روپے سے زائد ہوگا بجٹ کا خسارہ 6 ہزار ارب سے زائد ہوگا جب کہ 7300 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے ،مذکورہ بجٹ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کا دوسرا بجٹ ہوگا۔

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

  • بجٹ،آئندہ مالی سال 2023-24 کیلئے سالانہ ڈویلپمینٹ پلان

    بجٹ،آئندہ مالی سال 2023-24 کیلئے سالانہ ڈویلپمینٹ پلان

    وفاقی حکومت آج پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے ساتھ ساتھ اہم قانون بھی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے، وفاقی حکومت نے ڈالر اوردیگر کرنسی ذخیرہ اندوز کرنے پر سزا کے لئے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے، نئے قانون کا اطلاق پاکستان کی کرنسی کی زخیرہ اندوزی پر ہو گا، اس میں افراد پر بھی قانون کا اطلاق ہو گا، اداروں پر بھی ہو گا، قانون کے مطابق زخیرہ اندوزی کرنیوالوں کو سزا اور جرمانہ کیا جائے گا،. دوسری جانب بیرون ممالک سے غیرملکی کرنسی لانے کی حد بڑھانے کا بھی قانون لائے جانے کا امکان ہے ، بیرون ملک سے سالانہ ایک لاکھ ڈالر لائے جا سکیں گے، بیرون ملک سے سالانہ ایک لاکھ ڈالر لانے والوں سے زرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا، اس وقت ذریعہ آمدن ظاہر کیے بغیر 50 لاکھ روپے مالیت کی کرنسی پاکستان لانے کی اجازت ہے

    ‏سولر پینل کی مینوفیکچرنگ کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم ہو گی،سولر پینل کی بیٹریز کی تیاری کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم، سولر پینل کی مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی ختم، سولر پینل کے انورٹر کے خام مال پر بھی ڈیوٹی کا خاتمہ،ڈائپرز کی مینوفیکچرنگ کے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی ختم ہو گی، پولی ایسٹر کی مینوفیکچرنگ کیلئے مختلف خام مال پر ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، معدنیات کے شعبے کی مشینری امپورٹ کرنے پر ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹیکسٹائل کے شعبے کے رنگ اور دیگر متعلقہ خان مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    آئندہ مالی سال 2023-24 کیلئے سالانہ ڈویلپمینٹ پلان سامنے آیا ہے،آئندہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے،زرعی شعبے کا ہدف 3.5 فیصد، اہم فصلوں کا ہدف 3.5 فیصد مقرر ،آئندہ مالی سال کیلئے صنعتوں کی پیداواری گروتھ کا ہدف 3:4 فیصد مقررکیا گیا ہے مینوفیکچرنگ کا ہدف 4.3 فیصد، سروسز کے شعبے کا ہدف 3.6 فیصد مقرر،لائیو اسٹاک کا ہدف 3.6 فیصد، کاٹن کیننگ گروتھ کا ہدف 7.2 فیصد مقرر،جنگلات کی گروتھ کا ہدف 3.0 فیصد، فشنگ شعبے کی گروتھ کا ہدف 3.0 فیصد مقرر،آئندہ مالی سال کیلئے لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ کا ہدف 3.2 فیصد ،الیکٹریسیٹی جنریشن اور گیس ڈسٹریبیوشن کی گروتھ کا ہدف 2.2 مقرر کر دیا گیا ہول سیل اینڈ ریٹیل سیکٹر کی گروتھ کا ہدف 2.8 فیصد مقرر کر دیا ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 5.0 فیصد مقرر کر دیا آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کی گروتھ کا ہدف 3.0 فیصد مقرر .نجی شعبے کی پیداواری گروتھ کا ہدف 5.0 فیصد مقرر کر دیا گیا رئیل اسٹیٹ کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کر دیا گیا، فنانشل اینڈ انشورنس کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 3.7 فیصد مقرر کر دیا گیا

    بجٹ 2023-24 کی دستاویز کے مطابق ایوی ایشن کیلئے 5 ارب 45 کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کیے گئے، سرمایہ کاری بورڈ کیلئے 1 ارب 11 کروڑ روپے پی ایس ڈی پی مد میں مختص کیے گئے، کیبنٹ ڈویژن کیلئے 90 ارب 12 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی، کلائمیٹ چینج ڈویژن کیلئے 4 ارب 5 کروڑ، کامرس ڈویژن کیلئے 1 ارب 10 کروڑ مختص کیے،ڈیفنس ڈویژن کیلئے 3 ارب 40 کروڑ، ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن کیلئے 2 ارب کا بجٹ مختص کیا گیا،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کیلئے 84 کروڑ، فنانس ڈویژن کیلئے 3 ارب 22 کروڑ پی ایس ڈی پی میں مختص کئے گئے،وزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کیلئے 8 ارب 50 کروڑ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں خرچ کرے گی آزاد جموں وکشمیر کیلئے 60 ارب 90 کروڑ، انضمام شدہ اضلاع کیلئے 57 ارب مختص کیے گئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 59 ارب 71 کروڑ، ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیلئے 36 ارب 70 کروڑ مختص کئے گئے ہیومن رائٹس ڈویژن کیلئے 81 کروڑ، وزارت صنعت وپیداوار کیلئے 3 ارب مختص کیے جائیں گے سال 2023-24 میں وفاقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ملک بھر کی جامعات میں ڈیڑھ فیصد کٹوتی ہو گی سال 2023-24 کے لئے چاروں صوبوں کی جامعات کے انفرادی فنڈزمیں کٹوتی کی منظوری دی گئی، صوبائی ایچ ای سی نے سندھ کی جامعات کی گرانٹ میں اضافہ تجویز کردیا ہے،حکومت سندھ نے اعلی تعلیم کیلئے بجٹ بڑھا دیا حکومت سندھ نے مالی سال 2023-24 نے سرکاری گرانٹ 14 ارب روپے سے بڑھا کر21 ارب روپے کردیئے۔این ای ڈی یونیورسٹی کی صوبائی گرانٹ 69 کروڑ سے 1 ارب 14 کروڑ روپے ،مہران یونیورسٹی کی گرانٹ 97 کروڑ سے 1 ارب 45 کروڑ روپے ہوجائے گی ۔ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کی صوبائی گرانٹ 55 کروڑ سے 89 کروڑ روپے ،جامعہ کراچی کی گرانٹ 1ارب49کروڑ سے 2 ارب 46کروڑ،لیاری یونیورسٹی کی گرانٹ 12 سے 18 کروڑ روپے ہوجائے گی۔داود انجینئرنگ یونیورسٹی کی گرانٹ 83کروڑ سے1ارب 11کروڑ روپے کردی گئی سندھ یونیورسٹی جامشورو کی گرانٹ 1ارب42کروڑ سے 1ارب 93 کروڑ روپے ہوجائے گی۔

    بجٹ 2023-24 ،اگلے سال ملک میں 250 منی سپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،
    منصوبے پر 12 ارب روپے لاگت آئے گی، دستاویزکے مطابق وفاق اور صوبے پچاس پچاس فیصد فنڈز خرچ کریں گے، پنجاب کے 36 اضلاع میں 60 منی سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیئے جائیں گے ،پختون خواہ کے 34 اضلاع میں 50 منی سپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے، سندھ کے 29 اضلاع میں 40 منی سپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کا پلان سامنے آیا ہے بلوچستان کے 33 اضلاع میں 30 منی سپورٹس کمپلیکس تعمیر ہونگے،اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 70 منی سپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے پختون خواہ میں ضم 10 قبائلی اضلاع میں بھی کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں گی،

    مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 17 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی،اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب 91 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کے رہ گئے پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں سترہ کروڑ بیالیس لاکھ ڈالر کی کمی کی بعد 9 ارب تینیس کروڑ اڑتالیس لاکھ ڈالر ہوگئے کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں تین لاکھ ڈالر کی کمی کی بعد پانچ ارب بیالیس کروڑچھبیس لاکھ ڈالر رہ گئے چھیس مئی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں زرمبادلہ ذخائر 21.81 کروڑ ڈالر کم ہوئے جس کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب اور 51 کروڑ ڈالرآ گئے تھے۔

    بجٹ اجلاس آج سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا . وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 2023-24 کا بجٹ پیش کریں گے ، بجٹ کا حجم 13 ہزار 800 ارب روپے سے زائد ہوگا بجٹ کا خسارہ 6 ہزار ارب سے زائد ہوگا جب کہ 7300 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے ،مذکورہ بجٹ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کا دوسرا بجٹ ہوگا۔

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

  • بجٹ میں  وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے شروع کئے جائیں گے

    بجٹ میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے شروع کئے جائیں گے

    اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم پیکج میں سولر پاور منصوبے کیلئے 30 ارب مختص کرنے کی تجویز دی گئی،وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم کیلئے 10 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی،اس کے علاوہ نوجوانوں کیلئے چھوٹے قرضوں کیلئے10 ارب مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

    کینیڈا کے جنگلات میں آگ،امریکا میں بھی شدید فضائی آلودگی کا انتباہ جاری

    کھیلوں کے فروغ کیلئے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی،وزیر اعظم سبز انقلاب پروگرام کیلئے 5 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے،خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے 5 ارب روپے کا پروگرام شروع کرنے کی تجویز دی گئی-

    یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کئلئے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی، وزیراعظم آئی ٹی پروگرام کیلئے 5 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی۔

    دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے ٹیکس اہداف کیلئے نئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے،ذرائع کے مطابق نان فائلرز کیلئے میوچل فنڈز پر تیس فیصد ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، درآمدی لگژری اشیاء پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو بڑھایا جائے گا۔

    محکمہ صحت اور اسپتالوں کی انتظامیہ ڈاکٹروں کو کام پر لانے میں ناکام،ہڑتال 8ویں روز …

    ذرائع کے مطابق پراپرٹی سیکٹر میں نان فائلرز کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس دوگنا کیا جائے گا، نان فائلرز کیلئے پرائز بانڈز پر ود ہولڈنگ ٹیکس بڑھایا جائے گا، پلاٹ کی خرید و فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس نان فائلرز کیلئےدگنا ہوگا،بجٹ میں 720 ارب کے نئے ٹیکسز عائد کیے جائیں گے، ایف بی آر نے آئندہ مالی سال کیلئے 9200 ارب ہدف مقرر کیا گیا ہے، ایف بی آر آئندہ مالی سال 19 سو ارب اضافی اکٹھے کرے گا۔

    جبکہ کاروباری شخصیات نے آئندہ بجٹ میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے پیپر انڈسٹری سے وابستہ انڈسٹریلسٹ کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے ایف بی آر کو فعال کیا جائے۔ ملکی ریونیو کو بڑھانے کیلئے نئے لوگوں کو ٹیکس کیلئے رجسٹرڈ کیا جائے۔

    سعودی ولی عہد اور روسی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی،

    حکومت نے قانون پر نظرثانی کیلئے وقت مانگ لیا ،عدالتی عملے نے کمرہ عدالت میں آ کر آگاہ کر دیا ، عدالتی عملے نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق بجٹ اجلاس کی وجہ سے قانون پر نظرثانی میں وقت لگے گا، آج جسٹس شاہد وحید طبیعت ناسازی کی وجہ سے دستیاب نہیں تھے بینچ نامکمل ہونے کی وجہ سے کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،کمرہ عدالت میں سات کرسیاں لگا دی گئی تھیں، تا ہم جج کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے سماعت نہیں ہو سکی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کی گئی ہے ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

  • انضمام شدہ اضلاح ،بجٹ میں ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    انضمام شدہ اضلاح ،بجٹ میں ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے،

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے خیبر پختونخوا کے انضمام شدہ اضلاح سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے انضمام شدہ اضلاع کے لوگوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. وزیر اعظم شہباز سے وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانی ساجد حسین طوری، ممبران قومی اسمبلی محسن داوڑ اور محمد جمال الدین نے اسلام آباد میں ملاقات کی. ملاقات میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، اور متعلقہ اعلی حکام نے بھی شرکت کی.ملاقات میں وفد نے وزیرِ اعظم کو بجٹ کے حوالے سے صوبہ خیبر پختونخوا کے انضمام شدہ اضلاع کے مسائل کےحل کیلئے اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں پر تجاویز دیں. وزیرِ اعظم نے ان تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان پر مشاورت کرکے انہیں بجٹ میں شامل کرنے کی ہدایات جاری کیں.

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ معیشت کا بگاڑ ٹھیک کرنے میں مزید کئی ماہ لگیں گے، آئندہ بجٹ ٹیکس فری نہیں دے سکتے، ٹیکس آمدن نہ بڑھائی تو خسارہ بے قابو ہوجائے گا،پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہے، بحیثیت قوم اب اسی راستے پر چلنا ہے، نویں جائزے کے مکمل ہونے کے لیے پرُ امید ہیں،وزیر اعظم کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے بات چیت کے مثبت نتائج آنے کا امکان ہے، اسٹاف لیول معاہدے کے بعد حالات بہتر ہوں گے،آئندہ بجٹ میں مہنگائی کنٹرول کرناسب سے بڑا چیلنج ہے

  • آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارہ ایک ٹریلین روپے ہو جانے کا اندیشہ ہے

    آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارہ ایک ٹریلین روپے ہو جانے کا اندیشہ ہے

    اسلام آباد: آئندہ مالی سال قرضے اتارنے کی مد میں سب سے بڑے اخراجات پورے کرنے کے لیے وفاقی وصولیاں ناکافی ہوں گی جس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ ایک ٹریلین روپے ہو جانے کا اندیشہ ہے-

    باغی ٹی وی: بجٹ اسٹرٹیجی پیپر جسے پاکستان فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت ہر مالی سال کے لیے 15 اپریل تک پارلیمنٹ سے منظور ہو جانا چاہیے لیکن یہ ابھی تک کابینہ سے منظورنہیں ہو سکا ہے۔

    پی ٹی آئی کے سیاسی حالات میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی، اسد عمر

    تاہم اگر ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں آئندہ بجٹ میں ہدف کے مطابق 9.2 ٹریلین روپے ہو جاتی ہیں تو این ایف سی ایوارڈ میں اپنے حصے کی بنیاد پر 57.5 فیصد صوبوں کو فراہم کیا جا سکے گا جس سے مجموعی وفاقی وصولیاں 4 ٹریلین اور صوبوں کا حصہ 5.2 ٹریلین روپے ہو جائے گا –

    غیر ملکی دورے کرنےوالوں پرود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

    اس طرح آئندہ بجٹ سے مجموعی ریونیو کا حجم 6.5 ٹریلین روپے کے قریب ہو جائے گاآئندہ بجٹ میں قرضے اتارنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ 21 فیصدکی روشنی میں مطلوبہ رقم کا تخمینہ 7.5 ٹریلین روپےلگایا گیا ہے،اس طرح ایک ٹریلین روپے بجٹ خسارے کا اندیشہ ہے۔

    ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کیخلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

  • غیر ملکی دورے کرنےوالوں پرود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

    غیر ملکی دورے کرنےوالوں پرود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے غیر ملکی دورے کرنےوالے فائلرز و نان فائلرز کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز آگئی۔

    باغی ٹی وی: نئے مالی سال 2023-24 کے بجٹ کی تیاریاں جاری ہیں ڈیجیٹل سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جمع کرانے کا اختیار صوبوں سے واپس لیے جانے کا امکان ہے۔

    پرویز الہی کے بیٹے، دو بہوؤں کیخلاف منی لانڈرنگ کیس،چپڑاسی کا کردار بھی آ گیا

    ذرائع ایف بی آر کے مطابق غیر ملکی دورے کرنے والے نان فائلز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، فائلر کے مقابلے میں نان فائلز انٹر نیشنل وزیٹرز پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے بزنس اور کلب کلاس کے انٹرنیشنل ائیرٹکٹس پر پہلے ہی ود ہولڈنگ ٹیکس عائد ہے۔

    یاسمین راشد کینسر کی مریضہ،بزرگ،جوڑوں کا درد،ضمانت دیں، وکیل

    ذرائع ایف بی آر کے مطابق ڈیجیٹل سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جمع کرانےکا اختیار صوبوں سے واپس لینے کا بھی امکان ہے۔ ریورس چارج میکانزم ایک پیچیدہ نظام ہےجس سےفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) چوری کےامکانات بڑھ جاتےہیں ڈیجیٹل سروسز پر ود ہولڈرز ایف ای ڈی سے بچنے کیلئے خود کو آخری صارف نہیں سمجھتے ملٹی نیشنل کارپوریشنز پاکستان میں ٹیکس سے بچنے کیلئے پیچیدہ ڈھانچے کا استعمال کرتی ہیں، ایف ای ڈی وصولی کے اختیار سے وفاقی حکومت ان کارپوریشنز پر ٹیکس لگانے کے قابل ہوگی۔

    پارکس میں شہریوں کے داخلے کیلئے فیس وصولی کیخلاف درخواست دائر

  • بجٹ تجاویز،وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس

    بجٹ تجاویز،وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز پر اعلی سطحی اجلاس ہوا،

    وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ بجٹ میں پی ایس ڈی پی میں نوجوانوں کی ترقی کیلئے خصوصی طور پر رقم مختص کی جائے.آئندہ بجٹ میں نوجوانوں کو اعلی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور باوقار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات شامل کئے جائیں.نوجوانوں کی اعلی تعلیم کیلئے پاکستان اینداؤمنٹ فنڈ قائم کیا جائے. بجٹ میں باصلاحیت اور حسن کارکردگی کے حامل طلباء اور طالبات کو آئی ٹی کے ہنر سے لیس کرنے کیلئے مفت لیپ ٹاپس کا پروگرام شامل کیا جائے.اینڈاؤمنٹ فنڈ سے نوجوانوں کو اعلی و پیشہ ورانہ تعلیم اور آئی ٹی میں مہارت کی تربیت دی جائے گی. وظائف و تعلیم کیلئے شفافیت اور میرٹ کے عنصر کو کلیدی اہمیت دی جائے .بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کیلئے منصوبے شامل کئے جائیں

    وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ کسان پیکیج کے تحت شروع کئے گئے منصوبے جاری رکھے جائیں.بجٹ میں قابل تجدید توانائی کے منصوبے شامل کئے جائیں.پن بجلی کے منصوبوں اور توانائی کے شعبے کی جدت کیلئے بجٹ میں خصوصی رقوم مختص کی جائے.ایسے منصوبے جو سست روی کا شکار ہو کر سالہا سال سے پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں اور اپنی اہمیت کھو چکے ہیں انہیں اس کے دائرہ کار سے نکالا جائے. بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کو شامل کرتے وقت صوبوں، متعلقہ شعبے کے اسٹیک ہولڈرز اور اتحادی جماعتوں کو مکمل اعتماد میں لے کر انکی تجاویز کو شامل کیا جائے

    دوسری جانب بجٹ سے ایک ہفتہ قبل ایک کھرب سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی،میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 114 ارب کے منصوبوں کی منظوری دی، آئندہ مالی سال 2023-24 کے وفاقی بجٹ سے صرف ایک ہفتہ قبل 10 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی۔ 114 ارب مالیت کے ان ترقیاتی منصوبوں کی منظوری وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں دی گئی ،اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق 96 ارب کے 3 منصوبے حتمی منظوری کیلیے ایکنک کو بھیج دیے گئے ہیں جب کہ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبے کی لاگت میں 61 ارب روپے تک اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں 800 میگا واٹ مہمند ڈیم کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا جس پر 13.8 ارب کی لاگت آئے گی جبک 22 ارب کا سندھ سولر پاور پراجیکٹ اور سائبر سیکیورٹی کے لیے 1.7 ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔جامشورو میں کینسراسپتال کی اپ گریڈیشن کام نصوبہ منظور کیا جس پر 1.8 ارب روپے لاگت آئے گی اس کے علاوہ اسکردو میں 3.6 ارب روپے کی لاگت سے یونیورسٹی کے قیام، ریلوے ڈویژن سکھر کے لیے 9.6 ارب کے ٹریک سیفٹی منصوبے سمیت گوادر ایسٹ بے کے لیے 1.4 ارب روپے کے انفرااسٹرکچر منصوبوں کی منظوری دی گئی

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ معیشت کا بگاڑ ٹھیک کرنے میں مزید کئی ماہ لگیں گے، آئندہ بجٹ ٹیکس فری نہیں دے سکتے، ٹیکس آمدن نہ بڑھائی تو خسارہ بے قابو ہوجائے گا،پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہے، بحیثیت قوم اب اسی راستے پر چلنا ہے، نویں جائزے کے مکمل ہونے کے لیے پرُ امید ہیں،وزیر اعظم کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے بات چیت کے مثبت نتائج آنے کا امکان ہے، اسٹاف لیول معاہدے کے بعد حالات بہتر ہوں گے،آئندہ بجٹ میں مہنگائی کنٹرول کرناسب سے بڑا چیلنج ہے

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا