Baaghi TV

Tag: بحیرہ روم

  • ایران کا بحیرۂ روم میں  برطانوی فوجی اڈے پر حملہ

    ایران کا بحیرۂ روم میں برطانوی فوجی اڈے پر حملہ

    ایران نے قبرص میں قائم برطانیہ کے اہم ترین فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں نقصان کی اطلاعات ہیں۔

    قبرص کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ کے فوجی اڈے ’اکروتیری‘ پر ہونے والا حملہ بغیر پائلٹ ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس سے محدود نوعیت کا نقصان ہوا حملے میں ایک بغیر پائلٹ طیارہ استعمال کیا گیا اور اس سے ’تھوڑا سا نقصان‘ ہوا ہے،حکام برطانیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ ’اکروتیری‘ میں قائم برطانوی فوجی اڈہ مشرقی بحیرۂ روم میں اسٹریٹجک اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایران کے خلاف جنگ ایک ماہ تک جاری رہ سکتی ہے،صدر ٹرمپ

    برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

    ایرانی حملے: متحدہ عرب امارات میں اسٹاک مارکیٹس دو دن کے لیے بند

  • بحیرہ روم میں تارکیں وطن کی کشتی ڈوب گئی، 6 افراد ہلاک ، 40 لاپتا

    بحیرہ روم میں تارکیں وطن کی کشتی ڈوب گئی، 6 افراد ہلاک ، 40 لاپتا

    بحیرہ روم میں تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے سے 6 افراد ہلاک اور 40 لاپتا ہوگئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کی اٹلی میں نمائندہ چیارا کارڈولیٹی نے ایکس پرکہا کہ بحیرہ روم میں ایک نئے بحری جہاز کے حادثے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 56 افراد کو لے کر ایک کشتی سوموار کو تیونس کی بندرگاہ سفیکس سے روانہ ہوئی تھی۔ کشتی کچھ گھنٹوں کا سفر کرنے کے بعد ڈوب گئی، 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں، اب بھی 40 لاپتا ہیں۔یو این ایچ سی آر کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اٹلی کے کوسٹ گارڈز اور پولیس نے 10 افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کیا، جن میں 6 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں۔

    ریسکیو گئے افراد نے بتایا کہ کشتی میں آئیوری کوسٹ، مالی، گنی اور کیمرون سے 56 افراد سوار ہوئے تھے۔اٹلی کی وزارت داخلہ کے مطابق رواں برس اب تک تقریباً 8 ہزار 743 تارکین وطن اٹلی پہنچے ہیں، جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہیں۔انتہائی دائیں بازو کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے تارکین وطن کے بارے میں سخت مؤقف اپنایا ہے، اور ان کی آمد کو روکنے کے عزم کیا ہے، جن کی تعداد 2023 کے مقابلے میں تیزی سے کم ہوئی ہے۔یہ ملک شمالی افریقہ سے یورپ تک چھوٹی کشتیوں پر خطرناک سفر کرنے والے بہت سے لوگوں کی پہلی منزل ہے۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق رواں سال اب تک 140 افراد کراسنگ کی کوشش کے دوران ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں۔

    شاہد آفریدی کی کرکٹ ٹیم میں رد و بدل پر شدید تنقید

    شہریوں کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز مزید بڑھ گئے

    شرم کی بات ہے پی ٹی آئی پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتی، شرجیل میمن

    عید الفطرپر 5 اسپیشل ٹرینیں چلیں گی،شیڈول جاری

    غیر ملکی سرمایہ کاری میں41فیصد سے زائد اضافہ

  • یونانی کوسٹ گارڈز پربحیرہ روم میں درجنوں تارکین وطن کو ہلاک کرنے کا الزام

    یونانی کوسٹ گارڈز پربحیرہ روم میں درجنوں تارکین وطن کو ہلاک کرنے کا الزام

    یونانی کوسٹ گارڈز پربحیرہ روم میں درجنوں تارکین وطن کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارےکی رپورٹ کے مطابق یونانی کوسٹ گارڈز گزشتہ 3 سال میں بحیرہ روم میں درجنوں تارکین وطن کی ہلاکت کا سبب بن چکے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں 9 تارکین وطن ایسے بھی تھے جنہیں جان بوجھ کر پانی میں پھینک دیا گیا تھا، یہ 9 افراد ان 40 سے زائد افراد میں شامل تھے جو مبینہ طور پر یونان کی سمندری حدود سے بے دخل کیے جانے یا یونانی جزیروں پر پہنچنے کے بعد سمندر کی جانب واپس دھکیل دئیے جانے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    یونانی کوسٹ گارڈز نے برطانوی نشریاتی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

  • یونان نے بحیرہ روم میں 81  تارکین وطن کو بچالیا

    یونان نے بحیرہ روم میں 81 تارکین وطن کو بچالیا

    یونان نے بحیرہ روم میں بین الاقوامی پانیوں سے 81 تارکین وطن کو بچالیا ہے،کسی لاپتہ یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی پرچم والے ایک مال بردار جہاز کو یونان کے ساحلوں سے تقریباً 120 سمندری میل کے فاصلے پر پھنس گیا تھا جس میں موجود 81افراد کو بچا کر جنوبی یونان میں جزیرہ نما پیلوپونیس کے کالاماتا بندرگاہی شہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اٹلی جانے والا ایک اوور لوڈڈ بحری جہاز گزشتہ موسم گرما میں جزیرہ نما پیلوپونیس کے بین الاقوامی پانیوں میں اسی طرح کے معاملے میں ڈوب گیا تھا یونان کے کوسٹ گارڈ نے 104 افراد کو بچا لیا اور 82 لاشیں نکال لیں۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    2015 میں مہاجرین کی نقل مکانی کے بحران کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک ملین سے زائد افراد یونان پہنچ چکے ہیں، جن میں سے بیشتر نے دوسرے یورپی ممالک کا سفر جاری رکھا۔

    واضح رہے کہ یورپی یونین کی کونسل اور یورپی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز ایک عارضی معاہدہ طے کیا ہے جس سے توقع ہے کہ بلاک کی سیاسی پناہ اور ہجرت کی پالیسی میں مکمل اصلاحات کی جائیں گی، جس سے اس مسئلے پر برسوں کے تعطل کو توڑ دیا جائے گا۔

    بھارت کے مشہور موٹیویشنل اسپیکر کا نئی نویلی بیوی پر تشدد،مقدمہ درج

  • 80 سال قبل جنگِ عظیم دوم میں تباہ ہونے والا بمبار طیارہ بحیرہ روم میں دریافت

    80 سال قبل جنگِ عظیم دوم میں تباہ ہونے والا بمبار طیارہ بحیرہ روم میں دریافت

    سسلی: ماہرین کا کہنا ہے کہ 80 سال قبل جنگِ عظیم دوم کے دوران بحیرہ روم میں تباہ ہونے والے رائل ایئر فورس کے بمبار طیارے کو دریافت کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : جون 1942 میں تباہ ہونے والا مارٹِن بالٹی مور IV/V نامی طیارہ امریکا میں بنا لیکن رائل ایئر فورس کے زیر استعمال تھا یہ زیادہ تر کینیڈا اور آسٹریلیا میں پہنچائے گئے، لیکن کچھ کو امریکہ میں رکھا گیا۔ جون 1942 میں ڈوبنے والا بالٹیمور Mk II سیریل نمبر AG699 تھا-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    یہ طیارہ جس وقت سمندر میں گِرا اس وقت اس میں 4 افراد سوار تھے، جن میں دو کا تعلق رائل ایئر فورس، ایک کا تعلق رائل آسٹریلین ایئر فور اور ایک رائل کینیڈین ایئر فورس تھا 2016 میں دریافت ہونے والے اس ملبے کے متعلق حکام کا کہنا تھا کہ یہ اپنی اعلیٰ حالت میں محفوظ ہے جس کی بڑی تاریخی اور علامتی قدر ہے۔تاہم مکمل تصدیق سے قبل اس کے متعلق بات نہیں کی گئی۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ جنگِ عظیم دوم کا اور کوئی مارٹِن بالٹی مور اس بہترین حالت میں موجود نہیں ہے جہاز کے متعلق نتائج جنگی ریکارڈ کے مجموعے، ملبے کے نئے سروے اور عینی شاہد کی گواہی پر مبنی ہیں جس نے 80 سال قبل اس جہاز کے تباہ ہونے کے مناظر دیکھے تھے۔

    "ڈیلی میل” کے مطابق ماہرین کو الگ سے معلوم تھا کہ طیارے میں عملہ کون تھا اور ساتھ ہی وہ مقام بھی جہاں اسے آخری بار دیکھا گیا تھا، لیکن جب تک وہ ملبے کی شناخت کی تصدیق نہیں کر لیتے وہ تمام معلومات کو اکٹھا کرنے سے قاصر تھے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    یہ نتائج جنگی ریکارڈ، ملبے کے نئے سروے اور عینی شاہدین کے اکاؤنٹس کے امتزاج پر مبنی ہیں، بشمول ایک مقامی شخص جس نے 80 سال قبل اس کے خطرناک جاسوسی مشن کے دوران ہوائی جہاز کو آسمان سے گرتے دیکھا تھا۔

    ان کا اعلان سمندر کے ثقافتی اور ماحولیاتی ورثے کے سپرنٹنڈنس، سسلی کے خود مختار علاقے کے لیے ایک ادارہ، سوپرنٹینڈینزا ڈیل مارے نے کیا۔

    اس نے ایک بیان میں کہا، ‘لینوسا کے فینالینو’ کے سامنے ڈوبنے والے ملبے کی شناخت کو لپیٹ میں لینے والی دھند بالآخر ختم ہو گئی ہے دریافت کے حوالے سے متعلقہ ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اب تک سِسیلی کے سمندروں میں جنگِ عظیم دوم میں تباہ ہونے والے کسی جہاز کا ملبہ اصل حالت میں موجود نہیں ہے۔

    فلوریڈا کے ساحل پر 1930 سے نصب لینڈ مائن‘برآمد

    مارٹن بالٹیمور (Mk II سیریل نمبر AG699) کو کچھ نقصان ہوا ہے – اس کے جسم کے ساتھ آدھے راستے میں ایک شگاف ہے اور بائیں بازو کا ایک چھوٹا حصہ غائب ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خاص مارٹن بالٹیمور (Mk II سیریل نمبر AG699) جزوی طور پر ریت میں ڈوبا ہوا ہے لیکن پنکھ اور دم اب بھی سمندر کی تہہ سے اوپر ہے۔

    بمبار نے 15 جون 1942 کو صبح 12 بج کر 45 منٹ پر مالٹا کے لوکا ہوائی اڈے سے پینٹیلیریا جزیرے کے ارد گرد کے علاقے میں بحری ٹریفک کا مشاہدہ کرنے کے لیے اڑان بھری لیکن ممکنہ طور پر گولہ لگنے یا انجن فیل ہونے کی وجہ سے سمندر میں برد ہوگیا تھا۔

    RAF لائٹ بمبار اب لینوسا کے پانی کی سطح سے تقریباً 280 فٹ (85 میٹر) نیچے ہےSoprintendenza del Mare نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں زندہ رہنے اور اس کے بعد کسی بھی تباہی کے بعد اتنی بہترین حالت میں مارٹن بالٹیمور طیارے کا وجود آج تک معلوم نہیں ہے۔

    برطانیہ کو 30 سالہ تاریخ میں سب سے بڑی ریلوے ہڑتال کا سامنا

  • ایک سالہ بچہ اکیلا بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی پہنچ گیا

    ایک سالہ بچہ اکیلا بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی پہنچ گیا

    روم: ایک سالہ بچہ بغیر والدین کے اکیلا ہی بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق والدین کی جانب سے اپنے ایک سالہ بچے کو بحیرہ روم جانے والی مہاجرین کی کشتی میں سوار کیا گیا تھا تاہم وہ خود کسی وجوہ کی بنا پر کشتی میں سوار نہ ہو سکے۔

    7 سالوں میں 45 ہزار سے زائد افراد ہجرت کی کوشش میں ہلاک:اکثریت بے بس مسلمانوں کی

    رپورٹس کے مطابق کشتی کے ذریعے 500 سے زائد مہاجرین اٹلی کے جزیرے لیمپیڈوسا پہنچے جنہیں پہنچتے ہی پولیس نے تحویل میں لے کر حفاظتی مرکز منتقل کر دیا گیا جہاں ان سے تفتیش کی گئی۔

    غیر قانونی طور پر اٹلی پہنچنے والی مہاجرین کی کشتی 7 جزیروں سے ہوتے ہوئے پہنچی جبکہ بچے سے متعلق مسافروں نے بتایا کہ بچے کے والدین اسے کشتی میں چھوڑ گئے تھے اور بچے کا خاص خیال رکھنے کی درخواست کی تھی تاہم ہو سکتا ہے کہ بچے کے والدین کو کشتی میں سوار ہونے نہ دیا گیا ہو۔

    کورونا وبا: مزید 2 افراد جاں بحق،260 نئے کیسز رپورٹ

    مسافروں نے دوران تفتیش سیکیورٹی اہلکاروں کو بتایا کہ وہ بچے اور اس کے والدین سے متعلق کچھ نہیں جانتے تاہم ہو سکتا ہے والدین نے اپن بچے کو بہتر مستقبل کے لیے بحیرہ روم کی طرف روانہ کیا ہوا ریسکیو اہلکاروں ںے بچے کو اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی صحت کو بہتر قرار دیا۔

    ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی فتح پر جشن منانے والا بھارتی طالب علم دوستوں سمیت 2 ماہ…