Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • آلودگی کے سبب 2019ء میں دنیا بھر میں 90 لاکھ اموات ہوئیں، لانسیٹ کمیشن رپورٹ

    آلودگی کے سبب 2019ء میں دنیا بھر میں 90 لاکھ اموات ہوئیں، لانسیٹ کمیشن رپورٹ

    واشنگٹن ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں لوگ جنگ، دہشتگردی، ملیریا، ایچ آئی وی، ٹی بی، منشیات اور شراب سے زیادہ آلودگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ 2019ء میں 90 لاکھ افراد آلودگی کے باعث ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ 24 لاکھ اموات بھارت میں ہوئیں۔

    لانسیٹ کمیشن کی بدھ کے روز شائع ہونے والی نئی عالمی رپورٹ کے مطابق ہوا، پانی اور مٹی میں انسانوں کی پھیلائی گئی آلودگی کی وجہ سے اگرچہ فوری طور پر موت واقع نہیں ہوتی لیکن اس کے نتیجے میں لوگ امراض قلب، کینسر، سانس کے مسائل، اسہال اور دیگر سنگین بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مصنف رچرڈ فویلر کا کہنا ہے کہ 2019ء میں دنیا بھر میں قبل از وقت ہر چھ اموات میں سے ایک یا تقریباً 90 لاکھ اموات آلودگی کے سبب ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آلودگی انسانی صحت اور کرہ ارض کی صحت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے جبکہ کیمیائی آلودگی بھی ایک اور بڑا عالمی خطرہ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بالخصوص جنوبی اور مشرقی ایشیائی ملکوں میں صنعت کاری کے سبب فضائی آلودگی اور کیمیائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو قبل از وقت اموات کی بڑی وجہ ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آلودگی کی وجہ سے ہونے والی اموات کے نتیجے میں 2019ء میں 4.6 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا جو عالمی اقتصادیات کا تقریباً چھ فیصد ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیڈ، آرسینک، کیڈمیم، پارہ اور جراثیم کش ادویات کی وجہ سے مٹی اور پانی کے آلودہ ہونے کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک سے برآمد کی جانے والی دالیں، سی فوڈ، چاکلیٹ اور سبزیاں بھی آلودہ ہو سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے عالمی فوڈ سیفٹی کو لاحق خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ بچوں کے کھانے پینے کی چیزوں میں بھی نقصان دہ دھاتیں پائی گئی ہیں۔

  • پاکستان کوعدم استحکام کا شکارکرنے کے لیے بیرونی قوتیں سرگرم:دہشت گردی میں اضافہ

    پاکستان کوعدم استحکام کا شکارکرنے کے لیے بیرونی قوتیں سرگرم:دہشت گردی میں اضافہ

    پشاور:پاکستان کو عدم استحکام کا شکارکرنے کے لیے پاکستان مخالف قوتیں سرگرم ہوگئی ہیں، پچھلے چند دنوں میں ملک کے اندر بہت سے دہشت گردی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں ، کراچی یونیورسٹی سے اس حکومت کے دور میں شروع ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا سسلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے ، کہیں افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدوں پر دہشت گردوں کی طرف سے حملے تو کہیں بلوچستان اور سندھ میں دہشت گرد سرگرم ہیں

    کراچی میں پچھلے کئی دنوں سے دہشت گردوں نے اودھم مچا رکھا ہے ، ایسے ہی چند دنوں سے کے پی بھی نشانے پر ہے ، پشاور میں آج نامعلوم ملزموں کی فائرنگ سے ایس ایچ او شہید ہوگئے پولیس حکام کے مطابق شہید ایس ایچ او گھر سے تھانے جا رہے تھے کہ اس دوران سفید رنگ کی کار نے انکا پیچھا کیا، ایس ایچ او جیسے ہی چمکنی بائی پاس پل پر پہنچے دہشت گردوں نے فائرنگ کردی۔

    شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ ملک سعد پولیس لائن میں ادا کی گئی، جس میں آئی جی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے پشاور کے علاقے سربند میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے 2 افراد کو قتل کردیاتھا ۔پشاور کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) اعجاز خان نے کہا کہ واقعہ سربند تھانے کی حدود میں پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ قتل کیے جانے والے سکھ شہریوں میں 42 سالہ سلجیت سنگھ اور 38 سالہ رنجیت سنگھ شامل ہیں، یہ دونوں بٹاٹل علاقے میں مصالحہ جات کی دکانوں کے مالک تھے۔

  • نیٹو: فن لینڈ اور سوئیڈن کی شمولیت کی درخواست جمع، ترکی بھی میدان میں آگیا

    نیٹو: فن لینڈ اور سوئیڈن کی شمولیت کی درخواست جمع، ترکی بھی میدان میں آگیا

    انقرہ :فن لینڈ اور سوئیڈن نے نیٹو میں شمولیت کے لیے مشترکا درخواست جمع کرا دی ہے۔ خیال رہے کہ ان نارڈک ممالک نے یوکرین پر روسی حملے کو جواز بنا کر غیر جانبدار رہنے اور نیٹو میں شمولیت اختیار نہ کرنے کی اپنی برسوں پرانی پالیسی کو ترک کر دیا ہے۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے گزشتہ روز فن لینڈ اور سوئیڈن کے سفیروں سے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کے لیے یہ مشترکا درخواست وصول کی۔ اس موقع پر اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت ایک تاریخی قدم ہے اور اتحادی ممالک میں بھی نیٹو کی وسعت میں اضافے پر اتفاق پایا جاتا ہے۔

    دوسری جانب ترکی نے نیٹو اراکین کو فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت سے متعلق مذاکرات شروع کرنے سے روک دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بدھ کو اس مذاکراتی عمل کے آغاز کی مخالفت صرف ترکی کے سفیر کی جانب سے کی گئی۔

    واضح رہے کہ اس مغربی عسکری اتحاد کے واحد رکن ملک ترکی کی جانب سے فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں ممکنہ شمولیت کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ نارڈک ممالک اس کے مخالف مسلح گروہوں کو پناہ فراہم کرتے ہیں۔

    تاہم نیٹو رکن ممالک کو توقع ہے کہ ترکی، فن لینڈ اور سوئیڈن کے مابین مذاکرات سے یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ نیٹو میں شامل ہونے کے لیے تمام تیس اراکین کی منظوری ضروری ہے اور اس عمل میں ایک سال لگ سکتا ہے۔

  • بھارت، کانگریس رہنما نوجوت سدھو کو 34 سال پرانے مقدمے میں 1 سال قید کی سزا

    بھارت، کانگریس رہنما نوجوت سدھو کو 34 سال پرانے مقدمے میں 1 سال قید کی سزا

    نئی دہلی :نوجوت سدھو کو 34 سال پرانے مقدمے میں سزا،اطلاعات کے مطابق بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما، شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیت اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو 1988ء میں سڑک پر ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں ایک سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

    مقدمے میں لگائے گئے الزامات 27 دسمبر 1988ء کو ہونے والے واقعے سے متعلق تھے جن میں کہا گیا تھا کہ کار پارکنگ کے مسئلے پر ہونے والے جھگڑے میں نوجوت سدھو کی وجہ سے گرنام سنگھ نامی ایک شخص کے سر پر چوٹ لگی تھی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

    بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کر لیا ہے۔ پنجاب کانگریس کے سابق سربراہ کو مجرمانہ قتل کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا تاہم انہیں زخمی کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ نے اسی کیس میں نوٹس کے دائرہ کار کو بڑھانے کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ درخواست ایک نظرثانی شدہ جاری پٹیشن کے تحت دی گئی تھی۔ نوجوت سنگھ سدھو نے مقدمے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ان کے خلاف کیس کو بڑھاوا دینا ہے جبکہ سپریم کورٹ اس حوالے سے پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔

    22 ستمبر 1999ء کو پٹیالہ کے ایک سیشن جج نے سدھو کو بری کر دیا تھا اور کہا تھا کہ شواہد نامکمل ہیں اور ان کو شک کا فائدہ دیا گیا تھا تاہم اس کے بعد واقعے کے متاثرہ شخص کے خاندان نے عدالتی حکم کو چیلنج کر دیا تھا اور معاملے کو پنجاب اور ہریانہ کی ہائی کورٹ میں لے گئے تھے۔

    بعد ازاں 2006ء میں عدالت نے نوجوت سنگھ سدھو کو تین سال کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف اُنہوں نے اپیل کی تھی اور اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • سندھ ہائی کورٹ کاآئی جی سندھ کودعازہرا کے حوالے سےبڑا حکم

    سندھ ہائی کورٹ کاآئی جی سندھ کودعازہرا کے حوالے سےبڑا حکم

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ کاآئی جی سندھ کودعازہرا کے حوالے سےبڑا حکم ،اطلاعات کے مطابق دعا زہرا کا کیس بڑی اہمیت اختیار کرگیا ہے اور اس حوالےسے آج ہی سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کو پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو دعازہرا کو پیش کرنے کا ٹاسک دے دیا۔

    کراچی سے آمدہ اطلاعات میں بتایاگیاہےکہ دعازہرا کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں دعازہرا کی کم عمری میں شادی اور مبینہ اغوا کے کیس کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت دعا زہرا کو پیش نہ کرنے پر عدالت نے سخت برہمی کااظہار کیا۔

    جسٹس محمداقبال کلہوڑو نے وکیل سے مکالمے میں کہا کیا ریاست اتنی کمزور ہے کہ ملک میں موجود ایک لڑکی کوکراچی نہیں لاسکتی، پولیس پریس کانفرنس کررہی ہے لیکن عملی اقدامات نہیں۔عدالت نے کہا کہ پولیس افسران وردی کامان نہیں کررہے، ایسے افراد بھرتی کریں جووردی کی عزت رکھیں، بچی ویڈیو بنا رہی ہے، پریس کانفرنس کررہی ہے لیکن پولیس کونہیں مل رہی۔

    سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمداقبال کلہوڑو نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا بچی کہاں ہے؟ جس پر تفتیشی افسرنے بتایا کہ مذکورہ پتہ پربچی نہیں ملی تو جسٹس محمداقبال کلہوڑو کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کچھ نہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔

    تفتیشی افسر نے کہا کہ ایس ایس پی ہیومین ٹریفیکنگ کانفرنس میں اسلام آبادگئےہیں، دعا زہرا کی گرفتاری نہیں ہوئی، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہگرفتاری نہیں ہم نےبچی کوصرف بلایاہے، ایس ایس پی کانفرنس اٹینڈ کر رہا ہے، عدالت کا حکم اہم نہیں؟ انسانی اسمگلنگ رک نہیں رہی اورکانفرنس ہو رہی ہیں۔

    تفتیشی افسر نے کہا ہمیں وقت دےدیاجائے، جس پر جسٹس محمداقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ پولیس صرف پریس کانفرنس اوردعوےکررہی ہے، ایک بچی نہیں مل رہی، ویڈیوآرہی ہیں، کیا ریاست اتنی کمزور ہوگئی ہے، اے جی صاحب ہمیں بچی چاہیے، یہ آپس میں گیم کھیل رہے ہیں۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر دعا زہرا کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایس ایس پی اے وی سی سی زبیر نذیر شیخ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔عدالت نے آئی جی سندھ کو دعا زہرا کو پیش کرنے کا ٹاسک دیتے ہوئے سماعت 24 مئی کے لیے ملتوی کردی۔

  • عمران خان نےاس وقت حکومت سنبھالی جب پاکستان دیوالیہ ہوچکاتھا،پھرملکی معشیت کوسنبھالا دیا:شبرزیدی

    عمران خان نےاس وقت حکومت سنبھالی جب پاکستان دیوالیہ ہوچکاتھا،پھرملکی معشیت کوسنبھالا دیا:شبرزیدی

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف نےاس وقت حکومت سنبھالی جب پاکستان دیوالیہ ہوچکاتھا،ملکی معیشت کوسنبھالا دیا:سابق چیئرمین ایف بی آر نے ٹیلی ویژن پرآکرکچھ ایسے حقائق پیش کیئے ہیں جن کواختلاف رائے کے باجود درست مانا جارہا ہے، شبرزیدی نے معروف صحافی مبشرلقمان کے پروگرام کھرا سچ میں حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سچ بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے جب 2018 میں حکومت سنبھالی تھی تو اس وقت پاکستان دیوالیہ ہوچکا تھا

     

    شبرزیدی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں ایک تباہ حال معاشی صورت حال کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سنبھالا دیا اور پھر ملک کوترقی کے راہ پرلاکھڑا کیا،ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے اس دوران انتظامی غلطیاں ہوئیں لیکن بنیادی طورپرعمران خان کے دور میں معیشت درست سمت آگے بڑھ رہی تھی

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2018 میں جب وزیراعظم عمران خان نے حکومت سنبھالی تو اس وقت پاکستان کی کرنٹ خسارہ بہت ہی زیادہ تھا ، جسے انہوں نے ختم کیا اور پھرملکی معیشت کے دیگرپیرامیٹرز طئے کرکے یہ سفر جاری رکھا ، ان کا کہنا تھا کہ بہرکیف کمیوں اور کوتاہیوں کے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کو اپنے پاوں پرلاکھڑا کیا

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے مبشرلقمان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے تمام صنعتوں کواپنے پاوں پرکھڑا کیا ، ٹیکسٹائل کی صنعت کوہی سپورٹ کرنے کا تاثردرست نہیں ہرشعبے پرتوجہ دی گئی ، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو ملک کی معیشت کواس وقت سنبھالا جب پاکستان عملا دیوالیہ ہوچکا تھا ، پہلے سال کرنٹ خسارہ ختم کیا اورپھرجب اگلے سال ترقی کا سفر شروع کیا توکورونا کی وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، پاکستان بھی نہ بچ سکا ، اس کے باوجود پاکستان نے اس دوران معیشت کونہ صرف تباہ ہونے سے بچایا بلکہ جب دنیا اس وبا کے دوران معاشی طورپرتباہ ہورہی تھی تو پاکستان اللہ کے فضل سے اپنے پاوں پرکھڑا ہورہا تھا

     

    ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ اعدادوشمارپڑھ دیئے جاتے ہیں ، لیکن حقائق کودرست انداز میں پیش نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے شاید چیزیں غیرواضح رہ جاتی ہیں، جس کسی نے بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے حوالے سے معاشی اعدادوشمارتیارکیے ہیں اس میں‌ حقیقت نہیں بلکہ اگرکہا جائے کہ اعدادوشمار درست نہیں تو یہ بات بالکل درست ہے

  • بلوچستان میں خواتین خودکش حملہ آوروں کو تیارکیے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں خواتین خودکش حملہ آوروں کو تیارکیے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں دہشتگردو اسلم عرف اچھوکی بیوی کی جانب سے خواتین کو دہشتگردی کےلئے تیار کئے جانے کاانکشاف
    تربت سے گرفتار خاتون کے ذریعے بہت سے انکشافات سامنے آئے ہیں،دہشتگردی کے واقعات میں خواتین کا استعمال مکروہ فعل ہیں،دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں،بہت جلد ہمارے قانون نافذ کرنیوالے ادارے اصل کرداروں تک پہنچ جائیں گے،چینی کمپنیوں کی جانب سے بلوچستان چھوڑنے کی خبریں بے بنیاد ہیں،بلوچستان کا استحکام پاکستان کا استحکام ہے،عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی، مسنگ پرسنز کا معاملہ انتہائی حساس ہے ، ترجمان بلوچستان فرح عظیم شاہ کی گفتگو

    اسلام آباد (این این آئی)ترجمان بلوچستان حکومت فرح عظیم شاہ نے کہا ہے کہ تربت میں سکیورٹی اداروں کی دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں گرفتار خاتون کے ذریعے بہت سے انکشافات سامنے آئے ہیں،دہشتگرد اچھو کی بیوی مزید خواتین کو تیار کر رہی ہے ،دہشتگردی کے واقعات میں خواتین کا استعمال مکروہ فعل ہیں،دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں،بہت جلد ہمارے قانون نافذ کرنیوالے ادارے اصل کرداروں تک پہنچ جائیں گے،چینی کمپنیوں کی جانب سے بلوچستان چھوڑنے کی خبریں بے بنیاد ہیں،بلوچستان کا استحکام پاکستان کا استحکام ہے،عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی، مسنگ پرسنز کا معاملہ انتہائی حساس ہے ۔ترجمان بلوچستان حکومت فرح عظیم شاہ نے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 16 تاریخ کوسی ٹی ڈی مکران رینج اور خفیہ ادروں نے کارروائی کی،تربت کے ایک مکان سے نورجہاں اور اس کے ساتھی کو گرفتار کیا،ان کا تعلق بی ایل اے کی ذیلی شاخ مجید بریگیڈ سے ہے ،انکے قبضے سے گرینڈ،خود کش جیکٹس،دھماکہ خیز مواد برآمد کیں،ان کےخلاف تھانہ مکران میں مقدمہ درج ہوا،انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،اس خاتون کے ذریعے بہت سے انکشافات سامنے آئیں،یہ خاتون اب زیر حراست ہے ۔انہوںنے کہاکہ دہشتگردی کے واقعات میں خواتین کا استعمال مکروہ فعل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دہشتگرد اسلم عرف اچھو کی بیوی مزید خواتین کو تیار کر رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ خفیہ اداروں کو مزید کامیاباں مل رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ وحیدہ،حمیدہ اور فہمیدہ نامی خواتین کے نام سامنے آئے ہیں،ان خواتین کے مطابق مزید بلوچ خواتین کو دہشتگردی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ بیرونی ہاتھ دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ انہوںنے کہاکہ نور جہاں نامی خاتون نے مالی معاونت ہونے کا انکشاف کیا ہے،ایک ندیم نامی شخص دبئی سے پیسے بھیجتے تھے۔انہوںنے کہاکہ بیرونی ممالک میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی کروا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو نے ان کو ملک میں آکر قومی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بہت سے ممالک پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوںنے کہاکہ بلوچ خواتین کو ملک کے خلاف استعمال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے،اس میں بلا شبہ بیرونی پاتھ ملوث ہیں۔انہوںنے کہاکہ بہت جلد ہمارے قانون نافذ کرنیوالے ادارے اصل کرداروں تک پہنچ جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ خواتین اور نوجوانوں کی سرپرستی کرنیوالے لوگ برین واشنگ کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے حال پی میں بلوچستان کی ترقی کیلئے ریکوڈک کا منصوبے کا معاہدہ کیا،ریکوڈک جیسا منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ انہوںنے کہاکہ شرپسند عباصر کو ایسے منصوبے ہضم نہیں ہو رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ گزشہ حکومت میں بھی تحریک عدم اعتماد لانے والے متحرک تھے،پچھلی حکومت کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد لانے میں یہی لوگ پیش پیش تھے،عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ احساس محرومی کا تذکرہ بند ہونا چاہیے،بلوچستان میں اس وقت اہم منصوبے جاری ہے،بلوچستان کا استحکام پاکستان کا استحکام ہے۔ انہوںنے کہاکہ مسنگ پرسنز کا معاملہ انتہائی حساس ہے ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ چینی کمپنیاں بلوچستان چھوڑنے کی خبریں بے بنیاد ہیں،مزید کمپنیاں بلوچستان آرہی ہیں،دو مزید چینی کمپنیاں بھی آ رہی ہیں۔

  • وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات:مشترکہ اعلامیہ جاری

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات:مشترکہ اعلامیہ جاری

    واشنگٹن :وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس میں سکریٹری بلینن کی طرف سے وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری کے دورہ امریکہ پرخوشی کااظہارکیا گیا ، اس موقع پر سیکرٹری بلینن کا کہنا تھا کہ آپ سب سے مل کر اچھا لگا۔ خاص طور پر وزیر خارجہ کو دیکھ کر اچھا لگا۔ آمنے سامنے ملنے کا یہ ہمارا پہلا موقع ہے۔ ہم نے فون پر بات کی۔ ہم پاکستان میں نئی ​​حکومت کے ساتھ وزیر خارجہ کے ساتھ کام کرنے پر بہت خوش ہیں۔

    امریکی وزیرخارجہ سیکرٹری بلینن نے کہا کہ یہاں دونوں کا خیرمقدم ہے، یقیناً، خوراک کی حفاظت پر آج تھوڑی دیر بعد وزارتی میٹنگ کی پہلی اور اہم ترین میٹنگ ہے جس میں دونوں وزرائے خارجہ کا شامل ہونا ایک پیش رفت ہے ، امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے یہ ایک ایسا چیلنج ہے جو دنیا بھر میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک پہلے سے موجود حالت تھی،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت اوربلاول کےساتھ مل کرکام کرنے پرخوشی ہے، بلاول سے فوڈ سکیورٹی کے مسئلے پر بات ہوگی، یہ اہم چیلنج ہےجسے پوری دنیاکو سامنا ہے۔

    لہٰذا اکٹھے ہو کر پاکستان کی شرکت پر شکر گزار ہوں کہ ہم خوراک کی عدم تحفظ کے مسائل کو حل کرنے، دنیا بھر میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر سکتے ہیں۔ لیکن اس سے آگے، یہ ہمارے لیے بہت سے مسائل کے بارے میں بات کرنے کا ایک اہم موقع ہے جہاں سب مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم اپنے کام کو امریکہ اور پاکستان کے درمیان اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ یقیناً علاقائی سلامتی پر توجہ دیں۔ اور پاکستان اب G77 کی سربراہی میں ہے اور امریکہ G77 کے ساتھ ہمارے اپنے تعلقات اور بات چیت اور رابطے کو مضبوط بنانے کا منتظر ہے۔ میں اس بارے میں وزیر خارجہ سے بات کرنے کا بہت منتظر ہوں۔

    وزیر خارجہ زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ میں یہاں آنا بہت خوشی کی بات ہے، اور جہاں میں عالمی غذائی تحفظ سے متعلق واقعات کے اس سلسلے میں شامل ہونے کا منتظر ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی واقعات نے واقعتاً صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے، اور پاکستان جیسے ممالک کو پہلے ہی غذائی تحفظ، پانی کی حفاظت، توانائی کے عدم تحفظ کے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ہمارے پڑوس میں موسمیاتی تبدیلی سے لے کر مسائل تک کے بہت سے مسائل ہیں۔ لہٰذا یہ خاص اقدام انتہائی خوش آئند اور اہم ہے۔

     

    میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی مصروفیت کا بھی منتظر ہوں، پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے اور امریکی سرمایہ کاروں، پاکستانی سرمایہ کاروں، پاکستانی تاجروں اور امریکیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے لیے اپنے اور آپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا۔ مل کر کام کرنا اور میں واقعی ان دونوں مسائل پر آپ کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔

  • تفتیشی اداروں میں مداخلت پر ازخود نوٹس، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ تشکیل

    تفتیشی اداروں میں مداخلت پر ازخود نوٹس، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ تشکیل

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کی جانب سے حکومتی شخصیات کے کریمنل جسٹس سسٹم پر اثرانداز ہونے کے ازخود نوٹس پر 5 رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربینچ ازخودنوٹس کی سماعت کرے گا۔

    بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ میں از خود نوٹس پر سماعت کل دن ایک بجے ہوگی۔خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت پرازخود نوٹس لیا ہے۔

    افسران کوتبدیل کرنے اور ہٹانے پر سپریم کورٹ کے ایک جج کے نوٹ پرازخود نوٹس لیا گیا۔‏چیف جسٹس کا حکومتی شخصیات کی جانب سےتحقیقات میں مداخلت پر ازخود نوٹس ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد سے آنے والی اطلاعات نےتہلکہ مچا دیا ہے جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نظام انصاف میں رکاوٹیں ڈالنے سے متعلق ازخود نوٹس لے لیا گیا ہے،

     

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ ازخود نوٹس سپریم کورٹ کے ججز کی سفارش پر لیا گیا ، اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان کویہ شکایت کی تھی کہ حکومتی افراد کی جانب سے کیسز میں تحقیق و تفتیش پر اثر انداز ہونے کی کوشیں جاری ہیں ، جس پرچیف جسٹس آف پاکستان نے اس پر نوٹس لیا گیا

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں 19 مئی کو سماعت کے لیے مقررکی گئی ، ادھر اسلام آباد سے معتبرذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ از خود نوٹس احتساب قوانین میں تبدیلی کی خبروں پر لیا گیا ہے

  • پاک فوج کے شہدا کے اعزاز میں تقریب سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا خطاب

    پاک فوج کے شہدا کے اعزاز میں تقریب سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا خطاب

    راولپنڈی:جی ایچ کیو میں پاک فوج کے شہدا کے اعزاز میں تقریب ،اطلاعات کے مطابق آج جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں پاک فوج کے شہدا غازیوں کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب ہوئی جس میں پاک فوج کے شہدا اورغازیوں کے خاندانوں کو مدعو کیا گیاتھا

    اطلاعات کے مطابق جی ایچ کیو انویسٹیچر کی تقریب جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ہوئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آپریشنز کی بہادری اور قوم کے لیے شاندار خدمات پر فوجی جوانوں کو فوجی اعزازات سے نوازا۔

    تقریب میں شہدا کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔ 48 افسران کو ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔ 7 افسران، 3 جونیئر کمیشنڈ آفیسرز (JCOs) اور 30 ​​سپاہیوں کو تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔

    شہداء کے تمغے ان کے اہل خانہ نے وصول کئے۔ تقریب میں اعلیٰ فوجی افسران اور ایوارڈز حاصل کرنے والوں کے اہل خانہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی

    چیف آف آرمی سٹاف کا جی ایچ کیو میں شہداء اور غازیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

    شہدائے وطن کے عظیم ورثاء، غازیوں، جنرل آفیسرز، آفیسرز، receipients of SI (M)اور میرے بہادر جوانوں السلام علیکم!
    آج ہم پھرماردرِ وطن پے قُربان ہونے والے ہمارے بہادر جوانوں کی قُربانی کوacknowledgeکرنے کیلئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔اُن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔یہ پاکستان جو آج محفوظ ہے۔جہاں ہم رات کو آرام سے سوتے ہیں۔ یہ انہی آفیسرز، جے سی اوزاور جوانوں کے خون کی قُربانی کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ہمارے اصل ہیرویہ ہمارے شہید ہیں، یہ ہمارے غازی ہیں اور جو قومیں اپنے شہیدوں کو یا ہیروز کو بھول جاتی ہیں، وہ قومیں مٹ جایا کرتی ہیں۔
    ایک شہید جو ہے جب تک دُنیا قائم ہے، اُس کا نام ہمیشہ چمکتا رہے گا۔اُس نے دُنیا میں بھی اپنا نام کمالیا اور آخرت میں بھی اپنا نام کما لیا۔جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ شہید کے خون کا قطرہ گرنے سے پہلے ہی اُس کی بخشش ہو جاتی ہے۔وہ نہ صرف اپنے آپ کو بخشوا لیتا ہے لیکن اپنے ورثاء کیلئے بھی جنت کے راستے کھول دیتا ہے۔
    کوئی قوم، کوئی ملک اپنے شہداء کی قربانی کا صِلہ پیش نہیں کر سکتی۔ کوئی مادی قوت، دولت، پیسہ اُس کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شہداء کے ورثاء کی دیکھ بھال کریں، اُن کی فیملی کی دیکھ بھال کریں، اُن کی بیواؤں کی، اُن کے والدین کی دیکھ بھال کریں، اُن کے بچوں کی دیکھ بھال کریں۔جو انشاء اللہ ہم کریں گے۔ لیکن میں یہ مانتا ہوں کہ کوئی بھی دیکھ بھال اور کوئی بھی مراعات شہادت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ایک والد کیلئے، ایک والدہ کیلئے، جب تک وہ اس دُنیا میں زندہ ہیں اور جب تک وہ اس دُنیا سے نہیں جاتے، اُن کا بچہ اُن کی نظر کے سامنے ضرور روز آئے گا، روز اُن کو یاد آئے گا۔ ایک بیوہ جس کا خاوند اُس کے ہاتھ سے چلا گیا اور وہ بچے جن کے سر سے باپ کی شفقت اُٹھ گئی ہے، اُن کو بھی اُس کی کمی ضرور محسوس ہو گی اور اس کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
    لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ ملک آپ لوگوں کی قُربانیوں کی وجہ سے زندہ ہے اور میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کی قُربانیوں کی وجہ سے آج پاکستان محفوظ ہے۔یہ فوج ہی ہے جو صُبح سے لیکر شام تک پاکستان کے ہر چپہ، کیا سیلاب ہو، کیا طوفان ہو، کیازلزلہ ہو یا کووڈہو۔ہر جگہ فوج آپ کو ملے گی۔ کوئی حادثہ ہو فوج بتائے بغیر وہاں پر پہنچ جاتی ہے۔
    آجکل بلوچستان میں کئی جگہ پر ہیضہ پھیلاہوا ہے وہاں پر پانی کی کمی ہے اور میرے بتائے بغیر وہاں پر فوج پہنچ کر اُن لوگوں کی خدمت کر رہی ہے، صاف پانی مہیا کر رہی ہے۔اور ہم اپنی اس خدمت پر، اس کام پر ہم اپنا فخر محسوس کرتے ہیں۔
    میں اپنے شہداء کے ورثاء کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔
    دُنیا مجھے کہتی ہے کہ یہ واحد فوج ہے جس نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا ہے۔تو وہ یہ کیا کہتے ہیں کہ کیسے کیا آپ نے، باقی ملک فیل ہو گئے۔تو یہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں ایسی کیا خوبی ہے؟ تو میں ہمیشہ بتاتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسی مائیں ہیں جو اپنے لختِ جگر، ہماری ایسی بہنیں ہیں جو اپنے شوہر اور ایسے بچے ہیں جو اپنے والد اس ملک پر قُربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور جب تک ایسی ہماری مائیں اورہماری بہنیں موجود ہیں۔تو مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔