Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:عدنان عامر کا تجزیہ

    پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:عدنان عامر کا تجزیہ

    کراچی :پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے جہاں غیرملکی ماہرین کے حقائق کا جائزہ لیا جائے تو حقائق کچھ اور ہیں اور اگرپاکستان بیسڈ ماہرین کے خیالات کا جائزہ لیا جائے توصورت حال کچھ اور دکھائی دیتی ہے ، پاکستان میں عدم اعتماد کو چین اور دیگر ممالک عدم استحکام سے منسوب کرتے ہیں

    شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہےکہ اس موقع پر چین ضرور پریشان ہورہا ہوگا ،کیوںکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے ساتھ کچھ لوگوں‌ کا خیال ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو نگران سیٹ اپ میں ن لیگ کے ہاتھ میں عارضی حکومت آسکتی ہے

    ان کا خیال ہے کہ مارچ کے آغاز سے ہی مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن جماعتیں خان حکومت کو گرانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کی تیاری کر رہی تھیں، جسے ہمسائیہ ممالک اچھا شگون نہیں کرتے اور اسے پاکستان کے لیے نقصان دہ قراردیتے ہیں‌۔ اب، پاکستان کی قومی اسمبلی — پارلیمنٹ کا ایوان زیریں — 27 مارچ کو اس تحریک پر ووٹنگ کرنے والی ہے۔ اگر تحریک 342 میں سے کم از کم 172 ووٹ حاصل کرتی ہے، تو خان ​​کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑے گا۔

    انتخابی مہم میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ خان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ووٹ کے دن اسلام آباد میں ایک بڑی ریلی نکالے گی،دوسری طرف اپوزیش نے پہلے ہی اسلام آباد میں سیاسی دنگل کرنے کا منصوبہ بہت عرصہ پہلے کا بنا رکھا ہے

    پاکستانی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نکی ایشیا کو بتایا کہ چین نے موجودہ سیاسی بحران میں انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اپنائی ہے۔ ” اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد سے بچ جاتے ہیں،تو چین ب ان کے ساتھ کام کرے گا

    چین پاکستان اقتصادی راہداری – بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا 50 بلین ڈالر کا پاکستانی حصہ – موجودہ حکومت کے دور میں اچھی ترقی نہیں کر سکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں نئی ​​حکومت سی پیک میں نئی ​​جان ڈالنے میں کامیاب ہوگی۔

    اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی کے سکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اشتیاق احمد کا اپنا ذاتی خیال ہے کہ بیجنگ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے 2018 سے سی پیک منصوبوں کی رفتار سست کرنے پر ناراض ہے۔

    احمد نے اپنے اس تجزیے کے ذریعے کچھ برین واشنگ اور موبلائزیشن کا کارڈ کھیلتے ہوئے کہا کہ اگر خان کی حکومت گرتی ہے تو چین اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا مستقل خسارہ ختم ہو جائے گا، اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر شہباز شریف کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کا امکان چین کو خوش کر دے گا۔

    احمد نے ایک خلاف حقیقت اور چین کی پالیسی کے خلاف بات لکھتے ہوئے کرپشن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ موجودہ حکومت کا انسداد بدعنوانی پر زور بیجنگ کے لیے تشویش کا باعث ہے، سی پیک کے حوالے سے اس کی اپنی ترجیح کو دیکھتے ہوئے، چین میں یہ خدشات بھی ہیں کہ خان حکومت نے چینی منصوبوں اور چینی منصوبوں کے لیے سیکورٹی کے خطرات کو خاطر خواہ طور پر حل نہیں کیا ہے

    پاکستان کی سرگودھا یونیورسٹی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنا سٹڈیز کے ڈائریکٹر فضل رحمان کا اس معاملے پر مختلف موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کا واضح انتخاب یہ ہوگا کہ وہ موجودہ حکومت کو اپنی روٹین کی مدت پوری کرنے دے اور انتخابات کے ذریعے تبدیلی لائیں جو صرف ایک سال باقی ہیں۔

    رحمٰن نے نکی کو بتایا کہ تحریک عدم اعتماد جیسے اقدام سے "ایک ایسے وقت میں جب ملک معاشی پریشانیوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، تحریک اور سیاسی عدم استحکام کے موروثی خطرات ہیں۔”

    Kugelman اتفاق کرتا ہے. انہوں نے کہا، "چین کے لیے، اہم تشویش یہ ہے کہ اگر حکومت میں تبدیلی آتی ہے تو اگلی قیادت کیسی نظر آتی ہے، اور اگر نئی حکومت کی طرف منتقلی کا طویل عمل ہوتا ہے تو غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا۔ "چین کی سب سے بڑی امید یہ ہے کہ سیاسی بحران قابو سے باہر نہ ہو جائے۔”

  • تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    اسلام آباد: تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کی طرف سے او آئی سی اجلاس سے متعلق سخت پیغام کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن نے پیر کو تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر ایوان میں ہی دھرنا دینے اور او آئی سی اجلاس روکنے کی دھمکی دی تھی۔ وزرا نے بلاول کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور شاہ محمود نے امید ظاہر کی کہ بلاول بھارتی آلہ کار بن کر او آئی سی اجلاس کو سبوتاژ نہیں کریں گے جبکہ شیخ رشید نے بلاول کو چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہے تو کانفرنس روک کر دکھائیں۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے، او آئی سی اجلاس کے باعث اسمبلی سیکریٹریٹ کا چارج وزارت خارجہ کے پاس ہے۔

    پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکوزیشن کے 14 دن کے اندر اجلاس بلانا لازم ہے، اجلاس کا ہونا لازم نہیں۔گزشتہ روز وزیراعظم نے سیاسی کمیٹی اجلاس میں بھی قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق مشاورت کی تھی۔

    اُدھر وزیراعظم عمران خان نے سیاسی کمیٹی کا اجلاس اتوار کو ایک بار پھر طلب کرلیا، بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت شریک ہوگی، جس میں اتحادیوں اور ناراض اراکین سے رابطوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ادھر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ جیت ان کی ہوگی اور تمام اراکین پارٹی ان کےساتھ وفا کریں گے اور اس سلسلے میں ایک اہم شخصیت نے اپنا فن دکھانا شروع کردیا ہے

    واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

    قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

    حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

  • سندھ ہاؤس پر حملے کیخلاف درخواست جمع ہوگئی

    سندھ ہاؤس پر حملے کیخلاف درخواست جمع ہوگئی

    اسلام آباد :سندھ ہاؤس پر حملے کیخلاف درخواست جمع ہوگئی،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی ایم این اے عطاء اللّٰہ اور فہیم خان سمیت یوتھ ونگ کے حملے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی نے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کروادی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ رہنما پی پی قادر مندوخیل نے سندھ ہاؤس میں ہنگامہ آرائی کےخلاف درخواست دی، درخواست تھانہ سیکرٹریٹ میں دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی ایم این ایز اور کارکنان نے سندھ ہاؤس میں حملہ کیا، گیٹ توڑا، پی ٹی آئی والوں نے سندھ ہاؤس میں ارکان اسمبلی اور فیملیز پر حملے کی کوشش کی۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان ممبران، سیکیورٹی سمیت خواتین کے سامنے گالیاں دیتے رہے، پی ٹی آئی ممبران اور کارکنان نے سندھ ہاؤس کی سیکیورٹی کو دھکے دیے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ سندھ ہاؤس میں ممبران قادر مندوخیل، عبدالقادر پٹیل، آغا رفیع اللّٰہ فیملیز کے ساتھ موجود ہیں۔

  • اسلامی دنیا پاکستان آرہی ہے اوربلاول اس موقع پرشرپسندی پھیلانا چاہتاہے:افسوس ہوا ہے:قومی قیادت

    اسلام آباد :اسلامی دنیا پاکستان آرہی ہے اوربلاول اس موقع پرشرپسندی پھیلانا چاہتاہے:افسوس ہوا ہے:اطلاعات کے مطابق مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مجھے بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر افسوس ہوا ہے۔

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب مولانا طاہر اشرفی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس حزب اختلاف کے لئے بھی اتنا ہی باعث عزت ہے، جتنا حکومت کے لئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ او آئی سی میں ذوالفقارعلی بھٹو شہید کا بڑا کردار ہے، او آئی سی کو فعال کرنے کی ذوالفقارعلی بھٹو شہید کو قیمت بھی ادا کرنا پڑی، او آئی سی کے اجلاس کو روکنے کے لیے بھارت گزشتہ دو ماہ سے سازشیں کر رہا ہے۔

    مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ نے بھارت کی سازشوں کو ناکام بنایا ہے، او آئی سی کا اجلاس حزب اختلاف اور حکومت دونوں کا ہے، ہماری حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے اپیل ہے کہ 24 مارچ تک اسلام آباد میں تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کی جائیں۔

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب نے کہا ہے کہ مجھے بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر افسوس ہوا ہے۔

    شبلی فراز نے کہا ہے کہ بلاول کی دھمکی اپوزیشن کے عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ بلاول کا او آئی سی کے اجلاس میں خلل ڈالنے کی دھمکی دینا اپوزیشن کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مسلم دنیا کو اسلامو فوبیا سے لڑنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کے اقدام کو کمزورکرنا چاہتے ہیں۔
    واضح رہے اس سے قبل اسلام آباد میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر پیر تک اجلاس نہ بلایا گیا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے۔

    بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتےہیں، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے، کوشش کی جارہی ہے کہ ارکان اپنا ووٹ استعمال نہ کریں، تاثر دیا جارہا ہے وہ نہیں کھیلے گا تو کوئی نہیں کھیلے گا۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے آئینی بحران پیدا ہو اور تیسری قوت کو موقع ملے، عمران خان نے شکست دیکھ کر غیرجمہوری عمل اختیار کیا، حکومت طاقت کے استعمال پر اتر آئی، پہلے پارلیمان پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئیں مقابلہ کریں، عمران نیازی زندگی بھر کھلاڑی رہے، آخرمیں بال ٹیمپرنگ نہ کریں، ہم ذمہ داری کے ساتھ آج تک چل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے آئینی بحران پیدا ہو۔

    بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اسپیکر نے غیر جمہوری سوچ اپنائی تو ساری اپوزیشن کو مناؤں گا، اسپیکر پیر تک عدم اعتماد نہ لائے تو ایوان میں دھرنا دیں گے، دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ عمران اکثریت کھو چکا ہے، عمران شکست دیکھ کر غیر جمہوریہ اپنا رہا ، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے۔

  • ڈاکٹر رمیش کمار سے لائیو ٹی وی پروگرام میں بدزبانی پیمرا نے نوٹس لے لیا

    ڈاکٹر رمیش کمار سے لائیو ٹی وی پروگرام میں بدزبانی پیمرا نے نوٹس لے لیا

    اسلام آباد:ڈاکٹر رمیش کمار سے لائیو ٹی وی پروگرام میں بدزبانی پیمرا نے نوٹس لے لیا ،اطلاعات کے مطابق اقلیتی ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کو لائیو ٹی وی شو کے دوران بدزبانی اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر قانون کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کرلیا ہے، تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر رمیش کمار نے اپنے وکیل ایڈوکیٹ ثاقب جیلانی کے توسط سے شہباز گل کے خلاف دس کروڑ روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا ہے، لیگل نوٹس کے متن کے مطابق شہباز گل کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام سمیت دیگر میڈیا پلیٹ فارمز میں اپنا معافی نامہ شائع کرائے اور دس کروڑ روپے کا ہرجانہ ادا کرے بصورت دیگر ڈیفیمیشن آرڈیننس کے سیکشن 8 کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474497″ /]

    مزید برآں شہباز گل کے ایماء پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے ڈاکٹر رمیش کمار اور اہل خانہ کو واٹس ایپ پر قتل کی دھمکیوں اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر رمیش کمار نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور ڈی جی سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کے نام اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ شہباز گل نے ٹی وی پروگرام کے دوران بدزبانی اور بدکلامی کرتے ہوئے ان پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں، شہباز گل کے ایماء پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے انہیں اور انکی فیملی کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، ڈاکٹر رمیش نے پانچ سو سے زائد نازیبا واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے ایف آئی اے سے گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت کڑی کاروائی کرنے کی استدعا کی ہے۔

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474498″ /]

    مزید برآں پیمرا نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آن فرنٹ ود کامران شاہد کے دوران ڈاکٹر رمیش کمار کو ناحق تضحیک کا نشانہ بنانے کے خلاف دنیا نیوز کے سربراہ کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا، پیمرا کے مطابق ٹی وی اینکر کامران شاہد کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی جبکہ لائیو ٹی وی شو کے دوران وقفے کا میکانزم بھی نہیں اپنایا گیا، ٹی وی چینل پر قابل اعتراض کلمات کا نشر ہونا پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 20 سمیت سپریم کورٹ کے سوموٹو کیس نمبر 28/2018 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    پیمرا نے شو کاز نوٹس میں دنیا نیوز کے سربراہ کو 28 مارچ کو تحریری جواب کے ساتھ پیمرا ہیڈکوارٹرز طلب کرلیا۔ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے نامعلوم مقام سے اپنے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ لاجز میں اپنی فیملی کو ہراساں کیے جانے کے بعد سندھ ہاؤس منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا،تاہم سندھ ہاؤس پر حملے کے بعد انہیں اور انکی فیملی کو سیکیورٹی کے سخت خدشات لاحق ہوگئے ہیں، انہوں نے تھانہ سیکرٹریٹ میں تحریری درخواست میں آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی سے اپنی اور اہل خانہ کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔

  • ہندوستانOIC کےانعقادکامخالف:بلاول بھی دھمکیاں دے رہا ہے:ٹائمنگ ایک ہے:اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی

    ہندوستانOIC کےانعقادکامخالف:بلاول بھی دھمکیاں دے رہا ہے:ٹائمنگ ایک ہے:اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :ہندوستان او آئی سی کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈال رہا ہےاوربلاول بھی دھمکیاں دے رہےہیں،اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے خلاف سازش کا انکشاف کردیا ،اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بلاول کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میری نظر میں بلاول کا بیان انتہائی ناسمجھداری والا بیان ہے، پریشان ہمیں ہوناچاہیے جبکہ پریشان یہ خود ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد تو ابھی جمع کروائی گئی ہے، او آئی سی کے سنتالیسویں اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستان اڑتالیسویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ زبردستی نہیں کریں گے اپنامینڈیٹ اراکین کو یاد کرائیں گے اور کسی رکن اسمبلی کو ووٹ دینے سےنہیں روکیں گے جبکہ تحریک کا آئینی اور قانونی انداز میں مقابلہ کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ 27 او آئی سی کا اجلاس حکومت کا نہیں ریاست پاکستان کا ایونٹ ہے،ستمبر کو میرے خطوط او آئی سی وزرائے خارجہ کو بھجوائے جا چکے ہیں اور آج صبح سے مہمان آنا شروع ہو گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مصر کے وزیر خارجہ کل آ رہے ہیں جبکہ 21 تاریخ کو ایک اور اہم وزیر خارجہ پاکستان تشریف لا رہے ہیں، میں بطور وزیر خارجہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، مجھے امید ہے بلاول ہندوستان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ بچہ گھبراہٹ کا شکار دکھائی دے رہا ہے، آپ کے پاس نمبرز پورے ہیں تو پھر آپ گھبراہٹ کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟

    وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی صفوں میں یکسوئی نہیں ہے کیونکہ یہ بنانے کیلئے نہیں گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں جبکہ یہ مثبت نہیں منفی اتحاد ہے، ان کے اندر یکسوئی نہیں ہے یہ مختلف مفادات والے لوگ عمران خان کو گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد ضرور کریں ہم اپنے ممبران کو منانے کی کوشش کریں گے لیکن زبردستی نہیں کریں گے جبکہ ہم تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ قانونی، جمہوری اور سیاسی انداز میں کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ کے اندر مسائل سامنے آ رہے ہیں جبکہ ن لیگ کے اندر دو سوچیں ہیں ، ایک سوچ تحریک عدم اعتماد کی پشت پناہی کر رہی ہے اور ایک اس کے برعکس بھی ہے۔ کیا عدم اعتماد کی تحریک انہوں نے سوچ سمجھ کے پیش نہیں کی تھی ؟

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اب ان کو گھبراہٹ کس بات کی ہے، یہ تو پچھلے اڑتالیس گھنٹوں میں 190/200 ووٹوں کی بات کر رہے تھے تو پھر آج بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہو گئے؟

    واضح رہے اس سے قبل اسلام آباد میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر پیر تک اجلاس نہ بلایا گیا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے۔

    بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتےہیں، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے، کوشش کی جارہی ہے کہ ارکان اپنا ووٹ استعمال نہ کریں، تاثر دیا جارہا ہے وہ نہیں کھیلے گا تو کوئی نہیں کھیلے گا۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے آئینی بحران پیدا ہو اور تیسری قوت کو موقع ملے، عمران خان نے شکست دیکھ کر غیرجمہوری عمل اختیار کیا، حکومت طاقت کے استعمال پر اتر آئی، پہلے پارلیمان پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئیں مقابلہ کریں، عمران نیازی زندگی بھر کھلاڑی رہے، آخرمیں بال ٹیمپرنگ نہ کریں، ہم ذمہ داری کے ساتھ آج تک چل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے آئینی بحران پیدا ہو۔

    بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اسپیکر نے غیر جمہوری سوچ اپنائی تو ساری اپوزیشن کو مناؤں گا، اسپیکر پیر تک عدم اعتماد نہ لائے تو ایوان میں دھرنا دیں گے، دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ عمران اکثریت کھو چکا ہے، عمران شکست دیکھ کر غیر جمہوریہ اپنا رہا ، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے۔

  • تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی بھی بڑھی ہے:مفتاح اسماعیل

    تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی بھی بڑھی ہے:مفتاح اسماعیل

    کراچی :تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی بھی بڑھی ہے:اطلاعات کے مطابق مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ تجارتی خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج معیشت کے حوالے سے بات کرونگا، وزیراعظم اور اسد عمر نے آج معیشت کے حوالے سے ٹوئٹ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج ان کو معیشت یاد آگئی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہے، یہ وہ وزیراعظم ہے جس نے کہا تھا کہ میرے خلاف کوئی ہاتھ کھڑا کرے گا توخوش ہونگا، آج یہ ان ہی لوگوں پر پتھراؤ کررہے ہیں۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پچھلے سے پچھلے مہینے 260 ڈالر کا خسارہ ہوا، فروری میں 50 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا، امپورٹ بڑھنے کی باتیں ہورہی ہیں، امپورٹ 48 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ پچھلے سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ امپورٹ ہوئی ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ ایکسپورٹ 20 بلین ڈالر کی ہوئیں جو پچھلے مہینے سے 20 فیصد زیادہ ہیں، 27 سو کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا، یہ تجارتی خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے، آٹھ مہینوں میں ابسیلوٹ اماؤنٹ میں 12 سو کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔

  • مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے

    مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے

    راولپنڈی :مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے،اطلاعات کے مطابق واران ٹورز کی چیئر پرسن عظمیٰ گل کی طرف سے سنیئر صحافی پرلگائے گئے الزامات راولپنڈی کی ایک عدالت نے نہ صرف مسترد کردئیے ہیں بلکہ عظمیٰ گل کی درخواست خارج کرتےہوئے اسے بے بنیاد قراردیا ہے

    ذرائع کے مطابق راولپہنڈی کی ایک عدالت اس کیس کا فیصلہ سنایا،ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل ماجوکے نے اس کیس کا فیصلہ سنایا،عدالت نے عظمیٰ گل اور اس کے شوہر کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو انتقامی رویہ قراردیا

    عدالت نے ہتک عزت کے الزام کے اس کیس میں ہرجانے کا دعویٰ بھی مسترد کردیا ہے
    یاد رہے کہ عظمیٰ‌ گل نےمعروف اینکر پرسن مبشر لقمان کواپنے متعلق پروگرام کرنے پر لیگل نوٹس بھجوا یا تھا . عظمی گل نے اپنے شوہر ونگ کمانڈر ریٹائرڈ یوسف گل کی جانب سے مجموعی طور پر ایک ارب روپے کی مالیت کے لیگل نوٹس بھجوائے تھے. انہیں پچاس پچاس کروڑ‌کے الگ الگ نوٹس بھجوائے گئے تھے

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474427″ /]

    واضح رہے کہ چند روز قبل سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم کی ایک جائداد جو کہ بس اڈا ہے اس پر پروگرام کیاتھا .اس بس سٹینڈ پر جنرل حمید گل کےبیٹے عبداللہ گل اور بیٹی عظمیٰ گل کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے .حکومت نے اس اڈے کو خالی کرا کر اسے قرنطینہ سینٹرز بنا دیا تھا . جس پر عظمیٰ گل نے سٹے آرڈر لے رکھا تھا .

    حکومتی اہلکاروں نے زبردستی یہ اڈا خالی کرا کے اس پر قرنطینہ سینٹر بنایا . اس جائیداد پر پروگرام کرنے پر عظمیٰ گل نے مبشر لقمان پر یہ الزام لگایا کہ اس میں‌حقائق کے خلاف اور من گھڑت باتیں کی ہیں. اور حتک عزت کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے خلاف لیگل نوٹس بھیجا  .

    یاد رہے کہ سینیئر صحافی مبشرلقمان نے اس کیس کے حوالے سے کافی تحقیق کے بعد کہا تھا کہ عظمیٰ گل کے شوہر یوسف صاحب جو جنرل حمید گل کے داماد اور ائیرفورس میں ہوتے تھے وہ ایک زمانے میں نواز شریف کے آئی ڈی سی بھی تھے ایک اے ڈی سی کیپٹن صفدر تھے اور دوسرے ایئر فورس کی طرف سے یوسف صاحب ۔پھر کسی وجہ سے یوسف نے ائیرفورس چھوڑ دیں یا ان سے ایئر فورس چھڑوا دی گئی

    مبشرلقمان نے اس وقت پروگرام میں حقائق پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں صاحب نے خوش ہو کر راولپنڈی کا جنرل بس اسٹینڈ ان کو غیرمعینہ مدت کے لیے لیز پر دے دیا ، مبشرلقمان نے یہ بھی کہا تھا کہ ظاہر ہیں نوازشریف بادشاہ سلامت تھے جو دل کرتا تھا وہی کرتے تھے اس زمین پر ایک بس سروس شروع کی گئی قرضے بھی لیے گئے لیکن 2005 میں وہ بس سروس بند ہو گئی لیکن لیس پر 35 کنال اراضی لی گئی تھی وہاں پر قبضہ نہیں چھوڑا گیا بس سروس بند ہونے کے بعد وہاں غیر قانونی طور پر پٹرول پمپ اور جیولری شاپ پر دفاتر کھول دیے گئے سینئر صحافی افتخار احمد جیو پروگرام جواب دے کیا کرتے تھے اپنے پروگرام میں انہوں نے جنرل حمیدگل سے واران بس سروس کے بارے میں پوچھا جنرل حمید گل نے کہا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ویسے بھی جو کام کرنے لے کر سود پر کیا جائے میں اسے پسند نہیں کرتا مجھ سے اس بارے میں بات نہ کریں ۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں اب ہوا کچھ یوں کہ غیرقانونی کام زمین پر ہو رہے تھے کرونا وائرس پھیلنے کے بعد راولپنڈی میں حکومت کو کر قرنطینہ سینٹر بنانے کے لیے جگہ درکار تھی حکومت نے عازمین کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا اس دوران حمیدگل کی بیٹی نے کوئی اسٹے آرڈر لے رکھا تھا لیکن قانونی طور پر یہ زمین حکومت کی ملکیت ہے جب یہاں بس سروس نہیں چل رہی تھی دوسرے کام ہو رہے تھے تو وہ غلط تھا اب یہ لوگ جنرل حمید گل کا نام استعمال کر رہے تھے

    مبشرلقمان نے کہا تھا کہ دکھ اس بات کا ہے کہ داماد اور بیٹی نے جنرل حمید گل کا نام لے لیا حالانکہ جنرل حمید گل نے کبھی کسی کی زمینوں پر قبضہ نہیں کیا تھا باعزت طریقے سے زندگی گزاری ان کے مخالفین بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔

    مبشر لقمان نے یہ بھی انکشاف کیاتھا کہ جو صاحب کو یاد کرنا چاہیے جب نوازشریف نے زمین دی تھی اگر ان کی کیپٹن صفدر سے دوستی تھی اور آپ کی بیگم بھی مریم نواز کی اسسٹنٹ بن جانے کی وجہ سے دوستی تھی آپ کے خاندان کی نواز شریف سے کافی پربت رہی ہے اگر اس وجہ سے عمران خان کو برا کہہ رہے ہیں تو اور بات ہے ورنہ آپ کو مرحومین کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے مبشر لقمان اس وقت کہا تھا کہ کہا میرے لحاظ سے تو حکومت کو چاہیے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرے اور اتنے سال جو انہوں نے سرکاری زمین غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھیں اور کام کرتے رہے اس پر ٹیکس بھی لینا چاہیے

    اس پروگرام کے پیش ہونے کے بعد عظمٰی گل نے سنیئر صحافی کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کیا تھا جسے آج عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے

    ادھر اس کیس میں‌کامیابی پر مبشرلقمان کے چاہنے والوں کی طرف سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے

  • حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    لندن:لاہور::حکومت کے کسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت،پاکستان کے ایک بڑے نام معروف صحافی جن کی خبرکوہرکوئی مصدقہ اور معتبر جانتا ہے کا کہنا ہےکہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے والی سب سے بڑی جماعت ن لیگ لندن کے سربراہ نوازشریف نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اس کے بعد ضمیرفروشوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے

    سینیئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے والی سب سے بڑی جماعت کو اپنے ساتھیوں‌ پر اعتماد نہیں ، خصوصا ان پر جواپنی عزت ، شہرت اور اپنی نسلوں کا مستقبل نوازشریف کی خاطرقربان کرچکے ہیں

    عارف حمید بھٹی کہتے ہیں کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ نوازشریف نے مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد میں ساتھ دینے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو کسی قسم کا عہدہ نہ دیا جائے کیوں کہ وہ قابل اعتبار نہیں ہیں جو عمران خان کو دھوکہ دے سکتے ہیں وہ ہمیں بھینقصان پہنچا سکتے ہیں‌

     

     

    عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہےکہ نوازشریف کی طرف سے یہ رویہ پہلی مرتبہ نہیں اپنایا بلکہ نوازشریف اپنے ساتھیوں پر بھی اعتبار نہیں کرتے ،

    عدم اعتماد میں کامیابی کی صورت میں نئی بننے والی حکومت میں عمران خان کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کوعہدے نہ دینے کے نوازشریف کے حکم کے بعد سوشل میڈیا پرضمیرفروش ارکان اسمبلی کے خلاف ایک نیا محاذ کھل گیا ہے ،اہل پاکستان کا کہنا ہے کہ اپنے بے ضمیر ہونے کی قدرنوازشریف کے بیان سے تلاش کریں‌ کہ جس نے ایک ٹشوکی طرح استعمال کرکے پھراسے پھینکنے کا حکم دیا ہے

    یاد رہے کہ نوازشریف کی طرف سے یہ بھی حکم دیاگیا ہے کہ چوہدری برادران پربھی اعتبار نہ کرنا یہ بھی کسی سے وفا نہیں‌ کرتے اور یہ اپنے مفاد کی خاطر ن لیگ کو پھرسبق سکھا سکتے ہیں

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ پارٹی رہنماوں‌ نے ان سے درخواست کی ہے کہ منحرف ہونے والے پی ٹی آئی ممبران سے درگزر کریں وہ اپوزیش کے ہاتھوں ڈی ٹریک ہوگئے ہیں اور اگر وہ اپنے گھرکو لوٹ آتے ہیں تو ان کو باور نہ کرانا یہی ایک بہادر انسان کی خوبی ہے

  • عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں: چیف جسٹس

    عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں: چیف جسٹس

    اسلام آباد:عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں:اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہےکہ تحریک عدم اعتماد پرآئین کے تحت عمل ہونا چاہیے اور اس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدم اعتماد کے روز تصادم کے خطرے کے پیش نظر آئینی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں وزیر اعظم، وزارت داخلہ، دفاع، آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور اسپیکر قومی اسمبلی کو فریق بنایا تھا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدم اعتماد کا عمل پرامن انداز سے مکمل ہو، عدم اعتماد آرٹیکل 95 کے تحت کسی بھی وزیراعظم کو ہٹانے کا آئینی راستہ ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ سیاسی بیانات سے عدم اعتماد کے روز فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے، سپریم کورٹ تمام اسٹیک ہولڈرز کو عدم اعتماد کا عمل پرامن انداز سے کرنے کا حکم دے۔

    ہفتے کے روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی آئینی درخواست کی سماعت ہوئی۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ عدم اعتماد کی تحریک کا جہاں تک تعلق ہے یہ ایک سیاسی عمل ہے، تحریک عدم اعتماد پرآئین کے تحت عمل ہونا چاہیے اور اس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئندہ آئین اور قانون پر سختی سے عمل ہوگا۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم اپوزیشن جماعتوں کو کہیں گےکہ وہ بھی قانون کے مطابق عمل کریں، اٹارنی جنرل آپ 63 اےمیں ریفرنس دائر کررہے ہیں، اٹارنی جنرل ریفرنس صبح تک دائرکردیں تاکہ ہم اس کی سماعت کریں۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھاکہ عدالت یقنیی بنائے گی کہ قومی اداروں کو تحفظ فراہم کرے، اٹارنی جنرل آپ 63 اے کے حوالے سے عدالت کی رائے چاہتے ہیں، ہم وہ معاملہ بھی اس درخواست کے ساتھ سن لیتے ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ اورپارلیمنٹرینز کا احترام کرتے ہیں لیکن عدالت کا پلیٹ فارم کسی فریق کو صورت حال خراب کرنے کے لیے استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے، عدالت قانونی سوالات کا آئین کے تحت جواب دے گی۔

    بعد ازاں عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر پیپلزپارٹی، (ن) لیگ ، پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کو نوٹس جاری کردیا۔سپریم کورٹ نے درخواست پر سماعت پیر دن ایک بجے تک ملتوی کردی۔