Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • روس کا یورپ کو گیس سپلائی کرنیوالی پائپ لائن بند کرنے کا اعلان

    روس کا یورپ کو گیس سپلائی کرنیوالی پائپ لائن بند کرنے کا اعلان

    کیف: روس نے یورپ کو گیس سپلائی کرنے والی پائپ لائن نارڈ اسٹریم ون کو 10 دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    روسی حکام کے مطابق نارڈ اسٹریم ون گیس پائپ لائن 11 جولائی سے 21 جولائی تک بند رہے گی، پائپ لائن کو مرمت کی غرض سے بند کیا جارہا ہے، تاہم گیس پائپ لائن بند ہونے سے یورپ میں گیس کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

    یورپ کو 60 فیصد گیس نارڈ اسٹریم پائپ لائن سے سپلائی کی جاتی ہے جو بند ہونے سے یورپ کو گیس کی سپلائی آدھی رہ جائے گی۔
    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعتراف کیا کہ 2600 سے زیادہ شہر اور قصبے روس کے کنٹرول میں ہیں کیونکہ جنگ جاری ہے۔

    زیلنسکی نے کہا کہ یوکرائنی افواج نے 1,000 سے زیادہ شہروں اور قصبوں کو آزاد کرالیا ہے، لیکن انہیں اب بھی 2,610 کو آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات سے متاثر ہونے والے ان مقامات میں سے زیادہ تر کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے، اور ان میں سے سینکڑوں کو "روسی فوج نے مکمل طور پر تباہ کر دیا”۔

    "یقیناً، ہم نے پہلے ہی آزاد شدہ کمیونٹیز اور علاقوں میں اپنے طور پر معمول کی زندگی کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے،” زیلنسکی نے جاری رکھتے ہوئے کہا، "لیکن پورے ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر منصوبے کو نافذ کرنا، نئے حفاظتی معیارات اور زندگی کا ایک نیا معیار فراہم کرنا۔ بین الاقوامی صلاحیتوں کو راغب کرنے سے ہی ممکن ہے۔

    انہوں نے ایک کانفرنس میں کہا کہ یوکرین پیر کو سوئٹزرلینڈ کے ساتھ مشترکہ طور پر میزبانی کرے گا اور منگل کو یوکرین کی تعمیر نو کے لیے "ایک اہم قدم” ہوگا۔

    صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو کہا کہ وہ یوکرین کی جنگ جیتنے میں "جتنا وقت لگے” اس کی حمایت کرنے کو تیار ہیں۔ اگلے دن، پینٹاگون نے یوکرین کے لیے 820 ملین ڈالر کی اضافی سیکیورٹی امداد کا اعلان کیا۔ سٹریٹیجک مشرقی صوبے لوہانسک میں یوکرین کے آخری گڑھ لیسی چانسک کے لیے لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتہ کو ماسکو کے حامی خود ساختہ لوہانسک ریپبلک کے سفیر روڈیون میروشنک نے روسی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ’لیسی چانسک پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک اس کو آزاد نہیں کرایا جا سکا۔‘ روسی میڈیا پر لوہانسک کی ملیشیا کو لیسی چانسک کی سڑکوں پر پریڈ اور پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا تاہم یوکرین کے نیشنل گارڈ کے ترجمان رسلن موزیچک نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ شہر اب بھی ان کے کنٹرول میں ہے۔

     

     

    لیسی چانسک کے قریب شدید لڑائیاں جاری ہیں۔ خوش قسمتی سے شہر کا محاصرہ نہیں ہوا اور یوکرینی فوج کے کنٹرول میں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ لیسی چانسک، بخموت اور خارکیو میں سب سے زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ بحیرہ اسود کے قریبی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے۔ جنوبی علاقے میکولیئو کے میئر نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ دھماکوں کے بارے میں روس کا کہنا ہے کہ اس نے فوج کی کمانڈ پوسٹوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ ’روس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے راستہ مشکل ہو گا لیکن عوام اپنے عزم کو برقرار رکھیں اور دشمن کو نقصان پہنچائیں تاکہ ہر روسی کو یہ یاد ہو یوکرین کو توڑا نہیں جا سکتا۔‘

     

     

    کیئف نے کہا ہے کہ ماسکو نے مرکزی میدان جنگ سے دور شہروں میں میزائل حملے تیز کر دیے ہیں اور جان بوجھ کر شہری مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ 24 فروری کو روسی حملے کے بعد ہزاروں یوکرینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد شہر بھی تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

     

     

    کریملن کے ترجمان دمتری پاسکوف نے روس کے اس موقف کو دہرایا کہ اس نے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ گزشتہ ماہ شدید لڑائی کے بعد روسی فوجیوں نے لیسی چانسک کے قریبی شہر سیوروڈونیسک پر قبضہ کیا تھا۔ یوکرین نے مغرب سے مزید ہتھیاروں کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فوج کو روسی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے شکست دی ہے۔

  • پریڈ گراؤنڈ جلسے میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی

    پریڈ گراؤنڈ جلسے میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی

    اسلام آباد: (باغی ٹی وی) ہفتے کی رات تحریک انصاف نے پریڈ گراؤنڈ میں ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا, جلسے میں شریک پی ٹی آئی کے متوالوں نے خواتین کو آتا دیکھ کر انہیں غلط راستہ بتایا بعد ازاں انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی, خاتون صحافی نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ جب انہوں نے پارٹی کی خواتین ونگ میں جاکر شکایت کی تو وہاں موجود خواتین نے ماننے سے انکار کردیا بلکہ انہیں ہی غلط کہا, خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی دوسروں کو تو سیدھا راستہ دیکھانے کی ازخود ذمے داری لئے ہوئے ہیں, عمران خان اپنے چاہنے والوں کے لئے کیوں نہیں تربیتی نشتوں کا اہتمام کرتے ہیں? ان کی کیوں نہیں اخلاقی تربیت کرتے ہیں, اگر تحریک انصاف خواتین کے تقدس کا احترام نہیں کرسکتی ہے تو ان کی تذلیل کرنے کے لئے انہیں بلایا بھی نہ کریں۔

    جلسے میں شریک ایک اور خاتون نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ ایسے بنتی ہے جیسے جلسے میں آنے والے لوگ خواتین کے ساتھ پیش آ رہے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف کیوں ایکشن نہیں ہوتا ۔ ایسے لگتا ہے کہ جلسے میں کچھ لوگ خواتین کو ہراساں کرنے کا مقصد لے کر ہی شریک ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کو اس حوالہ سے غور کرنا چاہئے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے جلسوں میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کے قائدین سے خواتین نے مطالبہ کیا ہے کہ جلسہ گاہ میں خواتین کے لیے الگ پنڈال کے ساتھ الگ راستہ بھی ہونا چاہئے تا کہ جلسے میں خواتین کو ہراساں کرنے والوں سے خواتین بچ سکیں ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو خواتین جلسے میں آنا چھوڑ دیں گی ۔

  • پاکستانی سفیرکی یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کےڈپٹی سیکریٹری جنرل سےملاقات

    پاکستانی سفیرکی یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کےڈپٹی سیکریٹری جنرل سےملاقات

    لکسمبرگ: پاکستانی سفیر کی یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے حوالے سے خبریں گردش کررہی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یورپین یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان نے یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اینریک مورا سے ملاقات کی ہے۔

    یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس میں ہونے والی اس ملاقات میں سفیرِ پاکستان اور اینریک مورا نے پاکستان اور یورپین یونین کے درمیان تعلقات کی مجموعی صورتحال اور دیگر علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دو طرفہ تعاون تمام شعبوں میں بہتری کی جانب گامزن ہے۔اس ملاقات میں ڈاکٹر اسد مجید خان نے پاک۔ای یو سیاسی، اقتصادی، ماحولیاتی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔اس کے ساتھ ہی سفیر پاکستان نے دو طرفہ تجارت کے فروغ میں جی ایس پی پلس کے مثبت کردار کو بھی اُجاگر کیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جی ایس پی پلس باہمی تعاون کا ایک ایسا بہترین نمونہ ہے جس میں فائدہ صرف ایک فریق کا نہیں بلکہ یہ دو طرفہ نفع بخش ثابت ہوا ہے۔

    قبل ازیں جب سفیر پاکستان ایکسٹرنل ایکشن سروس پہنچے تو وہاں ڈپٹی سیکریٹری جنرل اینریک مورا نے ان کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر اینرک مورا کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کو ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ دوستانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔

  • وفاقی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس کی تنخواہیں بڑھانےکا اعلان

    وفاقی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس کی تنخواہیں بڑھانےکا اعلان

    اسلام آباد:پنجاب پولیس کی طرح وفاقی پولیس کی بھی سُنی گئی ہے اوراطلاعات ہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد پولیس کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ جتنے بڑے شہر ہیں وہاں سیف سٹی کیمرے وقت کی اہم ضرورت ہیں،اسلام آباد سیف سٹی منصوبہ خامیوں کے باعث صحیح طور پر نہ چل سکا۔اہم جگہوں اور زیادہ ضرورت کی چیزوں کے لیے 4 کروڑ روپے مہیا کر دیئے گئے۔

    اس سلسلے میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کو فوری فزیبلٹی بنانے کا کہا ہے اور اسی سال میں سو فیصد سیف سٹی کوریج کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے قطعا اس کی ادائیگی میں کوئی حیل و حجت نہیں کی اور کوشش کریں گے اس مالی سال میں اسے مکمل کریں، ایک ارب 22 کروڑ روپے کی رقم شہدا کے لیے بقایا جات تھے اور افسوس ہے جنہوں نے قربانیاں دیں ان کے اہلخانہ دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔

    شہدا کے لواحقین سے معذرت خواہ ہوں،رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی تنخواہیں پنجاب پولیس کے برابر کرنے کا تھا تو حکومت نے اسلام آباد پولیس کا مطالبہ پورا کر دیا ہے، اسلام آباد پولیس کی تنخواہیں اور مراعات پنجاب پولیس کے برابر کر دیئے گئے ہیں،

    انہوں نے کہا کہ بدنام زمانہ دہشت گرد کو جہنم واصل کرنے پر تمام افراد اور ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں اور جس ٹیم نے اس دہشت گرد کو مارا ہے انہیں بھی میڈل اور ایوارڈ دیئے جائیں گے۔ 140ملین کی ابتدائی رقم اسلام آباد پولیس کو دی گئی ہے،وزیر داخلہ نے کہا کہ فسادی ٹولے کو پسپا کرنے پر اسلام آباد پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو ہر سہولت دی جائیں گی جبکہ اسلام آباد 3 طرف سے ایسے معاملات کا شکار ہو سکتا ہے۔

    25 مئی کو فسادی ٹولہ اسلام آباد پر حملہ آور ہونا تھا لیکن پولیس، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی حکام نے فسادی ٹولے کو پسپا کر دیا،رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ سیف سٹی صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ سب کچھ کیچ ہو گا اور کارروائی بھی ہو گی۔ کسی کو تشدد کی قطعا کوئی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ فیصل آباد کی سیٹ ہم جیت رہے ہیں تاہم کچھ مشکلات بھی ہیں۔ بتائیں کیا انہوں نے بینرز کی اجازت لی تھی ؟ فیس ادا کی تھی؟

  • روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ

    روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ

    بیجنگ:روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ،اطلاعات ہیں کہ ایک جرمن اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس چاہتے ہیں کہ پانچ بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک کلب BRICS مغربی اکثریتی گروپ آف سیون (G7) کا مقابلہ کرے۔ اس مقصد کے لیے، بیجنگ اور ماسکو بظاہر اس گروپ کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں، جس کے دیگر تین شرکاء برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ ہیں۔

    بدھ کے روز ایک رپورٹ میں، فرینکفرٹر آلگیمین زیتونگ نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے خلاف روس کے حملے کے آغاز اور مغربی پابندیوں کے نفاذ کے بعد سے، ماسکو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط اور بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سابقہ ​​G8 سے نکالے جانے کے بعد، کریملن نے مبینہ طور پر برسوں سے برکس کو G7 کے متبادل میں تبدیل کرنے کی امید کو پروان چڑھایا ہے۔ جرمن اخبار کے مطابق، کریملن نے اب ان کوششوں کوتیز کر دیا ہے۔

    پیر کے روز روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اعلان کیا کہ دو اور ممالک، ارجنٹائن اور ایران نے گروپ میں شامل ہونے کے لیے درخواست دی ہے۔ اپنے ٹیلیگرام چینل پر، سفارت کار نے حوالہ دیا کہ یہ اس وقت ہوا جب وائٹ ہاؤس سوچ رہا تھا کہ دنیا میں روس اورچین کا راستہ کس طرح روکا جائے

    قبل ازیں، تہران اور بیونس آئرس دونوں کے حکام نے اپنے ممالک کی مکمل رکن بننے کی خواہش کی تصدیق کی تھی۔

    ٹیلیگرام پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے روسی سینیٹر الیکسی پشکوف جو پہلے ریاست ڈوما میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں کہتے ہیں کہ "اگرچہ برکس اس کا اعلان نہیں کرتا ہے، لیکن یہ ایک متبادل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہاں تک کہ کاؤنٹر ویٹ بھی ہے ۔ مستقبل میں G7 کے لیے کیونکہ یہ غیر مغربی دنیا کے سرکردہ ممالک کو متحد کرتا ہے۔

    پشکوف نے ایران اور ارجنٹائن کی شامل ہونے کی خواہش کو "ایک پیش رفت کے طور پر بیان کیا، کیونکہ یہ نہ صرف روس کو الگ تھلگ کرنے کی مغرب کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ غیر مغربی دنیا کی اعلیٰ ترین اقتصادی-سیاسی تنظیم کو بھی وسیع کرتا ہے”۔

    دریں اثنا، روس کی RIA نووستی نیوز ایجنسی کے حوالے سے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل میں مزید دس ممالک برکس میں شامل ہو سکتے ہیں، جن میں میکسیکو، ترکی اور سعودی عرب شامل ہیں۔

    رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گروپ کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو ظاہر کرنے کے لیے چین نے 13 مہمان ممالک کو بھی اس تقریب میں مدعو کیا ہے۔ ان ممالک میں مصر، فجی، الجزائر، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا شامل ہیں۔

    جرمن اخبارکا کہنا ہے کہ روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلے کی تصدیق چینی صدرکے بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں صدر نے برکس کو امریکہ کی زیر قیادت اتحادوں کے برعکس، ایک انسداد پراجیکٹ اور ایک "بڑا خاندان” قرار دیا،

    جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے سربراہی اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ برکس کے تمام رکن ممالک نے گروپ کو بڑھانے کے خیال کی حمایت کی ہے، برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ اس معاملے پر مکمل طور پر ایک صفحے پر نہیں ہیں،بھارت کی شمولیت کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں

  • ومبلڈن اوپن:اعصام الحق کو دوسرے راؤنڈ میں شکست

    ومبلڈن اوپن:اعصام الحق کو دوسرے راؤنڈ میں شکست

    لندن:پاکستان کے نامور ٹینس سٹار اعصام الحق قریشی ومبلڈن اوپن مینز ڈبلز مقابلوں کے دوسرے راؤنڈ میں شکست کے بعد ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہو گئے، لندن میں جاری گرینڈ سلیم ومبلڈن اوپن مینز ڈبلز مقابلوں کے دوسرےراؤنڈ میں سپین کے ڈیوڈ ویگا اور برازیل کے رافیل میٹوس نے پاکستان کے اعصام الحق اور قزاخستان کے الیگزینڈر نیڈو ویسوف کو شکست دے کر اگلے مرحلے کے لئے کوالیفائی کر لیا،

    ذرائع کے مطابق پہلے راؤنڈ میں اعصام الحق اور ان کے جوڑی دار نے 6-3 سے کامیابی حاصل کی تاہم دوسرے راؤنڈ میں انہیں سخت مقابلے کے بعد 7-6 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، تیسرے راؤنڈ میں ڈیوڈ ویگا اور رافیل میٹوس کو 5-3 کی برتری حاصل تھی اس موقع پر اعصام الحق اور الیگزینڈر نیڈو ویسوف فٹنس مسائل کی وجہ سے دسبتردار ہو گئے،

    واضح رہے پہسابق عالمی نمبر ون خاتون ٹینس کھلاڑی سرینا ولیمز جو ایک سال کے طویل وقفے کے بعد کورٹ میں واپس آئی تھیں کو ومبلڈن اوپن کے پہلے ہی رائونڈ میں فرانس کی نوجوان کھلاڑی ہارمونی ٹین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے سرینا ولیمز جنہیں ومبلڈن اوپن میں شرکت کیلئے وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی تھی کو فرانسیسی کھلاڑی ہارمونی نے تین گھنٹے گیارہ منٹ کے مقابلے کے بعد سات پانچ، ایک چھ، سات چھ سے شکست دی،

    یاد رہے کہ ہارمونی ٹین جو عالمی درجہ بندی میں 115ویں پوزیشن پر ہیں کا ومبلڈن اوپن میں پہلا میچ تھا، اس ناکامی کے بعد سرینا ولیمز کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور اب ان کیلئے ریکارڈ 24 واں گرینڈ سلام جیتنا ناممکن دینے لگا ہے، یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا سرینا ولیمز کا آخری ومبلڈن اوپن تھا راؤنڈ میں اعصام الحق اور ان کے پارٹنر نے آسٹریلیا کے جیمز ڈک ورتھ اور امریکا کے مارکوس گیرون کو شکست دی تھی۔

  • مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے

    مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے

    ماسکو:مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے،اطلاعات کے مطابق 90 سے زائد کھیل کے عالمی اداروں نے روس کے کھلاڑیوں پر پابندی عائد کر کے انہیں فی الحال کھیل سے محروم کر دیا ہے۔

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء کے ڈین نے جمعے کی شب یہ خبر دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ کے آغاز سے اب تک کھیل سے متعلق ستانوے عالمی ادارے روس کے کھلاڑیوں پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

    روس کے لیے پیغام ہےکہ21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں:یو این سیکریٹری جنرل

    یوکرین پر روس کی چڑھائی کے اب اسکے اثرات کا دائرہ سیاسی و اقتصادی شعبوں سے بڑھ کر کھیل کے میدان تک بھی جا پہنچا ہے۔ اُن اداروں میں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا، یورپی فوٹبال کی تنظیم یوفا اور اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی آئی او سی بھی اُن اداروں میں شامل ہیں جنہوں نے یوکرین جنگ کے باعث روسی کھلاڑیوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایا ہے۔

    روس ، یوکرین جنگ : کِک باکسنگ کا عالمی چیمپئن ملک کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء کے ڈین ویکٹر بلاجیف کا کہنا تھا کہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اولمپک اور پیرالمپک کی عالمی کمیٹیوں کے علاوہ پچانوے دیگر کھیل تنظیموں نے روسی کھلاڑیوں کو کھیل کے میدان سے محروم کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پہلے اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی آئی اور سی نے پابندیاں عائد کیں اور پھر اسکے بعد دیگر عالمی تنظیمیں بھی پابندیاں عائد کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو گئیں۔

    اقوام متحدہ میں یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد منظور

    یاد رہے کہ روس نے چوبیس فروری کو مغربی ممالک بالخصوص نیٹو کی اشتعال انگیزیوں کو وجہ بتا کر یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا جو بدستور جاری ہے اور اس کے باعث اب تک روس کے خلاف سیاسی و اقتصادی سمیت مختلف شعبوں میں وسیع پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

  • ایاز امیر پر تشدد :حقیقت کچھ اور :باغی ٹی وی سچ سامنے لے آیا

    ایاز امیر پر تشدد :حقیقت کچھ اور :باغی ٹی وی سچ سامنے لے آیا

    لاہور:باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کار ایاز امیر پر لاہور میں ہونے والے حملے کی اصل حقیقت سامنے آ گئی۔ ایاز امیر کی گاڑی کو کسی گاڑی نے ٹکر نہیں ماری بلکہ ایاز امیر کی گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایاز امیر کی گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری تو اس گاڑی میں سوار افراد نے ایاز امیر پر تشدد کیا ۔ واقعہ کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی ایاز امیر کا مقامی ہسپتال میں طبی معائنہ کروایا گیا

    ایاز امیر نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کے سامنے بیٹھ کر عمران خان کی پالیسیوں پر ہی تنقید کی تھی جس کی وجہ سے گذشتہ روز سے تحریک انصاف کے کارکنان میں غصہ پایا جا رہا تھا ۔ تحریک انصاف کے کارکنان نے غصے کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا تھا

    ایاز امیر دنیا ٹی وی سے پروگرام ختم ہونے کے بعد آواری ہوٹل جا رہے تھے تب یہ واقعہ پیش آیا اور اب اس معاملے کو میڈیا پر غلط رنگ دیا جا رہا ہے میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ ایاز امیر کہ گاڑی کو ہٹ کیا گیا پھر تشدد کیا گیا حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے ایاز امیر کی گاڑی نے ایک کلٹس گاڑی کو ٹکر ماری جس کے بعد اس گاڑی میں سوار افراد نے تشدد کیا ۔

     

    ایاز امیر پر تشدد کا وزیراعظم شہباز شریف ۔وزیراعلی پنجاب وزیر داخلہ نے نوٹس لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ نے بھی واقعہ کے بعد ایاز امیر سے ملاقات کی ہے

    ٹویٹر پر صارف احمد منصور نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏عمران خان کو جس طرح کے "صحافیوں” کو سننے کی عادت پڑ گئی ہے وہاں ایاز امیر کی "بیانیہ” برباد کرنے والی تقریر کیسے ہضم ہو سکتی تھی۔۔۔

     

    سید عمران شفقت نے بھی ٹویٹر پر ایاز امیر پر تشدد کے حوالہ سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پی ٹی آئی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دیگر صارفین نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایاز امیر پر تشدد کے پیچھے پی ٹی آئی ہو سکتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی میں عدم برداشت ختم ہو چکی ہے اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان خود عدم برداشت کی تلقین اپنے خطابات میں کرتے رہے ہیں عمران خان کا ایک خطاب میں کہنا تھا کہ جو پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں وہ گھروں سے باہر نکل کر تو دکھائیں۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی تھی کہ پارٹی چھوڑنے والوں کو سبق سکھانا ہے

  • امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں:وزیر اعظم

    امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں:وزیر اعظم

    اسلام آباد :وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستان میں نئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں شہباز شریف نے امریکی سفیر کو اسناد سفارت پیش کرنے اور نئی سفارتی ذمہ داریوں پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے نئے سفیر پاک امریکہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اپنی توانائی وقف کریں گے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلیوں، صحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون مختلف سطح پر مذاکرات کا مظہر ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان کی وسیع مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں۔

    وزیراعظم نے پاک امریکہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فریم ورک معاہدے کے لیے اس سال کے آخر میں اجلاس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری موقع پر کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔

    دوسری طرف امریکی نمائندہ خصوصی برائے تجارتی امور دلاورسید نے دفتر خارجہ میں بلاول بھٹو سے اہم ملاقات کی ہے۔اس دوطرفہ ملاقات میں وزیر خارجہ نے نمائندہ خصوصی دلاورسید کا پاکستان میں خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور امریکا کے درمیان کاروباری روابط کو بہتربنانے میں امریکی کردارکا اعتراف کیا۔

  • حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کےلیےسازگارماحول فراہم کرنےکےلیےپرعزم ہے:مفتاح اسمٰعیل

    حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کےلیےسازگارماحول فراہم کرنےکےلیےپرعزم ہے:مفتاح اسمٰعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مفتاح اسماعیل سے امریکی محکمہ خارجہ کے تجارتی اور کاروباری امور کے خصوصی نمائندے دلاور سید کی سربراہی میں وفد کی ملاقات ہوئی، امریکی اقتصادی اور تجارتی امور کے حکام سمیت امریکی سفارتخانے کے سینئر افسران اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

    وزیر خزانہ نے وفد کو موجودہ حکومت کو درپیش معاشی چیلنجز سے آگاہ کیا، انہوں نے ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومت کی پالیسیوں اور اصلاحات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات کا مقصد جی ڈی پی، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملکی برآمدات بڑھانا ہے، موجودہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے مزید سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات کے فروغ بالخصوو آٹو موبائل اور دیگر برآمدات کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

    امریکی وفد نے ہوا، قابل تجدید توانائی، ٹیکسٹائل اور زرعی شعبے سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں اپنی دلچسپی ظاہر کی، وفد نے عندیہ دیا کہ ڈی ایف سی ونڈ پاور پراجیکٹس کے پاور پرچیز ایگریمنٹس پر نظر ثانی کرے گا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ حکومت توانائی، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔