Baaghi TV

Tag: بحری جہاز

  • ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    ایمسٹر ڈیم: ہالینڈ کے قریب گاڑیوں سے لدے بحری کارگو جہاز میں اچانک آگ لگ گئی۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہالینڈ کے جزیرے ایملینڈ کے ساحل کےقریب 3 ہزار گاڑیاں لے جانے والے کارگو بحری جہاز میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک اور عملے کے ارکان سمیت 22 افراد زخمی ہو گئے جہاز کے عملے کے کچھ افراد نے آگ سے بچنے کے لیے 100 فٹ کی اونچائی سے سمندر میں چھلانگ لگائی۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ ایملنیڈ کے ڈچ جزیرے کے قریب پیش آیا جہاں ایک کارگو جہاز میں 3 ہزار گاڑیاں موجود تھیں۔ ڈچ کوسٹ گارڈ کے مطابق پاناما کے کارگو شپ میں 25 الیکٹرک گاڑیوں سمیت 2 ہزار857 گاڑیاں جرمنی سے مصر لے جائی جا رہی تھیں، جہاز میں عملہ بھی موجود تھا اور آگ کے نتیجے میں جہاز کا ملاح ہلاک اور 22 افراد متاثر ہوئے ہیں جنہیں سانس میں دشواری، جھلسنے سمیت دیگر زخموں کی وجہ سے اسپتال منتقل کیا گیا ہے یہ حادثہ بحیرہ شمالی کے ایسے علاقے میں پیش آیا ہے جسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے-

    جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

    حکام کے مطابق عملے نے پہلے اپنے طور پر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ جہاز میں لگی آگ بجھانے کے لیے بحیرہ شمالی میں بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے اور خدشہ ہے کہ آگ پر قابو پانے میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔

    اس موقع پر ڈچ کوسٹ گارڈ کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ جہاز میں موجود 25 الیکٹرک گاڑیوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے پیش آیا ہےجہاز کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اطراف میں پانی ڈالا جا رہا تھا لیکن ریسکیو کشتیوں نے ڈوبنے کے خطرے کی وجہ سے جہاز پر بہت زیادہ پانی ڈالنے سے گریز کیا۔

    امریکا کےپاس خلائی طشتریاں اورخلائی مخلوق کی لاشیں موجود ہیں،سبق انٹیلیجنس افسر

    آگ لگنےکی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم امکان ہے کہ آتشزدگی کی وجہ الیکٹرک گاڑی ہو سکتی ہے۔ جہاز پر تقریبا 25 گاڑیاں برقی تھیں۔ تین ہزار گاڑیوں سے لدا بحری کارگو جہاز منگل کو شمالی جرمنی سے مصر کے شہر پورٹ سعید کے لیے روانہ ہوا تھا۔

  • یمن میں37 سال پرانے سمندر میں تیرتے بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع

    یمن میں37 سال پرانے سمندر میں تیرتے بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع

    اقوام متحدہ نے منگل کو کہا کہ یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل کے قریب موجود ایک بوسیدہ بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ”ایف ایس او سیفر“ ایک تیرتا ہوا ٹینکر ہے جس میں 1.14 ملین بیرل سے زیادہ تیل موجود ہے، 2015 میں یمن جنگ میں سعودی زیرقیادت اتحاد کی مداخلت کے بعد سے یہ سمندر میں موجود ہے اور اس کے پھٹنے کا خطرہ ہے یہ بحری جہاز یمن کی سرکاری آئل کمپنی کی ملکیت ہے۔ اسے 1976 میں سپر آئل ٹینکر کے طور پر بنایا گیا تھا مگر بعد ازاں اسے سمندر میں خام تیل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

    یمن،” اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایڈمنسٹریٹر اچیم سٹینر نے صحافیوں کو بتایا کہ آج صبح تک، ہمیں یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ پمپ آن ہیں، پائپ FSO سیفر اور یمن کے درمیان متبادل ٹینکر میںبچھائے گئے ہیں اور پہلے گیلن تیل درحقیقت سیفر پر پمپ کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں،امریکا

    انہوں نے کہا کہ جہاز سے متبادل ٹہنکر میں تیل کی منتقلی چوبیس گھنٹے جاری رہے گی اور اس میں 19 دن لگنے کی امید ہے ایف ایس او سیفر اقوام متحدہ اور ماحولیاتی تنظیموں کی طرف سے تین سال سے زیادہ کی اپیلوں کا موضوع تھا جنہوں نے خبردار کیا تھا کہ یمن کی خانہ جنگی کے دوران دیکھ بھال کی کمی کا مطلب ہے کہ بوسیدہ ٹینکر 1989 کی تباہی کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تیل پھیلنے کا خطرہ تھا۔

    یاد رہے کہ تیرتے ہوئے بڑے بڑے آئل ٹینکرز پر سمندر میں تیل ذخیرہ کرنے کا رواج عام ہے، کیونکہ یہ زمین پر گودام بنا کر تیل ذخیرہ کرنے کے مقابلے میں سستے پڑتےہیں اس سے قبل علاقےپرقابض یمن کے حوثی باغیوں نے ٹینکر سے تیل نکالنے کی کسی بھی کارروائی سے حکام کو روک رکھا تھا۔ لیکن آخر کار مارچ میں انہوں نے تیل اتارنے کی اجازت دے دی۔

    ہائی کورٹ کے چھ ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی

    یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور ایک پرخطر آپریشن ہے۔ مبصرین کو برسوں سے خدشہ ہے کہ سیفر ٹوٹ سکتا ہے یا پھٹ سکتا ہے۔ جس سے تیل سمندر میں پھیل جائے گا اور دنیا کے سب سے بڑے سمندری ماحولیاتی نظام میں سے ایک کی تباہی کا باعث بنے گا۔

    گزشتہ آٹھ سال سے دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ایس او ایف سیفر کو زنگ لگ چکا ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ ماحولیات کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر سیفر سے تیل لیک ہونا شروع ہو گیا تو سمندر میں بڑے پیمانے پر آلودگی پھیل جائے گی جس سے نہ صرف آبی حیات کو نقصان پہنچے گا بلکہ وسیع سمندری علاقے میں جہاز رانی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    بھارتی مزدوروں کو برطانوی دور کا ملنے والا خزانہ افسران نے چوری کر لیا

    اگر آپریشن کے دوران تیل کا کوئی اخراج ہوتا ہے تو ڈچ میں مقیم کمپنی Boskalis/SMITis کا ایک تکنیکی معاون جہاز فوری اقدام کے لیے تیار ہوگا اقوام متحدہ نے اس لاوارث بحری جہاز سے تیل نکالنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور سیکرٹری جنرل گوتیرس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماہرین کی ایک ٹیم نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

    بحری جہاز سیفر سے تیل نکالنے کے لیے اقوام متحدہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ اس کام پر 2 کروڑ ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ ہے متروک ٹینکر سے تیل نکال کر اسے ایک اور جہاز میں منتقل کیا جائے گا جسے اقوام متحدہ نے اسی مقصد کے لیے خریدا ہے۔ عالمی ادارے کو توقع ہے کہ منتقلی کا عمل تین ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔

    آئل ٹینکر سیفر کی لمبائی 360 میٹر ہے۔ اس میں تیل ذخیرہ کرنے کے 34 ٹینکر ہیں اور اس دیو ہیکل بحری جہاز میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش 30 لاکھ بیرل ہے۔ جب کہ اس وقت جہاز میں 11 لاکھ بیرل تیل موجود ہے۔

    ایرانی وزیرخارجہ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے

    37 سال پرانے سپر ٹینکر کو لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا اور یہ آٹھ سال قبل یمن میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے سروس سے باہر ہے سیفر یمن کی حوثی تحریک کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ آئل ٹرمینل کے قریب لنگر انداز ہے، جس نے 2015 میں ملک کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا الحدیدہ پر حوثیوں کی جانب سے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یہاں موجود بین الاقوامی میرین انجینئرز یمن چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

  • ٹائی ٹینک سے 5 گنا زیادہ بڑا بحری جہاز "دی آئیکون”

    ٹائی ٹینک سے 5 گنا زیادہ بڑا بحری جہاز "دی آئیکون”

    فن لینڈ: دنیا کا سب سے بڑا مسافر بحری جہاز دی آئیکون جنوری 2024 میں اپنے پہلے سفر پر روانہ ہوگا۔

    باغی ٹی وی : رائل کیریبین نامی کمپنی کا یہ جہاز ٹائی ٹینک سے 5 گنا زیادہ بڑا ہے جس میں 20 عرشے، نیویارک کے مشہور سینٹرل پارک کی نقل اور متعدد سہولیات دستیاب ہوں گی رائل کیریبین انٹرنیشنل کا آئکن آف دی سیز ایک بہت بڑا 365 میٹر لمبا (تقریبا 1,200 فٹ) ہےاس جہاز کے خاکے کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر وائرل ہیں۔

    کمپنی کی جانب سے جہاز پر سفر کے لیے بکنگ کا آغاز اکتوبر 2022 میں کیا گیا تھا اور چند گھنٹوں میں لگ بھگ تمام ٹکٹیں فروخت ہو گئی تھیں یہ بحری جہاز پہلے سفر کے دوران امریکی شہر میامی سے کیریبین جزائر جائے گا اور اس میں 7600 افراد سفر کر سکیں گے۔

    جب یہ جنوری 2024 میں کیریبین کے پانیوں پر سفر کرے گا، تو اس میں تقریباً 5,610 مسافروں اور 2,350 عملے کو آرام سے رکھا جائے گا کشتی کا پیس ڈی ریزسٹنس سمندر میں دنیا کا سب سے بڑا واٹر پارک ہوگاکیٹیگری 6 کا نام دیا گیا ، اس میں چھ ریکارڈ توڑ پانی کی سلائیڈیں ہوں گی، لیکن جو مہمان زیادہ آرام سے تجربہ چاہتے ہیں وہ کشتی کے سات تالابوں اور نو بھنوروں میں بھی آرام کر سکتے ہیں۔

    یہ میئر ٹورکو شپ یارڈ میں تعمیر کیا جا رہا ہے، جو یورپ کے معروف جہاز سازوں میں سے ایک ہے،اس جہاز کو فن لینڈ تعمیر کیا گیا تھا اور مسافروں کے لیے اس میں تفریح کے متعدد مواقع موجود ہوں گ۔ اس سال کے شروع میں ایک سائٹ پر پریس پینل میں، رائل کیریبین انٹرنیشنل کے صدر اور چیف ایگزیکٹو مائیکل بیلی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ جہاز 26 اکتوبر کو رائل کیریبین بیڑے میں شامل ہونے کے لیے راستے پر تھا، اس کے 2024 کے آغاز سے پہلے۔

    دنیا کے سب سے بڑے کروز شپ کا موجودہ ٹائٹل ہولڈر رائل کیریبین بحری بیڑے میں ایک اور جہاز ہے، ونڈر آف دی سیز، جس نے ابھی پچھلے سال ہی اپنا افتتاحی سفر کیا تھا اور اس کی لمبائی 1,188 فٹ سے قدرے نوعمر ہے، جس میں صرف 18 ڈیکیں ہیں۔

    رائل کیریبین انٹرنیشنل جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اور کمپنی کی تاریخ کے 50 سالوں کے سیکھنے پر تعمیر کرتے ہوئے کروز لائن کی ارتقائی چوٹی کے طور پر آئکن آف دی سیز کو پیش کر رہی ہے،اس جہاز نے جون 2023 میں سمندری سفر کی آزمائش کامیابی سے مکمل کی تھی یہ 1198 فٹ بلند جہاز ہے جس کا وزن 2 لاکھ 50 ہزار 800 ٹن ہے، اسی وجہ سے اسے دنیا کا سب سے بڑا کروز شپ قرار دیا گیا ہے۔

    اس میں 40 ریسٹورنٹس موجود ہیں جبکہ کمپنی کے مطابق اس میں بہت بڑا سوئمنگ پول بھی ہے جبکہ پہلی بار کسی جہاز میں واٹر پارک مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس میں 6 واٹر سلائیڈز ہوں گی،جیسے ایج روپ کے ذریعے وہ سمندر سے 155 فٹ بلند پر لٹک کر ایڈونچر کا مزہ لے سکیں گے راک کلائمبنگ وال، سرف سمولیٹر اور منی گولف کورسز بھی دستیاب ہوں گے،دی آئیکون میں بچوں کے لیے جھولے موجود ہوں گے جبکہ دیگر متعدد تفریحی سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔


    اس جہاز میں مجموعی طور پر 2805 کمرے تیار کیے گئے ہیں جن کو 14 مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے 3 منزلہ ٹاؤن ہاؤس کا ایک ہفتے کا کرایہ اوسطاً 75 ہزار ڈالرز ہے،اس بحری جہاز میں ایک آبشار بھی تعمیر کی جا رہی ہے اور مسافر آئس شوز سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔

  • ایران اور روس کے درمیان کارگو ٹریفک میں غیرمعمولی تیزی

    ایران اور روس کے درمیان کارگو ٹریفک میں غیرمعمولی تیزی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ کیسپین کا راستہ ڈرون، گولہ بارود اور مارٹر گولوں اور دیگر جنگی ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو روسی حکومت نے ایرانی حکومت سے خریدے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بحیرہ کیسپین ایران اور روس کے درمیان براہ راست سمندری راستہ فراہم کرتا ہےکارگو ٹریفک میں غیرمعمولی تیزی دیکھی گئی ہے، جس میں تہران سے ماسکو تک ہتھیاروں کو مشتبہ طریقے سے منتقل کرنے والے جہاز بھی شامل ہیں۔

    جھوٹےدعووں کےذریعہ ہی یوکرین مغربی ملکوں سےہتھیاراورمالی امداد حاصل کرسکتا ہے،ایران

    "العربیہ” کے مطابق سمندری تجارت کے اعداد و شمار کو شائع کرنے میں مہارت رکھنےوالی کمپنی”لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس” کے عداد و شمار کےمطابق، اگست اور ستمبر 2022 کےدرمیان بحیرہ کیسپین میں اپنی نقل و حرکت کو چھپانے والے بحری جہازوں میں 50 فیصد سے زیادہ تیزی سے اضافے کا انکشاف ہوا ہے جو موجودہ سال کے دوران بھی جاری ہے۔

    ڈیٹا تجزیہ کار اور کمپنی کے نمائندے برجٹ ڈیاکون نے کہا کہ یہ رجحان زیادہ تر ان جہازوں میں نظرآیا جو روسی اور ایرانی پرچم رکھتے تھے اور خاص طور پر کارگو جہاز جو ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں روس کے جھنڈے والے اور ایران کے جھنڈے والے مال بردارجہازوں کے ٹریکنگ ڈیٹا میں سب سےزیادہ خلا ایران کی امیرآباد اورانزالی بندرگاہوں کےساتھ ساتھ روس کے دریائے وولگا اور استر اخان میں اس کی بندرگاہ کے قریب واقع ہوئے ہیں۔

    سعودی عرب اور کینیڈا کے سفارتی تعلقات بحال، نئے سفیروں کے تقرر پر اتفاق

    سی این این کے مطابق، یہ اضافہ امریکی اور یوکرین کی حکومتوں کے اس اعلان کے فوراً بعد ہوا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ماسکو نے گذشتہ موسم گرما میں تہران سے ڈرون حاصل کیے تھے۔

    سی این این نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ میرین ٹریکنگ اور تجزیاتی کمپنی سے لیے گئے ڈیٹا کے استعمال کے ذریعے آٹھ بحری جہازوں کی شناخت کرنے کے قابل ہوگیا تھا جن میں سے چھ روسی اور دو ایرانی تھے، ان تمام نے بحیرہ کیسپین میں مشکوک رویہ ظاہر کیا اور ممکنہ طور پر اسلحے کی تجارت سے منسلک ہیں۔

    فون چھیننے پر طالبہ نے ہاسٹل کو آگ لگا دی،19 طالبات ہلاک

    ان بحری جہازوں میں سے ایک روسی پرچم والا ٹینکر تھا جسے جنوری کے اوائل میں ایران کی امیر آباد بندرگاہ سے نکلتے ہوئے بحیرہ کیسپین کے پار روسی بندرگاہ استراخان کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا اس نے اشارہ کیا کہ وہ آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ یہ ٹینکر کیا لے کر جا رہا تھا، لیکن ماہرین نے تصدیق کی کہ یہ کھیپ ممکنہ طور پر اسلحے کی تجارت سے متعلق تھی۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے ایرانی ہم منصب ابراہیم رئیسی نے گزشتہ ہفتے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت "شمال اور جنوب کے درمیان نقل و حمل کی شریان” کے قیام کے پہلے مراحل کے طور پر ایک ایرانی ریلوے کی تعمیر کی جائے گی۔

    پیوٹن نے کہا کہ ریلوے جس کی ایک مرکزی شاخ بحیرہ کیسپین کے ساتھ چلے گی بحیرہ بالٹک پر روسی بندرگاہوں کو بحر ہند اور خلیج میں ایرانی بندرگاہوں سے جوڑنے میں مدد کرے گی، جس سے دونوں ممالک کے لیے عالمی تجارت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

    جاپان؛ فائرنگ اور چاقو کے حملوں میں دو پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک

  • ایرانی بحری جہاز سے 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال مالیت کی منشیات برآمد

    ایرانی بحری جہاز سے 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال مالیت کی منشیات برآمد

    یمن میں منشیات سے بھرا ایرانی بحری جہاز قبضے میں لے لیا گیا-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعرات کی شام مشرقی یمن میں سیکورٹی حکام نےکہا کہ المھرہ گورنری میں کوسٹ گارڈ فورسز نے مشرقی شہر ’’ الغیضہ‘‘ کے ساحل سے ایرانمنشیات سے لدے ایک ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کا اعلان کیا-

    سعودی عرب نے یمن کی جنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا

    حکام نے بتایا کہ ی پرچم والے ایک بحری جہاز سے 3 ٹن نشہ آور چرس اور 173 کلوگرام ہیروئن پکڑی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آف سکیورٹی اینڈ پولیس اورگورنریٹ میں کریمنل انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر کرنل احمد علی رعفیت نے بتایا کیا کہ المہرہ کوسٹ گارڈ فورسز نے منشیات کی اس کھیپ کی مالیت کا تخمینہ 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال میں لگایا ہے۔

    احمد علی رعفیت نے بتایا کہ قبضے میں لیے گئے جہاز پر ایرانی پرچم اور سات ایرانی ملاح سوار تھے ایرانی ملاحوں سے تفتیش کی جا رہی ہے تمام قانونی طریقہ کار مکمل کرکے ان ملاحوں کو عدلیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے-

    دوسری جانب ایران نے فوری طور پر بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے ایک معاہدے پر …

  • 165 سال پرانی جینز ڈھائی کروڑ روپے میں نیلام

    165 سال پرانی جینز ڈھائی کروڑ روپے میں نیلام

    نارتھ کیرولینا: دنیا میں سب سے پرانی جینز کو نایاب ترین قرار دیتے ہوئے اسے کل 114,000 ڈالر میں نیلام کیا گیا جو پاکستانی روپوں میں ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکا میں نیلام ہونے والی اس جینز کو امریکن کلیکشن نامی نیلام گھر کے ایک کان کن کے لیے بنائی گئی تھی، یہ جینز 1857 میں ملنے والے ایک بحری جہاز کے ملبے سے ملی تھی۔

    فیفا ورلڈ کپ:ماہرین نے ’کیمل فلو‘ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

    جینز کی فلائی میں پانچ بٹن لگے ہیں۔ بعض افراد نے کہا کہ یہ لیوائی جیز ہے لیکن مشہور لیوائی اسٹروس اینڈ کمپنی 1873 میں قائم ہوئی تھی اور یوں کمپنی قائم ہونے سے پہلے ہی جینز بنانا ممکن نہ تھا کیونکہ یہ 1857 میں ملنے والے ایک بحری جہاز کے ملبے سے ملی ہے۔

    ہولا برڈ سے وابستہ تاریخ کی ماہر، ٹریسی پینک نے بتایا کہ اس لباس کا لیوائی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ اسے بطورِ خاص کسی کان کن کے لیے بنایا گیا تھا۔

    انسانوں کی وجہ سے کرۂ ارض میں تبدیلیاں

    یہ جینز ’ایس ایس سینٹرل امریکا‘ نامی بحری جہاز سے ملی ہے جو 12 ستمبر 1857 میں ایک خوفناک سمندری طوفان کا شکار ہوگیا تھا۔ اس بحری جہاز میں کئی مسافر سان فرانسسکو سے براستہ پناما ، نیویارک جارہے تھے۔

    کچھ دیر بعد یہ سمندر میں ڈوب گیا اور ایک صدی کے بعد 2195 میٹر گہرائی سے اس کا ملبہ ملا جس میں سونے کے لاتعداد سکے بھی ملے تھے اس کے تمام زیورات اور سونے 1998 سے ہی نیلام ہوگئے اور اب بقیہ نوادرات بیچے جارہے ہیں۔

  • زیر تحقیق سمندری جہاز کے ملبے کی حقیقت 18 برس بعد سامنے آگئی

    زیر تحقیق سمندری جہاز کے ملبے کی حقیقت 18 برس بعد سامنے آگئی

    نیویارک: ایک بحری جہاز جس کا ماہرین 18 سال سے مطالعہ کر رہے تھے بالآخر اس کی شناخت ایک امریکی وہیلر کے طور پر ہوئی جو 1859 میں گم ہو گیا تھا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملبے کی سڑتی ہوئی لکڑیوں میں موجود درخت کے چھلوں کے نئے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ ڈولفن نامی جہاز کا ڈھانچہ ہے جو ارجنٹینا کے ساحل پر ڈوب گیا تھا ماہرین کے مطابق یہ امریکا کا وہیل کا شکار کرنے والا جہاز تھا (انہیں وہیلر کہا جاتا تھا) جو 1859ء میں کھو گیا تھا۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    سائنس دانوں نے چھلوں کا ڈیٹا بیس استعمال کرتے ہوئے بتایا کہ یہ درخت نیو انگلینڈ اور جنوب مشرقی امریکا میں 111 فٹ لمبے اس جہاز کی 1850ء میں تعمیر سےکچھ عرصہ قبل گرائے گئے تھے-

    لوہے کی دیگچیاں اور دیگر اشیاء جو وہیل کی چربی کو ابالنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں انہیں باقیات کے نزدیک دریافت ہوئیں یہ بھی اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ یہ جہاز وہیل کا شکارکرنےکےلیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف پروفیسر اِگناشیو مُنڈو کا کہنا تھا کہ وہ 100 فی صد یقین سے نہیں کہہ سکتے لیکن درخت کے چھلے یہ اشارہ کرتے ہیں کہ بہت ممکن ہے یہ ایک جہاز تھا۔

    ٹائی ٹینک کے زنگ آلودہ باقیات کے خراب ہونے کا سلسلہ جاری

    امریکا کے ایک ٹری رِنگ سائنس دان اور تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر مُکنڈ راؤ کا کہنا تھا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ لوگوں نے طویل عرصے قبل نیو انگلینڈ میں یہ جہاز بنایا اور یہ دنیا کے دوسری طرف سے دریافت ہوا۔

    1770ء کے وسط سے 1850ء کی دہائی تک سیکڑوں امریکی جہاز وہیل کے شکار کے لیے استعمال کیے جاتے تھے تاکہ اس کی چربی سے تیل نکالا جاسکے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

  • ٹائی ٹینک کے زنگ آلودہ باقیات کے خراب ہونے کا سلسلہ جاری

    ٹائی ٹینک کے زنگ آلودہ باقیات کے خراب ہونے کا سلسلہ جاری

    ایوریٹ: سمندر برد ہونے والے دیو قامت بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے کا سروے کرنے والی ٹیم کے مطابق جہاز کے زنگ آلودہ باقیات کے خراب ہونے کا سلسلہ جاری ہے ٹائٹینک اپنے پہلے سفر کے دوران برف کے تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا جس کے نتیجے میں 1500 افراد ہلاک ہوئے تھے-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق شمالی بحرِ اوقیانوس میں 100 سال سے زائد عرصہ قبل ڈوبنے والے برطانوی مسافر بحری جہاز کے متعلق تحقیقاتی ٹیمیں یہ بتا چکی ہیں کہ اس کی باقیات پر دھات کھانے والے بیکٹریا لگے ہونے کی وجہ سے جہاز کی حالت تیزی سے خراب ہوتی جا رہی ہے۔

    اوشیئن گیٹ ایکسپیڈیشن نامی کمپنی نے گزشتہ برس اپنی ٹائٹن سب مرزیبل کے ذریعے جہاز کے ملبے کی جگہ کا دورہ کیا اور جہاز کے مستول کے منہدم ہونے کے ساتھ 12 ہزار 500 کی گہرائی میں بڑھتے ملبے کی تصدیق کی۔

    ایران میں کرپشن کےمیگا اسکینڈل نے ملک ک ہلا کر رکھ دیا,اسٹیل کمپنی معطل

    سمندر کی تہہ میں موجود جہاز کے ملبے تک غوطوں کے دوسرے سالانہ سلسلے میں کمپنی کے بانی اور سربراہ اسٹاکٹن رش کا کہنا ہے کہ جہاز پچھلے سال کی نسبت زیادہ بری حالت میں ہے۔ جہاز سمندر میں اپنی قدرتی تباہی سے گزر رہا ہے۔

    ٹائٹین آبدوز کے اہم سالانہ مشنوں میں سے ایک، جو تقریباً 4,000 میٹر پانی کے اندر انتہائی زیادہ دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، ٹائٹینک جہاز کے ملبے کا سروے کرنا ہے۔


    آبدوز، جس میں پانچ افراد عملہ کر سکتے ہیں، نے ڈوبے ہوئے جہاز کے کھنڈرات کی ویڈیوز حاصل کی ہیں جن کا تجزیہ کار جہاز کے ارد گرد گہرے سمندر میں رہائش گاہ میں مختلف انواع اور ان کی کثافت کو تلاش کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔

    تحقیقی ٹیم، جو سمندری حیاتیات کے ماہرین، ماحولیاتی ڈی این اے کے ماہرین، سمندری آثار قدیمہ کے ماہرین اور GIS نقشہ سازی کے ماہرین پر مشتمل ہے، متعدد سوالات کے جوابات دینے کی امید کر رہی ہے، بشمول مصنوعی ڈھانچے کا سمندر کے باشندوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔

    ہنگری : محکمہ موسمیات کا سربراہ غلط پیش گوئی پرملازمت سے برطرف

    OceanGate Expeditions کے چیف سائنٹسٹ، Steve W Ross نے ایک بیان میں کہا آج، ہمارے پاس زمین کے سمندروں کے مقابلے چاند کی سطح کے بہتر نقشے ہیں اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے-
    https://twitter.com/OceanGateExped/status/1543004443888783360?s=20&t=d0IOtw_UqDfsVmDN3sr5cA
    "ہم جانتے ہیں کہ جہازوں کے ٹوٹنے سے کئی دہائیوں یا صدیوں تک سمندر کی تہہ متاثر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر راس نے کہا کہ ٹائٹینک گہرے سمندر میں ایک منفرد کیس اسٹڈی فراہم کرتا ہے کہ کس طرح مصنوعی ڈھانچے قدرتی عناصر اور باشندوں سے متاثر ہوتے ہیں، اس کے علاوہ یہ ڈھانچے سمندری ماحولیاتی نظام کی حمایت یا اثر انداز ہوتے ہیں۔

    محققین نے کہا کہ جہاز کے ٹوٹنے سے سمندری علاقے میں ایک "حیاتیاتی تنوع کا جزیرہ” پیدا ہوا ہے جو بصورت دیگر ایک کیچڑ والا ابلیسی میدان ہے۔

    ڈاکٹر راس نے جون میں کہا تھا کہ مطالعہ کے ان متنوع شعبوں کو ملانا جو ہماری سائنسی ٹیم ٹائٹینک مہم میں لاتی ہے، ہمیں اپنے گہرے سمندروں کے مطالعہ میں حصہ ڈالنے میں مدد کرے گی کیونکہ ہم یہ ڈیٹا وسیع تر سائنسی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں-

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

  • برطانیہ میں 750 سال پرانے جہاز کا ملبہ دریافت

    برطانیہ میں 750 سال پرانے جہاز کا ملبہ دریافت

    ڈوسیٹ: برطانیہ کے ڈوسیٹ کے ساحل میں قرونِ وسطی کے ایک بحری جہاز کا ملبہ دریافت ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق ’مارٹر ریک‘ نامی جہاز کی باقیات 2020 میں خلیجِ پُول میں پہلی بار دریافت ہوا اس کا نام مارٹر ریک اس میں ملنے والے پیالوں کی وجہ سے رکھا گیا جس میں آٹے کے لیے اناج کو پِیسا جاتا تھا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جہاز میں لگی لکڑیوں کے چھلوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کم از کم 750 سال پُرانی ہیں۔ برطانیہ کے سمندروں سے 11ویں سے 14ویں صدی کے درمیانی عرصے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی جہاز کا کوئی ملبہ اب تک نہیں ملا –

    یہ جہاز اپنےجہاز کے ڈیزائن سے کِلنکر جہاز معلوم ہوتا ہے جس کو لکڑی کے پھٹوں کی تہہ پر تہہ لگا کر بنایا جاتا ہے۔جہاز میں استعمال کی جانے والی لکڑی آئرش اوک سے لی گئیں جن کو 1242 سے 1265 کے درمیان کاٹا گیا یہ بادشاہ ہینری سوم کا دور تھا۔

    رپورٹ کے مطابق شعبہ برائے ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اور اسپورٹ کی جانب سے مارٹر ریک کو اعلیٰ سطحی قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے مارٹر ریک کی پہلی بار نشاندہی ٹریور اسمال نامی غوطہ خور نے کی جو گزشتہ 30 برس سے پُول میں ڈائیونگ چارٹر چلا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ ایک ملاح خاندان میں پیدا ہوئے انہوں نے جہازوں کے ملبے کی تلاش میں بطور کپتان سمندروں میں ہزاروں میل کا سفر کیا۔2020 کے موسمِ گرما میں انہوں نے ایک غیردریافت شدہ حادثے کی جگہ دریافت کی۔ انہیں اس جگہ پر غوطے کی اجازت دی گئی اور پھر جو ہوا وہ تاریخ ہے وہاں انگلینڈ کا قدیم ترین جہاز کا ملبہ دریافت کیا گیا۔

  • ایران نے تیل کی غیرقانونی ترسیل کےالزام میں غیرملکی جہاز پر قبضہ کرلیا

    ایران نے تیل کی غیرقانونی ترسیل کےالزام میں غیرملکی جہاز پر قبضہ کرلیا

    ایران نے خام تیل کی غیرقانونی ترسیل کے الزام میں ایک غیرملکی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے ملک سے ایندھن اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک غیرملکی جہاز کو قبضے میں لے کرتحقیقات شروع کردی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایرانی حکام نے عملے کو بھی گرفتارلیا ہے

    ایران، جہاں بھاری سبسڈیز اور اپنی قومی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے ایندھن سب سے کم قیمت پر دستیاب ہے، پڑوسی ممالک اور سمندری راستے سے خلیجی عرب ریاستوں کو ایندھن کی اسمگلنگ کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔

    خبر رساں ایجنسی نے مزید بتایا ہے کہ جہاز جس میں 550,000 لیٹر سے زیادہ اسمگل شدہ ایندھن تھا، خلیجی پانیوں میں قبضے میں لیا گیا ہے۔ اس جہاز کو جنوبی صوبے ہرمزگان کی بندرگاہ پر لے جایا گیا جہاں اسے تحقیقات کے لیے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    صوبائی سرحدی محافظوں کے سربراہ حسین دہکی کا کہنا ہے کہ وہ اسمگل شدہ ایندھن لے جانے والے جہاز کی شناخت کرنے اور اسے حراست میں لینے میں کامیاب ہو گئے جس کا مقصد مارو جزیرے کے مشرق میں بڑے پیمانے پر سمگل شدہ ایندھن کی کھیپوں کو لے جانا تھا۔ایرانی حکام نے حالیہ مہینوں میں کئی بحری جہازوں کو خلیج میں ایندھن کی اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔