Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • پرویز الہی کی ہٹ دھرمی، بجٹ پیش نہ ہو سکا،حکومت اور اپوزیشن نے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلا لئے

    پرویز الہی کی ہٹ دھرمی، بجٹ پیش نہ ہو سکا،حکومت اور اپوزیشن نے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلا لئے

    پنجاب میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، ایک طرف گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی کا رواں ا40 واں اجلاس برخواست کر دیا اور 41 واں اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا تو اس کے ساتھ ہی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے برخواست کیا گیا اجلاس شروع کر دیا اور صوبائی وزیر خزانہ سردار اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی۔وزیر خزانہ نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ جناب سپیکر! گورنر پنجاب یہ اجلاس ختم کر چکے ہیں لہذا اس اجلاس کی کاروائی غیر قانونی و غیر آئینی ہو گی۔ اس پر چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ گورنر کے احکامات کی کوئی آئینی حیثیت نہیں.بعدازاں سپیکر نے اجلاس کل مورخہ 15 جون 2022 کو دوپہر 1 بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔

    پجٹ اجلاس دو روز میں پیش نہ ہو سکا .حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو روز سے ڈیڈ لاک برقرار ہے ،حکومت بجٹ پیش کرنا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن اپنے اوپر قائم مقدمات کا خاتمہ اور آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو ایوان میں طلب کر کے معافی کے خواہاں ہیں. تاہم اب پیجاب اسمبلی کے دو اجلاس بلائے جاچکے ہیں ،گورنر ارواں اجلاس نرخواست کر چکے ہیں جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ گورنر کے احکامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو اس صورت میں کل دو اجلاس منعقد ہوں گے. حکومت ایوان اقبال میں بجٹ پیش کرے گی جبکہ اپوزیشن کل پیجاب اسمبلی میں اجلاس میں شرکت کرے گی.

    صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے کہا کہ میں پچھلے دو دن سے تقریر تیار کرکے بار بار ایوان کے اندر آیا، ہمارے اوپر بے جا تنقید کی گئی لیکن ہم نے راجہ بشارت کی طرح بدتمیزی نہیں کی،اسپیکر نے ہمارے وزیر اعلی کو ایوان کے اندر بلوایا اور پھر کہا گیا آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلاؤ،ہمارا اور عوام کا استحقاق مجروح ہوا ، ہماری بجٹ کی تقریر کو ڈسٹرب کیا گیا، آج پھر پورا دن ہمارے ایم پی ایز کو انتظار کروایا گیا،یہ ہمارا رائٹ تھا جب کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا،ہم نے کل کہا تھا آئین پانی کی طرح ہوتا ہے،پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنے قبضے میں لی ہوئی ہے، جب ان کو معلوم ہوگیا کہ اجلاس پروووگ ہوگیا ہے تو انھوں نے کہا کہ بجٹ پیش کریں ، کل ہم انشاء اللہ بجٹ پیش کریں گے

    عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ میں نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ،کہا گیا مجھے سارجنٹ اینڈ آرمڈ کے ذریعے باہر نکالا جائے،آج کابینہ کا اجلاس رات آٹھ بجے ہوا اور کابینہ نے سمری گورنر کو بھیجی گئی،گورنر پنجاب نے نیا اجلاس کل بلایا ہے، میاں محمود الرشید ، مراد راس ، میاں اسلم اقبال کہتے ہیں ہمارے پرچے ختم کریں،یہ بادشاہ کی طرح ایوان کو چلاتے ہیں،یہاں گجرات اور منڈی بہاؤالدین کے لوگ بھرتی کی ہوئے ہیں، پچیس مئی پچیس مئی ظلم اور قہر ہوگیا ، آپ کو تو ابھی ہاتھ نہیں لگایا آپ کی چیخیں نکل رہی ہیں ، انھوں نے میڈیا کی انٹری بند کردی، کیا پرویز الہی بادشاہ سلامت ہیں کہ جو دل کرے گا کریں گے، اپنی نگرانی میں پرویز الہی غنڈوں کو اندر لائے،مونس الہی دو دن بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں کیوں بیٹھا ہے.

    انہوں نے کہا کہ میرے سے آپ اتنا خوف زدہ کیوں ہیں ،آپ کے بیٹےکے جب قصے نکلے گے تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، محمد خان بھٹی کیا کام کرتا ہے کہ ارب پتی ہے ،ساتویں سکیل میں لگا کر بائیسواں گریڈ دے دیا،یہ چار دن کی اسپیکری پر خود کو کیا سمجھتے ہیں ، آپ ایوان اقبال آئیں ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں، آپ ہر پارٹی کے ساتھ شراکت میں رہے ہیں آپ صرف اقتدار کے پجاری ہیں، ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، آپ آئیں کل ایوان اقبال میں اپنے اسٹاف کو لے کر آئیں آپ آئیں آپ کو عزت دیں گے،اس ملک نے صدا رہنا ہے ہم نہیں ہوں گے یہ ملک ہمیشہ رہے گا ،آئینی اور قانونی معاملہ پیدا نہیں ہوگا، پہلے خبر چلی پھر اسپیکر کی رولنگ آئی ،جو انھوں نے دو دن کیا ہے اب ان کو وہاں آنا پڑے گا،ابھی فوکس بجٹ ہے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق اسمبلی اجلاس جاری تھا
    تین دفعہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی ،اگر گورنر اجلاس ملتوی کرے تو سیکرٹری اسمبلی کو تحریری اطلاع آتی ہے. پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ نہ گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے،جب اجلاس ملتوی کرتے ہیں تو سیکرٹری اسمبلی کو گورنر کہے گا ،کسی اور جگہ رکھ کر اجلاس چار بندے بیٹھ جائیں یہ مذاق ہے غیر قانونی ہے ،سپیکر کے ہوتے ہوئے ڈپٹی سپیکر اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتا ،انہوں نے دوسرا بدنما داغ اپنے ماتھے کا حصہ بنایا ہے.خواتین اراکین کی طرف سے تحریک استحقاق آئی ہے ،جس پر سب سے پہلے کاروائی ہوگی ،عطا تارڈ نے غلط اشارے کئیے

    ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجہ بشارت نے کہا کہ ابھی تک تحریری طور پر اجلاس برخاست ہونے کا نوٹیفیکیشن نہیں ملا ،سپیکر کی موجودگی میں ڈپٹی سپیکر کو اجلاس کی صدارت کا نہئں کہا جاسکتا .اسمبلی کی عمارت کو ہوتے ہوئے کسی دوسری عمارت کو اسمبلی ڈکلئیر نہیں کیا جاسکتا ،ہم نے جب فلیٹئز ہوٹل میں اجلاس کیا تو ایوان سے اجازت لی تھی ،بجٹ اسمبلی سے پاس ہوتا ہے اور یہاں سارا سٹاف موجود ہے ،اگر گورنر غیر قانونی کام کرنا چاہتا ہے تو یہ بدقسمتی ہے ،کل اسمبلی کا ممبر نہ ہونے والے کو ایوان میں بٹھا دیا گیا .کل اجلاس ایک بجے اسمبلی بلڈنگ میں ہوگا.

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ تین دفعہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کا کہا ،جو کچھ انہوں نے بجٹ بنایا پنڈورا بکس کھلے گا تو پتہ چلے گا ،ان واقعات میں حق ابھر کر سامنے آتا ہے ،اراکین کو ہراساں کیا جارہا ہے،میاں اسلم اقبال نے کہا کہ بتیس سو ارب کا بجٹ ہے ،اسمبلی بلڈنگ چھوڑ کر غیر آئینی طور پر کہیں اور بجٹ پیش کرنا غیر قانونی ہے،گورنر نے غیر آئینی حکم دیا ہے ،یہ غیر آئینی اقدام پر بغلیں بجاتے ہیں ،پہلے ہوٹل میں اجلاس منعقد کرکے حمزہ کو وزیر اعلی بنا لیا ،یہ نکمی اور نااہل حکومت کے کام ہیں.

  • بجٹ کیلئے اسمبلی آیا مگر آج بھی تماشا چل رہا ہے،حمزہ شہباز

    بجٹ کیلئے اسمبلی آیا مگر آج بھی تماشا چل رہا ہے،حمزہ شہباز

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ 12 کروڑ کے صوبے کا بجٹ آپ نے جام کیا ہے، ہماری نیت صاف ہے، 3 ماہ سے ان کا سامنا کررہا ہوں .رات گئے تک بیٹھوں گا، عوام دیکھیں گے یہ شخص تماشا کررہا ہے، یہ وہی اسپیکر ہے جس کے اپنے خلاف عدم اعتماد ہے.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ روز آئین اور قانون کی پامالی کر تا ہے،بجٹ پاس ہوگا اللہ کو منظور ہوا تو،آپ کو کسی کی شکل پسند نہیں، پرانا دکھ اور غصہ ہےتو کیوں آئین کو پامال کر رہے ہیں،عوام کو بتائوں گا تین ماہ میں پنجاب میں جو آئین و قانون کاُ تماشا لگایا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ تین مہینوں کا تماشا پہلے کبھی نہیں دیکھا کبھی اجلاس بلایا تو چند منٹ میں ختم کر دیا جاتاہے،راجہ ایندر پرویز الہی بنے ہوئے ہیں،آئین و قانون پاسداری کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے وزارت اعلی کا انتخاب کیا،ٹوٹے ہوئے بازو کا تماشا لگایا گیا ،میرئ ذات کا معاملہ نہیں عوام کا معاملہ ہے،لوگ مہنگائی کے شکار ہیں اور انہیں آئی جی اور چیف سیکرٹری کی پڑی ہوئی ہے

    حمزہ شہباز نے کہا کہ میری انا عوام سے زیادہ نہیں لیکن انہوں نے بازاری زبان استعمال کی ، رات بارہ بجے گھرگیا، کھیل تماشا کرنے تو نہیں آیا، کلرکوں اور مزدوروں کےلئے اچھی خبر لے کر آیا مگر بنی گالہ اور سپیکر پرویز الہی کی انا کی تسکین نہیں ہو رہی.

    حمزہ شہبازکا کہنا تھا کہ فرح گوگی کا نام لیا جاتاہے تو تکلیف ہوتی ہے ریاست مدینہ میں توشہ خانہ سے گھڑیاں بیچی جاتی ہیں ، عوام کو بتانا چاہتا ہوکہ انا نہیں ہے عوام کی بہتری کےلئے انا بھی نچھاور کر دوں گا.

    ہم کہتے ہیں بجٹ پیش کرنے دو مگر وہ کہتے آئی جی کو پیش کرو، انہیں اب عوام کی عدالت میں پیش کروں گا، ڈر کر کہتا ہوں دو ماہ کی کابینہ نے آٹے پردو سو ارب روپے کی سبسڈی دی ، تماشا بند ہوناچاہئے، آئین و قانون کا تماشا بند ہونا چاہئیے،اب تماشا نہیں چلے گا، بجٹ بھی پاس ہوگا اور کامیاب بھی ہوں گے،اگر کسی کی شکل پسند نہیں تو آئیُن و قانون کی پامالی تو نہُ کریں.

    اوزیراعلی نے مزید کہا کہ آج بھی آیا ہوں ، بیٹھوں گا مگر تماشا آج بھی جاری ہے، یہ وہی سپیکر ہے جس پر عدم اعتماد ہے ، اب عوامُ دشمنی کررہے ہیں، آپشن نہیں بتائوں گا نیت صاف ہے، تین ماہ سے آئینی بحرانوں کا سامنا کررہاہوں، پہلی جولائی سے ٹی ایچ کیو ڈی ایچ کیو میں مفت ادویات دوںُگا ،بجٹ بھی پیش ہوگا آئینی کھلواڑ کا بھی بندوبست کروں گا.

  • پنجاب کا بجٹ اجلاس شروع نہ ہو سکا، حکومت اور اپوزیشن میں ڈید لاک برقرار

    پنجاب کا بجٹ اجلاس شروع نہ ہو سکا، حکومت اور اپوزیشن میں ڈید لاک برقرار

    پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ خیز ہونے کاامکان ہے. جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے.پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا، پنجاب اسمبلی کااجلاس دوپہر ایک بجے سپیکر پرویز الہی کی زیر صدارت شروع ہونا تھا جو تاحال شروع نہیں ہو سکا،اجلاس میں پنجاب کے مالی سال 2022-23 کا بجٹ پیش کیا جانا تھا.اجلاس میں فانشنل بل 2022 بھی متعارف کروایا جانا ہے.اجلاس میں پنجاب سیلز ٹیکس اون سروسز ایکٹ 2012 ترمیمی بل بھی پیش کیا جائے گا.

    . پنجاب اسمبلی پر یس گیلری اور سیکرٹریٹ کو میڈیا کے لیے بند کردیا گیا ہے اور پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے سحافیوں کو اندر جانے سے روک دیا

    صحافیوں نے پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا اور پنجاب اسمبلی کے احاطے پر صحافئوں کا دھرنا دیا،تاہم ترجمان پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں صحافیوں کی کوریج پر کوئی پابندی نہیں ہے،صحافی اس وقت بھی میڈیا کیمپ میں کوریج کر رہے ہیں، صحافی ایوان کی پریس گیلری سے بھی اجلاس کی بلا روک ٹوک کوریج کر رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کی گزشتہ روز بھی مکمل کوریج کی تھی، صبج سے میڈیا کی کوریج اسمبلی کے میڈیا کیمپ سے جاری ہے .

    دوسری طرف اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ایماءپر سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے وزیر اعلی کی سیکیورٹی کو بھی گیٹ پر روک لیا. اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود کا کہنا تھا کہ خوشی ہوتی کہ اپوزیشن پنجاب میں سستے آٹے کا کہتی ،لیکن یہ ذاتی بات کےلئے آئے،کسی کی ہٹ دھرمی نہیں چلنے دیں گ،عطا تارڑ کو ایوان سے باہر نکالنا زیادتی ہے

    رانا مشہود احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو صوبائی وزیر بنایا جاتا ہے تو چھ ماہ تک وقت ہوتا ہے ماضی میں مجتبی شجاع اور رانا ثنااللہ کی مثالیں موجودہیں, عطااللہ تارڑ آئے گا بیٹھے گا اگر پھر کوئی غیر قانونی حرکت کی تو جواب دیاجائےگا،پک اینڈ چوز نہیں ہونا چاہئیے ، بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں اس پر بات کریں گے، آج مونس الہی اگر بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بیٹھے تو اس کا بائیکاٹ ہوگا یا پھر اپنے بچے بھی ساتھ لائیں گے،

    رانامشہود احمد خان نے کہا کہ ہمارا پہلا مقصد بجٹ پاس کروانا ہے سپیکر کے دن گنے جا چکے ہیں عدم اعتماد سپیکر کے خلاف موجود ہیں انہیں باہر نکال دیں گے، بجٹ پاس کروانے کےلئے عدالت سمیت ہر آپشن کو استعمال کریں گے،پرویز الہی جیسے بزرگ کو اٹھائیس سال کا لالی پاپ مل چکا ہے انہیں چاہئیے اسی لالی پاپ پر گزارا کریں.

    سردار اویس لغارینے کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو اسمبلی نہیں لائیں گے ،چیف سیکرٹری اور آئی جی سے کام لینا ہے،پرویز الہی اپنا غصہ آئی جی اور چیف سیکرٹری پر نکالنا چاہتے ہیں، آئی جی اور چیف سیکرٹری کا بجٹ سے کیا تعلق ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت میں ہیں آئین اور قانون کے مطابق جو ہوگا وہی ہوگا، پرویز الہی کی ڈیمانڈ ہے کہ میرے ساتھ سوگ میں حصہ لوں کہ میں وزیر اعلی کیوں نہیں بن سکا

    دوسری جانب ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ آئی جی کو بلا کر ان کی توہین کرنا چاہتے ہیں ،ہمارا کوئی ممبر ایسا نہیں جو ان سے غیر پارلیمانی بات کریں انہوں نے کہا کہ اصل میں آئی جی ان کی بات مانے کو اس لئے تیار نہیں کہ ان کی حکومت اس کی وجہ سے ہے، ہم ادارے کی توقیر کو بحال کرنے کے لئے کھڑے ہیں

    اپوزیشن لیدر پنجاب سبطین خان نے کہا کہ سولہ تاریخ کو جو بربریت اسمبلی میں کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی، ہم نے اجلاس میں آئی جی اور چیف سیکرٹری سے کچھ نہیں لینا ہے، ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس ایوان سےبجٹ پاس ہو کر آپ کو سیلری ملتی ہیں
    انہوں نے مزید کہا کہ پچیس تاریخ کو ان لوگوں نے کس طرح پی ٹی آئی کے کارکنوں پر ظلم کیا ، آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سے پوچھنا ہے کہ آپ نے کیوں لاٹھی چارج کیا، حمزہ شہباز خود کہہ دے ہم ہار گئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو نہیں لا سکتے. ہم اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائے گے۔

    ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا کہ اسمبلی میں اسپیکر کی رولنگ چلتی ہیں ، اسپیکر نے رولنگ دی کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلایا جائے،لگتا ہے یہ آئی جی کے ماتحت ہے جو ان کی بات نہیں مان رہے، اج ہاؤس کی بے توقیری جعلی وزیر اعلیٰ کر رہا ہے ، جب تک آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری نہیں آئیں گے ایوان نہیں چلے گا ،یہ حکومت امریکہ کے ایجنڈے پر آئی ہے۔امریکہ ان کے کیسز ختم کروا رہا ہے ،ان لوگوں نے امریکہ کے کہنے پر لاٹھیاں چلائی.

    مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر عطا اللہ تاڑرکا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق ایوان میں بیٹھ سکتا ہوں،پہلے بھی ایسی مثالیں ملتی رہی ہیں،لیکن سپیکر کی ضد تھی, اس لیے باہر آ گیا،میں 12 کڑور عوام کے بجٹ میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا،ہم مقدمات پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے، صحافیوں کے ساتھ زیادتی ہے،انہوں نے بڑی شرارتیں کیں، شرارتیں ہم نے بھی بڑی دیکھی ہیں، ہم بلیک میل بلکل نہیں ہونگے. میڈیا کو اندر جانے دیا جائے ہم بھی یہی چاہتے ہیں، 600 بندہ اپنی مرضی کا بھرتی کیا ہوا ہے،زاتی کمپنی بنائی ہوئی ہے.

    لیگی رہنما عظمی بخاری نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کو وزیر اعلی نہ بننے کا غم ہے ، انہیں عقل اور تمیز نہیں آرہی ، بجٹ نے نہ حمزہ شہباز اور نہ ظہور الہی روڈ پر بٹنا ہے یہ پنجاب کی عوام کا بجٹ ہے،عوامی بجٹ کو پاس ہونا چاہیے.عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ پرویز الہی اپنی۔ بوٹی سیاست کیلیے اوچھی حرکتوں پر آیا ہوا ہے، پرویز الہی کا اچھا علاج ہے لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا،ان کا علاج ضرور کریں گے.

  • سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک ہزار 713 ارب کا سال 23-2022 کے لیے ٹیکس فری خسارے کا بجٹ پیش کردیا۔ سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی حکومت کی مجموعی وصولیوں ایک ہزار 679 ارب 73 کروڑ 48 لاکھ جبکہ اخراجات ایک ہزار 713 ارب 58 کروڑ 31 لاکھ روپے ہوں گے جو 33 ارب کے خسارے کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ مجموعی طور پر محصولات کی وصولیاں 1,679,734.8 ملین ہوں گی جس میں 1.055 ارب روپے وفاقی منتقلی، 374.5 ارب روپے کی صوبائی وصولیاں (167.5 ارب صوبائی ٹیکس وصولیاں جن میں سروسز پر جی ایس ٹی، 180 ارب سروسز پر صوبائی سیلز ٹیکس اور 27,000 ملین صوبائی نان ٹیکس وصولی)، 51,132.8 ملین روپے موجودہ کیپٹل وصولی، 51,132.8 ملین روپے کی کرنٹ کیپیٹل وصولی، 105,567.5 ملین روپے دیگر ٹرانسفرز جیسے کہ غیر ملکی پراجیکٹ امداد، وفاقی گرانٹس اور غیر ملکی گرانٹس اور 20,000 ملین روپے کیش بیلنس اور صوبے کے پبلک اکاؤنٹس شامل ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سندھ بورڈ آف ریونیو 180 ارب روپے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ 1.20 ارب روپے اور بورڈ آف ریونیو 30 ارب روپے وصولی کے اہداف حاصل کریں گے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے موجودہ ریونیو اخراجات 1,199,445.4 ملین روپے ہوں گے جس میں موجودہ سرمائے کے اخراجات 54.48 ارب روپے، ترقیاتی پورٹ فولیو 459.65 ارب روپے ہوں گے جس میں 332.165 ارب روپے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)، 30 ارب روپے ضلع اے ڈی پی، اور 91.467 ارب فارن اسسٹنس پروجیکٹ (FAP) اور 6.02 ارب دیگر وفاقی گرانٹس شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی حکومت نے دوران مالی سال کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) میں 732 ارب روپے کے نتیجے میں 716 ارب روپے وصول کیے ہیں جو 16 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے مذکورہ مدت کے دوران 19.7 ارب روپے کے نتیجے میں 45 ارب روپے براہ راست منتقلی اور OZT میں 18.9 ارب روپے وصول کیے۔

    صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 23-2022 کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ یہ رواں سال کے دوران 222.5 ارب روپے ہے۔ ضلعی اے ڈی پی کا حجم 30 ارب روپے رکھا گیا ہے جیسا کہ رواں مالی سال کے دوران کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 4158 اسکیمیں جن میں 2506 جاری اور 1652 نئی اسکیمیں شامل ہیں، کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جاری 2506 اسکیموں کے لیے 76 فیصد فنڈز یعنی 253.146 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور 1652 نئی اسکیموں کے لیے 24 فیصد فنڈز یعنی 79.019 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ مالی سال 23-2022 میں 1510 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی.وزیراعلیٰ سندھ نے 26.850 ارب روپے کے غریبوں کے حامی، سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے پیکیج کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز 2016، 2017، 2018، 2019 اور 2021 کو وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے قابل قبول شرح پر ضم کیا جا رہا ہے اور بنیادی تنخواہ اسکیل 2022 پر نظر ثانی کی جا رہی ہے جبکہ سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کے لیے وفاقی حکومت کی طرز پر بنائے گئے پیٹرن کو ہی متعارف کروایا جا رہا ہے۔انہوں نے یکم جولائی 2022 سے سرکاری ملازمین کے بنیادی تنخواہوں میں 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا بھی اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33 فیصد اور گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے لیے 30 فیصد ایڈہاک ادا کیا جائے گا جبکہ ریلیف الاؤنسز 2013، 2015، 2016، 2017، 2018، 2019، 2020 اور 2021 یکم جولائی 2022 سے ختم کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کے پنشنرز کو پہلے ہی فروری 2022 تک وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں 22.5 فیصد اضافہ مل رہا ہے اس لیے سندھ حکومت یکم جولائی 2022 سے پنشنرز کو خالص پنشن سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

    مراد علی شاہ کے مطابق مارچ 2022 میں وفاقی حکومت کی جانب سے خالص پنشن میں 10 فیصد اضافے اور یکم جولائی 2022 سے 15 فیصد اضافے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں خالص پنشن پر حکومت سندھ کے پنشنرز کو اب بھی 12.5 فیصد زیادہ ملیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کانسٹیبل کو گریڈ 5 سے اپ گریڈ کر کے گریڈ 7 میں کرنے کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ٹول مینوفیکچرنگ سروسز کو ایس ایس ٹی سے مستثنیٰ کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ریکروٹنگ ایجنٹس‘ کے لیے 5 فیصد کم کردہ SST کی شرح اگلے دو سال یعنی 30 جون، 2024 تک جاری رہے گی۔ یہ ریلیف بیرون ملک کام کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے تجویز کیا گیا ہے
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کیبل ٹی وی آپریٹرز کی طرف سے فراہم کردہ خدمات پر 10 فیصد کی کمی کی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا تھا، موجودہ ریلیف کو 30 جون 2024 کو ختم ہونے والی دو سال کی مزید مدت کے لیے بڑھانے کی تجویز ہے۔

    کیبل ٹی وی آپریٹرز کو استثنیٰ دینے کی تجویز ہے، بشمول دیہی علاقوں کے کیبل ٹی وی آپریٹرز کو پیمرا لائسنس کے تحت ’R‘ زمرہ کے ایس ایس ٹی سے 30 جون 2023 تک مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ ہوم شیفز سے فوڈ ڈیلیوری چینلز (جیسے فوڈ پانڈا، چیتے لاجسٹکس وغیرہ) کے ذریعے موصول ہونے والے کمیشن چارجز پر ایس ایس ٹی کی شرح 30 جون 2024 کو ختم ہونے والے دو سالوں کے لیے 13 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

    دیگر تمام معاملات میں کمیشن ایجنٹس کے ذریعہ فراہم کردہ یا فراہم کی جانے والی خدمات SST کے لیے 13 فیصد لاگو رہیں گی۔ ہیلتھ انشورنس خدمات پر موجودہ چھوٹ 30 جون 2023 تک ایک سال کی مدت کے لیے مزید جاری رہے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت نے تعلیم کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح پر رکھا ہے، اس کے لیے 326.80 ارب مختص کیے گئے ہیں جو بجٹ کے کل اخراجات کا 25 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

    سندھ حکومت نے کم از کم سات اضلاع کورنگی، کراچی غربی، کیماڑی، ملیر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار اور سجاول میں ایک ایک مکمل یونیورسٹی یا ایک تسلیم شدہ پبلک یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    کورنگی میں ٹیکنالوجی اینڈ اسکل، ووکیشنل/ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ یونیورسٹی ہوگی، جبکہ کراچی ویسٹ اور کیماڑی میں اس یونیورسٹی کے ذیلی کیمپسز ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے محکمہ داخلہ بشمول سندھ پولیس اور جیلوں کے لیے کل مختص رقم کو رواں مالی سال کے دوران 119.98 ارب سے 124.873 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے آبپاشی کے بجٹ کو 21.231 ارب روپے سے بڑھا کر 24.091 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اے ڈی پی 23-2022 میں محکمہ زراعت اور آبپاشی کے لیے مختص رقم 36.2 ارب روپے ہے۔

    واٹر اینڈ سیوریج سیکٹر کو مالی سال 23-2022 میں 224.675 ارب دیے گئے ہیں، شہر کی دو بڑی اسکیموں کو آنے والے مالی سال کے دوران عمل میں لایا جائے گا۔

    ان میں 9.423 ارب روپے سے گجر، محمود آباد اور اورنگی نالہ کے متاثرین کی دوبارہ آباد کاری اور 511.724 ارب روپے کی لاگت سے گریٹر کراچی بلک واٹر اسکیم K-IV اضافے کا کام شامل ہیں۔

    سندھ حکومت نے اس شعبے کے بجٹ کو اگلے مالی سال 23-2022 کے لیے 8 ارب سے بڑھا کر 12 ارب کردیا ہے۔

    حکومت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے آپریشنز کو اگلے مالی سال میں دیگر اضلاع تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں حیدرآباد، قاسم آباد، کوٹری، سکھر سٹی اور روہڑی شامل ہیں۔

    خریداری کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے اور اس سال کے آخر میں آپریشن شروع ہو جائے گا۔ SSWMB کی توسیعی کارروائیوں کے پیشِ نظر کام کیا جائے گا۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں محکمہ سماجی تحفظ کے لیے 15.435 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بزرگ شہریوں، یتیموں اور غریبوں کی بہبود اور اسے بہتر بنانے کے لیے اگلے مالی سال 23-2022 سے کئی سماجی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں اور انہیں مالی اعانت فراہم کی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں سندھ کی کابینہ نے 23-2022ء کے لیے 1 اعشاریہ 71 ٹریلین روپے کا ٹیکس فری بجٹ منظور کر لیا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، مشیر، معاونینِ خصوصی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ غریبوں کا بجٹ ہے، جس میں سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ا

  • پی ٹی آئی  کی سیاست ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے،خواجہ سلمان رفیق

    پی ٹی آئی کی سیاست ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے،خواجہ سلمان رفیق

    لاہور احتساب عدالت, میں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس کا معاملہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر حاضری مکمل کرائی

    احتساب عدالت نمبر دو کے جج نسیم احمد ورک نے کیس پر سماعت کی،نیب کے گواہ سہیل انور اور ذیشان نے عدالت میں بیان قلمبند کروایا، نیب پراسکیوٹر فیصل شہزاد گوندل نے گواہان کو پیش کیا

    وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں ہنگامہ آرائی قابل افسوس تھی پی ٹی آئی کی سیاست ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے وفاقی حکومت میں اکثریت کھونے پر بھی عمران خان نے حوصلہ نہیں دکھایا عمران خان نے آئین اور قانون سے کھلواڑ کیا،پیٹرول سے ہونے والی مہنگاہی کے اثرات نیچے عوام تک جائیں گے گزشتہ روز پنجاب ا سمبلی اجلاس کے دوران6 گھنٹے مذاکرات ہوئے جو ناکام ہوئے آج بھی پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان سے مذاکرات ہونگے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    ضمنی انتخابات،وزیراعظم شہباز شریف نے مریم نواز کواہم ہدایت دے دی

    واضح رہے کہ گزشتہ روزپنجاب اسمبلی اجلاس میں بجٹ پیش ہونا تھا لیکن نہیں ہو سکا، سپیکر پرویز الہیٰ نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دن ایک بجے تک ملتوی کر دیا تھا، آج دوبارہ اجلاس ہو گا جس میں پنجاب کا بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے

    پنجاب کے آئندہ مالی سال 2022-23 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق پہلا مسودہ تیار کرلیا گیا 

    پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پرجواب طلب

    پنجاب کابینہ میں توسیع، کابینہ کا اجلاس بھی طلب

    پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز بجٹ ہوگا،مالی سال2023۔2022 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا

  • پنجاب کا بجٹ تاخیر کا شکار،حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک

    پنجاب کا بجٹ تاخیر کا شکار،حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک

    ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں بجٹ اجلاس تاخیر کا شکار ہوگیا، اسمبلی کی کارروائی میں اراکین اسمبلی کی عدم دلچسپی نظر آئی ہے جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا.

    بجٹ اجلاس میں تاخیر کے باوجود متعدد اراکین اسمبلی غیر حاضر ہیں، جبکہ پنجاب اسمبلی میں ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس تا حال جاری ہے،پنجاب کے آئندہ بجٹ اجلاس کے حوالے سے مشاورت کی جارہی ہے۔
    زرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحریری معاہدے تک تاخیر کا شکاررہے گا. تاہم حکومت کی جانب سے معاہدے کے ڈرافٹ کی تیاری جاری ہے جبکہ اپوزیشن نے اپنے مطالبات پر مبنی ڈرافٹ تیار کر لیا

    سپیکر پرویز الٰہی اور اپوزیشن لیڈر سبطین خان کی صدارت میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے مطالبات سے آگاہ کر دیا ہے ،ارکان اسمبلی کا استحقاق مجروح کرنے پر آئی جی پولیس کو معافی مانگنا ہوگی .

    اپوزیشن لیڈر سبطین خان کا کہنا تھا کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری سپیشل کمیٹی کے سامنے پیش ہوں ۔ تحریری معاہدے کے بعد ہی اسمبلی اجلاس کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق اسپیکر پرویز الہٰی کی جانب سے اسمبلی ملازمین پر دائر مقدمات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، حکومتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ مقدمات واپس لینا ہمارے اختیار میں نہیں ہے.زرائع کے مطابق ایڈوائزی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا، اپوزیشن نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سے معافی کا مطالبہ کر دیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی معاملہ میں آئی پنجاب ملوث ہیں، اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ جن کے گھروں پر چھاپے مارے اور گرفتاریاں کیں ان سے معافی مانگیں،
    حکومتی رکن خلیل طاہر سندھو احتجاجا اجلاس چھوڑ کر باہر آ گئے۔ا جلاس میں خلیل طاہر سندھو نے موقف اختیار کیا کہ ہم تمام صورتحال میں اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، ذرائع کے مطابق ن لیگ نے اپوزیشن کے مطالبات ماننے کےلئے وقت مانگ لیا.

    پنجاب کابینہ نے مالی سال 23-2022 کے بجٹ کی منظوری دے دی، پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو ’روشن راہیں نیا سویرا‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

    کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری دے دی، 15 فیصد اسپیشل الاؤنس کی ادائیگی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ متعلقہ حکام نے دن رات محنت کرکے بہترین بجٹ دستاویز تیار کی، بجٹ میں عوام کوحقیقی معنوں میں ریلیف دینے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کی 4991 اسکیموں کے لیے 685 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    حکومت نے آئندہ مالی سال سے ڈیجیٹل پنجاب نیٹ ورک شروع کر نے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے بجٹ میں 50 کڑور روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ میں لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے ڈیڑھ ارب روپے رکھے گئے ہیں، صحت کارڈ کے لیے 125 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جنوبی پنجاب کے لیے 31 اعشاریہ 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

  • پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    بجٹ تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی .بجٹ تقریر کل 25 صفحات پر مشتمل ہیں مزدور کی تنخواہ بیس سے بڑھا کر پچیس ہزار کرنے کی تجویز ،بجٹ کا حجم 3236 ارب روپے تجویز کیا جارہا ہے ،کل آمدنی کا تخمینہ 2521 ارب سے زائد لگایا گیا ہے

    وفاق سے 2020 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،صوبائی محصولات کی مد میں 24 فیصد اضافے کیساتھ پانچ سو ارب سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،آئندہ مالی سال سیلز ٹیکس آف سروسز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا ،چھوٹے کاروبار کی سہولت کیلئے سیلز آن سروسز میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا ،اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرع ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے .

    پرتعیش گھروں کے اوپر فنانس ایکٹ 2014 میں تبدیلی کرکے نئے ریٹس متعارف کروائے جارہے ہیں ،بجٹ کے مجموعی حجم میں سے 1712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں مختص کئی گئی ہیں ،وزیر اعظم عوامی سہولیت پیکج کیلئے دو سو ارب روپے رکھے جارہے ہیں ،سستا آٹا سکیم میں دس کلو آٹے کا تھیلہ چار سو نوے روپے میں دستیات ہوگا،پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فیصد اضافے کے ساتھ 190 ارب روپے رکھا گیا ، بورڈ آف ریونیو کا ہدف 44فیصداضافے کے ساتھ 95ارب روپے رکھا گیا

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505259″ /]

    محکمہ ایکسائز سے 2 فیصداضافے کے ساتھ 43ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ،نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیاہے۔آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں رکھے گئے ہیں ، 312 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں،ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد سوشل سیکٹر، 24 فیصد انفراسٹرکچر، 6 فیصد پروڈکشن سیکٹر اور 2 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے۔ترقیاتی بجٹ میں دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کیلئے 28 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

    ترقیاتی بجٹ میں پہلے سے جاری اسکیموں کیلئے 365 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نئی اسکیموں کیلئے 234 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں ،41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص کئے جا رہے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مد میں 45 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مجموعی بجٹ میںشعبہ صحت پر 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجوےز دی جا رہی ہے،شعبہ صحت پر 10 فےصد زےادہ فنڈز رکھے جا رہے ہیں

    شعبہ تعلیم کے لئے مختص کردہ مجموعی بجٹ میں 428 ارب 56 کروڑ روپے تجویز کیا جا رہاہے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1,712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں تجویز کئے گئے ہیں جو پچھلے سال سے 20 فیصد زیادہ ہیں۔ حکومت نے وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے

    10 کلو آٹے کاتھیلہ جو پہلے 650 روپے میں بیچا جا رہاتھا اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اِس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے جس کے تحت عوام الناس کو اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں کمی، رعایتی نرخوں پر سفری سہولیات کی فراہمی، غریب کاشتکاروں کو کھاد کی رعایتی نرخوں پر دستیابی اور دیگر زرعی ضروریات کی فراہمی شامل ہیں۔

    صحت کارڈ کے لئے 125 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جو گزشتہ ساٹھ ارب روپے تھی ،نان ٹیکس ریونیوکی مد میں24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 51 کروڑ روپے کا تخمنہ لگایا گیا ہے، 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں میں مد رکھے گئے ہیں،312 ارب روپے پنشن کی مد رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے اور نہ کسی سروس پر ٹیکس کی شرح میں کسی قسم کا کوئی اضافہ کیا جا رہا ہے،سیلز ٹیکس آن سروسز میں فراہم کردہ ٹیکس ریلیف کو آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔برقی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی مد میں 95% رعایت کو جاری رکھا جا رہا ہے۔

    موٹر گاڑیوں کے پر کشش نمبروں کی نیلامی کے لیے نظرثانی شدہ e-Auction پالیسی کا اجراءبھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لئے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پراپرٹی ٹیکس اور ٹوکن ٹیکس کی یکمشت ادائیگی پر بالترتیب 5 فیصد اور 10 فیصد رعایت جاری رکھی جا رہی ہے۔

    مزیدبرآںe-Pay کے ذریعے آن لائن ادائیگی پر صارف کو 5 فیصد مزید رعایت جاری رکھی جائے گی۔مالی سال 2022-23میں 25ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سےPunjab Urban Land System Enhancement کا قیام عمل میں لیا جائے گا.23 ارب90کروڑ روپے کی لاگت سے مواصلاتی نظام میں بہتری کیلئے فیصل آباد سرکلر روڈ(جڑانوالہ ستیانہ سیکشن)، قصور- دیپالپور روڈ ، لاہور- جڑانوالہ روڈ اور ساہیوال سے پاکپتن تک 336 کلومیٹر طویل سڑکوں کی بحالی شامل ہے۔

    پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں 9 ارب روپے سے پنجاب بھر میں سڑکوں کی بحالی کے پروگرام کا بھی آغاز کر رہی ہے۔ دیگر اہم اسکیموں میں 13 ارب50کروڑ کی لاگت سے رنگ روڈ پروجیکٹ مزید دو فیز (ملتان اور سیالکوٹ) اور 3 ارب کی لاگت سے سے سٹی اتھارٹی پروگرام (سیالکوٹ اور مریدکے)کا اجراءبھی شامل ہیں۔ پنجاب حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود اور جیلوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے 6 ارب روپے مختص کر رہی ہے

    مسلم لیگ (ن) کا انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔اس مقصد کیلئے آئندہ مالی سال مےں 1ارب 50کڑوڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ رحمتہ اللعالمین پروگرام کے تحت مستحق طلبہ و طالبات کے لےے تعلےمی وظائف کے لے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ ضلعی سطح کے مسائل کے حل کیلئے 90 ارب روپے کی خطیر رقم سے پنجاب بھر میں Sustainable Development Programme متعارف کروایا جا رہا ہے۔

    جنوبی پنجاب کے لئے 31 ارب50کروڑ روپے خصوصی طور پر مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کیلئے 421 ارب 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،محکمہ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 59 ارب 7 کروڑ روپے کی تجویز ہے، محکمہ سپیشل ایجوکیشن کیلئے 1 ارب 52 کروڑ اور لٹریسی و غیر رسمی تعلیم کیلئے 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے.”زیور تعلیم” پروگرام کے تحت 5 ارب 53 کروڑ روپے 6 لاکھ سے زائد طالبات کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کیلئے رکھے گئے ہیں۔ اسکولوں میں مفت کُتب کی فراہمی کیلئے 3 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    اسکول کونسلز کے ذریعے تعلیمی سہولیات کی بہتری کیلئے 14 ارب 93 کروڑ روپے اور دانش اسکولز کے جاری تعلیمی اخراجات کیلئے 3 ارب75کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں.آئندہ مالی سال میں نئے دانش اسکولز کی تعمیر کیلئے 1ارب50کروڑ روپے مختص. پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت Punjab Education Foundation (PEF) کیلئے 21 ارب50کروڑ روپے مختص
    Punjab Education Initiatives Management Authority (PEIMA) کیلئے 4 ارب80کروڑ روپے مختص،اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی بحالی کیلئے 1 ارب50کروڑ روپے اور صوبہ بھر کے مختلف سکولوں میں اضافی کمروں کے قیام کیلئے 1ارب روپے مختص کئی گئی. ضلع ملتان میں کیڈٹ کالج کے قیام کیلئے 70 کروڑ روپے مختص، میانوالی اور حسن ابدال کیڈٹ کالجز میں سہولیات کی فراہمی کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئی گئے، بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 59 ارب 7 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے ،ہائیر ایجوکیشن میں 13 ارب50کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ شعبہ خصوصی تعلےم کےلئے 1 ارب 52 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے

    محکمہ لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن کیلئے آئندہ سال کے بجٹ میں 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آئندہ مالی سال میں صحت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 470 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں .صحٹ بجٹ پچھلے سال سے 27 فیصد زیادہ ہیں.صحت کے بجٹ میں 296 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات اور 174 ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز کے لئے مختص کئے گئے

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ چولستان کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 84 کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ میں زراعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 53 ارب 19کروڑz روپے مختص کر ہی ہے.شعبہ زراعت میں 14 ارب 77 کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کے حصول پر خرچ کےے جائےں گے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا،پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے پروگرام کے لئے 3 ارب 65 کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔زرعی شعبہ میں تحقیق کیلئے 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 نئے منصوبوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے .لائیو اسٹاک کے شعبہ میں تحقیق اور تدریس کے 2 ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت سے University of Veterinary and Animal Sciences (UVAS) کے Sub-Campus کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے

    آب پاشی کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 53 ارب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آبپاشی کے بجٹ میں 25 ارب 69 کروڑ روپے جاری اخراجات جبکہ 27ارب 63کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کئے گئے .سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کیلئے 80 ارب77کروڑ روپے مختص
    صنعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 23 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، 3ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے جدید، ماحول دوست، آرام دہ بسیں چلانے کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے . Sports and Youth Affairs Department کیلئے مجموعی طور پر 8 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے
    گئے ہیں

    اقلیتوں کے تحفظ کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کر رہی ہے جس میں سے 1 ارب 35 کروڑ روپے Minority Development Fund کے لئے مختص کئے جا رہے ہیں۔ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ مےں مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا .گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرات 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے

  • خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،63 ہزار ملازمین مستقل کرنیکا فیصلہ

    خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،63 ہزار ملازمین مستقل کرنیکا فیصلہ

    خیبر پختونخوا مالی سال 23-2022 کا 1332 ارب مالیت حجم کا بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے نے پیش کیا

    خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے سالانہ صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کا شکار صوبہ تھا لیکن اب سرمایہ کاری کا مرکز بن چکا ہے، یہ وہ ترقی کا سفر ہے جو خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی حکومت میں کیا۔

    تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبے کا بجٹ 1 ہزار 332 ارب روپے رکھا گیا ہے، بندوبستی اضلاع کے اخراجات کا تخمینہ 1109 ارب روپے لگایا ہے جبکہ ضم اضلاع کے اخراجات 223 ارب ہوں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاق کی ٹیکس محصولات کا تخمینہ 570 ارب 90 کروڑ لگایا گیا ہے جبکہ وفاق سے آئل اور گیس رائلٹی کی مد میں 31 ارب روپے ملیں گے، بجلی کے خالص منافع اور بقایاجات کی مد میں 61 ارب 90 کروڑ ملنے کی توقع ہے جبکہ قبائلی اضلاع کے لیے 208 ارب روپے کی گرانٹس ملنے کی توقع ہے۔

    صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 68 ارب 60 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ صوبائی ٹیکسوں کی مد میں 85 ارب روپے وصول ہوں گے، اس کے علاوہ 93 ارب روپے کی غیر ملکی امداد بھی بجٹ میں شامل ہے، دیگر محاصل کا تخمینہ 212 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

    قبل ازیں خیبرپختونخوا کابینہ نے مالی سال 23-2022ء کے 1 ہزار 332 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی۔ صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دیدی۔ یہ اضافہ گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کے لیے ڈسپیریٹی الاؤنس (DRA) کے علاوہ ہے، جس میں پولیس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    کابینہ نے جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں شہید ریسکیو اہلکاروں کیلئے شہدا پیکیج اور دس دس لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کیا۔
    کابینہ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ 63000 ملازمین کی مستقلی کی بھی منظوری دیدی۔ یکم جولائی سے مستقل ہونے والے ملازمین میں 675 ڈاکٹر،58 ہزار اساتذہ اورضم اضلاع کے128 منصوبوں کے4079 ملازمین شامل ہیں ۔

    صوبے کے دس لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے رعایتی نرخوں پر راشن مہیا کرنے کیلئے انصاف فوڈ کارڈ کے تحت 26 ارب روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دی۔

    حکومت نے ایگزیکٹو الاﺅنس کو پرفارمنس الاﺅنس میں تبدیل کردیا۔ حکومت نے گریڈ 7 سے16 تک پولیس اہلکاروں کے الاﺅنس میں ڈی آر اے کے برابر اضافہ کردیا۔

    جمعہ کے دن ورک فراہم ہوم کی پالیسی کی متعارف کرادی گئی ۔ کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم میں موجودہ ملازمین کو بھی شامل ہونے کا اختیار دے دیا گیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے گزشتہ سال کم کیے گئے ٹیکس نرخ اگلے مالی سال بھی برقراررکھنے کا فیصلہ کیا ۔ ابتدائی وثانوی تعلیم میں طلباءوطالبات سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ اگلے مالی سال لائبریری اینڈ آرکائیوز اور ہاسٹل فیس ختم کردی گئی۔

  • پنجاب کابینہ نے  بجٹ کی منظوری دیدی،عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات کئے،حمزہ

    پنجاب کابینہ نے بجٹ کی منظوری دیدی،عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات کئے،حمزہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا.پنجاب کابینہ اجلاس میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے آئندہ مالی سال 2022-2023 کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

    صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی اضافے کی منظوری دی ہے جبکہ 15 فیصد سپیشل الاونس کی ادائیگی کی منظوری دے دی گئی.صوبائی کابینہ نے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے ایم او یو کی منظوری دی.اس موقع پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبائی وزراء، چئیرمین پی اینڈ ڈی، سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام نے دن رات محنت کر کے بہترین بجٹ دستاویز تیار کی ۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ بجٹ میں صوبے کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔میں ہمیشہ مشاورت پر یقین رکھتا ہوں۔یہ بجٹ سیاسی و انتظامی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انساف نے سبطین خان کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا، تحریک انصاف نے سبطین خان سے متعلق اسمبلی سیکریٹریٹ کو آگاہ کردیا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کچھ دیر میں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے.

    واضح رہے کہ پنجاب کیلئے 3 ہزار 226 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائےگا، صوبائی وزیر اویس لغاری بجٹ پیش کریں گے۔ پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کیلئے 685 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 200 ارب روپے سستے گھی، چینی اور آٹے کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں گے۔

    پنجاب اسمبلی میں آج بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کا امکان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ق لیگ نے بجٹ اجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

    پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا، اجلاس کی صدارت اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی کریں گے۔ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔اجلاس میں مالی سال 22-2021 کا سپیلمنٹری بجٹ بھی پیش کیا جائے گا۔

    جاری کردہ ایجنڈے کے مطابق پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 میں ترامیم بھی ایوان میں پیش ہوں گی۔

    پنجاب کا بجٹ مسلم لیگ ن کے وزیر اویس لغاری پیش کریں گے، اس سلسلے میں محکمہ خزانہ پنجاب نے بجٹ تقریر کے پوائنٹس اویس لغاری کو بجھوا دیئے ہیں۔تاہم کے وزیر خزانہ کا نام اب تک سامنے نہیں آسکا۔

    پنجاب کیلئے 3 ہزار 226 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائےگا، پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کیلئے 685 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 200 ارب روپے سستے گھی، چینی اور آٹے کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں گے۔

    زرائع کے مطابق آج کے بجٹ اجلاس کیلئے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان کی جانب سے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ اور بجٹ تقریر کے دوران بھرپور احتجاج کا پروگرام بنایا ہے.

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سبطین خان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بجٹ اجلاس میں رویہ ٹھیک رکھے گی تو اپوزیشن کا بھی ٹھیک ہو گا، حکومت نے اجلاس میں بلڈوز کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن مزاحمت کرے گی.

  • ہماری حکومت کا بجٹ کئی طرح سے بہت بہتر ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    ہماری حکومت کا بجٹ کئی طرح سے بہت بہتر ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت کے مقابلے میں بجٹ کئی طرح سے زیادہ بہتر ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے شہباز شریف نے لکھا کہ پچھلی حکومت کے مقابلےمیں یہ بجٹ کئی طرح سے نمایاں بہتری دکھا رہا ہے، بجٹ میں نوجوانوں کو تعلیم کے زیادہ مواقع فراہم کئے گئے، بلوچستان کے نوجوانوں کو خاص اہمیت دی گئی۔

    آقا کریم ﷺ کی حرمت کے لئے ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں،وزیر اعظم

    اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم نے مزید کہا کہ معاشی طور پر کمزور طبقات کو حکومت نے سبسڈی دی، بجٹ میں امیروں کے غیر پیداواری اثاثوں پر ٹیکس لگایا گیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے رواں سال معمول سے زائد بارشوں کی پیش گوئی پر متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو حفاظتی اقدامات کی ہدایت کر دی۔

    کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش بندی کی جائے، متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں بارشوں سے متعلق محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے، گذشتہ روز لاہور میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جبکہ فیصل آباد کے گردونواح سمیت شہروں سے بارش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    موسم کا حال بتانے والوں نے آج لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ظاہر کیا ہے، اسلام آباد میں بعد از دوپہر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی ہے۔سندھ میں دادو، لاڑکانہ، سکھر اور دیگر علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش کی توقع ہے، بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی بادل برسنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔