Baaghi TV

Tag: بحری جہاز

  • ایران اور روس کے درمیان کارگو ٹریفک میں غیرمعمولی تیزی

    ایران اور روس کے درمیان کارگو ٹریفک میں غیرمعمولی تیزی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ کیسپین کا راستہ ڈرون، گولہ بارود اور مارٹر گولوں اور دیگر جنگی ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو روسی حکومت نے ایرانی حکومت سے خریدے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بحیرہ کیسپین ایران اور روس کے درمیان براہ راست سمندری راستہ فراہم کرتا ہےکارگو ٹریفک میں غیرمعمولی تیزی دیکھی گئی ہے، جس میں تہران سے ماسکو تک ہتھیاروں کو مشتبہ طریقے سے منتقل کرنے والے جہاز بھی شامل ہیں۔

    جھوٹےدعووں کےذریعہ ہی یوکرین مغربی ملکوں سےہتھیاراورمالی امداد حاصل کرسکتا ہے،ایران

    "العربیہ” کے مطابق سمندری تجارت کے اعداد و شمار کو شائع کرنے میں مہارت رکھنےوالی کمپنی”لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس” کے عداد و شمار کےمطابق، اگست اور ستمبر 2022 کےدرمیان بحیرہ کیسپین میں اپنی نقل و حرکت کو چھپانے والے بحری جہازوں میں 50 فیصد سے زیادہ تیزی سے اضافے کا انکشاف ہوا ہے جو موجودہ سال کے دوران بھی جاری ہے۔

    ڈیٹا تجزیہ کار اور کمپنی کے نمائندے برجٹ ڈیاکون نے کہا کہ یہ رجحان زیادہ تر ان جہازوں میں نظرآیا جو روسی اور ایرانی پرچم رکھتے تھے اور خاص طور پر کارگو جہاز جو ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں روس کے جھنڈے والے اور ایران کے جھنڈے والے مال بردارجہازوں کے ٹریکنگ ڈیٹا میں سب سےزیادہ خلا ایران کی امیرآباد اورانزالی بندرگاہوں کےساتھ ساتھ روس کے دریائے وولگا اور استر اخان میں اس کی بندرگاہ کے قریب واقع ہوئے ہیں۔

    سعودی عرب اور کینیڈا کے سفارتی تعلقات بحال، نئے سفیروں کے تقرر پر اتفاق

    سی این این کے مطابق، یہ اضافہ امریکی اور یوکرین کی حکومتوں کے اس اعلان کے فوراً بعد ہوا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ماسکو نے گذشتہ موسم گرما میں تہران سے ڈرون حاصل کیے تھے۔

    سی این این نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ میرین ٹریکنگ اور تجزیاتی کمپنی سے لیے گئے ڈیٹا کے استعمال کے ذریعے آٹھ بحری جہازوں کی شناخت کرنے کے قابل ہوگیا تھا جن میں سے چھ روسی اور دو ایرانی تھے، ان تمام نے بحیرہ کیسپین میں مشکوک رویہ ظاہر کیا اور ممکنہ طور پر اسلحے کی تجارت سے منسلک ہیں۔

    فون چھیننے پر طالبہ نے ہاسٹل کو آگ لگا دی،19 طالبات ہلاک

    ان بحری جہازوں میں سے ایک روسی پرچم والا ٹینکر تھا جسے جنوری کے اوائل میں ایران کی امیر آباد بندرگاہ سے نکلتے ہوئے بحیرہ کیسپین کے پار روسی بندرگاہ استراخان کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا اس نے اشارہ کیا کہ وہ آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ یہ ٹینکر کیا لے کر جا رہا تھا، لیکن ماہرین نے تصدیق کی کہ یہ کھیپ ممکنہ طور پر اسلحے کی تجارت سے متعلق تھی۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے ایرانی ہم منصب ابراہیم رئیسی نے گزشتہ ہفتے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت "شمال اور جنوب کے درمیان نقل و حمل کی شریان” کے قیام کے پہلے مراحل کے طور پر ایک ایرانی ریلوے کی تعمیر کی جائے گی۔

    پیوٹن نے کہا کہ ریلوے جس کی ایک مرکزی شاخ بحیرہ کیسپین کے ساتھ چلے گی بحیرہ بالٹک پر روسی بندرگاہوں کو بحر ہند اور خلیج میں ایرانی بندرگاہوں سے جوڑنے میں مدد کرے گی، جس سے دونوں ممالک کے لیے عالمی تجارت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

    جاپان؛ فائرنگ اور چاقو کے حملوں میں دو پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک

  • ایرانی بحری جہاز سے 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال مالیت کی منشیات برآمد

    ایرانی بحری جہاز سے 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال مالیت کی منشیات برآمد

    یمن میں منشیات سے بھرا ایرانی بحری جہاز قبضے میں لے لیا گیا-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعرات کی شام مشرقی یمن میں سیکورٹی حکام نےکہا کہ المھرہ گورنری میں کوسٹ گارڈ فورسز نے مشرقی شہر ’’ الغیضہ‘‘ کے ساحل سے ایرانمنشیات سے لدے ایک ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کا اعلان کیا-

    سعودی عرب نے یمن کی جنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا

    حکام نے بتایا کہ ی پرچم والے ایک بحری جہاز سے 3 ٹن نشہ آور چرس اور 173 کلوگرام ہیروئن پکڑی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آف سکیورٹی اینڈ پولیس اورگورنریٹ میں کریمنل انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر کرنل احمد علی رعفیت نے بتایا کیا کہ المہرہ کوسٹ گارڈ فورسز نے منشیات کی اس کھیپ کی مالیت کا تخمینہ 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال میں لگایا ہے۔

    احمد علی رعفیت نے بتایا کہ قبضے میں لیے گئے جہاز پر ایرانی پرچم اور سات ایرانی ملاح سوار تھے ایرانی ملاحوں سے تفتیش کی جا رہی ہے تمام قانونی طریقہ کار مکمل کرکے ان ملاحوں کو عدلیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے-

    دوسری جانب ایران نے فوری طور پر بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے ایک معاہدے پر …

  • 165 سال پرانی جینز ڈھائی کروڑ روپے میں نیلام

    165 سال پرانی جینز ڈھائی کروڑ روپے میں نیلام

    نارتھ کیرولینا: دنیا میں سب سے پرانی جینز کو نایاب ترین قرار دیتے ہوئے اسے کل 114,000 ڈالر میں نیلام کیا گیا جو پاکستانی روپوں میں ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکا میں نیلام ہونے والی اس جینز کو امریکن کلیکشن نامی نیلام گھر کے ایک کان کن کے لیے بنائی گئی تھی، یہ جینز 1857 میں ملنے والے ایک بحری جہاز کے ملبے سے ملی تھی۔

    فیفا ورلڈ کپ:ماہرین نے ’کیمل فلو‘ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

    جینز کی فلائی میں پانچ بٹن لگے ہیں۔ بعض افراد نے کہا کہ یہ لیوائی جیز ہے لیکن مشہور لیوائی اسٹروس اینڈ کمپنی 1873 میں قائم ہوئی تھی اور یوں کمپنی قائم ہونے سے پہلے ہی جینز بنانا ممکن نہ تھا کیونکہ یہ 1857 میں ملنے والے ایک بحری جہاز کے ملبے سے ملی ہے۔

    ہولا برڈ سے وابستہ تاریخ کی ماہر، ٹریسی پینک نے بتایا کہ اس لباس کا لیوائی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ اسے بطورِ خاص کسی کان کن کے لیے بنایا گیا تھا۔

    انسانوں کی وجہ سے کرۂ ارض میں تبدیلیاں

    یہ جینز ’ایس ایس سینٹرل امریکا‘ نامی بحری جہاز سے ملی ہے جو 12 ستمبر 1857 میں ایک خوفناک سمندری طوفان کا شکار ہوگیا تھا۔ اس بحری جہاز میں کئی مسافر سان فرانسسکو سے براستہ پناما ، نیویارک جارہے تھے۔

    کچھ دیر بعد یہ سمندر میں ڈوب گیا اور ایک صدی کے بعد 2195 میٹر گہرائی سے اس کا ملبہ ملا جس میں سونے کے لاتعداد سکے بھی ملے تھے اس کے تمام زیورات اور سونے 1998 سے ہی نیلام ہوگئے اور اب بقیہ نوادرات بیچے جارہے ہیں۔

  • زیر تحقیق سمندری جہاز کے ملبے کی حقیقت 18 برس بعد سامنے آگئی

    زیر تحقیق سمندری جہاز کے ملبے کی حقیقت 18 برس بعد سامنے آگئی

    نیویارک: ایک بحری جہاز جس کا ماہرین 18 سال سے مطالعہ کر رہے تھے بالآخر اس کی شناخت ایک امریکی وہیلر کے طور پر ہوئی جو 1859 میں گم ہو گیا تھا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملبے کی سڑتی ہوئی لکڑیوں میں موجود درخت کے چھلوں کے نئے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ ڈولفن نامی جہاز کا ڈھانچہ ہے جو ارجنٹینا کے ساحل پر ڈوب گیا تھا ماہرین کے مطابق یہ امریکا کا وہیل کا شکار کرنے والا جہاز تھا (انہیں وہیلر کہا جاتا تھا) جو 1859ء میں کھو گیا تھا۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    سائنس دانوں نے چھلوں کا ڈیٹا بیس استعمال کرتے ہوئے بتایا کہ یہ درخت نیو انگلینڈ اور جنوب مشرقی امریکا میں 111 فٹ لمبے اس جہاز کی 1850ء میں تعمیر سےکچھ عرصہ قبل گرائے گئے تھے-

    لوہے کی دیگچیاں اور دیگر اشیاء جو وہیل کی چربی کو ابالنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں انہیں باقیات کے نزدیک دریافت ہوئیں یہ بھی اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ یہ جہاز وہیل کا شکارکرنےکےلیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف پروفیسر اِگناشیو مُنڈو کا کہنا تھا کہ وہ 100 فی صد یقین سے نہیں کہہ سکتے لیکن درخت کے چھلے یہ اشارہ کرتے ہیں کہ بہت ممکن ہے یہ ایک جہاز تھا۔

    ٹائی ٹینک کے زنگ آلودہ باقیات کے خراب ہونے کا سلسلہ جاری

    امریکا کے ایک ٹری رِنگ سائنس دان اور تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر مُکنڈ راؤ کا کہنا تھا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ لوگوں نے طویل عرصے قبل نیو انگلینڈ میں یہ جہاز بنایا اور یہ دنیا کے دوسری طرف سے دریافت ہوا۔

    1770ء کے وسط سے 1850ء کی دہائی تک سیکڑوں امریکی جہاز وہیل کے شکار کے لیے استعمال کیے جاتے تھے تاکہ اس کی چربی سے تیل نکالا جاسکے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

  • ٹائی ٹینک کے زنگ آلودہ باقیات کے خراب ہونے کا سلسلہ جاری

    ٹائی ٹینک کے زنگ آلودہ باقیات کے خراب ہونے کا سلسلہ جاری

    ایوریٹ: سمندر برد ہونے والے دیو قامت بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے کا سروے کرنے والی ٹیم کے مطابق جہاز کے زنگ آلودہ باقیات کے خراب ہونے کا سلسلہ جاری ہے ٹائٹینک اپنے پہلے سفر کے دوران برف کے تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا جس کے نتیجے میں 1500 افراد ہلاک ہوئے تھے-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق شمالی بحرِ اوقیانوس میں 100 سال سے زائد عرصہ قبل ڈوبنے والے برطانوی مسافر بحری جہاز کے متعلق تحقیقاتی ٹیمیں یہ بتا چکی ہیں کہ اس کی باقیات پر دھات کھانے والے بیکٹریا لگے ہونے کی وجہ سے جہاز کی حالت تیزی سے خراب ہوتی جا رہی ہے۔

    اوشیئن گیٹ ایکسپیڈیشن نامی کمپنی نے گزشتہ برس اپنی ٹائٹن سب مرزیبل کے ذریعے جہاز کے ملبے کی جگہ کا دورہ کیا اور جہاز کے مستول کے منہدم ہونے کے ساتھ 12 ہزار 500 کی گہرائی میں بڑھتے ملبے کی تصدیق کی۔

    ایران میں کرپشن کےمیگا اسکینڈل نے ملک ک ہلا کر رکھ دیا,اسٹیل کمپنی معطل

    سمندر کی تہہ میں موجود جہاز کے ملبے تک غوطوں کے دوسرے سالانہ سلسلے میں کمپنی کے بانی اور سربراہ اسٹاکٹن رش کا کہنا ہے کہ جہاز پچھلے سال کی نسبت زیادہ بری حالت میں ہے۔ جہاز سمندر میں اپنی قدرتی تباہی سے گزر رہا ہے۔

    ٹائٹین آبدوز کے اہم سالانہ مشنوں میں سے ایک، جو تقریباً 4,000 میٹر پانی کے اندر انتہائی زیادہ دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، ٹائٹینک جہاز کے ملبے کا سروے کرنا ہے۔


    آبدوز، جس میں پانچ افراد عملہ کر سکتے ہیں، نے ڈوبے ہوئے جہاز کے کھنڈرات کی ویڈیوز حاصل کی ہیں جن کا تجزیہ کار جہاز کے ارد گرد گہرے سمندر میں رہائش گاہ میں مختلف انواع اور ان کی کثافت کو تلاش کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔

    تحقیقی ٹیم، جو سمندری حیاتیات کے ماہرین، ماحولیاتی ڈی این اے کے ماہرین، سمندری آثار قدیمہ کے ماہرین اور GIS نقشہ سازی کے ماہرین پر مشتمل ہے، متعدد سوالات کے جوابات دینے کی امید کر رہی ہے، بشمول مصنوعی ڈھانچے کا سمندر کے باشندوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔

    ہنگری : محکمہ موسمیات کا سربراہ غلط پیش گوئی پرملازمت سے برطرف

    OceanGate Expeditions کے چیف سائنٹسٹ، Steve W Ross نے ایک بیان میں کہا آج، ہمارے پاس زمین کے سمندروں کے مقابلے چاند کی سطح کے بہتر نقشے ہیں اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے-
    https://twitter.com/OceanGateExped/status/1543004443888783360?s=20&t=d0IOtw_UqDfsVmDN3sr5cA
    "ہم جانتے ہیں کہ جہازوں کے ٹوٹنے سے کئی دہائیوں یا صدیوں تک سمندر کی تہہ متاثر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر راس نے کہا کہ ٹائٹینک گہرے سمندر میں ایک منفرد کیس اسٹڈی فراہم کرتا ہے کہ کس طرح مصنوعی ڈھانچے قدرتی عناصر اور باشندوں سے متاثر ہوتے ہیں، اس کے علاوہ یہ ڈھانچے سمندری ماحولیاتی نظام کی حمایت یا اثر انداز ہوتے ہیں۔

    محققین نے کہا کہ جہاز کے ٹوٹنے سے سمندری علاقے میں ایک "حیاتیاتی تنوع کا جزیرہ” پیدا ہوا ہے جو بصورت دیگر ایک کیچڑ والا ابلیسی میدان ہے۔

    ڈاکٹر راس نے جون میں کہا تھا کہ مطالعہ کے ان متنوع شعبوں کو ملانا جو ہماری سائنسی ٹیم ٹائٹینک مہم میں لاتی ہے، ہمیں اپنے گہرے سمندروں کے مطالعہ میں حصہ ڈالنے میں مدد کرے گی کیونکہ ہم یہ ڈیٹا وسیع تر سائنسی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں-

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

  • برطانیہ میں 750 سال پرانے جہاز کا ملبہ دریافت

    برطانیہ میں 750 سال پرانے جہاز کا ملبہ دریافت

    ڈوسیٹ: برطانیہ کے ڈوسیٹ کے ساحل میں قرونِ وسطی کے ایک بحری جہاز کا ملبہ دریافت ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق ’مارٹر ریک‘ نامی جہاز کی باقیات 2020 میں خلیجِ پُول میں پہلی بار دریافت ہوا اس کا نام مارٹر ریک اس میں ملنے والے پیالوں کی وجہ سے رکھا گیا جس میں آٹے کے لیے اناج کو پِیسا جاتا تھا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جہاز میں لگی لکڑیوں کے چھلوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کم از کم 750 سال پُرانی ہیں۔ برطانیہ کے سمندروں سے 11ویں سے 14ویں صدی کے درمیانی عرصے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی جہاز کا کوئی ملبہ اب تک نہیں ملا –

    یہ جہاز اپنےجہاز کے ڈیزائن سے کِلنکر جہاز معلوم ہوتا ہے جس کو لکڑی کے پھٹوں کی تہہ پر تہہ لگا کر بنایا جاتا ہے۔جہاز میں استعمال کی جانے والی لکڑی آئرش اوک سے لی گئیں جن کو 1242 سے 1265 کے درمیان کاٹا گیا یہ بادشاہ ہینری سوم کا دور تھا۔

    رپورٹ کے مطابق شعبہ برائے ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اور اسپورٹ کی جانب سے مارٹر ریک کو اعلیٰ سطحی قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے مارٹر ریک کی پہلی بار نشاندہی ٹریور اسمال نامی غوطہ خور نے کی جو گزشتہ 30 برس سے پُول میں ڈائیونگ چارٹر چلا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ ایک ملاح خاندان میں پیدا ہوئے انہوں نے جہازوں کے ملبے کی تلاش میں بطور کپتان سمندروں میں ہزاروں میل کا سفر کیا۔2020 کے موسمِ گرما میں انہوں نے ایک غیردریافت شدہ حادثے کی جگہ دریافت کی۔ انہیں اس جگہ پر غوطے کی اجازت دی گئی اور پھر جو ہوا وہ تاریخ ہے وہاں انگلینڈ کا قدیم ترین جہاز کا ملبہ دریافت کیا گیا۔

  • ایران نے تیل کی غیرقانونی ترسیل کےالزام میں غیرملکی جہاز پر قبضہ کرلیا

    ایران نے تیل کی غیرقانونی ترسیل کےالزام میں غیرملکی جہاز پر قبضہ کرلیا

    ایران نے خام تیل کی غیرقانونی ترسیل کے الزام میں ایک غیرملکی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے ملک سے ایندھن اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک غیرملکی جہاز کو قبضے میں لے کرتحقیقات شروع کردی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایرانی حکام نے عملے کو بھی گرفتارلیا ہے

    ایران، جہاں بھاری سبسڈیز اور اپنی قومی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے ایندھن سب سے کم قیمت پر دستیاب ہے، پڑوسی ممالک اور سمندری راستے سے خلیجی عرب ریاستوں کو ایندھن کی اسمگلنگ کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔

    خبر رساں ایجنسی نے مزید بتایا ہے کہ جہاز جس میں 550,000 لیٹر سے زیادہ اسمگل شدہ ایندھن تھا، خلیجی پانیوں میں قبضے میں لیا گیا ہے۔ اس جہاز کو جنوبی صوبے ہرمزگان کی بندرگاہ پر لے جایا گیا جہاں اسے تحقیقات کے لیے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    صوبائی سرحدی محافظوں کے سربراہ حسین دہکی کا کہنا ہے کہ وہ اسمگل شدہ ایندھن لے جانے والے جہاز کی شناخت کرنے اور اسے حراست میں لینے میں کامیاب ہو گئے جس کا مقصد مارو جزیرے کے مشرق میں بڑے پیمانے پر سمگل شدہ ایندھن کی کھیپوں کو لے جانا تھا۔ایرانی حکام نے حالیہ مہینوں میں کئی بحری جہازوں کو خلیج میں ایندھن کی اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

  • ٹرک میں دھماکے سے بحری جہاز ڈوب گیا،آٹھ افراد تاحال لاپتہ

    ٹرک میں دھماکے سے بحری جہاز ڈوب گیا،آٹھ افراد تاحال لاپتہ

    ٹرک میں دھماکے سے بحری جہاز ڈوب گیا،آٹھ افراد تاحال لاپتہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مال بردار بحری جہاز ڈوبنے سے جہاز پر لدے 14 ٹرک بھی ڈوب گئے، حادثے میں آٹھ افراد بھی ڈوب گئے جو ابھی تک لاپتہ ہیں اورانکی تلاش کا عمل جاری ہے

    واقعہ بھارت میں پیش آیا، جھار کھنڈ کے علاقے صاحب گنج اور کوکلتہ کے درمیان گنگا ندی میں ایک مال بردار بحری جہاز ڈوب گیا،جہاز پر پتھر کے 14 ٹرک تھے، ان ٹرکوں پر مزدور اور ڈرائیور بھی تھے، ان کے بارے میں بھی گمان ہے کہ وہ ڈوب چکے ہیں، ابھی تک کسی کے مرنے کی تصدیق نہیں ہوئی، تا ہم یہ تصدیق ہوئی کہ کم از کم آٹھ لوگ لاپتہ ہیں اور ڈوب چکے ہیں، جنکی تلاش جاری ہے،

    جہاز ڈوبنے کی اطلاع پر مقامی پولیس، امدادی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں، حکام کا کہنا ہے کہ ہماری ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ ہے، کوشش کریں گے کہ کسی کو زندہ نکال لیں، جہاز کے کپتان کا کہنا ہے کہ جہاز پر سوار ایک ٹرک میں دھماکہ ہوا جس کے بعد جہاز بے قابو ہو گیا، ٹرک میں دھماکہ کیسے ہوا اس بارے کچھ معلوم نہیں ،اس دھماکے کے بعد جہاز ڈوب گیا، ڈپٹی کمشنر رام نواس یادوکا کہنا ہے کہ دھماکے کی تحقیقات کی جائیں گی کہ اس ٹرک میں ایسا کیا تھا کہ دھماکہ ہوا اور اسکے بعد جہاز ہی ڈوب گیا،

    دوسری جانب کہا جا رہا ہے کہ ان ٹرکوں پر پتھر اور چپس تھی، جھارکھنڈ کے صاحب گنج، راج محل اور پاکوڑ علاقے سے اسٹون چپس کا بڑے پیمانے پر کاروبار ہوتا ہے روزانہ اسٹون چپس سے لدے درجنوں ٹرک مال بردار جہاز کے ذریعے کلکتہ اور آس پاس کے علاقوں میں بھیجے جاتے ہیں

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    11 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار گرفتار

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

     

  • دنیا کی مہنگی ترین ہزاروں گاڑیوں سے لدا بحری جہاز سمندر میں ڈوب گیا

    دنیا کی مہنگی ترین ہزاروں گاڑیوں سے لدا بحری جہاز سمندر میں ڈوب گیا

    نیویارک: دنیا کی مہنگی ترین چار ہزار گاڑیوں سے لدا مال بردار بحری جہاز بحراوقیانوس میں ڈوب گیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ جرمنی سے امریکہ ہزاروں قیمتی گاڑیاں لے جانے والے بحری جہاز میں اچانک آگ لگ گئی تھی جبکہ ہزاروں قیمتی گاڑیوں کی مالیت تقریبا 27 ارب پاکستانی روپے جو تقریبا 155 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ٕ

    امریکا میں ہزاروں لگژری گاڑیوں سے لدے کارگو بحری جہاز میں آتشزدگی

    فلیسیٹی ایس نامی مال بردار بحری جہاز پر موجود عملے کے 22 ارکان کو پرتگال کی بحریہ نے بحفاظت نکال لیا تاہم آگ لگنے کی وجوہات کا علم نہیں ہوسکا۔

    بحری جہاز پر موجود چار ہزار گاڑیوں میں زیادہ تر لگژری کارز تھیں ان میں پورشے اور بینٹلے جیسی مہنگی ترین گاڑیاں بھی شامل تھیں جن کی انفرادی قیمت ہی 70 ہزار برطانوی پاؤنڈ تک ہوتی ہے۔

    رومانیہ کا فوجی ہیلی کاپٹرگر کا تباہ،7 فوجی ہلاک

    لگژری کاریں بنانے والی بینٹلے کمپنی کے مطابق جہاز پر اُن کی 189 نئی گاڑیاں موجود تھیں جبکہ پورشے کمپنی نے کہا ہے کہ ڈوبنے والے جہاز پر ان کی 1100 گاڑیاں لدی ہوئی تھیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق والکس ویگن کمپنی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان گاڑیوں کی انشورنس کی مالیت 116 ملین برطانوی پاؤنڈ بنے گی

    عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کی دھماکہ خیز مواد سےبھری کشتی تباہ کردی

  • بھارتی بحریہ کے جہاز میں دھماکا،3 اہلکار ہلاک،بھارتی بحریہ مشکل دورمیں‌

    بھارتی بحریہ کے جہاز میں دھماکا،3 اہلکار ہلاک،بھارتی بحریہ مشکل دورمیں‌

    نئی دہلی: ممبئی ڈاکیارڈ پر بھارتی نیوی کے بحری جہاز میں دھماکے سے 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ بھارتی بحریہ نے واقعے کی تصدیق کردی۔

    منگل کی شب بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ بدقسمت واقعہ نیول ڈاک یارڈ ممبئی میں پیش آیا، آئی این ایس رنویر کے اندونی کمپارٹمنٹ میں ایک دھماکے سے 3 نیول اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

    بھارتی وزیر دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحری جہاز میں دھماکے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    بھارتی میڈیا پر جاری خبروں کے مطابق دھماکے میں کم از کم 11 اہلکار زخمی بھی ہیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کے عملے نے بروقت کارروائی کرکے حالات کو قابو میں کرلیا تھا، واقعہ شام 4 بجے کے قریب پیش آیا۔

    رپورٹ کے مطابق آئی این ایس رنویر نومبر 2021ء سے ایسٹرن نیول کمانڈ کا حصہ ہے اور جلد ہی اسے بیس پورٹ پر واپس آنا ہے۔

    بھارتی بحریہ کے جہاز میں دھماکا، 3 اہلکار ہلاک ،اطلاعات کے مطابق بھارتی بحریہ کے جہاز میں دھماکا کے باعث بحریہ کے 3 اہلکار ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے۔

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق بحری جہاز آئی این ایس رنویر میں دھماکا اس وقت ہوا جب اسے ممبئی کی بندرگاہ پر لنگر انداز کیا گیا تھا۔

    نیوی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کے فوری بعد عملے نے صورت حال کو قابو کرلیا۔ حادثے میں جہاز کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ دھماکے کی وجوہات جاننے کیلئے انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئی این ایس رنویر 21 اپریل 1986ء کو بھارتی بحریہ کے بیڑے میں شامل ہوا تھا جو سابق سویت یونین میں تیار کیا گیا تھا۔ اس قسم کے بحری جہاز سب میرینز، کروز میزائل اور نچلی پرواز کرنے والے جنگی جہازوں کے خلاف دفاع فراہم کرنے کے کام آتے ہیں۔

    بھارتی بحریہ کے موجودہ چیف ایڈمرل آر ہری کمار نے بھی اپنے کریئر کے ابتدائی دنوں میں اس بحری جہاز کی کمان سنبھالی تھی۔