اسکاٹ لینڈ:غیر ملکی ذرائع کے مطابق برطانوی شہنشاہیت مخالف سوشل ورکر ایڈن برگ چرچ کے سامنے جمع ہوئے جہاں پر ملکہ الیزابتھ کے جنازے کو رکھا گیا ہے۔ مظاہرے میں شامل بعض لوگوں نے اپنے حقِ اعتراض اور اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے خلاف خالی سفید بینر اور سفید خالی پوسٹر اٹھا رکھے تھے جو شاہی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے گرفتار کئے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز برطانیہ کی پولیس نے ایک 22 سالہ خاتون کو اس شک کی بناء پر گرفتار کر لیا تھا کہ اس نے چارلس دوم کے بادشاہ بننے کی تقریب میں امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی طرح آکسفورڈ میں ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جس نے نعرہ لگایا تھا کہ اسے کس نے منتخب کیا ہے۔ رائل میل میں 22 سالہ جوان کو بھی گرفتار کیا گیا جس پر شاہی جلوس میں گڑبڑ کا الزام لگایا گیا۔
برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین نے ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا اور ان گرفتاریوں کو آزادی اظہار رائے کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا، جس کا برطانیہ میں مبینہ جمہوریت کی بنیاد پر بڑے زور و شور سے دعویٰ کیا جاتا ہے۔
ادھرملکہ برطانیہ کا جسد خاکی بکنگھم پیلس میں موجود ہے اور لاکھوں افراد ان کا آخری دیدار کرنے کے لیے لندن پہنچ رہے ہیں۔
برطانوی عوام ملکہ ایلزیبتھ کو جوق در جوق خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لندن کا رخ کررہے ہیں۔ بدھ کی دوپہر ملکہ کا تابوت بکنگھم پیلس سے ویسٹ منسٹر ایبے لےجایا جائے گا۔ اس موقع پرلندن کی سیکورٹی انتہائی سخت کرتے ہوئے مختلف مقامات پر فوج بھی تعینات کردی گئی ہے۔
اس سے قبل منگل کی شام ملکہ برطانیہ کی میت ایڈنبرا سے لندن لائی جائے گئی جس کے بعد میت کو تابوت میں سرکاری اعزاز کے ساتھ بکنگھم پیلس لےجایا گیا۔
لندن:کووڈ میں مبتلا ہونے پر ٹرین سفر کی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ کو 270 گھنٹوں کے لئے کمیونٹی سروس کرنے کی سزا سنا دی گئی۔ بی بی سی کے مطابق مارگریٹ فریئیر رکن پارلیمنٹ نے 2 سال پہلے ستمبر 2020 میں پارلیمنٹ میں خطاب کے بعد لندن سے اپنے گھر گلاسگو تک ٹرین پر سفر کیا تھا حالانکہ اس وقت ان کا کرونا پازیٹو ہونے کا ٹیسٹ نتیجہ آچکا تھا۔
مارگریٹ فرئیر کو اس سے پہلے بھی عوام میں غیر ذمہ دارانہ طور پر مہلک کرونا وائرس پھیلانے کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے۔ ان کے خلاف فرد جرم میں کہا گیا تھا کہ مارگریٹ فریئیر خود قرنطینہ اختیار کرنے میں ناکام رہیں اور لوگوں سے مل کر ان میں وبا پھیلانے بیماری اور موت کا سبب بنتی رہیں۔ پراسیکیوٹرز نے گلاسگو شیرف کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کا یہ رویہ عوامی تحفظ کے حوالے سے انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا۔
جرم کے ارتکاب کے وقت مارگریٹ فریئیر ایس این پی جماعت کی ردرگلین اور ہملٹن ویسٹ سے رکن پارلیمنٹ تھیں، تاہم اس کے بعد انہوں نے پارٹی وہپ کی پوزیشن چھوڑ دی اور دارالعوام میں بطور آزاد رکن بیٹھتی رہیں۔ انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا۔
کریگ ٹرن بل شیرف پرنسپل نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ وہ اگلے نو ماہ کے دوران 270 گھنٹے سماجی خدمات سرانجام دیں گی۔ انہوں نے کووڈ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے باوجود رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو قرنطینہ میں رکھنے میں ناکام رہیں۔ اپنے گلاسگو تک کے ٹرین سفر کے دوران ان کا 45 افراد سے رابطہ ہوا جبکہ انہوں نے آئر شائر کے ایک پب میں دو گھنٹے بھی گزارے۔
لاہور:عمران خان کا پلانٹڈ انٹرویو،کامران خان لفافہ صحافی ہے:مبشرلقمان نے سب کے سامنے حقیقت کھول کررکھ دی ہے، اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہےکہ میں سُن رہا ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ سراسرغلط اور ایک گھٹیا پن ہے، مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ یہ کیسا آدمی ہے پہلے آرمی چیف کے خلاف تھا ، نیوٹرل ، ایکس وائے اور پتہ نہیں کہ کیا کیا القابات دیئے لیکن آج پھرایسے بات کررہا ہے کہ جیسے کوئی اختلافات ہی نہیں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک آدمی کی مدت ملازمت پوری ہوچکی ہے اور اس سے کہا جائے کہ وہ اس وقت تک کام کرے جب تک الیکشن نہ ہوجاتے ، اگرالیکشن دو سال نہ ہوتو کیا باجوہ کو دوسال مزید قیادت کرنی چاہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان جس عمر کو پہنچ چکے ہیں ان کا ذہنی ٹیسٹ کروانا چاہیے ، یہ کیسے عجیب لوگ ہیں جو کچھ مرضی کہیں کریں ان کو حق ہے ، یہ بار بار یوٹرن لیتے ہیں ، چوہدری شجاعت حسین جیسا شخص جو اپنے کپڑے تبدیل نہیں کرسکتا ، بول نہیں سکتا وہ ہمیںاب درس دے گا کہ حکومت کیسے کرنی ہے
مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان ایک چالاک شخص ہے اس کی اس بات کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی چال ہوگی ، مبشرلقمان نے کہا کہ وہ تو عمران خان کی باتوں پو اعتبار نہیں کرتے
مبشرلقمان نے مزید کہا کہ خان صاحب نے جو 5 ارب روپے سیلاب زدگان کے لیے اکٹھے کیے تھے وہ کہاں گئے ، کس اکاونٹ میں مجھے تو نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہیں، یہ سب جھوٹ ہے ،مبشرلقمان نے صحافی کامران خان کے متعلق کہا کہ وہ لفافہ صحافی ہے اور اس ملک میں لفافہ صحافیوں کی کمی نہیں ہے ، کامران خان وہ صحافی ہے جو کبھی کس میڈیا چینل میں جاگھستا ہے کبھی کس میں ، اور اس کا کام ہی یہی ہے کہ وہ لفافے پر یقین رکھتا ہے ،کامران خان نے جوعمران خان کا انٹریوکیا وہ پلانٹڈ تھا ، کیوں نہ کامران خان نے عمران خان سے یہ سوالات کیے کہ وہ پانچ ارب کہاں ہیں ، کس طرح سیلاب زدگان کی مدد کریں گے
مبشرلقمان نے کہا کہ مجھے کئی مرتبہ عمران خان کا انٹریوکرنے کی آفر ہوئی لیکن میں نے انکار کردیا ، شبلی فراز ، شہبازگل نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ خان صاحب کا انٹرویو کریں اگرخود نہیں آتے تو سوالات ہی بھیج جن کے جوابات درکار ہیں
مبشرلقمان نےکہا کہ کبھی عمران خان کہتا ہے کہ مجھے عدالت میں بولنے نہیں دیا گیا ، آپ اپنے وکلا کے ذریعے تحریری جواب جمع کروادیتے ، اگرعدالت نے عمران خان کو جانے دیا توپھر کوئی بھی عدالت کی توہین کرسکتے گا، اور یہ سلسلہ چل پڑے گا ، اس لیے ضروری ہے کہ عدالت جس نے سوموٹوایکشن لیا اب کچھ نہ کچھ ضرور کرگزرے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان ایک ہٹ دھرم شخص ہے
اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید 8 معاونین خصوصی مقرر کردیے ہیں جس کے بعد کابینہ ارکان کی تعداد 70 تک پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔ آج 8 نئے معاونین خصوصی تعینات کیے گئے ہیں۔
نوابزادہ افتخار احمد خان بابر ، مہر ارشاد احمد خان ، رضا ربانی کھر ،مہیش کمار ملانی ، فیصل کریم کنڈی ، سردار سلیم حیدر ،تسنیم احمد قریشی اور محمد علی شاہ بچہ کو معاون خصوصی بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پہلے کابینہ میں 34 وفاقی وزرا ، 7 وزرائے مملکت ، 4 مشیر اور 17 معاونین خصوصی ہیں ۔ پہلے کابینہ کی تعداد 62 تھی اب 70 ہوگئی ہے۔
بھارتی خاتون نے اپنی بیوی کا گردہ چوری کرکے بلیک مارکیٹ میں فروخت کردیا۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست اوڑیسہ کے ایک گاؤں کوڈومیٹا کی ایک درمیانی عمر کی خاتون رنجیتا کونڈو کہتی ہیں کہ اس کے شوہر نے چار برس قبل اس کا ایک گردہ چرا کر فروخت کردیا۔
خاتون کو اس بات کا علم پیٹ کی تکلیف ہونے کی وجہ سے پتہ چلا جب وہ ڈاکٹر کے پاس گئی جہاں پر اسے بتایا گیا کہ اس کے جسم میں صرف ایک گردہ کام کررہا ہے۔تاہم خاتون نے ڈاکٹر کو بتایا کہ 2018 میں اس کے گردے میں پتھری ہوگئی تھی جس پر اس کا شوہر اسے یہ بتاکر اسپتال لے گیا کہ اس کے گردے میں موجود پتھری (کڈنی اسٹون) نکلوانا ہے۔
جہاں اس نے اس کا ایک گردہ نکلوانے کا انتظام کررکھا تھا، تاکہ وہ اسے بلیک مارکیٹ میں فروخت کرسکے۔خاتون کے مطابق اسے یہ اس لیے پتہ نہیں چلا کہ اسے اینستھیسیا دیا گیا تھا، اس کے مطابق شوہر پراسنت کونڈو بنگلہ دیشی شہری ہے اور وہ غیر قانونی امیگرنٹ کے طور پر رہائش پذیر تھا۔
واضح رہے کہ ان کی بارہ سال قبل ان کی شادی ہوئی اور ان کے دو بچے ہیں لیکن دو ماہ قبل اس کا شوہر کسی اور عورت کے ساتھ فرار ہوگیا تھا۔تاہم اب خاتون اپنے والدین کے پاس منتقل ہوگئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ایک بھارتی خاوند اپنی بیوی کے ساتھ دھوکہ کرچکا ،بھارتی ریاست بنگال میں سفاکی کی انتہا،شوہر نے جہیز نہ دینے پر اپینڈکس کی سرجری کے دوران بیوی کا ایک گردہ نکلوا لیاتھا
بھارتی ریاست بنگال میں شوہر نے جہیز نہ ملنے پر جھوٹ بول کر بیوی کا گردہ ہی بیچ دیا۔ریتا سرکار کا کہنا تھا کہ دو سال قبل پیٹ میں درد ہوا تو شوہر نے اپینڈکس سرجری کا جھوٹ بول کر گردہ نکلوالیا اور جب طبیعت خراب ہوئی تو شوہر کے جھوٹ کے بارے میں پتا چلا۔پولیس نے ریتا کے شوہر اور دیور کو گرفتار کرلیا گیا تھا
بھارت کو شکست دے کر پاکستان نے ورلڈ پولو چیمپیئن شپ کے لیے کوالیفائی کر لیا،پاکستان کی پولو ٹیم نے بھارت کو لگاتار دوسری مرتبہ شکست دے کر ورلڈ پولو چیمپیئن شپ کے لیے کوالیفائی کر لیا۔پاکستانی پولو ٹیم نے عالمی مقابلوں کے لیے زون ای سے کوالیفائی کیا جہاں 12ویں ورلڈ پولو چیمپئین شپ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ویلنگٹن میں 26 اکتوبر سے 6 نومبر تک منعقد ہو گی۔
پاکستان نے یہ کارنامہ مختصر عرصے میں 2 بار بھارت کو شکست دے کر انجام دیا۔
انڈیانا پولو کلب میں ہونے والے پہلے پلے آف میچ میں پاکستان نے بھارت کو 4-5 سے شکست دی جبکہ اس کے بعد ایسٹ رینڈ پولو کلب جوہانسبرگ میں دوسرے پلے آف میچ میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں 4 گولز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جہاں میچ کا اسکور 3-7 رہا۔
پاکستانی پولو ٹیم کی قیادت حمزہ معاذ کر رہے ہیں جبکہ تیمور ندیم اور راجا محمد مکیال سمیع نے بھی نمایاں کھیل پیش کیا۔پاکستانی پولو ٹیم میں منیجر بریگیڈیئر ریٹائرڈ بدرالزمان اور اسسٹنٹ ٹیم منیجر لییفٹیننٹ کرنل ایاز احمد شامل ہیں۔
نیویارک :اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ بحران یمن کا راہ حل فوجی نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ روز ایک بیان جاری کیا جس میں مصروف جنگ فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں وسیع جنگ بندی کے موضوع پر مذاکرات کو جاری رکھیں، اس طرح جنگ بندی کو ایک دائمی جنگ بندی میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
سلامتی کونسل کے اراکین نے کہا کہ وسیع جنگ بندی ایک جامع سیاسی راہ حل کی زمین ہموار کر سکتی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے ہر قسم کی پیشگی شرط کے بغیر طرفین کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں دوطرفہ مذاکرات کو جاری رکھنے کی اپیل کی۔سلامتی کونسل کے بیان میں یمن میں انسانی المیہ اور بھکمری کے خطرات کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک یمنی عوام کے لئے انسان دوستانہ بنیادوں پر مالی امداد فراہم کریں۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمن میں جنگ بندی کو نافذ کیا جا چکا ہے جس کی مدت میں دو مرتبہ توسیع بھی کی جا چکی ہے مگر جارح سعودی اتحاد کی طرف روزانہ کی بنیادوں پر اسکی وسیع خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
صنعا حکومت بارہا اس صورتحال پر اپنا اعتراض درج کرا کر یہ واضح کر چکی ہے کہ برائے نام جنگ بندی سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا اور اقوام متحدہ کی خاموشی اور نرمی کے باعث سعودی اتحاد مستقل بنیادوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ اسکے تقاضوں کو بھی پورا کرنے سے گریز کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی اتحاد نے 2015ء میں یمن پر شدید فضائی گولہ باری، میزائل حملوں اور زمینی افواج سے جنگ کا آغازکیا تھا جو سات سال گزرنے کے بعد آج بھی جاری ہے تاہم اتحاد اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
لاہوار:میں آج کوئی سیاسی گفتگو نہیں کررہا ، نہ ہی میں آج سیاست کو موضوع بنانا چاہتا ہوں مجھے تو فکر ہے کہ جب اس دنیا کے بڑے برے طاقتورملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں توپھر پاکستان کا کیا بنے گا، یہ کہنا تھا سنئر صحافی مبشرلقمان کا جونہ صرف سیاسی امور پر دسترس رکھتے ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی معاملات کو بڑے قریب سے دیکھتے ہیں
سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آج دنیا کے تازہ ترین حالات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن پر نظررکھنا ہر پاکستانی اور خاص کرحکمران طبقے کے لیے تو بہت ہی ضروری ہے جوملکی مفاد کے حوالے سے عاری نظرآتا ہے، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک طرف اس برطانیہ کی ملکہ کی وفات کی رسومات جاری ہیں جوبرطانیہ دنیا میں ایک بڑا طاقتور ملک تھا لیکن آج اس ملک کا یہ حال ہے کہ وہاںلوگ ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں
مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ، پھرسردی کا موسم بھی آرہا ہے ، اور یورپ کی سردی تو بہت ہی سخت ہوتی ہے جہاں آگ جلانے کے بغیرسردی کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ، جب برطانیہ سمیت یورپ میںایک طرف مہنگائی ہے اور دوسری طرف گیس اور توانائی کے دیگرذرائع کا بحران ہےتو ان کو توتڑپنا یقینی نظر آرہا ہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ امریکہ کا بھی یہی حال ہے وہاں مہنگائی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ، وہاں امریکہ میں ایک عام شخص کی تنخواہ دو اڑھائی ہزار ڈالر ہے تو اگر ایک شخص کو زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کے لیے اس کی تنخواہ کا پچاس فیصد خرچ ہوجائےتو وہ باقی ضروریات کس طرح پوریں کریں گے ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے آجکل وہ کریڈٹ کارڈ کے گرد ہی گھوم رہے ہیں تاکہ ان کو کم سے کم خرچ کرنے پڑیں
سینئرصحافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپ اس وقت توانائی کے سخت ترین بحران کا سامنا کررہا ہے اوریورپ کی توانائی کے چشمے روس سے نکلتے ہیں روس یوکرین جنگ کے بعد روس نے اپنی سپلائی لائین بند کردی ہٰیں جس کےبعد یورپ میں سخت اندھیرے چھا جانے کے خدشات ہیں ، سخت سردی ہوتی ہے اس سردی میں زندہ رہنے کےلیے کمروں کو گرم رکھنا ضروری ہے اوریہ صرف گیس سے ممکن ہے جو روس سے آرہی ہے ، اس کے باوجود روس نے یورپ کو گیس کی کچھ مقدار فرااہم کرکے ایک سو ارب ڈالرکما بھی لیے ہیں
دوسری طرف یورپ میں جرمنی کہ جوآج سے دو تین سال پہنے بہت زیادہ ترقی کررہا تھا آج یورپ میںاگرکسی کا بُرا حال ہے تو وہ جرمنی کا ہے ،جس کی معیشت ڈوب رہی ہے ، جس کو توانائی کے بحران کا سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے ، مہنگائی ہے ، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور جرمنی کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ اس مشکل صورت حال سے کسیے بچ پائے گا ،
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بعض لوگوںکا یہ کہنا ہے کہ اگرروس نے یوپر کو جانے والی گیس کی سپلائی منقطع کردی ہے تو یورپ قطر سے گیس لے لے ، ایل پی جی اور این ایل جی قطر کے پاس بہت زیادہ گیس کے ذخائر ہیں
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں ان کو بتانا چاہتا ہوںکہ قطرسے گیس لینے کے لیے کم از کیم تین سال کا عرصہ درکار ہے اور اس مقصد کےلیے کھربوں ڈالرز بھی چاہیں ، یورپ کے پاس پیسے بھی نہیں ، مہنگائی ہے ، بے روزگاری بڑھ رہی ہے ،قطر سے گیس کے لیے پائپ لائنز اور دیگرسسٹمز کو بھی انسٹال کرنے کے لیے بہت وقت درکار ہے ،ان حالات میں روس کے متبادل کے طور پر گیس کی فراہمی بہت ہی مشکل ہے اور ناممکن کے قریب تر ہے
مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ وہ تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ روس یوکرین جنگ میں روس نے ان حالات کا مقابلہ کرنے کی پہلے ہی منصوبہ بندی کررکھی تھی اور وہ اچھے انداز سے آگے بڑھ رہا ہے اوران حالات میں چین بھی روس کا برا حلیف بن کرسامنے آیا ہے . چین روس کے تیل اور گیس کا بڑا خریدار ہے اور چین کو روس کی سلامتی عزیز ہے، آنے والے دنوں میں یورپ کومزید سخت حالات اور مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا
یورپ اپنی سرحدیںکھول کردنیا بھر سے آنے والوں سے پیسے لینے کا کاروبار شروع کرے گا ، کینیڈا پہلے ہی اس قسم کے کاروباری انداز کو اپنا رہا ہے ،
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بھی توانائی کا بحران ہے اور ہمیں اس بحران سے نکلنے کے لیے ہائیڈل پاور پراجکیٹس کو اپنانا ہوگا ، ہاوسنگ سوسائٹیز کے کلچر کو محدود کریںتو زیادہ بہتر ہے ، ہمیں زراعت کے لیے زمینیں بچانی چاہیں ، کھاد کسانوں کو جینئوئن دیں تو ہمارے کسان کو بھی فائدہ ہوگا اور ہماری زراعت بڑے گی پھلے پھولے گی اور جب یہ بہتری آئے گی تو ملک خوشحال ہوگا
پاکستان سے گندم ، گوشت اور ڈالرکی اسمگلنگ جاری ہے ، اگر یہ حالات رہے تو پھر پاکستان کیسے سکون کا سانس لے سکتا ہے ، پاکستان میں فوڈ سیکورٹی سے بھی بہتری آسکتی ہے ، ڈیمز کی کمی کا احساس تو اب قوم کو ہوگیا ہی ہوگا اگرآج کالا باغ ڈیم بنا ہوتا توجس سیلاب نے پاکستان کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ، اتنا پانی تو کالا باغ ڈیم اپنے اندرسمو لیتا ، بجلی بھی بنتی ، زراعت بھی ترقی کرتی ، سیلاب بھی نہ آتے اور ملک بھی خوشحال ہوتا مگر یہ کون کرے گا اگرحکمرانوں کا یہی انداز رہا وہ خود ہی لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہے تو قوم کو کون بچائے گا اس کےلیے قوم کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے
اسلام آباد:ملک کے مختلف شہروں میں بخارکی گولیوں کی قلت برقرار ہے اور لوگوں کو اب تو پیراسٹامول ، پینا ڈول ہی نہیں مل رہیں ،ملک بھر میں ڈینگی اور موسمی بخار کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب بخار کی گولیوں کی قلت مارکیٹ میں مسلسل برقرار ہے۔
لاہور میں بخار کی گولیوں کی قلت کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ادھر خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے وار جاری ہیں، صوبے میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، ڈینگی کے بڑھتےکیسز کے پیش نظر پشاور میں بخار کی ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، بخارکی گولیوں کے پتےکی قیمت 17 روپے سے بڑھ کر 30 روپے ہوگئی ہے جب کہ بعض میڈیکل اسٹورز پر بخار اور سردرد کی ادویات بھی دستیاب نہیں۔
میڈیکل اسٹور مالکان کا کہنا ہےکہ بخارکی گولیوں کا پرانا اسٹاک موجود ہے، نیا اسٹاک نہیں آرہا، مارکیٹ میں ادویات سپلائی نہیں ہو رہیں، ادویات بلیک میں بھی فروخت ہو رہی ہیں۔بلوچستان میں بھی کورونا کے ساتھ ڈینگی کے مریض بھی سامنے آرہے ہیں اور یہاں بھی ادویات کی مارکیٹس میں بخار میں استعمال ہونے والی گولیاں ایک ماہ سے غائب ہیں۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر میں بخار، زکام، پیٹ درد، کھانسی اور مرگی کے دورے کی بیشتر ادویات نایاب ہوچکی ہیں جبکہ جن میڈیکل اسٹورز پر موجود ہیں وہاں ادویات کی زیادہ قمیت وصول کی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈالر کی اونچی اڑان کے اضافے کی وجہ سے خام مال کی خریدو فروخت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جبکہ کمپینیوں کی جانب سے ہول سیلرز کو اسٹاک فراہم نہیں کیا جارہا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ کچھ کمپنیز کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مارکیٹ میں 20 پتوں کی بخار کی دوا کا ڈبہ 700 روپے جبکہ زکام کی دوا کے 10 پتوں کا ڈبا 850 روپے سے زائد میں فروخت ہورہا ہے۔نامور سرکاری و نجی اسپتالوں اور طبی ماہرین سمیت شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فی الفور جائزہ لیا جائے تاکہ بحران پر قابو پایا جاسکے۔
سندھ کابینہ نے مالی سال 23-2022 کے لیے گندم کی نئی سرکاری قیمت 4000 روپے فی من مقرر کردی۔کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے دوران صوبے میں سیلاب کی صورت حال اور دیگر امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کابینہ نے صوبے میں -2022 کے لیے گندم کی نئی سرکاری قیمت 4000 روپے فی من مقرر کردی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم بیرون ملک سے 9000 روپے فی من کے حساب سےگندم خریدتے ہیں، ہم اپنے کاشتکار بھائیوں کو فائدہ دینے کے بجائے دوسرے ملکوں کو فائدہ دیتے ہیں۔
مراد علی شاہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سال گندم کی فصل نہ ہوئی توقحط جیسی صورتحال ہوگی۔سندھ کابینہ نے سید صلاح الدین کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر کراچی واٹر بورڈ جب کہ اسد اللہ خان کے چیف آپریٹنگ آفیسر مقرر کرنےکی منظوری دے دی۔صوبائی کابینہ نےعمران صمد کو سندھ بینک کا سی ای او، صدر تعینات کرنےکی بھی منظوری دے دی۔
دوسری طرف اس وقت ملک بھر میں آٹے کا شدید بحران ہے ، بعض علاقوں میں آج آٹا ایک سو پندرہ روپے تک فروخت ہوتا رہا ہے ، غریب مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن ان کو اتنا مہنگا آٹا بھی نہیں مل رہا اوراگرجیسا کہ حکومت نے چارہزارروپے فی من گندم کا ریٹ مقرر کیا ہے تو پھرغریب کیا کریں گے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی