Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • جب پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہوجاتا ہے،اسحاق ڈار

    جب پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہوجاتا ہے،اسحاق ڈار

    لاہور: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے نویں جائزے کیلئے سب کچھ ہوچکا ہے، گزشتہ حکومت کی وعدہ خلافی کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا۔

    باغی ٹی وی: تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جب پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہوجاتا ہے، ہم نے گزشتہ دور میں پاکستان کو دنیا کی 24 ویں بہترین معیشت بنایا تھا، آئی ایم ایف کے نویں جائزے کیلئے سب کچھ ہوچکا ہے، گزشتہ حکومت کی وعدہ خلافی کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا پارٹی سے علیحدگی کا سلسلہ تاحال جاری

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا پاکستان پر جیسے 1999ء میں ایٹمی دھماکوں کے وقت بدترین پابندیاں لگائی گئی تھیں لیکن تب بھی ہم مشکلات سے نکل آئے تھے، موجودہ مشکل وقت سے بھی جلد نکل آئیں گے گزشتہ تین سال میں معیشت کا برا حال کیا گیا، پچھلے تین ماہ سے مسلسل پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی پیشگوئی کی جارہی تھی، ڈیفالٹ نہ ہونے سے پاکستان کے اندر اور باہر موجود ناقدین کو مایوس ہونا پڑا،مشکل وقت ہے مل کر اس کو نکالنا ہے اور پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے کوشش کریں گے بجٹ میں عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے لیکن آئی ایم ایف کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف مشن چیف نے کہا ہےکہ پاکستانی حکام سے بات چیت میں بجٹ پرتوجہ رکھی جائے گیایک بیان میں آئی ایم ایف مشن چیف ناتھن پورٹر نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس کیلئے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کی معیاد جون کے آخر میں ختم ہو رہی ہے پاکستانی حکام سے بات چیت میں اگلے مالی سال کے بجٹ پرتوجہ رکھی جائے گی، پروگرام کے اہداف اور مناسب فنانسنگ کے انتظامات بھی بات چیت کا حصہ ہیں۔

    عمران خان کے ایڈوائزر ہمیشہ انہیں غلط مشورے دیتے رہے،9 مئی کاواقعہ تو انتہا تھی،مراد …

    جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کی ایم ڈی سے مدد مانگ لی ہے ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا سے رابطہ کیا جس میں انہوں نے پروگرام کے لیے 9 واں جائزہ مکمل کرنے میں مدد طلب کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ذرائع کا بتانا ہےکہ ایکسٹرنل فنانسنگ کے معاملے پر آئی ایم ایف کے مطالبات برقرار ہیں اور آئی ایم ایف ایکسچینج ریٹ میں انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کا فرق ختم کروانا چاہتا ہے۔

    قبل ازیں وزارت خزانہ حکام نے وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شئیر کردی ہیں،گزشتہ روز حکام وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لئےان سے بجٹ کی تفصیلات شیئر کی جائیں گی، اور آئی ایم ایف کے اعتراضات کی صورت میں بجٹ میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

    روسی تیل آنے کے بعد بھی قیمتیں کم ہوں گی یا نہیں؟ وزیر مملکت برائے …

    ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شئیر کر دی گئی ہیں آئی ایم ایف سے تجاویز میں ایف بی آر اہداف، قرضوں کی ادائیگیوں سمیت اہم اہداف کی تجاویز شئیر کی گئی ہیں، آئی ایم ایف ان تجاویز کا جائزہ لے کر وزارت خزانہ حکام سے بجٹ پر بات چیت کرے گا وفاقی بجٹ میں قرض اور سود کیلئے 8 ہزار ارب تک مختص کرنے کی تجویز ہےاور دفاعی اخراجات 1.7 ٹریلین سے زائد رکھنے کا تخمینہ ہے، جب کہ نان ٹیکس آمدن کے ذریعے 2.5 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف ہے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق اسٹیٹ بینک منافع 900 ارب اور پی ڈی ایل سے 750 ارب روپے اکٹھے کئے جائیں گے، آئندہ بجٹ میں سبسڈیزکی مد میں1.3ٹریلین مختص کرنے کی تجویز ہے آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کا 6.4 فیصد رہ سکتا ہے، وفاق اور صوبوں کا بجٹ خسارہ 4.8 سے 5 فیصد تک رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا۔

    علی محمد خان اور شہریار آفریدی رہا ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار

    ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی اسٹیٹ بینک حکام سے آئندہ مالی سال کیلئے فنانسنگ پر بھی بات چیت جاری ہے، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ سے قبل معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اسٹاف لیول معاہدے کو منظوری کیلئے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کو بھجوا دیا جائے، موجود پروگرام مکمل ہوتے ہی پاکستان اگلے پروگرام کے لئے مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے-

    واضح رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے بیرونی فنانسنگ سمیت تمام مطالبات پورے کردیے ہیں لیکن پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان 1.1 ارب ڈالر کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔

  • آئندہ مالی سال کا بجٹ 9 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ

    آئندہ مالی سال کا بجٹ 9 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ

    حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ 9 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-23 کے بجٹ کے سلسلے میں سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس 2 جون کو طلب کیا گیا ہے اور قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس 3 جون کو ہوگا جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کریں گے جس میں نئے مالی سال کے لیے بجٹ اہداف کو حتمی شکل دی جائے گی، دونوں اجلاسوں میں صوبائی حکام بھی شرکت کریں گے، اس دوران نئے بجٹ کے لیے قومی ترقیاتی پروگرام کا جائزہ لیا جائےگا

    وزارت خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کی مد میں 700 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں تاہم وزیر اعظم وفاقی ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے تک بڑھا سکتے ہیں وزارت خزانہ کا کہنا ہےکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 14 ہزار 600 ارب سے زیادہ رکھنے کی تجویز ہے اور بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے کمیٹیاں بھی قائم کردی گئی ہیں اس کے علاوہ آئندہ سال کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 3 فیصد سے زیادہ رکھنے کی تجویز ہے جب کہ موجودہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 0.29 فیصد ہے۔

    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف

  • پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے،مفتاح اسماعیل

    پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے،مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےنجی یونیورسٹی کے پری بجٹ ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری مشکلات ہماری اپنی پیدہ کردہ ہیں بنگلہ دیش ،بھارت میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی ہے کویڈ کے بعد پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی ہے یوکرین جنگ نے مزید حالات خراب کیے ہیں

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان جمع ہو کر 30 بلین ڈالر ایکسپورٹ کرتا ہے، 1992 میں ہماری اور ویت نام کی ایکسپورٹ برابر تھی، اب ہماری ایکسپورٹ 30 جبکہ ویت نام کی 300 ارب ڈالر ہوگئی ہے، پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے، اس طرز حکمرانی میں ہم کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، سرکلر ڈیٹ بڑھنے کا مسئلہ سسٹم کی خرابی کا نتیجہ ہے،آئی ایم ایف پروگرام میں نہ گئے تو باقی دنیا بھی قرض نہیں دے گی، پاکستان میں اوسطا مہنگائی کی شرح 35 فیصد تک پہنچ گئی ہے، چین نے پاکستان کو تین سے چار مرتبہ بیل آؤٹ پیکیج کی سہولت دی،پاکستان پر قرضوں کا حجم 100ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے ،

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ملک میں قرضے لیکر روپیہ کو سستا کیا گیا جس سے آنے والی نسل پر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے، پیشہ ورانہ ودیگر شعبوں میں تعلیم کا فقدان پاکستان کا اہم معاشی مسئلہ ہے، امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے کوئی غیرملکی پاکستان نہیں آتا،ڈھاکہ ائرپورٹ پر جتنی ائرلائنز آپریٹ ہورہی ہیں اتنی ائیرلائنز پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر نہیں ہوتیں ،

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

  • منی بجٹ آگیا،عوام پر مذید ٹیکسوں کا بوجھ

    منی بجٹ آگیا،عوام پر مذید ٹیکسوں کا بوجھ

    حکومت کی جانب سے عوام پر ایک اور بوجھ ڈالتے ہوئے منی بجٹ نافذ کردیا گیا، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے 70 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکسز لگا دیئے گئے ہیں۔

    صدارتی آرڈیننس کے مطابق تاجروں پر بجلی کے بلوں پر 7.5 فیصد تک سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا، تاجروں کے20 ہزار کم کے بجلی کے بلوں پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو گا، 20 ہزار سے زائد بل کی صورت میں تاجروں کے بلوں پر 7.5 فیصد سیلز ٹیکس ہو گا، حکومت کو اس اقدام سے تقریباً 27 ارب روپے کے ٹیکسز ملنے کا امکان ہے۔

    منی بجٹ کے ذریعے درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، درآمدی کار، لیموزین، سپورٹس وہیکل اورپک اپ پر ایف ای ڈی کی شرح میں اضافہ کردیا گیا، درآمدی گاڑیوں پر ایف ای ڈی کی شرح بڑھانے سے 14 ارب تک کا ٹیکس مل سکے گا، پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے استعمال درآمدی گاڑیوں پر ایف ای ڈی کی شرح نہیں بڑھائی گئی، سامان کی ترسیل کیلئے درآمدی گاڑیوں پر بھی ایف ای ڈی کی شرح نہیں بڑھائی گئی۔

    آرڈیننس کے مطابق فارن ڈپلومیٹ کے درآمد گاڑیوں پر ایف ای ڈی کی شرح میں اضافہ نہیں کیا گیا، قومی اسمبلی اور سینیٹ سیشن نہ ہونے کے باعث آرڈیننس جاری کیا گیا، تمباکو سیس 10 روپے سے بڑھا کر 390 روپے کلو کردیا گیا، ٹیئرون کے ایک ہزار سگریٹ پر ٹیکس 6ہزار500 روپے کردیا گیا، ڈپلومیٹس پر بجٹ میں غلطی سے لگایا گیا انکم ٹیکس ختم کردیا گیا، کویت فارن ٹریڈ کنٹریکٹ کمپنی پر ٹیکس کی چھوٹ بحال کردی گئی، تاجروں پر بجلی کے بلوں پر ساڑھے7 فیصد تک سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔

  • قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ اور مالیاتی بل منظور کرلیا

    قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ اور مالیاتی بل منظور کرلیا

    قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اور مالیاتی بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی۔

    قومی اسمبلی نے مالیاتی بل 23-2022 بھی ترامیم کے ساتھ مرحلہ وار منظورکیا جبکہ پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار 50 روپے اضافےکی منظوری،قومی اسمبلی نے پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار 50 روپے اضافےکی منظوری دے دی۔

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ ہم ایسے ٹیکس لائے ہیں جو صاحب ثروت لوگوں پر لگیں گے، ہم نے یہ اس لیےکیا کہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے، ہم نےجوتبدیلیاں کیں وہ پچھلی حکومت نےآئی ایم ایف سےطےکی تھیں، ہم صرف اپنے وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔

    تنخواہ دار طبقے کیلئے نئی ٹیکس شرح کی ترامیم بھی منظورکر لی گئی. آئندہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ریلیف ختم کردیا گیا۔نئی ترامیم کے تحت ماہانہ 50 ہزار روپے تک تنخواہ لینے والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جائےگا، ماہانہ 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ تک تنخواہ لینے والوں سے 2.5 فیصدکی شرح سے ٹیکس عائد ہوگا۔ ماہانہ ایک سے 2 لاکھ روپے تنخواہ والوں پر 15 ہزار روپےفکس ٹیکس سالانہ جبکہ ایک لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 12.5 فیصدکی شرح سے ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا۔

    ماہانہ 2 سے 3لاکھ روپے تنخواہ والوں پر ایک لاکھ 65 ہزار سالانہ جب کہ 2 لاکھ روپے سےاضافی رقم پر 20 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا، ماہانہ 3 سے 5 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں پر 4 لاکھ 5 ہزار روپے سالانہ جب کہ 3 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 25 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا۔ ماہانہ 5 سے 10لاکھ روپے تنخواہ والوں پر10 لاکھ روپے سالانہ اور 5 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 32.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد ہوگا، ماہانہ 10 لاکھ روپے سے زائد کی ماہانہ تنخواہ لینے والوں پر 29 لاکھ روپےسالانہ جب کہ 10 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

    آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں درآمدی موبائل فونز مزید مہنگےکردیےگئے۔ آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں موبائل فونز کی درآمد پر 100 روپے سے 16 ہزار روپے تک لیوی عائد کی گئی ہے۔ فنانس بل کےمطابق بجٹ میں 30 ڈالر کے موبائل فونز پر 100 روپے اور 100 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر 200 روپے لیوی عائد کی گئی ہے۔

    فنانس بل کے مطابق 200 ڈالر کے درآمدی موبائل فونز پر 600 روپے، 350 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 1800 روپے، 500 ڈالر کے موبائل فونز پر 4 ہزار روپے، 700 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 8 ہزار روپے اور 701 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 16 ہزار روپے لیوی عائد کی گئی ہے۔

    قومی اسمبلی کےاجلاس میں ملک بھر میں 13 شعبہ جات کی 30 کروڑ سے زائد آمدن پر 10 سپر ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی۔ائیرلائنز، آٹوموبائل سیکٹر، مشروبات اورسیمنٹ سیکٹر، کیمیکل اور سگریٹ سیکٹر، فرٹیلائزر اور اسٹیل سیکٹر، ایل این جی ٹرمینل اور آئل مارکیٹنگ سیکٹر، آئل ریفائننگ اور فارماسوٹیکل سیکٹر کی 30 کروڑ سے زائد آمدن پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ شوگر اور ٹیکسٹائل پر 10فیصد سپر ٹیکس جب کہ بینکنگ سیکٹر پر مالی سال 2023 میں 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

    ملک میں تمام اداروں اور افراد جن کی آمدن 15 کروڑ روپے سے زائد ہے اس پر بھی سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ سالانہ 15 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر ایک فیصد، 20 کروڑ سے زائد آمدن پر 2 فیصد، 25 کروڑ سے زائد آمدن پر 3 فیصد اور سالانہ 30 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 4 فیصد سپرٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

    قبل ازیں قومی اسمبلی نے پیٹرولیم لیوی کی قیمت میں مرحلہ وار 50 روپے اضافےکی منظوری دے دی۔ اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں فنانس بل 2022- 23 کی منظوری کی تحریک پیش کی گئی، جسے ایوان نے منظورکرلیا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے ایوان سے آئندہ مالی سال میں مرحلہ وار پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں 50 روپے اضافے کی منظوری مانگی جس پر ایوان نے پیٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائدکرنےکی ترمیم منظورکرلی۔

    عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ ہم ایسے ٹیکس لائے ہیں جو صاحب ثروت لوگوں پر لگیں گے، حکومت کے اس اقدام کا مقصد عام آدمی پرٹیکس کا بوجھ نہ ڈالنا ہے، وزیر مملکت برائے خزانہ نے یوان کو بتایا کہ حکومت نےجوتبدیلیاں کیں وہ سابق عمران حکومت نےآئی ایم ایف سےطےکی تھیں، ہم صرف اپنے وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پرلیوی صفر ہے، پچاس روپے فی لیٹر لیوی یکمشت عائد نہیں کی جائےگی، پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی لگانےکا اختیار قومی اسمبلی نے حکومت کو دے رکھا ہے۔

    علاوہ ازیں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ کے باعث یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا ایم ای ایف پی، معاشی نظم و ضبط ضروری ہے، یکم جولائی سے مزید معاشی مشکلات ہوسکتی ہیں، یکم جولائی سے مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے، میمورینڈم آف اکنامکس اینڈ فنانشنل پالیسیز معاشی نظم و ضبط لازم قرار دیا گیا ہے۔

     

     

    دنیا کے تین چوتھائی سے زیادہ ممالک میں پیٹرول کی قیمت پاکستان کی نسبت زیادہ

     

     

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایم ای ایف پی پر بات چیت جاری ہے، یکم جولائی سے پٹرول پر5 فیصد سیلز ٹیکس جبکہ 10 روپے لیوی عائد ہو سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے بجلی مزید مہنگی ہوسکتی ہے، توانائی کے نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف ملا ہے، سرکاری اداروں میں نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف بھی ملا ہے، ٹیکس مراعات اور چھوٹ مزید کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کیلئے دو ارب ڈالر کی دو قسطیں جاری کرنے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف کے رواں ہفتے پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ میں بتایا کہ ساتویں اور آٹھویں اقتصادی جائزہ کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فسکل پالیسی فریم پروگرام کی کاپی موصول ہوگئی ہے۔

  • پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن نے بجٹ مسترد کردیا

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن نے بجٹ مسترد کردیا

    اسلام آباد:پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن نے بجٹ 23-2022ء کو مسترد کردیا۔ چیئرمین بدر خوشنود نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے، امید ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ ساز آئی ٹی انڈسٹری کے چیلنجز کو سمجھیں گے اور ایک بہتر اور مضبوط پاکستان کیلئے پالیسی کے تسلسل کو آسان بنائیں گے۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پی ایٹ شا) ایک ہزار سے زیادہ آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس ممبر کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے، جس نے بجٹ23-2022ء کو سختی سے مسترد کردیا۔

    پی ایٹ شا کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے آئی ٹی اور آئی ٹی سے چلنے والی خدمات کی برآمدات کیلئے 15 ارب امریکی ڈالر کا ہدف دینے کے پُرجوش ریمارکس کے باوجود حالیہ بجٹ میں اس سیکٹر کو یکسر نظر انداز کردیا گیا، جس نے اس ہدف کو پورا کرنے کی صنعت کی صلاحیت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پی ایٹ شا) کے چیئرمین بدر خوشنود کا کہنا ہے کہ فی الحال لاگو رجعت پسند ٹیکسیشن نظام پہلے ہی آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی کیلئے تباہ کن ثابت ہوا ہے، اس سال 3.5 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات کا ہدف بھی ناکارہ ٹیکس نظام کی وجہ سے حاصل نہیں ہورہا۔

    انہوں نے بتایا کہ موجودہ نمو کو متحرک کرنے کیلئے آئی ٹی انڈسٹری کو زیادہ اور بہتر ترغیبات کے ساتھ سہولیات کی فراہمی کے بجائے پہلے اعلان کردہ واحد فائدہ یعنی 2025ء تک ‘ٹیکس سے چھوٹ’ کو بھی اچانک مسترد کرتے ہوئے منسوخ کردیا گیا ہے، یہ ایک نئے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے برآمدات والے شعبے کیلئے تباہی کا نسخہ ہے۔

    بدر خورشید کا مزید کہنا ہے کہ 2021ء میں آئی ٹی انڈسٹری نے 2.1 ارب ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کا ہدف عبور کیا، اس صنعت کو 75 فیصد تجارتی سرپلس کے ساتھ پاکستان کی واحد برآمدی صنعت ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے کیونکہ آئی ٹی کی برآمدات کیلئے اہم خام مال ‘ہنر مند انسانی صلاحیت’ ہے جو ملک میں پہلے سے موجود ہے، لہٰذا آئی ٹی کو بڑھانے کیلئے کسی درآمد کی ضرورت نہیں، خدمات کی برآمدات 6 لاکھ پیشہ ور افراد اور فری لانسرز اور 10 ہزار سے زیادہ کمپنیوں کے روزگار کو سپورٹ کرتے ہوئے آئی ٹی انڈسٹری پاکستان میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی صنعت ثابت ہوئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی سیکٹڑ نے پاکستان کیلئے ایک مضبوط، خود انحصاری اور پائیدار مالیاتی مستقبل کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، 2022ء میں آئی ٹی انڈسٹری تمام روایتی شعبوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دوسرا سب سے بڑا برآمدی شعبہ بننے کی اُمید ہے۔

    ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انڈسٹری کی شاندار کارکردگی کو اینٹی آئی ٹی بجٹ کی شکل میں زبردست اور سخت حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس نے پاکستان کے ڈیجیٹل یعنی آئی ٹی، آئی ٹی ای ایس، اسٹارٹ اپس، فری لانسرز اور ای کامرس انڈسٹری کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    پی ایٹ شا کے مطابق پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے بجائے بجٹ کے مسودے نے آئی ٹی انڈسٹری میں نا صرف بے یقینی اور مایوسی کی لہر پھیلائی ہے بلکہ اس نے حکومت کی سمجھ بوجھ اور سیاسی عزم کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے کہ وہ وسائل کی ضروریات کی کم سے کم مقدار کے ساتھ کم سے کم وقت میں بحران اور معاشی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت والے واحد شعبے کو سپورٹ کرے۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشنز اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

    ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کا بجٹ مسودہ پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے مثالی تعاون کے مثبت نتائج کی عکاسی کرنے میں ناکام رہا ہے، ہمارے لئے یہ بات اجاگر کرنا ضروری ہے کہ اس بجٹ میں آئی ٹی انڈسٹری کی ایک بھی مانگ پوری نہیں کی گئی۔

    پی ایٹ شا کے مطابق پہلے اعلان کردہ پیکیجز کو ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا اور اچانک نقصاندہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے آئی ٹی انڈسٹری کو پاکستان کی سیاسی اور معاشی بدحالی کے نقصانات کا تازہ ترین نشانہ قرار دیا۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری کے کاموں میں اکثر غیر ملکی کلائنٹس شامل ہوتے ہیں، بجٹ میں اس طرح کی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہیں اور غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور سرمایہ لانے کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔

    ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے، پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری نے پہلے ہی پاکستان کو تبدیل کرنے کی اپنی ترقی کی صلاحیت کو ثابت کیا ہے جبکہ ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ ملازمتیں بھی پیدا کی ہیں۔

    بدر خوشنود نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس بہت ہی مختصر وقت ہے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، امید ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ ساز آئی ٹی انڈسٹری کے چیلنجز کو سمجھیں گے اور ایک بہتر اور مضبوط پاکستان کیلئے پالیسی کے تسلسل کو آسان بنائیں گے۔

  • آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کامالی سال2022-23کیلئے  1کھرب63ارب70کروڑ روپے کا بجٹ پیش

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کامالی سال2022-23کیلئے 1کھرب63ارب70کروڑ روپے کا بجٹ پیش

    وزیراعظم سردارتنویر الیاس کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کی حکومت نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کامالی سال2022-23کیلئے 1کھرب63ارب70کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا۔ آزادکشمیر کا ترقیاتی بجٹ 28 ارب 50 کروڑ روپے کی تضویز دی گئی ہے.
    آزادکشمیر کے غیر ترقیاتی بجٹ میں گزشتہ سال کی نسبت 22 ارب 20 کروڑ روپے اضافے کی تجویز ہے.وزیر خزانہ آزاد کشمیرکے مطابق سیاحت کی ماسٹر پلاننگ،ڈیجیٹل میپنگ،سیاحتی مراکز قائم کیے جائیں گے، آزاد کشمیر میں اسکل ڈویلپمنٹ یونیورسٹی،آئی ٹی ایکسی لنس سنٹر قائم کیا جائے گا، نوجوانوں کا 70 کروڑ،خواتین کا 30 کروڑ کا انٹر پنیور شپ پروگرام شروع کیا جائے گا، کم آمدن والے30 ہزار افراد کو ایک ارب کے بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں گے،معلمین قرآن کو سکیل ایک دینے،آئی ٹی اور ایم این سی ایچ ملازمین کومستقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

    قانون ساز اسمبلی کا بحٹ وزیر خزانہ عبدالماجد پیش کیا.۔عبدالماجد خان نے بتایا کہ بجٹ میں عوام کے لئے سیکڑوں منصوبے لے کر آ رہے ہیں جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے سبب اسپیکر بجٹ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔
    اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو اسمبلی پروسیجرل رولز سے ہٹ کر بنایا ہے، صرف حکومتی اراکین پر مشتمل قائمہ کمیٹیان قائم کی گئی ہیں۔اپوزیشن نے کہا کہ ایوان کی قائمہ کمیٹوں کی سربراہی وزرا نہیں کرسکتے، حکومت نے کمیٹیاں وزرا کی سربراہی میں بنائی ہیں۔

    بجٹ اجلاس کے دوران متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی کی سیڑھیوں پر دھرنا دیا، چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ ہم نے بہت کوشش کی کہ ہماری بات ایوان کے اندر ہو۔چوہدری لطیف اکبر کا کہنا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ اجلاس حکومت بلائے اور حکومت ہی کورم توڑ دے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر دن بھر سوئے رہتے ہیں، وزیراعظم دن میں جاگا کریں یا دفتری اوقات کار کو رات میں تبدیل کرلیں۔

  • حکومتی اقدامات سے چھوٹا تاجر تباہ ہوجائے گا،شوکت ترین

    حکومتی اقدامات سے چھوٹا تاجر تباہ ہوجائے گا،شوکت ترین

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ بجٹ پر بجٹ لائے جا رہے ہیں،

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی تمام شعبوں کے لیے بہترین تھی،پی ٹی آئی نے نہیں آپ لوگوں نے معیشت تباہ کی،ان کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اب معیشت کے ساتھ کیا کیا جائے،جن 13 شعبوں پر ٹیکس لگایا گیا اس سے 45 سے 50 فیصد ٹیکس ہوجائے گا ،فکس ٹیکس لگائیں گے تو بڑی مچھلیاں نکل جائیں گی 43ملین کا ڈیٹا ردی کی ٹوکری میں ڈال دیاگیا ،10فیصدٹیکس صنعتیں بند ہوں گی اور بے روزگاری بڑھ جائے گی حکومتی اقدامات سے چھوٹا تاجر تباہ ہوجائے گا،یہ حکومت ساڑھے 700ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی لگائے گی ،

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کے مطابق سپر ٹیکس لگنے سے عوام پر بوجھ نہیں پڑے گا،کھاد، سیمنٹ ، چینی سمیت دیگرصنعتوں پر جو ٹیکس لگا ہےوہ اشیا مریخ پر خلائی مخلوق کو سپلائی کی جاتی ہیں،

    وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے پارلیمنٹ میں اعلانات پر ردعمل میں کہا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری پر سے ود ہولڈنگ ٹیکس اور اسٹیٹمیٹ کی شرائط ختم کرنا بہترعمل ہے، آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں پر سے کیپیٹل گین ٹیکس کا خاتمہ فائدہ مند ہوسکتا ہے،ضروری ہے کہ ان اعلانات پر عملدرآمد کیلئے ایف بی آر کو واضح ہدایات جاری کی جائیں،وزیر خزانہ کےاعلانات خوش آئند ضرور، لیکن ناکافی ہیں،مزید اصلاحات کی ضرورت ہے وزارت آئی ٹی کی تمام تجاویز پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے، آئی ٹی سیکٹر سے بڑے اہداف کے حصول کیلئے مزید فیصلے کرنے ہوں گے،پالیسیوں میں آئے روز کی تبدیلیاں انڈسٹری کے اعتماد کو بحال نہیں ہونے دیتیں،ایف بی آر کو بھی سمجھنا ہوگا کہ آئی ٹی سیکٹر ملکی معیشت کیلئے اہم ہے، ٹیلی کام سیکٹر سے متعلق تجاویز پر بھی وزیر خزانہ کے اعلانات کے منتظر ہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آئی ٹی سیکٹر کی ریڑھ کی ہڈی ٹیلی کام سیکٹر ہے، اسے فراموش نہیں کرنا چاہیے

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

  • میں نے وزیراعظم کے بیٹے کی کمپنی پر بھی ٹیکس لگایا. وزیرخزانہ

    میں نے وزیراعظم کے بیٹے کی کمپنی پر بھی ٹیکس لگایا. وزیرخزانہ

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا کہ مجھے شاباش دیں کہ میں نے اپنی کمپنی سمیت میں نے وزیراعظم کے بیٹے کی کمپنی پر بھی ٹیکس لگایا. اور میری اپنی کمپنی بھی 20 کروڑ روپے اضافی ٹیکس دے گی۔

    مفتاح اسماعیل نے دعوی کیا کہ: اس سے پہلے ایسا کوئی کسان دوست بجٹ نہیں آیا ہے. ان کا کہنا تھا کہ: ہم 786 پر میسج کرنے والوں کو 2000روپے دے رہے اور جنہوں نے ابھی تک میسج نہیں کیا وہ بھی میسج کریں اگر وہ مقرر کردہ کریٹئریا میں آئے تو انہیں بھی پیسے دیئے جائیں گے. اور 10 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزارروپے دینے کیلئے رجسٹر کر لیا، 80 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزار روپے دیئے ہیں، رواں مالی سال 5300 ارب روپے کا خسارہ ہوا، پونے 4 سال میں 71 سال کے برابر قرض لیا گیا، رواں مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا: ہمیں ارکان پارلیمنٹ نے اچھے مشورے دیئے ۔ ان میں سے بیشتر سفارشات کو شامل کر رہے ہیں ۔ اور ہم نے زرعی آلات ٹریکٹر وغیرہ پر سبسڈی دے کر کسانوں کی مدد کی۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خسارہ پورا کرنے کیلئے ہمیں پوری دنیا سے پیسے مانگنا پڑتے ہیں، وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر بھی زیادہ ٹیکس عائد کیا، میری اپنی کمپنی آئندہ مالی سال 20 کروڑ روپے زیادہ ٹیکس دے گی۔

    وزیر خزانہ نے بتایا: بجٹ خسارے کا ہدف 3990 مگر 5310 ارب کا خسارہ ہوا ہے، جی ڈی پی کا خسارہ 9.5 فیصد رہا، عمران خان تو ملک کو دیوالیہ کی طرف لے گئے تھے، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، اب ایٹمی ملک دیوالیہ نہیں ترقی کی طرف جائے گا، چالیس ارب روپے میں پوری حکومت چلتی ہے، عمران خان پیٹرولیم پر 120 ارب روپے کی سبسڈی دے دی۔

  • سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    اسلام آباد: ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں منعقد ہوا-قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران امن امان قائم کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ شرکاء پر آنسو گیس، کیمیکل گیس کی شیلنگ اور پی ٹی آئی لیڈر شپ پر پولیس کی کریک ڈاؤن سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور عام عوام پر ایف آئی آر کا اندراج، غیر قانونی پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں بھی حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء پر بے تحاشہ شیلنگ اور رکاؤٹوں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا۔ متعدد سینیٹرز نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کر کے نا صرف روداد بیان کی تھی بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی مسائل بارے آگاہ کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی حالات واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی اجازت سے تمام صوبوں کا دورہ کر کے حتمی رپورٹ تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے حوالے سے ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ آرمی افسران کی کینیڈا میں شہریت کے حوالے سے غلط خبریں گردش کر رہی ہیں جن کا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کمیٹی یہ معاملہ نہ ہی کبھی زیر بحث لایا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ بنائی گئی ہے۔

    ویڈیو لنک کے ذریعے سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ25ماڑچ کو لاہور سے ا حتجاج کے لئے نکلی تھی تو میری گاڑی پر ڈنڈے برسائے گئے ہمیں زدوکوب کیا گیا ہمیں گرفتار کر کے تھانہ لے جایا گیا ابھی تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شرکاء کی گاڑیوں کو بھی توڑا پھوڑا گیا۔ سنیٹر ولید اقبال نے بتایا کہ جیو فینسنگ کے ذریعہ سے ایک لسٹ بھی شیئر ہوئی جس میں میرا نام تھا۔رات کے بارہ بجے مجھے لاہور گھر سے فون آیا کہ پولیس کی ایک نفری نے ہمارے گھر پر دھاوا بول دیا ہے اور پولیس وین کے ذریعے ہمارے گیٹ کو توڑا گیا۔ میں اپنے والدین کے گھر رہتا ہوں میرے گھر کے گیٹ پر میرے والد اور والدہ کا نام بھی لکھا ہے۔ اہلکار دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہو ئے۔ میرے بارے پوچھا گیا کہ ولید اقبال کدھر ہے پھر کک کے ذریعہ دروازے پیٹے گئے۔ دو دن بعد ڈی آئی جی صاحب سے ہمارے گھر آئے اور آئی جی پنجاب کی جانب سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو واضح معلوم تھا کہ میں اسلام آباد میں ہوں پھر بھی میرے گھر والوں کو شدید حراساں کی گیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ شاعر مشرق کے بیٹے کے گھر پر اسطرح دھاوا بولنا انتہائی شرم ناک ہے۔قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء کے حوالے سے جو واقعات ہوئے ہیں اُن کے دو پہلو ہیں۔ اُن پر نہ صرف بے تحاشہ شیلنگ، رکاوٹیں اور مسائل پیدا کئے گئے بلکہ انہیں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور کچھ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئیں ہیں۔ ان کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو سخت حراساں کی گیا۔

    سینیٹر اعجاز چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں پولیس نے گرفتار کیا اور مختلف تھانوں میں رکھا اور کسٹڈی کے دوران اُن پر ایف آئی آر درج کی گئیں۔میرے فون کی لوکیشن موجود ہے میرے گھر کو توڑا گیا اور میرے اُوپر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز کے حوالے سے متعلقہ ادارے 15دن کے اندر رپورٹ تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کریں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کا اجلاس کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ آئندہ اجلاس میں متعلقہ ادارے اور متاثرین شرکت کر کے معاملات کا جائزہ لیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں صوبہ پنجاب کے حوالے سے ان معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ اداروں سے جو تفصیلات اور رپورٹس طلب کی گئیں ہیں وہ بروقت فراہم کی جائیں۔

    سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے عمران ریاض نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب پولیس نے ایک ڈاکو کو اُن کے گھر کے قریب لا کر جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا اور اس کے گھر کے پاس فائرنگ بھی کرتے رہے۔میں نے خود پولیس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں ایک ڈاکو ہلاک ہوا ہے اورڈاکو موٹر سائیکل پر آئے تھے رات تین بجے کا وقت تھا اُس ڈاکو کا زمین پر پڑا خون گرم جبکہ اُس موٹر سائیکل کا سائلنسر بلکل ٹھنڈا تھا اس جعلی مقابلے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ مجھے اور میرے گھر والوں کو حراساں کیا جا رہا ہے مجھے کہا جا رہا ہے کہ لاہور سے شفٹ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے آس پاس پانچ پولیس ناکے لگا کر مجھ سے ملنے آنے والوں کو شدید تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صحافیوں پر دو درجن کے قریب ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جن میں سیکشن 505لگائی گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اجازت کے بغیر نہیں لگائی جا سکتی اور اُن علاقوں سے بھی ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں جہاں انٹرنیٹ کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ سینیٹر رانا مقبول احمدنے کہا کہ جعلی مقابلے اور عمران ریاض کو حراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ جو پولیس اہلکار ملوث ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کچھ معروف صحافیوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اُن کو کام سے روکنے کیلئے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

    صوبائی ممبرا سمبلی حلیم عادل نے کہا کہ آزدی مارچ کرنا ہر ایک کاآئینی حق ہے مگر آزادی مارچ کرنے والے پارلیمنٹرین اور عوام پر دہشت گردی کی دفعات لگانا انتہائی افسوسناک ہے پولیس کی ستم ظریفی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا میں ایک ٹی وی پروگرام میں تھا اُس وقت بھی میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے طلبعلم جو صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے اغوا پر اہل خانہ نے احتجاج کیا تو خواتین کے ساتھ انتہائی نا مناسب سلو ک کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کی رپورٹ متعلقہ حکام سے طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ میں آزادی مارچ کے حوالے سے 225ایف آئی آر درج ہوئی اور چار سے پانچ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں اور زیادہ تر پکڑے گئے لوگوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ اے آئی جی سندھ نے کہا کہ جو بچے اغوا ہوئے تھے اُن کے لواحقین نے سی ایم ہاؤس اور عدالت کی طرف احتجاج کرنے کی دھمکی دی تو پولیس نے اعلیٰ حکام کو بتائے بغیر ایکشن لیا اُن کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ سے بھی انکوائری ہو رہی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں جتنا نقصان ہوا پولیس کے ایکشن کے ری ایکشن میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے اجازت دے دی تھی تو پولیس نے کس کے حکم سے عوام پر آنسو گیس کی بارش کی۔ پارلیمنٹرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔پولیس نے قانون سے بالا تر ہو کر کام کیا اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ 25 مئی کو اسلام آباد مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ پولیس کی آنسو گیس سے میں بے ہوش گئی تھی۔میرا دس سال کا بچہ گھر پر اکیلا تھا مگر مجھے پارلیمنٹ جانے کی اجازت نہیں دی گئی ساری رات سڑک پر گزاری۔ میرا بچہ ٹراما میں ہے ابھی تک وہ نارمل نہیں ہوا۔ اسلام آباد پولیس نے بہت زیادہ شیلنگ کی تھی اور خود درختوں کو آگ لگائی جس کی ویڈیوز موجود ہیں۔ سینیٹر سیمی ازدی نے کہا کہ آگ لگانے والے بندے کو ہمارے لوگوں نے پکڑا بھی تھا جو پٹرول چھڑک کر آگ لگا رہا تھا۔ آر پی او روالپنڈی نے بتایا پنڈی ریجن میں کوئی پبلک پراپرٹی کا نقصان نہیں ہوا اورجن لوگوں کوپکڑا گیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم سب کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے آزادی مارچ کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور جن لوگوں نے قانون کے خلاف کام کیا ہے اُن کے خلاف شفاف انکوائری کرائی جائے گی۔
    سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈی چوک اور نادرا چوک اسلام آباد کو بلا جواز بند کر کے سرکاری ملازمین اور عام عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے عوام کو ریلیف دینا چاہئے سیکورٹی کی وجہ بتا کر آئے دن سڑکیں بلاک کرنا مناسب نہیں۔ قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر ڈی چوک اور نادرا چوک کو کھولنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ملک میں جو مہنگائی کا طوفان آیا ہے اس کی بدولت پورے ملک اور خاص طور پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد پولیس مختلف علاقوں میں نہ صرف اپنی نفری میں اضافہ کرے بلکہ پولیس گشت میں بھی اضافہ کر کے ان مسائل کے تدارک کرے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قائد حز ب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز ثمنیہ ممتاز زہری، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، سرفراز احمد بگٹی، دلاور خان، شبلی فراز، ولید اقبال، فلک ناز، سیمی ازدی کے علاوہ اسپیشل سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری ہوم سندھ، اسپیشل سیکرٹری ہوم پنجاب، ڈی سی اسلام آباد، آر پی او راولپنڈی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل کمشنر اسلام آباد اور آن لائن پر سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد، صوبائی ممبر اسمبلی حلیم عادل، ایس پی لاہور، اے آئی جی میر پور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ *

    "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ اراکین کا سیمینار،اطلاعات کے مطابق سینیٹ آف پاکستان اور یورپی یونین کے فنڈڈ پروجیکٹ "مستحکم پاکستان” نے مشترکہ طور پر "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ کے اراکین کے لیے ایک سیمینار آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا۔ مالیاتی اور اقتصادی ماہرین نے سینیٹرز کو این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم، قرضوں کے انتظام کے مسائل اور رکاوٹوں، پاکستان کی معیشت کو درپیش اہم اقتصادی چیلنجوں، وفاقی بجٹ میں آئینی شقوں اور مالیاتی نگرانی کے حوالے سے پالیسی سفارشات کے بارے میں بریفنگ دی۔

    سینیٹرز نے پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال اور مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے بجٹ تجاویز کے متعلق اپنے سوالات پیش کیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے سیمینار کو انتہائی اہم سرگرمی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالیاتی حالات اور قرضوں کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ "ہمیں چھوٹے کاروباروں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ میکرو اور مائیکرو اکنامک عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ قوم کی تعمیر کیسے کی جائے۔ سینیٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا”.

    سیمینار میں سینیٹرز، ہدایت اللہ خان، دوست محمد خان، دنیش کمار، عمر فاروق، ولید اقبال، افنان اللہ خان، سید صابر شاہ، بہرامند خان تنگی، محمد عبدالقادر، فدا محمد، سیکرٹری سینیٹ، قاسم صمد خان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر PIPS نے شرکت کی۔