Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا

    مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا

    کیف: مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا ،طلاعات کے مطابق مشرقی یوکرین میں ایک روس نواز میئر کو پہلے گھر سے اغوا کیا گیا اور پھر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ میر نے یوکرین پر حملے کے بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے حملے کا خیر مقدم کیا۔

    ان کی اہلیہ کے مطابق لوہانسک میں کریمنا میں ولادیمیر اسٹارک کو منگل کو قتل کر دیا گیا ۔ انہیں گھر سے اغوا کرنے کے بعد سینے میں گولی مار دی گئی۔

    فیس بک پر خبر کا اعلان کرتے ہوئے، یوکرین کے وزیر داخلہ انٹیک گیرا چنکا کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا کہ اسٹراک ‘لوہانسک پیپلز ریپبلک کا حامی’ (ایل پی آر) تھا۔

    رپورٹ کے مطابق لوہانسک عوامی جمہوریہ مشرقی یوکرین کے اندر واقع ایک خود ساختہ علیحدہ ریاست ہے جسے 2014 میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے قائم کیا تھا۔

    یوکرین کے وزیر داخلہ کے مشیر نے الزام لگایا کہ اسٹراک کو پیپلز ٹربیونل نے غدار کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوکرین گزشتہ آٹھ سالوں سے اسٹراک کے خلاف کچھ نہیں کر سکا کیونکہ ماسکو کے حامی علیحدگی پسند ڈونیٹسک اور لوہانسک کے جنوب مشرق میں یوکرین کے علاقوں کو کنٹرول کر رہے تھے۔

  • ہم نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں       کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگو

    ہم نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگو

    اسلام آباد:نسلوں سےہمارےخاندان نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگوا،طلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد عمران خان بھی مقابلے کرنے کے لیے سیاسی محاذ پر متحرک ہو گئے ہیں۔

    دوسری طرف وفاقی وزیرآبی وسائل اور پاکستان میں‌ شریفانہ سیاست کو پروان چڑھانے والے چوہدری برادران کے فرزند ارجمند چوہدری مونس الٰہی نے آج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے پاکستان میں دہائیوں سے سیاسی سازشیوں کے خلاف ایک بند باندھ دیا ہے

     

     

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الہی نے ملاقات کی۔ جس میں ملکی سیاسی امور اور اتحاد کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

    اس موقع پر مونس الٰہی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہیں، آگے بھی ملکر ساتھ چلنا ہے۔ سیاسی منظر نامے پر ساتھ ساتھ چلنا ہے۔

    مونس الٰہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ نسلوں سے ہمارے خاندان نے ہمیشہ وعدوں کا احترام کیا ہے، وزیر اعظم عمران خان اور اسد عمر سے ملاقات کی ۔ پاکستان کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اتحاد کے معاملات پر کوارڈینیشن کی ذمہ داری وفاقی وزیر اسد عمر کو سونپ دی گئی، اسد عمر سیاسی معاملات پر مسلم لیگ ق کی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔

    مسلم لیگ ق کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان دیگر اتحادی جماعتوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے چودھری برادران کے گھر جا کر چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی تھی جس میں مسلم لیگ ق کے قائدین وزیراعظم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے کا اعلان کیا تھا۔

  • عدم اعتماد:ن لیگ کا38 اورسینئرلیگی رہنما 16حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟دعووں میں تضادکیوں؟

    عدم اعتماد:ن لیگ کا38 اورسینئرلیگی رہنما 16حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟دعووں میں تضادکیوں؟

    لاہور:عدم اعتماد:ن لیگ کا 38 حکومتی ارکان اورسینئرلیگی رہنما 16 حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے معاملے پر مسلم لیگ ن نے 38 حکومتی ارکان اسمبلی کی حمایت ملنے کا دعویٰ کر دیا۔لیکن دوسری طرف لیگی رہنما کے متضاد دعوے نے ن لیگ کے اندرتضاد کی تصدیق کردی ہے

    ذرائع کے مطابق 38 حکومتی ارکان اسمبلی کی حمایت ملنے کی فہرست سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو ارسال کر دی گئی۔ ن لیگ نے 10 ارکان کو آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔

    مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما نے دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت کے 16 ارکان قومی اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔

    سینئر لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن نے ہم خیال حکومتی ارکان کو 3 مراحل میں تقسیم کر دیا ، پہلے مرحلے میں وہ ارکان ہیں جو حکومتی پالیسوں سے دلبرداشتہ ہیں۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی سوچ رکھنے والے ارکان شامل ہیں۔ تیسرے فیز میں دیکھو اور انتظار کرو کی سوچ رکھنے والے ارکان ہیں۔

    دوسری طرف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا۔ تحریک پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں۔ساتھ ہی اس وقت یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اگر اپوزیشن کے پاس تعداد پوری ہوتی تو وہ دعوے کے مطابق ہی دستخط کا ثبوت پیش کردیتے ، اس لیے ابھی قبل ازوقت کہنا یا دعویٰ کرنا ایک سیاسی چال ہی لگتی ہے

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی ف، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر کے دستخط ہیں۔ ملک اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں۔ مجوزہ مسودے کے مطابق ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے، خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

    مجوزہ مسودے میں کہا گیا کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر کو الرٹ کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد اور ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے۔

    دوسری طرف اکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس 5 دن کی ڈیڈ لائن ہے خود مستعفی ہوجائیں، اگرغیرت ہے تو وزیراعظم اسمبلی توڑکرہمارا مقابلہ کریں۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی یہ مودبانہ درخواست ہی بتا رہی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہے

    پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے، بلاول بھٹو کی قیادت میں مارچ بہاولپور پہنچ چکا ہے۔ چنی گوٹھ میں انہوں نے جیالوں سے خطاب کیا۔

  • وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    ریاض:وزیراعظم عمران خان کےامریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا امریکا کے سامنے ڈٹ جانا سعودی ولی عہد کے لیے حوصلے کا سبب بن گیا ، سعودی ولی عہد بھی ڈٹ گئے ہیں اور دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ایک دلیرانہ پیغام بھیج کرعربوں کو خوش کردیا ہے ،

    اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پرامریکی دباو سعودی عرب نے نہ صرف مسترد کردیا ہے بلکہ اس جابرانہ کوشش کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے امریکا میں 800 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے ملک سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری کم کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری میں کمی کا امکان ہے، ہمیں اپنے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر مجھے سمجھ نہیں پارہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ امریکی مفاد کے لیے سوچنا بائیڈن کی ذمہ داری ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطین سے معاملات ٹھیک کر لے تو اتحاد ہوسکتا ہے، سعودی عرب میں بادشاہت ہی قائم رہے گی۔

    ایران سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تہران سے ڈائیلاگ کی کامیابی کیلئے پر امید ہیں، دونوں ملکوں کے روشن مستقبل کے لیے با مقصد مذاکرات لازمی ہیں، مذاکرات کے ذریعے ہی دونوں ملک کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں، ایران ہمارا مستقل ہمسایہ ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے جان نہیں چھڑا سکتے۔

  • اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی

    اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی

    اسلام آباد:اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا۔ تحریک پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں۔دوسری طرف ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ دعوے تو بڑے ہورہے تھے مگردستخط صرف 80 ممبران کے ،

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی ف، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر کے دستخط ہیں۔ ملک اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں۔ مجوزہ مسودے کے مطابق ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے، خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

    مجوزہ مسودے میں کہا گیا کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر کو الرٹ کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد اور ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے۔

    واضح رہےکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے سرگرم ہیں اور اس سلسلے میں سیاست کے بڑے کھلاڑیوں کی بیٹھکیں جاری ہیں جب کہ (ن) لیگ کے رہنما رانا ثنااللہ نے تحریک عدم اعتماد کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

  • پاک بحریہ کی بڑی کارروائی، یونٹ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا لیا: آئی ایس پی آر

    پاک بحریہ کی بڑی کارروائی، یونٹ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا لیا: آئی ایس پی آر

    راولپنڈی:پاک بحریہ نے آبدوز شکن وار فیئر یونٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا لیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی آبدوز کا یکم مارچ کو سراغ لگایا گیا۔ گزشتہ پانچ سال میں چوتھی بار بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود میں ملی ہے، بھارتی آبدوز کو تلاش کرنا پاک بحریہ کی پیشہ وارانہ مہارت کا ثبوت ہے، پاک بحریہ پاکستان کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔

     

    یاد رہے کہ 2019 میں بھی بھارتی آبدوز کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے پاک نیوی کے جوانوں ایک آبدوز کا سراغ لگایا تھا ، جس پر صدر عارف علوی نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاک بحریہ کے افسران اور سیلرز کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کے اعتراف میں ملٹری اعزازات و اسناد سے نوازا تھا

    پلوامہ حملے کے بعد بھارتی بحریہ نے اپنی آبدوزیں پاکستان کی سمندری حدودمیں تعینات کرنے کی کوشش کی تھی جسے پاک وطن کے بہادر سپوتوں نے پیشہ ورانہ مہارت کے سبب ناکام بنادیا تھا۔ پاک بحریہ کے پی تھری سی اورین جہاز کے آفیسرز لیفٹیننٹ کمانڈر حمیرافتخار اورلیفٹیننٹ کمانڈر خرم داؤدنے نہ صرف دشمن کی آبدوز کا سراغ لگایا بلکہ پاکستان کی سمندری حدودکی خلاف ورزی سے بھی روکا۔

    پاک بھارت کشیدگی کے دوران دشمن کے ناپاک عزائم کو پسپا کرنے کے لیے پاک بحریہ کی آبدوزیں دشمن کے پانیوں میں کامیابی سے طویل مدتی آپریشنل ڈپلائمنٹ پر تعینات رہیں۔ بہادری اور شجاعت کے اس اعلیٰ اقدام کے اعتراف میں کیپٹن سیدایلیا حسن پاکستان نیوی اور لیفٹیننٹ کمانڈر حمیر افتخار کو ستارہ بسالت جبکہ لیفٹیننٹ کمانڈر خرم کو تمغہ بسالت تفویض کرنے کی منظوری دی۔

    علاوہ ازیں صدر نے پاک بحریہ کے افسران، سی پی اوز/سیلرز اور سیویلنز کے لیے بھی عسکری اور سول اعزازات کی منظوری دی جن میں3 ہلال امتیاز (ملٹری)، 2 ستارہ بسالت، 8 تمغہ بسالت، 14 ستارہ امتیاز (ملٹری)اور 13 آفیسرز کو تمغہ امتیاز (ملٹری) دینے کی بھی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ کے ایم سی پی اوز، سی پی اوز اور سیلرزکے لیے4امتیازی اسناد اور98تمغہ خدمت کی بھی منظوری دی گئی۔

    چیف آف نیول اسٹاف کی جانب سے 66 افسران اور سیلرز کو بہترین کارکردگی کے لیے لیٹر آف کمینڈیشن سے بھی نوازا گیا تھا

  • روسی جنگی طیارے ہمارے علاقے میں گھُس آئے :سویڈن

    روسی جنگی طیارے ہمارے علاقے میں گھُس آئے :سویڈن

    کوپن ہیگن:روسی جنگی طیارے ہمارے علاقے میں گھُس آئے :اطلاعات کے مطابق سویڈن نے کہاہے کہ روس کے جاسوس طیارے نے 4روسی لڑاکا طیاروں کے ہمراہ بحیرہ بالٹک پر مختصر دورانیے کے لیے سویڈن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جاری بیان کے مطابق روسی طیاروں نے سویڈن کے جنوب میں پرواز کی۔

    فوج کے بیان میں کہا گیا کہ طیارے اجازت کے بغیر سویڈن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ ۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جبکہ یوکرین پر روسی فوج کشی جاری ہے اور روس یوکرین پر جلد از جلد قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹوں میں روسی عسکری طیاروں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور روسی جنگی بحری جہازوں کی موجودگی میں اضافے کی اطلاعات دی جا رہی ہیں۔

    سویڈن فوج کا کہنا ہے کہ چار روسی لڑاکا طیاروں دو Su-27s اور دو Su-24s نے آج بحیرہ بالٹک پر ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔اب اگرروس نے کوئی ایسی غلطی کی تو روس کو سخت جواب دیا جائےگا

    ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان نے روس اور یوکرین تنازع پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے جو کہ سفارتکاری کی ناکامی کی عکاس ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کے مطابق عوام کے حق خودارادیت، طاقت کے عدم استحکام یا استعمال کے خطرے، ریاستوں کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے پرعزم ہے، پاکستان مساوی اور ناقابل تقسیم سلامتی کے حصول کو یکساں طور پر برقرار رکھنے کے حق میں ہےان کا مستقل اور عالمی سطح پر احترام کیا جانا چاہئے۔

    انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے روس اور یوکرین کے درمیان تازہ ترین صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی سفارتکاری سے فوجی تنازع کو ٹالا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ہم نے کشیدگی میں کمی ، ازسر نو مذاکرات ، پائیدار بات چیت اور مسلسل سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیا۔

    انہوں نے کہا کہ تشدد اور جانی نقصان سے بچنے کے ساتھ ساتھ فوجی ، سیاسی اور سفارتی کشیدگی میں مزید اضافے کی بھی ضرورت ہے جو بین الاقوامی امن و سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اس حوالے سے مسلسل اشارہ دیا گیا کہ ترقی پذیر ممالک کہیں بھی تنازعات سے معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ہمیں امید ہے روس اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان شروع ہونے والی بات چیت حالات کو معمول پر لانے اور دشمنی کے خاتمے کا موجب ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ متعلقہ کثیر الجہتی معاہدوں، بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعات کے مطابق تنازعہ کا سفارتی حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متاثرہ علاقو ں میں شہریوں کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کی تمام کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔ حکومت پاکستان یوکرین میں پھنسے پاکستانی شہریوں اورطلبائ کی حفاظت اور بہبود کے حوالے سے سب سے زیادہ فکر مند ہے۔ ان میں سے اکثریت کو نکال لیا گیا ہے باقی بچنے والوں کو بھی جلد نکال لیا جائے گا۔ اس حوالے سے یوکرین کے حکام کے ساتھ ساتھ پولینڈ، رومانیہ اور ہنگری کی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہیں۔

  • عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    لاہور: عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی بہت اضافہ ہوچکا تھالیکن جب سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چھڑی ہے اس وقت سے لیکر اب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مسلسل آگ لگی ہوئی ہے اور آج تیل کی قیمتیں‌تاریخ کی بلند تارین سطح پرآگئی ہیں‌

    اطلاعات ہیں کہ آج اچانک تیل کی قیمتیں 113 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں‌، ۔ روس پر پابندیوں کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے ابھی اور بھی بڑھنے کے مواقع ہیں ، ۔ادھر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طئے نہیں ہوتے تو عالمی منڈی میں یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم کے ریلیف پیکج کے تحت 4 ماہ کے لئے قیمتیں مستقل رکھنے کا فیصلہ پاکستانی صارفین کو مہنگائی کی اس آگ سے محفوظ رکھے گا۔

    دوسری طرف عوام الناس اور عالمی امور سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بڑی حکمت عملی سے ملکی معیشت کو ٹریک پرچلایا ہے اور اب ملکی معیشت درست سمت چل پڑی ہے ، اس لیے وزیراعظم نے عالمی مارکیٹ میں‌ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود قوم کو ریلیف دے کر اپنی اہلیت ثابت کردی ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے ن لیگ کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی مختلف میڈیا چینلز پر یہ حیرانی طور پر کہہ چکے ہیں‌کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جارہی ہیں اور ان حالات میں عمران خان نے پٹرول کی قیمتیں‌ کم کرکے حیران کردیا ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا ہے جس کی وجہ سے سے بجلی اور پٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں بلا سود قرضوں کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم سے کہتا ہوں کے وہ ٹیکس ادا کریں تاکہ اسے نچلی سطح کے عوام پر خرچ کیا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے مدینے کی جو مثالی ریاست قائم کی اس میں کوئی قانون سے بالا تر نہیں تھا اور ریاست نے معاشرے کے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی تھی۔ بدقسمتی سےہم نے ا س نظریے سے روگردانی کی جو قیام پاکستان کی بنیاد تھا۔ دنیاکے کئی غیر اسلامی ممالک ریاست مدینہ کے زریں اصولوں کو اپنا کرترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے جبکہ مسلمان ان کو ترک کرکے زوال کا شکار ہو گئے۔

    عمران خان نے کہاکہ ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس جمع کیا ہے۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے جبکہ دنیا میں اس کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ ہمارے پاس جتنازیادہ پیسہ جمع ہو گا عوام پر اتنا ہی زیادہ خرچ کریں گے اور ریلیف دیں گے۔ 45 لاکھ خاندانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی شروع کی ہے، اس کا آغاز پسماندہ علاقوں سے کیا۔ دیہات میں ساڑھے 3 لاکھ روپے تک جبکہ شہروں میں 5 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے دیئے جائیں گے تاکہ لوگ اپنا روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔ گھر کی تعمیر کے لئے 20 لاکھ روپے قرض دیاجائےگا۔ حکومت نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھائے گی تاکہ و ہ اپناروزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔

  • فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج

    فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج

    اسلام آباد : فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج ،اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جانب سے آئندہ 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ مولانا ایسی خوشخبریاں پہلے بھی کئی بار سنا چکے ہیں اپوزیشن کےپاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ عدم اعتمادلاسکیں۔

    اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے ہوتے تو حکومت میں ہوتے تحریک آئی تودیکھ لیں گےیہ کہاں کھڑےہیں اورہم کہاں ہیں، تحریک عدم اعتماد آنے دیں کوئی پرواہ نہیں ہم تگڑےہیں۔

    فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے وزیراعظم کا امیدوار کون ہے ایک کہتا ہے الیکشن کرادیں دوسرا کہتا ہے ہمیں ڈیڑھ ڈیرھ سال ملیں اپوزیشن ایک ڈرامہ ہے۔

    وفاقی وزیراطلاعات نے واضح کیا کہ پرویزالٰہی نےکہا ہم آپ کےاتحادی ہیں پرویزالٰہی سےآج صبح بھی بات چیت ہوئی ہے پہلےبھی ساتھ الیکشن لڑےتھےآئندہ بھی لڑیں گے، ق لیگ اتحادی ہےاس لئےتوچیمہ صاحب وزیر ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔اگلے 2 سے 3 دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔

    پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں ہی پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے۔

    اس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا آپ کو سب کچھ بتادیں؟ اتنا کافی ہے اب اپوزیشن میں کسی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی۔

    فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا، ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے

  • یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت:روس کے خلاف مغربی اتحاد سرگرم

    یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت:روس کے خلاف مغربی اتحاد سرگرم

    ہیگ:یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت ،اطلاعات کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ سات اور آٹھ مارچ کو یوکرین میں جاری جنگ میں نسل کشی کے معاملے کی سماعت کرے گی۔

    دوسری جانب یوکرین میں جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ ذرائع کےمطابق نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف جو اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت ہے، مقدمے کی کھلی سماعت کرے گی۔

    اس سے پہلے یوکرین نے عدالت کے پاس شکایت جمع کرائی تھی جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی وہ روس کو یوکرین پر حملہ روکنے کا حکم دے۔ عدالت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سماعت عبوری اقدامات کے لیے یوکرین کی جانب سے دی گئی درخواست تک محدود ہو گی۔‘

    ادھر پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ ادارے نے کہا کہ یوکرین سے چھ لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگ پہلے ہی بیرون ملک نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ادارے کے اندازے کے مطابق چار کروڑ 40 لاکھ کی آبادی والی سابق سوویت ریاست یوکرین میں 10 لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

    اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں 40 لاکھ پناہ گزینوں کو مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور مزید ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کو ملک کے اندر امداد کی ضرورت ہو گی۔ عالمی عدالت انصاف کے پاس حملے میں ملوث روسی رہنماؤں پر انفرادی سطح پر مجرمانہ الزامات عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

    تاہم وہ دنیا کی اعلیٰ عدالت ہے جو عالمی قانون کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملے میں ریاستوں کے درمیان شکایات کا ازالہ کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ روس کے حملے کے بعد ’یوکرین کی صورت حال‘ پر تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔

    پیر کو جاری بیان میں خان کے بقول: ’میں مطمئن ہوں کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ 2014 سے یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم دونوں کا ارتکاب کیا گیا۔‘

    یوکرین پر حملے سے روس نے بین الاقوامی پابندیوں، بائیکاٹ اور معاشی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے جارحانہ کارروائی کو آگے بڑھایا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد یوکرین کے روسی بولنے والوں کا دفاع اور قیادت کو اقتدار سے الگ کرنا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو اہم بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کو یقین ہے کہ ’عدالت سنگین حالات اور تیزی سے سامنے آنے والے واقعات کو مدنظر رکھے گی۔‘ محکمہ خارجہ کے ترجمان ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ’واشنگٹن کو امید ہے کہ عدالت سماعت کے دوران ’عبوری اقدامات کے لیے یوکرین کی درخواست پر انتہائی تیزی سے کام کرے گی۔‘

    امریکی ترجمان کے بقول: ’ہر وہ دن جب روس جارحیت میں بے لگام ہے ایسا دن ہے جو یوکرین میں مزید تشدد، مصائب، موت اور تباہی لاتا ہے۔‘