Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں

    عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں

    اسلام آباد :مولوی صاحب مروا دتاجےناں:عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں،اطلاعات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات میں شہباز شریف نے مسلم لیگ (ق) کے بارے میں شکوے شکایات کیں۔

    تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران شہبازشریف مسلسل رابطےمیں رہے اور نوازشریف کوبھی ملاقات کےدوران آگاہ کیاجاتارہا۔

    ذرائع نے بتایا کہ ق لیگ کےحوالے سے ن لیگ کے تحفظات برقرار ہے ، ملاقات کے دوران شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمان سے شکوے شکایات کیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ مولانا آپ کےکہنےپرپرویزالٰہی کوکھانےکی دعوت دی لیکن پرویزالٰہی نے کھانے کی دعوت پر معذرت کرلی، جس پرمولانا نے جواب میں کہا کہ علم ہونے پر چوہدری شجاعت کے بیٹے کو فون کیا۔

    اپوزیشن رہنماؤں نے دیگرسیاسی رہنماؤں سےرابطے فیصلہ کیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگرجماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی جائے گی۔

    یاد رہے گذشتہ روز سابق صدر آصف علی زرداری سے طویل ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ آصف زرداری کیساتھ عدم اعتماد پر مشاورت ہوئی، کل رات کوقانونی ماہرین کی ملاقات بھی ہوچکی ہے، طے ہوا ہے تحریک عدم اعتمادعمران خان کےخلاف لائی جائےگی۔لیکن یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت مخالف اتحاد میں اتحاد نہیں‌ رہا اور وہ عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں بڑے بڑے عہدوں اور وزارتوں‌ کا مطالبہ کررہے ہیں جو کہ پورے نہیں‌ ہوسکتے

  • ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا

    ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا

    نئی دہلی :ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک پادری نے کہاہے کہ نامعلوم افراد کے ایک گروپ نے انہیں مارا پیٹا گیا، ان کی تذلیل کی اور جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا ۔

    یہ واقعہ رواں برس 25 فروری کو جنوبی دہلی کے علاقے فتح پوری بیری میں پیش آیا تھا لیکن پادریKelom Tet نے واقعے کی دو دن بعد میدان گڑھی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ۔

    دہلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اسے 27 فروری کی شام کو پادری کی شکایت موصول ہوئی تھی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شکایت کی تحقیقات کر رہی ہے۔پینتیس سالہ پادری جو گزشتہ 18 برس سے جنوبی دہلی کے اسولا میں مقیم ہے، نے کہا کہ انہیں کہ 15 سال قبل بھی دہلی کی سنجے کالونی میں ایک نامعلوم گروہ نے نشانہ بنایا تھا۔

    ادھر بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ایک درگاہ میں پوجا کااہتمام کرنے کی مذموم کوشش کے بعد پولیس نے مجرموں کو گرفتار کرنے کے بجائے 150سے زائد مسلمانوںکو گرفتار کر لیا ہے۔

    ریاست کے ضلع کالبرگی کے قصبے کا الند میں اس وقت کشیدگی شروع ہوئی جب ایک بدنام زمانہ ہندو انتہا پسند گروپ سری راما سین نے لاڈلے مشک درگاہ میں پوجا کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا۔تاہم حکام نے امتناعی احکامات جاری کرتے ہوئے گروپ کو درگاہ جانے سے روکنے کی کوشش کی لیکن مرکزی وزیر بھتوانت کھویاسمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماوں کی قیادت میں لوگوں کا ایک گروپ درگاہ پہنچا اور پوجا شروع کی جس کے باعث علاقے میں تناو پیدا ہو گیا۔

    الند کے سابق کانگریس ایم ایل اے بی آر پاٹل نے ایک بیان میں کہا کہ حکام احکامات کو نافذ کرنے میں ناکام رہے اور بی جے پی رہنماﺅں کو درگاہ پہنچنے کی اجازت دی جس کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی۔مسلمانوں کا کہنا ہے کہ پولیس تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہے اور انہیں گرفتار کر رہی ہے حالانکہ تمام اشتعال انگیزی ہندو دائیں بازو کے گروپ سے وابستہ لوگوں کی طرف سے کی گئی تھی۔

  • پشاورزلمی کےمالک جاوید آفریدی مشہور فٹبال کلب’چیلسی‘خریدنے والوں کی دوڑ میں شامل

    پشاورزلمی کےمالک جاوید آفریدی مشہور فٹبال کلب’چیلسی‘خریدنے والوں کی دوڑ میں شامل

    پاکستان کے مشہور بزنس مین اور پی ایس ایل فرنچائز پشاور زلمی کے مالک دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال کلبوں میں سے ایک چیلسی کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

    ہسپانوی کھیلوں کی ویب سائٹ ’سوئے میڈرڈسٹا‘ کے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیاکہ ممتاز پاکستانی بزنس مین جاوید آفریدی چیلسی کے مالک رومن ابرامووچ کی جگہ لینے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

     

     

    انگلش فٹبال کلب چیلسی کے روسی مالک رومن ابرامووچ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ٹیم فروخت کررہے ہیں اور اسی تناظر میں انہوں نے کلب کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے جمعے کی آخری تاریخ مقرر کی ہے کہ وہ اس کلب کے لیے پیشکشیں جمع کرائیں۔

     

     

    2003 سے کلب کے مالک رہنے والے رومن ابرامووچ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کلب کے لیے کم از کم 2.5 بلین ڈالر کی پیشکش کے منتظر ہیں۔

     

     

    چیلسی کے روسی ارب پتی مالک ابرامووچ نے مبینہ طور پر گزشتہ ہفتے روس کے یوکرین کے ساتھ تنازعہ شروع ہونے کے بعد کلب کو فروخت کے لیے پیش کر دیا ہے ۔

     

     

    خلیج ٹائمز کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فریقین کے درمیان کلب کی خرید و فروخت سے متعلق قانونی اور مالی معاملات پر بات چیت کے لیے ایک ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 2003 سے کلب کے مالک ابرامووچ کم از کم 2.5 بلین ڈالرز کی پیشکش کے منتظر ہیں۔

     

     

    تاہم جاوید آفریدی سمیت ایشیا سے تعلق رکھنے والا سرمایہ کاروں کا ایک گروپ ہے جو  اس کلب کو خریدنے میں دلچسپی رکھتا  ہے۔

    ان کا ماننا ہے کہ یہ ہی وقت ہے کہ فٹبال کلب میں سرمایہ لگایا جاسکتا ہے، ان کے مطابق ایشیا سے کسی کو آگے آنا چاہیے اور فٹبال کلب میں پیسہ لگانا چاہیے۔

    خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جاوید آفریدی کی ٹیم کلب خریدنے کے لیے گفت و شنید کررہی ہے۔

    تاہم جاوید آفریدی سمیت ایشیائی  سرمایہ کاروں کے گروپ کو سوئس ارب پتی ہینسجورگ وِس سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ ابرامووچ کی جانب سے انہیں چیلسی خریدنے کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔

  • گھر میں دھماکے سے 11 اموات،قریبی مکان بھی ہل کر رہ گئے

    گھر میں دھماکے سے 11 اموات،قریبی مکان بھی ہل کر رہ گئے

    گھر میں دھماکے سے 11 اموات،قریبی مکان بھی ہل کر رہ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گھر میں دھماکے سے 11 افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ 10 افراد زخمی ہوئے ہیں

    واقعہ بھارتی ریاست بہار میں پیش آیا، بہار کے ضلع بھاگلپور کے علاقے تھانہ تاتار پور کی حدود میں رات گئے ایک مکان میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 11 افراد کی موت ہوئی ہے اور 10 زخمی ہیں، دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ آواز دور دور تک سنائی دی، دھماکے کی وجہ سے قریبی کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے، اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا،

    جائے وقوعہ پر پولیس نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ پورے علاقے میں آواز سنی گئی،دھماکے سے دو منزلہ مکان زمین بوس ہو گیا ہے جبکہ قریبی مکان بھی ہل کر رہ گئے ہیں، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) سجیت کمار، ضلع مجسٹریٹ سبرت کمار سین، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) بابو رام موقع پر پہنچے، دھماکے میں 11 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے ،مرنے والوں میں گنیش منڈل عرف گنیش سنگھ (60) اور نندنی (30) کی شناخت کی گئی ہے باقی مرنیوالے کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی، زخمی بھی نجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں

    پولیس نے دھماکے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے،بم ڈسپوزل سکواڈ نے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کا تحقیقات شروع کر دی ہیں، پولیس قریبی علاقوں میں تلاشی لے رہی ہے ،پولیس کے مطابق یہاں پٹاخے بنانے والی فیکٹری ہو سکتی تھی تا ہم ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں کیا ہوتا تھا اور دھماکہ کیسے ہوا؟

    لاہور انارکلی دھماکہ، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری کی قبول،الرٹ جاری ہوا تھا مگر جگہ نہیں پتہ تھی،کمشنر لاہور

    انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    لاہور دھماکہ، جاں بحق اور زخمی افراد کے ناموں کی فہرست جاری

    انار کلی دھماکہ، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے دہشت گرد کی شناخت ہو گئی

    بارود کے کارخانے میں دھماکہ، چھ خواتین زندہ جل گئیں،15 زخمی

  • روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کو فتح کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور روسی افواج نے دارالحکومت کیف کو چاروں اطراف سے گھیر لیا ہے۔
    روسی وزارت دفاع نے روسی فوج اور فوجی گاڑیوں کے قافلے کا ایک وڈیو جاری کیا ہے۔

    روس کے سرکاری میڈیا ادارے آرٹی آئی کے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کئے گئے اس وڈیو میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کی طرف روسی فوجی گاڑیوں کے لمبے قافلے، ٹینکر، ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑیاں بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔

    وڈیو میں یوکرین کی تباہی کا منظر بھی صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تباہ شدہ عمارتیں، تباہ شدہ فوجی ٹینکس صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں کئی روسی فوجی بھی نظر آ رہے ہیں۔

     

    روسی میڈیا کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت اور دوسرے سب سے بڑے شہر خار کیف میں روسی فوج بڑی تعداد میں پہنچ چکی ہے۔

    خارکیف میں گزشتہ دو دنوں سے مسلسل گولہ باری جاری ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔یوکرین کے شہری پڑوسی ممالک پولینڈ اور ہنگری میں پناہ لے رہے ہیں، ان پناہ گزینوں میں کچھ کمزور شہری بھی شامل ہیں۔

    پولینڈ اور ہنگری کے شہریوں نے یوکرین کے پناہ گزینوں کا کھلے دل سے استقبال کر رہے ہیں اور جنگ کے وقت بھی انسانیت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    ہنگری کے جاہونی ریلوے اسٹیشن پر بدھ کو ایک ٹرین پہنچی، جس میں جسمانی اور ذہنی طور پر معذور تقریباً 200 لوگ سوار تھے۔

  • پاکستان : ’آئین سے لفظ اقلیت حذف کیا جائے‘ ترمیمی بل منظور:وجہ تسمیہ بھی سامنے آگئی

    پاکستان : ’آئین سے لفظ اقلیت حذف کیا جائے‘ ترمیمی بل منظور:وجہ تسمیہ بھی سامنے آگئی

    اسلام آباد : پاکستان : ’آئین سے لفظ اقلیت حذف کیا جائے‘ ترمیمی بل منظور:وجہ تسمیہ بھی سامنے آگئی،اطلاعات کےمطابق پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ایک آئینی ترمیمی بل کی منظوری دی ہے، جس میں تجویز دی گئی ہے کہ آئین پاکستان میں جہاں جہاں بھی غیر مسلموں کے لفظ اقلیت استعمال کیا گیا ہے، اس کو حذف کیا جائے اور اس کی غیر مسلم لکھا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی کھیئل داس کوہستانی کی جانب سے ایوان میں پیش کیا گیا بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا جس پر بدھ کو کمیٹی نے غور و خوض کیا۔

    بل کے محرک کھئیل داس کوہستانی نے بل پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ آئین میں 15 مرتبہ لفظ غیر مسلم استعمال ہوا ہے، چار بار لفظ اقلیت لکھا گیا ہے۔آئین میں لفظ اقلیت کی جگہ غیر مسلم لکھا جائے۔ہم برابر کے شہری ہیں، ہمیں غیر مسلم لکھا جائے۔ ہم سب پاکستانی اور برابر کے شہری ہیں، اکثریت اور اقلیت میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’آئین کے آرٹیکل 36 میں ترمیم کی جائے اور جہاں جہاں بھی اقلیت کا لفظ ہے اسے غیر مسلم کے ساتھ تبدیل کیا جائے۔‘

    کھیئل داس کوہستانی کے مطابق ’میری تحقیق بین المذاہب مکالمے پر مبنی ہے۔ جو مذہبی رواداری کو فروغ دیتی ہے لیکن پاکستان میں لفظ اقلیت غیر مسلموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو بظاہر ایسا تاثر دیتا ہے کہ ہم دوسرے درجے کے شہری ہیں اور پچھلے کچھ برسوں سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے جبکہ جمہوری معاشرے میں تمام شہری برابر ہوتے ہیں۔ اس لیے آئین میں موجود اس نقص کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے اس اقدام سے نہ صرف ایک مثبت بحث کا آغاز ہوگا بلکہ ایک مستحکم جمہوری معاشرے کی روایت فروغ پائے گی۔ غیر مسلم شہری بھی برابر کے حقوق کے ساتھ ملکی ترقی میں کردار ادا کر سکیں گے۔‘ کمیٹی ارکان نے کھیئل داس کوہستانی کے ساتھ اتفاق کیا اور آئین کے آرٹیکل 36 میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

  • روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    ماسکو:روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق ہیکرز کے گروپ ’اینونمس‘ نے روس کی خلائی ایجنسی(روسکوسموس) کو ہیک کرنے کا دعویٰ کردیا اور کہا ہے کہ پیوٹن کا خلائی سرگرمیوں پر اب کنٹرول نہیں رہا۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اینونمس نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی حکومت اپنی خلائی سرگرمیوں اور سیٹلائٹس کا کنٹرول اب کھو چکی ہے کیوں کہ ہم نے روسکوسموس کو ہیک کرکے بند کردیا ہے۔

    روسی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اولیگوچ نے ہیکرز کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اینونمس کو غیرضروری اور دھوکے باز گروپ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی سے متعلق خبریں حقیقت کے منافی ہیں۔
    اولیگوچ نے کہا کہ ہماری خلائی سرگرمیاں اور کنٹرول سینٹرز معمول کے مطابق آپریٹ کررہے ہیں۔ روسی اسپیس انڈسٹری سائبر حملوں سے محفوظ ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ہیکرز کی ٹیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے 300 سے زائد روسی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرکے یوکرین پر حملے میں شامل روسی ٹینک کے عملے کو ٹینک چھوڑنے کے عوض 53 ہزار ڈالر کی پیشکش کی۔

    اینونمس کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی ارب ڈالرز ان روسی فوجیوں کے لیے جمع کیے ہیں جو جنگ سے دست بردار ہوکر اپنا ٹینک سفید جھنڈا لگا کر چھوڑ دیں گے۔

  • حادثات ہیں یا جسمانی تشدد کا شکار خواتین پر قاتلانہ حملہ

    ‏پوری وارڈ میں اکثریت اگ میں جھلس کر جلنے والی خواتین ھی تھیں اس پہلو کی تحقیقات ھونی چاھئے کہ ان کی کیا یہ صرف حادثات ہیں یا جسمانی تشدد کا شکار خواتین پر قاتلانہ حملہ ۔
    اور جب والدین سر پر نہ ہوں تو خواتین اولاد کی خاطر ان واقعات کو حادثہ قرار دیتی ہیں۔

    ‏یونیورسٹی کے ایڈمن ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والی ایک عزیز مشکوک حالات میں 45 فیصد تک جل گئی ہیں۔ بے چاری اپنے دو معصوم بچوں کی خاطر انتہائی مشکل اور تکلیف دہ شادی نبھا رہی تھی۔ یونیورسٹی کی فیکلٹی ملنے گئی تو شوہر بے فکری سے جھلسنے کے بعد کی تصاویر دکھا رہا تھا۔

    ‏بے چاری حالات کی ماری اپنی معمولی شکل و صورت اور مالی پس منظر کی وجہ شدید مشکل زندگی گھسیٹ رہی تھی۔ کرسچن کیمونٹی سے تعلق ہے۔ والدین وفات پا چکے ہیں کوئی سہارا نہیں۔ دو بیٹے پانچ سال اور دو سال ماں کے بنا بے حد مشکل میں آ گئے ہیں۔ ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں زیر علاج ہے۔

  • کامیابی دین اسلام پرعمل پیرا ہونے میں ہے:عالم اسلام کی خیرخواہی کے لیے ایران بھی آگے بڑھے:محمد بن سلمان

    کامیابی دین اسلام پرعمل پیرا ہونے میں ہے:عالم اسلام کی خیرخواہی کے لیے ایران بھی آگے بڑھے:محمد بن سلمان

    ریاض:ایران ایک قدم آگے بڑھے ہم دوقدم آگے بڑھیں گے:معاملات حل ہونے چاہیں:سعودی عرب ،اطلاعات کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مضبوط جوہری معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ "تفصیلی بات چیت” جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ دونوں کے لیے ایک تسلی بخش معاہدے تک پہنچ سکے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہےکہ حقیقی اسلام کی جانب لوٹنا ہمارا نصب العین ہے، سعودی عرب میں اب کسی مذہبی نقطہ نظر کی اجارہ داری نہیں ہے۔
    امریکی جریدے اٹلانٹک کو خصوصی انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت مستند احادیث نبویﷺکے پروجیکٹ پرکام کر رہی ہے۔

    شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران پڑوسی ہیں، جدا نہیں ہوسکتے، سعودی عرب نے4 ماہ میں ایران کےساتھ کئی مذاکرات کیے ہیں۔خطے میں شدت پسندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی جنگ نےشدت پسندوں کو اکھٹا ہونےکا موقع دیاہے۔

    سعودی ویژن 2030 کے حوالے سے سعودی ولی عہد نے بتایا کہ کچھ طاقتیں ویژن 2030 ناکام کرنےکی کوششیں کررہی ہیں، سعودی عرب تیز ترین معیشت رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری 800 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، چین میں سعودی سرمایہ کاری 100 ارب ڈالرز سےکم ہے لیکن یہ تیزی سےبڑھ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت خطے کی سنی مسلم اور شیعہ طاقتوں کے لیے "اچھی صورت حال اور روشن مستقبل کی نشان دہی” کے قابل ہو جائے گی، جو دشمنی میں بند ہیں۔ پورے مشرق وسطی میں تنازعات میں کھیل رہے ہیں۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ایران ہمیشہ کے لیے پڑوسی ہے، ہم ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے اور وہ ہم سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔”

    ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ویانا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے تہران کے جوہری پروگرام کو روکا تھا۔

    ریاض اور اس کے خلیجی اتحادیوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پراکسیوں کے نیٹ ورک کے بارے میں اپنے خدشات کو دور نہ کرنے کے لیے اس معاہدے کو خامیوں کے طور پر دیکھا تھا، بشمول یمن میں جہاں سعودی عرب ایک مہنگی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔

  • اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے:   تحریر:-نوید شیخ

    اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے: تحریر:-نوید شیخ

    گزشتہ روز ق لیگ سے ملاقات کے حوالے سے وزیروں اور مشیروں کی جانب سے خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ معاملات حل ہوگئے ، چیزیں طے ہوگئیں ۔ مگر اس حوالے سے متضاد خبریں فورا ہی رپورٹ ہوگئیں ۔ سب سے پہلے تو ق لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے واضح الفاظ میں کہا دیا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا عدم اعتماد میں حکومت کے ساتھ ٹھہرنا ہے یا خلاف جانا ہے۔ چوہدری صاحب مشاورت کررہے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں‌کہ پھر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی مگر اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ ق کا پانچ رکنی وفد چوہدری پرویز الہی کی سربراہی میں شہباز شریف سے ملنے جائے گا۔ اور یہ ملاقات ہفتہ یا اتوار کو ہوسکتی ہے ۔ یوں اگر یہ ملاقات ہوجاتی ہے تو جو وزیر اور مشیر ہم کو بتا رہے ہیں معاملات ویسے نہیں ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویسے یہ میں پہلے بتا چکا ہوں مگر پھر یاد کروادوں کہ اس ہفتے اپوزیشن کے تین بڑوں شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے پھر ملنا ہے اور چیزیں فائنل کرنی ہیں ۔ شاید کوئی اعلان بھی ہو جائے ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اشارہ کرچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔ اگلے دو سے تین دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، پھر ان کے مطابق اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی ہے ۔

    شاید اسی لیے شاہد خاقان عباسی نے دعوی کیا ہے کہ ق لیگ کے پانچ ارکان ہیں۔ ان کے بغیر بھی عدم اعتماد ہو جائے گی۔

    اس حوالے سے خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ناراض ارکان قومی اسمبلی کی تعداد کم وبیش پندرہ سے بیس ہے اور اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے صرف تیرہ ارکان کی حمایت درکار ہے۔ پھر ایوان میں اپوزیشن کے ارکان کم وبیش 160 ہیں مگران میں بھی کچھ اوپرنیچے ہوسکتے ہیں اس لیے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کم ازکم 25 حکومتی ارکان توڑنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب ایم کیو ایم بھی کوئی پکڑائی نہیں دے رہی ہے ۔ روز خالد مقبول صدیقی ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے تاثر مل رہا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ ان بن ہے ۔ آج بھی انکا کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی حکومتوں سے نکلتے رہے ، اب بھی نکلیں گے۔ اس سلسلے میں انھوں نے 1987کے دور کا بھی حوالہ دیا ۔ یاد کروادوں 1989 میں ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کی اتحادی ہوتے ہوئے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دیا مگر وہ ناکام ہوگئی اور بعد میں خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اسی لیے شاید اب عمران خان ایم کیو ایم سے بھی ملنا چاہتے ہیں اور جی ڈی اے سے بھی ۔۔۔

    مگر یہ وہ ہی عمران خان ہیں جب مظاہرین سخت سردی میں کوئٹہ میں لاشیں رکھ کر بیٹھے تھے تو انھوں نے کہا تھا میں بلیک میل نہیں ہوگا ۔ یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جو اپنے سب سے پرانے ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں شرکت کرنے نہیں گئے یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت نہیں کی ۔ مگر اب جب اپنی کرسی جاتی دیکھائی دی تو یہ تمام چیزیوں کو سائیڈ پر رکھ کر ہر کام اور ہر چیز کرنے کو تیار ہیں ۔

    نوید شیخ یہ بھے دعویٰ کرتے ہیں کہ برطانیہ میں موجود صحافی رپورٹ کررہے ہیں کہ کل لندن میں انتہائی اہم ملاقات میں آخری معاملات طے ہوگئے ہیں ۔ اس ملاقات کی ایک شخصیت تو نواز شریف بتائی جارہی ہیں دوسری کے بارے میں راوی خاموش ہے ۔ ہاں البتہ یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ حسین نواز اور اسحاق ڈار اس ملاقات سے آگاہ ہیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے نمبر گیم یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے172 کا نمبردرکارہے۔ اور حکومت کے پاس178اور اپوزیشن کے پاس162
    کا نمبرزہے، حکومت کوعدم اعتماد کا سرپرائز دینے کےلیے اپوزیشن کو دس ارکان کی حمایت درکار ہے۔ سات اراکین قومی اسمبلی جہانگیرترین کےساتھ بتائے جارہےہیں۔ جبکہ ایم کیوایم کےسات اورق لیگ کی پانچ سیٹیں اہمیت کی حامل ہیں،ان تین میں سےدوکھیل کی بازی بدل سکتے ہیں۔

    اس وقت اپوزیشن پوری طرح عدم اعتماد لانے پر تلی بیٹھی ہے کہ اور حالات بھی ان کے لیے سازگار نظر آتے ہیں۔ بلاول کا مارچ زور و شور سے جاری ہے اور انہوں نے دو اڑھائی درجن مطالبات بھی کئے ہیں۔ ان کو کائونٹر کرنے کے لیے شاہ محمود قریشی بھی سندھ کے حقوق کے لیے نکلے ہیں۔

    مگر سیاست کی اس گھمبیر صورتحال میں ابھی تک کچھ وزیروں کو ستے خیراں دکھائی دے ر ہی ہے۔ جو بیانات سنائی دے رہے ہیں وہ اپوزیشن کو کھلا چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن میں ہمت ہے تو وہ تحریک عدم اعتماد لے آئے۔

    دیکھا جائے تو عمران خان کو کئی محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اوران کی ٹیم میں شامل ممبران کوئی صلاحیت نہیں رکھتے اور جو صلاحیت رکھتے تھے وہ نظر انداز کر دیئے گئے ۔

    کیونکہ اب تک تو ان کی کارکردگی یہ ہے کہ یہ نان ایشوز کو اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ مثلاً ریحام خان والا معاملہ کب کا دب چکا تھا اور وہ کتاب لکھ کرکب کی سائیڈ پر بیٹھی تھیں حکومت نے محسن بیگ ہر ہاتھ ڈال کر جہاں اس کتاب کی خوب مشہوری کروائی ساتھ ہی پیکا آرڈیننس مسلط کرنے کی ضد میں میڈیا اور صحافیوں کو بھی اپنے خلاف کروالیا ۔

    دیکھا جائے تو ایک بڑی سیاسی غلطی پورے نظام کو لپیٹ سکتی ہے۔ غالباً وزیر اعظم عمران خان کوئی بڑا فیصلہ کرچکے ہیں بس اعلان ہونا باقی ہے اور گوکہ ان کی پیرکے روز کی جانیوالی تقریر میں تھوڑی سی گھبراہٹ ضرور نظر آئی جس کی وجہ سے اپوزیشن یہ کہنے میں حق بجانب تھی کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن ہی عوام کو ریلیف مل گیا۔ جہانگیر ترین یاد آگئے اور چوہدریوں سے مدد مانگ لی۔

    یہ اپوزیشن کا ہی پریشر ہے جو آجکل عمران خان کے دل میں عوام کو بہت درد جاگ رہا ہے ۔ آج بھی انھوں نے کہا کہ جو ٹیکس کا جو پیسہ اکٹھا ہو گا وہ ساراعوام پر خرچ کروں گا ۔ دراصل انکو معلوم ہوگیا ہے کہ اب لوگوں نے تبدیلی کے آگے ہاتھ جوڑ لیے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ اپوزیشن ہی ہوتی ہے جو حکومت کے عوام مخالف اقدامات پر تنقید کرتی ہے اور ایسا سیاسی ماحول بناتی ہے کہ حکومت مجبوراً عوام کو ریلیف دیتی ہے تا کہ اس کو عوامی تائید و حمایت حاصل رہے۔

    عمران خان نے جس قسم کے ریلیف کا اعلان کیا ہے، وہ اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی ایک کوشش ہے۔ انھیں سمجھ آرہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں۔ عدم اعتماد کا معاملہ سنجید ہ ہے اور اس میں ان کے اقتدار کو شدید خطرہ ہے۔ اس لیے جاتے جاتے انھیں عوام کو ایسا ریلیف دینا چاہیے کہ وہ کہہ سکیں، اب تو ریلیف دینے کا وقت آگیا تھا اور مجھے نکال دیا گیا۔

    اس طرح انھیں نکالنے کے بعد ان کے پاس ایک بیانیہ ہوگا، وہ کہیں گے پاکستان کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی تھی، میں نے عوام کو ریلیف دینا شروع کر دیا تھا، پھر کرپٹ لوگ آگئے اور سارا عمل رک گیا۔

    عمران خان خود بھی فوری انتخابات بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے اقدمات کر رہے ہیں جن سے انھیں انتخابات میں مدد مل سکے۔

    اس لیے دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اب پاپولر پولیٹکس کریں گے چاہے آئی ایم ایف ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ یہ کرسی کا معاملہ ہے ۔

    آپ دیکھیں عمران خان کے موجودہ دور حکومت میں اپوزیشن کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو زیادہ عرصہ گرفتار رکھا ۔اسی طرح اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کو بھی گرفتار رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے حکومت پر عوام کی خدمت کا کوئی دباؤ ہی نہیں تھا، اسی لیے حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالتی رہی ۔ پہلی دفعہ ہم نے دیکھا کہ قائد حزب اختلاف کو تقریر کرنے سے روکا گیا۔ پارلیمانی رویات میں یہ کام اپوزیشن کرتی ہے کہ حکومت کی تقاریر میں شور کرتی ہے۔ اس طرح جیسے جیسے پارلیمان میں اپوزیشن کی آوا ز کو دبایا گیا ویسے ویسے حکومت کی عوام پر زیادتیاں بڑھتی رہیں۔ کیونکہ جب حکومت کو اپنے اقتدار کے لیے کوئی خطرہ ہی نظر نہیں آئے گا تو وہ عوام کی خدمت کیوں کرے گا۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ عوام کے پاس واپس جانے کا خوف آپ کو عوام کی خدمت کرنے پر مجبور کیے رکھتا ہے۔ اگر عوام کے پاس جانے کا خوف ختم ہو جائے تو عوام کی خدمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

    آخر میں بس یہ ہی کہوں گا کہ کرکٹ کے میدان میں تو لاہور قلندر جیت چکی ہے دیکھانا یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں یہ جیتے ہیں کہ نہیں ۔۔۔