Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • اختلاف کے باوجود کہتا ہوں کہ عمران خان سچا،ایمانداراورقوم کا خیرخواہ لیڈرہے:نجیب ہارون

    اختلاف کے باوجود کہتا ہوں کہ عمران خان سچا،ایمانداراورقوم کا خیرخواہ لیڈرہے:نجیب ہارون

    کراچی:اختلاف کے باوجود کہتا ہوں کہ عمران خان سچا،ایمانداراورقوم کا خیرخواہ لیڈرہے:اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے بانی رہنما نجیب ہارون نے کہا ہے کہ عمران خان کے ساتھ اختلافات ہیں لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ اختلاف کے باوجود کسی کی خوبی ،سچائی کو انسان اس وقت تسلیم کرتا ہے جب واقعی ہے وہ حق پر ہواور عمران خان واقعی سچا،ایمانداراورقوم کا خیرخواہ لیڈر ہے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رکن و رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون نے بھی وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجیب ہارون کا کہنا تھاکہ پارٹی میں ناراضگی ہوتی ہے میں نے ایک دفعہ استعفیٰ بھی دیا تھا، جماعت کی پالیسی کے ساتھ کھڑا ہوں۔

    ان کا کہنا تھاکہ اگر سب ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کریں گے تو ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، عمران خان پارٹی کے سربراہ ہیں، پارٹی کے اندر کسی اور رہنما کو سامنے لایا جائے جس پر پارٹی اور اتحادیوں کا اتفاق ہو اور لوگوں کی جو شکایات ہیں ان پر توجہ دی جائے۔

    پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی نے حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا

    نجیب ہارون کا کہنا تھاکہ 2013 سے 2018 تک بھی حکومت نے مدت پوری کی، 2018 سے 2023 تک بھی حکومت کی مدت پوری ہونی چاہیے، بطور پارٹی کےسینیئر ممبر اس وقت خاموش رہنا ٹھیک نہیں، اس وقت سیاسی فیصلہ کرنا پڑتا ہے تو ضروری نہیں سب کچھ قربان کیا جائے، ہمیں اپنی ذات سے آگے نکلنا ہوگا۔

    ان کا کہنا تھاکہ جماعت بھی عمران خان نے بنائی، اس جماعت نے لوگوں کو ایک امید دی، میری خواہش ہے کہ پارٹی قائم و دائم رہے اور بہتر یہی ہے کہ عمران خان کسی اور شخص کو آگے لائیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ مانتا ہوں کہ وزیراعظم ہم سب سے قدآور ہیں، نمبر ون اگر زیرو کے ساتھ ملے تو سیکڑوں، ملین بلین بنتے ہیں زیرو کی بھی اہمیت ہے۔

    نجیب ہارون نے پارٹی سے اختلافات کے باوجود تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کا ساتھ دینے کا بھی اعلان کیا۔

  • سندھ ہاؤس میں پی ٹی آئی کارکنان کا داخلہ افسوس ناک ہے، شیخ رشید

    سندھ ہاؤس میں پی ٹی آئی کارکنان کا داخلہ افسوس ناک ہے، شیخ رشید

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے دروازہ توڑ کر سندھ ہاؤس اسلام آباد میں داخلے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کو سب کی گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔

    وزیرداخلہ شیخ رشید نے پی ٹی آئی کارکنوں کی سندھ ہاؤس میں داخلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی افسوس ناک بات ہے، یہ پولیس کی کوتاہی ہے اور آئی جی سے کہا ہے کہ ان سب کوگرفتار کریں۔

    انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کوتاہی اور غیرذمہ داری کی ہے، ان کے خلاف نوٹس لیں، ابھی تو 20 سے 25 دن ہیں، اگر ملک اسی طرح آگے چلتا رہا تو کل پرسوں او آئی سی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوگا، یہ تو ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ابھی تو ایک ہزار رینجرز اور طلب کیے اور ملک میں حالات اور زیادہ خراب ہوئے تو 10 سے 15 دن بعد 245 کے تحت فوج بھی طلب کرسکتے ہیں کیونکہ ملک کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کشیدگی گلی محلے کی طرف جارہی ہے اور جب کشیدگی گلی محلے کی طرف جاتی ہے تو پھر کارروائی کرنی پڑتی ہے اور میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔

    پی ٹی آئی کے دو اراکین اسمبلی کی قیادت میں کارکنوں کی سندھ ہاؤس آمد کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف انکوائری کر رہے ہیں کہ کیسے پہنچ گئے، یہ غلطی ہوگئی ہے، ان کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔

    ایک سوال پر کہ حکومت یا وزیراعظم کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی گئی، جس پر ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا، میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر بہت دکھ ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، تین دفعہ آئی جی اور دو دفعہ سیکریٹری سے بات کی ہے کہ اتنے حساس مسئلے میں یہ ہونا ہے تو ابھی تو پھر 27 تاریخ کو عمران خان اور ان کا دونوں کا جلسہ ہے اور جب دونوں پہنچیں گے تو پھر بڑا کام خراب ہوگا۔

    اسلام آباد میں 27 مارچ کو حکومت اور اپوزیشن کے جلسے کی کال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت جلسے کی کامیابی کے لیے کوشش کر رہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دونوں جماعتیں الگ الگ جلسے کریں۔

    وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ دو الگ جگہوں پر جلسے ہوں لیکن دونوں جماعتیں بضد رہیں تو پھر اچھی بات نہیں ہوگی، میری پوری کوشش ہوگی کہ ایک پریڈ گراؤنڈ میں چلاجائے اور دوسرا ایکسپریس چوک میں چلاجائے تاکہ دونوں اپنے اپنے سیاسی شو کریں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا ہوتا ہے ابھی بڑے دن باقی ہیں اور 25 کو صورت حال واضح کرنے کی پوزیشن میں ہوں گا۔

    اپوزیشن کے جلسے کے بارے میں وزیرداخلہ نے کہا کہ ابھی ڈی سی کو ان کی درخواست نہیں آئی ہے تاہم میں نے ڈی سی سے کہا ہے کہ دونوں پارٹیوں کو الگ الگ جگہ اور الگ راستوں سے اسلام آنے دیں۔

    ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اس بات پر متفق ہیں کہ دو مختلف جگہوں پر جلسے ہوں۔

  • ضمیربیچ کرسیاست چمکانے والوں کواس کی قیمت ادا کرنا ہوگی: سانس لینا مشکل کردیں گے:اہم شخصیت کا اعلان

    ضمیربیچ کرسیاست چمکانے والوں کواس کی قیمت ادا کرنا ہوگی: سانس لینا مشکل کردیں گے:اہم شخصیت کا اعلان

    اسلام آباد:ضمیرفروشوں کا سانس لینا مشکل کردیں گے:ضمیربیچ کرسیاست چمکانے والوں کواس کی قیمت ادا کرنا ہوگی:اہم شخصیت کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق سندھ ہاؤس اسلام آباد پر دھاوا بولنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فہیم خان کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

    پی ٹی آئی کےایم این اے فہیم خان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ جب ہم نے دیکھا کہ ہمارے کارکنان سندھ ہاؤس آئےہیں تو ہم بھی آئے۔

    فہیم خان نے کہا کہ یہ ٹریلر ہے، فلم ابھی باقی ہے،ان لوگوں کو استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑنا چاہیے۔

    آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے سندھ ہاؤس پر دھاوا بولا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے سندھ ہاؤس کے دروازے پر لاتیں مار کر توڑ ڈالا اور احاطے میں داخل ہوگئے۔

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عطا اللہ نیازی اور فہیم خان بھی کارکنان کے ساتھ موجود تھے۔ ان دونوں ارکان قومی اسمبلی کا تعلق کراچی سے ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے منحرف رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے 24 کےقریب ارکان قومی اسمبلی سندھ ہاؤس اسلام آباد میں موجود ہیں کیوں کہ وہ پارلیمنٹ لاجز میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے اور وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں ضمیر کے مطابق ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔

    گزشتہ روز بھی فواد چوہدری نے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں کارروائی کا عندیہ دیا تھا تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔

  • سندھ ہاؤس پر حملہ:لگ رہا کہ کچھ ہونے جارہاہے:بلاول اور آصف زرداری کی شدید الفاظ میں مذمت

    سندھ ہاؤس پر حملہ:لگ رہا کہ کچھ ہونے جارہاہے:بلاول اور آصف زرداری کی شدید الفاظ میں مذمت

    اسلام آباد:سندھ ہاؤس پر حملہ:لگ رہا کہ کچھ ہونے جارہاہے:بلاول اور آصف زرداری کی شدید الفاظ میں مذمت ،اطلاعات کے مطابق سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے دھاوے بولے جانے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے سندھ ہاؤس پر حملے کو دہشت گردی پر مبنی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محلہ منظم منصوبہ بندی سے ہوا، حملہ دراصل سندھ پر حملے کے مترادف ہے۔ اس حملے سے معلوم ہوتا ہےکہ کچھ نہ کچھ ضرور ہونے جارہا ہے، درجنوں پولیس چوکیوں کو عبور کرکے حملہ آوروں کا ریڈ زون میں واقع سندھ ہاؤس پہنچنا سوالیہ نشان ہے، وفاق میں سندھ ہاؤس دراصل سندھ کی شناخت ہے، عمران خان نے سندھ پر لشکر کشی کرواکر اپنا اصل بغض ظاہر کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم قانون کو ہاتھ میں لینے والے لوگ نہیں تاہم ہم جانتے ہیں کہ سرکش عناصر سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔ عوامی نمائندوں کی رہائش گاہ پر حملہ کرواکر عمران خان نے چادر اور چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا ہے۔ پارلیمان، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کرنے والوں نے سندھ ہاؤس پر حملہ کرکے اپنی فسطائیت کا اظہار کیا، عمران خان اپنی شکست دیکھ کر بوکھلا چکے، اوچھے ہتھکنڈوں سے 172 کی حمایت حاصل نہیں ہوسکتی۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کارکنان کے حملے کی مذمت کرتے ہیں، عمران خان کے پاس اگر نمبرز پورے ہوتے وہ پارلیمنٹ لاجز اور سندھ ہاؤس پر حملوں کے بجائے ایوان میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سندھ ہاؤس پر نہیں بلکہ وفاق میں سندھ کی علامت پر حملہ کرواکر دراصل سندھ پر لشکر کشی کی کوشش کی، عمران خان نے آج پاکستان کے وفاقی تشخص کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے، یہ ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان کے عوام دیکھ رہے ہیں کون جمہوری اقدار کا حامل ہے اور کون انتشار پھیلا کر ملک کو انارکی کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے۔

  • چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    بیجنگ :چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری،اطلاعات کے مطابق چین میں کورونا بے قابو ہوگیا جس کے باعث دنیا بھر میں پھر نئی لہر کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کی شرح 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اسرائیل میں بھی کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے جس کے بعد امریکا اور یورپ پر بھی کورونا کی نئی لہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

    چین میں کورونا کی صورت حال بے قابو ہو گئی ہےاور کورونا پابندیوں سے تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہیں۔چین کو فروری 2020 کے بعد سے اب تک کورونا کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے، یہاں چند دنوں سے روزانہ 3 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    چین کے علاوہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا سمیت افریقی اور یورپی ممالک میں بھی کورونا کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی پورٹ کے مطابق چین اور جنوبی کوریا میں کورونا کے کیسز میں 25 فیصد اور اموات میں 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ افریقا میں بھی نئے کیسز میں 12 فیصد اور اموات میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یورپ میں نئے کیسز میں 2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے تاہم وہاں ہلاکتوں کی تعداد مستحکم ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور برطانیہ میں کیسز بڑھنے لگے ہیں جس کے باعث یورپ میں کورونا کی ایک اور لہر کا امکان بڑھ گیا ہے۔

  • اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توزرداری،نوازاورفضل الرحمن    سب سےپہلےکیاکریں گے؟اندرکی باتیں باہرآنےلگیں

    اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توزرداری،نوازاورفضل الرحمن سب سےپہلےکیاکریں گے؟اندرکی باتیں باہرآنےلگیں

    لاہور:اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی تونوازشریف،زرداری اورفضل الرحمن سب سے پہلے کیا کریں گے؟اندرکی باتیں باہرآنے لگیں،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں حکومت اور حکومت کے مخالفین کے درمیان سخت مقابلہ ہے اوروزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے 11 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں

    دوسری طرف اہم ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں اپوزیشن اتحاد حکومت میں‌آکرسب سے پہلے کیا فیصلے اور اقدامات کریں گے اس حوالے سے نوازشریف ، آصف علی زراری اور فضل الرحمن کے درمیان معاملات طئے ہوگئے ہیں‌

    اس حوالے سے یہ مصدقہ خبریں اپوزیشن اتحاد کے ذرائع سے ہی آنا شروع ہوگئی ہیں کہ نوازشریف ،آصف علی زرداری اور فضل الرحمن کے درمیان یہ طئے ہوا ہے کہ سب سے پہلے وزارت داخلہ میں‌ آپریشن کیا جائے گا اور اہم پوسٹوں پر موجود ایسے افراد کو ہٹایا جائے گا جوسیکورٹی ادارے کے بڑے قریب جانے جاتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ یہ ٹرائیکا اس حوالے سے بھی ہوم ورک مکمل کرچکا ہے اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دوران جو افسران نوازشریف،آصف علی زرداری اور دیگراتحادیوں‌ کے بہت قریب جانے جاتے تھے اور یہ افراد اس دوران اہم راز کی باتیں بھی ان رہنماوں‌ تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ہیں ان کو اہم ذمہ داریاں دی جائیں گی

    اس کے ساتھ ساتھ ، ایف آئی اے ، آئی بی ، آئی جیز،ریونیوبورڈ ، ایف بی آر، ایل ڈی اے ،سی ڈی اے ،سٹیٹ بینک ، پی ٹی وی ، سیکورٹی ایکسچینج سمیت اہم سویلین اداروں کے سربراہان سمیت دیگرافسران کو ہٹا کران کی جگہ اپنے بندے لائیں جائیں گے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم موقع پر سدا بہارافسران نے رابطے بھی شروع کردہئے ہیں‌

    ادھر ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے وزارت داخلہ کے بعد وزارت خارجہ میں افسران کو دربدرکرکے ان کی جگہ اپنے بندے لائے جائیں گے جو نوازشریف کے بہت قریب جانے جاتے ہیں اور اس حوالے سے خطے کے ہمسائیہ ممالک خصوصا بھارت اور ایران کے ساتھ بہترین تعلقات کے ماہر مانے جاتے ہیں‌،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے اس کے بعد جب بڑے بڑے اداروں کے سربراہان تبدیل کئے جائیں گےتوپھرقومی سلامتی کے مقتدر اداروں کے اندر موبلائزیشن شروع کی جائے گی اور ایسے افسران کی کی تلاش کی جائے گی جو اپنا مستقبل بہتر کرنے کی خواہش رکھتے ہوں اور پھران کوکسی مناسب حکمت عملی سے دیگر اعلیٰ افسران کی جگہ ری پلیس کیا جائے گا ، اس حوالے سے ن لیگی حلقوں‌ کے اندر کچھ ایسی باتیں ہورہی ہیں کہ انہیں اندر سے کچھ مہربانوں کی شفقت حاصل ہے ، اس گفتگو کے تناظرمیں یہ چیز سامنے آرہی ہے کہ اگلی آنے والی حکومت سب سے پہلے اپنے راستے میں حائل قانونی اور آئینی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بہت کچھ سوچ چکی ہے

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو پھرالیکشن کمیشن کے چیف کی مدد سے آنے والے انتحابات میں بہت زیادہ اپنے مفادات کے تحت اقدامات کیے جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والی حکومت پچھلی حکومت کی الیکشن کے حوالے سے کی گئی قانونی ترجٰیحات کو تبدیل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے بڑوں کی مدد سے ترمیم کریں‌

    ادھر اس حوالے سے اہم خبریہ بھی ہے کہ شہبازشریف ، نوازشریف ، حمزہ شہباز سمیت دیگرن لیگی رہنماوں کومعصوم عن الخطا قرار دیئے کے لیے احتساب عدالتوں پراثراندازہونے کی کامیاب کارروائی کی جائے گی جس کے لیے اہم ہوم ورک مکمل کرلیا ہے

    اس کےساتھ ساتھ آنے والی حکومت میڈیا کے ذریعے عوام الناس کے ردعمل کو کنٹرول کرنے کے لیے مریم نواز کی مشاورت سے ایک فریم ورک تیار کررہی ہے جس میں عمران خان کے خلاف عوامی ردعمل کوبرقرار رکھنے اور آنے والی حکومت سے توجہ ہٹانے کے لیے سوشل میڈیا ٹیموں کی سرپرستی بھی کی جائے گی

    گورنرز بھی تبدیل کیے جانے کا امکان ہے اور سب سے خطرناک تبدیلی یہ ہےکہ یہ ترائیکا پاکستان کی سلامتی کے اداروں میں ہونے والے تقرروتبادلے میں بھی خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اثرانداز ہونے کی کوشش کرے گا اور یہ بات خفیہ نہیں رہی بلکہ اس حوالے سے ان رہنماوں کے اجلاسوں میں کھلے عام بات ہونا شروع ہوگئی ہے

  • محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش

    محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش

    لاہور:محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش ،اطلاعات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ بیٹر محمد رضوان اپنی بیٹنگ کی وجہ سے تو دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، اب وہ ساتھی کرکٹر شاہین شاہ کے لیے حجام بھی بن گئے ہیں۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ نے محمد رضوان سے بال کٹواتے ہوئے اپنی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی اور ساتھ لکھا کہ ایسا کچھ نہیں جو رضوان نہیں کرسکتا۔

    شاہین شاہ کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کمال مہارت سے شاہین شاہ کے بالوں پر قینچی چلا رہے ہیں۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی ایک کرسی پر بیٹھے ہیں اور محمد رضوان ان کے بال کاٹ رہے ہیں

    فاسٹ بولر شاہین شاہ نے لکھا کہ کراچی ٹیسٹ میں شاندار سنچری اسکور کرنے والے اور میچ بچانے والے محمد رضوان کی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں۔

    شاہین شاہ نے کہا کہ نیا ہیئر کٹ دینے کا شکریہ سُپر مین، آپ نے یہ کر دکھایا۔شاہین شاہ کی اس ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے فخر زمان نے بھی رضوان سے بکنگ کروالی۔

     

    فخر زمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرلکھا کہ ’یار لڑکے رضوان، میری بھی بُکنگ کرلو۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کراچی ٹیسٹ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہونے کے بعد گزشتہ روز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔

    پہلی اننگز میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم، نائب کپتان محمد رضوان اور اوپنر عبداللہ شفیق نے دوسری اننگز میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کو بچایا۔

  • وزیراعظم سے نائجیریا کے وزیر دفاع کی اہم ملاقات

    وزیراعظم سے نائجیریا کے وزیر دفاع کی اہم ملاقات

    اسلام آباد:وزیراعظم سے نائجیریا کے وزیر دفاع کی اہم ملاقات اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے نائجیریا کے وزیر دفاع کی ملاقات ہوئی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات اور تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان سے آج دورہ پاکستان پر آئے جمہوریہ نائجیریا کے وزیر دفاع میجر جنرل (ریٹائرڈ) بشیر صالحی مگاشی کی ملاقات ہوئی ہے۔

    ملاقات کے دوران مشترکہ تاریخ، ثقافت اور اقدار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے دوطرفہ تعلقات کے مضبوط مثبت انداز کو سراہا۔

    مارچ 2020 سے افریقہ میں اعلیٰ پوزیشن سنبھالنے پر نائجیریا کی معیشت کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے دوطرفہ تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے دفاع، سیکورٹی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو سراہا۔

    یو این پیس کیپنگ آپریشنز کے زیراہتمام افریقہ میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات اور شراکت کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ‘اینجیج افریقہ’ پالیسی کے اپنے وژن کا اظہار کیا جس کا مقصد براعظم کے ساتھ سفارتی نقش کو بڑھانا اور تجارتی اور سرمایہ کاری کی شراکت داری کو آگے بڑھانا ہے۔

    وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 15 مارچ کو ’اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن‘ قرار دینے پر متفقہ طور پر تاریخی قرارداد کی منظوری کو سراہا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ جنرل اسمبلی کی طرف سے یہ تسلیم کرنے سے نسل پرستی، امتیازی سلوک اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کے عصری چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

  • ضمیرفروش ارکان اسمبلی کی قبل ازوقت رسوائی شروع”تم کتنی پارٹیاں بدلوگے”راجہ ریاض کےخلاف مظاہرے شروع

    ضمیرفروش ارکان اسمبلی کی قبل ازوقت رسوائی شروع”تم کتنی پارٹیاں بدلوگے”راجہ ریاض کےخلاف مظاہرے شروع

    فیصل آباد ؛ضمیرفروش ارکان اسمبلی کی قبل از وقت رسوائی شروع ہوگئی:راجہ ریاض کےخلاف مظاہرے شروع ،اطلاعات کے مطابق فیصل آباد میں تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں عوام نے ان کی تصویریں اور پوسٹر نذر آتش کردیے ۔

     

    ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے منحرف رہنما راجہ ریاض کے خلاف ان کے انتخابی حلقے میں ’ووٹ فروش‘ اور ’تم کتنی پارٹیاں بدلوگے‘ کے نعروں والے پوسٹر بھی لگ گئے جب کہ ضلع کونسل چوک پر مظاہرین نے راجہ ریاض کی تصاویر اور پوسٹروں کو نذر آتش کیا اور راجہ ریاض کے خلاف نعرے بھی لگائے ، اسی طرح ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد کے اطراف میں بھی پوسٹرز اور بینرز آویزاں کیے گئے ہیں ، جن میں ’پی ٹی آئی کے ووٹوں سے جیتنے والے استعفیٰ دو‘ کے مطالبہ کیا گیا ہے ۔

     

     

    ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ سعد رفیق کو پی ٹی آئی کے منحرف اراکین قومی ہیرو لگنے لگے ، سابق وزیر ریلوے کہتے ہیں کہ منحوس تبدیلی سے نجات کے لیے ضمیر کی پرواہ کیئے بغیر نوازشریف کی آواز پر لبیک کہنے والے پی ٹی آئی اراکین قومی ہیرو ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی مصنوعی اکثریت کھوچُکی ہے ، متحدہ اپوزیشن کا فیصلہ ہے کہ ریاستی طاقت استعمال کی گىئی تو ایسا کرنے والے اہلکار قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے ، حکومتی بدمعاشی کا سامنا کرنے کے لیے سب تیار ہیں ۔

     

    مسلم لیگ ن کے رہنماء نے پی ٹی آئی کو مافیا گینگ اور وزیراعطم عمران خان کو ان کا چیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جبری بھرتی کے تحت لوگ توڑے گئے ، حکومت چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ آنے والے ضمیر کے قیدی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں ، پی ٹی آئی کے 10 اراکین اسمبلی نے جھوٹ اور ماراماری کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ، ابھی اور آوازیں اٹھیں گی کس کس کو روکو گے۔

    دوسری طرف حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سندھ ہاؤس میں موجود اراکین کے سامنے آنے پر حکومتی ردعمل آگیا ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ایکشن کے ڈر سے لوٹے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ، باضمیر ہوتے تو استعفیٰ دیتے ، انہوں نے کہا کہ خچروں اور گھوڑوں کی منڈیاں لگ گئیں ، پچھلے پانچ لوگوں کو 15 سے 20 کروڑ روپے ملے ، اسپیکر کو ان ضمیر فروشوں کو تاعمر نا ابل قدر دینے کی کارروائی کرنی چاہیئے ۔

  • نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    کابل:نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان ،اطلاعات کے مطابق طالبان کے نائب ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روسی ماہرین نے روسی ہیلی کاپٹروں کی مرمت پر رضامندی ظاہر کی جو اب طالبان کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے مولوی عبدالکبیر کو اس بابت تجاویز دی تھیں۔

    روسی ماہرین کے ایک وفد نے کابل میں طالبان رہنماؤں سے عسکری ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے بارے میں بات کی ہے۔ 15 مارچ2022 کو طالبان کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ورٹیکل ٹی ایئر کمپنی کے سی ای او ولادی میر سکوریخن اور سمال ہیلی کاپٹر کی مرمت کرنے والی کمپنی کے چیئرمین الیگزینڈر کلاچوف نے ایک بیان جاری کیا کہ انہوں نے طالبان کے نائب وزیر اعظم برائے سیاسی امور مولوی عبدالکبیر سے ملاقات کی۔

    طالبان کے نائب ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روسی ماہرین نے روسی ہیلی کاپٹروں کی مرمت پر رضامندی ظاہر کی جو اب طالبان کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے مولوی عبدالکبیر کو اس بابت تجاویز دی تھیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مولوی عبدالکبیر نے روسی ماہرین کو یقین دلایا کہ افغانستان میں عالمی سلامتی کو یقینی بنایا گیا ہے اور غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ ورٹیکل ٹی ایک روسی فضائی کمپنی ہے جو ہیلی کاپٹر بناتی ہے۔

    یہ کمپنی کئی سالوں سے افغانستان میں سرگرم ہے، جو سابق افغان حکومت کی ملکیت والے روسی ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے متعدد ہیلی کاپٹر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں سمیت بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے چارٹر کیے ہیں اور افغانستان میں کام کرتے ہیں۔

    اگرچہ روسی ماہرین اور طالبان رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ طالبان نے سابق افغان حکومت کے چھوڑے گئے ہیلی کاپٹروں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے روسی حکومت اور اس کی ایئر لائنز کی مدد لی ہے۔

    قبل ازیں طالبان کے وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی نے ازبک حکومت سے مزار شریف میں مولانا جلال الدین ہوائی اڈے کی مرمت کرنے میں مدد کی درخواست کی تھی۔ طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے جنوری کے شروع میں کہا تھا کہ انہوں نے غیر ملکی حکومتوں کی امداد اچھی طرح سے لیس فضائیہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سابق افغان حکومت کے متعدد ماہرین کو بلایا جائے گا۔

    انہوں نے ازبکستان اور تاجکستان کو بھی خبردار کیا کہ وہ جلد از جلد افغان فوجی طیارے اور ہیلی کاپٹر طالبان کے حوالے کر دیں۔ گذشتہ سال 15 اگست کی دوپہر کو افغان فضائیہ کے متعدد پائلٹ اور عملہ 46 ہیلی کاپٹروں اور فوجی طیاروں میں تاجکستان اور ازبکستان کے لیے افغانستان سے روانہ ہوئے تھے۔

    ہیلی کاپٹر اور طیارے تاحال تاجکستان اور ازبکستان میں ہیں اور انہیں طالبان کے حوالے کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ طالبان نے پہلی بار مارچ کے شروع میں پنجشیر میں قومی مزاحمتی محاذ کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا تھا۔ طالبان رہنماؤں نے بارہا سابق افغان حکومت کے پائلٹوں اور فضائیہ کے ماہرین کو تعاون کے لیے مدعو کیا ہے۔

    سابق حکومت کے فوجیوں کی ہلاکتوں اور حالیہ برسوں میں اسلامی تحریک کے خلاف لڑنے والوں کے انتقام نے سابق ​​حکومتی افواج کو طالبان کی زیر قیادت ڈھانچے میں کام جاری رکھنے کی بجائے بیرونی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

    افغان فضائیہ کے کئی افسران اور پائلٹوں کو پچھلی انتظامیہ میں انخلا کے عمل کے دوران امریکہ اور یورپی ممالک میں منتقل کیا گیا تھا، لیکن کئی افغانستان چھوڑنے میں ناکام بھی رہے اور وہ ملک کے اندر خفیہ طور پر رہنے پر مجبور ہیں۔