Baaghi TV

Tag: بحری جہاز

  • امریکا کو  بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام لگایا ہے کہ امریکا نے ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز IRIS Dena کو ڈبو کر سمندر میں سنگین ظلم کیا ہے اور اس کے نتائج امریکہ کو بھگتنا پڑیں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ امریکی کارروائی ایران کے ساحل سے تقریباً دو ہزار میل دور بین الاقوامی پانیوں میں کی گئی،ایرانی فریگیٹ ڈینا اس وقت انڈین بحریہ کی مہمان تھی اور اس پر تقریباً 130 ملاح سوار تھے، تاہم امریکی حملہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیا گیا، امریکا نے سمندر میں ایک خطرناک مثال قائم کی ہے اور ان کے بقول امریکا کو اس اقدام پر سخت پچھتاوا ہوگا۔

    سعودی عرب کا 4 ڈرون اور 3 کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ

    بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کیلئے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

    مشرق وسطیٰ میں پھنسے ہوئے برطانوی شہریوں کی پہلی سرکاری چارٹر فلائٹ ٹیک آف کرنے میں ناکام

  • مشرق وسطیٰ میں امریکی بی 52 طیارے،بحری جہازتعینات

    مشرق وسطیٰ میں امریکی بی 52 طیارے،بحری جہازتعینات

    امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بی 52 طیارے اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق، یہ تعیناتی مشرق وسطیٰ میں ملٹری ری ایڈجسٹمنٹ کا حصہ ہے۔مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود طیارہ بردار جہاز اور تین جنگی جہاز رواں ماہ کے وسط تک واپس امریکا چلے جائیں گے۔پینٹاگون کے مطابق، اسرائیل کی دفاع اور حوثیوں کے حملوں سے اتحادیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

    یہ اقدام اسرائیل کے دفاع اور ایران کو انتباہ کے طور پر کیا جائے گا۔ امریکی وزارت دفاع نے پینٹاگان سے جاری ایک بیان میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع واضح طور پر مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ایران یا اس کے شراکت داروں یا اس کے زیر انتظام گروپوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں امریکی افراد یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکا اپنے عوام کے دفاع کے لیے تمام مطلوبہ اقدامات کرے گا۔مذکورہ نئے ہتھیاروں میں بیلسٹک میزائل کے خلاف دفاعی وسائل، لڑاکا طیارے، B-52 بم بار طیارے اور دیگر نوعیت کے فوجی طیارے شامل ہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں امریکی طیاروں اور بحری جہازوں کی اس تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن اس کے اثرات خطے کی موجودہ صورت حال پر مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ جنگی طاقت کا مظاہرہ ایک طرف تو حفاظتی اقدام ہو سکتا ہے، مگر دوسری جانب یہ علاقائی تنازعات کو بھی بھڑکا سکتا ہے۔

  • عمان،بحری جہاز ڈوب گیا،عملے میں 13 بھارتی افراد شامل

    عمان،بحری جہاز ڈوب گیا،عملے میں 13 بھارتی افراد شامل

    عمان میں یمن کی طرف جانے والا بحری جہاز ڈوب گیا، عملے کے 16 افراد میں سے 13 بھارتی تھے

    عمان کی میری ٹایم سیکورٹی سنٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمن کی طرف جانے والاایک بحری جہاز عمان کے قریب سمندر میں ڈوب گیا ہے، جہاز پر عملے کے 16 ارکان سوا تھے جن میں سے 13 بھارتی اور 3 سری لنکن شہری تھے،جہاز پر تیل لدا ہوا تھا،جس کا نام پریسٹیج فالکن بتایا گیا ہے، جہاز ڈوبنے کے بعد سوار عملے کی تلاش جاری ہے تاحال عملے کے بارے کچھ پتہ نہ چل سکا

    عمان کے میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر کے مطابق ڈوبنے والے بحری جہاز پر مشرقی افریقی ملک کوموروس کا جھنڈا بنا ہوا تھا،جہاز عمان کی مرکزی صنعتی دوقم بندرگاہ کے قریب ڈوب گیا تھا جس کے بعد مقامی حکام نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا تاہم تازہ ترین معلومات کے مطابق ٹینکر میں سوار افراد کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا.

  • غزہ کے مسلمانوں کے قتل عام میں بھارت بھی برابر کا شریک،شواہد سامنے آ گئے

    غزہ کے مسلمانوں کے قتل عام میں بھارت بھی برابر کا شریک،شواہد سامنے آ گئے

    بھارت بھی فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام میں اسرائیل کے ساتھ برابر کا شریک ہے،بھارت سے اسرائیل جانے والے بحری جہاز جس پر 27 ٹن مہلک ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد تھا کو اسپین نے اپنی بندرگارہ پر لنگر انداز ہونے سے انکار کیا، وہ جہاز اب چنئی سے بحیرہ احمر کے چھوٹے راستے کے بجائے لمبا راستہ اٰختیار کرکے اسرائیل کے اشدود ساحل کے راستے پر ہے

    اس ضمن میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اوپن سیکرٹ نامی صارف نے بھارت سے اسرائیل جانے والے جہاز کی تمام لوکیشنز شیئر کی ہیں، اوپن سیکرٹ کے مطابق کارگو جہاز ڈنمارک سے جسٹرڈ ہے جس کا نام ماریانی ڈینیکا ہے 6 دن قبل تک بھارت سے اسرائیل جانے والے جہاز کا مقام اسرائیلی بندرگاہ اشدود تھا جو غزہ کی پٹی کے بالکل ساتھ ہے .راستے میں جہاز نے پورٹ گرانڈے، کیپ وردے پر لنگر انداز کیا جبکہ اس کو اسپین میں لنگر انداز ہونا تھا تاہم اسپین نے بارودی مواد سے لدے بحری جہاز کو لنگر انداز سے ہونے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ” کہ وہ معصوم شہریوں کے قتل عام میں شریک نہیں ہوسکتا”۔جس کے بعد بھارت سے اسرائیل جانے والا جہاز اسپین میں لنگر انداز ہونے کی بجائے آگے بڑھ گیا

    https://twitter.com/OpenSecrets7Ave/status/1796964856303677502

    اسرائیلی بندر گاہ حیفہ جانے والے جہاز کو اشدود کی طرف موڑ دیا گیا تھا جو رفح،غزہ کے بہت قریب ہے اور جہاں مہاجرین کیمپوں پر بمباری ابھی شروع ہوئی ہے۔ بھارت نے اسرائیل سے 3 ارب ڈالر کا اسلحہ درآمد کیا اور چین اور پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ اب بھارت اسرائیل کو فلسطین کے خلاف اسلحہ مہیا کر رہا ہے،

    ہسپانوی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ جس جہاز میں بھارتی دھماکہ خیز مواد اسرائیل لے جایا جا رہا تھا اس پر ڈنمارک کا جھنڈا لگا ہوا ہے، جہاز بھارت کے چنئی سے اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ جا رہا ہے،ہسپانوی وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس کا کہنا ہے کہ اسپین نے ہتھیار لے کر اسرائیل جانے والے جہاز کو ہسپانوی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ جہاز مبینہ طور پر بھارت سے آیا اور 27 ٹن دھماکہ خیز مواد سے لدا ہوا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر کے راستے اسرائیل میں داخل ہونے سے گریز کیا ہو جہاں یمن کے حوثیوں کا قبضہ ہے۔یہ پہلی بار ہے جب ہم نے ایسا کیا ، ہم نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی کھیپ لے جانے والے جہاز کا پتہ لگایا ہے جو ہسپانوی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونا چاہتا تھا،

    بھارت اسرائیل ہتھیاروں کا گٹھ جوڑ

    ایل پیس اخبار کے مطابق ڈنمارک کے جھنڈے والا جہاز 27 ٹن دھماکہ خیز مواد ہندوستان کے مدراس ،چنئی سے اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ جا رہا ہے،بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے، جن میں سے کچھ مشرقی اور وسطی بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں استعمال ہوتے ہیں۔پچھلے 10 سالوں میں، بھارت نے مبینہ طور پر اسرائیل سے 2.9 بلین ڈالر کا فوجی سازوسامان درآمد کیا ہے۔ جس میں جنگی ڈرون، میزائل، ریڈار اور دیگر نگرانی کے نظام شامل ہیں۔ بھارت اور اسرائیل نے 1992 میں سفارتی تعلقات کو معمول پر لایا لیکن نئی دہلی کو تل ابیب کی فوجی برآمدات 1960 کی دہائی سے ہیں۔

    اسرائیل نے چین اور پاکستان کے خلاف جنگوں میں بھارت کی مدد کی ہے،۔ ایلبٹ سسٹمز، جو اسرائیل کی سب سے بڑی فوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے 2018 میں ہندوستانی گروپ اڈانی گروپ کے ساتھ مل کر جنوبی ہندوستان میں ا 900 ڈرون بنانے کے لیے کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جو اسرائیل کو اپنے استعمال کے لیے واپس برآمد کیے جاتے ہیں۔ان میں سے کچھ قاتل ڈرون مبینہ طور پر بھارت نے غزہ پر جاری حملے میں اسرائیل کو بھیجے ہیں۔

    ایک سال میں 16 خواتین قتل،کاروکاری کے پانچ،گمشدگی کے سات کیس رپورٹ

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    بھارتی ساحل کے نزدیک اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: بھارت سے متصل سمندر میں اسرائیلی بحری جہاز کے ساتھ ڈرون ٹکرا نے سے جہاز کو آگ لگ گئی کیمیکلز سے لدے اس جہاز کو زیادہ نقصان سے بچا لیا گیا ہےبرطانوی میری ٹائم سیکیورٹی فرم ایمبری کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا ہے، کیمیکلز لے جانے والے جہاز پر لائبیریا کا پرچم لہرا رہا ہے، یہ حملہ بحیرہ عرب میں بھارت کی مغربی ریاست گجرات کی بندر گاہ ویر اول کے جنوب مغرب میں 200 کلو میٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔

    برٹش میری ٹائم سیکیورٹی فرم ایمبرے نے ہفتے کو بتایا کہ ڈرون حملے سے لگنے والی آگ فوری طور پر بجھادی گئی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس کے بعد عرشے پر کچھ پانی بھی دیکھا گیا،آگ بجھانے کے لیے پانی فوری طور پر جہاز تک پہنچایا گیا یہ جہاز اسرائیل سے وابستہ ہے حملے سے قبل اس جہاز کی آخری کال سعودی عرب کے لیے تھی حملے کے وقت اس کی منزل بھارت ہی تھا۔

    ڈی جی خان :ڈی پی او نے ملازمین کی ویلفئیر کی مد میں چیک …

    بھارتی کوسٹ گارڈ شپ آئی سی جی ایس وکرم بحیرہ عرب میں پوربندر کی بندر گاہ سے 217 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک مال بردار جہاز ایم وی کیم پلوٹو کی طرف بڑھ رہا تھا، اسی نے اطلاع دی کہ ایک جہاز میں ممکنہ طور پر ڈرون حملے سے آگ لگی ہے۔

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں معمولی کمی

  • یونان میں  کارگو بحری جہاز ڈوب گیا،عملے کے 14افرد سوار تھے

    یونان میں کارگو بحری جہاز ڈوب گیا،عملے کے 14افرد سوار تھے

    ایتھنز: یونان کے جزیرے لیسبوس کے قریب ایک کارگو بحری جہاز ڈوب گیا ۔

    باغی ٹی وی: فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق یونانی کوسٹ گارڈ نے میڈیا کو بتایا کہ مصر کی بندرگاہ دخیلہ سے استنبول جانے والا کارگو بحری جہاز لیسبوس جزیرے کے قریب اپنے بھاری بوجھ اور تیز لہروں کی وجہ سے سمندر میں ڈوب گیا ہے جہاز میں نمک لوڈ تھا اور عملے کے 14افرد سوار تھے۔

    یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز میں ڈوبنے والوں میں عملے کے ارکان میں دو شامی شہری، ایک ہندوستانی اور 11 مصری شامل ہیں5مال بردار بحری جہاز3 کوسٹ گارڈ جہاز، فضائیہ اور بحریہ کے ہیلی کاپٹر کے ساتھ بحریہ کی ایک ریسکیو ٹیم نے ڈوبنے والے جہاز سوار ایک شخص کو سمندر سے نکال کر ہسپتال منتقل کردیا ہے تاہم دیگر کی تلاش جاری ہے-

    حماس نے مزید 17 یرغمالیوں کو رہا کر دیا، جبکہ اسرائیل کی جانب …

    قبل ازیں ہفتے کو امریکی دفاعی عہدیدار نے بحر ہند میں اسرائیلی بحری جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کا دعویٰ کیا تھا، امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نامعلوم امریکی دفاعی ذرائع نے ہفتہ کے روز بتایا تھا کہ جمعہ کو اسرائیلی بحری جہاز پر ڈرون حملہ ہوا جس میں ممکنہ طور پر ایرانی ساختہ ڈرون استعمال کیا گیا تاہم امریکی اہلکار نے اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا،اسرائیلی تاجر کی ملکیت مالٹا کے جھنڈے والے بحری جہاز پر مبینہ حملہ جمعہ کو بین الاقومی پانیوں میں ہوا جس میں جہاز کو نقصان پہنچا تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے-

    افغان مہاجرین کو ایران میں سخت اقدامات کا سامنا

  • برطانیہ نے پناہ کےمتلاشیوں کوسمندر میں بحری جہازمیں منتقل کرنا شروع کر دیا

    برطانیہ نے پناہ کےمتلاشیوں کوسمندر میں بحری جہازمیں منتقل کرنا شروع کر دیا

    برطانیہ نے پناہ کے متلاشی تارکین وطن کو سمندر میں بحری جہاز میں منتقل کرنے کا عمل شروع کردیا۔

    باغی ٹی وی: برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق پناہ کے متلاشیوں کے پہلے گروپ میں 50 افراد کو پہلے ہی پورٹ لینڈ کے "بیبی سٹاک ہوم” سٹیمر میں منتقل کر دیا گیا تھا، جبکہ رواں ہفتے کے اختتام پر ان پناہ گزینوں کی تعداد 500 ہوجائےگی برطانوی حکومت کے منصوبے کے تحت تارکین وطن کو سمندر میں اس وقت تک بحری جہازوں پر رکھا جائے گا جب تک ان کی پناہ کی درخواست منظور یا مسترد ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

    برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک نے کہا ہے کہ نئی رہائش "ایک سنگین مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرے گی گذشتہ ہفتےایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ کچھ مختلف کرنے کی ایک مثال ہےجو پہلے نہیں کیا گیا تھا لیکن انسانی حقوق کی درجنوں تنظیموں اور کارکنوں نے جن میں پناہ گزینوں کی کونسل اور انسٹی ٹیوٹ آف ریس ریلیشنز بھی شامل ہیں گذشتہ ماہ ایک کھلی اپیل پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ "ظالمانہ اور غیر انسانی” ہے۔

    برطانیہ: غیر قانونی تارکین وطن کو نوکری دینے والے مالکان کوتین گنا زیادہ جرمانہ ہوگا

    فائر فائٹرز یونین نے متنبہ کیا کہ زیادہ بھیڑ اور آگ سے باہر نکلنے تک رسائی کے خدشات "بیبی سٹاک ہوم” بجر کو ممکنہ موت کا جال بنا دیں گےان انتباہات کے باوجود امیگریشن کے وزیر رابرٹ جینرک نے یقین دہانی کرائی کہ یہ ایک "محفوظ سہولت” ہے اور کہا کہ وہ "آنے والے دنوں میں” اپنے عارضی رہائشیوں کا خیرمقدم کرے گا یہ جہاز تین ہفتے قبل پورٹ لینڈ میں خراب ہوگیا تھا لیکن آج تک خالی پڑا ہے کیونکہ اس کی حفاظتی جانچ پڑتال جاری ہے۔

    بھارت چاند کے بعد سمندر میں بھی مشن بھیجے گا

  • ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    ایمسٹر ڈیم: ہالینڈ کے قریب گاڑیوں سے لدے بحری کارگو جہاز میں اچانک آگ لگ گئی۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہالینڈ کے جزیرے ایملینڈ کے ساحل کےقریب 3 ہزار گاڑیاں لے جانے والے کارگو بحری جہاز میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک اور عملے کے ارکان سمیت 22 افراد زخمی ہو گئے جہاز کے عملے کے کچھ افراد نے آگ سے بچنے کے لیے 100 فٹ کی اونچائی سے سمندر میں چھلانگ لگائی۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ ایملنیڈ کے ڈچ جزیرے کے قریب پیش آیا جہاں ایک کارگو جہاز میں 3 ہزار گاڑیاں موجود تھیں۔ ڈچ کوسٹ گارڈ کے مطابق پاناما کے کارگو شپ میں 25 الیکٹرک گاڑیوں سمیت 2 ہزار857 گاڑیاں جرمنی سے مصر لے جائی جا رہی تھیں، جہاز میں عملہ بھی موجود تھا اور آگ کے نتیجے میں جہاز کا ملاح ہلاک اور 22 افراد متاثر ہوئے ہیں جنہیں سانس میں دشواری، جھلسنے سمیت دیگر زخموں کی وجہ سے اسپتال منتقل کیا گیا ہے یہ حادثہ بحیرہ شمالی کے ایسے علاقے میں پیش آیا ہے جسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے-

    جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

    حکام کے مطابق عملے نے پہلے اپنے طور پر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ جہاز میں لگی آگ بجھانے کے لیے بحیرہ شمالی میں بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے اور خدشہ ہے کہ آگ پر قابو پانے میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔

    اس موقع پر ڈچ کوسٹ گارڈ کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ جہاز میں موجود 25 الیکٹرک گاڑیوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے پیش آیا ہےجہاز کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اطراف میں پانی ڈالا جا رہا تھا لیکن ریسکیو کشتیوں نے ڈوبنے کے خطرے کی وجہ سے جہاز پر بہت زیادہ پانی ڈالنے سے گریز کیا۔

    امریکا کےپاس خلائی طشتریاں اورخلائی مخلوق کی لاشیں موجود ہیں،سبق انٹیلیجنس افسر

    آگ لگنےکی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم امکان ہے کہ آتشزدگی کی وجہ الیکٹرک گاڑی ہو سکتی ہے۔ جہاز پر تقریبا 25 گاڑیاں برقی تھیں۔ تین ہزار گاڑیوں سے لدا بحری کارگو جہاز منگل کو شمالی جرمنی سے مصر کے شہر پورٹ سعید کے لیے روانہ ہوا تھا۔

  • یمن میں37 سال پرانے سمندر میں تیرتے بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع

    یمن میں37 سال پرانے سمندر میں تیرتے بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع

    اقوام متحدہ نے منگل کو کہا کہ یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل کے قریب موجود ایک بوسیدہ بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ”ایف ایس او سیفر“ ایک تیرتا ہوا ٹینکر ہے جس میں 1.14 ملین بیرل سے زیادہ تیل موجود ہے، 2015 میں یمن جنگ میں سعودی زیرقیادت اتحاد کی مداخلت کے بعد سے یہ سمندر میں موجود ہے اور اس کے پھٹنے کا خطرہ ہے یہ بحری جہاز یمن کی سرکاری آئل کمپنی کی ملکیت ہے۔ اسے 1976 میں سپر آئل ٹینکر کے طور پر بنایا گیا تھا مگر بعد ازاں اسے سمندر میں خام تیل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

    یمن،” اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایڈمنسٹریٹر اچیم سٹینر نے صحافیوں کو بتایا کہ آج صبح تک، ہمیں یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ پمپ آن ہیں، پائپ FSO سیفر اور یمن کے درمیان متبادل ٹینکر میںبچھائے گئے ہیں اور پہلے گیلن تیل درحقیقت سیفر پر پمپ کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں،امریکا

    انہوں نے کہا کہ جہاز سے متبادل ٹہنکر میں تیل کی منتقلی چوبیس گھنٹے جاری رہے گی اور اس میں 19 دن لگنے کی امید ہے ایف ایس او سیفر اقوام متحدہ اور ماحولیاتی تنظیموں کی طرف سے تین سال سے زیادہ کی اپیلوں کا موضوع تھا جنہوں نے خبردار کیا تھا کہ یمن کی خانہ جنگی کے دوران دیکھ بھال کی کمی کا مطلب ہے کہ بوسیدہ ٹینکر 1989 کی تباہی کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تیل پھیلنے کا خطرہ تھا۔

    یاد رہے کہ تیرتے ہوئے بڑے بڑے آئل ٹینکرز پر سمندر میں تیل ذخیرہ کرنے کا رواج عام ہے، کیونکہ یہ زمین پر گودام بنا کر تیل ذخیرہ کرنے کے مقابلے میں سستے پڑتےہیں اس سے قبل علاقےپرقابض یمن کے حوثی باغیوں نے ٹینکر سے تیل نکالنے کی کسی بھی کارروائی سے حکام کو روک رکھا تھا۔ لیکن آخر کار مارچ میں انہوں نے تیل اتارنے کی اجازت دے دی۔

    ہائی کورٹ کے چھ ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی

    یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور ایک پرخطر آپریشن ہے۔ مبصرین کو برسوں سے خدشہ ہے کہ سیفر ٹوٹ سکتا ہے یا پھٹ سکتا ہے۔ جس سے تیل سمندر میں پھیل جائے گا اور دنیا کے سب سے بڑے سمندری ماحولیاتی نظام میں سے ایک کی تباہی کا باعث بنے گا۔

    گزشتہ آٹھ سال سے دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ایس او ایف سیفر کو زنگ لگ چکا ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ ماحولیات کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر سیفر سے تیل لیک ہونا شروع ہو گیا تو سمندر میں بڑے پیمانے پر آلودگی پھیل جائے گی جس سے نہ صرف آبی حیات کو نقصان پہنچے گا بلکہ وسیع سمندری علاقے میں جہاز رانی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    بھارتی مزدوروں کو برطانوی دور کا ملنے والا خزانہ افسران نے چوری کر لیا

    اگر آپریشن کے دوران تیل کا کوئی اخراج ہوتا ہے تو ڈچ میں مقیم کمپنی Boskalis/SMITis کا ایک تکنیکی معاون جہاز فوری اقدام کے لیے تیار ہوگا اقوام متحدہ نے اس لاوارث بحری جہاز سے تیل نکالنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور سیکرٹری جنرل گوتیرس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماہرین کی ایک ٹیم نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

    بحری جہاز سیفر سے تیل نکالنے کے لیے اقوام متحدہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ اس کام پر 2 کروڑ ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ ہے متروک ٹینکر سے تیل نکال کر اسے ایک اور جہاز میں منتقل کیا جائے گا جسے اقوام متحدہ نے اسی مقصد کے لیے خریدا ہے۔ عالمی ادارے کو توقع ہے کہ منتقلی کا عمل تین ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔

    آئل ٹینکر سیفر کی لمبائی 360 میٹر ہے۔ اس میں تیل ذخیرہ کرنے کے 34 ٹینکر ہیں اور اس دیو ہیکل بحری جہاز میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش 30 لاکھ بیرل ہے۔ جب کہ اس وقت جہاز میں 11 لاکھ بیرل تیل موجود ہے۔

    ایرانی وزیرخارجہ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے

    37 سال پرانے سپر ٹینکر کو لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا اور یہ آٹھ سال قبل یمن میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے سروس سے باہر ہے سیفر یمن کی حوثی تحریک کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ آئل ٹرمینل کے قریب لنگر انداز ہے، جس نے 2015 میں ملک کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا الحدیدہ پر حوثیوں کی جانب سے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یہاں موجود بین الاقوامی میرین انجینئرز یمن چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

  • ٹائی ٹینک سے 5 گنا زیادہ بڑا بحری جہاز "دی آئیکون”

    ٹائی ٹینک سے 5 گنا زیادہ بڑا بحری جہاز "دی آئیکون”

    فن لینڈ: دنیا کا سب سے بڑا مسافر بحری جہاز دی آئیکون جنوری 2024 میں اپنے پہلے سفر پر روانہ ہوگا۔

    باغی ٹی وی : رائل کیریبین نامی کمپنی کا یہ جہاز ٹائی ٹینک سے 5 گنا زیادہ بڑا ہے جس میں 20 عرشے، نیویارک کے مشہور سینٹرل پارک کی نقل اور متعدد سہولیات دستیاب ہوں گی رائل کیریبین انٹرنیشنل کا آئکن آف دی سیز ایک بہت بڑا 365 میٹر لمبا (تقریبا 1,200 فٹ) ہےاس جہاز کے خاکے کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر وائرل ہیں۔

    کمپنی کی جانب سے جہاز پر سفر کے لیے بکنگ کا آغاز اکتوبر 2022 میں کیا گیا تھا اور چند گھنٹوں میں لگ بھگ تمام ٹکٹیں فروخت ہو گئی تھیں یہ بحری جہاز پہلے سفر کے دوران امریکی شہر میامی سے کیریبین جزائر جائے گا اور اس میں 7600 افراد سفر کر سکیں گے۔

    جب یہ جنوری 2024 میں کیریبین کے پانیوں پر سفر کرے گا، تو اس میں تقریباً 5,610 مسافروں اور 2,350 عملے کو آرام سے رکھا جائے گا کشتی کا پیس ڈی ریزسٹنس سمندر میں دنیا کا سب سے بڑا واٹر پارک ہوگاکیٹیگری 6 کا نام دیا گیا ، اس میں چھ ریکارڈ توڑ پانی کی سلائیڈیں ہوں گی، لیکن جو مہمان زیادہ آرام سے تجربہ چاہتے ہیں وہ کشتی کے سات تالابوں اور نو بھنوروں میں بھی آرام کر سکتے ہیں۔

    یہ میئر ٹورکو شپ یارڈ میں تعمیر کیا جا رہا ہے، جو یورپ کے معروف جہاز سازوں میں سے ایک ہے،اس جہاز کو فن لینڈ تعمیر کیا گیا تھا اور مسافروں کے لیے اس میں تفریح کے متعدد مواقع موجود ہوں گ۔ اس سال کے شروع میں ایک سائٹ پر پریس پینل میں، رائل کیریبین انٹرنیشنل کے صدر اور چیف ایگزیکٹو مائیکل بیلی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ جہاز 26 اکتوبر کو رائل کیریبین بیڑے میں شامل ہونے کے لیے راستے پر تھا، اس کے 2024 کے آغاز سے پہلے۔

    دنیا کے سب سے بڑے کروز شپ کا موجودہ ٹائٹل ہولڈر رائل کیریبین بحری بیڑے میں ایک اور جہاز ہے، ونڈر آف دی سیز، جس نے ابھی پچھلے سال ہی اپنا افتتاحی سفر کیا تھا اور اس کی لمبائی 1,188 فٹ سے قدرے نوعمر ہے، جس میں صرف 18 ڈیکیں ہیں۔

    رائل کیریبین انٹرنیشنل جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اور کمپنی کی تاریخ کے 50 سالوں کے سیکھنے پر تعمیر کرتے ہوئے کروز لائن کی ارتقائی چوٹی کے طور پر آئکن آف دی سیز کو پیش کر رہی ہے،اس جہاز نے جون 2023 میں سمندری سفر کی آزمائش کامیابی سے مکمل کی تھی یہ 1198 فٹ بلند جہاز ہے جس کا وزن 2 لاکھ 50 ہزار 800 ٹن ہے، اسی وجہ سے اسے دنیا کا سب سے بڑا کروز شپ قرار دیا گیا ہے۔

    اس میں 40 ریسٹورنٹس موجود ہیں جبکہ کمپنی کے مطابق اس میں بہت بڑا سوئمنگ پول بھی ہے جبکہ پہلی بار کسی جہاز میں واٹر پارک مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس میں 6 واٹر سلائیڈز ہوں گی،جیسے ایج روپ کے ذریعے وہ سمندر سے 155 فٹ بلند پر لٹک کر ایڈونچر کا مزہ لے سکیں گے راک کلائمبنگ وال، سرف سمولیٹر اور منی گولف کورسز بھی دستیاب ہوں گے،دی آئیکون میں بچوں کے لیے جھولے موجود ہوں گے جبکہ دیگر متعدد تفریحی سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔


    اس جہاز میں مجموعی طور پر 2805 کمرے تیار کیے گئے ہیں جن کو 14 مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے 3 منزلہ ٹاؤن ہاؤس کا ایک ہفتے کا کرایہ اوسطاً 75 ہزار ڈالرز ہے،اس بحری جہاز میں ایک آبشار بھی تعمیر کی جا رہی ہے اور مسافر آئس شوز سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔