Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

    لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

    لندن :.لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا ،اطلاعات کے مطابق برطانوی ماہرین نےلاک ڈآؤن میں تحقیق کرکے ایک نیا انقلاب برپا کردیا ہے ، اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ ماہرین نے 550 جانور دریافت کرکے تحقیق میں ایک نیا باب کا اضافہ کردیا ہے

    ایک گول مٹول سا بھنورا، پنکھے نما حلق والی چھپکلی اور ایک دیوہیکل چوہا جیسی نئی انواع سال 2021 میں دریافت ہوئی ہیں۔یہ تمام دریافتیں برطانیہ کے نیچرل ہسٹری میوزیم کے ماہرین نے کی ہیں جو کووڈ 19 کی خوفناک وبا کے باوجود منظرِ عام پرآئی ہیں۔ اس میوزیم کو وائٹ نامی جزیرے پر دو گوشت خور ڈائنوسار کے آثار بھی ملے ہیں جنہیں سب سے بڑی دریافت کہا جاسکتا ہے۔

    ایک اور دریافت کو چیف ڈریگن کا نام دیا گیا ہے جو ایک طرح کا ڈائنوسار تھا لیکن اس کی جسامت مرغی جتنی تھی۔ اگرچہ برطانیہ میں ڈائنوسار کی دریافت کی تاریخ 150 سال پرانی ہے لیکن میوزیم سے وابستہ سائنسداں سوسانا میڈمنٹ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باوجود جدید تحقیق ہوئی، دنیا بھر سے ڈیٹا ملا اور نت نئی دریافتیں ہوئیں جن میں ڈائنوسار سرِفہرست ہیں۔

    کورونا وبا میں باہرنہ جانے کی وجہ سے سائنسدانوں نے میوزیم کے ان آثار کو دیکھا جو ایک عرصے سے لکڑیوں کے باکس یا ڈسپلے میں رکھے تھے۔ فرصت کی وجہ سے ان پر دن رات غور کیا گیا اور زمین کے ماضی اور حال سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں نئی انواع سامنے آئیں جن میں پرندے، حشرات، پودے اور دیگر جانور شامل ہیں۔

    ان میں سے بعض جانور کے آثار یا فاسل 60 سال سے رکھے ہوئے تھے لیکن ان پر نگاہ نہیں گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میوزیم کے سائنسدانوں نے اسے لاک ڈاؤن پراجیکٹ کا نام دیا ہے۔ بلاشبہ یہ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ بحران میں مفید اور تحقیقی کام کرتی رہتی ہیں۔

  • صرف 40 منٹ جاری رہنے والی تاریخ کی مختصر ترین جنگ

    صرف 40 منٹ جاری رہنے والی تاریخ کی مختصر ترین جنگ

    اینگلو- زنزیبار جنگ (27 اگست 1896) یہ جنگ برطانوی راج اور زنزیبار سلطنت کے درمیان بہت ہی مختصر تصادم پر مبنی تھی –

    باغی ٹی وی : 1896 میں ، براعظم کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لئے افریقی ممالک میں یورپی ممالک کی نوآبادیات تھیں افریقہ میں سیاسی منظرنامے پر فرانس ، برطانیہ اور جرمنی کا غلبہ ہے۔ کبھی کبھی ، افریقی ممالک نے اپنے نوآبادیاتی آقاؤں کے خلاف بغاوت کی یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تک نہیں تھا کہ بہت ساری افریقی ممالک نے یورپی مالکان سے آزادی حاصل کی۔

    بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی بند نہیں کی تو خانہ جنگی کا خطرہ ہے،نصیر الدین شاہ

    اینگلو زنزیبار جنگ اسی نوآبادیاتی جدوجہد کا حصہ تھی زنزیبار موجودہ دور میں تنزانیا کا حصہ ہے تاہم اس وقت اس کی ایک عظیم سلطنت ہوا کرتی تھی جو مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی برطانیہ کے حامی سلطان حماد بن تھوینی کا صرف تین سال اقتدار میں رہنے کے بعد جنگ سے 2 دن پہلے 25 اگست 1896 کو انتقال ہوگیا-

    حکومت کی باگ ڈورسلطان کے کزن خالد بن برگش نے سنبھال لی یہ افواہیں تھیں کہ نئے سلطان نے بوڑھے کو زہر دے دیا ، شاید اس لئے کہ خالدبرطانوی نوآبادیاتی حکمرانی سے متفق نہیں تھی وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک خودمختار ہو تاکہ اس غلام منافع بخش تجارت سے فائدہ اٹھاسکےجو اس وقت افریقہ میں موجود تھا لیکن برطانوی راج کو یہ شخص پسند نہیں تھا برطانیہ کی خواہش تھی کہ وہ اس کے بجائے اپنے من پسند دیدہ حمود بن محمد کو تخت پر لاکر بٹھائے۔

    سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے، امریکہ کی شدید مذمت

    ایک سال قبل دونوں حکومتوں کے مابین ہوئے معاہدے کے تحت زنزیبار سلطان کے چناؤ کا حتمی فیصلہ برطانیہ کے ہی ہاتھ میں تھا لیکن خالد نے اس معاملے میں برطانیہ کی مداخلت کو ماننے سے انکار کردیا تاہم برطانیہ نے اسے دعوتِ جنگ پر محمول کیا۔

    خالد کو 27 اگست صبح 9 بجے حکومت سے دستبردار ہونے کی مہلت دی گئی لیکن خالد شاہی محافظوں کے ساتھ اپنے قلعے میں محفوظ ہوگیا اور 2800 سپاہی جنگ کیلئے تیار ہوئے صبح 9 بجے برطانیہ اپنی 1000 کی فوج لے کر پہنچ گیا۔ سپاہیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود زنزیبار کے پاس برطانوی فوج کے مقابلے میں نہ تو بہترین ہتھیار تھے اور نہ ہی جنگی تربیت جبکہ برطانوی افواج بہت اچھی طرح سے لیس تھیں اور خالد کے خیال سے کہیں زیادہ خطرناک تھیں-

    اردن کی پارلیمنٹ میدان جنگ بن گئی،ارکان آپس میں دست گریباں

    لد کا اپنی بحری جہاز میں اکیلا جہاز ، گلاسگو ، ایک عیش و آرام کی کشتیاں تھی جسے ملکہ وکٹوریہ نے انہیں دیا تھا۔ یہ لڑائی کے لئے موزوں نہیں تھا ، اور خاص طور پر قابل نہیں تھا کہ وہ رائل نیوی کو بہت زیادہ اعلی سطح پر لے سکے۔ راؤسن کی کمان میں ایچ ایم ایس سینٹ جارج کی سربراہی میں رائل نیوی کے پانچ جہاز ، گلاسگو کے پاس فضلہ بچھایا اور اپنے عملے کو بچایا۔

    ٹھیک 9 بجے توپوں کو حکم دیا گیا فائر اور توپوں نے گولے برسانے شروع کردیے اندھا دھند فائرنگ اور بِلا رُکے حملے میں 3،000 میں سے 500 زنزیبار کے سپاہی و شہری زخمی اور ہلاک ہوئے اور برطانوی فوج کے 100 میں سے صرف ایک سپاہی ہلاک ہوا جبکہ صرف 40 منٹ کے بعد ، خالد کی فوجیں وہاں سے بھاگ گئیں دنیا کی تاریخ کی مختصر ترین جنگ ختم ہوگئی 9 بج کر 40 منٹ پہ آخری دو فائر ہوئے اور جنگ ختم ہوگئی۔

    اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    خالد اور اس کے قریبی حلقہ نے قریبی جرمن قونصل خانے میں پناہ کی درخواست کی برطانیہ نے بالآخر پہلی جنگ عظیم کے دوران خالد پر قبضہ کرلیا ، اور یہ وہ وقت تھا جب اس نے جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے اور سلطانی سے اپنا دعوی ترک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    اس بمباری کو تاریخ کی مختصر ترین جنگ کا خطاب دیا حمود کو نیا حکمران قرار دے دیا گیا اور ایک بار پھر امن بحال ہوا برطانوی مطالبات کا حصول کرتے ہوئے ، اس نے سن 1897 میں صدیوں قدیم مشرقی غلام تجارت پر غلامی پر پابندی عائد کرکے اور غلاموں کو آزاد کرکے ، ان کے مالکان کو معاوضہ دے کر ، زنزیبار کے کردار کو ختم کیا-

    مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحیت کی تو بھرپور جوابی وار کریں گے،روسی…

  • کورونا نے برطانوی معیشت کوڈبودیا:4 ارب پونڈز میں بہت بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹوربیجنے پرمجبور

    کورونا نے برطانوی معیشت کوڈبودیا:4 ارب پونڈز میں بہت بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹوربیجنے پرمجبور

    لندن :کورونا نے برطانوی معیشت کوڈبودیا:4 ارب پونڈز میں بہت بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹوربیجنے پرمجبور،اطلاعات کے مطابق جہاں کورونا نے غریب اور بہت زیادہ آبادی والے ملکوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے وہاں اس وبا کی وجہ سے کم آبادی والے اور بہت زیادہ وسائل والے ترقی یافتہ ممالک بھی متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکے ، ،تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیاہے کہ برطانیہ جسے ایک امیر ملک اور کم آبادی کے ساتھ بہت زیادہ وسائل والا ملک کہا جاتاہے اب ماضی کا حصہ بن گیا اور معیشت اس قدر تباہ حال ہوگئی ہے کہ ڈپارٹمنٹ اسٹورکو4 ارب برطانوی پونڈز میں فروخت کرنا پڑا

    گروپ کی طرف سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سودا ‘دنیا کے معروف اومنی چینل لگژری ڈپارٹمنٹ اسٹور گروپس سے کیا گیا ہے
    یہ بھی کہا گیاہے کہ یہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور 4 ارب برطانوی پونڈز میں فروخت ہوا اور اس میں انگلینڈ، نیدرلینڈز اور آئرلینڈ میں 18 ڈیپارٹمنٹل اسٹورز شامل ہیں۔

    وہ ڈپارٹمنٹل اسٹوراور اس کی شاخیں ایک مشترکہ سینٹرل اور سگنا پورٹ فولیو کا حصہ بنیں گے جس میں اٹلی میں Rinascente، ڈنمارک میں Illum، سوئٹزرلینڈ میں Globus اور جرمنی اور آسٹریا میں KaDeWe گروپ شامل ہیں۔سنٹرل گروپ، جس کا کنٹرول تھائی چیراتھیواٹ فیملی، اور آسٹریا کے رئیل اسٹیٹ ماہرین سگنا گروپ، 50-50 مشترکہ منصوبے میں سیلفریجز کا کنٹرول سنبھالیں گے۔

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہاہےکہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی اس ڈیپارٹمنٹل اسٹور کی کامیاب بولی لگانے میں ناکام رہی

     

     

    ویسٹنز کے ساتھ معاہدے میں کھانے پینے کے برطانیہ کے چار اسٹورز شامل ہوں گے – دو مانچسٹر میں، ایک برمنگھم میں اور لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ پر اس کی فلیگ شپ سائٹ – نیز آئرلینڈ میں آرنٹس اور براؤن تھامس سمیت 14 دیگر دکانیں شامل ہوں گی۔

    سیلفریجز کی بنیاد 1908 میں ہیری گورڈن سیلفریج نے رکھی تھی۔ ڈبلیو گیلن ویسٹن نے 2003 میں فلیگ شپ آکسفورڈ اسٹریٹ سیلفریج اسٹور خریدا اور 2010 میں سیلفریجز گروپ بنایا۔

    یہ برطانوی ہائی اسٹریٹ کے لئے ایک تباہ کن خبر ہے، اس سے پہلے معاشی تباہی کی وجہ سے ڈیبن ہیمس، ٹاپ شاپ اور ڈوروتھی پرکنز سمیت بڑے ریٹیل گروپس بھی اب اپنا وجود کھو چکے ہیں‌

    سیلفریجز گروپ کے چیئرمین، اور ڈبلیو گیلن ویسٹن کی زندہ بچ جانے والی بیٹی، ایلانا ویسٹن نے کہا کہ یہ حصول ‘خوبصورت، واقعی تجرباتی، ڈپارٹمنٹ اسٹورز کے ایک مشہور گروپ کے لیے میرے والد کے وژن کی کامیابی کا ثبوت ہے’۔

    سینٹرل گروپ نے تھائی لینڈ کا پہلا ڈپارٹمنٹ اسٹور 1956 میں کھولا اور اب دنیا بھر میں تقریباً 3,700 اسٹورز ہیں۔اس کے نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر Vittorio Radice نے 1996 اور 2003 کے درمیان Selfridges چلایا اور 2006 سے اٹلی میں ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور کا انتظام کر رہے ہیں۔

  • برطانیہ :24 گھنٹوں میں کورونا کے مزید 90 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

    برطانیہ :24 گھنٹوں میں کورونا کے مزید 90 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

    برطانیہ میں 24 گھنٹوں میں کورونا کے مزید 90 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں 24 گھنٹوں میں 15 ہزار 363 افراد اومی کرون کا شکار ہوئے ہیں جس کے بعد اومی کرون ویرینٹ کے متاثرین کی تعداد 60 ہزار سے بڑھ گئی ہے برطانیہ میں بوسٹر ڈوز لگوانے کا سلسلہ بھی جاری ہے-

    برطانیہ: اومی کرون سے 24 گھنٹوں میں 8 ہزار 44 افراد متاثر

    وزیراعظم بورس جانسن نے تصدیق کردی ہے کہ کرسمس سے قبل مزید پابندیاں نہیں لگیں گی کرسمس کے بعد پابندیوں کے حوالے سے اقدامات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا، ضرورت پڑی تو پابندیاں لگائیں گے۔

    اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    رپورٹس کے مطابق دو دن قبل بھی برطانیہ میں اومی کرون کے 8 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے تھے دوسری جانب جرمنی نے برطانیہ کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کردیا ہے جہاں کورونا وائرس کا ویرینٹ اومی کرون تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہوائی کمپنیاں برطانیہ سے محض انہی مسافروں کو جرمنی لاسکتی ہیں جو یا تو جرمن شہری ہیں یا پھر یہاں کے رہائشی ہیں، تاہم فلائٹس پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے ریل اور بحری جہاز کے ذریعے سفر کرنے والوں پر بھی یہی پابندی لاگو ہوگی۔

    اومیکرون، برطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی

  • برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    کیمبرج: برطانیہ سے ایک ایسے قدیمی کنکھجورے کی باقیات دریافت ہوئی ہیں جو تقریباً 9 فٹ لمبا تھا لیکن اس میں ریڑھ کی ہڈی بالکل بھی نہیں تھی-

    باغی ٹی وی : یہ دیوقامت کنکھجورا جسے ’’آرتھروپلیورا‘‘ کا نام دیا گیا ہے آرتھروپلیورا دیوہیکل میراپوڈس کی ایک نسل ہے جو ابتدائی کاربونیفیرس سے لے کر ابتدائی پرمین تک ہوتی ہے آج سے 32 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے جہاں رہتا تھا وہ جگہ موجودہ برطانیہ میں نارتھمبرلینڈ کے ساحل پر، اور نیوکیسل سے 64 کلومیٹر دور واقع ہے اس عجیب و غریب اور معدوم کنکھجورے کی تفصیلات ’’جرنل آف دی جیولوجیکل سوسائٹی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

    اسکا رکاز 2018 میں ایک چٹان کے ٹوٹنے سے اتفاقاً دریافت ہوا تھا، جس پر برطانوی اور جرمن ماہرین نے تقریباً دو سال تک تحقیق کرنے کے بعد کئی اہم معلومات حاصل کیں پہلی بات تو یہی معلوم ہوئی کہ یہ رکاز لگ بھگ 32 کروڑ 60 لاکھ قدیم ہے، جو ڈائنوسار کے زمانے سے بھی 10 کروڑ سال پہلے کا ہے۔

    یہ رکاز نامکمل اور مختلف جسمانی قطعات (segments) پر مشتمل ہے جن کی مجموعی لمبائی 75 سینٹی میٹر ہے انہیں دیکھ کر سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ زندہ حالت میں یہ کنکھجورا 2.7 میٹر (8.85 فٹ) لمبا رہا ہوگا جبکہ ممکنہ طور پر یہ 50 کلوگرام وزنی تھا۔

    ان تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کا یہ علاقہ تقریباً 33 کروڑ سال پہلے کے زمانے میں خطِ استوا کے قریب تھا جہاں نہ صرف گرمی زیادہ پڑتی تھی بلکہ بارش بھی خوب ہوا کرتی تھی اسی گرم اور مرطوب ماحول کی بناء پر شاید یہاں گھنے جنگلات بھی رہے ہوں گے جہاں یہ کنکھجورا اور اس جیسے دوسرے جانوروں کا ارتقاء ہوا ہوگا-

  • برطانیہ: اومی کرون سے 24 گھنٹوں میں 8 ہزار 44 افراد متاثر

    برطانیہ: اومی کرون سے 24 گھنٹوں میں 8 ہزار 44 افراد متاثر

    برطانیہ میں ڈیلٹا سے 70 گنا زیادہ خطرناک کورونا کے اومیکران ویریئنٹ نے تباہی پھیلا دی ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی محکمہ صحت کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں اومی کرون سے متاثرہ افراد کی تعداد 8 ہزار 44 ہوگئی ہے لندن سے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے اومی کرون ویرینٹ کے مجموعی کیسز کی تعداد 45 ہزار 145 ہوگئی ۔ اومی کرون کے سبب 104 افراد اسپتال میں داخل ہوئے اور 12 اموت ہوچکی ہیں۔

    محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ نئے ویریئنٹ سے بچاو کے لیے گزشتہ روز 8 لاکھ 46 ہزار 466 افراد کو بوسٹر لگایا گیا۔

    برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے…

    دوسری جانب برطانیہ میں اومی کرون کی صورتحال پر غور کے لیےکابینہ کی ورچوئل میٹنگ آج ہوگی برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں مزید پابندیوں کےنفاذ کے بارے میں 3 آپشنز پر غور کا امکان ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ اومی کرون کے سبب مشکل کا سامنا ہے، مزید پابندیاں لگا سکتے ہیں۔عوام احتیاط سے کام لیں اور جلد از جلد بوسٹر ڈوز لگوائیں

    بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں…

    میڈیا رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں 12 سے 15 برس کے بچے ویکسین کی دوسری ڈوز لگوانے کے اہل قرار دیئے گئے ہیں اور 12 ہفتے قبل پہلی ڈوز لگوانے والے دوسر ی ڈوز لگواسکیں گے۔

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    واضح رہے کہ پاکستان نے برطانیہ میں عالمی وبا کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کے بڑھتے کیسز کے سبب برطانیہ سے آنے والے مسافروں کی سخت چیکنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کی جانب سے برطانیہ سے آنے والے تمام مسافروں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئےتمام مسافروں کا ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    این سی او سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق برطانیہ سے بالواسطہ فضائی مسافروں کا بھی ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ ہوگا، بورڈنگ سے 48 گھنٹے قبل مسافروں کی ویکسینیشن اور منفی پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ بھی لازمی ہو گی۔این سی اوسی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سو فیصد ریپڈاینٹی جن ٹیسٹ کے لیے برطانیہ کی براہ راست پروازیں ایڈجسٹ کرے۔دوسری جانب سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ ایک پرواز کے بعد دوسری پرواز میں اتنا وقت رکھا جائے گا کہ پہلے سے آنے والی پرواز کے تمام مسافروں کے ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ مکمل ہوجائیں۔سی اے اے حکام کے مطابق اقدامات برطانیہ میں کوروناوائرس کے اومیکرون ویرینٹ کے کیسز کے باعث کیے جا رہے ہیں۔

    اومیکرون، برطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی

  • برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل ہوگئی، جس کے نتائج کا اعلان پنجاب ریفرنڈم کمیشن ووٹنگ کے تمام مراحل مکمل ہونے پر کرے گا۔

    باغی ٹی وی : مقامی وقت کے مطابق ووٹنگ صبح 10 سے شام 5 بجے تک جاری رہی جس میں خواتین سمیت بزرگ سکھوں نے بھی حصہ لیا۔

    خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا انعقادسکھ فار جسٹس کے زیراہتمام کیا گیا جبکہ سلاو اور اس کے گردونواع کے 10 ہزار سے زاہد سکھوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا اس کے علاوہ سارا دن سکھ رہنما آزاد خالصتان کے حق میں نعرے بھی بلند کرتے رہے۔

    بھارت: سکھوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کا الزام،چوبیس گھنٹوں میں دو افراد قتل

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سکھ برادری بھارت کے ناروا اور انسانیت سوز سلوک کے آگے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی بھارت سکھوں کی آزادی کی تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کررہا ہے۔

    اس سے قبل برطانیہ میں خالصتان کے قیام کے لیے ریفرنڈم کے تیسرے مرحلےکی ووٹنگ کیلئے ووٹ ڈالنے والوں کا کہنا تھا کہ سکھ آزادی کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، سکھ کمیونٹی نے آزادی کےلیےگولی کے بجائے ووٹ کو ترجیح دی ہے۔

    ووٹرز کا کہنا تھا کہ بھارت سکھوں کی حق کی آواز کو زیادہ دیر نہیں دبا سکتا، پنجاب میں رہنے والے تمام مذاہب کے لوگ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں، ریفرنڈم کے ذریعے اپنا وطن حاصل کرنے کا بہترین موقع ملا ہے، سکھوں کی آزادی کا خواب جلد پورا ہوگا۔

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پنجاب کی آزادی پر مہر لگانے کے لیے صبح سے ہزاروں سکھ اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں، ریفرنڈم کرواکر کئی ممالک نے آزادی حاصل کی ہے، جونا گڑھ بھی ریفرنڈم کے ذریعے بھارت کا حصہ بنا تھا۔

    دوسری جانب بھارتی حکام خالصتان ریفرنڈم سے خوفزدہ ہیں جس کے پیش نظر بھارتی حکام نے سکھوں کو ریفرنڈم میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے این آر آئی کارڈ اور ویزے منسوخ کرنے کی دھمکیاں دیں-

    واضح رہے کہ کینیڈا میں سکھ فار جسٹس بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن سے متعلق مقدمے کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے, کینیڈا کی عدالت کے فیصلے میں پاکستان پر سکھوں کی ریفرنڈم کیمپین کی پشت پناہی کا الزام غلط ثابت ہوا تھا۔

    سکھوں کے مقدس مقامات گولڈن ٹمپل کی بے حرمتی کرنے والا نوجوان ہلاک کر دیا گیا

    یاد رہےکہ اندرا گاندھی کو آپریشن بلیو اسٹار کا حکم دینے پر ان کے سکھ باڈی گارڈز نے 31 اکتوبر کو ہلاک کردیا تھا، اس قتل کے بعد بھارت میں ہزاروں سکھوں کو چن چن کر قتل کیا گیا جب کہ پولیس اہلکار ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو روکنے کے بجائے تماشہ دیکھتے تھے۔

    یہی نہیں بعض واقعات میں پولیس اہلکاروں نے ووٹر لسٹیں بھی حملہ آوروں کو فراہم کیں، اس کے پیش نظر سکھوں نے 31 اکتوبر کی مناسبت سے آزادی کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

    بھارت: ہم جنس پرست جوڑے نے شادی کرلی

  • برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    لندن: برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ڈیلٹا سے 70 گنا زیادہ خطرناک کورونا کے اومیکران ویریئنٹ نے تباہی پھیلا دی ،ایک ہی دن میں 93ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آگئے ،

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک دن پہلے انگلینڈ میں 88ہزار کیسز سامنے آئے تھے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں اب تک کورونا سے متاثر افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،عالمی موذی مرض سے برطانیہ میں ایک لاکھ 47ہزار افراد موت کو گلے لگا چکے ہیں ۔

    سکاٹ لینڈ کے وزیر نکولا اسٹور جیون نے کہا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ اب ملک میں موثر ویریئنٹ بن چکا ہے۔ ایک ہفتے پہلے جس سونامی کو لے کر میں نے وارننگ دی تھی، وہ اب آچکا ہے۔ دوسری طرف اومیکرون کی حالیہ تباہی کو دیکھتے ہوئے برطانیہ بھر میں 26 دسمبر کے بعد نائٹ کلبوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

    ادھر دوسری طرف ان خطرات کے پیش نظر جان لیوا عالمی وبا کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے برطانیہ میں حکومتی اقدامات کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا، بل کے مطابق نائٹ کلب اور بعض دیگر مقامات پر داخلے کیلئے ویکسینشن کا ثبوت یا کورونا کا منفی نتیجہ دکھانا ہوگا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں ماسک، سیلف آئسولیشن کی جگہ روزانہ لٹرل فلو ٹسٹ اور کوویڈ پاسپورٹ پر الگ الگ ووٹنگ ہوئی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں نائٹ کلب، سینما، تھیٹرز اور میوزیم میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے 97 ارکان پارلیمنٹ کی مخالفت کے باوجود حکومت نے تمام بل منظور کرالئیے، 97 ارکان نے کووڈ پاسپورٹ کے معاملے پر مخالفت کی۔ 2019 کے الیکشن کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارٹی ارکان کی طرف سے بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ اومی کرون سے ایک ہلاکت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر صحت نے کہا تھا کہ اومیکرون ویرینٹ کے پھیلاؤ کی شرح تو غیرمعمولی ہے، لیکن ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

  • نام”محمد” رواں سال برطانیہ میں مقبول ترین ناموں میں شامل

    نام”محمد” رواں سال برطانیہ میں مقبول ترین ناموں میں شامل

    نام”محمد” 2021 میں برطانیہ میں لڑکوں کا سب سے مقبول نام بن گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رواں برس امریکا میں نومولود بچوں کے رکھے جانے والے 10 مقبول ناموں کی فہرست سامنے آگئی جس میں نام ‘محمد’ بھی پہلی بار جگہ بنانے میں کامیاب رہا بے بی سینٹر نامی ویب سائٹ کی ناموں کے حوالے سے جاری کی گئی سالانہ رپورٹ مں یہ بات بتائی گئی۔

    تازہ ترین مردم شماری کے مطابق برطانیہ میں 3.3 ملین سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور پورے ملک کے 18% کے مقابلے برطانیہ میں نصف مسلمان غربت کی زندگی گزار رہے ہیں گزشتہ سال محمد نام لڑکوں میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا نام شمار کیا گیا تھا اور اس سال بھی یہ نام 28ویں نمبر پر موجود ہے-

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

    ڈیٹا کے مطابق رواں سال امریکا میں بچوں کے سب سے زیادہ رکھے جانے والے دس ناموں میں دو عربی نام محمد اور عالیہ بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں سال امریکا میں صوفیہ نام سب سے زیادہ مقبول ثابت ہوا، جبکہ لڑکوں میں لیام نام ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا محمد اور عالیہ ناموں نے اس فہرست میں جگہ بنانے کے لیے میسن اور لیلہ ناموں کو پیچھے چھوڑا۔

    امریکا میں لڑکوں کے رکھے جانے والے مزید مقبول ناموں میں جیکشن، نوح، ایڈن اور گریسن شامل ہیں جبکہ لڑکیوں کے لیے اولیویا، ایما، ایوا اور ایریا جیسے نام مقبول رہے۔

    ایک اور رپورٹ کے مطابق محمد نام دنیا بھر میں بچوں کا رکھا جانے والا سب سے مقبول ترین نام ثابت ہوا بےبی سینٹر کی ایڈیٹر لنڈا مورے کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مسلمان گھرانے عموماً پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے نام پر اپنے بیٹوں کا نام رکھتے ہیں۔

    شدید دھند کے باعث موٹر وے ایم ٹولاہور سے شیخوپورہ تک بند

    امریکا کی سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کےڈیٹا کے مطابق سال 2000 میں نام ‘محمد’ 620 نمبر پر تھا جبکہ 2018 تک یہ 345 پر آگیا اس کے علاوہ امریکا میں نام ‘محمد’ کے لیے رائج مختلف حروف تحجی کو ایک کر دیا جائےتو یہ تعداد اور بڑھ جائے گی۔

    خیال رہے کہ محمد نام کو برطانیہ میں بھی لڑکوں کا سب سے مقبول ترین نام قرار دیا گیا اور یہ اعزاز اس نے مسلسل تیسرے سال حاصل کیا تھا برطانیہ میں محمد نام 2017 سے مقبول ترین یا سرفہرست پوزیشن پر ہے جبکہ 2014 اور 2015 میں بھی یہ سرفہرست رہا تھا۔

  • برطانیہ میں اومی کرون  سے پہلی موت

    برطانیہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    برطانیہ میں اومی کرون وائرس سے ایک مریض کی ہلاکت ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : ” روئٹرز” نے اسکائی نیوز کے حوالے سے بتایا کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانس نے پیر کے روز اومی کرون سے مریض کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جانسن نے نامہ نگاروں کو بتایا، "افسوس کی بات ہے کہ اب کم از کم ایک مریض کی اومی کرون کے ساتھ موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں اومیکرون کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور متعدد مریض اس وقت اسپتالوں میں زیر علاج ہیں بورس جانسن نے میڈیا سے بات چیت میں کہا ہے کہ اس وقت کورونا سے متاثرہ مریضوں میں سے 40 فیصد اومی کرون کا شکار ہیں۔

    لندن : جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر کا خطرہ،سائنسدانوں نے خبردار کر دیا

    خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس بھی تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ گزشتہ روز بھی برطانیہ میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد وائرس سے متاثر ہوئی تھی۔

    برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے، مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،کرونا کی اس نئی قسم سے ویکسین سے بھی محفوظ رہنا مشکل ہے، برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں اضافے کے بعد کرونا الرٹ لیول دوسری بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا ہے-

    میڈیکل آفیسر کا کہنا ہے کہ اومیکرون کی وج سے پہلے ہی ہسپتالوں میں مریض زیر علاج ہیں اور اب مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، اومی کرون کے پھیلاؤ میں اضافے کے بعد کورونا الرٹ لیول بڑھا کر چار کردیا گیا ہے کورونا الرٹ لیول چار کا مطلب وبا کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے۔ نئے کرونا وائرس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کا اومی کرون ویرینٹ ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے-

    برطانیہ میں حالات کنٹرول سے باہر: اومی کرون کا پھیلاؤ تیز، کورونا الرٹ لیول 3 سے بڑھا کر 4 کردیا گیا

    اومی کرون کے پھیلاؤ میں تیزی کے بعد برطانیہ نے کورونا الرٹ لیول تین سے بڑھا کرچارکردیا۔خبر ایجنسی کے مطابق کورونا الرٹ لیول چار کا مطلب وبا کا پھیلاؤبہت زیادہ ہے اور ہیلتھ کیئر سروسز پردباؤ بہت زیادہ ہے۔

    برطانوی حکومت کا کہنا ہےکہ ابتدائی شواہد کےمطابق اومی کرون ویرینٹ ڈیلٹا سے زیادہ تیزی سےپھیل رہا ہے، اومی کرون ویرینٹ سے کورونا ویکسین سے ملنے والا تحفظ کم ہورہاہے۔

    ادھر سائنسدانوں نے خبر دار کیا ہے کہ اگر پابندیاں نہ لگائی گئیں تو جنوری میں ملک اومی کرون کی بڑی لہر کی زد میں ہوگا برٹش منسٹر مائیکل گوو کے مطابق دارالحکومت لندن میں 30 فیصد کورونا مریضوں اومی کرون وائرس پایا گیا ہے۔

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں مزید پابندیاں نہ لگائیں گئیں تو جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اپریل کے آخر تک کورونا کی نئی قسم سے اموات کی تعداد25000 سے 75000 تک جا سکتی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد اس بات پر منحصر ہوگی کہ ویکسین نئے ویرینٹ کے خلاف کس حد تک موثر ثابت ہوتی ہے ان کا کہنا ہے کہ ویکسینیٹڈ افراد کے اومی کرون سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں۔

    امریکی دواساز کمپنی نے کورونا کی چوتھی ڈوز کے استعمال کا اشارہ دیدیا

    محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اومی کرون دسمبر کے وسط تک برطانیہ میں سب سے زیادہ پایا جانے والا وائرس بن سکتا ہے سکاٹش فرسٹ منسٹر نکولا اسٹروجن نے برطانیہ میں اومی کرون کے بڑے پیمانے پر پھیلاو کو ’’انفیکشن کا سونامی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس سے خبردار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ کورونا کی خطرناک قسم اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی کے بعد کورونا الرٹ لیول تین سے بڑھا کرچار کردیا گیا ہے عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کی ہے کہ دنیا کے 63 ممالک میں اومیکرون تیزی سے پھیل چکا ہے