Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی  سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    کیف :یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے خود پر حملے کے بعد روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے عالمی ادائیگیوں کے مرکزی نظام سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (SWIFT) نیٹ ورک سے روس کو نکالنے سے روس کی دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کی صلاحیت ختم ہو سکتی ہے اور اس کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔لیکن جمعرات کو، امریکہ اور یورپی یونین نے اس امکان پر نظرثانی کے دروازے کو کھلا چھوڑتے ہوئے روس کو SWIFT سے الگ نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

    SWIFT کیا ہے؟

    SWIFT ایک ایسا نیٹ ورک ہے جسے بینک رقم کی منتقلی اور دیگر لین دین کے حوالے سے محفوظ پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تقریباً 200 ممالک میں 11 ہزار سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT استعمال کرتے ہیں، جو اسے بین الاقوامی مالیاتی منتقلی کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بناتا ہے۔

    SWIFT کام کیسے کرتا ہے؟

    SWIFT کے پاس انٹرنیشنل بینکنگ نمبرز اور بینکوں کے شناختی کوڈز ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے۔یہ دنیا بھر سے 11 ہزار سے زائد مالیاتی اداروں کو آپس میں جوڑتا ہے اور سالانہ 5 بلین سے زاید مالیاتی پیغامات نشر کرتا ہے۔کلائنٹس جب کوئی ٹرانزیکشنز کرتے ہیں تو یہ انہیں بینکوں سے جوڑتا ہے۔اگر دو ادارے آپس میں پارٹنرز نہیں تو سوئفٹ ثالثی ادارہ بن کر ان دونوں کے درمیان رابطہ کراتا ہے۔یہ خود کو ایک قابل اعتماد اور محفوظ سسٹم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جو بینکنگ پارٹنز کے درمیان ٹرانزیکشن کرتا ہے۔

    SWIFT کا مالک کون ہے؟

    SWIFT بیلجیئم قانون کے تحت قائم کی گئی ایک کوآپریٹو کمپنی ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ “یہ اپنے شیئر ہولڈرز (مالی اداروں) کی ملکیت ہے جو اسے کنٹرول کرتے ہیں اور دنیا بھر سے تقریباً 3,500 فرموں کی نمائندگی کرتے ہیں”۔

    SWIFT اور روس کے درمیان کیا تعلق ہے؟

    روسی نیشنل سوئفٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، روس میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ صارفین ہیں، تقریباً 300 روسی مالیاتی ادارے اس نظام سے وابستہ ہیں۔روس کے نصف سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT کے رکن ہیں۔

    ہانگ کانگ میں نیٹیکسس میں ایشیا پیسیفک کی چیف اکانومسٹ، ایلیسیا گارسیا ہیریرو نے کہا کہ روس پر SWIFT کے حوالے سے پابندی لگانا ملک کے لیے ایک سنگین دھچکا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ “یہ ایک بڑی بات ہے کیونکہ اس کے بنا کوئی قرض یا تجارتی مالیاتی ادائیگی نہیں کی جاسکتی۔”گارسیا ہیریرو کا کہنا ہے کہ یہ روس سے یورپی یونین کی گیس کی درآمد کو روکنے سے بڑا ہے۔

    روس کا ردعمل

    فیڈریشن کونسل کے نائب سپیکر نکولے زووراولیو نے جنوری میں تسلیم کیا کہ نیٹ ورک سے ملک کا اخراج ایک امکان ہے۔

    SWIFT ایک سیٹلمنٹ سسٹم ہے، یہ ایک سروس ہے۔ اس لیے اگر روس کا SWIFT سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے، تو ہم غیر ملکی کرنسی حاصل نہیں کریں گے۔ لیکن خریدار، یورپی ممالک، سب سے پہلے ہماری اشیاء تیل، گیس، دھاتیں اور ان کی درآمدات کے دیگر اہم اجزاء حاصل نہیں کر پائیں گے۔

    زوراولیو نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگرچہ SWIFT آسان ہے، لیکن یہ رقم کی منتقلی کا واحد طریقہ نہیں ہے، اور کسی ملک کو معطل کرنے جیسے فیصلے کے لیے اراکین کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔زوراولیو نے مزید کہا کہ SWIFT ایک یورپی کمپنی ہے، ایک ایسوسی ایشن جس میں بہت سے ممالک شامل ہیں۔

    کیا روس کی SWIFT سے معطلی اس کے لیے واقعی خطرہ ہے؟

    برسلز میں قائم Bruegel تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر گنٹرم وولف نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حکمت عملی سے ہونے والے فائدے اور نقصانات قابل بحث ہیں۔عملی طور پر SWIFT سے ہٹائے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ روسی بینک اسے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ساتھ ادائیگی کرنے یا وصول کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

    مغربی ممالک نے 2014 میں کریمیا کے الحاق کے بعد روس کو SWIFT سے خارج کرنے کی دھمکی دی تھی۔لیکن ورس جیسی بڑی معیشت جو تیل اور گیس کا ایک اہم برآمد کنندہ بھی ہے کو چھوڑنے سے دیگر ممالک کو بھی اہم نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    نیدرلینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹے نے جمعرات کو اعتراف کیا کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک کے لیے پابندی “حساس” ہے کیونکہ اس کا “خود پر بہت زیادہ اثر” پڑے گا۔

    وولف نے کہا کہ “عملی طور پر یہ ایک حقیقی سر درد ہو گا۔” اس کا اثر خاص طور پر یورپی ممالک کے لیے بہت اچھا ہوگا جو روس کے ساتھ اہم تجارت کرتے ہیں، جو براعظم کی قدرتی گیس کا 41 فیصد فراہم کرتا ہے۔ہیریرو نے کہا کہ روس کو چھوڑنا “بانڈ ہولڈرز، یورپی یونین کے بینکوں اور توانائی کے درآمد کنندگان کے لیے” مہنگا پڑے گا۔

    اس طرح کی پابندی ماسکو کو چین، یا دیگر ممالک کے ساتھ، مالیاتی نظام پر ممکنہ طور پر امریکی غلبہ کو کم کرنے کے ساتھ، متبادل منتقلی کے نظام کی ترقی کو تیز کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔

  • چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    کیف: چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘ یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں ،اطلاعات کے مطابق چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز’ کو یوکرین میں کیف کے اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے جنہیں ‘تاش کے پتے’ دیے جاتے ہیں جن میں ان کے اہداف کی تصاویر ہوتی ہیں۔

    چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز ‘ کے ایک دستے کو یوکرین کے مخصوص اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بارے میں پہلے ہی یوکرین کے صدر خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ روس انہیں خاندان سمیت ختم کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ یوکرین کی جنگ میں ایک نیا رخ سامنے آگیا ہے۔ روس اور چیچین حکومت میں تال میل ہے۔

     

    خطرناک قاتل دستے کی تصویر یوکرین کے جنگل میں اس وقت دکھائی گئی جب وہ ممکنہ لڑائی سے قبل یہ دستہ با جماعت نماز ادا کررہا تھا۔ یہ قدم چیچین رہنما اور پوتن کے قریبی اتحادی 45 سالہ رمضان قادروف کے یوکرین میں اپنی افواج کا دورہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ۔ 44 سالہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ کیف میں روسی اسپیشل فورسز ان کا مارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے یوکرائنی حکومت کے سینیئر اہلکاروں کے لیے جاری کی گئی ‘کِل لسٹ’ میں ان کا خاندان دوسرا ہدف تھا۔

     

     

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فہرست میں روسی تحقیقاتی کمیٹی کے ‘جرائم’ کے مشتبہ اہلکاروں اور سیکیورٹی افسران کی ہے۔یہ اس وقت سامنے آیا جب یوکرین کے صدر نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے دارالحکومت میں روسی قاتلوں کے لیے ‘ٹارگٹ نمبر ایک’ ہیں، جب کہ ان کا خاندان پوتن کے ہٹ مینوں کے لیے ‘نمبر دو’ ہے۔

    دوسری طرف اسی حوالے سے روس کی نیم خود مختار ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے روس پر یوکرین کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ 12 ہزار چیچن یوکرین کے محاذ پر جاکر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

     

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق چیچنا کے دارالحکومت گروزنی میں 12 ہزار کے قریب چیچن فورسز کے اہلکار اور رضاکار روسی حکومت کے اقدام کی حمایت میں جمع ہوئے اور روسی فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نےکہا کہ 12 ہزار چیچن اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کے آپریشن میں حصہ لینے کو تیار ہیں

    ان کا کہنا تھاکہ میں یوکرینی صدر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ سپریم لیڈر پیوٹن کو فون کرکے معافی مانگیں اور یوکرین کو محفوظ بنائیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ یوکرینی صدر روس کی شرائط تسلیم کرلے، یہ ان کیلئے اچھا اقدام ہوگا۔

  • نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    کیف:نہ مُلک چھوڑوں گا نہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکا فوجیوں کے ساتھ گھومتے ہوئے بیان،ااطلاعات کے مطابق یوکرائن کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر اپنی ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جس میں وہ دارالحکومت کِیف کی سڑک پر گھومتے نظر آ رہے ہیں۔بڑے حوصلے کے ساتھ اپنی قوم اور اپنی فوج کے درمیان پھررہےہیں اور ان کے حوصلے بڑھا رہے ہیں‌

    کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بظاہر یوکرائنی صدر نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے اپنی فوج سے روسی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

    صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کیف کے گوروڈیٹسکی ہاؤس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا اُن کے حوالے سے بہت سی جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ اُنہوں نے اپنی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے اور وہ خود بھی یوکرائن سے فرار ہو رہے ہیں لیکن یہ سب جھوٹ اور فریب ہے۔

     

     

    یوکرائنی صدر زیلنسکی کا اپنے وڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ وہ یہیں دارالحکومت کیف میں ہیں، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی ریاست کا دفاع کریں گے۔اِس سے قبل امریکی میڈیا کے مطابق یوکرائنی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے یوکرائن سے انخلا میں مدد کے لیے امریکی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔

    ایسیوسی ایٹڈ پریس نے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ صدر زیلینسکی نے پیشکش کے جواب میں کہا کہ یہاں لڑائی ہو رہی ہے، مجھے اسلحے کی ضرورت ہے، نکلنے کے لیے فلائٹ کی نہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور یوکرائنی حکام کا بھی حوالہ دیا تھا جن کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت صدر زیلنسکی کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    سوشل میڈیا پر روسی حملے کے جواب میں یوکرائنی صدر زیلینسکی کے ردعمل کی کافی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ صدر زیلینسکی جو ایک سابق کامیڈین اور اداکار ہیں، نے ایک تقریر میں لڑائی جاری رکھنے کے عزم کیا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پر حملے کرتے ہوئے آپ کو ہمارے چہرے نظر آئیں گے، ہماری پیٹھ نہیں۔

     

     

    یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں یوکرائنی اور روسی افواج کے درمیان دو بدو جھڑپ جاری ہے۔ یوکرائنی فوج نے روسی فوج کو بڑے نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔

    یوکرائنی مسلح افواج کے فیس بک پیج پر جاری کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک ساڑھے 3 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک اور 200 کے قریب قیدی بنائے جا چکے ہیں۔

     

    یوکرائنی فوج کے بیان کے مطابق اب تک روس کے 14 لڑاکا طیارے، 8 جنگی ہیلی کاپٹر اور 102 ٹینک بھی تباہ کر دیے گئے ہیں تاہم اِن میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب روس نے بھی ابھی تک کسی جانی نقصان کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

  • دنیا اب ایک طویل عالمی جنگ کے لیے تیارہوجائے: فرانس

    دنیا اب ایک طویل عالمی جنگ کے لیے تیارہوجائے: فرانس

    پیرس :دنیا اب ایک طویل عالمی جنگ کے لیے تیارہوجائے: اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ایک طویل جنگ اب دنیا کی منتظر ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی مطابق صدر میکرون نے پیرس میں زراعت کے سالانہ میلے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا کہ اس صبح اگر میں آپ کو کچھ بتا سکوں تو وہ یہ ہے کہ جنگ جاری رہے گی۔ بحران جاری رہے گا اور اس کے بعد آنے والے بحران بھی طویل مدتی نتائج لائیں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ یورپ میں لوٹ آئی ہے، اس صورت حال کا انتخاب صدر پیوٹن نے یکطرفہ طور پر کیا ہے، یوکرین کے لوگ مزاحمت کر رہے ہیں جبکہ یورپ یوکرین کے لوگوں کی جانب سے مزاحمت کرنے کے لیے موجود ہے۔

    انھوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

    واضح رہے، روس پر لگنے والی پابندیوں سے فرانس کے کچھ شعبوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جن میں سب سے نمایاں شراب کی صعنت ہے۔

    یاد رہے، فرانسیسی قائد ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے تصادم سے بچنے کے لیے بہت کوششیں کیں، کئی بار روسی صدر پیوٹن سے بات چیت کی جبکہ پیوٹن اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان سربراہی ملاقات کے لیے بھی کوششیں کرتے رہے ہیں۔

    دوسری طرف یوکرین پر سوار روس نے اب اپنے دیگر پڑوسی ممالک کو صاف صاف لفظوں میں دھمکی دیدی ہے کہ اگر نیٹو کی جانب رکنیت کے لیے نظر اٹھا کر دیکھا تو سنگین فوجی اور سیاسی نتائج بھگتنے کے لیے تیارت ہوجائیں ۔ابھی یوکرین کی جنگ جاری ہے اور دنیا روس کے سامنے بے بس ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ یوکرین کا ساتھ دینے کے بجائے ملک کی راجدھانی کیف سے انخلا کا مشورہ دے رہا ہے۔ اسی دوران اب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سویڈن اور فن لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ نیٹو میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں ‘فوجی نتائج’ بھگتنا پڑیں گے۔

  • کورونا مزید 14 افراد کی جان لے گیا،1207 نئےمریض کورونا کا شکار

    کورونا مزید 14 افراد کی جان لے گیا،1207 نئےمریض کورونا کا شکار

    اسلام آباد:کورونا مزید 14 افراد کی جان لے گیا،1207 نئےمریض کورونا کا شکار ،اطلاعات کے مطابق ملک میں چوبیس گھنٹے کے دوران مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ دو پانچ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ کورونا وائرس سے 14 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 30 ہزار 153 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 15 لاکھ 7 ہزار 657 ہوگئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 207 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 5 لاکھ 789، سندھ میں 5 لاکھ 67 ہزار ، خیبرپختونخوا میں 2 لاکھ 15 ہزار 936، بلوچستان میں 35 ہزار 322، گلگت بلتستان میں 11 ہزار 461، اسلام آباد میں ایک لاکھ 34 ہزار 240 جبکہ آزاد کشمیر میں 42 ہزار 909 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں اب تک 2 کروڑ 63 لاکھ 53 ہزار 468 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 53 ہزار 625 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 14 لاکھ 40 ہزار 292 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار 117 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 14 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 30 ہزار 153 ہوگئی۔ پنجاب میں 13 ہزار 493، سندھ میں 8 ہزار 62، خیبرپختونخوا میں 6 ہزار 237، اسلام آباد میں ایک ہزار 9، بلوچستان میں 375، گلگت بلتستان میں 190 اور آزاد کشمیر میں 787 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

  • پی ٹی آئی کا "سندھ حقوق مارچ” روانگی کے لئے تیار:عوام استقبال کرنے کے لیے تیار

    پی ٹی آئی کا "سندھ حقوق مارچ” روانگی کے لئے تیار:عوام استقبال کرنے کے لیے تیار

    گھوٹکی: پی ٹی آئی کا "سندھ حقوق مارچ” روانگی کے لئے تیار:،عوام استقبال کرنے کے لیے تیار،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ‘سندھ حقوق مارچ’ کا آغاز آج سے کیا جارہا ہے، مارچ کے لئے کارکنان میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے۔

    پی ٹی ائی سندھ کے ذرائع کے مطابق سندھ حقوق مارچ کا آغاز آج سندھ پنجاب سرحد ‘کموں شہید’ سے ہوگا، مارچ کی قیادت وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی اور علی زیدی کرینگے، گھوٹکی میں ہیلی پیڈ تیار کیا جاچکا ہے۔لوگوں میں بہت زیادہ خوشی پائی جارہی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پی پی کے ستائے لوگ پی ٹی آئی کے اس مارچ سے بڑے خوش دکھائی دیتے ہیں‌

     

    دوسری طرف اسی حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اوباڑو میں پی ٹی آئی رہنما عبدالرحمان چاچڑ کے انتقال پر تعزیت بھی کرینگے۔ادھر ذرائع کے مطابق مارچ کو خوش آمدید کہنے کے لئے شہر بھر میں جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگائے جاچکے ہیں، کارکنان میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے اور کارکنان پارٹی ترانوں پر والہانہ رقص کررہے ہیں۔

    جہاں ایک طرف وائش چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی متحرک ہیں تو دوسری طرف وفاقی وزیر علی زیدی اور سینئر رہنما مبین جتوئی انصاف ہاؤس سکھر سے ریلی میں شریک ہونگے۔

     

     

    مارچ کے شرکا کا پہلا پڑاؤ سکھر’ انصاف ہاؤس’ ہوگا، جہاں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا جائے گا، جلسے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی قیادت خطاب کرے گی، جلسے کی تمام تیاریاں مکمل کرلیں گئیں ہیں۔

    صدر پاکستان تحریک انصاف سندھ علی زیدی نے رات گئے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سندھ کے عوام کے ساتھ رابطے کے لیے اسی کنٹینر پر نکل رہے ہیں جو 126دن کے دھرنے کے لیے استعمال کیا تھا، انشااللہ سندھ کے لوگوں کو زرداری مافیا سے آذاد کرائینگے۔

     

    وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی زيدی نے مارچ کے روٹ کے حوالے سے بتایا کہ سندھ حکومت کے خلاف 27 فروری کو گھوٹکی سے مارچ شروع کیا جائے گا، جو سکھر روانہ ہوگا، 27 فروری کو ہم شکارپور، کشمور اور جیکب آباد پہنچیں گے، 28 فروری کو قمبر شہداد کوٹ اور لاڑکانہ جائیں گے۔

     

    روٹ کے مطابق یکم مارچ کو پی ٹی آئی کا مارچ خیرپور، نوشہروفیروز اور نواب شاہ میں پڑاؤ ڈالے گا، جس کے بعد مارچ کی اگلی منزل 2 مارچ کو سانگھڑ اور میرپورخاص ہوگی۔سندھ حقوق مارچ 3 مارچ کو عمر کوٹ، تھر پارکر اور بدین پہنچے گا اور وہاں رات قیام کے بعد 4 مارچ کو ٹنڈو محمد جام ، ٹنڈو الہٰ یار اور مٹیاری جائے گا۔

    مارچ یہاں سے اپنی اگلی منزل حیدرآباد 5 مارچ کو پہنچے گا، چھ مارچ کو پی ٹی آئی کا مارچ اختتامی مراحلے میں داخل ہوتے ہوئے جامشورو اور وہاں سے واپس کراچی آئے گا۔

  • سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی :دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی :دہشت گرد گرفتار

    سکھر:سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی :دہشت گرد گرفتار ،اطلاعات کے مطابق کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے سکھر میں کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے دہشت گرد کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد کی شناخت سجاد عزیز ملاح کے نام سے ہوئی ہے، دہشت گرد سے بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے۔

    رواں ماہ سی ٹی ڈی نے خانیوال میں کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم داعش کے دو دہشت گرد گرفتار کیے تھے۔ دہشت گردوں کا ہدف اہم تنصیبات اورعبادت گاہیں تھیں۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ گرفتار دہشت گردوں میں عمران حیدر اور ریاض احمد شامل ہیں، ان کے قبضے سے ستی بم، اسلحہ اور ممنوعہ لٹریچر برآمد ہوا ہے ، جس کے مطابق دہشت گردوں کا ہدف اہم تنصیبات اور عبادت گاہیں تھیں۔

    سی ٹی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

    خیال رہے پنجاب کے مختلف اضلاع میں سی ٹی ڈی کی تابڑ توڑ کارروائیاں جاری ہے، اس سے قبل آپریشن کے دوران 9 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

  • پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس       کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    اسلام آباد:پاکستان کی درخواست قبول، پولینڈ نے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنے کا پراپیگنڈہ دم توڑ گیا ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین میں جاری جنگ کے باعث پاکستان کی درخواست پر پولینڈ نے پاکستانیوں کے لیے بارڈر کرانسنگ پوائنٹس کھول دیے۔

    یوکرین میں محصور پاکستانی طلبہ کو نکالنے کی کوششیں تیز ہوگئیں۔ پاکستانی سفارت خانے کی مدد سے 35 طلبہ پولینڈ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ خرکیف میں سفارت خانے میں موجود طلبہ کو ٹرین کے ذریعے پولینڈ بھیجا گیا ہے۔ خرکیف میں موجود مزید 65 پاکستانیوں کو کل پولینڈ بھیجا جائے گا۔

    پولینڈ نے ابتدا میں ایک کراسنگ پوائنٹ سے پیدل داخلے کی اجازت دی تھی تاہم اب پاکستان کی درخواست پر 8 بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے گئے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ملک کا سفارت خانہ 25 فروری 2022 سے ترنوپیل میں مکمل طور پر فعال ہے اور یوکرین میں موجود طلبہ کے انخلا کے لیے فوکل پرسن بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

    ترنوپیل میں فوکل پرسن کی تفصیلات یہ ہیں: ڈاکٹر شہزاد نجم (موبائل فون نمبر+380632288874 +380979335992) ۔دارالحکومت کیف میں بھی سفارت خانے کے فوکل پرسن (موبائل فون نمبر +380681734727) پر پاکستانی طلبا کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرینیں کام کر رہی ہیں اور خارکیو سے لویو/ ترنوپیل تک ٹکٹ دستیاب ہیں۔ جن شہروں میں اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہے وہاں تمام طلبہ کو بتایا گیا ہے کہ سفارت خانے نے متعلقہ اعزازی تعلیمی مشیر کو طلبا کو ترنوپیل لانے کا کام سونپا گیا ہے۔

    دوسری جانب قومی ایئر لائن کے سی ای او ارشد ملک اور یوکرین میں پاکستانی سفیر کے درمیان رابطہ ہوا جس میں یوکرین میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی محفوظ مقام پر منتقلی اور وطن واپسی سے متعلق گفتگو کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق تمام پاکستانی طالب علم یوکرین کے شہر ٹرنوہل میں یکجا ہوں گے، ٹرنوہول میں سفارتخانہ زمینی راستے سے پولینڈ تمام طلبا کو منتقل کرے گا۔اس کے بعد پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ پولینڈ سے طلبہ کو وطن واپس پہنچائے گا۔

    سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کا کہنا ہے کہ طلبہ کے پولینڈ پہنچتے ہی پرواز روانہ کردی جائے گی، ہم وطنوں کو واپس پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔علاوہ ازیں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ پولینڈ نے کورونا پاندیاں معطل کردی ہیں، پاکستانی شہری 15 روز میں پولینڈ میں داخل ہوسکتے ہیں۔

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کو نہ پہنچنے کےحوالے سے بعض ریاست مخالف میڈیا چینلز کی خبریں دم توڑ گئی ہیں ، حکومت پاکستان مسلسل رابطے میں ہے اور تمام پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہیں

  • روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے

    روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی مذمتی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین نے سلامتی کونسل میں یوکرین پر حملے سے متعلق مذمتی قرار داد کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔چین کے علاوہ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں کو بیرکس میں واپس جانے کی ضرورت ہے۔انتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور امن کو ایک اور موقع دینا چاہیے۔ادھر یورپی یونین کے بعد کینیڈا اور برطانیہ نے بھی روس کے صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

    دوسری طرف یوکرین پر روس کی فوجی کارروائیوں کے خلاف 24 فروری کو میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے 54 قصبوں اور شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ اس روز سب سے بڑا مظاہرہ ماسکو کے مرکزی چوک پشکن اسکوائر پر ہوا جس میں کئی ہزار افراد شریک ہوئے۔اس موقع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا۔

    ماسکو سٹی کورٹ نے 25 فروری کو کہا کہ تقریباً 200 مظاہرین پر غیر منظور شدہ عوامی تقریبات میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    آرایف ای آر ایل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی معروف روسی راہنما مارینا لیٹوینووچ پر 25 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف ماسکو میں حکام سے اجازت حاصل کیے بغیر ریلی منظم کرنے کی کوشش پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    لیٹوینووچ کے وکیل فیوڈور سروش نے بتایا کہ ماسکو کی ایک ضلعی عدالت نے ان کی مؤکل پر 30 ہزار روبل یعنی 350 ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

    لیٹوینووچ کو ایک روز قبل اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انہوں نے روسیوں سے یوکرین پر حملے کے خلاف اپنے شہروں اور قصبوں میں مظاہرے کرنے کی اپیل کی تھی ۔

    ایک اور خبر کے مطابق 250 روسی اسکالرز نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں یوکرین میں جنگ روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینکڑوں روسی صحافیوں، گلوکاروں، مصنفین اور دیگر شعبوں کی مشہور شخصیات نے جنگ کی مذمت میں بیانات جاری کیے ہیں۔

    روس سے روسی اور یوکرینی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبار "نووایاگازیٹا” میں 25 فروری کو یہ وضاحت شائع کی گئی ہے کہ "اخبار کا عملہ یوکرینی کو دشمن کی زبان نہیں سمجھتا”۔

    اخبار کے چیف ایڈیٹر، دمتری موراتوف نے، جو نوبیل انعام یافتہ ہیں، اپنے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ "صرف روسی شہریوں کی جنگ مخالف تحریک ہی اس کرہ ارض پر انسانی ہلاکتوں کو بچا سکتی ہے۔”روس کی ایک معروف گلوکارہ ویلری میلادزے نے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ میں جنگ بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ” آج جو کچھ ہوا،وہ کبھی بھی نہیں ہونا چاہیے تھا”۔

    برطانیہ کے اخبار گارڈین نے اپنی 25 فروری کی اشاعت میں روس کے اندر بڑے پیمانے پر مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پولیس نے ملک بھر میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں 1700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔

    اخبار کا کہنا ہےکہ پولیس نے جمعرات کی شام تک روس کے 53 شہروں میں غیرقانونی مظاہروں کو منتشر کرتے ہوئے کم ازکم 1702 گرفتاریاں کیں تھیں۔زیادہ تر گرفتاریاں ماسکو اور روس کے ایک اور بڑے شہر سینٹ پیٹربرگ میں کی گئیں۔جمعرات کو ایک آزاد ادارے لیواڈا سینٹر کے تحت کرائے جانے والے سروے کے مطابق یوکرین پر کریملن کے حملے کو صرف 45 فی صد روسیوں کی حمایت حاصل ہے۔

    ماسکو کے کارنیگی سینٹر کے سیاسی تجزیہ کار الیگزینڈر بونوف کہتے ہیں کہ ” پوٹن سڑکوں پر عوامی منظوری سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسے سیاست دان نہیں جنہیں عوامی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ وہ قومی تاریخ کی کتابوں کی ایک ایسی شخصیت جیسے ہیں جو صرف مستقبل کے مورخین اور قارئین کی منظوری کا خیال کرتے ہیں”

  • یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    پیرس : یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین نے روسی صدراور وزیرخارجہ کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کرلیا

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں میں جنگی طیاروں کے حملے، ٹینکوں کی گولا باری کا سلسلہ جاری ہے۔خبرایجنسی کے مطابق امریکا، برطانیہ اور یورپ نے روس پر مالی پابندیاں عائد کردی ہیں لیکن اب یورپی یونین نے روسی صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق یورپی یونین نے ولادیمیر پیوٹن اور وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں پیوٹن اورلاوروف سے وابستہ اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے لٹویا کے وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ یورپی یونین روس پر پابندیوں کا ایک اور منصوبہ تیار کر رہا ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔

    اب جب روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تو یوکرین کے آس پاس موجود ممالک میں بھی عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی۔ان ہی میں ایک ملک فن لینڈ بھی ہے جو شمالی یورپ کا ملک ہے جو یورپی یونین کا بھی حصہ ہے اور اس کی سرحدیں، روس، ناروے اور سوئیڈن کے ساتھ ملتی ہیں۔

    یوکرین پر حملے کے بعد فن لینڈ کی خاتون وزیراعظم سنا مارین نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے ملک کی سلامتی پر بات آئی تو وہ بھی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شمولیت کیلئے تیار ہیں۔

    پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سنا مارین نے کہا کہ اگر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں فن لینڈ نیٹو کی رکنیت کیلئے درخواست دینے کو تیار ہے۔

    فن لینڈ کی وزیراعظم کے اس بیان پر روس نے سخت ردعمل دیا ہے کیوں کہ اس کی سرحد فن لینڈ کے ساتھ ملتی ہے اور وہ نیٹو کی وسعت کیخلاف ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کیخلاف قرار دیتا ہے۔

    روسی وزارت خارجہ نے فن لینڈ کی وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے تڑی لگائی ہے کہ فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی نتائج ہوں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم فن لینڈ کی حکومت کے عسکری طورپر غیر جانب دار رہنے کی پالیسی کا احترام کرتے ہیں اور اسے شمالی یورپ میں استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں ایک ایک عنصر بھی سمجھتے ہیں البتہ فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی نتائج ہوں گے۔‘