Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • گلوکارسلمان احمد کےخلاف ایف آئی آر:یہ کیاہورہاہے:حکام نوٹس لیں:مبشرلقمان

    گلوکارسلمان احمد کےخلاف ایف آئی آر:یہ کیاہورہاہے:حکام نوٹس لیں:مبشرلقمان

    لاہور:عالمی شہرت یافتہ گلوکارسلمان احمد کےخلاف ایف آئی آر:یہ کیا ہورہاہے:حکام نوٹس لیں، پاکستان کی پہچان عالمی شہرت یافتہ گلوکار سلمان احمد کے خلاف ایف آئی اے کی طرف سے ایف آئی آر کے کاٹے جانے پرسنیئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ کیاہورہا ہے پاکستان میں جو شخص پاکستان کی پہچان ہے اس کو بھی معاف نہیں کیا جارہا

     

     

    جنون گروپ کے سلمان احمد کا لتا منگیشکر کو خراج تحسین،کہا ہمیشہ یاد رکھوں گا

    پاکستان کے سنیئر تجزیہ نگار مبشرلقمان پاکستان کی پہچان عالمی شہرت یافتہ گلوکارسلمان احمد کے خلاف ایف آئی آر کی جانب سے ایف آئی آر کے کاٹےجانے پربہت مایوس ہوئے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح تو ایک منفی تاثر جائے گا ،حکام کو کچھ تو خیال کرنا چاہیے ، سلمان احمد نے کون سا ایس جرم کیا ہے کہ انکے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ تو ہر اس شخص کے ساتھ کھڑے ہیں جس کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے

     

    مبشرلقمان نے حکام کی توجہ اس طرف مبذول کرواتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سچے پاکستانی کے خلاف اس قسم کے مقدمات کا قائم کرنا خود حکام کے لیے بدنامی کا باعث ہے اور یہ عمل دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنے گا

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایف آئی اے کی جانب کو سلمان احمد کو پریشان کیا گیا ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں جس پر سلمان احمد نے حکام خبردار کیاتھا کہ ایسا نہ کریں جس سے کسی کے ساتھ زیادتی ہو اور ملک کا وقار بے وقار ہو

    گلوکار سلمان احمد کے بیٹوں نے یوم آزادی کی منابست اورافواج پاکستان

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے معروف گلوکار سلمان احمد کو نوٹس بھیجاتھا، سلمان احمد کو ان کے پی ٹی آئی کے لیے گائے گئے ترانے اور سوشل میڈیا پر ملکی اداروں کے خلاف پوسٹ لگانے پر نوٹس ارسال کیا گیا۔ گلوکار سلمان احمد نے بھی ایف آئی اے سائبر کرائم کی جانب سے نوٹس بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے ٹوئٹر پر ویڈیو پیغام جاری کیاتھا اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میری زبان بندی کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    شان شاہد اور سلمان احمد نے وزیراعظم کی بھر پور حمایت کا اعلان کر دیا

    گلوکار کا کہنا تھا کہ میرے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں. رانا ثناءاللّٰہ کے کہنے پر یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے، کچھ بھی ہوجائے میں حق کا ساتھ دینے سے نہیں گھبراؤں گا۔

     

     

     

     

  • بلوچستان:30سالوں سے500 فیصد زائد بارشوں سے تباہی،ایمرجنسی نافذکردی گئی

    بلوچستان:30سالوں سے500 فیصد زائد بارشوں سے تباہی،ایمرجنسی نافذکردی گئی

    کوئٹہ :پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں حالیہ مون سون میں تیس سالوں سے پانچ سو فیصد زائد بارشوں سے 111 افراد جاں بحق، جب کہ مختلف حادثات میں ایک ہزار افراد زخمی اور 50 ہزار گھر متاثر ہوئے ہیں۔ضلع لسبیلہ میں سیکڑوں افراد ریلے میں پھنس گئے، صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

     

    چیف سیکریٹری بلوچستان، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے حکام نے مشترکا پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں دس اضلاع زیادہ چودہ نارمل متاثر ہوئے ہیں، اس دوران بارشوں اور سیلاب سے 6070 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے،جب کہ 6 ہزار کلو میٹر سڑکیں، 2 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہے۔

     

    چیف سیکریٹری بلوچستان کے مطابق مختلف حادثات اور سیلاب بارشوں سے 17500 افراد کو ریسکیو کیا گیا، متاثرہ 16ہزار 87 گھروں کے لئے راشن اور 10ہزار سے زائد شیلٹر فراہم کئے گئے۔ تاہم خراب موسم کی وجہ سے فضائی ریلیف آپریشن جاری ہے۔ اس موقع پر صوبائی اور وفاق کی جانب سے متاثرین کیلئے 10،10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کیا گیا ۔

     

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے  نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ حب میں نیا بائی پاس بنا رہے ہیں، ایم ایٹ پر کچھ جگہوں پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے، جب کہ سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والے پلوں کی مرمت بھی کردی گئی ہے، جس کے بعد لائٹ اور ہیوی ٹریفک رواں دواں ہے۔

    ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ( PDMA) کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ ( Lasbela ) میں طوفانی بارش کے بعد سیکڑوں افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے ہیں، جب کہ اوڑکی اور دیگر مقامات سے سیلابی ریلے میں پھنسے 250 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ فیصل پانیزئی کے مطابق ریسکیو کیے گیے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ لسبیلہ کے دیگر علاقوں میں بھی متاثرین کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

     

     

    مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہیں، صوبہ بھر میں شدید بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصانات ہوئے۔ موجودہ صورت حال کے تناظر میں لندن کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

     

     

    مخدوم صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام سیاسی مصروفیات ترک کرتے ہوئے ضلع لسبیلہ کے دورے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ بلوچستان صوبے میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

     

     

    پی ڈی ایم کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان موسلا دھار بارشوں کے دوران جاں بحق افراد کی تعداد 106ہوگئی ہے، جب کہ مختلف حادثات میں 62 افراد زخمی بھی ہوئے۔ کوئٹہ میں مون سون بارشوں سے 6077 گھر منہدم جب کہ 712 مویشی سیلابی پانی کی نظر ہوگئے۔

    بارشوں سے کان مہترزئی خانوزئی کے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق ہنہ اوڑک میں چالیس خاندانوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیا، کیچ، تربت، گوادر، پنجگور، لسبیلہ بھی بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع واشک میں کھڑی فصلوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچا ہے۔ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث پانی مساجد سمیت گھروں میں داخل ہوگیا۔

    پشین میں جمعرات 28 جولائی کو بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، کلی تراٹہ اور نیو خان اسکیم میں گھروں کی دیواریں گرگئیں، جب کہ متاثرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے اور حکومتی سطح پر امداد اور مدد کیلئے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    پاک بحریہ کی جانب سے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ ریلیف آپریشن کے دوران سول انتظامیہ کی مسلسل معاونت کررہا ہے۔

    زمینی راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں راشن اور دیگر ضروری سامان پہنچایا گیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب زدہ علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

    بیان کے مطابق بولان، لسبیلہ، اوتھل ،جھل مگسی اور غذر میں سیلاب کے دوران پھنسے 700 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے حب، لسبیلہ، اوتھل، زیروپوائنٹ، دیودر اور غذر جی بی میں فری میڈیکل کیمپ لگائے ہیں جہاں لوگوں کو طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں

    بیان کے مطابق لسبیلہ، اوتھل، جھل مگسی، خضدار اور دیگر متاثرہ علاقوں میں 7.5 ٹن غذائی اشیاء، پناہ گاہیں اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں اور سیلاب کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے مختلف مقامات پر اسٹینڈ بائی ریسپانس ٹیمیں تعینات ہیں۔

  • افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    بیجنگ:افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس پچیس سے چھبیس جولائی تک ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں شریک تمام فریقوں کی رائے میں اقتصادی ترقی کی بحالی اور مضبوطی افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔

    کانفرنس میں افغانستان کی عبوری حکومت ، چین، روس، امریکہ، برطانیہ، ترکی، ایران، پاکستان سمیت 20 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان، ماہرین اور سکالرز نے شرکت کی۔عالمی میڈ یا کے مطا بق افغان عبوری حکومت کے وفد کے سربراہ اور قائم مقام وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا کہ اس وقت افغانستان کا بنیادی کام معیشت کو ترقی دینا ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے خصوصی مندوب برائے افغان امور یوئے شیاؤیونگ نے اجلاس میں کہا کہ چین، افغانستان کو گورننس، سلامتی، معیشت اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے عالمی برادری اور علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • ‏عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا،ایک پاکستان میں 2 آئین نہیں چلیں گے۔ بلاول

    ‏عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا،ایک پاکستان میں 2 آئین نہیں چلیں گے۔ بلاول

    اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ ایسے نہیں ہوسکتا ہمارے لیے ایک اورلاڈلے کے لیے دوسرا آئین ہو، ہمارا کام آئین بنانا اورعدلیہ کا کام تشریح کرنا ہے، خود ترمیم لانا نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا تین جج آئین تبدیل کردیں۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنادی جائے جس میں ہم قانون سازی کریں گے، ہم فیصلہ کریں گے کتنے ججز کو بنچ میں بیٹھنا چاہیے، اگراسپیکرکی رولنگ پرفیصلہ سنانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ مگر پورے ججز کو بٹھانا ہو گا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ تھا، ہم کسی ادارے کو دباؤ میں ڈالنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے، صرف یہ گزارش کی تھی فل کورٹ بیٹھ کر فیصلہ سنا دے، ہم نے کہا تھا فل کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوا ہم مانیں گے، یہ مطالبہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے پر نہیں تھا، ڈپٹی سپیکررولنگ کے حوالے سے ہمارا فل کورٹ کا مطالبہ تھا۔

    انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے آئین توڑا میرا تب بھی یہی مطالبہ تھا، آئین پاکستان کی تشکیل کے لیے 30 سال کا عرصہ لگا، شہید بے نظیربھٹونے آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد کی، آئین میں ترمیم کے لیے دوتہائی اکثریت درکارہوتی ہے۔ صوبوں کوحقوق دینے کے لیے اٹھارویں ترمیم لائے، ہردن عوام کے مینڈیٹ اور جمہوریت پرحملے ہوتے رہے، عدلیہ بحالی تحریک، کراچی کے جیالوں کو گولیاں ماری گئیں، سابق چیف جسٹس افتخارچودھری ایسے فیصلے دیتے تھے جو آئین وقانون کے مطابق نہیں ہوتے تھے، ہم اپنا کام کرتے رہے اور جمہوریت کو بحال کیا، کبھی ٹماٹر، کبھی آلوؤں کی قیمت پر سوموٹولیتے تھے، ہم نے ملک اورقوم کے ساتھ جوڈیشل ریفارمز کا وعدہ کیا تھا۔ جوڈیشل ریفارمزیہ ہاؤس کرے گی۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ مانتا ہوں دھمکی میں آکر19ویں ترمیم پاس کی، ہمیں آئین کوتبدیل نہیں کرنا چاہیے تھا، اس وقت کی اپوزیشن شائد اس قسم کی جوڈیشل ایکٹوزم سے خوش تھی، ٹوتھرٖڈ میجورٹی رکھنے والے وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا، 2018ء کے الیکشن میں چند ججز کا رول تھا، صاف نظر آرہا تھا چند ججزالیکشن کمپین میں حصہ لے رہے تھے، ثاقب نثارہمارے خلاف الیکشن مہم چلارہا تھا، پولنگ والے دن فیصل صالح حیات الیکشن جیت رہا تھا، ثاقب نثارنے ری پولنگ کی مخالفت کی تھی، یہ جناب سپیکرمتنازع کردارہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ سلیکٹڈ نظام بٹھانے کے لیے کردار آئینی نہیں متنازع کردارادا کررہے تھے، ہم چاہتے ہیں وہ متنازع نہیں آئینی کردارادا کریں، اسٹیبلشمنٹ،عدلیہ کا کردارمتنازع نہیں ہونا چاہیے، یہی وجہ تھی ہم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، ایسے نہیں ہوسکتا ایک آئین نہیں، دوآئین اوردوپاکستان ہو، مجھے فرق نہیں پڑتا پرویزالہیٰ یا حمزہ شہبازوزیراعلیٰ پنجاب ہو، ایسے نہیں ہوسکتا ہمارے لیے ایک اورلاڈلے کے لیے دوسرا آئین ہو، ہمارا کام آئین بنانا اورعدلیہ کا کام تشریح کرنا ہے، خود ترمیم لانا نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ تین جج آئین تبدیل کردیں، جوڈیشل ریفارمزکرنے تک جمہوریت کا سفرنامکمل ہوگا۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ 2018ء کے انتخابات کے دوران ایسا لگتا تھا کہ کئی ججز انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ہمارے خلاف مہم چلا رہے تھے، 2018 سے اپریل 2022 تک سلیکٹڈ حکومت کو بچانے کے لیے اداروں نے متنازعہ کردار ادا کیا، عدلیہ اور سٹیبلشمنٹ کا کردار غیر متنازعہ ہونا چاہیے، اسی لیے ہم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، ایسا نہیں ہو سکتا دو آئین پاکستان ہوں، ایک فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ کی ہدایات ضروری ہے، دوسرے فیصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی ہدایات ضروری ہیں، عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا، سپریم کورٹ کا مطلب صرف چیف جسٹس نہیں ہے، سپیکر صاحب میرا مطالبہ ہے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، یہ ہم طے کریں گے پارلیمان سے متعلق کیسز میں کتنے ججز کو بیٹھنا چاہئیے، پارلیمان سے متعلق کیس میں تمام ججز کو بٹھا کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنادی جائے جس میں ہم قانون سازی کریں گے، ہم فیصلہ کریں گے کتنے ججز کو بنچ میں بیٹھنا چاہیے، اگراسپیکرکی رولنگ پرفیصلہ سنانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ مگر پورے ججز کو بٹھانا ہو گا، جناب سپیکر آپ قدم بڑھائیں، پیپلزپارٹی جوڈیشل ریفارمزکے لیے تیارہے، ایک رات کی نیوٹریلٹی سے 70سال کے گناہ معاف نہیں ہوسکتے، شہبازشریف کے پاس مسائل کوحل کرنے کے لیے جادوکا چراغ نہیں، عوام کوپتا ہے خان صاحب نے تاریخی قرض لیے، ماننے کوتیارنہیں عوام اس قسم کے لوگ کومعاف کرنے کو تیارہوں گے، ہم تگڑے، ڈٹ کراس مسئلے کوحل کرنا ہوگا، آئین شکنی، جمہوریت کے خلاف کام بنی گالہ سے ہویا کسی اورجگہ سے انصاف کرنا ہوگا، اگرہم یہ کام نہیں کرسکتے تو پھر اسمبلی کوتالا لگادیں ہم کیوں خوارہوتے ہیں، وقت آگیا ہے جمہوریت کا نعرہ نہیں قانون سازی کریں، پارلیمان میں وہ طاقت ہے ہر مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

    بلاول نے کہا کہ جناب سپیکر آج ہی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائیں، سپریم کورٹ صرف چیف جسٹس نہیں تمام ججزپرمشتمل ہے، آئین سازی پارلیمنٹ کا اختیارہے۔

  • ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کااجلاس:ملک بھرمیں ہونےوالےجانی و مالی نقصان پراظہار افسوس

    ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کااجلاس:ملک بھرمیں ہونےوالےجانی و مالی نقصان پراظہار افسوس

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا گیا،

    بلوچستان اور کراچی سمیت دیگر علاقوں میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کے ایجنڈے، دورانیے اور قانون سازی پر مشاورت کی گئی۔

    اس اہم اجلاس میں قومی اسمبلی کی 75 سالہ تقریبات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ 75 سالہ تقریبات 11 اگست سے 14 اگست تک منائی جائیں گی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کو بروز بدھ 3 اگست 2022 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    رواں اجلاس میں وقفہ سوالات، قانون سازی ، توجہ دلاو نوٹس اور عوامی اہمیت کے حامل موضوعات کو زیر بحث لائے جائے گا۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا، مرتضیٰ جاوید عباسی، خالد حسین مگسی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے شرکت کی۔اجلاس میں تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔

  • فلپائن میں شدید زلزلے کے نتیجے میں5 افراد ہلاک:درجنوں زخمی

    فلپائن میں شدید زلزلے کے نتیجے میں5 افراد ہلاک:درجنوں زخمی

    فلپائن :شمالی فلپائن میں شدید زلزلے کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہو گئے ہیں۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق وزیر داخلہ بنجمن ابالوس نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی نیوز کانفرنس میں بتایا کہ دو افراد بینگویٹ صوبے میں جبکہ 2صوبہ ابرا اور ایک دوسرے صوبے میں ہلاک ہوا۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے اعداد و شمار کے مطابق زلزلہ ڈولورس قصبے سے 11 کلومیٹر جنوب مشرق میں 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔

    صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے فیس بک پر کہا کہ زلزلے سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں افسوسناک اطلاعات کے باوجود ہم ضرورت مندوں اور اس آفت سے متاثر ہونے والوں کو فوری امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

    زلزلہ مارکوس خاندان کے سیاسی گڑھ کے قریب آیا۔ریاستی سیسمولوجی ایجنسی کے ڈائریکٹر ریناٹو سولیڈم نے ڈی زیڈ آر ایچ ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ شدید آفٹر شاکس متوقع ہیں۔رینٹو نے کہا کہ زلزلے کا مرکز ابرا اور قریبی صوبوں کے پاس تھا اور یہ ایک بڑا زلزلہ ہے۔

    ابالوس نے بتایا کہ ابرا صوبے میں 173 عمارتوں کو نقصان پہنچا اور 58 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاع ملی جس میں 60 میں سے 44 زخمی ہوئے۔حکام نے بتایا کہ عمارت کے جزوی طور پر منہدم ہونے کے بعد ابرہ صوبے میں ایک ہسپتال کو خالی کرا لیا گیا ہے لیکن وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ابرا کے نائب گورنر جوئے برنوس نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر تباہ شدہ ابرا ہسپتال کی تصاویر پوسٹ کیں جس میں اس کے اگلے حصے میں ایک بڑا سوراخ دیکھا جا سکتا ہے۔

  • ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ڈپٹی اسپکر پنجاب اسمبلی رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    ٹویٹر پیغام میں سابق وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے لکھا کہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کی ہر طرح کی دھمکیوں کے خلاف ثابت قدم رہنے اور آئین اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے پر میں ججز کو سراہتا ہوں

     

     

    سابق وزیراعظم نے پنجاب ضمنی الیکشن میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں گھروں سے نکلنے پر پنجاب کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جبکہ مزید لکھا ہے کہ میں بیرسٹر علی ظفر اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا۔

     

     

    سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ق لیگ کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ کو کالعدم قرار دے دیا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کا وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے حلف غیر آئینی تھا۔

  • فرانس کے بیٹسمین نے ٹی ٹوئنٹی کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

    فرانس کے بیٹسمین نے ٹی ٹوئنٹی کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

    پیرس :فرانس کے اوپننگ بیٹسمین گسٹاؤ میک کیون نے ٹی ٹوئنٹی میں سنچری بنا کر سب سے کم عمر کھلاڑی کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔تفصیلات کے مطابق تیسرے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 یورپ سب ریجنل کوالیفائر ٹورنامنٹ میں فرانس اور سوئزرلینڈ کی ٹیم کے درمیان ہونے والے میچ میں یہ عالمی ریکارڈ بنا۔

    فرانسیسی اوپنر گسٹاؤ میک کیون نے 18 سال اور 280 دن کی عمر میں یہ اعزاز اپنے نام کیا اس سے قبل یہ ریکارڈ افغانستان کے اوپنر حضرت اللہ زازئی کے نام تھا جنہوں نے 162 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی تھی۔افغانستان کے حضرت اللہ زازئی نے 2019 میں آئرلینڈ کے خلاف 62 گیندوں پر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

    اوپنر میک کیون نے جمہوریہ چیک کے خلاف بھی 54 گیندوں پر 76 رنز بنائے تھے، اس ٹورنامنٹ میں میک کیون رنز میں سب سے آگے ہیں ، انہوں نے 161 کے اسٹرائیک ریٹ اور 92.50 کی اوسط سے 185 رنز بنائے ہیں۔

    میک کیون کی اننگز نے جمہوریہ چیک کے خلاف 54 گیندوں پر 76 رنز بنائے، اور نوجوان ٹورنامنٹ میں رنز کے لیے سب سے آگے ہے، اس کے 161 کے اسٹرائیک ریٹ اور 92.50 کی اوسط سے 185 رنز بنائے۔

    اتفاق ہے کہ گسٹاؤ میک کیون شاندار سنچری کے باوجود اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے، فرانس یہ میچ ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد آخری گیند پر میچ ہار گیا۔

  • ’بائیو نارڈوک‘ نےمنکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی

    ’بائیو نارڈوک‘ نےمنکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی

    یورپی ملک ڈنمارک کی بائیوٹیکنالوجی کمپنی ’بائیو نارڈوک‘ نے تیزی سے پھیلنے والی بیماری منکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی، جسے یورپین یونین (ای یو) نے استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی۔

    خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ’بائیو نارڈوک‘ نے کچھ عرصہ قبل ہی (Imvanex) ’اموانیکس‘ نامی ویکسین تیار کی تھی، جسے ابتدائی طور پر امریکا اور کینیڈا کی حکومتوں نے استعمال کی اجازت دی تھی۔

    امریکی ممالک کے بعد یورپین یونین کی ہیلتھ ایجنسی نے بھی اسے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد 26 جولائی کو یورپین یونین نے اس کے ہنگامی استعمال کی اجازت دی۔

    کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ یونین کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ویکسین کے ڈوز تمام یورپی ممالک کو فراہم کیے جائیں گے جب کہ پہلے ہی امریکا اور کینیڈا کو اس کے ڈوز فراہم کیے جا چکے ہیں۔

    یورپین یونین کی جانب سے منظوری سے قبل ہی مذکورہ ویکسین کو متعدد یورپی ممالک میں تقسیم کیا گیا تھا اور اسے منکی پاکس سمیت سمال پاکس کے مریضوں پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

    یورپین یونین نے مذکورہ ویکسین کو استعمال کی اجازت ایک ایسے وقت میں دی ہے جب کہ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منکی پاکس کے پیش نظر عالمی سطح پر صحت کی ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے 24 جولائی کو ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا تھا اور یورپین یونین نے 26 جولائی کو ویکسین کے استعمال کی اجازت دی۔

    ’اموانیکس‘ اب تک کی واحد ویکسین ہے، جسے خصوصی طور پر منکی پاکس اور اس سے ملتی جلتی بیماریوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاہم اس سے قبل بھی اس بیماری کے لیے دیگر ویکسینز استعمال کی جا رہی تھیں۔

    منکی پاکس کے علاج کے لیے اب تک ماہرین خارش سمیت چکن پاکس کے علاج میں استعمال ہونے والی ویکسین کا استعمال کر رہے تھے۔

    ماہرین کے مطابق عام طور پر منکی پاکس کے مریض 4 سے 6 ہفتوں میں صحت یاب ہوجاتے ہیں، تاہم بعض مریضوں میں بیماری کئی ماہ تک چل سکتی ہے۔

    مذکورہ بیماری اگرچہ براعظم افریقہ میں عام وبا کی صورت میں پائی جاتی تھی، تاہم رواں برس مئی سے یورپ اور امریکا سمیت ایشیائی ممالک میں پائی جانے والی بیماری مختلف ہے، جو صرف قریبی جسمانی روابط یا پھر مریض کے استعمال شدہ کپڑوں پر لگے خون اور دیگر گندگی سے دوسرے شخص کو متاثر کر سکتی ہے۔

  • یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    ماسکو:یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں،اطلاعات کے مطابق روس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یوکرائنی فوج کے 200 سے زیادہ ارکان "انسانیت کے امن اور سلامتی کے خلاف جرائم” میں ملوث ہیں۔

    الیگزینڈر باسٹریکن نے اخبار روزیسکایا گزیٹہ کو بتایا کہ 24 فروری کو روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے یوکرین کی جانب سے خلاف ورزیوں پر 400 سے زائد افراد پر مشتمل 1,300 سے زیادہ فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ کل 92 کمانڈروں اور ماتحتوں پر پہلے ہی جرائم کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے مطابق 220 سے زائد مشتبہ افراد، جن میں یوکرین کی مسلح افواج کی اعلیٰ کمان کے نمائندے اور عام شہریوں پر گولیاں چلانے والے فوجی یونٹس کے کمانڈر بھی شامل تھے، امن و سلامتی کے خلاف جرائم میں ملوث تھے۔ بنی نوع انسان کا، جس کی کوئی پابندی نہیں ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 92 یوکرائنی کمانڈروں اور ماتحتوں کے خلاف الزامات درج کیے گئے ہیں، جن میں سے 96 مشتبہ افراد کو مطلوبہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    "یوکرائنی قوم پرستوں کی طرف سے طاقت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا،” باسٹریکن نے اصرار کرتے ہوئے کہا، "وہ عوامی جمہوریہ ڈونیٹسک اور لوگانسک پر شدید گولہ باری کر رہے ہیں۔ وہ بے دردی سے پرامن شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر بشمول بچوں کے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

    انہوں نے یوکرائنی افواج پر یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے "اس کے لیے روسی فوج کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے” اپنی ہی سرزمین پر حملہ کیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ماسکو نے اصرار کیا ہے کہ اس کی فوجیں کبھی بھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، صرف یوکرین کی افواج اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ یوکرائن کی جانب سے حملوں میں 7,000 سے زیادہ شہری تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے، جن میں گھر، اسکول اور کنڈرگارٹن شامل ہیں، 91،000 سے زائد افراد کو متاثرین کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

    برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جارجیا اور ہالینڈ کے شہریوں کے خلاف بھی کرائے کے جنگجوؤں کے طور پر تنازعہ میں ملوث ہونے پر مجرمانہ مقدمات کا آغاز کیا گیا ہے، جبکہ یوکرائنی قوم پرست یونٹوں پر روسی جنگی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، بیرونی ممالک میں روسی سفارت خانوں پر حملے کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات قائم کیئے جائیں گے