Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • یورپ میں گرمی کی شدید لہر،برطانیہ میں ریلوے پھاٹک پر نصب ٹرین کے سگنلز پگھل گئے

    یورپ میں گرمی کی شدید لہر،برطانیہ میں ریلوے پھاٹک پر نصب ٹرین کے سگنلز پگھل گئے

    برطانیہ سمیت یورپ میں گرمی کی شدید لہر نے گرمی کے تمام ریکارڈز توڑ دیئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں 19 جولائی کو تاریخ میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.2 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق یہ پہلی بار ہے جب برطانیہ میں 40 سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا اس سے قبل برطانیہ میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2019 میں ریکارڈ کیا گیا تھا جو 38.7 سینٹی گریڈ تھا۔


    دوسری جانب گزشتہ روز برطانیہ کی نیشنل ریلوے کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے خطرناک ہیٹ ویو کی وجہ سے روڈ پر نصب ٹرین کے سگنلز کے پگھلنے کی تصاویر شیئر کی گئیں تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ برطانیہ کے قصبے سینڈی میں ایک ریلوے پھاٹک کے قریب سیاہ رنگ کے ٹرین کے سگنلز بظاہر موم کی طرح پگھل گئے۔

    اس کے علاوہ ریلوےحکام کی جانب سے مسافروں سے درخواست کی گئی کہ وہ ٹرین کا سفر کرنے سے قبل روٹ ( راستے) کی جانچ کرلیں کیوں کہ ہیٹ ویو کی وجہ سے پٹریوں پر آگ لگنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

    اس سے قبل نیشنل ریل نیٹ ورک نے مسافروں پر زور دیا تھا کہ بہت ضروری ہو تو ہی سفر کریں، ورنہ گھر میں قیام کریں جبکہ 19 جولائی تک شمال مغربی انگلینڈ اور لندن کے درمیان ٹرین سروس معطل رہے گی۔

  • یورپ میں شدید گرمی کی لہر جاری، برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ

    یورپ میں شدید گرمی کی لہر جاری، برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ

    یورپ میں ان دنوں گرمی کی شدید لہر جاری ہے جس سےگزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے جبکہ برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں کل سال کا گرم ترین دن رہا جبکہ فرانس کے کئی شہروں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں آئر لینڈ اورنیدرلینڈز کے کئی شہروں میں بھی شدید گرمی ہے، بیلجیئم میں بھی درجہ حرارت 40 ڈگری تک جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے پرتگال اور اسپین میں ایک ہفتے میں شدید گرمی سے 1 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوئی ہیں-

    فرانس کے مغربی اٹلانٹک ساحلی شہر بریسٹ میں پیر کے روز گرمی کا 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، بریسٹ میں درجہ حرارت39.3 ریکارڈ کیا گیا فرانسیسی شہر بریسٹ میں اس سے قبل 2002 میں درجہ حرارت 35.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    اس کے علاوہ فرانس کے شمال مغربی علاقے سینٹ بریوک میں درجہ حرارت 39.5 ڈگری کو چھوگیا،شہر میں اس سے قبل زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38.1 تک ریکارڈ کیا گیا تھافرانس کے ایک اور مغربی شہرنانٹیس میں گرمی کا 73 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،جہاں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا فرانس کے شہر نانٹیس میں اس سے قبل 1949 میں درجہ حرارت 40.3 ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ یورپ کے بیشتر حصوں میں ہیٹ ویوز کی وجہ سے درجہ حرارت 40 سے 50 ڈگری کے درمیان پہنچ چکا ہے ۔

    دوسری جانب فرانس، پرتگال اور اسپین کے جنگلات میں شدید گرمی کے باعث آگ بھڑک اٹھی، پرتگال میں جنگلات کا 75ہزار ایکڑ اور فرانس میں 22 ہزار ایکڑ حصہ آگ کی لپیٹ میں آگیا، متاثرہ علاقوں سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

  • خطرناک ہیٹ ویو:برطانیہ میں ’نیشنل ایمرجنسی‘ نافذ کردی گئی

    خطرناک ہیٹ ویو:برطانیہ میں ’نیشنل ایمرجنسی‘ نافذ کردی گئی

    لندن :برطانیہ میں ’نیشنل ایمرجنسی‘ نافذ ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ریکارڈ درجہ حرارت بڑھنے پر شدید گرمی کی وارننگ جاری کردی گئی ۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی محکمہ موسمیات نے ممکنہ خطرناک ہیٹ ویو کی ’نیشنل ایمرجنسی‘ کی سطح تک ’ریڈ وارننگ‘جاری کردی ہے ۔یورپ کا بیشتر حصہ اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی بڑھ چکا ہے۔

    شدید گرمی کے باعث گزشتہ روز پرتگال، اسپین، فرانس اور کروشیا میں جنگلات میں آگ بھی بھڑک اٹھی ہے۔

    برطانیہ میں 25 جولائی 2019 کو کیمبرج یونیورسٹی کے بوٹینک گارڈن میں برطانوی تاریخ کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 38.7 ڈگری سینٹی گریڈ (102 فارن ہائیٹ) ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    برطانوی محکمہ موسمیات نے جاری کردہ الرٹ میں کہا ہے کہ برطانیہ میں پہلی بار درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ پال گنڈرسن کا کہنا ہے کہ غیر معمولی اور ریکارڈ توڑنے والے درجہ حرارت کا امکان اگلے ہفتے کے اوائل میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا 50 فیصد امکان ہے کہ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جائے گا اور 80 فیصد امکان ہے کہ نئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تک پہنچ جائے گا۔

  • برطانیہ بحرانوں کی زد میں:کہیں سیاسی بحران توکہیں معاشی:کورونا نے بھی حملے تیزکردیئے

    برطانیہ بحرانوں کی زد میں:کہیں سیاسی بحران توکہیں معاشی:کورونا نے بھی حملے تیزکردیئے

    لندن:برطانیہ بحرانوں کی زد میں:کہیں سیاسی بحران توکہیں معاشی:کورونا نے بھی حملے تیزکردیئے،اطلاعات کے مطابق برطانیہ اس وقت کئی محاذوں پرنبردآزما ہے اور ایک ہی وقت میں کئی بحرانوں کا سامنا کررہا ہے،

    برطانیہ جہاں ایک طرف سیاسی بحران بھی انتہا پرپہنچ چکا ہے تو دوسری طرف معاشی بحران نے برطانیہ کوبہت زیادہ متاثرکیا ہے ،بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی بڑا اضافہ ہورہا ہے،

    اس دوران کورونا وائرس نے بھی پھر سے حملے تیز کردیئے ہیں‌، برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے برطانیہ میں کووِڈ کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہر20 میں سے ایک برطانوی شہری کووڈ کا شکارہورہا ہے اور یہ شرح بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے، ادھر ذرائع کاکہنا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد اپنی تمام ترمصروفیات کومنسوخ کررہی ہے ، گھر میں رہ رہی ہے اور دوبارہ ماسک پہن رہی ہے۔

    دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے ہفتہ وار انفیکشن سروے میں پتا چلا ہے کہ 6 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں 3.5 ملین برطانوی وائرس کا شکارہوچکے تھے کیونکہ قومی سطح پر کیسز میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہوا ہے۔

    اس شماریاتی ادارے کی چیف تجزیہ کار سارہ کرافٹس نے کہا کہ انفیکشنز ‘کم ہونے کے کوئی آثار نہیں دکھا رہے ہیں’ اورخدشہ ظاہر کیاکہ اس سال گرمی میں یہ رفتار بہت تیز ہوجائے گی اورمعاملات بگڑسکتےہیں

    تعلیمی ادارے بند ہیں ، کرسمس کی تقریبات پھرخطرے میں ہیں اوراس وبائی مرض کے خلاف لڑنے والے رضاکاربہت زیادہ متاثرہیں

    اگرچہ حکومت نے اس وقت تک پابندیاں دوبارہ عائد نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے جب تک کہ کوویڈ میں اضافہ جان لیوا نہ ہو جائے، سابقہ حالات کے پیش نظر برطانوی پہلے ہی بڑھتے ہوئے اعدادوشمار کے جواب میں اپنے طرز عمل میں نرمی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    آج میل آن لائن کے لیے کیے گئے ایک خصوصی پول میں پتا چلا ہے کہ پچھلے مہینے میں 10 میں سے تین لوگ کووِڈ سے بچنے کے لیے گھر پر ہی رہے ہیں اور 42 فیصد نے چہرے کا ماسک پہن رکھا ہے۔

    تقریباً آدھے لوگوں نے سماجی دوری کے اصول کواپنایاہے ، جبکہ دو تہائی نے کہا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو بار بار دھونے کولازمی قراردیا ہے ۔ ریڈ فیلڈ اینڈ ولٹن سٹریٹیجیز کے 1,500 برطانویوں کے سروے کے مطابق، صرف 16 فیصد لوگوں نے یعنی چھ میں سے ایک نے پچھلے مہینے کے دوران کوئی احتیاط نہیں کی ہے۔

  • رشی سنک وزارت عظمیٰ‌ کی دوڑ میں‌ پیچھے:پینی مورڈانٹ اگلی برطانوی وزیراعطم ہوسکتی ہیں‌

    رشی سنک وزارت عظمیٰ‌ کی دوڑ میں‌ پیچھے:پینی مورڈانٹ اگلی برطانوی وزیراعطم ہوسکتی ہیں‌

    لندن:بھارتی نژاد برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ رشی سنک کے لیے مشکلات پیدا ہونے لگیں ،اطلاعات کے مطابق بھارتی نژاد رشی سنک کو آج اس وقت دھچکا لگا جب ایک پول میں‌ اکثریت نے کہا کہ ویسٹ منسٹر کے فرنٹ رنر ٹوری ممبران کے رن آف بیلٹ میں پینی مورڈانٹ سے ہار جائیں گے۔

    یہ بھی معلوم ہو اہے کہ ایم پیز نے قیادت کے مقابلے کے پہلے راؤنڈ میں ووٹنگ مکمل کر لی ہے – جس کا نتیجہ شام 5 بجے آنا تھا ، ان ابتدائی اطلاعات کے مطابق پینی مورڈانٹ برطانیہ کی اگلی وزیراعظم بن سکتی ہیں

    اس سے پہلے برطانوی میڈیا کا کہناتھا کہ اس وقت پینی مورڈانٹ یا لِز ٹرس بہت آگے ہیں اورجن کے بارے میں پیشن گوئی کی جارہی تھی وہ بظاہر پیچھے نظرآرہےہیں ،

     

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ بھارتی نژاد سابق وزیرخزانہ رشی سنک برطانیہ کے نئے وزیراعظم ہوں گے ، اسی عزم کے ساتھ بھارتی نژاد برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ رشی سنک نے اعلان کیا تھا کہ وہ بورس جانسن کی جگہ لینے کے لئے انتخاب لڑ رہے ہیں ۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع بین ویلیس کے انکار کے بعد بھارتی نژاد سابق وزیر خزانہ رشی سنک نے برطانوی وزیر اعظم کیلئے مہم کا آغاز کر دیا ہے ۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق رشی سنک کو متعدد سینئر پارٹی ارکان کی مکمل حمایت حاصل ہے جن میں اولیور ڈاوڈن ، مارک سپنسر اور لیام فاکس کے نام نمایاں ہیں ۔

    انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق بین ویلیس سروے رپورٹس اور بک میکرز کی نظر میں کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کیلئے مضبوط ترین امیدوار تھے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس امیدوار کی حمایت کرتے ہیں ۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ رشی سنک کے اتحادی پاکستانی نژاد ساجد جاوید کو قائل کرنے کی کوشش میں ہیں کہ وہ اُن کا ساتھ دیں تاکہ رشی سنک کی کامیابی کی راہ ہموار ہوں سکے

    لیکن ابھی جو پری سروے ہوا اس نے رشی سنک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اوراگرصورت حال یہی رہی تو پھراس بات کا قوی امکان ہےکہ برطانیہ کی اگلی وزیراعظم مورڈانٹ یا لِز ٹرس ہوں گے

  • برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    لندن:برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا ،بی بی سی کی ایک تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ کی ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کور کے کمانڈوز نے افغانستان میں دوران قیام کم از کم 54 افغان شہریوں کو ہلاک کیا لیکن اعلیٰ فوجی حکام نے اس سے آگاہ ہونے کے باوجود کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔

    افغآنستان میں افغآنیوں کے قتل عام کے حوالے سے چار سالہ تحقیقات کی رپورٹ جو منگل کو شائع ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں اپنی تعیناتی کے دوران، غیر مسلح افغان مردوں کو معمول کے مطابق برطانوی فوجیوں نے رات کے وقت چھاپوں کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا،

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے ہی ایک واقعے میں افغان شہریوں کوایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) یونٹ نے نومبر 2010 سے مئی 2011 تک جنوبی صوبہ ہلمند کے چھ ماہ کے دورے کے دوران گولی مار دی تھی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل مارک کارلٹن سمتھ سمیت سینئر افسران، جو اس وقت یو کے اسپیشل فورسز کے سربراہ تھے،جرائم سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے ملٹری پولیس کو رپورٹ نہیں کی۔

    یاد رہے کہ مسلح افواج پر حکمرانی کرنے والے برطانوی قانون کے مطابق ممکنہ جنگی جرائم سے آگاہ ہونا اور ملٹری پولیس کو اطلاع نہ دینا جرم ہے۔

    بی بی سی کا کہنا ہے کہ "رات کے چھاپوں میں بہت سارے لوگ مارے جا رہے تھے ۔ ایک بار جب کسی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے،تواسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جاتا تھا جب تک کہ اس کی جان نہ لے لی جاتی

    "اس کا بار بار ہونا ہیڈکوارٹر میں خطرے کی گھنٹی کا باعث بن رہا تھا۔ اس وقت یہ واضح تھا کہ کچھ غلط تھا۔بی بی سی کے پروگرام ’پینوراما‘، جس نے رپورٹ شائع کی، کہا کہ یہ تحقیقات عدالتی دستاویزات، لیک ای میلز اور جنگ زدہ ملک میں کارروائیوں کی جگہوں پر اس کے اپنے صحافیوں کے سفر پر مبنی تھی۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے کافی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔

    گروپ کی طرف سے کیے گئے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے، بیان میں ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ برطانیہ کی مسلح افواج نے "افغانستان میں جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ خدمات انجام دیں اور ہم انہیں ہمیشہ اعلیٰ ترین معیارات پر قائم رکھیں گے۔”

    برطانوی لڑاکا فوجیوں نے 2014 میں افغانستان سے امریکہ کی قیادت میں نیٹو اتحاد کے ایک حصے کے طور پر ملک پر حملہ کرنے کے تقریباً 13 سال بعد انخلا کیا۔پچھلے سال اگست میں، طالبان کے ڈرامائی قبضے کے بعد باقی تمام برطانوی فوجی ملک چھوڑ گئے تھے۔

    مئی میں جاری ہونے والی فوجی انخلاء کے بارے میں ایک پارلیمانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے برطانوی انخلاء ایک "تباہی” اور ملک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ "خیانت” تھا جس کی وجہ انٹیلی جنس، سفارت کاری، منصوبہ بندی اور تیاری کی نظامی ناکامی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ دفتر خارجہ کے سینئر رہنما چھٹی پر تھے جب کابل گرا، قومی ہنگامی صورتحال کے وقت سنجیدگی، گرفت یا قیادت کی بنیادی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔”

  • سری لنکا کے معاشی حالات:برطانیہ اور نیوزی لینڈ نے اورمشکل میں ڈال دیا

    سری لنکا کے معاشی حالات:برطانیہ اور نیوزی لینڈ نے اورمشکل میں ڈال دیا

    کولمبو: سری لنکا کے معاشی حالات:برطانیہ اور نیوزی لینڈ نے اورمشکل میں ڈال دیا ،اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو سری لنکا کے سفر سے گریز کی ہدایت جاری کردی ہیں۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ اور نیوزی لینڈ کی حکومتوں نے سری لنکا میں بگڑتے ہوئے معاشی حالات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی کے باعث اپنے شہریوں کے لیے جاری کردہ ’ٹریول ایڈوائزری‘ کو تبدیل کردیا ہے۔اس کے علاوہ امریکا، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور آئرلینڈ نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سری لنکا کا سفر کرنے سے گریز کریں۔

     

     

    مذکورہ دونوں ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کو سری لنکا کے سفر کے خلاف جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا کے پہلے سے ہی مشکلات کا شکار سیاحتی شعبے کو مزید متاثر کرے گی۔

     

     

     

    ادھر سری لنکا کے محکمہ سیاحت کی اتھارٹی (ایس ایل ٹی ڈی اے) کے صدر پرینتھا فرنینڈو نے واضح کیا کہ مختلف ممالک کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بیرون ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کریں۔انہوں نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ سری لنکا کے موجودہ منظر نامے کے باعث مقامی سیاحوں کو تھوڑی مشکلات ضرور ہیں ، تاہم ہم سری لنکا آنے والے سیاحوں کو کسی بھی پریشانی سے پاک سفر کا تجربہ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

     

     

     

    صدر پرینتھا فرنینڈو نے بتایا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں ایک لاکھ 11 ہزار 337 سیاحوں نے سری لنکا کا سفر کیا، جب کہ کووڈ-19 کے اثرات کی وجہ سے 2021 کے پہلے چھ ماہ میں صرف 17 ہزار سیاحوں نے سری لنکا کا دورہ کیا تھا۔

     

  • برطانیہ بھی نسلی منافرت کی لپیٹ میں،گراؤنڈ میں خفیہ اہلکار تعینات ہوں گے:انگلش کرکٹ حکام

    برطانیہ بھی نسلی منافرت کی لپیٹ میں،گراؤنڈ میں خفیہ اہلکار تعینات ہوں گے:انگلش کرکٹ حکام

    لندن:برطانیہ بھی نسلی منافرت اورانتہا پسندی کی لپیٹ میں آگیا ہے ، جس کی وجہ سے کرکٹ حکام نسل پرستانہ بدسلوکی کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے دوران ایجبسٹن میں ہجوم میں خفیہ اہلکار تعینات کریں گے۔تفصیلات کے مطابق وارکشائر، انگلش کاؤنٹی جس کا ہیڈ کوارٹر برمنگھم گراؤنڈ میں ہے۔

    وارکشائر نے ایجبسٹن میں ہندوستان کے خلاف انگلینڈ کے حالیہ ٹیسٹ میچ کے دوران متعدد شائقین کی جانب سے بدسلوکی کے واقعات کی اطلاع کے بعد نسل پرستی کو ختم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    پولیس نے پہلے ہی پانچ کے چوتھے دن پیر کو کیے گئے نسل پرستانہ تبصروں کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جس کا اختتام انگلینڈ نے ایک ڈرامائی میچ سات وکٹوں سے جیت کر کیا۔

    وارک شائر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خفیہ فٹ بال کراؤڈ اسٹائل کے اہلکاروں کو بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران پورے اسٹیڈیم میں رکھا جائے گا تاکہ بدسلوکی کو سنیں اور فوری کارروائی کے لیے اس کی اطلاع دیں۔

    وارکشائر کے چیف ایگزیکٹیو سٹورٹ کین نے کہا کہ کلب کو ٹیسٹ میچ کو متاثر کرنے والے واقعات سے نمٹنے کے لیے مزید کچھ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے اس ہفتے کے شروع میں حالیہ تاریخ کے سب سے دلچسپ ٹیسٹ میچوں میں سے ایک دیکھا۔

    اسٹورٹ کین کے مطابق ہم ایرک ہولیس اسٹینڈ میں بھارت کی پیروی کرنے والے کچھ شائقین کے ذریعہ نسل پرستانہ بدسلوکی سے چھپ نہیں سکتے۔کین کا کہنا تھا کہ تھوڑی تعداد میں لوگوں کے ان ناقابل قبول اقدامات نے کھیلوں کے ایک شاندار مقابلوں کو گہنا دیا ہے، اور اس کے ذمہ دار لوگ کرکٹ فیملی کا حصہ بننے کے مستحق نہیں ہیں۔

    اسٹورٹ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں لوگوں کے ساتھ ساتھ ایک مقام کے طور پر، اس بات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری لینے کے لیے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے کہ کھیل دیکھتے وقت ہر کوئی محفوظ اور خوش آئند محسوس کرے۔”

    واضح رہے کہ آفیشل انڈیا سپورٹرز کلب نے کہا کہ ایجبسٹن گراؤنڈ میں ان کے بہت سے اراکین کو چند افراد کے گروہ نے نسل پرستی کا نشانہ بنایا۔یاد رہے کہ انگلینڈ اور بھارت کے درمیان تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز جمعرات کو ساؤتھمپٹن ​​کے قریب ہیمپشائر کے ایجیاس باؤل گراؤنڈ میں شروع ہوگی۔

  • ایران میں برطانیہ کے سینئرایلچی سمیت متعددغیرملکی جاسوسی کےالزام میں  گرفتار

    ایران میں برطانیہ کے سینئرایلچی سمیت متعددغیرملکی جاسوسی کےالزام میں گرفتار

    ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے تہران میں متعیّن برطانیہ کے دوسرے سب سے سینیرسفارت کار سمیت متعدد غیرملکیوں کو جاسوسی کی مبیّنہ کارروائیوں کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔ان پرممنوعہ علاقوں سے مٹی کے نمونے لینے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :"روئٹرز” کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ ایران کے پاسداران انقلاب نے تہران میں برطانیہ کے دوسرے سب سے سینئر ایلچی سمیت متعدد غیر ملکیوں کو جاسوسی کی مبینہ کارروائیوں جیسے کہ ممنوعہ علاقوں میں مٹی کے نمونے لینے کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

    امریکا کا ایرانی تیل سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان

    اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کب گرفتار کیا گیا یا افراد ابھی تک گرفتارہیں یا انھیں چھوڑ دیا گیا ہےبرطانیہ نے کہا کہ یہ رپورٹس "مکمل طور پر غلط” ہیں۔

    سرکاری ٹی وی نے کہا کہ یہ جاسوس ایران کے وسطی صحرا میں زمین کے نمونے لے رہے تھے جہاں پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس میزائل کی مشقیں کی گئی تھیں۔”

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے جو کچھ کہا ہے وہ وسطی ایران میں جائلز وائٹیکر اور ان کے خاندان کی فوٹیج ہے جہاں برطانوی سفارت کار زمینی نمونے لے رہے ہیں۔ ٹی وی نے کہا کہ یہ ایک ایسے علاقے کے قریب تھا جہاں گارڈز کی طرف سے میزائل کا تجربہ کیا جا رہا تھا۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن مستعفی ہوگئے

    ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "وائٹیکر کو (حکام سے) معافی مانگنے کے بعد شہر سے نکال دیا گیا تھا۔”

    تاہم، برطانیہ کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ایران میں ایک برطانوی سفارت کار کی گرفتاری کی خبریں مکمل طور پر غلط ہیں۔

    امریکہ میں برطانیہ کے ترجمان سیموئل ہیتھ نے ٹویٹ کیا: "وہ (وائٹیکر) اب ایران میں بھی تعینات نہیں ہیں!”

    زیر حراست افراد میں سے ایک کی شناخت سرکاری ٹی وی نے ایران میں آسٹریا کے ثقافتی اتاشی کے شوہر کے طور پر کی ہے۔ آسٹریا کے حکام اس معاملے پر تبصرہ کرنے کے لیے فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔

    ٹی وی نے تیسرے غیر ملکی کی تصویر بھی دکھائی، جس کی شناخت پولینڈ کی یونیورسٹی کے پروفیسر ماکیج والزاک کے نام سے ہوئی، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک سیاح کے طور پر ایران کا دورہ کر رہا تھا۔

    ملا عمر کی 21 سال قبل زیر زمین چھپائی گئی گاڑی مل گئی

    ٹی وی رپورٹ میں مبینہ طور پر والزاک اور تین ساتھیوں کو ایک سائنسی تبادلے کے پروگرام میں ایران کا دورہ کرنے کے بعد دوسرے علاقے میں زمین کے نمونے جمع کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان کے نمونوں کا مجموعہ بھی ایران کے جنوبی صوبہ کرمان میں میزائل تجربے کے ساتھ ملا۔

    ایران کے ایلیٹ پاسداران انقلاب نے حالیہ برسوں میں درجنوں دوہری شہریت رکھنے والے اور غیر ملکیوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں زیادہ تر جاسوسی اور سیکیورٹی سے متعلق الزامات میں ہیں۔

    انسانی حقوق کے گروپوں نے اسلامی جمہوریہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ سیکورٹی کے الزامات کے تحت گرفتاریوں کے ذریعے دوسرے ممالک سے مراعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو شاید ٹرمپ کر چکے ہیں۔ تہران سیاسی وجوہات کی بنا پر لوگوں کی گرفتاری سے انکار کرتا ہے۔

    ملا عمر کی 21 سال قبل زیر زمین چھپائی گئی گاڑی مل گئی

  • برٹش ایئرویز نے اکتوبر تک کی اپنی مزید 10,300  پروازیں منسوخ کر دیں

    برٹش ایئرویز نے اکتوبر تک کی اپنی مزید 10,300 پروازیں منسوخ کر دیں

    لندن :برٹش ایئرویزنے اعلان کیا ہے کہ وہ اکتوبر کے آخر تک مزید 10,300 مختصر فاصلے کی پروازوں میں کمی کرے گی۔

    ایئر لائن، وبائی امراض کے بعد کے عملے کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد میں سے جس کے نتیجے میں اس سال مسافروں کے لیے بڑے پیمانے پرمعاملات میں سردمہری آئی ہےجس کی وجہ سے ایئرلائن نے شیڈول کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں یہ پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے

    ادھریہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ اس ہڑتال کی دھمکی کے بعد آیا جس کے بارے میں کہاجارہاہےکہ برٹش ایئرویز کے ملازمین تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف احتجاج کرنے جارہے ہیں، ایئرویز کا خیال ہےکہ اس بحران سے نمٹنے کا واحد حل یہی ہےکہ فی الوقت یہ پروازیں منسوخ کردی جائیں تاکہ اس بحرانی عرصےکےبعد معاملات کو سنبھالا دیا جاسکے

    یاد رہےکہ اس سے پہلے بھی برٹش ایئرویز بہت سی پروازیں منسوخ کرچکی ہے، جس سے ایئرویز کو بہت ہی زیادہ معاشی دھچکہ لگا ہے

    پچھلے سال بھی برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز نے مارچ 2022 تک کے لیے شیڈول کی گئی اپنی دو ہزار 144 پروازیں منسوخ کر چکی ہے۔ برٹش ایئرویز نے رواں ماہ دسمبر میں جانے والی 210پروازیں منسوخ کی تھیں‌۔ اسی طرح جنوری کی ایک ہزار 146، فروری کی 210اور مارچ کی 243پروازیں منسوخ کی گئی تھیں۔

    کمپنی کے اس حالیہ فیصلے سے اندرون و بیرون ممالک دونوں روٹس متاثر ہوں گے۔ کمپنی کے ترجمان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پروازیں منسوخ کرنے کے اس فیصلے کا کئی پہلووں کے حوالے اطلاق کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ اور دیگر بیشتر ممالک کی طرف سے اومیکرون کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے نئی سفری بندشیں لاگو کی جا رہی ہیں۔