برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر دیوالیہ ہو گیا، غیر ضروری اخراجات کی کٹوتی کرنے کا اعلان کر دیا،
برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم سٹی کونسل کی جانب سے رواں ماہ پانچ ستمبر کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں جس میں ضروری سروسز کے علاوہ دیگر اخراجات سے منع کر دیا گیا ہے،سٹی کونسل کی جانب سے لوکل گورنمنٹ فنانس ایکٹ 1988 کے سیکشن 114 کے تحت نوٹس جاری کیا گیا
برمنگھم سٹی کونسل دس لاکھ سے زیادہ افراد کو خدمات فراہم کرتی ہے،نوٹس کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی میں سٹی کونسل کو 81 کروڑ ،ساٹھ لاکھ ڈالر سے 95 کروڑ، چالیس لاکھ ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے، سٹی کونسل نے توقع کی ہے کہ اگلے مالی سال کے دوران اسے دس کروڑ 90 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا،
برمنگھم سٹی کونسل کی ڈپٹی لیڈر شیرون تھامسن نے کونسلرز سے بات چیت کرتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہمیں طویل المدتی مسائل کا سامنا ہے ، کنزرویٹیو پارٹی نے ایک ارب برطانوی پاؤنڈز کے فنڈز فراہم نہیں کیے ، مقامی حکومت کو دیگر کونسلز کی طرح بحران کا سامنا ہے اور یہ واضح ہے کہ ہمیں بے نظیر مالیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا
لندن: برطانیہ نے روسی نجی ملیشیا ویگنر گروپ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر پابندی کا فیصلہ کرلیا-
باغی ٹی وی: برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ویگنر گروپ پر پابندی سے متعلق ایک ڈرافٹ پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کے بعد روسی نجی ملیشیا کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر اس کے اثاثوں کو منجمند کر دیا جائے گا، پابندی کے بعد ویگنر گروپ میں شمولیت یا کسی بھی طرح اس کی سپورٹ ایک جرم قرار پائے گا۔
برطانوی وزیر داخلہ سویلا برویرمین کا کہنا تھا کہ ویگنر گروپ نہ صرف شدتپسند اور تباہی پھیلانے والا گروہ ہے بلکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کیلئے ایک عسکری ہتھیار ہے، جس کے یوکرین اور افریقا میں کیے گئے کام عالمی سکیورٹی کیلئے خطرہ ہیں، ویگنر گروپ مسلسل عدم استحکام پھیلا رہا ہے اور یہ کام صرف روسی سیاسی مفادات کے حصول کیلئے کیا جاتا ہے، یہ دہشت گرد ہیں اور برطانیہ کا قانون اس معاملے میں بہت واضح ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ کے ٹیررازم ایکٹ 2000 کے تحت وزیر داخلہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ کسی تنظیم یا گروہ کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے سکتے ہیں۔
ویگنر نے یوکرین پر روس کے حملے کے ساتھ ساتھ شام اور لیبیا اور مالی سمیت افریقہ کے ممالک میں کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اس کے جنگجوؤں پر یوکرین کے شہریوں کو قتل اور تشدد سمیت متعدد جرائم کا الزام ہے۔
2020 میں، امریکہ نے کہا کہ ویگنر کے فوجیوں نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے ارد گرد بارودی سرنگیں بچھائی تھیں اور جولائی میں، برطانیہ نے کہا کہ اس گروپ نے "مالی اور وسطی افریقی جمہوریہ میں پھانسی اور تشدد” کیا ہے اس گروپ کا مستقبل اس سال کے شروع میں غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا گیا تھا جب اس کے رہنما یوگینی پریگوزن نے روس کے فوجی رہنماؤں کے خلاف ناکام بغاوت کی قیادت کی۔
جنرل سرٹیفکیٹ آف سکینڈری ایجوکیشن یا اولیول کے امتحان میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے والی برٹش پاکستانی طالبہ ماہ نور چیمہ نے لندن میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کی ہے جبکہ جی سی ایس ای میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے والی ماہ نورچیمہ والدین اور بہن بھائیوں کے ہمراہ حسن نواز کے دفتر پہنچیں۔
I express my deepest gratitude to former Prime Minister, Hon'ble Mian Mohammad Nawaz Sharif Sb & former Prime Minister, Hon'ble Mian Mohammad Shahbaz Sharif Sb, for their appreciation of my daughter's achievements by blessing us all with an opportunity to
ماہ نور نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات تو سابق وزرائے اعظم نے ماہ نور کو کامیابی پر مبارکباد دی اور لیپ ٹاپ تحفے میں دیا، ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، اور اس موقع پر لیگی قائدین کا کہنا تھاکہ ماہ نور چیمہ پاکستانی عوام کا فخرہیں اور انہوں نے وطن کا نام روشن کیا، ماہ نور چیمہ کاکارنامہ پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛ سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
جبکہ شہباز شریف کا کہنا تھاکہ ماہ نور چیمہ کی کامیابی پرپوری قوم کو فخر ہے، جی سی ایس ای میں 34 اے گریڈ لینا قابل فخر بات ہے، امید ہے ماہ نور مستقبل میں پاکستان کا نام اور روشن کرے گی اور انہوں نے سیاسی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہاکہ آج صرف ماہ نور سے متعلق بات ہوئی ہے تاہم واضح رہے کہ ماہ نور نے جی سی ایس ای کے امتحان میں 34 اے اسٹار گریڈ لےکر ریکارڈ قائم کیا ہے۔
برطانیہ میں حکام نے برمنگھم کی ایک معروف مسجد کے خلاف کاروائی شروع کر دی ہے جس کے ایک امام پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک خطبے کے دوران عورتوں کو سنگسار کرنے کے درست طریقے بتائے۔
اس مسجد کو ایک بار چینل 4 کی دستاویزی فلم میں دکھایا گیا تھا جہاں ایک امام کو ‘کفار’ کے خلاف پرتشدد جہاد کی تبلیغ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جو کافروں کے لیے ایک توہین آمیز اصطلاح ہے۔
برمنگم کی گرین لائن مسجد ایک مثالی مسجد تصور کی جاتی تھی اور حال ہی میں حکومت نے اس سے دو ملین پاؤنڈ(77 کروڑ پاکستانی روپے) کی امداد دی تھی اس رقم سے مسجد کے ساتھ ایک یوتھ سینٹر قائم کیا جانا تھا پتہ نہیں حکام نے اس میں سے کم از کم 77 ہزار پاؤنڈ مسجد کو منتقل کر دیئے تھے لیکن پھر اسلام مخالف گروپ Focus on Western Islamism نے مسجد کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔
اس گروپ کی جانب سے مسجد کے خلاف مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی اور یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ مسجد کے امام تشدد پر اکساتے ہیں اس پروپگینڈے کے سبب حکام نے فوری طور پر مزید رقم کی ادائیگی روک دی جبکہ اب دو ملین پاؤنڈ کی رقم منجمد کی جا رہی ہے۔
برطانیہ کے محکمہ ثقافت میڈیا اور اسپورٹس نے ملک بھر میں نوجوانوں کے لیے 300 ملین پاؤنڈ کی خطیب رقم مختص کی ہے اور اسی رقم میں سے گرین لائن مسجد کے ساتھ یوتھ سینٹر قائم کیا جانا تھا۔
امام مسجد شیخ ذکا اللہ سلیم کے جس ویڈیو کلپ کو یہ بتا کر پھیلایا جا رہا ہے کہ اس میں وہ خواتین کو سنگسار کرنے کا درست طریقہ بتا رہے ہیں بظاہر پردے سے متعلق ہے شیخ ذکا اللہ بتا رہے ہیں کہ سنگسار کے دوران خاتون کے لیے طریقہ کار مختلف ہے اور اسے زمین میں گڑھا کھود کر دبایا جاتا ہے تاکہ اس کا ستر واضح نہ ہو۔
شیخ زکا اللہ کے اس خطبے کی ویڈیو پہلے مسجد کے یوٹیوب چینل پر شائع کی گئی تھی جہاں سے مخالفین نے یہ کلپ نکال لیا مذکورہ ویڈیو اپ یوٹیوب چینل پر دستیاب نہیں ہے۔
اسی طرح مسجد کے ایک اور امام ابو اسامہ یہ ویڈیو کو الگ رنگ دیا گیا ہے 2007 کی ویڈیو میں ابو اسامہ نے کہا تھا کہ اگر وہ ہم جنس پرستوں کو برا بھلا کہیں تو بظاہر اسے ازادی اظہار سمجھا جانا چاہیے لیکن کوئی بھی اسی آزادی اظہار نہیں مانے گا جبکہ دوسری جانب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کی گئی گستاخی کو آزادی اظہار کہتے ہیں۔
دوسری جانب مسلمان کمیونٹی کا کہنا ہے کہ مسجد کو فنڈنگ دینے سے پہلے متعلقہ محکموں بھرپور تحقیقات کی تھی برطانوی اخبار ڈیلی میل نے بھی اپنی ایک خبر میں اعتراف کیا کہ سوشل انویسٹمنٹ بزنس نامی خود مختار ادارے کی جانب سے چھان بین کی گئی تھی اور اس کے بعد ہی مسجد کو فنڈز دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔
گرین لین مسجد کی جانب سے بھی جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امام مسجد کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور انہیں غلط رنگ دیا گیا ویسٹ مڈلینڈ پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ پولیس نے امام ذکا اللہ سلیم کے بیانات کا جائزہ لیا ہے اور ان میں کوئی بھی خلاف قانون بات نہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ ثقافت کی جانب سے مسجد کے خلاف فنڈز روکنے کی کارروائی جاری ہے۔
پاکستان، برطانیہ اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں سپر بلیو مون کا خوبصورت نظارہ دیکھا جا رہا ہے-
باغی ٹی وی : سپربلیو مون کی غیر معمولی چمک سےآسمان روشن ہوگیا اور اس صورتحال میں چاند زمین کے قریب ترین مدار میں ہونے کی وجہ سے زیادہ روشن اور چمک دار نظر آیا،یہ ایک اہم نظارہ ہے جو اب 2037 میں ہی دوبارہ دیکھا جاسکے گا۔
واضح رہے کہ اگست کے مہینے میں ہم نے دو مرتبہ مکمل چاند دیکھا ہے تاہم 30 اور 31 اگست کی درمیانی رات کو سپر بلیو مون نمایاں تھا ،جب چاند زمین کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے تو وہ معمول سے زیادہ بڑا اور روشن نظر آتا ہے تو اسے سپر مون کہا جاتا ہے۔
اگر ایک ہی مہینے میں 2 بار مکمل چاند دیکھنے کو آئیں تو دوسری بار دکھائی دینے والے 14 ویں کے چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے،یعنی چاند کارنگ نیلا نہیں ہوگا بلکہ اگرایک مہینےمیں 2 سپر مون نظر آئیں تو پھر سپر بلیو مون کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اسے دیکھنے کے لیے کسی دوربین کی ضرورت نہیں بلکہ بس آسمان پر چاند کو دیکھنا ہی کافی ہے۔
اس سے قبل آخری بار سپر بلیو مون 5 سال قبل 2018 میں دیکھنے میں آیا تھا مگر اس وقت وہ سرخی مائل تھا کیونکہ اس موقع پر چاند گرہن بھی ہوا تھا، اس طرح کے چاند کو سپر بلیو بلڈ مون کہا جاتا ہے۔
چاند زمین کے گرد مکمل گول دائرے میں چکر نہیں کاٹتا، بلکہ یہ مدار انڈے کی طرح بیضوی ہوتا ہے اس طرح زمین کے گرد گھومتے ہوئے کبھی تو چاند بہت دور چلا جاتا ہے اور کبھی قریب ترین ہوجاتا ہے یہ دور ہوتے ہوتے 408,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتا ہے اور قریب ترین کیفیت میں 350,000 کلومیٹر کا فاصلہ رہ جاتا ہے اب اس صورتحال میں اگر چاند مکمل ہو تو وہ ہمیں معمول کے چودہویں کے چاند کے مقابلے میں 14 فیصد بڑا دکھائی دیتا ہے اسی مناسبت سے اسے سپربلیو مون کہا جاتا ہے۔
چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے،
چئیرمین سینیٹ نے ڈاکٹر فیصل کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی ،انہوں نے ڈاکٹر فیصل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ امید ہے بطور پاکستانی ہائی کمشنر پاکستان اور برطانیہ کے دو طرفہ تعلقات مزید بہتر ہوں گے، چئیرمین سینیٹ نے ڈاکٹر فیصل کو ماحولیات، تجارت، آئی ٹی، تعلیم کے شعبوں میں برطانیہ کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے ہدایات دیں
چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئے، سرمایہ کاروں کا اعتماد معیشت کے استحکام میں مدد گار ثابت ہوگا، کاروباری و معاشی روابط عوام کو مزید قریب لانے میں مدد گار ثابت ہونگے، برطانیہ میں مقیم پاکستانی دونوں ملکوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، امید ہے آپ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں گے،
برطانیہ میں پہلی بارایک خاتون کے رحم کی کامیاب پیوند کاری کی ہے جس سے ہر سال درجنوں بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے ہیں رحم کی عطیہ کنندہ خاتون کی بہن ہے۔
باغی ٹی وی : سرجنوں نے برطانیہ میں ایک خاتون پر رحم کا پہلا ٹرانسپلانٹ کیا ہے،ابتدائی طریقہ کار کے پیچھے موجود طبی ٹیم کے مطابق، 34 سالہ نوجوان خاتون آپریشن کی کامیابی پر”ناقابل یقین حد تک خوش تھی، اب وہ آئی وی ایف کے ذریعے دو بچے پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
برطانیہ کے آکسفورڈ ٹرانسپلانٹ سینٹر کے ماہرسرجنز نے 34 سالہ خاتون کے رحم مادر کے ٹرانسپلانٹ کا کامیاب آپریشن 9 گھنٹے میں مکمل کیا برطانوی شادی شدہ خاتون شادی کے بعد کئی سالوں سے اولاد کی خواہشمند تھیں لیکن رحم میں کچھ پیدائیشی پیچیدگیوں کے باعث ماں نہیں بن سکتیں تھیں خاتون کی 40 سالہ بہن رحم کی عطیہ دہندہ ہیں، ان کے پہلے ہی اپنے دو بچے تھے۔
اب تک سویڈن، امریکہ، سعودی عرب، ترکی، چین، چیک جمہوریہ، برازیل، جرمنی، سربیا اور بھارت سمیت بین الاقوامی سطح پر 90 سے زائد رحم کی پیوند کاری کی گئی ہے اس کے نتیجے میں تقریبا 50 بچے پیدا ہوئے ہیں۔
برظانوی ماہرین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ سرجری تھی، جس میں ان کی میڈیکل ٹیم کے ایکسپرٹس نے بھر پور حصہ لیا اس کامیاب سرجری کے بعد ان خواتین کی حوصلہ افزائی ہوگی جو عرصہ دراز سے ماں بنننے کی خواہشمند ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے ہسپتالوں کے ایک حصے، آکسفورڈ ٹرانسپلانٹ سنٹر کی ایک کنسلٹنٹ سرجن، شریک لیڈ سرجن ازابیل کوئروگا نے کہا کہ وہ "پرجوش” اور "انتہائی فخر” ہیں کہ سرجری کامیاب رہی مریضہ "ناقابل یقین حد تک خوش” ہے امید کر رہی ہے کہ وہ ایک نہیں بلکہ دو بچے پیدا کر سکتی ہے اس کا رحم بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے اور ہم اس کی پیشرفت کو بہت قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔
اس موسم خزاں میں دوسری خاتون پر یوکے میں رحم کی پیوند کاری ہونے والی ہے، جس کی تیاری کے مراحل میں مزید مریض ہیں۔ سرجنوں کے پاس 10 آپریشنز کی منظوری ہے جس میں دماغی مردہ عطیہ دہندگان کے علاوہ زندہ ڈون ر سمیت پانچ شامل ہیں۔
چیریٹی وومب ٹرانسپلانٹ یوکے کے کلینکل لیڈ اور امپیریل کالج لندن کے کنسلٹنٹ گائنی سرجن کے شریک سرجن پروفیسر رچرڈ اسمتھ نے کہا کہ یہ آپریشن "بڑی کامیابی” رہا ہے۔
برطانیہ میں قتل ہونے والی 10 سالہ بچی سارہ شریف کے کیس میں پولیس جہلم میں پاکستانی نژاد ملزم عرفان کے بھائی کے گھر پہنچ گئی۔
باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق پاکستان میں حراست میں لیے جانےوالے چچا نے بتایا ہے کہ سارہ سیڑھیوں سے نیچے گری تھی جس کے نتیجے میں اس کی گردن ٹوٹ گئی سارہ شریف کے چچا نے بتایا کہ عرفان سے ملاقات ہوئی نہ ان کے ٹھکانے کا علم ہے-
واضح رہے کہ پولیس کو سارہ کی لاش10 اگست کو گھر سے ملی تھی اور اُس نے تصدیق کی تھی کہ خاندان کے 3 افراد لاش ملنے سے ایک دن پہلے پاکستان فرار ہو گئے تھےسارہ شریف کے والد، سوتیلی والدہ اور بہن بھائی پاکستان پہنچ کر روپوش ہوچکے ہیں دس سالہ سارہ شریف کو اس کے والد نے ہی قتل کیا جس کی تلاش میں برطانیہ کی ایجنسیز پاکستان کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔
ملزمان لاش ملنے سے ایک دن قبل پاکستان روانہ ہوئے تھے، سرے پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم میں سارہ کی موت کی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا لیکن پوسٹ مارٹم میں سارہ کے جسم پر ایک سے زیادہ پرانے زخم کے نشانات پائے گئے۔
پولیس کو سارہ کے 41 سالہ والد نے فون کیا، جو اپنی 29 سالہ اہلیہ بینش بتول اور اپنے 28 سالہ بھائی فیصل مالی کے ساتھ برطانیہ میں پوچھ گچھ کرنے سے پہلے اسلام آباد پہنچ چکے تھے،یہ فون اسلام آباد پہنچنے کے بعد رات 2 بج کر 50 منٹ پر کیا گیا تھابرطانوی پولیس نے قتل کی تفتیش کےلئے مطلوب بچی کے باپ عرفان شریف، سوتیلی ماں بینش بتول اور چچا فیصل ملک کی تصاویربھی جاری کیں۔
برطانیہ میں دس سالہ بچی کو قتل کر کے والد، سوتیلی ماں اور بہن بھائی پاکستان میں آ کر روپوش ہو گئے ہیں
برطانیہ میں دس سالہ بچی سارہ شریف کو قتل کیا گیا تھا، سرے پولیس واقعہ کی تحقیقات کر رہی تھی، دوران تحقیقات پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ بچی کو اسکے والد، سوتیلی ماں اور چچا نے قتل کیا اور برطانیہ سے پاکستان فرار ہو گئے، پولیس حکام کے مطابق ملزمان میں 41 سالہ عرفان شریف، 29 سالہ بینش بتول اور 28 سالہ فیصل شہزاد ملک شامل ہیں، تینوں ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے تا ہم انکی تلاش جاری ہے،
عرفان شریف نے نو اگست کو بتول اور ملک ، اور ایک سے 13 برس کے پانچ بچوں کے ہمراہ برطانیہ سے اسلام آباد کا سفر کیا، سارہ شریف کی لاش کی شناخت، ڈی این اے سے ہوئی، پولیس کے مطابق بچی کی لاش قتل کے ایک روز بعد ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کی بچی پر تشدد بھی کیا گیا تھا اور اس کو چوٹیں بھی آئی ہوئی تھیں، سارہ کی موت کیسے ہوئی اس کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آئی، پولیس ترجمان کے مطابق رپورٹ آنے پر آگاہی دے دی جائے گی،
سارہ شریف کے قتل کی پولیس تحقیقات کر رہی تھی، بچی کی شناخت ہوئی تو پتہ چلا کہ بچی کے والد اور اسکے رشتے دار پاکستان روانہ ہو چکے ہیں،سارہ کے والد نے آٹھ ٹکٹ بک کروائے تھے، ٹکٹ فروخت کرنے والے ایجنٹ ندیم کے مطابق تین ٹکٹ بڑوں کے اور پانچ بچوں کے لئے تھے،ٹکٹ ایجنٹ کا کہنا ہے کہ عرفان کے ساتھ فون پر بات ہوئی تھی،اور انکی آواز بالکل نارمل تھی، عرفان نے آٹھ اگست کو رات دس بجے کال کر کے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے لئے ٹکٹ بک کروانا چاہتا ہے کیونکہ اسکے کزن کی موت ہو گئی ہے، میں نے اسے پاسپورٹ کی تصویریں منگوائیں، اور پوچھا کہ ٹکٹ یکطرفہ کرواؤں یا دو طرفہ، تو عرفان نے کہا کہ یکطرفہ،
پولیس سارہ کے والد اور اسکے ساتھیوں کو تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے ،برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے۔عرفان شریف اور ملک دونوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ بتول اور پانچ بچوں کے پاس پاکستانی NICOP کارڈز ہیں –
دوسری جانب بی بی سی کا کہنا ہے کہ دس سالہ سارہ شریف کو اس کے والد نے ہی قتل کیا جس کی تلاش میں برطانیہ کی ایجنسیز پاکستان کے ساتھ رابطہ میں ہیں ،
جہلم کے علاقہ کڑی جنجیل سے تعلق رکھنے والے ملزم ملک عرفان نے 2009 میں برطانیہ میں پولش خاتون اوگلا سے شادی کی جس سے ایک بیٹی اور بیٹے کی پیدائش ہوئی سال 2017 میں عرفان نے اوگلا کو طلاق دے دی طلاق کے بعد دونوں بچوں کو والد کی تحویل میں دے دیا گیا ،ملک عرفان اپنی دوسری بیوی بینش بتول اور بچوں کے ساتھ سرے کے علاقہ میں شفٹ ہوا جہاں 10گست 2023 کو بچی کے قتل کا واقعہ پیش آیا، بچی کی موت کے دوسرے دن ہی ملک عرفان برطانیہ چھوڑ کر فیملی کے ہمراہ جہلم پہنچا اور کہیں روپوش ہوگیا ایف آئی اے حکام نے مقامی پولیس کی مدد سے ملک عرفان کی تلاش شروع کر رکھی ہے۔
عرفان اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ آبائی علاقے میں پہنچے تھے تاہم اب وہ اپنی مقامی رہائش گاہ سے بھی غائب ہیں عرفان کے بھائی عمران نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ اوگلا سے شادی کے بعد عرفان کا خاندان سے رابطہ ختم ہو چکا تھا۔ جب وہ جہلم آیا تو وہ اپنے بچوں کے بغیر ہی خاندان کے لوگوں سے ملنے آیا لیکن اس کے بعد سے اس کا کچھ پتہ نہیں عمران کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ عرفان اور باقی گھر والے میرپور آزاد کشمیر چلے گئے ہوں جہاں بینش کے والدین رہتے ہیں
سارہ کی لاش 10 اگست کو سرے کاؤنٹی کے قصبہ ووکنگ میں گھر سے ملی تھی ،برطانوی اخبارات کا کہنا تھا کہ عرفان شریف 20 برس قبل برطانیہ آیا تھا اور وہ ٹیکسی چلاتا تھا۔ تاہم اخبارات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپریل میں اس نے ساڑھے پانچ لاکھ پاؤنڈ سے سرے میں گھر خریدا تھا۔ جہاں وہ مقیم ہوئے Urfan Sharif, 41, Beinash Batool, 29, and Faisal Shahzad Malik, 28
برطانیہ کی شاہراہ پر ایک ہلکے طیارے کو دوہری کیریج وے پر کاروں سے بھری سڑک پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑ گئی۔
باغی ٹی وی : چمکدار پیلے رنگ کے ہوائی جہاز کی تصاویر شہریوں نے اس وقت لیں جب اس نے چیلٹن ہیم کے قریب A40 گولڈن ویلی بائی پاس کے مرکزی ریزرویشن بیریئر پر لینڈ کیا اس کے پنکھ دونوں سمتوں میں سفر کرنے والی ٹریفک کی لین میں پھیلے ہوئے تھے۔
گلوسٹر شائر کانسٹیبلری نے کہا کہ جمعرات کو شام 6 بجے جب طیارہ بائی پاس پر اترا تو اس واقعے میں کوئی دوسری گاڑیاں شامل نہیں تھیں اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا،اس ہنگامی لینڈنگ کے دوران طیارے میں موجود عملہ محفوظ رہا اور ہائی وے پر کاریں بڑی تباہی سے بچ گئیں۔ واقعے سے متعلق جمعہ کی صبح شہریوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایک ایمبولینس،ریسکیو کی گاڑی اور پولیس کی ٹیمیں فوری طورپر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں طیارے نے گلوسٹر شائر کے گولڈن ویلی ڈسٹرکٹ میں ہائی وے پر زبردستی لینڈنگ کی تھی۔ اس حوالے سے پولیس نے کہا کہ لینڈنگ کا عمل بحفاظت ہوا جس میں مالی و جانی نقصان نہیں ہوا ہے فضائی حادثات کی تحقیقاتی شاخ نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایک شخص نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ پائلٹ کتنا بہادر تھا؟ حیرت انگیز”، جب کہ ایک اور نے کہا کہ ایمرجنسی لینڈنگ کو سنبھالنے میں پائلٹ کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ کریش رکاوٹوں کو معمولی نقصان پہنچا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ایک عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ بس میں سوار تھے جب انہوں نے راستے میں طیارے کو دیکھا اور اس کی تصاویر لے لیں،میں نے جائے وقوعہ کے قریب سے کچھ فائر بریگیڈز کو حادثہ کی جگہ پر جاتے ہوئے دیکھا۔
گلوسٹر ایئرپورٹ کے نئے ڈائریکٹر جیسن آئیوی نے کہا کہ انجن کی خرابی کی وجہ سے اچانک لینڈنگ ہو سکتی ہے، جنہوں نے مزید کہا کہ طیارہ سٹیورٹن کی طرف اڑ رہا تھا، جہاں اسے عام طور پر رکھا جاتا ہے۔