Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    ٹوکیو:توانائی کا بحرانی عالمی صورتحال اختیارکرگیا ہے اور یہ بھی پشین گوئی کی جارہی ہے کہ یہ بحران ابھی مزید بڑھے گا جس کی صورت میں عالمی سطح پرایک بہت ہیجانی کی کیفیت پیدا ہوجائے گی،ترقی پزیرممالک میں تویہ تصورتھاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوسکتی ہے لیکن جاپان جیسے ملک کے بارے میں سوچنا احمقانہ تصورکیاجاتا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جاپان میں بھی لوڈشیڈنگ یا بجلی کا بحران ہومگراب یہ سب کچھ ہورہا ہے ، جاپان کو اس وقت جون کی ریکارڈ توڑ ’بدترین‘ گرمی کی لہر کا سامنا ہے جہاں بجلی کے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کچھ مینوفیکچررز نے بجلی کی بچت کے لیے پیداوار کو کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے

    گرمی کی لہر کے پانچویں دن ٹوکیو کے قریبی علاقوں میں 40 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

    جاپان کے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ دارالحکومت ٹوکیو کا درجہ حرارت 5 جولائی تک 30 سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آئے گا۔ صنعت کی وزارت کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ’بجلی کی طلب اور رسد کی صورت حال گزشتہ تین دنوں میں (رواں ہفتے کے) سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوکیو اور اس کے قریبی علاقوں میں بدھ کی دوپہر کے اوائل میں بجلی کی طلب گزشتہ چند سالوں کے موسم گرما کی بلند ترین سطح کے برابر ہو سکتی ہے

    نیشنل گرڈ مانیٹر کے مطابق منصوبہ بند بجلی کی سپلائی میں پہلے سے ہی وہ سب کچھ شامل کر لیا گیا ہے جو بدھ تک اضافی اقدامات کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

    آرگنائزیشن فار کراس ریجنل کوآرڈینیشن آف ٹرانسمیشن آپریٹرز (او سی سی ٹی او) کے مطابق دوپہر تخمینے نے ظاہر کیا ہے کہ ٹوکیو کے علاقے کے لیے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا ریزرو تناسب شام ساڑھے چار اور پانچ بجے کے درمیان 2.6 فیصد تک گر سکتا ہے۔ جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیدا نے گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ جاپان میں بجلی کی وافر فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔

    دریں اثنا، پاور کمپنیاں تھرمل پاور پلانٹس کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں جو بن کر دیے گئے تھے جبکہ ری ایکٹرز کو دوبارہ فعال کرنے سمیت متبادل توانائی کے ذرائع کے اضافی استعمال کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  • کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    لاہور:کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کی طرف سے پاکستان کے دورے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے، اس حوالے سے بھی یہ دورہ اہم ہےکہ آنے والے مہمان نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات کی ہے ،

    اسی حوالے سے ن لیگ کی طرف سے خوشی کااظہارکرتےہوئےکہا گیا ہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi) کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ خطے میں باہمی تعلقات کی جانب ایک اورمثبت قدم ہے

    یاد رہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi)نے اپنے دورہ پاکستان میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں

    پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    اس سلسلے میں ایک ملاقات وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ہے۔ وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر چین کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی صدر اور ہم منصب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈائریکٹر یانگ کا دورہ پاکستان ، پاک چین دوستی ، اسٹریٹجک شراکت داری کا مظہر ہے۔

    چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بڑھانے کے خواہاں ہیں :آرمی چیف

    وزیراعظم نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں مزید بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ اقتصادی تعاون وسیع پیمانے پر پاک چین شرکت داری کی بنیاد بن چکا۔ چین کی غیر متزلزل حمایت ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکے سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر بھی چین کا شکریہ ادا کیا۔

    ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

  • پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    اسلام آباد: پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق نئے بجٹ کا حجم 96 کھرب سے تجاوز کرگیا ہے اور پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

    نئے مالی سال کے بجٹ میں ترامیم کے مطابق اب نئے مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو 7445 ارب کا ٹیکس جمع کرے گا کیونکہ ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں 1340 ارب روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ سپر ٹیکس سے 200 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوگی اور سپر ٹیکس کا اطلاق یکم جولائی 2021 سے ہوگا۔

    یکم جولائی 2021 سے 30 جون 2022 کی آمدن پر سپر ٹیکس عائد ہوگا۔ فنانس بل میں پٹرولیم لیوی 30 روپے سے بڑھا کر 50 روپے فی لٹر کردی گئی ہے اور مائع پٹرولیم گیس پر 30 روپے فی کلو لیوی عائد کی جا رہی ہے۔ اس طرح پٹرول لیوی 750 کی بجائے 855 ارب روپے جمع کرنے کا تخمینہ ہے۔

    نئے مالی سال میں پنشن کے لیے 530 کی بجائے 605 ارب خرچ کا تخمینہ ہے جبکہ انتظامی امور چلانے کےلیے 550 کی بجائے 570 ارب کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے 1.9 ارب ڈالر بجٹ دستاویز میں شامل کرلیے گئے۔

    چین سے 2.3 ارب ڈالر بجٹ دستاویز میں شامل کرلیے گئے۔ فنانس بل میں ترمیم کے بعد سناروں پر 17 فی صد سیلز ٹیکس کی بجائے اب سناروں پر ماہانہ 40 ہزار روپے فکس سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

  • یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    لاہور:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟اس حوالے سے انکشافات کرتے ہوئے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ عمران خان کے پونے چار سالہ دور اقتدار میں جس چیز پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی وہ عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس تھے۔ عمران خان نے عثمان بزدار کو ہر جگہ ڈِیفینڈ کیا، اور ہم ایک عرصہ تک یہ سنتے رہے کہ عثمان بزدار کام سیکھ رہے ہیں۔ لیکن اب حیران کن انکشاف ہوئے ہیں کہ عثمان بزدار نے اپنے پہلے سال کی نسبت چودہ گنا کام سیکھا اور کارکردگی بھی دیکھائی لیکن یہ کارکردگی ملک اور قوم کی عوام کے لیے نہیں بلکے اپنے اثاثے بنانے کے لیے دیکھائی گئی۔ عثمان بزادر پر اقتدار کے پہلے سال ایک ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے جبکہ اگلے دو سالوں میں انہوں نے مبینہ طور پر چودہ ارب روپے کی کرپشن کی۔ کرپشن کرنے کے نئی سائنسی اور پرانے روائیتی طریقوں پر انحصار کیا گیا۔ کہاں کیسے کس طرح اور کس چیز میں انہوں نے کیسے پیسے بنائے، کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی ۔۔آج میں تمام تہلکہ خیز انکشافات آپ کے سامنے رکھوں گا جو آپ نے نہ تو پہلے سنے ہوں گے اور نہ ہی کہیں دیکھے ہوں گے۔

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، جناب عثمان بزدار منظم مالی بدعنوانی کے ذریعے اختیارات کے ناجائز استعمال اور پبلک سیکٹر کے فنڈز میں غبن میں ملوث رہے۔ بدعنوانوں بیوروکریٹس کی ایک ٹیم کی مدد سے عثمان بزدار نے کرپشن میں مہارت حاصل کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کے طریقے اور غبن کا حجم بدعنوانی کے ایک نفیس اور باضابطہ نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر اپنے پہلے سال کے دوران، عثمان بزدار نےگیارہ مبینہ کیسوں میں ایک ارب سولہ کروڑ روپے بنائے۔وہ گیارہ کیس کون سے ہیں ان کی تفصیل میں آگے جا کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔لیکن اگلے تین سالوں میں عثمان بزدار نے بدعنوانی اور کرپشن کی نئی بلندیوں کو چھولیا۔ انہوں نے منظم کرپشن کے لیے ایک باضابطہ نیٹ ورک تیار کیا ہے جس میں بدمعاش بیوروکریٹس اور بدنام زمانہ فرنٹ مین شامل تھے۔ دوسرے اور تیسرے سالوں کے دوران عثمان بزدار کی مبینہ کرپشن کم از کم 15.3 بلین روپے تھی اور ہر آنے والے سال اپنے ہی ریکارڈ کو مات دی ۔آج کے پروگرام میں ۔۔ میں آپ کو یہ بھی بتاوں گا کہ عثمان بزدار اور اس کے اعلان کردہ اور بے نامی اثاثون کی ثابت شدہ ٹریل کیا ہے۔لیکن اس سے پہلے آپ کو پہلے سال میں سوا ارب کی مبینہ کرپشن کی تفصیل بنا دوں۔

    ان کا کہناتھا کہ عثمان بزدار نے اپنے ساتھی مختیار احمد جتوئی کوTMO Tounsa مقرر کیا اور 50 ملین روپے کی منظوری دی۔ ایم سی تونسہ میں ترقیاتی کاموں کے لیے زمین پر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا اور پانچ کروڑ کا چونا لگا دیا گیا۔لاہور میں Unicorn Prestige Hotelکے لیے الکوحل کا لائسنس۔ ستر لاکھ روپے لینے کا الزام۔عثمان بزدار نے سمیع اللہ چوہدری (ایم پی اے بہاولپور) کے ساتھ چینی پر سبسڈی دینے کے لیے 50 ملین روپے کی کابینہ کی منظوری کا انتظام کیا۔Hubb Gull Khanعثمان بزدار کے فرنٹ مین تھے ،نے بغیر کسی نیلامی کے ٹول ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا۔ اور تقریبا سوا کروڑ روپے سالانہ بنائے

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ ڈی ایس پی عامر تیمور (چچا) کو ڈی پی او بہاولپور تعینات کر دیا گیا۔ اسے پولیس اہلکاروں کی ہر مطلوبہ پوسٹنگ پر پانچ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے ملنا شروع ہو گئے۔کیپٹن (ر) اعجاز جعفر (کزن) Ex-ACS Punjab نے دس لاکھ سے پچاس لاکھ روپے لے کر افسران کی متواتر پوسٹنگ شروع کر دی۔ ان کی مدت کے دوران، ہر افسر کی اوسط مدت تقریبا دو ماہ تھی۔عمر خان بزدار (بھائی) نے تونسہ میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن بند کروانے کے لیے دوکاندارون سے تیس لاکھ روپے وصول کیئے۔مسلم لیگ ن کے ایم پی اے عطا الرحمان پر اکیس سالہ لڑکی سدرہ سلیم کے ساتھ گیارہ ماہ تک زیادتی کے کیس میں مدد فراہم کرنے کے لیے عثمان بزدار کے قریبی دوست طاہر چیمہ نے مبینہ طور پر پانچ کروڑ روپے وصول کیئے۔ اس کیس میں میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہو گئی تھی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار نے ڈی جی خان میں براہ راست زمینوں پر قبضہ کی سرپرستی بھی کی۔ جبکہ دوسرا بھائی طور خان بزدار اپنے فرنٹ مینوں کے لیے سڑکوں کے ٹھیکوں کا انتظام کرتا رہا۔یہ تو وہ معمولی سی مبینہ کرپشن ہے جو اناڑی عثمان بزدار نے کی، لیکن کھلاڑی عثمان بزدار نے کام سیکھ کر جو گل کھلائے ۔ آپ کو ابھی بتاتا ہوں۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگر عثمان بزدار کے مبینہ Un declared اثاثوں اور کاروبار کی بات کی جائے تو اس میں199کنال ایگری لینڈ Tuman khosa میں، بتیس کنال جگہ میاں چنوں میں، 35 کنال جگہ ملتان میں اور اکتیس مرلے رہائشی پلاٹ کی صورت میں ملتان میں ہی ہیں۔اگر کاروبار کی بات کی جائے تو ۔۔ تونسہ میں ایک پٹرول پمپ، سخی سرور روڈ ڈی جی خان میں ایک ٹیکسٹائل مل، انصاف فلور مل ۔۔کوٹ موڑ تونسہ شریف۔بحثیت انویسٹر ایک Toyota show room D G khan.Syed crush plant basti Buzdar یہ سب چیزیں وزیر اعلی کی نامزدگی کے بعد سامنے آئی ہیں جبکہ جو جائیداد وزیر اعلی بننے کے بعد بنائی ہے اس میں،4 acre Spanish villah multan.Tuff tile factory tounsaدوست محمد بزدار جو Brother in law ہے نے سوزوکی چوک ڈی جی خان میں چار کنال کمرشل جگہ کی ایک ڈیل فائنل کی جس کی مالیت ایک ارب کے قریب ہے۔عثمان بزدار کا دوست جاوید قریشی بحرین میں انویسٹمنٹ کرتا رہا۔اپنی آبائی زمینیوں پر سرکاری خرچے سے انفراسٹرکچر بنا کر ڈھائی ارب روپے کا فائدہ اٹھایا گیا۔ جبکہ درجنوں پراپرٹیز ایسی ہیں جو کبھی بھائی تو کبھی فرنٹ مین اقبال عرف دالی اور دیگر لوگوں نے مختصر عرصے میں خریدی ہیں۔

    اب بات کرتے ہیں جب عثمان بزدار کرپشن کے کھلاڑی بن گئے تو پھر کیا ہوا۔۔؟عثمان بزادر کے مرحوم والد جناب فتح محمد بزدار کے پاس پونے چار ارب روپے کی آٹھ پراپرٹیاں تھی جس کے آٹھ وارث ہیں۔ عثمان بزدار نے اپنے نام پر تقریبا بیس کروڑ روپے کی پراپرٹی ڈکلیئر کی ہیں۔ لیکن عثمان بزدار کے نام کے ساتھ بے تحاشا، غیر اعلانیہ اثاثے، کاروبار اور جائیدادیں جڑی ہوئی ہیں تقریبا بیس کروڑ روپے کے غیر اعلانیہ اثاثے۔۔ ستائیس کروڑ روپے کے کاروبار اور دس ارب روپے کی جائیدادیں اور اثاثے جو مبینہ طور پر حال ہی میں حاصل کیئے گئے ہیں۔ایک ایک کی تفصیل میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہسابق وزیر اعلی عثمان بزدار کا پنجاب میں کرپشن کا نیٹ ورک پاکستان کے دوسرے صوبوں میں پہلے سے بنے ہوئے کرپشن نیٹ ورک سے کسی بھی صورت کم نہ تھا۔اور ان کے تمام معیاروں پر پورا اترتا تھا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگرچہ پبلک سیکٹر کے فنڈز کی آمد محدود رہی ،لیکن عثمان بزدار حکومت کے دوران کرپشن نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ۔ سالانہ ترقیاتی منصوبے کی مد میں آخری سال بڑے پیمانے پر فنڈز آنے کے بعد، بزدار اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے غیر معمولی بدعنوانی کی کوشش کی گئی جس کے گورننس اور صوبے کی مالیاتی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔شروع میں بدعنوانی انفرادی سطح پر کی گئی پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ منظم کرپشن میں تبدیل ہو گئی۔ سابق پرنسپل سکریٹری مسٹر طاہر خورشید جسے عثمان بزدار کی مکمل حمایت اور منظوری حاصل تھی نے بدعنوانی کے مشترکہ ایجنڈے کے تحت کلیدی اداروں اور محکموں کے سربراہان کی تقرریاں کی ۔ اس عمل سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے اور کرپشن کے نظام کو رواں دواں رکھنے کے لیے بار بار پوسٹنگ، ٹرانسفر کا طریقہ کار اپنا یا گیا۔ پیسے بنانے کے دیگر طریقوں میں ٹھیکے دینے کے دوران رشوت اور کک بیکس کی وصولیاں بھی شامل تھیں۔

    پنجاب میں تمام مالیاتی متعلقہ تقرریاں جن میں صوبائی سیکرٹریوں سے لے کر ہائی ویز میں ایس ای ، ایکس ای اینز ، ایس ڈی اوز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور منافع بخش حلقوں کے پٹواریوں تک کو عثمان بزدار اور ان کے ساتھیوں نے فروخت کیا۔ ایسا مایوس کن معاملہ انتہائی آمرانہ حکومتوں میں بھی نہیں ہوا۔پنجاب میں بدعنوانی اور حکمرانی کا فقدان بھی بیوروکریسی کے صفوں اور فائلوں میں مایوسی اور ناراضگی کو جنم دے رہا تھا، جہاں ایماندار بیوروکریٹس کو کسی نہ کسی بہانے اہم بلوں سے انکار کیا جاتا رہا۔ عثمان بزدار کی غلط حکمرانی اور بدعنوانی کا ایسا بے لگام جادو پنجاب میں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کے لیے انتہائی نقصان دہ تھا۔ کرپشن کے دوسرے مرحلے میں طاہر خورشید، سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ سارے کھیل کے مرکزی کردار تھے،

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ جب وہ ڈی جی خان قبائلی علاقے میں خدمات انجام دے رہے تھے تو وہ عثمان بزدار سے واقف تھے۔بزدار نے انہیں اپنے ابتدائی مرحلے میں کمشنر ڈی جی خان تعینات کر دیا۔ طاہر خورشید نے بزدار خاندان کے معاملات اس قدر اچھے طریقے سے چلائے کہ وزیراعلیٰ کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو مقرر کیا جہاں انہوں نے اربوں کمائے۔ اس کیس پر ان کے خلاف نیب انکوائری بھی جاری ہے۔پنجاب حکومت نے جب لوکل گورنمنٹ اور LG &CDکے لیے پچاسی ارب روپے کی منظوری دی تو عثمان بزدار نے طاہر خورشید کو ان فنڈز کی ترسیلات کے لیے سیکرٹری LG & CD لگا دیا۔ جب عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی ایم سیکرٹریٹ تعینات کیا تو طاہر خورشید نے ہم خیال بیوروکریٹس کی پوسٹنگ کا انتظام شروع کر دیا۔ جس سے ماہانہ ایک سے پانچ کروڑ روپے رشوت کا راستہ صاف کیا گیا۔ جبکہ دیگر بیوروکریسی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لیے خوف اور غلط الزامات کا سہارا لیا گیا۔وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں طاہر خورشید کی تعیناتی نے منظم طریقے سے عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے سائنسی طریقہ کار کی راہ ہموار کی۔ایک ہاوسنگ سوسائٹی جولاہور میں ہے ۔۔ کو ٹیکنیکل Approvalکے بغیر پندرہ دن میںNOC دے دیا گیا، اور پچیس کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔نظام کو ٹھیک کرنے کے دعوے داروں نے123پٹواریوں کو ایک دن میں پندرہ لاکھ فی پٹواری حاصل کر کے تعینات کر دیا۔ اور ایک ہی دن میں اٹھارہ کروڑ چالیس لاکھ روپے بنا لیے گئے۔طاہر خورشید نے کمشنر ساہیوال پر ہڑپہ ٹیکسٹائل ملز کی 800 کنال زمین کو صنعتی سے رہائشی میں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ حثیت کی تبدیلی سے زمین کی قیمت میں چالیس ارب روپے کا اضافہ ہوا اور آٹھ ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی ڈیل کی گئی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار کو ملتان میں سٹی ہاؤسنگ کی توسیع کی منظوری دی گئی ۔ پچاس کروڑ کی مبینہ کرپشن۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمر بزدار کے فرنٹ مینوں نے ادویات کی مقامی خریداری اور ڈی جی خان میں ٹرانسپورٹ سے ٹول ٹیکس کی وصولی میں ملوث ہو کر ماہانہ ایک کروڑروپے کمائے، ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوریاں دے کر سالانہ پچاس کروڑ روپے کمائے گئے۔جعفر بزدار (بھائی) نے سرکاری پوسٹنگز کروا کر دو کروڑ روپے ماہانہ کہ بنیاد پر کمائے۔ CEO LWMCنے مشینری کی خریداری کے لیے چھ ارب روپے کے معاہدوں کو حتمی شکل دی جس میں دو ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔ محکمہ صحت میں لاہور کے پانچ بڑے ہسپتالوں میںLocal purchase کی مقدار ڈیڑھ ارب ہے، سپیشلائزڈ ہیلتھ کے ذریعے سابق وزیر اعلی کو بڑا حصہ دیا جاتا ۔ فارما کمپنیوں اور ہیلتھ انسپکٹرز کا ایک منظم گروپ تھا جو اس وصولی کا انتظام کرتا تھا۔صرف ایک ارب روپے توسرکاری افسران کی پوسٹنگ،تبادلوں پر کما لیئے گئے۔طور خان بزدار کو ڈی جی خان میں سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ چوبیس کروڑ روپے میں دیا گیا۔اورنگزیب چوہدری جو طاہر خورشید کا فرنٹ مین ہے نے ایم ایم عالم روڈ پر چار کنال کا بنگلہ خریدا۔زمین کی خریداری کے بعد، اسی گلی کو نئی سڑک کی تعمیر کے ساتھ ماڈل روڈ کا نام دیا گیا۔ اور ان سارے کاموں میں مبینہ طور پر پندرہ ارب روپے کے گھپلے کیئے گئےعمران خان کی بشری بی بی سے شادی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ عوام کو تو یہ بتایا جاتا ہےکہ بشری عمران خان کی تیسری اہلیہ ہیں مگر سرکاری کاغذات کچھ اور ہی کہانی بتاتے ہیں ۔ کیونکہ بشری بی بی کا پاسپورٹ دیکھیں ۔ ایف بی آر کے ڈاکیومنٹ دیکھیں تو اس میں ان کا نام بشری خاور فرید ہے ۔ جبکہ شوہر کانام مانیکا خاور فرید ہے ۔ پاسپورٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں ۔ اسی طرح ایف بی آر کے ڈاکیومنٹس دیکھیں تو بشری بی بی کی جانب سے 2021کا ٹیکس ریٹرن جمع کروایا گیا اس میں بھی انکا نام بشری خاور فرید مانیکا ہے ۔ اسی طرح جب عمران خان اوربشری بی بی سعودی عرب گئے تو جو ویزے کا اجراء کیا گیا اس کے مطابق بھی ان کا نام بشری خاور فرید مانیکا ہی ہے ۔

    وہ کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ پاسپورٹ سمیت ویزہ اور جو 2021 میں بشری بی بی نے اپنی پہلی ریڑن جمع کروائی اس میں ان کا پرانا نام کیوں ہے کیونکہ قوم کو تو بتایا گیا تھا کہ 2018میں عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح ہوا تھا ۔ اس سے پہلے یقیناً طلاق ہوئی ہوگی ۔ سرکاری طریقہ کار یہ ہے کہ طلاق نامہ پہلے ثالثی کونسل کے پاس جاتا ہے ۔ تو اس کا نوے دن کا procedureہوتا ہے ۔ پھر نوے دن کے بعد وہ Divorce certificateدیتی ہے ۔ وہ بڑے بڑے کھڑپینچ رپورٹرز نے کوشش کی کہ نکل آئے پاکپتن ، دیپالپور کسی جگہ سے نہیں ملا ۔ اچھا نکاح کی بات کی جائے تو اس حوالے سے دو رائے ہیں کہ بنی گالہ میں نکاح ہوا ۔ دوسرا فرح گجر کے گھر لاہور میں ہوا ۔ مگر ان دونوں جگہوں سے بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا ۔ یہاں سے اب میں آپکو پھر پیچھے لے کر جاوں گا کہ بار بار سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بشری بی بی کا پاسپورٹ ، ایف بی آر اور ویزا اجراء میں نام کیوں تبدیل نہیں ہوا ۔ پرانا نام کیوں چلا آرہا ہے ۔ کیونکہ ملکی قانون اور اسلام کے مطابق بیٹی کے ساتھ والد کا نام لگتا ہے اور شادی کے بعد یہ عورت کی چوائس ہے کہ وہ والد کانام لگائے یا شوہر کا ۔۔۔اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔ اب اس حوالے سے جب طلاق ہوجاتی ہے تو Divorce certificateملنے کے بعد نادرا کے ریکارڈ میں عورت کے نام کے ساتھ شوہر کا نام ہٹ جاتا ہے اور والد کا نام آجا تا ہے ۔ پھر جب وہ عورت شادی کرتی ہے تو نئے شوہر کا نام لگوانا چاہے تو آئی ڈی کارڈ اس حوالے سے اپڈیٹ ہوجاتا ہے ۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ یہ کہانی بڑی ہوش ربا اور انکشافات سے بھرپور ہے ۔اس حوالے سے بہت سے رپورٹ تجزیے اور خبریں ہم نے سن رکھی ہیں کہ بشری بی بی ایک روحانی خاتون ہیں اور عمران خان ان کو بہت مانتے تھے بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ بظاہر عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنے میں بشری بی بی کا بڑا اہم کردار ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بشریٰ بی بی پر پاکستان کی خاتون اول بننے کے بعد سے جادو ٹونے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ اگرچہ بشریٰ بی بی کے بارے میں زیادہ معلومات عوام کے علم میں نہیں ہیں لیکن جب دونوں کی شادی ہوئی تو پاکستانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عمران خان 2015 سے بشریٰ بی بی سے روحانی رہنمائی کے لیے آ رہے تھے اور ان کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔۔ پھر جب عمران خان اور بشری بی بی کی شادی منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں بہت سے انکشافات کیے تھے ۔ چوہدری صاحب کا لکھنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ءکو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ عمران خان الزام کے فوراً بعد تین اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ۔۔۔ آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے ۔۔۔۔ بشری بی بی کی یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ چوہدری صاحب کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی (بشری اور خاور مانیکا) عمران خان کےلئے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کےلئے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی ۔ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

  • پاکستان نے راجستھان قتل کیس میں بھارتی میڈیاکی رپورٹس مسترد کردی

    پاکستان نے راجستھان قتل کیس میں بھارتی میڈیاکی رپورٹس مسترد کردی

    اسلام آباد:پاکستان نے بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع اودے پور میں قتل کیس کی تحقیقات سے متعلق بھارتی میڈیا کی رپورٹس مسترد کردی.ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخاراحمد کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا رپوٹس میں اودے پور قتل کیس کی تحقیقات میں ملزمان کو پاکستان میں ایک تنظیم سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے مگر ہم واضح طور پر اس طرح کے کسی بھی اشارے کو مسترد کرتے ہیں۔

    عاصم افتخاراحمد کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈے بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت اپنے اندرونی مسائل کو چھپانے کیلئے پاکستان پر الزام تراشی کرتی رہی ہے مگر اس طرح کی بدنیتی پر مبنی کوششیں عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔

    واضح رہے کہ بھارت کی شمال مغربی ریاست راجستھان میں ایک ہندو شخص کے قتل سے علاقے میں مذہبی کشیدگی پھیل گئی ہے۔

    مقتول کنہیا لال نامی درزی کو منگل کی سہ پہر کو اودے پور ضلع میں مبینہ طور پر دو نوجوانوں نے قتل کر دیا۔ نوجوانوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے بی جے پی کی ایک سیاست دان کی جانب سے گستاخانہ بیان کی مقتول کی جانب سے حمایت کا بدلہ لیا ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں مذہبی بنیادوں پر کشیدگی کی وجہ سے حکومت نے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے اور بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے جبکہ پولیس نے ان دونوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔انڈیا کی تمام مسلم تنظیموں کی جانب سے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے جبکہ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

  • صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار نے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف مقدمہ درج کرادیا

    صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار نے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف مقدمہ درج کرادیا

    کراچی :صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار نے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف مقدمہ درج کرادیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر اور رکن سندھ اسمبلی بلال غفار نے اپنی ہی جماعت کے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف مقدمہ درج کروادیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک شہزاد کی قیادت میں 70 سے 80 افراد میرے گھر پہنچے، مجھے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار ملک شہزاد ہوں گے، انہیں گرفتار کیا جائے۔

    پاکستان تحریک انصاف کراچی کے اراکین سندھ اسمبلی ایک دوسرے کیخلاف ہوگئے، صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار نے ایم پی اے ملک شہزاد کیخلاف تھانہ ٹیپو سلطان میں مقدمہ درج کرادیا، ایف آئی آر میں حملہ کرنے، بلوہ اور نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    بلال غفار نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک شہزاد کی قیادت میں گزشتہ رات ایک بج کر 15 منٹ پر میرے گھر 70 سے 80 افراد پہنچے، میرے گارڈ اور دیگر ملازمین کو حبس بے جا میں رکھا اور تشدد کیا۔صدر پی ٹی آئی کراچی نے مزید کہا کہ مجھے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار ملک شہزاد ہوں گے، انہیں گرفتار کیا جائے۔

    دوسری جانب ملک شہزاد کا کہنا ہے کہ بلال غفار ہمارے بھائی ہیں، ان سے رابطہ نہیں ہورہا تھا، بلدیاتی الیکشن پر کچھ کارکنان کو تحفظات تھے، بات کرنے گئے تھے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ کارکنان نے چوکیدار وغیرہ سے بدتمیزی کی ہے، بلال غفار سے رابطے میں ہیں، معاملہ ختم ہوجائے گا۔

    واضح رہے کہ نومبر 2021ء میں کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے شہری کے گھر میں داخل ہوکر تشدد اور قتل کی دھمکیاں دینے کے کیس میں رکن سندھ اسمبلی ملک شہزاد اعوان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

    اس سے قبل مارچ 2021ء میں ملک شہزاد اعوان نے این اے 249 پر امجد آفریدی کو ٹکٹ جاری کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ حلیم عادل شیخ کو جمع کرایا تھا۔

  • پاکستانی ایئرپورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات کی حیران کُن تفصیلات آگئیں

    پاکستانی ایئرپورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات کی حیران کُن تفصیلات آگئیں

    کراچی: پاکستان میں طیاروں سے پرندوں کے ٹکرانے کے واقعات نے بہت سے سوالات پیدا کردیئے ہیں ، یہ واقعات کیوں ہوتے ہیں اوران کا تدارک کیسے ممکن ہے، اس حوالےسے بھی بہت سے تجاویز سامنے آچکی ہیں ، اسی سلسے میں ایک تازہ رپوٹ منظرعام پرآئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ناقص حکمت عملی کے باعث بڑے ایئر پورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    اسی سلسلے میں ذرائع کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے طیاروں سے پرندے ٹکرانے سے متعلق اعداد و شمار جاری کر دیے،جو تفصیلات جاری کی گئی ہیں ان کے مطابق جنوری سن 2018 سے مئی سن 2022 تک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور ایئر پورٹ پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔

    پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ساڑھے 4 سالوں میں ایئر پورٹ پر پرندے ٹکرانے کے 662 واقعات رونما ہوئے، ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز دونوں کے طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

    پاکستان سول ایوی ایشن کی طرف سے جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طیاروں سے پرندوں کے ٹکرانے کے سب سے زیادہ واقعات لاہور ایئر پورٹ پرہوئے جہاں 198 واقعات رپورٹ کیے گئے، دوسرے نمبر پر کراچی ایئر پورٹ پر 192 واقعات رپورٹ ہوئے، اسلام آباد ایئر پورٹ پر 100 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    اسی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیاہے کہ سیالکوٹ ایئر پورٹ پر 53، پشاور ایئر پورٹ پر 40، ملتان ایئر پورٹ پر 26 حادثات، فیصل آباد ایئر پورٹ پر 22 اور کوئٹہ ایئر پورٹ پر 17 حادثات رپورٹ ہوئے۔پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 60 فی صد حادثات مون سون کے سیزن میں رپورٹ ہوئے، جون، جولائی، اگست اور ستمبر کے مہینوں میں حادثات میں اضافہ دیکھا گیا۔

    یادر ہے کہ گزشتہ سال 2021 میں 142 حادثات رپورٹ ہوئے، جنوری 2022 سے مئی 2022 تک 48 حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں، سی اے اے کے مطابق حادثات کے باعث ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

  • پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی:سلطان محمود چوہدری صدر آزاد جموں کشمیر

    پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی:سلطان محمود چوہدری صدر آزاد جموں کشمیر

    مظفرآباد:سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی۔تفصیلات کے مطابق کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ اور پاک افغان کارپوریشن فورم کے اشتراک سے تقریب کا انعقاد ہوا جس میں صدر آزاد جموں کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے شرکت کی۔

    صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مقیم لوگ کئی دہائیوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی، افغانستان میں شدید قسم کا زلزلہ آیا، کافی نقصان ہوا، متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے، ہم کشمیر میں اس طرح زلزلے کے حالات کا سامنا کر چکے ہیں۔

    سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ امدادی سامان بھیج رہا ہے، کاوشیں قابل تحسین ہیں، مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی، اب بھارت سرکار کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہو رہا ہے۔

    ادھرافغانستان میں آنے والے شدید زلزے سے ہونے والے نقصان پرامداد کا سلسلہ جاری ہے اورتازہ امداد کا اعلان وزیراعظم آزادکشمیر سردارتنویرالیاس نے کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مشکل گھڑی میں افغان عوام کےساتھ ہیں

    اس حوالے سے مظفرآباد سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس خان نے افغانستان کے متاثرین زلزلے کیلئے 10 کروڑ روپے کی امداد کی منظوری دے دی ہے۔یہ امداد کسی بھی وقت افغان طالبان حکومت کو پہنچائی جاسکتی ہے

    تفصیلات کے مطابق افغانستان میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی امداد کے لئے آزاد کشمیر کابینہ اور اعلیٰ بیوروکریسی نے بھی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر پوری قوم رنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان یک جان دو قالب ہیں، آزاد کشمیر پاکستان کی ایک اکائی ہے، دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    تنویر الیاس نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت افغان بھائیوں کی مدد کے لئے 10 کروڑ روپے کی امداد افغانستان بھیجے گی، امداد بھیجنے کا طریقہ کار دفتر خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں سے مشاورت کے ساتھ طے کیا جائے گا۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کا نمائندہ وفد امداد لیکر افغانستان جائے گا، افغانستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت کئی شہروں میں خوفناک زلزلے نے قیامت برپا کر دی جہاں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹکے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں میں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں گھر تباہ ہوگئے جب کہ زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی کی تعداد ایک ہزار ہوگئی ہے اور اس کے نتیجے میں 1500 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  • روس یوکرین تنازعہ ، جرمنی میں بے روزگاری بڑھنے لگی،جرمن نوجوان پریشان

    روس یوکرین تنازعہ ، جرمنی میں بے روزگاری بڑھنے لگی،جرمن نوجوان پریشان

    برلن:روس یوکرین تنازعے نے یورپ کواپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اوراس وقت جرمنی سخت متاثرین میں شامل ہوگیا ہےجہاں روسی گیس کی فراہمی میں کمی کردی گئی ہے اوراس کے ساتھ ساتھ جرمنی میں بے روزگاری بھی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ، اس سلسلے میں‌ مارکیٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یوکرین کے تنازعے اور اس سے متعلقہ روس مخالف پابندیوں کے ملکی معیشت پر اثرات کی وجہ سے تقریباً ایک چوتھائی جرمن ورکرز اپنی ملازمتوں سے محروم ہونے سے خوفزدہ ہیں۔

    سروے کے مطابق، انٹرویو کیے گئے 1,830 کام کرنے والے جرمنوں میں سے 23.3% نے کہا کہ وہ "یوکرین میں جنگ کی وجہ سے” اپنی ملازمت کھونے کے بارے میں فکر مند ہیں، جب کہ سروے میں شامل تقریباً نصف (44.8%) زیادہ کی وجہ سے گھر سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ روس اور مغرب کے درمیان پابندیوں کی جنگ کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتیں پہلے ہی آسمان کو چھورہی ہیں ، ان حالات میں مہنگائی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے

    مزید برآں، 49.2% جواب دہندگان نے یہ بھی کہا کہ وہ جنگی علاقے سے میڈیا میں آنے والی تصاویر کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہیں، اور ہر دوسرے جواب دہندگان نے کہا کہ ان کے مالک کو یوکرین کے جنگی پناہ گزینوں کی حمایت کرنی چاہیے۔

    روزنامہ کے مطابق جنگ کے نتائج یونیورسٹیوں میں بھی محسوس کیئے جا رہے ہیں۔ سروے میں شامل 1,777 طلباء میں سے 35 فیصد نے کہا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

    روس کے خلاف یوکرین سے متعلق پابندیوں کی وجہ سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے درمیان، سالانہ افراط زر گزشتہ ماہ 50 سال کی بلند ترین سطح پر 7.9 فیصد تک پہنچنے کے ساتھ جرمنی زندگی کی لاگت کے بحران کا شکار ہے۔ روسی توانائی پر ممکنہ پابندی نے جرمن صنعتوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے، بہت سے توانائی کی سپلائی کے نقصان کی وجہ سے بند ہونے کا خدشہ ہے۔

    ادھر اس سے پہلے پیوٹن اگر خاتون ہوتےتو یوکرین کی جنگ نہ ہوتی،،روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے تبصرہ اورطنز کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہےکہ اگر روسی صدرپیوٹن خاتون ہوتے تو یوکرین کی جنگ نہ ہوتی۔ان کے اس بیان سوشل میڈیا صارفین ایک طنزقراردے رہے ہیں

    جرمنی کے شہر برلن میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ روسی صدر پیوٹن اگر خاتون ہوتے تو یوکرین پر حملہ ہوتا اور نہ پیوٹن اس طرح کی پُرتشدد اور پاگل پن کی مردانہ جنگ کا آغاز کرتے۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ یوکرین پر پیوٹن کا حملہ زہریلی مردانگی کی بہترین مثال ہے۔ بورس جانسن نے دنیا بھرمیں لڑکیوں کے لیے بہتر تعلیم اور اقتدار کے عہدوں پر خواتین کی زیادہ تعداد ہونے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب لوگ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن پیوٹن امن کی کوئی پیش کش نہیں دے رہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے میڈرڈ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوسرے دن کہا کہ نیٹوکے تمام رکن ممالک کا اس بات پراتفاق ہے کہ روس کے جارحانہ عزائم نے یورپ کوفکرمند کردیا ہے کیونکہ روسی اقدامات سے یورپ کی سلامتی کوخطرات لاحق ہوگئے ہیں

    نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے میڈرڈ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوسرے دن کہا کہ "ہم واضح طور پر بیان کریں گے کہ روس ہماری سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے،” اسٹولٹن برگ نے نیٹو کے نئے اسٹریٹجک بلیو پرنٹ کی نقاب کشائی کے موقع پر کہا کہ فوجی اتحاد کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یوکرائن کی جنگ کے بعد اپنے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

    اسٹولٹن برگ نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کے اتحادی "سب سے سنگین سیکیورٹی بحران کے درمیان الجھ کررہ گئے ہیں” جب وہ میڈرڈ میں اتحاد کے سربراہی اجلاس میں پہنچےتوانہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک تاریخی اور تبدیلی کا سمٹ ہو گا۔”

    انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم اجلاس میں سویڈن اور فن لینڈ کو رکن بننے کی دعوت دینے کا فیصلہ کریں گے،” دونوں ممالک نے مئی کے وسط میں اتحاد کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔انہوں نے مزید کہا، "دعوت کے بعد، ہمیں 30 پارلیمانوں میں توثیق کے عمل کی ضرورت ہے۔”

    انہوں نے کہا کہ "اس میں ہمیشہ کچھ وقت لگتا ہے لیکن میں یہ بھی توقع کرتا ہوں کہ اس کی بجائے تیزی سے آگے بڑھے گا کیونکہ اتحادی اس توثیق کے عمل کو جلد از جلد انجام دینے کی کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں،” انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد ڈیٹرنس پر متفق ہونے جا رہا ہے تاکہ مشرقی یورپ میں اگلے سال تک مزید جنگی فارمیشنوں کو تعینات کیا جا سکے اور پہلے سے موجود آلات حاصل کر سکیں۔

    دریں اثنا، اس ہفتے کے نیٹو سربراہی اجلاس کے میزبان، ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کیڈینا سیر ریڈیو کو بتایا کہ روس کو اس کے نئے اسٹریٹجک تصور میں نیٹو کے "اہم خطرہ” کے طور پر شناخت کیا جائے گا ،نیٹو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اپنی دفاعی اور ڈیٹرنس صلاحیتوں کی سب سے بڑی تبدیلی شروع کرنے والا ہے جس کے ذریعے اس کے مشرقی کنارے پر افواج کو مضبوط بنایا جائے گا اور بڑے پیمانے پر اس کی تیاری کے ساتھ موجود فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

    یہ پہلی بار چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کی طرف سے درپیش چیلنج کی طرف اپنی توجہ مبذول کروانے کے لیے بھی تیار ہے،اسٹولٹن برگ نے کہا، "چین کوئی مخالف نہیں ہے، لیکن یقیناً، ہمیں اپنی سلامتی کے نتائج کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ چین نئی جدید فوجی صلاحیتوں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں یا جوہری ہتھیاروں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرتا ہے،جس کے بعد حالات کا تقاضا یہ ہے کہ چین کے عزائم سے خبرداررہنے کے لیے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ ضروری ہے

  • شاہ سلمان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس، حج انتظامات کا جائزہ

    شاہ سلمان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس، حج انتظامات کا جائزہ

    ریاض:حج کا سیزن شروع ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں حسب روایت سعودی شاہی خاندان حاجیوں کی خدمت اوران کوسہولیات بہم پہنچانے کے لیے بھی بہت زیادہ متحرک ہوچکا ہے ، اسی سلسلے میں آج خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کے دوران عازمین حج اور عمرہ کے لئے موجود سہولیات کا جائزہ لیا۔

    سعودی حکام کے مطابق اس سلسلے میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جدہ کے السلام محل میں ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب کے حصے میں مسجد حرام اور مسجد نبوی کے مہمانوں کی میزبانی کو اللہ کی نعمت شمار کرتے ہوئے بتایا کہ مملکت کے قیام سے اب تک عازمین حج و عمرہ کی خدمت اولین ترجیح رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔اس موقع پر خادم حرمین نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ حج 1443 ہجری کے تمام معاملات کو بخوبی انجام دیا جائے اور عازمین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کابینہ اجلاس میں خارجی امور سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی جس میں ابلاغ کے قائم مقام وزیر ڈاکٹر ماجد نے ولی عہد کے دورہ مصر، اردن اور ترکیہ کے نتائج پر بریفنگ شامل تھی۔

     


    اس کے علاوہ کابینہ اجلاس میں سعودی عرب کے داخلی امور جن میں ماحولیات کے حوالے سے سعودی گرین انیشی ایٹو اور مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹو کو بھی زیر بحث لایا گیا۔

    سعودی وزارت حج اور عمرہ کے مطابق رواں سال حج کی ادائیگی کے لئے تین لاکھ سے زائد عازمین حج بذریعہ فضائی اور بحری سفر مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں۔ سعودی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق حج فلائٹوں کی شروعات سے اب تک مدینہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے دو لاکھ 41 ہزار 859 اور 45 ہزار 824 عازمین زمینی بارڈر کراسنگ سے مدینہ پہنچے ہیں۔

    سعودی اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ تعداد بنگلہ دیشی عازمین کی ہے جن کی تعداد 12 ہزار 901 ہے، ان کے بعد 10 ہزار 216 نائجیرین عازمین، آٹھ ہزار 350 ہندوستانی عازمین اور چھ ہزار 494 ایرانی عازمین شامل ہیں

    گزشتہ روز تک مدینہ سے مکہ جانےوالے عازمین حج کی تعداد دو لاکھ پانچ ہزار 49 ہے جبکہ 94 ہزار 837 عازمین ابھی تک مدینہ ہی میں موجود ہیں

    ادھرسعودی عرب کے نائب وزیر حج ڈاکٹرعبدالفتاح مشاط نے کہا ہے کہ ’اس سال حج پیکیج تقریباً 30 فیصد سستے ہیں۔‘
    السعودیہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزارت نے حج پیکیج کم کرانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔ وزارت نے اپنے پورٹل پر حج پیکیج کے نرخ جاری کرائے جس کی وجہ سے نرخ کم رہے۔

    ڈاکٹرعبدالفتاح مشاط نے بتایا کہ ’داخلی معلمین حج پیکیج کی قیمتوں میں من مانی کررہے تھے۔ اپنی مرضی سے حج پیکیج جاری کررہے تھے۔ حج پیکیج کی قیمتیں پورٹل پر جاری کرنے سے بڑی حد تک حج پیکیج سستے رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’وزارت حج و عمرہ کی حکمت عملی یہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو زیادہ سے زیادہ موقع دیا جائے، تاہم وزارت یہ بھی چاہتی ہے کہ پرائیویٹ کمپنیاں زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کام کریں۔‘

    سعودی نائب وزیر حج نے کہا کہ ’وزارت درمیانے سائز کے اداروں پر بڑا انحصار کررہی ہے۔ حج امور سے متعلق نت تجربات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ ورکشاپوں اور فورمز کے ذریعے ان کی تشہیر کی جا رہی ہے۔‘

    یاد رہے کہ وزارت حج وعمرہ کی جانب سے اندرون مملکت سے حج کے لیے جانے والے سعودی شہری اور مقیم غیرملکیوں کے لیے تین پیکیجز مقرر کیے گئے تھے جن میں ’منی ٹاورز‘، ’ضیافیہ ون ‘ اور ’ضیافہ ٹو‘ شامل ہیں۔منی ٹاورز کا پیکیج 14 ہزار737 ریال تھا جس میں 794 ریال کمی کے بعد 13 ہزار 943 ریال کردیا گیا، جبکہ ’ضیافہ ون‘ پیکیج کی قیمت 13 ہزار ریال تھی جسے کم کرکے 11 ہزار 970 ریال کیا گیا۔ تیسرے پیکیج ’ضیافہ ٹو‘ کو 10 ہزار 238 ریال سے کم کرکے 9 ہزار 98 ریال کیا گیا تھا۔