Baaghi TV

Tag: برآمدات

  • برآمدی شعبہ ترقی کے گھوڑے پر سوار!

    برآمدی شعبہ ترقی کے گھوڑے پر سوار!

    8سال میں پہلی بار پاکستانی برآمدات میں مسلسل چار ماہ اضافہ سے برآمدی شعبہ ترقی کرے گا۔

    برآمدات میں اضافہ ملکی معیشت کی پائیداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔زونل چیئرمین پرگمیا کے بقول برآمدات میں اضافہ میں گارمنٹس  انڈسٹری اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

       لاہورمیں ادیب اقبال شیخ زونل چیئرمین پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے 8سال کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی برآمدات میں مسلسل 4ماہ  اضافہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئی کہا کہ اس سے برآمدی و صنعتی شعبہ جات ترقی کرینگے۔برآمدات میں اضافہ میں گارمنٹس انڈسٹری اپنا بھر پور اور اہم کردار ادا کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 سال کے بعدپہلی بار چار ماہ مسلسل اضافہ سے پاکستانی برآمدات 2ارب  ڈالر سے زائد رہیں، پاکستانی برآمدات میں اضافہ کا رجحان برقرار ہے اور جنوری میں پاکستانی برآمدات8فیصد بڑھ کر2135ارب ڈالر رہیں۔رواں مالی سال کے پہلے 7ماہ کے دوران برآمدات55فیصد بڑھ کر14245ارب ڈالر ہوگئیں ہیں۔

    جبکہ گزشتہ مالی سال میں اسی دوران یہ برآمدات 135ارب ڈالر تھیں انہوں نے کہا کہ برآمدات میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کی پائیداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریڈمیڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ادیب اقبال شیخ نے کہا کہ برآمد کنندگان نے کورونا وائرس وباء اور بیرونی منڈیوں میں مندی کے باوجود برآمدات بڑھائیں حکومت برآمدی شعبہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مزید مراعات دے تاکہ برآمد کنندگان محنت اور توجہ سے ملکی برآمدات میں مزید اضافہ کرکے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کریں اس سے  ملکی معیشت مستحکم ہوگی اور حکومت کو بیرونی قرضہ لینے سے نجات ملے گی۔

  • پاکستانی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان

    پاکستانی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان

    اسلام آباد:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مالی سال2024 تک پاکستان کی برآمدات کا حجم 36.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف نے یہ پیشگوئی اپنی حالیہ اسٹاف رپورٹ میں کی ہے
    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی حسارہ جو کہ 2017 میں 19.7 ارب ڈالر تھا اس میں بتدریج کمی آئی ہے اور 2018 کے مالی سال میں مالیاتی حسارہ مزید 6.95 ارب ڈالر گر گیا ہے اورامکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مالی سال میں یہ حسارہ مزید گر کر 5.49 ارب ڈالر رہ جائے گا
    آئندہ مالی سال میں ٹیکسوں کی وصولی 7.011 ارب ٹریلین تک رہنے ، سال 2000-21 میں 8.3 ٹریلین اورمالی سال 2022-23 تک ٹیکسوں کی وصولی کا حجم 9.48 ٹریلین تک پہنچنے کا امکان ہے