Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    کیف: یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا ،اطلاعات کے مطابق یوکرین جنگ کے پانچویں دن روس کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے ،روس کی جانب سے مورچہ سنبھالنے والے خونخوار کمانڈو دستہ کا یوکرین کے میزائیل حملے میں صفایا ہونے کی خبر ہے۔

     

    یہ کمانڈو چیچنیا کے صدرر قادروف رمضان نے بھیجے تھے جن کا نشانہ یوکرین کے صدر اور ان کا خاندان تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو قتل کرنے کے لیے بھیجے گئے خونخوار چیچن اسپیشل فورسز کے ایک بڑے گروپ کی ہلاکت نے بڑی حد تک روس کے کھیل کو خراب کردیا ہے۔

    اسکواڈرن کو جو اپنے وحشیانہ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے بدنام تھا 56 ٹینکوں کے قافلے کے ساتھ یوکرین کے میزائل نے تباہ کر دیا گیا۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ہلاک ہوئے ہیں – لیکن امکان ہے کہ تعداد سیکڑوں تک پہنچ جائے۔ مٹ جانے والوں میں چیچن جنرل میگومڈ توشیف بھی شامل تھا۔ وہ 141 ویں موٹرائزڈ نیشنل گارڈ بریگیڈ – چیچن ریاست کے سربراہ رمضان قادروف کی ایلیٹ فورس کے کمانڈر تھے۔

    خونخوار دستے کی ہلاکتیں یوکرین کو فتح کرنے کی ولادیمیر پوتن کی رکی ہوئی کوششوں کے لیے ایک نفسیاتی دھچکا ہے۔

    چیچن جنرل میگومڈ توشائیف کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔ وہ 141 ویں موٹرائزڈ نیشنل گارڈ بریگیڈ کا کمانڈر تھا – چیچن ریاست کے سربراہ رمضان قادروف کی ایلیٹ فورس کا اہم کمانڈر بھی تھا۔ یہاں تک کہ خیال کیا جاتا ہے کہ قادروف نے اپنی موت سے پہلے یوکرین کے جنگل میں اپنے تباہ شدہ اسکواڈرن کا دورہ کیا تھا۔ پوتن نے اس گروپ کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو پکڑنے یا قتل کرنے کے لیے روانہ کیا تھا، یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ جنگجوؤں کی سفاکانہ ساکھ محصور یوکرینیوں کے دلوں میں مزید خوف پیدا کرے گی۔

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں۔اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں پوتن کے فوجی ٹرکوں کو 1.41 ملین آبادی والے شہر میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روس کی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین میں ہے۔ فوجیوں کو خارکیف سے پیدل مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، ایک بہت ہی ڈرامائی کلپ کے ساتھ جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسیوں کو ایک سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بندوقیں چلانے اور فائر کرنے سے پہلے یوکرین والوں نے ان پر گولی چلا دی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک اور کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی ایک گاڑی روسیوں کی ہے، اسے یوکرینیوں نے اپنے شہر کا دفاع کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا۔


    لیکن یوکرین کے صدر زیلنسکی اپنی ثابت قدمی اور بہادری کےسبب عالمی ہیرو بن گئے ہیں – جب کہ ان کے متوقع قاتلوں کی مبینہ ہلاکتوں نے چیچنیا کے لیے بڑی رسوائی اور بڑے غم کو جنم دیا ہے۔ پوتن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یوکرین کو فتح کرنے کی اپنی رکی ہوئی کوششوں سے ناراض ہوتے جا رہے ہیں، اور انہوں نے دنوں میں کوئی عوامی خطاب جاری نہیں کیا۔ان کی آگ اور انفرادی قوت یوکرین سے بہت زیادہ ہے اور یہ بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ روس بالآخر اپنے پڑوسی کو فتح کر لے گا۔ لیکن چھوٹی قوم کی طرف سے لگائے جانے والے حیرت انگیز طور پر موثر دفاع نے روسی فوجی وقار کو بری طرح داغدار کر دیا ہے، کریملن ابھی بھی کیف کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے اور اپنی حکومت قائم کرنے کے اپنے مقصد سے دور ہے۔

  • یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    کیف:یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر قبضے کی کشمکش کے دوران جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کیف کے مضافاتی علاقے ترائیشچینا پر روس کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔یوکرائن کے وزیر داخلہ کے مشیر نے ٹیلی گرام ایپ پر ایک پوسٹ میں اسے رہائشی علاقے پر بے مقصد اور بے رحمانہ حملہ قرار دیا ہے۔یوکرائن نے بیلا روس سے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    یوکرائن کے وزیرِ خارجہ اولگ نکولینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے دارالحکومت کیف پر داغا گیا ایک میزائل مار گرایا ہے۔اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میزائل جس جہاز سے داغا گیا اُس نے روس کے اتحادی ملک بیلا روس سے پرواز کی تھی۔اُدھر دارالحکومت کیف کے شمال مغرب میں واقع مضافاتی علاقے بوچا میں متحارب فوجوں کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق ایک روسی بکتر بند گاڑی سے مشین گن سے فائرنگ اور روسی فوجیوں کو بوچا کی گلیوں سے گزرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

    یوکرائن کی فوج نے عام لوگوں کو شہری مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے ان کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس اسلحہ ہے یا گولہ بارود یا پھر کچھ بھی نہیں، آپ دفاع کے تمام ممکنہ طریقے اور ذرائع استعمال کریں۔

    شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر لگے روڈ سائنز ہٹا دیں یا انہیں مٹا دیں، روسی فوجیوں کی نقل و حرکت کو ناممکن بنانے کے لیے درخت گرا دیں، آگ لگانے کے لیے گھریلو ساختہ آلات کا بھرپور استعمال کریں، نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کر دیں اور رات یا شام کے وقت زیادہ کام کریں۔

  • اسلام آباد پہنچ کرحکومت پرحملہ کردیں گے:بلاول بھٹو

    اسلام آباد پہنچ کرحکومت پرحملہ کردیں گے:بلاول بھٹو

    کراچی :چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ نےعوام کے ووٹ اور پیٹ پر ڈاکا مارا، کٹھ پتلی کے گھر جانے کا وقت آ گیا، ہمارا عوامی مارچ حکومت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اطلاعات کے مطابق باغ جناح کراچی میں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے آغاز پر خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا عوامی مارچ حکومت کےخلاف اعلان جنگ ہے، ہمارا یہ سفر قائد اعظم کے شہر کراچی سے شروع ہو رہا ہے، کہا اسلام آباد پہنچ کرحکومت پرحملہ کریں گے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک نالائق نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے حق پر ڈاکا مارا ہے، عمران خان نے معیشت کا بیڑا غرق اور جمہوریت کاجنازہ نکال دیا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عوام کی محنت کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت چلتی ہے لیکن سلیکٹڈ نے عوام کے ووٹ،جیب اور پیٹ پر ڈاکا مارا ، اب وقت آگیا ہے کہ کٹھ پتلی کو جانا ہے، ہم 1973کے آئین کا تحفظ کریں گے، ہم ہر پاکستانی کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔

    پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کی تیاریاں مکمل، جیالے انتہائی پُرجوش نظر آ رہے ہیں، کراچی شہر میں ہر طرف پیپلز پارٹی کے جھنڈے اور قد آور پینا فلیکس آویزاں کئے گئے ہیں۔ مختلف علاقوں سے کارکنان کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ آصفہ بھٹو زرداری نے رہائش گاہ سے روانگی سے قبل بلاول کو امام ضامن باندھا، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ بھی بلاول کے ہمراہ ہیں۔

    پیپلزپارٹی کے لانگ مارچ کا آخری پڑائو راولپنڈی میں ہو گا، تیاریوں کے حوالے سے راولپنڈی میں بھی پیپلزپارٹی آج جلسہ منعقد کرے گی۔

  • سلطانزیا قلندرز:پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا:     پتے لگ جان گے

    سلطانزیا قلندرز:پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا: پتے لگ جان گے

    لاہور: سلطانز یا قلندرز: پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا:پتے لگ جان گے ،اطلاعات کے مطابق پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کا چیمپئن کون ہو گا، فیصلے کا دن آ گیا۔ ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کی ٹیمیں ٹائٹل مقابلے میں آج مدمقابل ہوں گی، کپتان محمد رضوان اور شاہین آفریدی نے جیت پر نظریں جما لیں۔

    زندہ دلان کے شہر میں کرکٹ کی زندہ دلی کا آج فیصلہ کن دن ہے، دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز آمنے سامنے ہو رہے ہیں، ٹائٹل کی جنگ قذافی سٹیڈیم کے تاریخی میدان میں شام ساڑھے سات بجے شروع ہو گی۔ فاتح ٹیم کو 8 کروڑ روپے ملیں گے، رنر اپ کو تین کروڑ بیس لاکھ روپے انعامی رقم دی جائے گی.

    گذشتہ روز آرام کے دن بھی ٹیمیں فُل ایکشن میں رہیں، نیٹ پریکٹس، بیٹنگ، بولنگ کے سیشن کئے گئے۔ چھوٹے فارمیٹ کے بڑے مقابلے میں زورکا جوڑ ہو گا، رش بھی کھڑکی توڑ ہو گا۔

    چھکے چوکے اور وکٹیں دیکھنے کے لیے پرستار، انتظار میں بے قرار ہیں۔ لاہور قلندرز کو میزبان ہونے کا مان ہے تو ملتان سلطانز بھی گذشتہ سال کی چمپئن ہے۔ رواں سیزن میں دونوں ٹیمیں تین بار آمنے سامنے آئیں، لاہور کی ٹیم ایک بار فاتح رہی، آخری پانچ میچز میں سے چار بار ملتان سلطانز ہی جیتے۔ آج فتح پانے کے لیے کپتان رضوان اور شاہین خان پرعزم ہیں تو پرستار بھی پرجوش ہیں ۔

    یاد رہے کہ آج فائنل میں جیتنے والے کو ملنے والے انعام پر بھی بحث چل پڑی ہے اور کہا جارہاہے کہ جو پی ایس ایل کے پچھلے 6 ایڈیشنز تک لیگ میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم کو 5 کروڑ روپے کی انعامی رقم دی جاتی رہی ہے۔

    تاہم اس بار انعامی رقم میں 3 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس بار جیتنے والی ٹیم کو 8 کروڑ روپے ملیں گے جب کہ رنرز اپ ٹیم کو 3کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

  • پاک افواج نے27 فروری کوبھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاک افواج نے27 فروری کوبھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

    لاہور:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو آج تین سال مکمل ہو گئے، 27 فروری کو بھارت کی ناکام جارحیت کا پاکستان کی مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے 27 فروری کو "آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ ” کے دوران بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے۔ پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگایا۔ مادروطن کی حفاظت کے لیے آج کا دن پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے، اسلحہ اور تعداد میں زیادہ ہونا نہیں صرف قومی عزم اور پیشہ وارانہ تیاری سےہی کامیابی ملتی ہے ۔

     

     

    یاد رہے کہ تین سال قبل 27 فروری کو پاکستان کے جری ہوابازوں نے بھارت کے نام نہاد سورماوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا کر تاریخ رقم کی تھی۔ دو بھارتی جنگی جہاز زمین بوس ہوئے جبکہ بھارتی ہوا باز ابھینندن گرفتار کر لیا گیا تھا، اس معرکے سے منسوب پاک فضائیہ کی جنگی گیلری آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں ابھینندن کے زیراستعمال یونیفارم اور جنگی ہوابازی میں استعمال ہونے والا سامان دشمن کی پسپائی کی داستان سنا رہا ہے۔

    گیلری کی ایک دیوار پر ابھینندن کے طیارے کو مارگرانے والے ونگ کمانڈر نعمان علی خان، بھارت کے دوسرے جہاز کو مارگرانے والے سکوارڈن لیڈر حسن صدیقی جبکہ بھارت کے خلاف اہم مشن میں شامل گروپ کیپٹن فہیم خان کی تصاویر آویزاں ہیں۔

    ستائس فروری کو پاک فضائیہ کی جرات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، پاکستان اور بھارت کے مابین جنگوں کے دوران پاکستان ائیرفورس کی جانب سے دشمن ملک کے ہوابازوں کوناکوں چنے چبوانے اورانھیں کاری ضرب لگانے کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔

  • یوکرین پرروسی حملہ:پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے پاکستانی طلبا مدد کیلیئےحکومت پاکستان کوپکارنے لگے

    یوکرین پرروسی حملہ:پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے پاکستانی طلبا مدد کیلیئےحکومت پاکستان کوپکارنے لگے

    پولینڈ: پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے 50 پاکستانی طلبا مدد کیلیئے آوازیں پاکستان تک پہنچ گئی ہیں اور اب تو ان طالبعلموں کی بے بسی کے آنسووں نے ان کے والدین بہن بھائیوں اور دیگرچاہنے والوں کو غمگین کردیا ہے ، اس حوالے سے پولینڈ کے بارڈر سے ایک پیغام بھی پاکستان بھیجا گیا ہے

    اس حوالے سے وائس میسج کے ذریعے ملنے والے پیغام میں ایک طالب علم حکومت پاکستان سے درخواست کررہا ہے کہ ہم 50 کےقریب پاکستانی طالب علم پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو وہاں سے نکالنے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے کوئی مدد نہیں کررہا،طالب علم جلدی میں پریشانی کے عالم میں پیغام دیتےہوئے اپنا نام تو نہ بتا سکا لیکن یہ ضرور بتاگیا کہ اگر کوئی مدد کو نہ پہنچا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں‌

     

    اس طالب علم کا کہنا ہے کہ پولینڈ کے بارڈر پردرجہ حرارت کافی گرچکا ہے اور سخت ترین سردی میں ایک طرف یوکرین پرروسی حملے ہورہےہیں اور دوسری طرف ہمیں وہاں‌سے کسی محفوظ مقام پرجانے نہیں دیا جارہا

    حکومت پاکستان کےنام اپنی دہائی میں طالب کا کہنا ہے کہ ہم بے بس پھر رہےہیں پاکستانی سفارتخانہ کا عملہ ابھی تک ہماری مدد کو نہیں پہنچ سکا ، طالب علم کا یہ بھی کہنا دوطالبعلموں کی حالت بھی خراب ہے اور اگر یہی کیفیت رہی تو اور بھی طالب علم ساتھیوں کی حالت بگڑنے کا اندیشہ ہے ، اس لیے جتنی جلدی ممکن ہوسکے پاکستانی طالب علموں کو وہاں سے محفوظ مقامات پر پہنچانے کے اقدامات کیے جائے تاکہ ان کی زندگیاں بچ سکیں ورنہ جنگ توہمارے قریب سے قریب تر آرہی ہے

  • یوکرین پرحملہ :لتھوانیا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی

    یوکرین پرحملہ :لتھوانیا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی

    کیف :یوکرین پر حملہ :لتھوانیا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی ،اطلاعات کے مطابق لیتھوانیا ہفتے کے روز سے روسی ایئر لائنز پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دے گا، حکومت نے کہا کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد ایک ہی قدم اٹھانے والے دیگر یورپی ممالک میں شامل ہوں گے۔

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لتھوانیا نے یہ فیصلہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد کیا ،امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا ہےکہ صدر بائیڈن نے یوکرین کے لیے اضافی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے جس کے تحت یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی جائےگی۔

    خیال رہےکہ یوکرین کی جانب سے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے روس کے خلاف مزاحمت کے لیے ٹینک شکن میزائل اور طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جائیں۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہےکہ یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں ٹینک شکن سمیت متعدد ایسے ہتھیار ہیں جو فرنٹ لائن پر موجود یوکرینی فوجیوں کے کام آئیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے حالیہ کچھ عرصوں میں یوکرین کو ایک ارب ڈالر سے زائد فوجی امداد فراہم کی گئی ہے۔

    دوسری جانب یورپی ممالک کی جانب سے بھی روسی حملےکے بعد یوکرین کو عسکری امداد کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔نیدرلینڈکی جانب سے 200 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ولندیزی حکومت نے جلد ازجلد میزائل فراہم کرنےکے لیے پارلیمنٹ کو خط لکھا ہے۔

    فرانس نے بھی یوکرین کو دفاعی آلات کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے، فرانسیسی فوج کے ترجمان نےکہا ہےکہ یوکرین کو دفاعی کے علاوہ روس کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے بھی ہتھیار فراہم کیے جارہے ہیں۔

    ادھر نیٹو چیف اسٹولٹن برگ نےکہا ہےکہ یوکرین کےدفاع کےلیے پہلی بار نیٹو ریسپانس فورس فعال کی ہے،جس کے لیے امریکا 6 ارب ڈالر مختص کرےگا،یہ ریسپانس فورس مشرقی یورپ میں تعینات ہوگی۔

    دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی ہے جس کے بعد فوجی کارروائی پوری قوت کے ساتھ دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔

    روسی صدارتی محل (کریملن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین نے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرکے تنازع کو طول دیا ہے جس کے بعد روسی فوج نے اپنی پیش قدمی دوبارہ شروع کردی ہے۔

  • ‏پاکستان کےبھارت کیخلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے3سال مکمل

    ‏پاکستان کےبھارت کیخلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے3سال مکمل

    اسلام آباد :پاک فضائیہ کا 27 فروری 2019 کا ” آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” بھارتی ایئر فورس کے دو طیاروں کو مار گرانے اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کے تین سال گزرنے کے بعد بھی بھارتی ایئر فورس کے لئے مسلسل ہزیمت اور عبرت کا باعث ہے جس نے نہ صرف پاک فضائیہ کی بھارتی ائیر فورس پر فضائی برتری کو ثابت کیا بلکہ اس کارروائی کے دوران ایٹمی اسلحہ سے لیس بھارت کی فوجی کمزوریاں بھی بری طرح بے نقاب ہوئیں۔

    ۔بھارت کی جانب سے 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں ایک جھوٹے فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے اندر حملہ کرنے کی ناکام کوشش نے پاک فضائیہ کی فوجی اور تکنیکی برتری قائم کی اور ہندوستانی فوجی طاقت کے بت کو پاش پاش کر دیا۔14 فروری 2019 کو ایک نوجوان کشمیری لڑکے نے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم سے تنگ آکر بارود سے بھری گاڑی پلوامہ میں بھارتی پیرا ملٹری پولیس کی 78 بسوں کے قافلے پر چڑھا دی جس میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہوگئے۔ حملے کے چند لمحوں بعد ہی بھارتی میڈیا اور حکومت نے کسی بھی قسم کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان پر الزام لگا دیا۔

    وزیر اعظم عمران خان نے دہلی کی جانب سے قابل عمل ثبوت فراہم کرنے کی شرط پر اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر حملہ کیا گیا تو پاکستان جوابی کارروائی کرے گا۔

    اس کے باوجود بھارت نے سرحد پار سے پاکستانی حدود میں ایک خیالی دہشت گردی کے تربیتی کیمپ پر فضائی حملہ کرنے کا انتخاب کیا۔بھارتی فوج کے سرحد پار ہدف پر حملہ کرنے اور خبر لیک ہونے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے بھارتی حکام نے بالاکوٹ پر حملے کو آپریشن بندرکا نام دیا۔

    لفظ “بندر” کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ ہندو مذہب میں بندروں کو ایک مقدس مقام حاصل ہے اور یہ ہندو مذہب کے مذہبی افسانوں میں ایک کہانی کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں ہنومان، ایک دیوتا جو بندر سے مشابہت ظاہر کرتا ہے ۔ خفیہ طور پر لنکا میں داخل ہوا اور اسے زمین پر جلا دیا۔ 26 فروری 2019 کوبھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ کے قریب پاکستان کے اندر حملہ کیا، جس میں ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جسے ہندوستان نے عسکریت پسندوں کے کیمپ کے طور پر پیش کیا اور 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا لیکن دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے ۔

    اس آپریشن کو ایئر بورن ارلی وارننگ سسٹم کی مدد حاصل تھی۔ وہ بموں پر سمیلیٹر اور پری فیڈ کوآرڈینیٹس پر مشق کرنے کے باوجود اپنے پے لوڈ کو ہدف پر پہنچانے میں ناکام رہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق 26 فروری 2019 کو صبح 3.45 بجے اس وقت کے بھارتی ایئر چیف بی ایس دھنوا نے ایک محفوظ فکسڈ لائن نیٹ ورک پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کو ٹیلی فون کیا اور کہا بندر مارا گی۔

    لیکن دن کے اختتام پر، حقیقت نے ثابت کیا کہ اس نے صرف انہیں بندر بنایا ہے۔فضائی حملہ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ بھارت نے بلاجواز جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جس کا پاکستان اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر جواب دے گا، مسلح افواج اور پاکستانی عوام ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہیں۔

    بھارتی فضائیہ نے ایک پہاڑی کے قریب اپنا پے لوڈ پھینکا جس میں ایک کوا ہلاک ہوا اور پائن کے قیمتی درختوں کو نقصان پہنچا جس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے بار ہا کہا کہ انہیں اس سے دکھ پہنچا ہے کیونکہ یہ درخت ان کے دل کے بہت قریب تھے ۔

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کے حملے کی ناکام کوشش کے بعد جلی ہوئی زمین اور درختوں سے متاثر ہونے والی جگہ کا ملٹری اتاشی اور غیر ملکی میڈیا نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مقامی گائوں کے بچوں کے قریبی مدرسے میں بھی گئے جو کہ خوش قسمت تھے کہ بھارتی لاپرواہی سے بچ گئے۔

    بھارت نے دعویٰٰ کیا کہ اس کی فضائیہ 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ پاکستان اور کئی بین الاقوامی مبصرین نے اس دعوے کی نفی کی ہے کیونکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور بم واضح طور پر ہدف سے دور گرے تھے جو درحقیقت دہشت گردوں کا کیمپ نہیں تھا بلکہ گائوں کے بچوں کے لیے ایک عام دینی مدرسہ تھا۔لندن میں مقیم جینز انفارمیشن گروپ کے تجزیہ کار راہول بیدی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ پاکستان کسی عسکریت پسند گروپ کی طرح پراکسی کے ذریعے نہیں بلکہ روایتی طور پر رد عمل ظاہرکرنے کا پابند ہے ۔

    وہ کہاں اور کب رد عمل کا اظہار کرتے ہیں جو صرف پاکستانی جانتے ہیں۔اخبار نے کہا کہ کہ اس موسم بہار میں بھارت میں انتخابات کے دوران اوربھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو دوبارہ انتخابی معرکے کا سامنا ہے، ووٹرز نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کشمیر کے حملے کا جواب طاقت سے دے۔ بیدی نے کہا انہوں نے جو مارا وہ ابھی قیاس آرائیاں ہیں۔

    یہ کسی بھی چیز سے زیادہ سیاسی علامت ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کو انتخابات سے پہلے ہندوستان کی طرف سے کچھ قابلِ عمل اقدام دکھانا تھا۔بیدی نے کہا کہ انہوں نے جو مارا وہ ابھی قیاس آرائیاں ہیں۔

    یہ کسی بھی چیز سے زیادہ سیاسی علامت ہے۔بھارتی وزیراعظم مودی کو انتخابات سے پہلے ہندوستان کی طرف سے کچھ قابلِ عمل اقدام دکھانا تھا۔ پاکستان ایئر فورس نے 27 فروری 2019 کو جوابی حملہ شروع کیا جس کا مقصد بنیادی طور پر پاکستان کے عزم کا مظاہرہ کرنا تھا۔ زمین پر جانی نقصان سے بچنے کے لیے احتیاط سے فضائی حملہ کیا گیا ۔

    مختصر فضائی تصادم کے دوران پاک فضائیہ نے بھارتی ایئرفورس کے دو طیاروں کو مار گرایا اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ایس یو 30کا ملبہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گرا اور اس کا پائلٹ ہلاک ہو گیا، جبکہ میگ21 کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھمان جن کا طیارہ پاکستان کی حدود میں گرا زندہ پکڑ لیا گیا۔

    بڑے دشمن کے خلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں پاک فضائیہ کی کامیابی کو اب ہر سال سرپرائز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔کئی گھنٹوں بعد پریشان بھارتی ایئر فورس نے سپائیڈر ایئر ڈیفنس سسٹم والے اپنے ہی ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جس میں بھارتی ایئرفورس کے چھ اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گیا۔

    ہندوستان نے دعوی کیا کہ اس کے ایک مگ 21 نے پاکستان کے ایف16 طیارے کو مار گرایا تھا جس کی تردید بھی بااثر فارن پالیسی میگزین نے امریکی محکمہ دفاع (ڈی او ڈی )کے عہدیداروں کے انٹرویوز کی بنیاد پر کی تھی جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ کوئی ایف16 لاپتہ نہیں ہوا تھا۔

    میگزین کے مطابق، پاکستان نے اس واقعے کے بعد امریکہ کو اپنے ایف-16 طیاروں کی جسمانی طور پر گنتی کرنے کے لیے مدعو کیا ،جیسا کہ اینڈ یوزر معاہدے کے حصے کے طور پرجب کہ غیر ملکی فوجیوں کی فروخت کے معاہدے کو حتمی شکل دینے پر دستخط کیے گئے۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ تنازعہ کی وجہ سے کچھ طیارے فوری طور پر معائنہ کے لیے دستیاب نہیں تھے، اس لیے امریکی اہلکاروں کو تمام جیٹ طیاروں کا حساب دینے میں چند ہفتے لگے۔

    لیکن اب گنتی مکمل ہو چکی ہے اور تمام طیارے موجود تھے اور ان کا حساب لیا گیا تھا، اہلکار نے کہا۔جہاں ایک طرف بھارت کی جانب سے نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا اور اسے نئی اقدار قرار دیا جا رہا تھا، لیکن دوسری طرف بھارت کی سینئر قیادت نے ناکامی کا ذمہ دار رافیل جیسے طیارے کی عدم دستیابی کو قرار دیا جس کے مطابق ان کے نزدیک بالاکوٹ حملے کا نتیجہ بدل جاتا۔یہاں تک کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ایئر فورس کی ناکامی کا اعتراف کیا اور انڈیا ٹوڈے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پورا ہندوستان کہہ رہا ہے کہ اگر ہمارے پاس رافیل ہوتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔

    پاکستان کے ردعمل کا مقصد جنگ کو روکنا اور نیوکلیئر ڈیٹرنس قائم کرنا تھا، جس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کشیدگی کی شدت کو مزید نہ بڑھا سکا اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس تصادم نے پاک فضائیہ کی بھارتی فضائیہ پر فضائی برتری ثابت کر دی بلکہ دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس طاقتوں کے درمیان روایتی تذویراتی توازن کو بھی بحال کیا۔27 فروری کو پاک فوج کے میڈیا ونگ نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے ایل او سی پر چھ اہداف کو نشانہ بنایا۔

    میجر جنرل عبدالغفور نے اسے کسی فوجی ہدف پر حملہ نہ کرنے اور کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنے کا ایک شعوری فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر منتخب کیے گئے اہداف میں سے ایک ملٹری ایڈمنسٹریٹو کمپلیکس تھا، تاہم پی اے ایف کمانڈ نے اسے نشانہ بنانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ہمارے اہداف میں کامیابی کے نتیجہ میں کوئی انسانی زندگی متاثر نہیں ہوئی۔

    ہم نے اپنی حدود میں رہ کر چھ اہداف کولاک کیا اور ہم نے حملہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ حملوںکا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ہمارے پاس جواب دینے کی صلاحیت اور ارادہ ہے، لیکن ہم نے سوچ سمجھ کرکشیدگی کے راستے سے گریز کیا۔پاکستان جنگ پر زور نہیں دے رہا۔ ہم نے اپنے اہداف کو کھلی فضا میں رکھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم آسانی سے اصل اہداف حاصل کر سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔

    ایک دن بعد وزیراعظم عمران خان نے 28 فروری 2019 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میں کل اعلان کرتا ہوں کہ امن کی ہماری خواہش اور مذاکرات کے لیے پہلے قدم کے طور پر پاکستان ہماری تحویل میں موجود بھارتی فضائیہ کے افسر کو کل رہا کرے گا۔

    ان کے اس فیصلے کو سرکردہ عالمی رہنماں نے امن کی خواہش قرار دیا۔ونگ کمانڈر ابھی نندن کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا جنیوا کنونشن کے مطابق، نیا لباس اورچائے کا مشہور کپ فراہم کیا گیا، جس پر انہوں نے تبصرہ کیا تھا،چائے لاجواب تھی۔ انہیں یکم مارچ 2019 کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔

    دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے معتبر روایتی ردعمل ہیں – جسے ‘Quid Pro۔ Quo Plus’ کی پالیسی کے نام سے جانا جاتا ہے، جس نے نہ صرف پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس کی ساکھ کو تقویت دی ہے بلکہ روایتی ڈیٹرنس پر اعتماد بحال کرنے میں بھی مدد کی ہے۔

    فروری 2019 میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں ذلت کا سامنا کرنے کے بعدبھارت نے یہ سمجھے بغیر کہ یہ دراصل مشین کے پیچھے آدمی ہے اور اس کے مضبوط اعصاب اہم ہیں۔ ایک بار پھرہتھیاروں اور گولہ بارود کی خریداری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بہترین خلاصہ پیش کیا ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں ایک خون آلود ناک دیا اور یہ اب بھی انہیں تکلیف دے رہا ہے۔

  • ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر    کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ماسکو: ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئے تو وہ حشرکروں گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر سوار روس نے اب اپنے دیگر پڑوسی ممالک کو صاف صاف لفظوں میں دھمکی دیدی ہے کہ اگر نیٹو کی جانب رکنیت کے لیے نظر اٹھا کر دیکھا تو سنگین فوجی اور سیاسی نتائج بھگتنے کے لیے تیارت ہوجائیں ۔ابھی یوکرین کی جنگ جاری ہے اور دنیا روس کے سامنے بے بس ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ یوکرین کا ساتھ دینے کے بجائے ملک کی راجدھانی کیف سے انخلا کا مشورہ دے رہا ہے۔ اسی دوران اب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سویڈن اور فن لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ نیٹو میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں ‘فوجی نتائج’ بھگتنا پڑیں گے۔

    یہ اس وقت ہوا جب یوکرین پر روس کا حملہ آج خاص طور پر دارالحکومت کیف میں ایک رات کی لڑائی کے بعد شدت اختیار کر گیا۔پوتن نے یوکرین سے آگے یورپ پر غلبہ حاصل کرنے کے اپنے منصوبہ کو بالکل واضح کردیا ہے۔۔

    سویڈن اور فن لینڈ روس کے دو قریب ترین ممالک ہیں۔خارجہ امور کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا، ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے اور نیٹو میں ان کے الحاق کے نقصان دہ نتائج ہو سکتے ہیں اور انہیں کچھ فوجی اور سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔’

    وزارت خارجہ نے بعد میں ٹویٹر پر اس دھمکی کا اعادہ کیا۔محکمے نے لکھا، ‘ہم شمالی یورپ میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فوجی عدم اتحاد کی پالیسی کے لیے فن لینڈ کی حکومت کے عزم کو ایک اہم عنصر سمجھتے ہیں۔’ ‘فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی اثرات ہوں گے۔’

    ولادیمیر پوتن کے بارے میں بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ یوکرین پر مغربی ممالک کی جانب سے نیٹو میں شامل ہونے کے خیال کے بعد یوکرین پر حملہ کیا گیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ اس کی دہلیز پر امریکی فوج کی موجودگی ختم ہو سکتی ہے۔سویڈن یا فن لینڈ کا ایسا ہی اقدام ممکنہ طور پر اسی طرح کے غصے کو بھڑکا سکتا ہے۔

    پوتن کے خارجہ امور کے ترجمان نے کہاہے کہ ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے۔ یوکرائنی رہنما نیٹو میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن روس اس اقدام کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔نیٹو اور صدر جو بائیڈن دونوں نے کہا تھا کہ اگر کریملن نے حملہ کیا تو امریکہ 30 رکنی اتحاد کا بھرپور دفاع کرے گا۔

    بائیڈن نے جمعے کی صبح نیٹو کے ساتھی ارکان کے ساتھ عملی طور پر ملاقات کی تاکہ مشرقی اتحادیوں کو یقین دلایا جا سکے کہ ان کی حفاظت کی جائے گی کیونکہ روسی فوجی کیف میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ مگر اب روس کی پیشقدمی کیف تک پہنچ چکی ہے اور امریکہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کرسکا ہے۔

    زیلنسکی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر تنقید کی تھی کہ وہ اپنے ملک کو تنہا لڑنے کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔’ہمارے ساتھ لڑنے کو کون تیار ہے؟ میں کسی کو نہیں دیکھ رہا ہوں،‘‘ انہوں نے جمعرات کی رات کہاتھا کہ ‘یوکرین کو نیٹو کی رکنیت کی ضمانت کون دینے کو تیار ہے؟ ہر کوئی خوفزدہ ہے۔

  • یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    کیف:یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے کے عملے کی جنگ اور بمباری کے دوران خدمات نے بہت حوصلہ دیا ہے ، ادھر اس حوالے سے پاکستانی سفارتخانہ یوکرین کی جانب سے جاری خدمات کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کردی گئی ہیں‌

    یوکرین سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سفارتخانے کے عملے کے 21 اہل خانہ سمیت 62 افراد کو پہلے ہی نکال لیا گیا ہے۔59 لوگ (یوکرین-پولینڈ بارڈر)کراسنگ پر ہیں جبکہ 79 لوگ اب سرحدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں یعنی 67 طلباء یوکرین-پولینڈ کی سرحد کی طرف اور سفارت خانے کے عملے کے 12 افراد یوکرین-رومانیہ سرحد کی طرف جارہے ہیں‌

    کھرکیو سے 104 طلباء ٹرین میں دوپہر کو پہنچ رہے ہیں۔20 طلباء کو کیف سے ایمبیسی کی طرف سے ترتیب دی گئی بس سے نکالا جا رہا ہے۔

    ادھر اسی حوالے سے پاکستان میں یوکرین کے سفیر نے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، پاکستانیوں کے انخلا پر تبادلہ خیال کیا ہے

    پاکستان میں یوکرین کے سفیر کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات ہوئی جس میں یوکرین میں موجود پاکستانیوں کے کے تحفظ اور انخلا پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان دفترخارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان میں یوکرین کے سفیر مارکیان چیوجک کی سیکریٹری خارجہ سہیل محمود سے ملاقات ہوئی۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے موجودہ صورتحال میں پاکستان کے مؤقف کا اظہار کیا، تناؤ میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری سے مسئلے کی حل کی اہمیت پر زور دیا۔
    عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران یوکرین میں موجود پاکستانیوں کی سلامتی اور تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ملاقات میں یوکرین میں موجود پاکستانیوں کے تحفظ اور انخلا کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔