Baaghi TV

Tag: بحریہ ٹاؤن

  • ایف بی آر کا بحریہ ٹاؤن کی ایک اور پراپرٹی نیلام کرنے کا اعلان

    ایف بی آر کا بحریہ ٹاؤن کی ایک اور پراپرٹی نیلام کرنے کا اعلان

    ایف بی آر نے بحریہ ٹاؤن کی ایک اور پراپرٹی کی نیلامی کا اشتہار جاری کر دیا ہے۔

    بحریہ ٹاؤن سے واجب الادا 26 ارب روپے کے ٹیکس کی وصولی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں،ایف بی آر کے مطابق تحصیل مری میں واقع بحریہ ٹاؤن کی 527 کنال 10 مرلہ اراضی کی نیلامی 16 فروری کو عمل میں لائی جائے گی۔

    اس سے قبل ایف بی آر بحریہ ٹاؤن پارک روڈ اسلام آباد میں واقع ایک پلاٹ کی نیلامی کے ذریعے 2 ارب 5 کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروا چکا ہے،بحریہ ٹاؤن سے ریکوری کے لیے گزشتہ ہفتے بحریہ ٹاؤن ٹاور کراچی کی پراپرٹی سے متعلق بھی پبلک نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

    ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر بحریہ ٹاؤن کراچی کی ضبط شدہ پراپرٹیز کی خرید و فروخت اور ٹرانسفر پر مکمل پابندی عائد رہے گی،ضبط شدہ پراپرٹیز سے متعلق کسی بھی قسم کے اعتراضات یا دعوے لارج ٹیکس پیئرآفس اسلام آباد میں مقررہ طریقہ کار کے تحت جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس واجبات کی مکمل وصولی تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • عدالتی احکامات پر جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کی غیر قانونی تعمیرات مسمار

    عدالتی احکامات پر جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کی غیر قانونی تعمیرات مسمار

    عدالتی احکامات پر جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کی غیر قانونی تعمیرات مسمار کردی گئیں۔

    اینٹی اینکروچمنٹ ٹریبونل حیدرآباد نے قرار دیا تھا کہ جامشورو کے دیہہ مول میں 893 ایکڑ اراضی پر بحریہ ٹاؤن کا قبضہ غیرقانونی ہے، متعلقہ زمین نجی ملکیت ہے، اور یہ پبلک پراپرٹی کے زمرے میں نہیں آتی،عدالتی احکامات پر جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کی غیر قانونی تعمیرات مسمار کردی گئیں، یہ انہدامی کارروائی 20 اور 21 ستمبر کی رات عمل میں لائی گئی تھی۔

    اینٹی اینکروچمنٹ ٹریبونل حیدرآباد کے احکامات کے بعد ریونیو حکام کی ہدایت پر بحریہ ٹاؤن کے زیر قبضہ زمین پر انسدات تجاوزات کا آپریشن شروع کیا گیا تھا، آپریشن میں تمام غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیابحریہ ٹاؤن کراچی نے بھی مبینہ طور پر غیرقانونی قبضے کی زمین پر ہاوسنگ یونٹس اور کثیرالمنزمہ عمارتیں تعمیر کی ہیں۔

    چین ایئرکرافٹ کیریئر سے جدید لڑاکا طیارے لانچ کرنے والا دوسرا ملک بن گیا

    واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں قومی احتساب بیورو نے بحریہ ٹاؤن کراچی، لاہور، تخت پڑی، نیو مری گولف سٹی اور اسلام آباد میں کثیر المنزلہ رہائشی و کمرشل جائیدادوں کو سر بمہر کر دیا تھانیب نے ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف فراڈ کے زیر تفتیش مقدمات میں ایکشن لیا تھا اور، بحریہ ٹاؤن کے سیکڑوں اکاؤنٹس منجمد کرتے ہوئے درجنوں گاڑیاں بھی ضبط کرلی گئی تھیں۔

    نیب حکام کا کہنا تھا کہ مخصوص عناصر ملک ریاض کے دبئی پروجیکٹ میں رقوم منتقل کر رہے ہیں، ملک ریاض کو بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے بھرپور کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے،تھارٹی نے بطور قومی احتساب ادارہ اپنے مینڈیٹ میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ایک بار پھر عوام کو آگاہ کیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض احمد اور دیگر کے خلاف دھوکا دہی کے متعدد مقدمات اس وقت زیر تفتیش ہیں۔

    گوجرانوالہ:سرجیکل فیکٹری میں چوری، "تاجو خنجر گینگ” کے تین ملزمان گرفتار

  • چیف جسٹس کی بحریہ ٹاؤن کی جائیداد نیلامی کا کیس سننے سے معذرت

    چیف جسٹس کی بحریہ ٹاؤن کی جائیداد نیلامی کا کیس سننے سے معذرت

    چیف جسٹس یحیی ٰآفریدی نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی کا کیس سننے سےمعذرت کر لی۔

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کی جائیداد نیلامی کے کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان یحیی خان آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس شفیع صدیقی بھی بینچ کاہیں،چیف جسٹس یحیی ٰآفریدی نے کیس پرانے بینچ کو بھجواتے ہوئے کہا کہ مناسب ہوگا یہ کیس پرانا بینچ ہی سنے-

    بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے، تفصیلی فیصلے پر بحریہ ٹاؤن کی طرف سے اضافی معروضات جمع کراؤں گا، جس پر عدالت نے اضافی معروضات جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

    گزشتہ سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی۔

    کراچی میں جشن معرکہ حق ، خصوصی آزادی ٹرین کا افتتاح

    بھارت مذاکرات میں ہٹ دھرمی کر رہا، امریکی وزیر خزانہ

    خیبر پختونخوا: ٹورازم پولیس 3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم

  • بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    قومی احتساب بیورو(نیب)سندھ کی بحریہ ٹاؤن کراچی کیخلاف جاری تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نیب کی جانب سے بحریہ ٹائون کراچی کیخلاف تحقیقات مزید تیزکردی گئی ہیں اور نیب نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی کو منجمد کر دیا ہے۔ڈی جی نیب سندھ جاوید اکبر ریاض کی جانب سے جاری لیٹر میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے ایک ہزار کمرشل کمرشل پلاٹس کو فوری منجمد کرنے کا حکم دیا گیا۔نیب نے بحریہ ٹائون کو الاٹ شدہ زمین کے علاوہ مزید زمین پر قبضے کے شواہد بھی اکٹھے کرلئے ہیں۔

    عمرایوب کوبلاول بھٹو پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے،شرجیل میمن

    واضح رہے کہاس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں، عوام بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔باغی ٹی وی کے مطابق جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پاس بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔

    کم سن امریکی بچوں کی نازیبا وڈیوز بنانے والا ملزم کراچی سے گرفتار

    نیب نے دعویٰ کیا کہ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر پشاور اور جام شورو میں زمینوں پر قبضے کیے، انہوں نے بغیر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کی ہیں۔نیب کے مطابق ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے.

    یورپی یونین کا امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان

    یاد رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی اراضی کی الاٹمنٹ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ریفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور صوبائی وزیر شرجیل میمن کے نام خارج کرنے کی درخواست پر بڑا ریلیف دے دیا، آئینی بینچ نے دونوں رہنماؤں کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے ان کی طلبی کے نوٹسز کو معطل کر دیا اور نیب کو ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    چین، روس اور ایران جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات ، بیجنگ میزبان

    ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والی 90 خواتین کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ مل گیا

  • ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

    ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

    اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کو دھمکی دینے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کر لیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ بحریہ ٹاؤن کے ملازم اور وائس چیف ایگزیکٹو کرنل ریٹائرڈ خلیل الرحمان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔مقدمے کے مطابق، ملک ریاض کو ایک ای میل کے ذریعے دھمکی دی گئی، جس میں ایک ارب 42 کروڑ روپے کا بھتہ 50 بِٹ کوائن کی شکل میں مانگا گیا۔ ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر یہ رقم ادا نہ کی گئی تو ملک ریاض، ان کے بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد کی زندگیوں کو نقصان پہنچایا جائے گا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ ابھی تک اس دھمکی دینے والے افراد کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    ملک ریاض کی جانب سے اس دھمکی کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور اس حوالے سے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے، ملک ریاض اس وقت دبئی میں ہیں اور پاکستانی حکومت ان کی پاکستان واپسی کے لئے کوشاں ہے.

    القادر ٹرسٹ کیس، ملک ریاض، علی ریاض، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بلاک

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • سرکاری زمین پر قبضہ، ملک ریاض اور بیٹے  کیخلاف ریفرنس دائر

    سرکاری زمین پر قبضہ، ملک ریاض اور بیٹے کیخلاف ریفرنس دائر

    کراچی: بحریہ ٹاؤن کے 17 ہزار ایکٹر سرکاری زمین پر قبضے کے معاملہ میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،

    نیب نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے زین ملک کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ اس ریفرنس میں پانچ فرنٹ مینوں اور سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کے نام بھی شامل ہیں۔نیب کے مطابق، بحریہ ٹاؤن نے سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضہ کر کے وہاں بڑے پیمانے پر تعمیرات کیں، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ اس غیر قانونی قبضے کے ذریعے نہ صرف سرکاری اراضی پر قبضہ کیا گیا بلکہ ملک کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔

    یاد رہے کہ ملک ریاض نے 2019 میں سپریم کورٹ میں 460 ارب روپے کی سیٹلمنٹ کی یقین دہانی کروائی تھی، تاہم اس سیٹلمنٹ کے مطابق صرف 24 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے، جو کہ بہت کم ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ملک ریاض  پر نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    اس ریفرنس میں ملک ریاض کے علاوہ ان کے فرنٹ مین اور دیگر افراد کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جنہوں نے اس دھوکہ دہی میں ان کا ساتھ دیا۔ نیب کی کارروائی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف قانونی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور اس معاملے کی تحقیقات مزید گہرائی سے کی جائیں گی۔یہ کیس ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے لیے قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، اور اس سے بحریہ ٹاؤن کے کاروباری معاملات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    القادر ٹرسٹ کیس، ملک ریاض، علی ریاض، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بلاک

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کی خورد برد کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے، جس کے بعد انٹرپول کے ذریعے انہیں پاکستان لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق، ملک ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر 190 ملین پاؤنڈ کی رقم حاصل کی اور اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ یہ رقم مختلف کاروباری اور پراپرٹی معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے طور پر چھپائی گئی تھی۔ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملک ریاض کے خلاف موجود تمام شواہد کو انٹرپول کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ انہیں عالمی سطح پر مطلوب قرار دلوائیں اور پاکستان واپس لایا جا سکے۔

    ملک ریاض کا نام اس وقت مختلف قانونی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور اس پیشرفت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ نیب کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مقصد انہیں پاکستانی عدالتوں میں پیش کرکے کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرانا ہے۔

    ملک ریاض، جو پاکستان کے امیر ترین اور بااثر کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، پر القادر ٹرسٹ کیس میں مبینہ بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ملزم ہیں اور ان دونوں کو اس کیس میں سزا ہو چکی ہے، نیب (قومی احتساب بیورو) کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ نیب نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھا ہے، اور نیب کی منظوری کے بعد ایف آئی اے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر، بشمول انٹرپول کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔

    ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیب ملک ریاض کی حوالگی کا مطالبہ القادر ٹرسٹ کیس کے سلسلے میں کر رہا ہے، جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ شریک ملزم ہیں۔ اس سے پہلے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہ تصدیق کی تھی کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کے معاہدے کے تحت ملک ریاض کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

    رواں ماہ کے آغاز میں نیب نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ دبئی میں ملک ریاض کے نئے لگژری اپارٹمنٹ منصوبے میں سرمایہ کاری نہ کریں، کیونکہ یہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ نیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عوام اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ مجرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ملک ریاض نے نیب کے اس اقدام پر ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’جعلی مقدمات، بلیک میلنگ اور افسران کی لالچ نے مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ میں سیاسی مہرہ بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرا فیصلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالا جائے، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا! پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں، ہر قدم پر رکاوٹوں کے باوجود، 40 سال کی محنت اور اللہ کے فضل سے پہلا عالمی معیار کا ہاؤسنگ پروجیکٹ پروان چڑھا۔‘‘

    القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملک ریاض سے رشوت کے طور پر زمین حاصل کی اور اس کے بدلے میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ اس مقدمے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اس زمین کے ٹرسٹی تھے اور انہیں اس لین دین سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوا۔

    ملک ریاض نے اس مقدمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات یہ ہیں کہ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اعلان کیا تھا کہ ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو برطانیہ میں منجمد کیے گئے تھے اور یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان میں ملک ریاض اور عمران خان کے درمیان اس کیس کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض پر عائد غیر قانونی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ ان جرمانوں کا تعلق کراچی میں زمینوں کی خریداری سے تھا، جو کم قیمتوں پر حاصل کی گئی تھیں۔اس کیس میں ملک ریاض اور عمران خان دونوں ہی اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ تاہم، نیب اور دیگر اداروں کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کی حوالگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، دونوں نےسزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت اب ملک ریاض پر ہاتھ ڈالے گی، حکومت ملک ریاض کو عرب امارات سے واپس لائے گی اور ان پر تمام مقدمات چلائے جائیں گے، ریاست نے بالاخر تین دہائیوں کی چھوٹ کے بعد ان کے گریبان پر ہاتھ ڈال لیا ہے، اب سب کا احتساب ہو گا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نیب نے سب سے بڑی زیادتی کرنے والے شخص کے گریبان پر ہاتھ ڈالا ہے، نیب اب صحیح نیب بنا ہے پہلے سب 2 نمبر کام تھا، ملک ریاض صاحب کہتے تھے میں باہر کاروبار کرنے کو حرام سمجھتا ہوں، اب وہ کہتے ہیں میں دبئی میں چھا گیا ہوں لوگ کیسے اپنی زبان سے پھرتے ہیں،میں نے کئی بڑے اینکرز کے سامنے ملک ریاض پر سوالوں کے جواب دئیے جو بعد پروگراموں سے کاٹے گئے، ہم سیاست دان تو آپ کا سافٹ ٹارگٹ ہیں،میڈیا جن کا نام نہیں لے سکتا مقدس گائے سمھتا ہے، احتساب کا عمل اب وہاں تک پہنچ گیا ہے،ملک ریاض نے ان لوگوں کو بھی پیسے دیےجنہوں نےدہشتگردی کی بنیاد رکھی۔

    بحریہ ٹاؤن میں جو بھی زمینیں ہیں سب بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میں دیکھتا ہوں مجھے آج کتنی کوریج ملتی ہے ملک ریاض کا نام آجائے تو اسکرینز پر خاموشی چھا جاتی ہے،میڈیا مالکان اپنے اسٹوڈیو پر ایک پیسہ خرچ نہیں کرتے ان کے دفتروں میں انٹرویو دینے جائیں تو اسٹوڈیو ایسے ہیں جیسے فلموں کے آخر میں کوئی اسٹور دکھایا جاتا ہے جہاں ہیرو اور ولن کی لڑائی ہوتی ہے، اگر ملک ریاض سمجھتے ہیں کہ ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا تو وہ وقت اب چلا گیا۔ اب ریاست ان پر ہاتھ ڈالے گی، ان کو ہم دبئی سے واپس لائیں گے۔ اس مافیا کو ریاست کے اندر ریاست چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بحریہ ٹاؤن میں جو بھی زمینیں ہیں سب بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔ انصاف ہو گا اور احتساب ہوگا، ریاست پاکستانیوں کو خبر دار کرتی ہے کہ اگر آپ ان کے کاروبار میں پیسہ لگاتے ہیں تو آپ کا پیسہ ڈوب سکتا ہے،

    پاکستان میں صحافت آزاد نہیں، بحریہ ٹاؤن کی قومی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کوئی یہ بتا دے کہ ریاست کا پیسہ ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں کیسے چلا گیا؟ القادر یونیورسٹی کو کالج کا درجہ دینا بھی کالج کی توہین ہے،پاکستان میں صحافت آزاد نہیں، بحریہ ٹاؤن کی قومی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے، جب ادارے حرکت میں نہ آئیں تو اللہ کی پکڑ آ جاتی ہے، میں جب بات کرتا ہوں تو میری بات کو روکنے کے لئے میڈیا پر دولت کی دیوار کھڑی کی جاتی ہے ،حکومت ملک ریاض کو عرب امارات سے واپس لائے گی، اس حوالے سے معاہدہ موجود ہے، القادر ٹرسٹ کو حسن نواز کے کیس سے جوڑا جا رہا ہے ، حسن نواز کی پراپرٹی کی بھی این سی اے نے تحقیقات کیں ، حسن نواز والے معاملے کی تحقیقات میں کچھ نہیں چھپایا گیا،

    میڈیا جن کے احتساب کا نام لینے کی جرات نہیں کر سکتا ان کا احتساب ہو گا ، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا جن کے احتساب کا نام لینے کی جرات نہیں کر سکتا ان کا احتساب ہو گا ، پاکستان میں دوغلا پن جاری رہے گا تو جمہوریت کا سلسلہ اصل روح کے مطابق نہیں آسکتا، صحافت، سیاست اور عدلیہ میں دوغلے پن کا خاتمہ ہونا چاہیے، آج کی پریس کانفرنس میں صحافی اور ان کے کیمرے بھی کم ہیں، معلوم نہیں میری بات سنائی بھی جائے گی، یا نہیں، میری بات چیت کہیں سیلف سینسر شپ کی نذر نہ ہوجائے۔

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار

    جتنا مرضی ظلم کرو، میں ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ملک ریاض

  • 30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین نے کہا ہے کہ چاہے جتنا مرضی ظلم کرلو، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا, میرا کل بھی یہ فیصلہ تھا، آج بھی یہی فیصلہ ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین جو ایک عرصے ے پاکستان سے دوبئی میں مقیم ہیں، گزشتہ روز پاکستان کے قومی احتساب بیورو کی طرف سے جاری کردہ ایک انتباہ کا جواب سماجی رابطے کی سائٹ’ ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دیا ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں ہے۔ قدم قدم پر رکاوٹوں کے باوجود 40 سال خون پسینہ ایک کرکے اللہ کے فضل سے بحریہ ٹاؤن بنایا اور عالمی سطح کی پہلی ہاؤسنگ کا پاکستان میں آغاز ہوا۔ مجھے اللہ نے استقامت دی۔ میں نے اپنے ممبرز سے کیے ہوئے وعدے وفا کیے۔ انگنت رکاوٹوں، سرکاری بلیک میلنگ نے بعض اوقات وعدوں کی تکمیل میں تعطل پیدا کیا، لیکن میرے رب نے ہمیشہ مجھے سرخرو کیا۔ میں نے سالوں کی بلیک میلنگ، جعلی مقدمے اور افسران کے لالچ کو عبور کیا، مگر ایک گواہی کی ضد کی وجہ سے بیرون ملک منتقل ہونا پڑا۔

    ملک ریاض نے کہا کہ مدتوں سے لوگوں کی خواہش تھی کہ پاکستانی برانڈ کو ورلڈ کلاس برانڈ بنایا جائے۔ اللہ تعالی نے مجھے اس کا سبب بھی بنایا اور دبئی میں BT Properties کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی کی ترقی کا راز ہز ہائی نس شیخ محمد بن راشد المکتوم کا وژن ہے اور یہاں نیب جیسے ادارے کا نہ ہونا ہے۔نیب کی آج کی بے سروپا پریس ریلیز دراصل بلیک میلنگ کا ایک نیا مطالبہ ہے، میں ضبط کررہا ہوں لیکن دل میں ایک طوفان لیے بیٹھا ہوں۔ اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو پھر سب کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔ یہ مت بھولنا کہ پچھلے 25، 30 سالوں کے سب راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں۔ اللہ کے فضل سے بحریہ ٹاؤن پاکستان کامیاب ترین پراجیکٹ بنا اور اب اللہ کے کرم سے بی ٹی پراپرٹیز دبئی بھی خوب کامیاب ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ ماشااللہ اب تک درجنوں ملکوں سے سرمایہ کار دبئی میں آنے والے BT Properties کے منصوبوں میں مثالی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ 25 کروڑ پاکستانیوں کو فخر ہونا چاہیے کہ کہ ان کی کمپنی کو دنیا کے سب سے شفاف، سب سے ایماندار نظام نے عالمی سطح کے مقابلے کے لیے ایک عالیشان منصوبے کے لیے چنا ہے۔اس عزم کے ساتھ کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا اور ہمیشہ رہے گا، اپنے پاکستانی بھائیوں بہنوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم نے پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کے قانون کی پاسداری کی ہے اور ہمشہ کرتے رہیں گے۔

    مریم ، ٹیریان ناجائز کہنے پرنعیم حیدر پنجوتھا اور اختیار ولی کی لائیو شو میں ہاتھا پائی

    حافظ نعیم کی حماس کے سربراہ سے ملاقات

    چیمپیئنزٹرافی:پنجاب پولیس کی ٹیموں کی سیکیورٹی تیاری

    الیکٹرک گاڑیوں کیلئے سستی بجلی حکومت کا کارنامہ ہے، چیمبرز آف کامرس

  • ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح کر دیا ہے،

    افتتاح کی تقریب میں رئیل اسٹیٹ سے وابستہ مختلف شخصیات اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی، جنہوں نے اس اہم موقع پر بحریہ ٹاؤن کی کامیابیوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے گفتگو کی۔بحریہ ٹاؤن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی ریاض نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاؤن نہ صرف دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں قدم رکھ رہا ہے بلکہ مارکیٹ کی قیادت کرنے کے لیے پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحریہ ٹاؤن کا مقصد نہ صرف ایک اعلی معیار کی رہائش فراہم کرنا ہے بلکہ دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں نیا معیار متعارف کرانا ہے۔

    احمد علی ریاض نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن دبئی میں ایک جدید اور الٹرا لگژری طرزِ زندگی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس پروجیکٹ میں ٹاؤن ہاؤسز، اپارٹمنٹس کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے جیسے اسکول اور کالج بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ یہاں کے رہائشیوں کو تمام سہولتیں ایک ہی مقام پر دستیاب ہوں۔ہیڈ آف گلوبل سیلز نے اس پروجیکٹ میں شامل مزید اہم خصوصیات کے بارے میں بتایا۔ ان کے مطابق پروجیکٹ میں پارکس، کمیونٹی ہالز، اور ایک اسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ رہائشیوں کو مکمل سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور یہ پورا منصوبہ ایک جدید رہائشی کمیونٹی کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے گا۔

    بحریہ ٹاؤن کا یہ نیا منصوبہ دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں انقلاب لانے کا وعدہ کرتا ہے اور اسے کمپنی کے عالمی سطح پر ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن اب دبئی میں

    بچی کی موت،مریم نواز کی بحریہ ٹاؤن کو سیل کرنے کی دھمکی

    بحریہ ٹاؤن میں فحاشی کے اڈے بند کریں،لال مسجد والوں کی دھمکی، مقدمہ درج

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار