Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،بجٹ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،بجٹ منظور

    گورنرپنجاب کی جانب سے بلایا جانیوالا پنجاب اسمبلی کا 41 واں اجلاس جاری ہے. پنجاب اسمبلی کااجلاس دو گھنٹہ اکاون منٹ کی تاخیر سے پینل آف چئیرمین خلیل طاہر سندھو کی زیر صدارت شروع ہوا. پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز بھی شریک ہیں.پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ منظور کر لیا گیا.

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے وزیر خزانہ سردار اویس لغاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالجز میں ہیومن ریسورس، سکول انفراسٹرکچر، ملازمین کا تحفظ بھی بجٹ میں مدنظر رکھیں گے، چودہ ہزار ملازمین جو بھرتی کیا آج وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں،وزیر اعلی نے صحت کارڈ کی بہتر پرفارمنس اور مڈل کلاس کی علاج کےلئے رسائی کو یقینی بنائیں گے،

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ غریبوں کی صحت پر جو ڈاکا ڈالا جارہاہے اسے ختم کریں گے، ادویات کی فراہمی بجٹ میں اہم تجویز تھیں۔ بی ایچ یوز اور ٹی ایچ کیوز میں غریب مریضوں کو بہترین علاج فراہم کریں گے، پی ٹی آئی حکومت نے انٹر روڈ ٹرانسپورٹ تباہ کر دی روڈ خراب کردیا، روڈز انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی معیار پر پنجاب بھر میں لاگو کریں گے.

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پینتس ارب روپے روڈز کےلئے مختص کئے گئے ہیں اور ڈیڑھ سو روڈ نئی بنائی جائیں گی، بجلی کے بلوں پر ریلیف کےلئے گرین انرجی امپورٹڈ فیول سے دور لے جائے گی گرین انرجی کی طرف جائیں گے، ڈیڑھ ماہ میں کیبنٹ کے بغیر اور صدر ،گورنر کی کنفیوژن کے دوران حکومت نے عوامی مفاد کے اقدامات کئے،بڑھتی آبادی میں اضافہ پاکستان کےلئے خطرہ ہے.

    اویس لغاری نے ایوان کو بتایا کہ آئی ٹی سیکٹر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوجاری رکھیں گے، پنشن پانچ فیصد بڑھائی باقی پانچ اپریل میں بڑھائی تھی تو انہیں دس فیصد پنشن ملے گی، مسلم لیگ ن جانتی ہے اس بار چالیس فیصد اضافے سے خواتین کو بااختیار پروگرام کو شروع کریں گے، ن لیگ کا لگایا ہوا سیف سٹی اور امن و امان کا انفراسٹرکچر تھا اسے ختم کرو تو ایسی ذہنیت کو ختم کرناہوگا،
    الیکشن تک ہمیں بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں ڈویلپمنٹ ساڑھے تین سو ارب روپے زیادہ ہوتا اگر ہم پر قرض نہ ہوتا، ڈیڑھ سال میں حکومت ثابت کرے گی امن و امان بہتر اور عوام کو ریلیف دے کر جائیں گے

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ڈویلپمنٹ کا کمیشن اور حرام کا پیسہ نہیں کھائیں گے اوس حج سکینڈلز کو ختم کریں گے، وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی سربراہی میں کام کریں گے اور کوئی کرپشن کا کیس سامنے نہیں آئے گا، کسانوں کو بیس ارب روپے سے زائد قرضے دے گی، نیک نیتی سے چلنے کا وعدہ کرتے ہیں اتحادیوں سے مل کر پنجاب کی ترقی کے سفر کو جاری رکھیں گے، ڈیڑھ سال سے بزدار اور پی ٹی آئی کے پنجاب سے مختلف پنجاب قوم کے سامنے لائیں گے.

    پنجاب اسمبلی میں بجٹ 2022-23کی منظوری کا آغاز ہو گیا.حکومت نے 27 کھرب 11ارب 67کروڑ 23لاکھ 26 ہزار روپے کے چالیس مطالبات زر منظور کر لئے گئے، حکومت نے امن و امان اور پولیس کےلئے ایک کھرب 49ارب ایک کروڑ89 لاکھ 78ہزار روپے منظور کرلئے، حکومت نے تعلیم کےلئے 81ارب50کروڑ 62 لاکھ 52ہزار منظور کرلئے جبکہ صحت کے شعبے کےلئے ایک کھرب 83ارب64کروڑ 4لاکھ 46ہزارروپے کی مد میں منظور کرلئے،زراعت کےلئے 20ارب 4 کروڑ42لاکھ72ہزار روپے منظور کرلئے گئے، محکمہ آبپاشی کےلئے 24ارب 91کروڑ 64لاکھ 82ہزار روپے منظور کئے گئے، جیل خانہ کےلئے 13ارب79کروڑ37لاکھ44ہزار روپے منظور، مواصلات کےلئے 8ارب95کروڑ87لاکھ24ہزار روپے منظور کیے گئے.

    سڑکوں اور پلوں کیُ تعمیر کےلئے ایک کھرب ایک ارب 77کروڑ 30 لاکھ روپے منظور کرلئے گئے۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پنشن کی مد میں 3کھرب12ارب روپے منظور کئے گئے، سبسڈیز کےلئے 42ارب 63کروڑ96لاکھ65ہزار روپے مختص کئے گئے، نظام عدل کےلئے 28ارب13کروڑ97لاکھ14ہزار روپے منظور کئے گئے،جنگلات کےلئے 4ارب 88کروڑ28لاکھ 28 ہزار روپے منظور کرلئے گئے.سرمایہ کاری کےلئے 55ارب55کروڑ51لاکھ 17 ہزار روپے منظور کئے گئے، صنعت کے شعبے کےلئے 11ارب 45 کروڑ73لاکھ71ہزار روپے مختص کئے گئے.

    پریس کلب کی گرانٹ روکنے اور جرنلسٹ ہاوسنگ کالونی میں قبضوں کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری سے ٹوکن واک آوٹ کر دیا پینل آف چیئرمین نے صحافیوں سے مزاکرات کیلئے خواجہ عمران نزیر ، مجتبیٰ شجاع الرحمن پر مشتمل تین رکنی قائم کردی

  • بلوچستان کا بجٹ عوام کی خواہشات کے مطابق بنایا گیا،پہلا موقع ہے کہ سب مطمئن ہیں، عبدالقدوس بزنجو

    بلوچستان کا بجٹ عوام کی خواہشات کے مطابق بنایا گیا،پہلا موقع ہے کہ سب مطمئن ہیں، عبدالقدوس بزنجو

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کا مالی سال 2022-23 کا بجٹ عوام کی خواہشات کے مطابق ہے، اور یہ پہلی بار ہے کہ بجٹ سے ’سب مطمئن‘ ہیں-

    باغی ٹی وی : بجٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بجٹ میں صوبے کی ضرورت کے مطابق میگا منصوبے بھی رکھے گئے ہیں، وفاقی حکومت کو بلوچستان کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز دینے چاہئیں اور کہا کہ وہ امید کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف بلوچستان میں میگاپراجیکٹس کےلیے فنڈز فراہم کریں گے کیونکہ بلوچستان دیگر صوبوں سے 200 سال پیچھے ہے۔

    بیرون ملک پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جن کے دل پاکستان کی محبت میں دھڑکتے ہیں،وزیر اعظم

    انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام علاقوں کے لیے یکساں فنڈز رکھے گئے ہیں چاہے وہ اپوزیشن کا ہو یا حکومت کا اور پہلا موقع ہے کہ اس بجٹ سے سب مطمئن ہیں، نہ اسمبلی میں کسی نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑیں اور نہ کسی نے اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہر بجٹ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج اسمبلی کے اندر ہوتا تھا اور اسمبلی کے باہر سیکڑوں لوگ اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کررہے ہوتے تھے ، اس مرتبہ ایسا بجٹ بنایا ہے کہ حکومتی اراکین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اراکین بھی مطمئن ہیں لہٰذا بجٹ کے حوالے سے صوبائی وزرا کی ناراضی کی باتیں بے بنیاد ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے صوبے میں بارش کی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہا کہ صوبائی حکومت نگرانی کر رہی ہے بارش کی صورتحال اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    عامر لیاقت کی خالی نشست پرضمنی انتخابات کے شیڈول پر عملدرآمد شروع

    واضح رہے کہ گزشتہ روز صوبہ بلوچستان کا آئندہ مالی سال612 ارب روپے کا بجٹ بالآخر پیش کردیا گیا صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران نے بجٹ پیش کیا جن کے پاس مواصلات و تعمیرات کی اہم وزارت ہے اور چند روز قبل ہی وزارت خزانہ کا اضافی چارج دیا گیا۔

    عبدالرحمان کھیتران کا کہنا تھا کہ چھ کھرب 12 ارب 70 کروڑ روپے کے بجٹ میں 72 ارب 80 کروڑ روپے کاخسارہ بھی شامل ہے۔ غیر ترقیاتی مد میں 366 ارب، جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 191 ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں 3470 نئے ترقیاتی منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں جن پر 59 ارب روپے لاگت آئے گی۔

    وزیر خزانہ نے ملازمین کی تنخواہوں میں وفاق کی طرز پر 15 فیصد اضافہ کرنے اور آئندہ مالی سال میں 2851 نئی ملازمتیں دینے کا بھی اعلان کیا بجٹ میں امن وامان کے لیے 44 ارب روپے، صحت کے لیے 38 ارب روپے، بلدیاتی کے لیے 28 ارب، زراعت کے لیے 21 ارب 70 کروڑ روپے ،تعلیم کیلئے 19 ارب روپے جبکہ 75 ارب روپے تنخواہوں اور غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں رکھے گئے ہیں۔103 نئے پرائمری سکول تعمیر جبکہ 60 سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائےگا حالیہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو 4 ارب 30 کروڑ روپے رکھے گئے-

    بھارت میں گستاخانہ بیانات: پاکستان نےمعاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا دیا

    پنجگور میں 2 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے مکران یونیورسٹی اور زیارت میں قائداعظم کیڈٹ کالج قائم کرنے کا اعلان کیا گیا کوئٹہ وگردونواح میں نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے زمینداروں کو بجلی کی مد میں 4 ارب، کھاد کی مد میں 61 کروڑ روپے سبسڈی دینے اور زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 2 ارب روپے کے منصوبے کا اعلان بھی کیا گیا-

    معدنیات کی ترقی کے لیے 74 کروڑ روپے، ماہی گیری کے لیے 3 ارب روپے ،مواصلات و تعمیرات کے 62 ارب روپےجس میں 19 ارب78 سڑکوں کی تعمیر پر کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے جس میں وفاقی حکومت بھی بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر پر 11 ارب روپے خرچ کرے گی۔

    یاد رہے کہ پچھلے سال جام کمال خان کی حکومت میں بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہنگامہ خیز رہا جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر مشتمل حزب اختلاف نے بجٹ میں نظر انداز کرنے پر دھرنا دے رکھا تھا اور اسمبلی کے دروازوں کو تالے لگا دیئے تھے پولیس وزیراعلیٰ اور حکومتی اراکین کو اسمبلی کے اندر لے جانے میں کامیاب ہوئی۔

    منی لانڈرنگ کیس: مونس الہی کی عبوری ضمانت منظور

  • اجلاس میں وزیر خزانہ نہیں آئے،اپوزیشن لیڈر کا ایوان سے واک آؤٹ

    اجلاس میں وزیر خزانہ نہیں آئے،اپوزیشن لیڈر کا ایوان سے واک آؤٹ

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض نے کہا کہ اجلاس میں وزیر خزانہ نہیں ہیں ہم آج کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہیں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا،ایوان میں اپوزیشن کے صرف 2 اراکین موجود تھے ایوان میں راجہ ریاض اور احمد حسین ڈیہر موجود تھے وزیر صحت قادر پٹیل اپوزیشن ارکان کو منانے گئے

    شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ایوان میں بجٹ پر کوئی بات نہیں کروں گا،بجٹ پر بات کر نا لا حاصل ہے،بجٹ پر بات کو سننے والا کوئی نہیں ہے،ایوان میں کوئی نوٹس لینے والا نہیں اراکین جن باتوں کی نشاندہی کر رہے ہیں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سے کوئی تعلق نہیں

    اپوزیشن لیڈرراجہ ریاض ایوان میں واپس آگئے، قومی اسمبلی اجلاس سے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیریں رحمان نے بھی خطاب کیا،اور کہا کہ تباہی سرکار ملک کو تباہ کرگئی، ان کی شاہ خرچیوں کی وجہ سےمعیشت کا یہ حال ہوا،جنہوں نے کشکول توڑنے کی بات کی انہوں نے کیا کیا؟ گزشتہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ باندھ کر گئی ،

    قبل ازیں اسپیکرراجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو این اے 240 سے نومنتخب رکن قومی اسمبلی محمد ابوبکر نے حلف اٹھا لیا

    قومی اسمبلی اجلاس میں غیر پارلیمانی زبان کا استعمال،عباسی کی سپیکر کو دھمکی،جے یو آئی کا شکوہ

    ناموس رسالت پر منافقت بند کرو، قومی اسمبلی لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونج اٹھی

    علامہ خادم حسین رضوی نے ناموس رسالت کے عنوان پر مسلمان قوم میں بیداری پیدا کی،مولانا معاویہ اعظم طارق

    قومی اسمبلی کا اجلاس،ایوان میں وزرا اور ارکان کی عدم موجودگی پر وفاقی وزیر خورشید شاہ برہم ہو گئے

  • بلوچستان کے لئے 612 ارب روپے کا بجٹ پیش

    بلوچستان کے لئے 612 ارب روپے کا بجٹ پیش

    بلوچستان کابینہ نے صوبےکے آئندہ مالی سال کے لئے 612 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا بجٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے لیے 612 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔

    بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 72 ارب روپےکا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم بجٹ میں پی ایس ڈی پی کے لیے 191 ارب روپے رکھنےکی تجویز ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

    بلوچستان کے بجٹ میں مزدوروں کی کم سےکم اجرت 25 ہزار روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
    محکمہ صحت کے پیرامیڈیکس اسٹاف کے ہیلتھ پروفیشنل اور رسک الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

    بجٹ میں وزیراعلیٰ شکایت مینجمنٹ سسٹم کےقیام کی بھی تجویز دی گئی ہے، بجٹ میں تربت میں لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنےکی تجویز ہے، نئے مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا۔

    کابینہ سے منظوری کے بعد بجٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کر دیا گیا،باغی ٹی وی نے بنٹ تقریر کا مسودہ حاصل کر لیا.وزیر ضزانہ سردار عبدالرحمان کھیتران نے بجٹ پیش کیا. بجٹ کا کل حجم 612 ارب روپے رکھا گیا ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق کل آمدن کا تخمینہ 528.6 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ خسارے کا تخمینہ 72.8 ارب روپے ہے۔ بجٹ اجلاس تین گھنٹے سے زائد کی تاخیر کے بعد قائم مقام اسپیکر بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔

    بجٹ دستاویز کے مطابق بلوچستان کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ٹرانسفرز سے 370.33 ارب روپے ملیں گے۔غیر ملکی امداد کی مد میں 14.36 ارب روپے، وفاقی ترقیاتی گرانٹ کی مد میں 28.27 ارب روپے ملیں گے۔بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اخراجات جاریہ کا تخمینہ 366.72 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ 72 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    سوئی گیس لیز توسیع کے بونس کی مد میں 40 ارب روپے ملیں گے، ترقیاتی پروگرام کے لیے 191.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بلوچستان کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پراجیکٹس کا تخمینہ 39.67 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ صوبے کو کیپیٹل محصولات کی مد میں 12.21 ارب روپے ملیں گے۔

    اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے بجٹ دستاویزات نہ ملنے پر اعتراض کیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کے حوالے سے کابینہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے ایسا بجٹ پیش کریں جس سے کسی کو بات کرنے کا موقع نہ ملے۔

  • بلوچستان کےآئندہ مالی سال  کا بجٹ آج  پیش کیاجائے گا

    بلوچستان کےآئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیاجائے گا

    وزیرخزانہ بلوچستان عبدالرحمان کھیتران صوبے کےآئندہ مالی سال 2022 -23 کا بجٹ آج پیش کریں گے-

    باغی ٹی وی : وزیر خزانہ عبدالرحمان کھیتران کے مطابق بلوچستان کےآئندہ مالی سال کا بجٹ580 ارب روپے سے زائد کا ہوگا ترقیاتی منصوبوں کے لیے195ارب ،غیرترقیاتی منصوبوں کے لیے 385ارب روپے مختص کئے گئے-

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

    وزیر خزانہ عبدالرحمان کھیتران کے مطابق بجٹ عوام دوست ہوگا ،کوئی نیاٹیکس نہیں ہوگا ، بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی،بلوچستان کی محدود وسائل کی وجہ سے آئندہ مالی سال کابجٹ خسارے کاہوگا،حکومت تمام حلقوں کو یکساں بنیادوں پر فنڈز کی فراہمی یقینی بنائے گی-

    فافن کی حلقہ این اے 240 کے حوالے سے جاری رپورٹ میں حیران کن انکشافات

    حکومتی ذرائع کے مطابق بلوچستان کےآئندہ مالی سال کےبجٹ میں 100 ارب روپے خسارے کا امکان ہے بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں بجٹ کی منظوری لی جائے گی-

  • تنخواہ دار طبقے کو دیاگیا ریلیف ،پھرملکی معیشت پربوجھ  بنے گا:آئی ایم ایف

    تنخواہ دار طبقے کو دیاگیا ریلیف ،پھرملکی معیشت پربوجھ بنے گا:آئی ایم ایف

    اسلام آباد:آئی ایم ایف کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو دیئے گئے ریلیف پر اعتراض،اطلاعات کے مطابق ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو ماہانہ دو لاکھ روپے کمانے والوں پر کم ٹیکس رکھنے پر اعتراض ہے۔

    ایف بی آر کے ذرائع نے کہا ہے کہ فنانس بل 2022 میں ماہانہ دو لاکھ تک کمانے والوں پر 7 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا گیا ہے آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ ماہانہ دو لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والوں کیلئے ٹیکس کی شرح 10 فیصد کی جائے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف دو لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے آئی ایم ایف نے چھٹے جائزے کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 125 ارب روپے کے محصولات میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    ذرائع ایف بی آر کے مطابق فنانس بل 2022 میں آئی ایم ایف مطالبے کے برخلاف 47 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیدی۔ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔

    ادھروزیرمملکت برائے خزانہ ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ امریکا سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔

     

    بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    قائمہ کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھاکہ اس وقت آئی ایم ایف سے بجٹ پر بات چیت ہورہی ہے اور بہت سی چیزوں پر آئی ایم ایف وضاحت مانگ رہا ہے جس پرکام کررہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف کے حوالے سے بھی امریکا سے بات چیت ہوئی ہے، پچھلی حکومت کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی، ہم دوبارہ ملکی ساکھ کو بحال کر رہے ہیں۔

    وزیرمملکت کا کہنا تھاکہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ امریکا بھی کامیاب رہا اور پاکستان کے امریکا سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔

    آئی ایم ایف کو نئے مجوزہ بجٹ پر تحفظات ہیں،وزیر خزانہ

  • بجٹ عوام کے لئے ہوا کا خوشگوار جھونکا ہے،حمزہ شہباز

    بجٹ عوام کے لئے ہوا کا خوشگوار جھونکا ہے،حمزہ شہباز

    بجٹ عوام کے لئے ہوا کا خوشگوار جھونکا ہے،حمزہ شہباز

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کا بجٹ صوبے کے 12 کروڑ عوام کے لئے ہوا کا خوشگوار جھونکا ہے۔کم عرصے میں انتہائی محنت اور عرق ریزی سے بجٹ دستاویز تیار کی گئی۔ بجٹ اعدادوشمار کی روایتی جادوگری نہیں بلکہ خلق خدا کی خدمت اور ریلیف کی حقیقی دستاویز ہے۔

    حمزہ شہبازنے کہا کہ ہماری سیاست کا محور عام آدمی کی مشکلات میں کمی لانا ہے۔ بجٹ میں بھی محروم معیشت طبقے کی فلاح پر فوکس کیا ہے۔ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کیلئے مشکل حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا ہے – صوبے کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ متوازن، ٹیکس فری اورترقیاتی بجٹ سے صوبے میں ترقی اورخوشحالی کے نئے دور کا آغا ز ہوگا- بجٹ صوبے کی پائیدار ترقی و خوشحالی کا روڈمیپ ہے۔

    پنجاب کا ”ٹیکس فری“ بجٹ دینے پر وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ کو خراج تحسین پیش کرنے کی قراردادپنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی ہے ،قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ اور سعدیہ تیمور نے جمع کرائی،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے تعلیم،صحت اور ڈویلپمنٹ کےلئے تاریخی بجٹ رکھا ہے
    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ طلبہ کو مفت لیپ ٹاپ،سکالر شپ،زراعت،انڈسٹری تمام شعبوں کے لئے خطیر رقم مختص کی ہے،مسلم لیگ(ن) کا ریکارڈ ہے ہمارا بجٹ کاغذوں میں نہیںگراﺅنڈ پر نظر آتا ہے،کینسر کے مریضوں کی مفت ادویات کا دوبارہ معاہدہ قابل تحسین ہے،حکومت عوام کو ہر ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرے گی.

  • مشکل حالات کے باوجودعوام دوست بجٹ پیش کیا،حمزہ شہباز

    مشکل حالات کے باوجودعوام دوست بجٹ پیش کیا،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے مشکل حالات کے باوجود ٹیکس فری اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ، بجٹ صوبے کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دیا گیا ہے۔ 200ارب روپے کے تاریخی امدادی پیکج کے تحت 10کلو آٹے کا تھیلا اب 490روپے میں دستیاب ہے۔

    بجٹ اجلاس کے بعد حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ اس امدادی پیکج کے ساتھ غریب عوام کی سہولت کے لیے 134ارب روپے کے رعایتی پیکج بھی دیا گیا ،134ارب روپے کے رعایتی پیکج کے تحت عوام کو اشیاء خورد و نوش کی رعایتی قیمتوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ جنوبی پنجاب، تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں کی پائیدار ترقی کے لئے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔

    حمزہ شہبازکا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ سے سرکاری ملازمین کو ریلیف ملے گا۔ گریڈ ایک سے گریڈ 19 تک ملازمین جو دیگر الاونس نہیں لے رہے ،انہیں 15فیصد خصوصی الاؤنس بھی ملے گا۔ کم از کم اجرت 20,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ کرکے مزدوروں کو ان کا حق دیا ہے ۔ ‏یکم جولائی سے پنجاب کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور مراکز صحت پر مفت ادویات دی جائیں گی۔کینسر کے مریضوں کو بھی مفت ادویات ملیں گی۔

    دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ ان کے پاس لوگ ہی نہیں ہیں، اگر ان کے پاس لوگ ہوتے تو اسمبلی بلڈنگ میں اجلاس کرتے۔
    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ جو اجلاس پہلے سے چل رہا ہو اس کے ساتھ دوسرا اجلاس نہیں ہوسکتا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلا اجلاس تو آج بھی چل رہا ہے، دو آرڈیننس لا کر ایک ادارے کے ساتھ زیادتی کی ہے، یہ ادارے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ گورنر نے ہاؤس کا تقدس پامال کیا ہے، اُن میں عقل ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کام جو آج تک کسی بھی غیر جمہوری حکومت نے نہیں کیا وہ کام یہ لوگ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر اجلاس کی صدارت کرنے کے لیے ڈپٹی اسپیکر کو کہہ ہی نہیں سکتے۔

  • ن لیگ کے منصوبوں پراپنی تختیاں لگا کرکریڈیٹ لینے کی کوشش کی گئی،وزیر خزانہ پنجاب

    ن لیگ کے منصوبوں پراپنی تختیاں لگا کرکریڈیٹ لینے کی کوشش کی گئی،وزیر خزانہ پنجاب

    ن لیگ کے منصوبوں پراپنی تختیاں لگا کرکریڈیٹ لینے کی کوشش کی گئی،وزیر خزانہ پنجاب

    ایوان اقبال میں پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہو گیا ہے تلاوت کلام پاک سے پنجاب بجٹ سیشن کا آغاز کر دیا گیا وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز ایوان اقبال میں پہنچ گئے

    وزیر خزانہ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ عوام نے شہباز شریف سے زیادہ متحرک لیڈر نہیں دیکھا گزشتہ حکومت نے کرپشن کے متعدد ریکارڈز قائم کیے،چوربازاری سے آنے والے شعبدہ بازوں کون لیگ نے ناکام بنا دیا،پنجاب میں گزشتہ ساڑھے3 سال میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، گزشتہ ساڑھے 3 سال میں کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا،مسلم لیگ کے دور میں شرح ترقی تیزی سے بڑھ رہی تھی، سی پیک کے تحت 51 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی،ن لیگ کی حکومت نے پہلے بھی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا اب بھی کریں گے،ہم نے پہلے بھی ڈیلیورکیا تھا اب بھی کرکے دکھائیں گے، پنجاب میں متعدد توانائی کے منصوبے ن لیگ کے دور میں لگائے گئے،ن لیگ کے صحت کارڈ کو انصاف کارڈ کا نام دیا گیا،گزشتہ 3 سالوں میں پنجاب کے سکولوں میں طلبا کی تعداد کم ہوئی، ماضی کی حکومت نےسوشل سیکٹرکی ترقی پربھی توجہ نہیں دی مسلم لیگ کے دور میں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا، ن لیگ کے منصوبوں پراپنی تختیاں لگا کرکریڈیٹ لینے کی کوشش کی گئی،نا مساعد حالت میں بھی ایک متوازن اورعوام دوست بجٹ کوممکن بنایا،خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا،

    وزیر خزانہ پنجاب اویس لغاری کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب بجٹ 2022-23 کا مجموعی حجم 3ہزار226 ارب روپے ہے،کُل آمدن کا تخمینہ 2ہزار521 ارب 29کروڑ روپے مختص کیا گیا بورڈ آف ریونیو کا ہدف 44 فیصد اضافے کے ساتھ 95 ارب روپے مختص ہیں نان ٹیکس ریونیو کی مدمیں 163 ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں رکھے گئے ہیں 312 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ترقیاتی پروگرام کیلئے 22 فیصد اضافے کے ساتھ 685 ارب روپے مختص ہیں محکمہ ایکسائز سے 2 فیصداضافے کے ساتھ 43 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ترقیاتی پروگرام کیلئے 685 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں 41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص کئے گئے ہیں بجٹ میں کوئی نیاٹیکس نہیں لگایا جا رہا ،ایک ہزار 712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں تجویزکی گئی ہے وزیر اعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جائے گی،عام آدمی کیلئے سستے آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے شہری علاقوں میں اسٹامپ ڈیوٹی کی شر ح کو ایک فیصد سے بڑھا کر2 فیصد کرنے کی تجویز کی گئی ہے

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ،اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے شرکت کی ،اس وقع پر وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ 3ماہ سے چند انا پرست لوگوں کے پیدا کردہ بحران سے گزر رہے ہیں،غیر یقینی صورتحال میں صوبے نہیں چل سکتے، 3 دن سے بجٹ نہیں پیش کرسکے آئین اور قانون کے رکھوالوں کو غنڈوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتایہ لوگ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دیتے تو صوبہ بنانا ری پبلک بن جاتا، سب جانتے ہیں کہ ایوان میں غنڈے کس طرح ڈپٹی اسپیکر کی طرف لپکے تھے،احتجاج کے دوران شہید پولیس اہلکار بیٹے کی سسکیاں دل چیر دیتی ہیں 4سال سے ایک پائی کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہیں کرسکے،ضمانت کیس میں کرپشن کا ثبوت نہ ملنے کا فیصلے میں بھی ذکر کیا گیا،عوام کی سہولت کیلئے ریلیف والا بجٹ دینے جا رہے ہیں ارکان اسمبلی بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنا کر اپنا حق ادا کریں،

    پنجاب کا بجٹ 13 جون کی دوپہر دو بجے اسمبلی میں پیش کیا جاے گا

    پنجاب کے آئندہ مالی سال 2022-23 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق پہلا مسودہ تیار کرلیا گیا 

    پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پرجواب طلب

    پنجاب کابینہ میں توسیع، کابینہ کا اجلاس بھی طلب

  • پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس شروع ہو گیا.جبکہ دوسری طرف ایوان اقبال میں بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 12 منٹ کی تاخیر سے شروع ہو گیا.اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کر رہے ہیں .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف بھی ایوان اقبال پہنچ گئے ہیں .قبل ازیں گورنر پیجاب نے 40 واں اجلاس برخواست کر دیا تھا اور 41 واں اجلاس ایوان اقبال میں منعقد کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا .

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کا طلب کردہ اجلاس 1 گھنٹہ 41 منٹ کی تاخیر سے پنجاب اسمبلی میں شروع ہوا جس میں تحریکِ انصاف اور ق لیگ کے ارکان نے شرکت کی۔تاہم کوئی بھی حکومتی رکنِ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔

    ایوان اقبال میں گورنر پنجاب کی جانب سے بلائے گئے بجٹ اجلاس صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ چوردروازے سے آنے والوں کےعزائم ناکام ہوئے، سابق دورمیں صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیزنہیں تھی،عوام نے شہبازشریف سے متحرک لیڈر نہیں دیکھا، سفاک حکمرانوں نے عوام کے ساڑھے 3سال ضائع کیے، گزشتہ حکومت نے کرپشن کے ریکارڈقائم کیے،3سال میں کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیاگیا،(ن) لیگ کے دور میں ترقی کی شرح بڑھ رہی تھی ،چوربازاری سےآنےوالےشعبدہ بازوں کو(ن)لیگ نےناکام بنادیا، سی پیک کےتحت 51ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی،ا ہم نے گزرنے والے کل کوبدلا، آنے والاکل بھی بدلیں گے، توانائی کا مسئلہ تمام مسائل کی جڑہے، مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا تھا،متعدد توانائی منصوبے(ن)لیگ کے دورمیں لگائے گئے، گزشتہ حکومت نےاسپتالوں میں مفت ادویات کانظام لپیٹ دیا،مسلم لیگ کےصحت کارڈ کوانصاف صحت پروگرام کانام دیا گیا.
    وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنجاب حکومت کا مالی سال برائے 2022-23 کا میزانیہ 3226 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ بجٹ کا میزانیہ ٹیکس فری ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فی صد اضافہ، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 15 فی صد اضافے کی تجویز ہے۔ مقامی حکومتوں کے لئے 528 ارب روپے، ترقیاتی اخراجات کے لئے 685 ارب روپے، تنخواہوں کے لئے 435 ارب روپے ، پینشن کے لئے 312 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں سرکاری ملازمین کےلیے مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا۔ گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرت 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے۔

    آمدن کا تخمینہ 2521 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، جس میں وفاقی محاصل سے 2020 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے اور صوبائی محصولات کا تخمینہ 500 ارب روپے ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 24 فی صد اضافے سے 163 ارب روپے، ایکسائز کے محاصل کی وصولی کے اہداف 2 فی صد اضافے سے 43 ارب روپے، بورڈ آف ریونیو کے محاصل 44 فی صد اضافے کے ساتھ 96 ارب روپے، پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فی صد اضافے سے 190 ارب روپے مقرر ہے۔

    آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں، 312 ارب روپے پنشن، 528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لیے مختص کئے گئے ہیں ۔ 685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں۔ شعبہ صحت پر 10 فیصد اضافے کے ساتھ 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیم پر 428 ارب 56 کروڑ روپے صحت کارڈ کے لئے 125 ارب رکھے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکیج کے تحت 200 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ 650 روپے والا 10 کلو آٹے کا تھیلہ اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز میں ٹیکس ریلیف کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔ رحمت اللعالمین پروگرام کے تحت تعلیمی وظائف کے لیے 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لئے 239 ارب 79 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا.
    پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے کثیر تعداد میں شرکت کی.اس موقع پر حمزہ شہباز نے کہا کہ3 ماہ سے چند انا پرست لوگوں کے پیدا کردہ بحران سے گزر رہے ہیں۔غیر یقینی صورتحال میں صوبے نہیں چل سکتے، 3 دن سے بجٹ نہیں پیش کرسکے۔آئین اور قانون کے رکھوالوں کو غنڈوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لوگ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دیتے تو صوبہ بنینا ری پبلک بن جاتا۔

    حمزہ شہبازنے کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران وردی میں ملبوس افسروں کو ٹھڈے اور مکے مارے گئے۔سب جانتے ہیں کہ ایوان میں غنڈے کس طرح ڈپٹی سپیکر کی طرف لپکے تھے۔احتجاج کے دوران شہید پولیس اہلکار بیٹے کی سسکیاں دل چیر دیتی ہیں۔چار سال سے ایک پائی کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہیں کرسکے۔ضمانت کیس میں کرپشن کا ثبوت نہ ملنے کا فیصلے میں بھی ذکر کیا گیا۔عوام کی سہولت کیلئے ریلیف والا بجٹ دینے جا رہے ہیں۔حمزہ شہباز
    ارکان اسمبلی بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنا کر اپنا حق ادا کریں۔

    صوبائی وزیر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ مصالحت کی ہرممکن کوشش کی گئی، بچگانہ حرکتوں سے بجٹ زیر التوا رکھا گیا۔ایسے شخص سے مقابلہ ہے جو واضح ہار بھی ماننے کو تیار نہیں۔آئینی اور قانونی طور پر گورنر کو اجلاس کے وقت اور مقام کا تعین کرنے کا اختیار ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے اختتام پر دعائے خیر بھی کی گئی

    پرویز الہٰی کے طلب کردہ اسمبلی کے اجلاس میں عطاء تارڑ کے خلاف متفقہ طور پر تحریکِ استحقاق منظورکر لی گئی۔ تحریکِ استحقاق پی ٹی آئی رکنِ اسمبلی ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں جمع کرائی۔ تحریکِ استحقاق کے متن کے مطابق صوبائی وزیر عطاء اللّٰہ تارڑ نے ایوان میں نازیبا اشارہ کیا، خواتین کی موجودگی میں ایوان کے اندر غلط اشارے کیے گئے۔

    پی ٹی آئی کی رکن ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عطاء تارڑ کے نازیبا اشارے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہاتھ میں آئینِ پاکستان کی کتاب، دوسرے سے اشارہ ناقابلِ برداشت ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    ڈاکٹر مراد راس نے اپیل کی کہ مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعا کرنی چاہیے، اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت میں جگہ دے۔ پنجاب اسمبلی میں مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

    اسپیکر کے حکم پر سیکریٹری پارلیمانی امور عنایت اللّٰہ لک نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا۔ پینل آف چیئرمین میں نوابزادہ وسیم خان باروزئی، میاں شفیع محمد، ساجد احمد خان بھٹی اور شازیہ عابد شامل ہیں۔

    پنجاب اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے میاں محمودالرشید نے عطاء تارڑ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سوچ کے لوگوں کا وزیر بننا لمحۂ فکریہ ہے، وکلاء برداری ان کا لائسنس منسوخ کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریکِ استحقاق کو فوری کمیٹی کے سپرد کریں، ایسے افراد کے ایوان میں آنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگائی جائے۔

    ایوان میں پی ٹی آئی رکن میاں اسلم اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے اور میرے بھائیوں کے خلاف پرچے کاٹنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، عطاء تارڑ کی حرکت سے پوری قوم کا استحقاق مجروح ہوا۔

    سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی اسمبلی پہنچ گئے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اجلاس چل رہا ہو تو آرڈیننس پیش نہیں ہو سکتا، ابھی پہنچا ہوں، دیکھنا پڑے گا کہ اسمبلی کے اختیارات کیسے محدود کیے گئے۔اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے اپنا طلب کردہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کا اسمبلی اجلاس ایوان اقبال میں ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید پنجاب حکومت نے اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے ایوان اقبال میں یہ اجلاس بلایا ہے،ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی بلڈنگ والے اجلاس میں جائیں اور اپنے اختیارات کا تحفظ کریں، آجکل سیاست تماش بینوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے، ڈر ہے کہ تماش بین ملک کا تماشہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسمبلی اجلاس تماش بینوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائے،کیونکہ تماشبین اپنا تماشہ لگا رہے ہیں وہ قوم کو تماشہ نہ بنائیں.