Baaghi TV

Tag: بحریہ ٹاؤن

  • بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    چوری کا الزام لگا کر گھریلو ملازمین پر برہنہ کر کے تشدد، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، متاثرین نے انصاف کی اپیل کر دی

    واقعہ راولپنڈی کے تھانہ روات کے علاقے بحریہ ٹاؤن فیز سیون میں پیش آیا،مالک مکان نے ملازم سرور مسیح، اس کی بیوی اور بیٹے پر بدترین تشدد کیا، تشدد سے گھریلو ملازم کے بیٹے کی بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی،متاثرہ ملازمین نے تھانہ روات پولیس کو تحریری درخواست دی،جس پر مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ مالک مکان ملزم نوید اور اس کی اہلیہ فرزانہ کے خلاف درج کیا گیا .مدعی مقدمہ کے مطابق ملزم نوید اور فرزانہ کے گھر ڈیڑھ سال سے ملازمت کر رہے ہیں، 3 مارچ کو ملزمان کے گھر چوری ہوئی اور الزام ہم پر لگایا گیا،ملزمان نے میرے شوہر اور بیٹے کو برہنہ کر کے تشدد کیا، ملزمان نے گھر کی دوسری منزل پر لے جا کر بدترین تشدد کیا، ملزمان نے میرے بیٹے اور شوہر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں،ملزمان ہمیں کمپیوٹر کی تاروں اور پلاسٹک پائپ سے مارتے رہے، ملزمان تشدد کے بعد ہمیں اسلام آباد کی سنسان سڑک پر چھوڑ آئے۔

    درج ایف آئی آر کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ سائلہ عقیلہ بی بی لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے اپنا گزر بسر کرتی ہے۔ ڈھوک کنترال میں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر ہوں میں عرصہ ڈیڑھ سال سے باجی فرزانہ زوجہ نوید صاحب کے گھر بحیرہ ٹاؤن فیز 7 مکان نمبر 1428 میں روڈ پر واقع ہے میں کام کرتی ہوں۔ ان کے گھر بروز ہفتہ 23 مارچ کوچوری ہوئی۔ اس دن جب صبح کے وقت سائلہ گھر کام کرنے کرنے گئی۔ اور کام کاج کر سے فارغ ہوئی۔ تو باجی نے کہا کہ آج شام کو کام پر مت آنا، میں گھر پر نہیں ہو گی۔ میں بروز اتوار جب کام پر گئی تو انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ اور جب بروز سوموار میں کام پر گئی۔ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ اسکے گھر میں 23 مارچ کو چوری ہوئی تھی۔ اسکے بعد میں روزانہ دو ٹائم حسب معمول کام پر جاتی رہی۔ اور جب مورخہ 28 مارچ کو میں اسکے گھر گئی تو انہوں نے مجھے برابھلا کہنا شروع کر دیا کہ جو چیزیں تم جس طرح یہاں سے چوری کر کے لے گئی ہو اسی طرح واپس کر دو ،میں نے کہا باجی میں پچھلے ڈیرہ سال سے آپکے گھر کام کر رہی ہوں کبھی آپکے چار آنے بھی نہیں اٹھائے، یہ کام میں کیوں کروں، شام کو میں اور میراشوہر پھر اکٹھے گھر کام کرنے کے لئے آئے، میرے خاوند اکثر شام کے وقت میرے ساتھ جاتے تھے کیونکہ وہاں اکثر اوقات کام کرتے کرتے رات ہو جاتی تھی اور پر سوں جب میں اور میر اشو ہر اکٹھے گھر سے کام کر کے واپس نکلے توباجی فرزانہ کے شوہر نوید صاحب نے کال کی کہ واپس آجاؤ ،میں میرا خاوند اور میر ابیٹا جس کی عمر تقریباً 14 سال ہے ہم تینوں انکے گھر واپس آئے تو نوید صاحب اور باجی فرزانہ نے مجھے اورمیرے خاوند کو مجھ سے علیحدہ کر دیا اور اسکے کپڑے اتار کر مارنا پیٹنا شروع کر دیا میں اپنے خاوند اور بیٹے کی چیخ و پکار سن کر ان ظالموں کی منت سماجت کرتی رہی کہ انہیں چھوڑ دو ،انھوں نے مجھے بھی پکڑا اور اوپر والی منزل پر لے گئے جہاں انکے دو بیٹے عباس اور باقر اور چار (4)نا معلوم افراد بھی وہاں موجود تھے جن میں سے ایک کو دو لوگ حمزہ صاحب کہہ کر پکار رہے تھے جسکو سامنے آنے پر میں پہچان سکتی ہوں، وہ افرادشکل ہی سے بد معاشی نظر آرہے تھے کبھی وہ اپنے آپ کو سی آئی اے کے ملازم بتاتے تھے ان سب نے ہم پر نے تحاشا تشدد کیا اور گولیاں مار کر مار دینے کی دھمکیاں دیں ، ہمیں کہتے تھے مان جاؤ ورنہ آپ کو گولی مار دیں گے اس کے بعد میرے بیٹے کو میرے سامنے برہنہ کرکے مارنے پیٹے کے ساتھ اسکی ویڈیو بھی بناتے رہے اور مجھے میرے خاوند کو بھی ساتھ کہتے رہے کہ مان جاؤ کہ تم نے چوری کی ہے ورنہ ہم تمہارے بیٹے کو جان سے مار دیں گے اسکے بعد یہ لوگ ہمیں دو گاڑیوں میں بٹھا کر اسلحے کی نوک پر نا معلوم مقام پر لے گئے ہمارے منہ پر نقاب اوڑھ دیا گیاتھا جب نا معلوم مقام پر پہنچے تو انھوں نے ہم کو گاڑیوں سے نکال کر اور ایک کوٹھی میں بند کر دیا اور وہاں پر رات تین بجے تک ہم تینوں پر تشدد کرتے رہے اور وہاں پر مزید چار یا پانچ افراد موجود تھے اور وہ اسلحے سے لیس تھے اور یہ سب لوگ ہمیں مارتے بھی رہے ، میرے جسم پر بے تحاشا نشانات موجود ہیں، ہمیں کمپیوٹر کی تاروں سے بھی مارا،ان ظالموں نے میرے بیٹے کو جان سے مارنے کی کوشش کی اور الٹا لٹکا کر پانی میں غوطے دلواتے رہے ہم سے منوانے کی کوشش کرتے رہے جب میں نے دیکھا کہ یہ لوگ بہت بے رحم ہیں ان سے اس وقت اپنی جان بچانے کے لیے میں نے بول دیا ٹھیک ہے ہم کل اپنے دوسرے بیٹے کو بھی لے آئیں گے پھر ان ظالموں نے ہم تینوں کی جان بخشی کی اور ہمیں پھر اپنی گاڑیوں میں بٹھا کر ہمیں اس کو ٹھی سے باہر مین ہائی وے اسلام آباد پرچھوڑ دیا.رات کی تاریکی میں ہمیں کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہم کہاں ہیں، تشدد کی وجہ سے ہم سے چلا بھی نہیں جار ہا تھا ، چلتے ہوئے کسی سے پو چھا تو پتہ چلا کہ یہ جگہ تقریبا گلبرگ گرین ہے رات کے تین بجے سے لے کر ہم پیدل چل کر اپنے گھر تقریبا پانچ بچے پہنچے تھے ان ظالموں نے ہم سے ہمارے دو موبائل نقدر قم، ہمارے شناختی کا رڈ سب اپنے قبضے میں لے لئے اور ہماری موٹر سائیکل نمبر 9514-alk بھی نوید صاحب کے گھر بنگلہ نہر 142 میں ہے ، بھی ہم سے چھین لیا ، آپ سے گزارش ہے کہ ان تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اکے خلاف اغوا مار پیٹ اور پرس چھیننے اور موٹر سائیکل چھیننے کی دفعات لگا کر اسکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے،

    خاتون نے اپنے شوہر اور بچے کے ہمراہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے، ہم لوگ دھکے کھا رہے ہیں، ہمارا کیا قصور ہے، ہمارے بچوں کا مستقبل رک گیا ہے، ہم اپنا کماتے تھے کسی پر بوجھ نہیں تھے، ایک تو کام کریں دوسرا وہ اتنی بے رحمی کریں، ہمیں انصاف فراہم کیا جائے،

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

    دوران پرواز 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنیوالے کو ملی سزا

    کپڑے اتارو،مجھے…دکھاؤ، اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کو مرد مجسٹریٹ کا حکم

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

  • گرینڈ مسجد بحریہ ٹاﺅن ، طاق راتوں میں قیام اللیل کا اہتمام

    گرینڈ مسجد بحریہ ٹاﺅن ، طاق راتوں میں قیام اللیل کا اہتمام

    گرینڈ مسجد بحریہ ٹاﺅن میں رمضان المبارک کی طاق راتوں میں شب بارہ بجے قیام اللیل کا اہتمام کیا جائے گا اور اجتماعی نماز وتر ادا کی جائے گی ۔ قیام اللیل اور نماز وتر کی امامت بلبل قرآن ڈاکٹر سبیل اکرام کریں گے ۔ نماز وتر میں پاکستان ، فلسطینی ، کشمیری مسلمانوں سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کےلئے خصوصی دعا ئیں کی جائیں گی ۔

    بحریہ ٹاﺅن مسجد کے امام تراویح ڈاکٹر سبیل اکرام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے ، ایمان کو مضبوط کرنے ، مصائب سے چھٹکارا پانے اور رزق میں فراخی کا سب سے زیادہ مﺅثر اور مسنون طریقہ فرض نماز کے بعد قیام اللیل ہے۔رسول ﷺ کامعمول مبارک تھا کہ آپ اپنی امت کی بخشش کےلئے جاتے ہمیشہ رات کی نماز کااہتمام کرتے اور رب جلیل کی یاد میں ڈوب کر اتنے طویل نوافل پڑھاکرتے اور سجدے کرتے تھے کہ آپ کے پاﺅں مبارک سوج جایا کرتے تھے ۔

    انھوں نے کہا کہ قیام اللیل کا اہتمام کرنے والا کامل ایمان ہے ، فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نمازرات کی نمازہے ، جسے قیام للیل یا نماز تہجد کہا جاتا ہے۔ نمازمومن کاسب سے بڑا ہتھیار ہے ، نماز مومن کا اعزاز اور افتخار ہے ۔نماز سے انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے ، رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور مصائب وپریشانیوں سے نجات ملتی ہے ۔ اب جبکہ برکتوں ،سعادتوں اور رحمتوں والا مہینہ رمضان المبارک تیزی سے گزرتا جارہا ہے گنتی کے صرف چند باقی رہ گئے ہیں ہمیں چاہئے کہ ان دنوں سے بھر پور فائدہ اٹھائیں ،زیادہ سے زیادہ عبادات کریں ، نوافل پڑھیں ، قرآن مجید کی تلاوت کریں ، اپنے گناہ بخشوائیں اور جنت میں جانے والے خوش قسمتوں میں اپنا نام شامل کروائیں ، خاص طاق راتوں میں عبادات اور نوافل کا خصوصی اہتمام کریں،باقی ماندہ زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق بسر کرنے کا عہد کریں ، دعاﺅں میں اپنے والدین ، اساتذہ ، وطن ، فلسطینی ، کشمیری اور دنیا بھر کے دیگر مظلوم مسلمانوں کو یاد رکھیں ۔

  • بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    جوس پلا کر اغواء کرکے اسلام آباد لیجا کر گردے نکالنے والے گروہ کا رکن گرفتار کر لیا گیا

    گلشن اقبال پولیس نے کارروائی کی،ایس پی اقبال ٹاؤن اخلاق الله تارڑ نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ایس ڈی پی او مسلم ٹاؤن عاطف معراج کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی،ایس ایچ او گلشن اقبال سید قمر عباس و پولیس ٹیم نے انسانی گردے فروخت کرنے والےگینگ کے رکن کو گرفتار کیا،گرفتار ملزم ندیم اپنے ساتھی شعیب کیساتھ ملکر لوگوں کو اغواء کرکے اسلام آباد لیجاتے تھے،ملزمان مختلف علاقوں میں موجود غریب اور نادار لوگوں کو پیسوں کا لالچ دے کر بھی گردے نکلواتے تھے

    متاثرہ شخص سلیم مزدوری کرتا تھا گھر میں رنگ کرنے کے بہانے ساتھ لیجانے کیلئے گاڑی میں بٹھایا،ملزمان نے گاڑی میں مدعی مقدمہ کو جوس پلا کر بیہوش کیا۔ملزمان لوگوں کو اپنے پاس بلاتے پھر اغواء کرکے اسلام آباد ڈاکٹر ظفر نامی شخص کے پاس لے جاتے،ڈاکٹر ظفر گردے نکال کرملزمان کو رقم کی ادائیگی کرتا تھا۔ایس پی اخلاق الله تارڑنے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان ایک گردے کے عوض ساڑھے 04 لاکھ روپے کہہ کر متاثرہ شخص کو 50/60 ہزار روپے دیتے تھے۔ملزمان متاثرہ شخص سلیم کو اغواء کرکے گردہ نکال کر رفوچکر ہو گئے۔متاثرہ شخص نے پولیس سے رابطہ کیا جس پرملزم ندیم کو گرفتار کیا گیا۔ملزم کے دوسرے ساتھیوں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا پولیس ٹیم گرفتاری کیلئے کوشاں ہے،ملزمان کے خلاف مقدمہ درج مزیدتفتیش جاری ہے،

    مدعی کی جانب سے درج مقدمہ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان بحریہ ٹاؤن پنڈی کے ہسپتال میں گردے نکالنے کا کام کرتے ہیں،بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال لے جا کر بیہوشی کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اور گردہ نکال لیا جاتا ہے،مدعی سلیم مسیح نے ایف آئی آرتھانہ گلشن اقبال لاہور میں درج کروائی ہے.

    لاہور میں گردہ نکالنے والا گروہ پکڑا گیا،90 افراد کے گردے نکال کر لاکھوں میں بیچے

    امریکا میں انسان میں سور کے گردے کی پیوندکاری کا تجربہ کامیاب

    اُوچ شریف: گردے میں پتھری کا علاج صرف ماہر ڈاکٹر سے کرایا جائے -ڈاکٹرامجد سپرا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    gurday

  • ملک ریاض کیلئے ایک اور مشکل،بحریہ ٹاؤن 76 کروڑ کا ڈیفالٹر،بجلی کٹ گئی

    ملک ریاض کیلئے ایک اور مشکل،بحریہ ٹاؤن 76 کروڑ کا ڈیفالٹر،بجلی کٹ گئی

    لیسکو کی بجلی چوروں اور بل جمع نہ کروانے والوں کے خلاف کاروائی جاری ہے

    لیسکو نے بحریہ ٹاؤن کی بجلی کاٹ دی، لیسکو حکام کے مطابق بحریہ ٹاؤن لاہور 76 کروڑ 28 لاکھ 21 ہزار 552 روپے کا ڈیفالٹر ہے۔لیسکو نے بل جمع کروانے کے لئے بحریہ ٹاؤن کو نوٹس جاری کیا تھا تاہم بحریہ ٹاؤن کی جانب سے بل جمع نہیں کروایا گیا جس کے بعد بحریہ ٹاون کے خلاف لیسکو کو انتہائی قدم اٹھانا پڑا اور بحریہ ٹاؤن کی بجلی کاٹ دی گئی

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ آر جے شہزاد کہتے ہیں کہ بحریہ ٹاون لاہور نے بجلی کے پیسے نہی دئیے ان کی بجلی کاٹ دی گئی اب بحریہ ٹاون کو پیسے دینے ہوں گے میڈیا اور صحافیوں کی ڈبل ڈیوٹی لگے گی حکومت کے خلاف اور فیک نیوز پھیلا کر افراتفری لائیں

    https://twitter.com/RShahzaddk/status/1762446021156585834/photo/1

    بحریہ ٹاؤن کے مالک اور بزنس ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، پہلے ملک ریاض اور اسکے بیٹے کو اشتہاری قرار دے دیا،پھر انکی جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے،اب بحریہ ٹاؤن لاہور کا بجلی کا کنکشن کاٹ دیا گیا،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ہے اصل تبدیلی کا آغاز ،جب غریب کی بجلی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر کٹ سکتی ہے تو بحریہ ٹاؤن کی کیوں نہیں،کروڑوں روپے کے واجبات ادائیگی نہ کرنے پر بحریہ ٹاون کی بجلی کاٹ دی گئی،حکومت کا زبردست اقدام ہے کوئی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کو بروقت ادائیگی کا پابند بنایا جائے

    ایک صارف محمد عدنان کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے کے واجبات ادائیگی نہ کرنے پر بحریہ ٹاون کی بجلی کاٹ دی گئی،حکومت کا زبردست اقدام ہے کوئی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کو بروقت ادائیگی کا پابند بنایا جائے،ٹھیکیدار ملک ریاض کا برا ٹائم شروع ہے بکاؤ میڈیا کو جتنا مرضی پیسہ کھلاؤ اب حساب دینا پڑے گا.

    لیاقت چٹھہ سے رابطہ نہیں کیا، تحقیقات میں تعاون کیلیے تیار ہوں،ملک ریاض

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

    190 ملین پاؤنڈ کیس، ملک ریاض اشتہاری قرار

    عمران خان پھنس گئے، الیکشن خطرے میں،ملک ریاض کا انٹرویو کون کریگا؟

    ملک ریاض کا انٹرویو ریکارڈ ہو گیا؟

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    فرح گوگی اور محمد شاہ رنگیلے کی ہوش ربا داستان، نیا اسکینڈل، ملک ریاض گٹھ جوڑ بے نقاب

    ملک ریاض کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج 

    سپریم کورٹ نے ملک ریاض سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے

  • لیاقت چٹھہ سے رابطہ نہیں کیا، تحقیقات میں تعاون کیلیے تیار ہوں،ملک ریاض

    لیاقت چٹھہ سے رابطہ نہیں کیا، تحقیقات میں تعاون کیلیے تیار ہوں،ملک ریاض

    کمشنر راولپنڈی کے الزامات پر ملک ریاض کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ملک ریاض کا کہنا تھا کہ یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ جب بھی پاکستان میں افراتفری ہوتی ہے، ہر کوئی بغیر کسی دلیل، منطق یا ثبوت کے مجھ پر یا میرے ادارے پر انگلیاں اٹھانے لگتا ہے۔ میں نے کبھی لیاقت چٹھہ سے ملاقات یا رابطہ نہیں کیا۔ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، نہ سماجی اور نہ ہی کاروباری۔ میں اس سلسلے میں کسی بھی تحقیقات میں تعاون کے لئے بھی تیار ہوں۔ ہر محب وطن پاکستانی کی طرح میں پاکستان میں استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا گو ہوں

    وہیں چیئرمین پبلک نیوز و الرحمان گارڈن کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے،انکا کہنا ہے کہ میرا کمشنر راولپنڈی کے الیکشن کے متعلق بیان سے کوئی تعلق نہیں،کمشنر راولپنڈی سے ذاتی دوستی ضرور ہے لیکن رشتہ داری نہیں ،چند نجی ہاوسنگ سوسائٹیوں کے چینلز گھٹیا پروپیگینڈا کر رہے ہیں،کسی پی ٹی آئی رہنما کی ہاوسنگ سوسائیٹیز میں نہ شراکت داری ہے نا ہی کوئی میرا سیاسی مہم جوئی میں کردار ہے،

    واضح رہے کہ کمشنر راولپنڈی نے عام انتخابات کے ہونے والی دھاندلی کو بے نقاب کر دیا،کمشنر راولپنڈی نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے اور عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا ، کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کا کہنا تھا کہ مجھے اور چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کو کچہری چوک میں پھانسی دے دینی چاہیے ،میں نے آج صبح فجر کی نماز کی بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی،پھر سوچا کیوں‌نہ چیزیں عوام کے سامنے رکھوں، میں کرب سے گزر رہا ہوں، بیورو کریسی سے گزارش ہے کہ سیاسی لوگ جو شیروانیاں سلوا کر غلط کام کر رہے ہیں انکے کے لئے کوئی غلط کام نہ کریں،میں نے پوری قوم کے ساتھ ظلم کیا ہے،میں اپنے ریٹرننگ افسران سے معافی مانگتا ہوں

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ ،بحریہ ٹاؤن عدم ادائیگی کا معاملہ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کا فیصلہ لکھوایا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاون کے وکیل نے بتایا انہیں عدالتی فیصلے کی روشنی میں سولہ ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ملنا تھی، اکیس مارچ 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بحریہ ٹاون کی رضامندی پر تھا،بحریہ ٹاؤن نے سات سال میں 460ارب روپیے ادا کرنا تھے،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق زمین مکمل نہ ملنے پر ادائیگیاں روکی،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق جو زمین دی گئی اس پر ہائی پاور بجلی کی تاریں گیس پائپ لائنز، نالے اور کئی گوٹھ ہیں،سندھ حکومت نے لندن سے سپریم کورٹ کو موصول رقم پر بھی دعویٰ کردیا اور کہا کہ برطانیہ سے آئی رقم بھی سندھ حکومت کو دی جائے،سروے رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کا تین ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ ہے۔ بحریہ ٹاؤن نے یکطرفہ طور پر اقساط کی ادائیگی روک دی،بحریہ ٹاؤن نے اضافی زمین پر بھی قبضہ کررکھا ہے۔متعلقہ حکام کی مدد کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔سرکاری حکام نے عوام اور صوبے کے مفاد کو سرینڈر کیا۔سرکاری حکام نے اپنے آفس کا غلط استعمال کیا۔سرکاری حکام کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے۔ایڈوکیٹ جنرل یقین دہانی کروائی کہ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے متفق ہیں یہ رقم سپریم کورٹ اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی درخواستیں مسترد کر دیں،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ کل 65ارب میں سے بیرون ملک سے آئے 35 ارب وفاقی حکومت کو ملیں گے،بحریہ ٹاون کی جانب سے جمع 30 ارب روپے سندھ حکومت کو ملیں گے،سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب سات سال میں ادا کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم برقرار رکھا، ترمیم کی بحریہ ٹاؤن کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی.

    بحریہ ٹاؤن کیس کے دوران 190ملین پاؤنڈز سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے خارج کر دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب پہلے ہی اس کیس کی انکوائری کر رہا ہے، عدالت کی آبزرویشن نیب تحقیقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے، نیب کو آزادانہ تحقیقات کرنے دیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ سے آئے 190 ملین پاؤنڈ ملک ریاض کے نہیں عوام کے ہیں،عوام کا پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کا تعلق صرف 460 ارب روپے کی ادائیگی سے ہے،سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ جانے اور عدالت جانے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ درخواست گزار نے معلومات دینی ہیں تو نیب کو دے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ نے ملک ریاض کا ویزا منسوخ کرکے داخلے پر پابندی عائد کی، برطانیہ نے 140 ملین پاؤنڈ اور نو بنک اکاؤنٹ منجمند کیے،منجمند کیے گئے اثاثوں میں پچاس ملین پاؤنڈ کی جائیداد بھی شامل تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رقم جمع کرانے والوں کو نوٹس کر چکے ہیں،درخواست گزار کا حق دعوی نہیں بنتا، درخواست میں سپریم کورٹ کو معزز عدالت لکھا ہوا ہے،یہ معزز عدالت نہیں سپریم کورٹ آف پاکستان ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جج جج ہوتا ہے جج صاحب نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ساتھی جج لگتا ہے مجھے چھیڑ رہے ہیں،

    قبل ازیں سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی بینچ میں شامل تھے،سپریم کورٹ کی احکامات کی روشنی میں کمشنر کراچی کی سربراہی میں 10 رکنی سروے ٹیم نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے،مشرق بنک کے وکیل راشد انور روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے خط کے مطابق لندن کے ویسٹ منسٹر عدالت کے مجسٹریٹ نے اکاؤنٹ فریزنگ آرڈر کالعدم قرار دیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اکاونٹ ہولڈر کون ہے؟ وکیل مشرق بینک نے کہا کہ اکاونٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک، ملک ریاض کی بہو ہیں، اکاؤنٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک نے رقم نیشنل کرائم ایجنسی کے کہنے پر نہیں بلکہ خود سے پاکستان بھجوائی تھی،مبشرہ علی ملک نے مشرق بنک لندن برانچ سے 19 ملین سے پاونڈز سے زائد رقم سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں منتقل کرائی،وکیل راشد نور نے کہا کہ مبشرہ علی ملک نے 6 نومبر 2019 کو 19 ملین پاونڈ سے زائد رقم برطانیہ سے پاکستان بھجوائی، تفصیلات حاصل ہونے پر عدالت نے مشرق بنک کی حد تک معاملہ نمٹا دیا،عدالت نے حکمنامہ میں کہا کہ مشرق بنک کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی،متفرق درخواست 18 اکتوبر کے عدالتی حکمنامے کی روشنی میں دائر ہوئی، مشرق بنک کے وکیل نے عدالت کو بتایا لندن کے مجسٹریٹ کے حکم کی روشنی میں نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نے اکاؤنٹ بحال کیا،اکاؤنٹ بحالی کے بعد بنک نے 190ملین پاؤنڈ کی رقم مبشرہ علی ریاض کے اکاؤنٹ میں آئی، مبشرہ علی ریاض کے زریعے رقم رجسٹرار سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی، مشرق بنک کے وکیل نے کہا بھیجی گئی 190ملین پاؤنڈ کی رقم بینک کا کوئی دعویٰ نہیں ہے،مشرق بنک کی مزید نمائندگی درکار نہیں ہے، عدالت نے مشرق بنک کو نوٹس دینے کی حد معاملہ نمٹا دیا

    بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے پڑھ کر سنا دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سرکاری زمین کی بات کر رہے ہیں یا اس میں بحریہ ٹاؤن کی نجی زمین بھی شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نجی زمین بحریہ ٹاؤن کے پاس موجود بھی ہے یا نہیں،جو اضافی زمین ہے اس پر ڈپٹی کمشنر سے پوچھیں اس کی ملکیت کس کی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر آپ ریاست کے افسر ہیں سیدھا جواب دیں،ڈپٹی کمشنر صاحب صاف بتائیں کتنی زمین سرکاری ہے اور کتنی پرائیویٹ ، ڈی سی ملیر نے عدالت میں کہا کہ 1775 ایکڑ زمین سرکاری ہے جبکہ 37.2 ایکڑ نجی زمین اضافی زمین میں شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کی زمین پر کوئی نشان لگے ہوئے ہیں کہ کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے؟ ڈی سی ملیر نے کہا کہ باؤنڈری وال زمین پر موجود ہے،

    سروے آف پاکستان کے حکام عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں تکنیکی طور پر بتائیں سروےکیسے کرتے ہیں۔ حکام نے کہا کہ ہم گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم سے سروے کرتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اس سروے ریکارڈ سے مطمئن ہیں؟ حکام نے کہا کہ جی ہم اس سروے سے مطمئن ہیں۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بحریہ ٹاون نے نیشنل پارک کی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو مسئلہ ہی نہیں ہے، نیشنل پارک پر قبضہ کے خلاف درخواست دائر کرنے والے شہریوں کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صلاح الدین صاحب سروے کہہ رہا نیشنل پارک کی زمین پر کوئی قبضہ نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ میں اس سروے رپورٹ کا تقابلی جائزہ لوں گا،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان اسلم بٹ کو روسٹرم پر بلا لیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کے سامنے ایک غلط الزام لگایا تھا،آپ نے کہا کم زمین ملی لیکن آپ کے پاس تو زیادہ زمین نکلی ،آپ درخواست لائے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ کے پاس زیادہ زمین ہونے کی اس سروے رپورٹ کو کس بنیاد پر مسترد کریں،آپ کے پاس کیا شواہد ہیں کہ آپ کو کم زمین ملی،چیف جسٹس نے وکیل بحریہ ٹاؤن کی سرزنش کر دی

    وکیل بحریہ ٹاؤن نےمیمو گیٹ کا حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں سیاسی تقریر نہ کریں،ہم آپ سے بحث کرنے نہیں بیٹھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے شواہد فائل کرنے دیں گے تو کچھ کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین چار سال گزر گئے ہیں آپ کب فائل کریں گے، آپ اپنی جو درخواست لائے تھے اسے اب آگے چلائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اجازت دیں تو میں آپ کا آٹھ نومبر کا آرڈر پڑھوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو مرضی پڑھیں،اب اگر آپ نے جازت دیں کے الفاظ استعمال کیے تو میں جرمانہ کروں گا،ہم تھک گئے ہیں یہ الفاظ سن سن کر،ہم سن رہے ہیں آپ سنائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے اس سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی کم زمین دینے کی درخواست خارج کر دینگے، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ دلائل سنے بغیر درخواست کیسے خارج کی جا سکتی ہے؟رپورٹ پر اعتراض کرنا ہر فریق کا حق اور قانونی طریقہ ہے، میمو کمیشن رپورٹ پر بھی اعتراضات جمع ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی تقریر باہر جا کر کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ یہ سیاسی تقریر نہیں قانونی بات ہے،وکیل سلمان بٹ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ بول لیں پھر جواب دوں گا، آپ کا احترام کرتا ہوں اس لئے درمیان میں نہیں بولوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ احترام چھوڑیں قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائیں،

    وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عدالتی آڈرکے مطابق سرے 16 ہزار 8 سو ایکڑ کا ہونا تھا وہ ملی یا نہیں،رپورٹ کے مطابق وہ سروے تو کیا ہی نہیں گیا،میرا حق ہے مجھے سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیا جائے، میں نے ابھی رپورٹ پڑھی بھی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے سامنے ہم نے یہاں رپورٹ پڑھی آپ کہہ رہے ہیں ابھی نہیں پڑھی، آپ خود اس کیس میں عدالت آئے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ نے کوئی چیز فائل نہیں کی ہم نے اس پر سروے کروا لیا،اعلی سطح کی ٹیم نے وہ سروے کیا آپ اسکا حصہ تھے،دس حکومتی افسران نے رپورٹ پر دستحط کئے کیا ساری دنیا آپ کے خلاف ہے؟ آپ بس ہر چیز پر اعتراض کررہے ہیں،عدالت آپ کو کوئی اضافی وقت نہیں دے گی، بات ختم،کئی سالوں سے عملدرآمد کیس مقرر نہیں ہوا تو آپ نے جلد سماعت کی درخواست کیوں نہیں دائر کی؟ بحریہ ٹاون کو اس کیس کے مقرر ہونے میں کوئی دلچسپی تھی ہی نہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ کئی ایسے کیسز جانتا ہوں جہاں سو سو جلد سماعت کی درخواستیں دائر ہوئیں لیکن مقرر نہیں ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ روز جلد سماعت کی درخواست کرتے تو بوجھ عدالت پر ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ حکومتی اداروں نے وقت لگا کر سروے کیا،آپ اس مشق کا حصہ تھے آپ نے تب اعتراض کیوں نہیں کیا؟اب ایک چیز آپ کے خلاف آگئی تو آپ اس پر اعتراض کررہے ہیں۔وکیل نے کہا کہ ایک رپورٹ آگئی ہے مجھے اس پر جواب کا وقت دیں صرف یہ گزارش ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں عدالت آپکو مزید وقت نہیں دے گی۔وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ آپ میرا فئیر ٹرائل کے تحت حاصل کیا ایک حق پھر ختم کردیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ضروری نہیں ہم اپ کی ہر بات سے اتفاق کریں۔وکیل نے کہا کہ میں نے چالیس سال وکالت میں ایسا واقع نہیں دیکھا،ایک رپورٹ آئی ہو اس پر اعتراضات داخل کرنے کا وقت بھی نہ دیا جائے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اعتراض بھی صرف اس پر کررہے ہیں کہ آپ نے نجی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔آپ کے پاس دستاویزات ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکاونٹس میں آئے پیسے مزید رکھے نہیں جا سکتے، اگر کوئی بھی فریق سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آئی رقم کا دعوی نہیں کرتا تو حکومت پاکستان کو ٹرانسفر کر دیں گے، پیسہ سرکار کے پاس جائے تو سرکار جانے اور بحریہ ٹاون جانے، سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی مد میں آئے پیسے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا اپنے اکاونٹ میں یوں پیسے رکھنا غیر آئینی عمل ہے.وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ یہ پیسہ زمین مالکان کو جانا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک مثال ہے جس کا آپ برا نہ منائیے گا، ایک ڈاکا پڑتا ہے اور ڈاکو پیسے بحریہ ٹاون کی جگہ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ڈال دیتا ہے،کیا سپریم کورٹ ڈاکے کے پیسے رکھ کر شریک جرم بن سکتی ہے؟ جو پیسے مشرق بنک کے ذریعے آئے وہ تو ضبط شدہ رقم تھی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ابھی تک کوئی جرم ثابت ہی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کی نہیں کر رہے ایک مفروضے کی بات کر رہے ہیں،وکیل بحریہ ٹاؤن ے کہا کہ برطانیہ سے وہ رقم ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے لیے آئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ رقم آپ کی نہیں تھی وہ ضبط ہوئی تھی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ نہیں میں وہ آرڈرز پڑھ دیتا ہوں ایسا نہیں ہوا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےوکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ باتوں کو بار بار مت دہرائیں،آپ کسی چیز سے رنجیدہ ہیں تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں،آپ سینئر وکیل ہیں پیچھے بیٹھے جونیئر وکلا نے بھی آپ سے سیکھنا ہے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں آپ جس فیصلے پر عملدرآمد کروا رہے ہیں وہ درست نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم عملدرآمد نہیں کروا رہے آپ خود اس معاہدہ میں شامل ہوئے تھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اس رضامندی سے ہوئے معاہدہ کو ختم کر دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے ایک لفظ کو بھی نہیں بدل سکتے،وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہے وہ کسی بھی فیصلے کو واپس کرسکتی ہے، وکیل بحریہ ٹاون نے دوہزار پندرہ کے فیصلے کا حوالہ دیاجس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ نظرثانی کے دائرہ اختیار میں ہوسکتا ہے،وکیل نے کہا کہ کہیں کسی کےساتھ زیادتی ہورہی ہو تو عدالت خود فیصلہ واپس لے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی،آپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے،پوری بات سن لیں،آپکے پاس کوئی شواہد نہیں کہ آپکے ساتھ زیادتی ہوئی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں نے دستاویز لگا رکھے کہ معاہدے کے مطابق زمین ہمیں نہیں ملی،

    دوران سماعت چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان بٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ آہستہ آواز میں بات کریں تو جواب دوں گا، مجھے یہ گوارا نہیں کہ عدالت سمیت کوئی بھی مجھ پر چلائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں چلانے پر مجبور کر رہے ہیں، ہم چلا نہیں رہے تحمل سے سوال پوچھ رہے ہیں، سینئر وکلاء کا یہ رویہ ہے تو وکالت کے شعبہ پر ترس آ رہا، جج پر انگلی اٹھانا آسان اور اپنی غلطی تسلیم کرنا سب سے مشکل کام ہے، بحریہ ٹاؤن نے کم زمین ملنے کا دعویٰ 2019 میں کیا تھا،درخواست کےساتھ جو شواہد دکھا رہے ہیں وہ 2022 کے ہیں،جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب نے کارروائی شروع کی تو بحریہ ٹائون 460ارب روپے پر آمادہ ہوا، بحریہ ٹائون نے 460 ارب پر رضامندی کچھ سوچ سمجھ کر ہی دی ہوگی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ سرکار کے منظور کردہ نقشوں سے ثابت کر رہا ہوں کہ پوری زمین نہیں ملی، معاہدے کے تحت 16896 ایکڑ کا قبضہ ملنا تھا لیکن 11547 ایکڑ زمین ملی، انصاف کا تقاضا ہے کہ سروے رپورٹ پر موقف سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انصاف کی باتیں باہر میڈیا پر جا کر کریں، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میڈیا پر کبھی بولا نہ ہی کبھی میڈیا کیلئے عدالت میں بات کرتا ہوں، مناسب ہوگا کہ آج مزید سماعت نہ کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت آج ہی مکمل کرینگے، اتنے عرصے بعد درخواستیں مقرر ہوئی ہیں تو کیس چلائیں،وکالت کے دوران سندھ میں مقدمہ مقرر ہونے پر ہی ہم بہت خوش ہوتے تھے، مقدمہ کا فیصلہ جو بھی ہو وہ بعد کی بات ہوتی تھی،مجھے قانون کے شعبے سے وابستہ ہوئے 41 سال ہو گئے ہیں،کچھ عزت دیں ،آپ ایسے ہی جاری رکھیں گے تو نتائج کیلیے بھی تیار رہیں،آپ کو ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کے آوٹ منظوری کا خط کب جاری کیا؟ وہ خط جاری نہیں کر رہے تھے تو آپ انہیں لکھ دیتے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ 16 ہزار ایکڑ زمین سے متعلق دوبارہ آرڈر کردیں اس کا جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اور کوئی آرڈر نہیں دیں گے،آج ہی کیس مکمل کریں گے،ہم رات تک بیٹھے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں مزید کھڑا نہیں رہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپکو کرسی دے دیتے ہیں،بیٹھ کر دلائل دے دیں،چیف جسٹس نے عدالتی اسٹاف کو وکیل سلمان اسلم بٹ کو کرسی دینے کی ہدایت دی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کرسی کی آفر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی کرسی نہیں چاہیے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے کہا کہ آپ یہاں قانون کی بات کریں،باقی باتیں کرنی ہیں تو باہر میڈیا پر جاکر کریں،سلمان صاحب پلیز دلائل دیں کیوں اس کو پیچیدہ بنارہے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کیا جارہا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو بات سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق نہیں وہ ہم نہیں سنیں گے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ نہیں سننا چاہتے تو میں بند کر کے بیٹھ جاتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں بے شک، وہ زمانے گئے جب کیس اپنی مرضی سے چلایا جاتا تھا،آپ کہتے ہیں کسی اور کو زمین مفت دے دی تو آپ کو بھی حکومت مفت دے،آپ کو زمین مفت نہ ملی تو کیا یہ آپ سے غیر منصفانہ ہو گیا،وکیل نے کہا کہ درخواست ہے کہ باہر سے آئی رقم پر نیب تحقیقات کر رہا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جس معاملے پر نیب تحقیقات کر رہا ہے تو مناسب ہو گا اس پر ہم بات نہ کریں،وکیل نے کہا کہ بس میری بھی یہ ہی استدعا تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج آپ ایک سچ بول دیں کہ حکومت سندھ بہت کمزور ہے،کرپٹ عناصر مضبوط ،کرسیوں پر لوگ صرف مال بنانے بیٹھے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 16 ہزار ایکڑ سے زیادہ جس زمین پر تجاوز کیا گیا وہ آپ واپس لے لیتے،ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم قانون کیمطابق کارروائی کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سندھ میں ایک مختار کار بھی حکومت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہےکیا ہم اپنے بچوں کو یہ معاشرہ دینا چاہتے ہیں ،سندھ حکومت شاید لوگوں کی خدمت نہیں کرنا چاہتی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ریاست الیٹ کی خدمت کیلئے ہیں،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے نمائندے کو روسٹرم پر بلا لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب کوئی پلاٹ خریدے تو اسے کیا دیتے ہیں،نمائندہ بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ الاٹمنٹ دیتے ہیں اور مکمل ادائیگی پر قبضہ بھی دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیگل ایڈوائزر پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کسی چیز کی تنخواہ لیتے ہیں،؟ دنیا میں حکومتوں کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔یہاں حکومت کا مقصد شاید افسران کو امیر بنانا ہے، ایک شیخص پلاٹ خریدے اسے کاغذ کا ایک ٹکڑا ملتا ہے،کل کوئی دوسرا کہہ دے یہ پلاٹ میرا ہے سندھ حکومت اسے کیا تحفظ دے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے لیگل ایڈوائیزر ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہہمارے لیگل جسٹس سسٹم کی ریٹنگ 130 نمبر پر درست ہی ہوئی ہے،ہمارے ملک میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیا جاتا،بڑے آدمی کا گھر ریگولرائز ہوجاتا ہے عام آدمی کی جھونپڑی گرا دی جاتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بھی ڈویلپر ایک پلاٹ کی الاٹمنٹ دو سو لوگوں کو دے کر نکل جائے تو کیا تحفظ ہے؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہاکہ بحریہ ٹاون الاٹمنٹ کا ایک کاغذ کا ٹکڑا دیتا ہے جس کا ریکارڈ بھی بحریہ کے پاس ہی ہوتا ہے،کئی لوگ پلازے پہلے بیچ دیتے ہیں،اور زمین پھر الاٹمنٹ سے حاصل پیسے سے بعد میں خرید رہے ہوتے ہیں،ججز مشاورت کیلئے کمرہ عدالت سے اٹھ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مشاورت کے بعد فیصلہ تحریر کریں گے

    بینک نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع کرادیں

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • ملک ریاض بھی "انٹرویو "دینے والے ہیں،صحافی کا دعویٰ

    ملک ریاض بھی "انٹرویو "دینے والے ہیں،صحافی کا دعویٰ

    صحافی و اینکر پرسن جاوید چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بھی جلد انٹرویو دینے والے ہیں، انکا انٹرویو ریکارڈ ہو چکا یا ہونے والا ہے

    جاوید چودھری نے ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ ملک ریاض اپنے انٹرویو میں اہم رازوں سے پردہ اٹھائیں گے اور اہم انکشافات کریں گے،جاوید چودھری نے دعویٰ کیا کہ وہ ملک ریاض سے بات کرنے کے بعد انٹرویو کے مندرجات سامنے رکھ رہے ہیں،جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ملک ریاض نے پہلی مرتبہ زبان کھولنے کا فیصلہ کیا ہے یا انہوں نے زبان کھول لی ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو ریکارڈ ہوچکا ہے تاہم ملک ریاض سے رابطہ کیا تو نہ انہوں نے ہاں کی اور نہ ہی ناں کی،

    جاوید چودھری کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کا انٹرویو تین چیزوں‌پر ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی مد میں عائد کیے جانے 460 ارب روہے کے جرمانے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکا کیا کردار تھا اورانہوں نے ملک ریاض سے کیا کیا مراعات حاصل کی تھیں؟ 2014 میں عمران خان کے دھرنے میں ملک ریاض کا کیا کردار تھا اور یہ دھرنا کس کی پلاننگ تھی ، خوراک، ادائیگیوں کے لیے رقوم اور پیغامات کہاں سے آتے تھے؟دھرنے کے دوران ملک ریاض نے نواز شریف کو پیغام بھجوایا تھا کہ وہ استعفیٰ دے دیں یا چھٹی لے کر ملک سے باہر چلے جائیں. عمران خان کے دور میں کس کا کیا کردار تھا؟ کس کے کہنے پر انہوں نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ملاقاتیں بھی کروائی تھیں، اس دوران کچھ اداروں کو اندیشہ پیداہوگیا تھا کہ یہ دونوں اکٹھے ہوگئے تو عمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچ سکتا تھا

    جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ یہ اطلاع مکمل طور پر درست ہے کہ یا تو ملک ریاض نے یہ انٹرویو ریکارڈ کروادیا ہے، یا کروا ریے ہیں یا مواد تیار کرلیا گیا ہے بہرحال یہ اسی دائرے کے گرد گھومے گا،یہ انٹرویو کسے دیا گیا یا دیا جائے گا، کس چینل پر نشر ہو گا اس بارے جاوید چودھری نے کچھ نہیں بتایا،

    فرح گوگی اور محمد شاہ رنگیلے کی ہوش ربا داستان، نیا اسکینڈل، ملک ریاض گٹھ جوڑ بے نقاب

    ملک ریاض کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج 

    سپریم کورٹ نے ملک ریاض سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    آخر یہ القادر ٹرسٹ کیس ہے کیا؟

  • ملک ریاض کا بحریہ ٹاون کے دیوالیہ ہونے سے  متعلق خبروں پر ردعمل

    ملک ریاض کا بحریہ ٹاون کے دیوالیہ ہونے سے متعلق خبروں پر ردعمل

    کراچی: پاکستان کے پراپرٹ ٹائیکون ملک ریاض نے بحریہ ٹاون کے دیوالیہ ہونے متعلق خبروں پر ردعمل دے دیا۔

    باغی ٹی وی : سینئر صحافی جاوید چودھری نے ملک ریاض سے ہونے والی گفتگو کو شیئر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے دیوالیہ ہونے سے متعلق تمام خبریں جھوٹی ہیں 1996 سے مختلف ادارے اور لوگ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں لیکن اللہ بہت بڑا ہےاللہ ہمیشہ ہمیں آگے لے کر گیا ہے اور اس کی حفاظت بھی اللہ کرے گا بحریہ ٹاون محفوظ ہے اور دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہا ہے۔ جو اس کی مخالفت کر رہے ہیں اللہ انہیں شکست دے گا ہمارا خون جان بحریہ ٹاون کے لیے ہے یہ پاکستان کو تبدیل کر دے گا۔
    https://x.com/CivilSupermacy/status/1723272716055396697?s=20
    اس حوالے سے جاوید چودھری نے کہا ملک ریاض پر پہلے بھی بہت مسائل ہیں اور وہ ہمیشہ کی طرح اس مسئلے سے بھی نکل جائیں گے۔

    قومی و صوبائی اسمبلی کی ہر نشست پر اپنا امیدوار کھڑا کریں گے،پی ٹی آئی

    https://x.com/CivilSupermacy/status/1723688883874140597?s=20
    https://x.com/Wabbasi007/status/1723327676176646347?s=20
    واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے کراچی کے سب سے بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے اور یہاں تک دعوے کیے جا رہے ہیں کہ پروجیکٹ کے مالک ملک ریاض کچھ دنوں میں بحریہ ٹاؤن کو دیوالیہ قرار دے دیں گے،یہ تمام معاملہ گزشتہ مہینے شروع ہوا جب کراچی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے بحریہ ٹاؤن میں جائیداد کی خرید و فروخت اور اشتہاری مہم روکنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

    سیوریج کنکشن منقطع کرنے آئے واسا کے ملازمین کو بااثر شہری کی قتل …

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق میسرز بحریہ ٹاؤن کی فروخت اور اشتہاری مہم کا این او سی کینسل کر دیا گیا ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک سیل اینڈ ایڈورٹائیزمینٹ نے بحریہ ٹاؤن پروجیکٹ کے این او سی کی منسوخی کا لیٹر جاری کر دیا ہےمیسرز بحریہ ٹاؤن نے سکروٹنی کی مد میں واجبات ادا نہیں کیے، بحریہ ٹاؤن کو متعدد شو کاز نوٹس جاری کرنے کے باوجود ایس بی سی اے کو ادائیگی نہیں کی گئی شو کاز نوٹس کا جواب نہ آنے اور سکروٹنی فیس کی مد میں واجبات ادا نہ کرنے کی وجہ سے بحریہ ٹاؤن کا این او سی منسوخ کر دیا گیا ہے-

    قرضہ ایپس کے خلاف کارروائی ،111 ایپس بلیک لسٹ

    ایس بی سی اے نے مبینہ طور پر بحریہ ٹاؤن کے چیک باؤنس ہونے پر ملک ریاض اور علی ریاض ملک کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا،ایف آئی آر نمبر 681/ 23 میں ایس بی سی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور علی ملک ریاض کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہےایف آئی آر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ایس بی سی اے کو اپنے نمائندوں کے ذریعے سے پانچ پوسٹ ڈیٹڈ چیک دیے گئے تھے جن میں سے تین چیک باؤنس ہوئے ہیں۔

    ایس بی سی اے نے تمام ضروری دستاویزات کے ہمراہ پولیس سے مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی تھی۔

    شمالی وزیرستان:سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ، 2 جوان شہید

  • قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم کی تفصیلات طلب کر لیں،سپریم کورٹ نے اپنے اکاؤنٹنٹ کو فوری طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جن لوگوں کو نوٹسز جاری ہوئے وہ کہاں ہیں،ملک ریاض حسین کے وکیل سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض کے بیٹے اور بیوی کے وکیل کون ہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میں صرف ملک ریاض کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پہلے معلوم کر لیں کیونکہ ایک ہی خاندان کے سب افراد ہیں،ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور بعد میں کوئی اعتراض آجائے،چیف جسٹس پاکستان نے ملک ریاض کے وکیل کو اپنے موکل سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور انکے حقوق متاثر ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہر صورت ہونا ہے،ایسا ممکن نہیں کہ عدالت اپنے حکم سے پیچھے ہٹ جائے، گارنٹی دینے والوں کیخلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے سندھ حکومت اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی کی دوستی ہوگئی ہے،رقم کا ایک حصہ بحریہ ٹاؤن نے جمع کرایا دوسرا بیرون ملک سے آیا، ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت دونوں کہتے تھے پیسے انہیں دیے جائیں،اب دونوں کا اتفاق ہے کہ رقم سندھ حکومت کو منتقل کی جائے،کیا ایم ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کو تمام متعلقہ منظوریاں دی تھیں؟ وکیل ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے کہا کہ سولہ ہزار 896 ایکڑ کے مطابق لے آؤٹ پلان کی منظوری دی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟ زمین عوام کی تھی ایم ڈی اے کی ذاتی نہیں،

    مشرق بینک کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ بینک کو نوٹس دینے کی وجہ سمجھ نہیں آئی،بینک نے اگر رقم منتقل کی بھی ہے تو کسی اکائونٹ ہولڈر نے ہی دی ہوگی،چیف جسٹس نے کہا کہ بینک والے بتا دیں رقم کس نے منتقل کی تھی، وکیل مشرق بینک نے کہا کہ بینک کو تفصیلات فراہم کی جائیں تو شاید کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہوں، روزانہ ہزاروں ٹرانزیکشنزہوتی ہیں اس لئےفی الوقت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کابحریہ ٹاون کراچی سےمتعلق فیصلہ حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہو صورت ہونا ہے،سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہر صورت ہوگا ورنہ عدالت اس کیس کے ذریعے مثال قائم کرے گی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ملک کا قانون بالاتر ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا قانون سے بالاتر ہے؟وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو،جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں یہ آپ کا ذاتی کیس نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے کہا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ بحریہ ٹاون کراچی کا پراجیکٹ ختم ہو جائے، 2019 سے فیصلہ ہوا ہے اور ہمیں آج بحریہ ٹاون کا نقشہ دکھا رہے ہیں، کسی نے بحریہ ٹاون کے سر پر بندوق رکھی تھی کہ فیصلے کو تسلیم کرو؟جو آپ کر رہے ہیں یہ بالی وڈ یا لالی وڈ میں قابل قبول ہوگا آئینی عدالت میں نہیں، یہ اچھا ہے کہ معاہدے کے تحت پیسے نہیں دینے تو بہانے بناو، آپ فیصلے کے تحت ہوئے معاہدے کے مطابق رقم ادا کریں گے؟ ہاں یا ناں؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اگر زمین کی قیمت کا تخمینہ دوبارہ لگا لیا جائے تو میں ادائیگی کرنے کو تیار ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے فیصلے پر عمل نہیں کرنا، فیصلے پر عمل نہ کرنے کے خطرناک نتائج ہوں گے،فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے سے نیب بحریہ ٹاون کراچی کے خلاف کاروائی کرے گا، بحریہ ٹاون کا معاہدہ دکھا دیں، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا معاہدہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آج میں نے دو چیزیں سیکھ لیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نظر انداز ہو سکتا ہے اور فیصلہ معاہدہ ہوتا ہے، یہ بتا دیں کہ عدالت کس قانون کے تحت اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد کرانے بیٹھی ہے؟ وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اصل دائرہ اختیار کے تحت ہی فیصلے پر عملدرآمد کرا سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس عدالت کے فیصلے اور دائرہ اختیار کے تقدس کو پامال نہ کریں،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بحریہ کو جو زمین ملی اسکا آڈٹ ہوا،چار سال تک کیس کیوں سماعت کیلئے مقرر نہ ہوا یہ بات ہضم نہیں ہو رہی،سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر عملدرآمد کا فورم کیا ہے،معاملہ سندھ کا تھا تو آپ نے سندھ ہائیکورٹ سے کیوں رجوع نہیں کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اگر آئین کو دیکھیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہی نہیں تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ججز کا آئینی خلاف ورزی کرنا تو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے،کیا سپریم کورٹ نے مس کنڈکٹ کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ایسے دلائل نہ دیں پھر،

    بحریہ ٹاؤن کے وکیل نےیوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے ابھی توہین عدالت کی کاروائی چلانے کا فیصلہ نہیں کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے دلائل سے تو آپ اپنے ہی موکل کیخلاف جا رہے ہیں، آپ جذباتی نہ ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ سے سوال پوچھ رہے ہیں آپ ناراض ہو رہے ہیں،بحریہ ٹاؤن کی حیثیت زمین کے مالک کی نہیں بلکہ بلڈر کی ہے،

    سپریم کورٹ نےسندھ حکومت کو بحریہ ٹاون کراچی کے زیر قبضہ زمین کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جن 12 ہزار ایکڑ کا قبضہ بحریہ کے پاس ہے وہاں سے منافع کما رہا ہے،جکیا ایف بی آر نے بحریہ ٹاون کا آڈٹ کیا ہے؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بحریہ ٹاون کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت لگا کر تعصب کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خبر آپ بنوا چکے ہیں اب قانون کی بات کریں،بحریہ ٹاون نے 460 ارب کی پیشکش خود کی تھی، بحریہ ٹاون اگر برے سودے میں پھنس بھی گیا ہے تو ذمہ داری اسکی اپنی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سرکاری زمین نیلامی کے بغیر کسی کو دی جا سکتی ہے؟ بحریہ ٹاون نے نیب سے بچنے کیلئے 460 ارب کی پیشکش کی تھی،
    بحریہ ٹائون کیلئے عدالتی احکامات کی اہمیت ہی نہیں ہے، نیب کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرکے ریکوری کرنے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ جو رقم بیرون ملک سے آئی وہ بحریہ کے کھاتے میں کیسے ایڈجسٹ کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بیرون ملک سے آئی رقم کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی رقم سندھ حکومت کو ملنی چاہیے یا ایم ڈی اے کو؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ زمین سندھ حکومت نے دی ہے تو رقم بھی انہیں ملنی چاہیے، پیسے کس کو ملنے چاہئیں یہ بحریہ ٹاون کا ایشو نہیں ہے،
    رقم ان متاثرین کو ملنی چاہیے جنہوں نے بحریہ کو ادائیگی کی اور رقم نہیں ملی،

    وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ میرے موکل نے 55 لاکھ روپے ادا کیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا تو ہم کچھ نہیں کر سکتے،وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ہیں تو کسی اور فورم پر کیسے جائیں؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بحریہ کراچی کا منصوبہ بلوچستان کے بارڈر تک پہنچ چکا ہے،بحریہ ٹاون چالیس ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کر چکا ہے، اس حوالے سے آئینی درخواست دائر کر دی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا سندھ حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ این سی اے سے آنے والے190 ملین پائونڈ حکومت کو ملنے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرون ملک سے سپریم کورٹ اکاونٹ میں 44 ملین ڈالرز اور 136 ملین پائونڈز آئے ہیں،سپریم کورٹ کو رقم یو اے ای، لندن اور ورجن آئی لینڈ سے آئی ہے،عدالت آئندہ سماعت پر رقم اپنے پاس نہ رکھنے کے حوالے سے حکم جاری کرے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیسے تعین ہوا ہے کہ برطانیہ والے 190 ملین پاونڈز ہی سپریم کورٹ کو ملے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ مشرق بینک کے وکیل کے مطابق رقم بھیجنے والی تفصیل ڈیٹا ملنے پر ہی فراہم کی جا سکتی ہے،مشرق بینک متعلقہ معلومات ملنے پر رقم بھیجنے والے کی تفصیلات فراہم کرے،بحریہ ٹاون اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے، عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے کو زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا نمائندہ بھی سروے ٹیم کے ہمراہ ہوگا،سروے میں سرکاری زمین پر بحریہ ٹاون کے قبضے کے الزمات کا بھی جائزہ لیا جائے،

    بحریہ ٹائون کے زیر قبضہ زمین کتنی ہے سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاؤن نمائندہ کیساتھ زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا،

    سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ اور بحریہ ٹاؤن سے متعلق درخواستیں 23 نومبر کو مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • ملک ریاض اور بیٹے کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج

    ملک ریاض اور بیٹے کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج

    ملک ریاض کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج کر لیا گیا

    ملک ریاض کے خلاف مقدمہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے درج کروایا ہے، مقدمہ شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال تھانے کی حدود میں درج کیا گیا ہے،مقدمہ چیک باؤنس ہونے پر درج کیا گیا،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق میسرز بحریہ ٹاؤن کے پبلک سیل اینڈ ایڈورٹائزمنٹ کے لیے این او سی کی مد میں دیئے گئے تین چیک باؤنس ہو چکے،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر بللک سیل نے ملک ریاض کے خلاف مقدمہ درج کروایا، مقدمے میں ملک ریاض کے بیٹے کو بھی نامزد کیا گیا ہے.

    درج مقدمے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے اسکروٹنی فیس کی مد میں پانچ چیک جمع کرائے ان میں سے 3 چیک باؤنس ہو گئے،مقدمہ 21 اکتوبر کو درج کیا گیا،

    سپریم کورٹ نے ملک ریاض سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    آخر یہ القادر ٹرسٹ کیس ہے کیا؟