Baaghi TV

Tag: بحری جہاز

  • امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی، امریکی فوج نے ایک تجارتی بحری جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب مذکورہ جہاز نے ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری محاصرے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، گمبیا کے پرچم تلے چلنے والا تجارتی جہاز ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا جہاز کو متعدد بار متنبہ کیا گیا، تاہم اس نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد اسے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیاحملے کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا اور ایران کی جانب اپنا سفر جاری نہ رکھ سکا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اب تک پانچ تجارتی جہازوں کو غیر فعال کیا جا چکا ہے، جبکہ 116 دیگر جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ ایرانی بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکیں امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی خطے میں بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور پابندیوں یا محاصرے کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

  • چین نے تائیوان کے علاقائی پانیوں میں 100 سے زیادہ بحری جہاز تعینات کئے ہیں،تائپی

    چین نے تائیوان کے علاقائی پانیوں میں 100 سے زیادہ بحری جہاز تعینات کئے ہیں،تائپی

    تائیوان کے سیکورٹی چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے تائیوان کے علاقائی پانیوں میں 100 سے زیادہ بحری جہازوں اور کوسٹ گارڈ تعینات کردیے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی سلامتی کونسل کے سربراہ جوزف وو نے ایکس پر کہا کہ یہ تعیناتی حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے بعد ہوئی ہے دنیا کے اسٹیٹس کو تباہ کرنے اور علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے والا چین واحد اور واحد مسئلہ ہے۔

    تائیوان کے ایک سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ بیجنگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل چینی جہازوں کا پتہ چلا تھا لیکن حالیہ دنوں میں یہ تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    واضح رہے کہ چین کا دعویٰ ہے کہ تائیوان اس کی سرزمین کا حصہ ہے دوسری جانب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں تائیوان کے صدر لائی چنگ ٹے سے بات کریں گے جس پر ٹرمپ نے کہا کہ میں ان سے بات کروں گا میں ہر ایک سے بات کرتا ہوں،ان کی سرکاری دورے کے دوران الیون سے بہت اچھی ملاقات ہوئی۔

  • فرانسیسی  طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی شپنگ کمپنی کے ایک جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمانی ساحل کا رخ کر لیا، جب کہ اسی کمپنی کے ایک اور جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق فرانسیسی شپنگ کمپنی کے کنٹینر بردار جہاز سیگون نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمان کے ساحل کے ساتھ سفر شروع کر دیا ہے، یہ جہاز اس سے قبل خلیجی پانیوں میں موجود تھا اور منگل کے روز آبنائے ہرمز کے اندر دیکھا گیا تھا۔

    اعداد و شمار فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق بدھ کے روز یہ جہاز آبنائے ہرمز سے نکل کر محفوظ راستے پر گامزن ہو گیا، جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے تاہم اسی فرانسیسی کمپنی کے ایک اور جہاز سان انتونیو پر منگل کے روز اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اس حملے میں جہاز کے عملے کے بعض افراد زخمی ہوئے ہیں، کمپنی کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا،دوسری جانب فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈیگال کو ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کے لیے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب روانہ کر دیا،چارلس ڈیگال طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً 20 رافیل جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس کے ساتھ کئی جنگی فریگیٹس بھی موجود ہیں۔

    فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق فرانسیسی بحریہ کا فلیگ شپ جہاز اپنے ہمراہ جنگی جہازوں کے ساتھ نہر سویز عبور کرتے ہوئے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب بڑھ رہا ہے، اس پیشگی تعیناتی کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں، اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے درکار وقت کم سے کم ہو۔

    فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس اور اس کے شراکت دار نہ صرف آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے تیار ہیں بل کہ اس کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں فرانس چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ رکھا جائے۔

  • یمنی حوثیوں کی ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    یمنی حوثیوں کی ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    حوثی حکومت کے وزیر دفاع میجر جنرل محمد العاطفی کے مطابق یمنی عوام کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    حوثی حکومت کے وزیر دفاع نے کہا کہ حالیہ تنازع میں امریکی اور صہیونی دشمن کے خلاف کارروائیوں نے مختلف محاذوں کے اتحاد کو ظاہر کیا ہے اور مزا حمتی قوتوں کی عسکری حکمت عملی کو مؤثر ثابت کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی محور کی کارروائیاں دشمن کے خلاف کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔

    حوثی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک حملے جاری رکھیں گے جب تک جنگ مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتی۔ ان کے مطابق وہ اپنے اسلحہ ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہیں گے حوثیوں نے ریڈ سی میں بحری آمد و رفت کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے مارچ کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کی، جس کے بعد انہوں نے اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا،ایران

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا،ایران

    ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول فیس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئے نظا م کے تحت فیس ادا کرنا ہوگی،حکومت قومی مفادات کے تحت اس اہم سمندری راستے پر مکمل کنٹرول اور مؤثر مینجمنٹ قائم کرے گی، جبکہ انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

    دوسری جانب ایران کے نائب وزیر تیل محمد صادق نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں متاثر ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت کی بحالی پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال ہو جائے گی،لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ آئندہ 10 دنوں میں دوبارہ کام شروع کر سکتا ہے، جس سے تیل کی پیداوار میں بتدریج بہتری آنے کی امید ہے۔

  • امریکا کو  بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام لگایا ہے کہ امریکا نے ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز IRIS Dena کو ڈبو کر سمندر میں سنگین ظلم کیا ہے اور اس کے نتائج امریکہ کو بھگتنا پڑیں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ امریکی کارروائی ایران کے ساحل سے تقریباً دو ہزار میل دور بین الاقوامی پانیوں میں کی گئی،ایرانی فریگیٹ ڈینا اس وقت انڈین بحریہ کی مہمان تھی اور اس پر تقریباً 130 ملاح سوار تھے، تاہم امریکی حملہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیا گیا، امریکا نے سمندر میں ایک خطرناک مثال قائم کی ہے اور ان کے بقول امریکا کو اس اقدام پر سخت پچھتاوا ہوگا۔

    سعودی عرب کا 4 ڈرون اور 3 کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ

    بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کیلئے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

    مشرق وسطیٰ میں پھنسے ہوئے برطانوی شہریوں کی پہلی سرکاری چارٹر فلائٹ ٹیک آف کرنے میں ناکام

  • مشرق وسطیٰ میں امریکی بی 52 طیارے،بحری جہازتعینات

    مشرق وسطیٰ میں امریکی بی 52 طیارے،بحری جہازتعینات

    امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بی 52 طیارے اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق، یہ تعیناتی مشرق وسطیٰ میں ملٹری ری ایڈجسٹمنٹ کا حصہ ہے۔مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود طیارہ بردار جہاز اور تین جنگی جہاز رواں ماہ کے وسط تک واپس امریکا چلے جائیں گے۔پینٹاگون کے مطابق، اسرائیل کی دفاع اور حوثیوں کے حملوں سے اتحادیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

    یہ اقدام اسرائیل کے دفاع اور ایران کو انتباہ کے طور پر کیا جائے گا۔ امریکی وزارت دفاع نے پینٹاگان سے جاری ایک بیان میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع واضح طور پر مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ایران یا اس کے شراکت داروں یا اس کے زیر انتظام گروپوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں امریکی افراد یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکا اپنے عوام کے دفاع کے لیے تمام مطلوبہ اقدامات کرے گا۔مذکورہ نئے ہتھیاروں میں بیلسٹک میزائل کے خلاف دفاعی وسائل، لڑاکا طیارے، B-52 بم بار طیارے اور دیگر نوعیت کے فوجی طیارے شامل ہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں امریکی طیاروں اور بحری جہازوں کی اس تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن اس کے اثرات خطے کی موجودہ صورت حال پر مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ جنگی طاقت کا مظاہرہ ایک طرف تو حفاظتی اقدام ہو سکتا ہے، مگر دوسری جانب یہ علاقائی تنازعات کو بھی بھڑکا سکتا ہے۔

  • عمان،بحری جہاز ڈوب گیا،عملے میں 13 بھارتی افراد شامل

    عمان،بحری جہاز ڈوب گیا،عملے میں 13 بھارتی افراد شامل

    عمان میں یمن کی طرف جانے والا بحری جہاز ڈوب گیا، عملے کے 16 افراد میں سے 13 بھارتی تھے

    عمان کی میری ٹایم سیکورٹی سنٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمن کی طرف جانے والاایک بحری جہاز عمان کے قریب سمندر میں ڈوب گیا ہے، جہاز پر عملے کے 16 ارکان سوا تھے جن میں سے 13 بھارتی اور 3 سری لنکن شہری تھے،جہاز پر تیل لدا ہوا تھا،جس کا نام پریسٹیج فالکن بتایا گیا ہے، جہاز ڈوبنے کے بعد سوار عملے کی تلاش جاری ہے تاحال عملے کے بارے کچھ پتہ نہ چل سکا

    عمان کے میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر کے مطابق ڈوبنے والے بحری جہاز پر مشرقی افریقی ملک کوموروس کا جھنڈا بنا ہوا تھا،جہاز عمان کی مرکزی صنعتی دوقم بندرگاہ کے قریب ڈوب گیا تھا جس کے بعد مقامی حکام نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا تاہم تازہ ترین معلومات کے مطابق ٹینکر میں سوار افراد کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا.

  • غزہ کے مسلمانوں کے قتل عام میں بھارت بھی برابر کا شریک،شواہد سامنے آ گئے

    غزہ کے مسلمانوں کے قتل عام میں بھارت بھی برابر کا شریک،شواہد سامنے آ گئے

    بھارت بھی فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام میں اسرائیل کے ساتھ برابر کا شریک ہے،بھارت سے اسرائیل جانے والے بحری جہاز جس پر 27 ٹن مہلک ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد تھا کو اسپین نے اپنی بندرگارہ پر لنگر انداز ہونے سے انکار کیا، وہ جہاز اب چنئی سے بحیرہ احمر کے چھوٹے راستے کے بجائے لمبا راستہ اٰختیار کرکے اسرائیل کے اشدود ساحل کے راستے پر ہے

    اس ضمن میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اوپن سیکرٹ نامی صارف نے بھارت سے اسرائیل جانے والے جہاز کی تمام لوکیشنز شیئر کی ہیں، اوپن سیکرٹ کے مطابق کارگو جہاز ڈنمارک سے جسٹرڈ ہے جس کا نام ماریانی ڈینیکا ہے 6 دن قبل تک بھارت سے اسرائیل جانے والے جہاز کا مقام اسرائیلی بندرگاہ اشدود تھا جو غزہ کی پٹی کے بالکل ساتھ ہے .راستے میں جہاز نے پورٹ گرانڈے، کیپ وردے پر لنگر انداز کیا جبکہ اس کو اسپین میں لنگر انداز ہونا تھا تاہم اسپین نے بارودی مواد سے لدے بحری جہاز کو لنگر انداز سے ہونے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ” کہ وہ معصوم شہریوں کے قتل عام میں شریک نہیں ہوسکتا”۔جس کے بعد بھارت سے اسرائیل جانے والا جہاز اسپین میں لنگر انداز ہونے کی بجائے آگے بڑھ گیا

    https://twitter.com/OpenSecrets7Ave/status/1796964856303677502

    اسرائیلی بندر گاہ حیفہ جانے والے جہاز کو اشدود کی طرف موڑ دیا گیا تھا جو رفح،غزہ کے بہت قریب ہے اور جہاں مہاجرین کیمپوں پر بمباری ابھی شروع ہوئی ہے۔ بھارت نے اسرائیل سے 3 ارب ڈالر کا اسلحہ درآمد کیا اور چین اور پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ اب بھارت اسرائیل کو فلسطین کے خلاف اسلحہ مہیا کر رہا ہے،

    ہسپانوی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ جس جہاز میں بھارتی دھماکہ خیز مواد اسرائیل لے جایا جا رہا تھا اس پر ڈنمارک کا جھنڈا لگا ہوا ہے، جہاز بھارت کے چنئی سے اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ جا رہا ہے،ہسپانوی وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس کا کہنا ہے کہ اسپین نے ہتھیار لے کر اسرائیل جانے والے جہاز کو ہسپانوی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ جہاز مبینہ طور پر بھارت سے آیا اور 27 ٹن دھماکہ خیز مواد سے لدا ہوا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر کے راستے اسرائیل میں داخل ہونے سے گریز کیا ہو جہاں یمن کے حوثیوں کا قبضہ ہے۔یہ پہلی بار ہے جب ہم نے ایسا کیا ، ہم نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی کھیپ لے جانے والے جہاز کا پتہ لگایا ہے جو ہسپانوی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونا چاہتا تھا،

    بھارت اسرائیل ہتھیاروں کا گٹھ جوڑ

    ایل پیس اخبار کے مطابق ڈنمارک کے جھنڈے والا جہاز 27 ٹن دھماکہ خیز مواد ہندوستان کے مدراس ،چنئی سے اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ جا رہا ہے،بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے، جن میں سے کچھ مشرقی اور وسطی بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں استعمال ہوتے ہیں۔پچھلے 10 سالوں میں، بھارت نے مبینہ طور پر اسرائیل سے 2.9 بلین ڈالر کا فوجی سازوسامان درآمد کیا ہے۔ جس میں جنگی ڈرون، میزائل، ریڈار اور دیگر نگرانی کے نظام شامل ہیں۔ بھارت اور اسرائیل نے 1992 میں سفارتی تعلقات کو معمول پر لایا لیکن نئی دہلی کو تل ابیب کی فوجی برآمدات 1960 کی دہائی سے ہیں۔

    اسرائیل نے چین اور پاکستان کے خلاف جنگوں میں بھارت کی مدد کی ہے،۔ ایلبٹ سسٹمز، جو اسرائیل کی سب سے بڑی فوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے 2018 میں ہندوستانی گروپ اڈانی گروپ کے ساتھ مل کر جنوبی ہندوستان میں ا 900 ڈرون بنانے کے لیے کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جو اسرائیل کو اپنے استعمال کے لیے واپس برآمد کیے جاتے ہیں۔ان میں سے کچھ قاتل ڈرون مبینہ طور پر بھارت نے غزہ پر جاری حملے میں اسرائیل کو بھیجے ہیں۔

    ایک سال میں 16 خواتین قتل،کاروکاری کے پانچ،گمشدگی کے سات کیس رپورٹ

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    بھارتی ساحل کے نزدیک اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: بھارت سے متصل سمندر میں اسرائیلی بحری جہاز کے ساتھ ڈرون ٹکرا نے سے جہاز کو آگ لگ گئی کیمیکلز سے لدے اس جہاز کو زیادہ نقصان سے بچا لیا گیا ہےبرطانوی میری ٹائم سیکیورٹی فرم ایمبری کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا ہے، کیمیکلز لے جانے والے جہاز پر لائبیریا کا پرچم لہرا رہا ہے، یہ حملہ بحیرہ عرب میں بھارت کی مغربی ریاست گجرات کی بندر گاہ ویر اول کے جنوب مغرب میں 200 کلو میٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔

    برٹش میری ٹائم سیکیورٹی فرم ایمبرے نے ہفتے کو بتایا کہ ڈرون حملے سے لگنے والی آگ فوری طور پر بجھادی گئی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس کے بعد عرشے پر کچھ پانی بھی دیکھا گیا،آگ بجھانے کے لیے پانی فوری طور پر جہاز تک پہنچایا گیا یہ جہاز اسرائیل سے وابستہ ہے حملے سے قبل اس جہاز کی آخری کال سعودی عرب کے لیے تھی حملے کے وقت اس کی منزل بھارت ہی تھا۔

    ڈی جی خان :ڈی پی او نے ملازمین کی ویلفئیر کی مد میں چیک …

    بھارتی کوسٹ گارڈ شپ آئی سی جی ایس وکرم بحیرہ عرب میں پوربندر کی بندر گاہ سے 217 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک مال بردار جہاز ایم وی کیم پلوٹو کی طرف بڑھ رہا تھا، اسی نے اطلاع دی کہ ایک جہاز میں ممکنہ طور پر ڈرون حملے سے آگ لگی ہے۔

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں معمولی کمی