Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • سندھ میں امتیازی بلدیاتی نظام کے خلاف جدوجہد پاکستان بھر کے لیے فائدہ مند ہوگی:مصطفٰی کمال

    سندھ میں امتیازی بلدیاتی نظام کے خلاف جدوجہد پاکستان بھر کے لیے فائدہ مند ہوگی:مصطفٰی کمال

    کراچی :سندھ میں امتیازی بلدیاتی نظام کے خلاف جدوجہد پاکستان بھر کے لیے فائدہ مند ہوگی:اطلاعات کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاک سر زمین پارٹی نے مؤثر بلدیاتی قانون کے لیے اپنے وجود کے پہلے دن سے کوشش کی ہے۔ اس سے نا صرف وفاق کو فائدہ ہوگا، معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے،

    ان کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچر بہتر ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد ملک کے حکمرانوں اور اداروں پر بحال ہوگا۔ ہمارے مطالبات ماننے میں کسی کا نقصان نہیں بلکہ ملک و قوم کا فائدہ ہے۔ کوئی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے بلکہ اپنی نسلوں کی خاطر ان وجوہات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی وجہ سے ملک تیزی سے ترقی نہیں کر سکا۔ ہر سیاسی جماعت جو انتخابی عمل کا حصہ ہے اسے ان جمہوری و آئینی مطالبات کو تسلیم کرنے سے فائدہ ہے، بہتر انداز میں عوام کی خدمت کر پائیں گے۔

    2017 میں پریس کلب پر 18 روز تک دھرنے میں بیٹھے رہے اور 16 نکات پیش کئے تھے، پھر 14 مئی2017 شاہراہِ فیصل پر انہی مطالبات کیلئے سڑکوں پر آئے تو پیپلز پارٹی کے جبر کا شکار بنے، بلدیاتی اختیارات کے لئے ہماری جدوجہد پر مذاق اڑایا گیا۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے فوارہ چوک پر دھرنے کے چوتھے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی سمیت اراکین سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ آج ہمارا مذاق اڑانے والے بلدیاتی قانون کا کریڈٹ لے رہے ہیں، ہم پانچ سال سے سندھ کے عوام کے اختیارات کی بات کر رہے ہیں۔ آج اس شہر کی جو حالت ہے اس میں ایم کیو ایم برابر کی شریک ہے، ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر 2013 میں شب خون مارا تھا۔ اپنی وزارت کیلئے خاموشی سے دستخط کردئیے،

    ان کا کہنا تھا کہ اللہ کا کرم ہوا اس نے چیف جسٹس سے وہ کام کروایا جو پٹیشنر نے نہیں کیا، سپریم کورٹ سے فیصلہ آگیا جس میں من و عن پاک سر زمین پارٹی کے نکات کو لکھا گیا ہے آپ فیصلہ پڑھ لیں درخواست گزار کے تحفظات کا کہیں ذکر نہیں ہاں پی ایف سی ایوارڈ کا تفصیلی ذکر ہے جو ہمارا نعرہ ہے، این ایف سی ایوارڈ کے تحت جو فنڈ صوبے کو ملتے ہیں وہ پی ایف سی ایوارڈ کے تحت شہری ڈسٹرک تک منتقل نہیں ہورہے، اربوں روپے کا سالانہ فنڈ جارہا ہے کوئی صوبائی حکومت سے نہیں پوچھ سکتا عوامی مسائل حل کیوں نہیں ہو رہے، وزیر اعلیٰ 1200 ارب روپے صوبے کے تمام ڈسٹرک کو منتقل کرنے کا فارمولا واضح کریں۔

  • کے۔الیکٹرک کا مچھر کالونی میں ہونے والے واقعہ پر اظہار افسوس

    کے۔الیکٹرک کا مچھر کالونی میں ہونے والے واقعہ پر اظہار افسوس

    کراچی۔: سہراب گوٹھ کے علاقے مچھر کالونی میں 2 فروری کی شام کو پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے متاثرین اور ان کے خاندان سے کے۔الیکٹرک نے دلی افسوس کا اظہار کیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند بچوں نے کھیلنے کے دوران بجلی کے تار کو چھونے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ان کو بجلی کا جھٹکا لگا

    اس واقع کی اطلاع جیسے ہی موصول ہوئی، کے۔الیکٹرک کی مقامی ٹیمز نے جائے وقع پر پہنچ کر علاقے کو محفوظ کر لیا۔ابتدائی تحقیقات کے بعد کسی بھی مقام پر تار نہیں ٹوتے تھے اور کے۔الیکٹرک کا نیٹ ورک مکمل طور پر بحال تھا۔ جائے وقوع پر بجلی کی فراہمی حفاظتی اقدامات کے تحت مختصر عرصے کیلئے بند کی گئی تھی جس کو متعلقہ ٹیم سے کلیئرنس ملنے کے بعد بحال کر دیا گیا۔

    کے۔الیکٹرک کے نمائندے نے وضاحت کی کہ ہائی ٹینشن تاروں کو براہ راست یا کسی بھی آلے سے چھونا نہایت خطر ناک ہے۔
    .
    یوٹلٹی شہریوں کو حفاظتی اقدامات سے آگاہ کرنے کیلئے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مسلسل استعمال کرتی رہتی ہے تاکہ شہری کسی بھی حادثے سے محفوظ رہیں

  • ملکی ترقی کیلئے حکومتی پالیسیوں پر عملدر آمد میں پورا ساتھ دینگے: آرمی چیف

    ملکی ترقی کیلئے حکومتی پالیسیوں پر عملدر آمد میں پورا ساتھ دینگے: آرمی چیف

    اسلام آباد: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کیلئے حکومتی پالیسیوں پر عملدر آمد میں پورا ساتھ دیں گے۔وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملک کے معروف صنعت کاروں اور تاجروں نے ملاقات کی، اس موقع پر وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی بھی موجود تھے۔

    آرمی چیف نے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں، جن کا پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر میں اشتراک سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور ملک کی ترقی کی خاطر حکومتی پالیسیوں کے عمل درآمد میں پورا ساتھ دیں گے۔

    ملاقات میں صنعت کاروں نے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی مکمل تائید کی اور منافع میں اضافہ کے ثمرات کو نچلے طبقے تک منتقل کرنے کی حمایت کی جبکہ برآمدات بڑھانے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے فروغ، ٹیکس نظام میں بہتری اور دورۂ چین کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد سے گفتگو میں کہا کہ عوام پر مہنگائی کے بوجھ کا احساس ہے، عالمی منڈی کے اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات جاری ہیں، صنعتکار اور بزنس مین عام شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کیلئے حکومت کے ساتھ مل کر چلیں۔

    وزیراعظم عمران خان سے معروف صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے۔

  • بلوچستان:نوشکی دھماکوں سے گونج اٹھا:ایف سی کے گیٹ پردھماکہ سیکورٹی اداروں کی جوابی کارروائی جاری

    بلوچستان:نوشکی دھماکوں سے گونج اٹھا:ایف سی کے گیٹ پردھماکہ سیکورٹی اداروں کی جوابی کارروائی جاری

    کوئٹہ:بلوچستان کا شہر نوشکی 2 دھماکوں سے گونج اٹھا:ایف سی کے گیٹ پردھماکہ سیکورٹی اداروں کی جوابی کارروائی جاری ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع نوشکی اور پنجگور میں متعدد دھماکے ہوئے ہیں جس سے مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق صوبہ بلوچستان کے شہرنوشکی کے بازار اور پنجگور گھوڑا چوک میں دھماکے ہوئے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ دھماکوں سے مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکوں کے بعد فائرنگ بھی جاری ہے۔دھماکوں کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    بلوچستان کا شہر نوشکی 2 دھماکوں سے گونج اٹھا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع نوشکی میں 2 دھماکے ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نوشکی مینگل روڈ پر ہوئے دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکوں کے بعد شہر میں شدید فائرنگ کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق سول ہسپتال نوشکی کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ ترجمان بلوچستان حکومت بشریٰ رند کی جانب سے بتایا گیا کہ ایف سی ہیڈ کوارٹر کے گیٹ پر دھماکہ ہوا، دھماکے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، تاحال جانی نقصان سے متعلق کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔

  • شہروں کے لیے مستحکم انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ضروری ہے:چیف ایگزیکٹو آفیسرکے الیکٹرک مونس علوی

    شہروں کے لیے مستحکم انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ضروری ہے:چیف ایگزیکٹو آفیسرکے الیکٹرک مونس علوی

    کراچی : کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی کا کہنا ہے کہ قابل تجدید توانائی کو پاور سیکٹر میں اس طرح شامل کیا جانا چاہیے، جس سے سسٹم کی استعداد میں اضافہ ہو۔ ایک قابل بھروسہ پاور نیٹ ورک ایک مستحکم شہر کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے توانائی کا مستقبل ویبینار میں عالمی ورچوئل سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا عنوان ”ماحولیاتی عمل کو مضبوط بنانے میں پاور سیکٹر کا کردار“ تھا۔

    ویبینار میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم سمیت توانائی کی صنعت سے وابستہ ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ مباحثے میں پاکستان کے بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے کے منصوبوں اور ان میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے سیرحاصل بحث کی گئی۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ممالک کی فہرست میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔ اس حوالے سے ملکی صنعتوں اور پاور سیکٹرکو تبدیلی کے سفر میں ایک اہم کردارادا کرنا ہے۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک امین اسلم نے خطاب میں کہا کہ قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے قابل تجدیداور شفاف توانائی موسمیاتی تبدیلی کا اہم ستون اور گلاسگو معاہدے کا ایک اہم جز ہے۔ پاکستان فضائی آلودگی اور کاربن کا اخراج کرنے والا بڑا ملک نہیں ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے حل کا حصہ بننا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں واضح قومی سوچ موجود ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں محفوظ علاقوں (نیشنل پارک) کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ پاکستان فضائی آلودگی اور کاربن اخراج کے حوالے سے سال 2030 تک کے متعین کردہ اہداف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 10 سالہ منصوبے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دوسرے ممالک کی طرح کاربن کے اخراج کو صفر سطح پر لانے کے مشن پر گامزن ہے۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے ریگولیٹر کے Power with Prosperity وژن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کہ نیپرا کے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی (سی ایس آر) پورٹل پر 300 سے زائد لائسنس یافتگان میں سے 145 نے اپنے آپریشنل علاقوں کی کمیونیٹیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے 4.4 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے تقریباً 18,900 ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی کوششوں اوروژن Indicative Generation Capacity Expansion Plan (IGCEP) کی تعریف کی، جس کی حال ہی میں منظوری دی گئی ہے، اس وژن میں ”پہلی مرتبہ بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے سائنسی طریقہ اپنا گیا ہے۔“جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی ہوگی، اوراس کا فائدہ صارفین کو بجلی کے بل میں کمی کی صورت میں ملے گا۔

    کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے مستحکم قومی ایجنڈے کے حوالے سے پاور سیکٹر کے کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ کے ای نے سال 2030 کے لائحہ عمل میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید ذرائع سے 1100میگا واٹ اضافے کی منصوبہ بندی کی ہے۔انہوں نے ورلڈ بینک اور سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ کے ساتھ شراکت داری کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت کے الیکٹرک ورلڈبینک اور محکمہ توانائی سندھ سے 350 میگاواٹ تک شمسی توانائی خریدے گا۔ مزید برآں کے ای نیٹ میٹرنگ کے ذریعے 40 میگاواٹ اضافہ کرے گا۔ پاور سیکٹر کی ذمہ داری پر تبصرہ کرتے ہوئے مونس علوی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے شہر کراچی کو سخت موسمی حالات سے محفوظ رکھنے میں کے ای خود کو ایک رول ماڈل سمجھتا ہے۔ یہ شہر سخت موسمیاتی حالات کا مقابلہ کرنے کی کافی استعداد رکھتا ہے۔

    چیئرپرسن پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ڈاکٹر شمشاد اختر نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں سستے اورکم اخراج سے بجلی کی پیداوار کا نیا راستہ اختیار کرنے کے بہت سے مواقع ہیں۔ انہوں نے گورننس اسٹرکچر کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں مضبوط شعبہ جاتی پالیسیوں اور قومی Decarbonization حکمت عملی پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا، جو کہ ماحولیاتی استحکام کے لیے لازمی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) بہترین انتخاب ہے۔ توانائی کے متنوع ذرائع اور مقامی طور پر سرمائے کے حصول و طویل مدتی قرض کے لیے صنعت کو اس جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر کی 106 پائیدار اسٹاک ایکس چینجز کی پیروی کرتے ہوئے پی ایس ایکس بھی اس میں شامل ہوسکتا ہے۔ عالمی سطح پر ان ایکس چینجز میں 53,000 سے زائد کمپنیز کا اندراج ہے اور مارکیٹوں کا حجم تقریباً 88 ٹریلین ڈالر ہے۔ پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے لیے قابل عمل فریم ورک کو اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے ریگولیٹرز پر زور دیا کہ وہ معیاری بین الاقوامی طریقوں اور رہنما خطوط کے مطابق مستحکم گرین بانڈز اور ایس ڈی جی بانڈ کے اجرا پر غور کرے اور کاربن کریڈٹ مارکیٹ کا ادارہ جاتی بنائے۔ اس کے علاوہ مرکزی بینک کو ماحولیاتی خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے بینکوں کے اثاثوں اور مالیاتی استحکام کے لیے ایک پروڈنشل فریم ورک بنانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ اپنے Stranded Assets کے لیے مزید فنڈز تلاش کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی نئی سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہیے، جس نے پاکستان کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ کوئلے سے چلنے والے توانائی کے منصوبے خریدے گا اور توانائی کی منتقلی کے طریقہ کار Energy Transition Mechanism (ETM) کے تحت صاف توانائی فراہم کرے گا۔

    ڈائریکٹر گورننس اینڈ پالیسی ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ڈاکٹر عمران ثاقب نے استحکام کے لیے شراکت داری کی اہمیت کے حوالے سے اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”ذہنی ہم آہنگی شراکت داری کی ایک امتیازی خصوصیت ہے۔“ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں گرین انرجی کی جانب منتقل ہوتے ہوئے اُن کمیونیٹیزکو بھی مدنظر رکھنا ہوگا جن کی آمدن کا انحصار روایتی ایندھن پر ہے کہ کہیں وہ پیچھے نہ رہ جائیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان میں جن منصوبوں پر کام کر رہا ہے، ان کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر ثاقب نے واضح کیا کہ فنڈنگ کے درست ذرائع تک رسائی اور منصوبوں کی افادیت کو بڑھانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کا صحیح امتزاج بھی ضروری ہے۔

    ورلڈ بینک کی سینئر پالیسی کنسلٹنٹ ارمینہ ملک نے سندھ اور بلوچستان میں قابل تجدید توانائی کے حوالے سے ورلڈ بینک کی اسٹڈیز کے دلچسپ نتائج سے آگاہ کیا۔ ورلڈ بینک کی تحقیق کے مطابق دونوں صوبوں میں کم از کم دس، دس میگاواٹ کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی صلاحیت ہے، جو کہ بہت امید افزا بات ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان کا ترسیلی نظام ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی 20 گیگا واٹ (جی ڈبلیو) سے زیادہ بجلی کی ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کے ساتھ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) نیٹ ورک میں قابل تجدید توانائی کو شامل کرنے کی اضافی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اگرچہ ان منصوبوں پر کافی لاگت آئے گی، لیکن اس سے طویل مدتی بچت کئی گنا ہو گی۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا گرین انرجی انتہائی طلب کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے؟

    ارمینہ ملک نے کہا کہ ایسا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بیٹری اسٹوریج کو سسٹم میں شامل کیا جائے، لیکن اس کے لیے اُس وقت تک انتظار کرنا پڑے گا، جب تک کہ بیٹریوں کے ذریعے بجلی کی لاگت مسابقتی سطح پر نہ آجائے۔

    دی فیوچر آف انرجی ویبینار گفتگو کا ایک سلسلہ ہے، جس میں عالمی توانائی کے شعبے،خاص طور پر پاکستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے سوچ رکھنے والے رہنماؤں کو اظہار خیال کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

  • پنجاب میں بلدیاتی انتخابات:حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوسکا،معاملہ طول پکڑسکتا ہے

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات:حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوسکا،معاملہ طول پکڑسکتا ہے

    لاہور:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات:حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوسکا،معاملہ طول پکڑسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے نئے بلدیاتی ترمیمی بل پر حکومت اوراپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کی سفارشات کے بغیر عددی طاقت سے بل منظورکروانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میئر اور بلدیاتی نمائندے خود مختاربنانے کی خواہاں ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن یونین کونسل اورمیئرکا انتخاب ایک ہی روز کروانا چاہتی ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ پہلے یونین کونسل پھر میئر کا الیکشن ہوگا۔ن لیگ نے سفارش کی ہے کہ یونین کونسل کے الیکشن کے دن میئر کا انتخاب کیا جائے۔

    ذرائع کے مطابق الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال پربھی حکومت اوراپوزیشن کے درمیان اختلاف ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اتفاق رائے نہ ہونے پرکل بل قائمہ کمیٹی سے منظور کروائے جانے کا امکان ہے جس کے بعد بل پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

    ادھر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مئی میں ہوگا جبکہ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت سے جلد از جلد تمام اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی۔

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب، ممبران و سیکرٹری الیکشن کمیشن نے شرکت کی۔

    چیف سیکرٹری پنجاب مصروفیات ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکے، اجلاس میں بلدیاتی آرڈیننس کو بلدیاتی ایکٹ میں تبدیل کرنے کا معاملہ زیر غور آیا۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے پر بھی مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مئی میں ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے پوچھا کہ پنجاب حکومت بتائے بلدیاتی انتخابات کتنے مرحلوں اور کن اضلاع میں پہلے بلدیاتی انتخابات کروائیں جائینگے، جس پر پنجاب حکومت نے جلد تمام تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔

    الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے جلد از جلد تمام اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی، 22 مارچ کو حلقہ بندیوں کی اشاعت کے فوری بعد شیڈول کا اعلان کردینگے۔

  • بلاول ڈیفیکٹوشرلی:مریم اور کنیزیں 6 ماہ سے نوازشریف کی واپسی کی گردان کررہی تھیں:  فیاض الحسن

    بلاول ڈیفیکٹوشرلی:مریم اور کنیزیں 6 ماہ سے نوازشریف کی واپسی کی گردان کررہی تھیں: فیاض الحسن

    لاہور:پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ مریم نواز اور ان کی کنیزیں چھ ماہ سے نوازشریف کی واپسی کی گردان کررہی تھیں، تاثر دیا جارہا تھا کہ نیلسن منڈیلا آرہا ہے، ہم صرف بڑھکیں نہیں مارتے، ہیلتھ کارڈ کی خدمت مدتوں یاد رکھی جائے گی۔

    وزیر جیل پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ بیٹی اور کنیزوں نے چھ مہینوں سے ماحول بنایا تھا کہ نوازشریف ملک آرہے ہیں، جتنے پھرتی سے نواز شریف جہاز کی سیڑھیوں پر چڑھے اتنی پھرتی سے تو گلہری بھی درخت پر نہیں چڑھتی ، منڈیلا کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ بار کو استعمال کیا گیا ، تمام اخبارات میں شائع ہوا ان کو نئی بیماری ٹاٹا شابو ہوجائے گی ۔

    انہوں نے مزید کہا بلاول کہہ رہے ہیں کہ مارچ توکریں گے لیکن کامیابی کی کوئی گارنٹی نہیں، بلاول کوسمجھ آگئی ہے کہ ان کے تلوں میں تیل نہیں، وفاق میں 15سے 20 ایم این ایز، پنجاب سے 25 ایم پی ایز ہمارے ساتھ چل رہے ہیں، بلاول ڈیفیکٹوشرلی ہیں ، یہ نہیں چلنی۔

    فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے پچھلی دفعہ 2 ارب کی دیہاڑی لگائی تھی، اس بار بھی مریم صفدرسے دیہاڑی لگائیں گے، نوازشریف کی بیماری شائد جنوبی افریقہ کے بندروں کو ہوتی ہے، پتہ نہیں یہ کونسی بیماری ہے جس کے بارے سن کرحیران ہوں۔

  • سفرکرنے سے عاجزنوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے پہنچ گئے

    سفرکرنے سے عاجزنوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے پہنچ گئے

    اسلام آباد:سفرکرنے سے عاجز نوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے جانے لگے ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں علاج کے لئے موجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف ہسپتالوں کے بجائے فیکٹریوں کے دوروں میں مصروف ہیں۔اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے بیٹوں کے ہمراہ مانچسٹر کے قریب نیلسن میں فیکٹری کا دورہ کیا ۔

    نواز شریف نوازشریف کے ہمراہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی فیکٹری کے معائنہ کے لیے لندن سے نیلسن گئے جہاں پر انہیں بریفنگ بھی دی گئی۔واضح رہے کہ جس فیکٹری کا نواز شریف نے دورہ کیا وہ لندن سے 425 کلو میٹر دور نیلسن کے علاقے میں قائم ہے۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ والد کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ 4، 5 ماہ پرانی ہے- نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کے دوران حسین نواز نے کہا کہ نواز شریف کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ 4، 5 ماہ پرانی ہے، حکومت اس سے پہلے یہ ویڈیو سامنے کیوں نہیں لے کر آئی؟ میں نواز شریف کو 2 گھنٹے کے لیے اُن کے جاننے والے شخص کے گھر ماحول کی تبدیلی کے لیے لےکر گیا تھا، وہ شخص انہیں فیکٹری میں لے گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ نواز شریف کا کسی دوسرے کی فیکٹری میں جانا کوئی گناہ ہے؟ اس معاملے کا پاکستان آنے سے کیا تعلق ہے؟ لندن میں کورونا ایس او پیز کی وجہ سے فیکٹریوں میں ملازمین کم ہوتے ہیں، ایسا ہی وہاں بھی تھا جہاں نواز شریف گئے تھے۔

    حسین نواز نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ نواز شریف کی پاکستان میں طبیعت کیوں بگڑی تھی؟ حکومت نے نواز شریف کی طبیعت کا جائزہ لینے کے لیے لندن میں کسی سے رابطہ نہیں کیا، اب رابطہ کرے گی تو میری طرف سے بھاڑ میں جائیں۔حسین نواز نے کہا کہ میرے والد کا علاج معالجہ چل رہا ہے، ابھی بھی برطانیہ میں کورونا بہت زیادہ ہے، ابھی نواز شریف کا علاج ہونا باقی ہے، ابھی ان کا علاج مکمل نہیں ہوا۔نواز شریف کا علاج اس وقت ختم ہوگا جب ڈاکٹرز سمجھیں گے، جس ڈاکٹر نے رائے بھیجی ہے اس کی بہت اچھی ساکھ ہے، ڈاکٹر کی رائے کے بعد رپورٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی تھی۔ جس میں کہا گیا کہ ڈاکٹرز نے نواز شریف کو سفر کرنے سے روک دیا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروائی۔ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ 3 صفحات پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف انجیو گرافی کے بغیر لندن سے نہ جائیں، ذہنی دباؤ میں نواز شریف کی طبیعت مزید بگڑ سکتی ہے، کلثوم نواز کی وفات کے بعد نواز شریف شدید دباؤ میں ہیں۔

    میڈیکل رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف دل کے مریض ہیں، کورونا کے سبب نواز شریف کو سانس کا مسئلہ ہو سکتا ہے، نواز شریف انجیو گرافی تک اپنی ادویات جاری رکھیں، سابق وزیراعظم ذہنی دباؤ کے بغیر سرگرمیاں جاری رکھیں، نواز شریف دل کے مریض ہیں، کورونا کے باعث جان بھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض نے کہا کہ کوئی سوال ہو تو مجھ سے رابطہ کیا جائے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جھوٹی رپورٹ جمع کروانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔ امید کرتا ہوں عدالت ان جعلی رپورٹوں کا سختی سے نوٹس لے گی۔

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے ویر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قائد ن لیگ کے پاس سب سے آسان راستہ قوم کے پیسے واپس کریں اور لندن ہی رہیں، ان کا مسئلہ جھوٹی رپورٹ سے حل نہیں ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ایسی رپورٹ کا مقصد پاکستان کے قانونی نظام کا مذاق اڑانا ہے،

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ یہ رپورٹ نہیں ہے ایک فلمی خط ہے، ایازصادق اپنے دل کوخوش کرنے کے لیے ایسی باتیں کررہے تھے، نوازشریف نے پاکستان نہیں آنا، جھوٹی رپورٹیں دکھا کربھاگے،

    رات کے اندھیرے میں بھاگنے والا دن کے اُجالے میں واپس نہیں آتا، ان کی گزربسرہی جھوٹ بولنے میں ہے، ہم نے تو سابق وزیراعظم سے7ارب کی گارنٹی مانگی تھی، اگران سے7ارب لیے جاتے تو نوازشریف فوری ٹھیک ہو جاتے لندن نہ جاتے۔

    یاد رہے کہ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرفیاض شال نے تیار کی ، ان کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ 2011میں ڈاکٹر فیاض شال پر بھارتی اداکارہ پریانکاچوپڑا نے الزامات لگائے تھے۔

    پریانکاچوپڑا نے ڈاکٹرفیاض شال پر دوران پرواز جہازمیں بدتمیزی کاالزام لگایا تھا جبکہ یہ بھی الزام لگایا تھا ڈاکٹر فیاض شال نشے میں تھے۔

    پریانکا نے ڈاکٹرفیاض شال پر بڑے نام لیکر دھمکیاں دینے کا بھی الزام لگایا تھا جبکہ ڈاکٹر فیاض شال کا کہنا تھا کہ پریانکا کو جہاز میں فون کے استعمال سے روکا تھا۔

    یاد رہے ڈاکٹر فیاض شال کی تیار کردہ نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی، جس میں ڈاکٹر نے نواز شریف کو پاکستان سفر کرنے سے روک دیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کورونا دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے ایسے میں سفر کے لیے ائیر پورٹس اور پبلک مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے جہاں کرونا کے خدشات زیادہ ہیں۔

    رپورٹ کہ نواز شریف شدید ذہنی دباو میں ہیں۔ نواز شریف لندن سے مکمل علاج کے بغیر گئے تو قید تنہائی اور شریک حیات کے دنیا سے جانے کے دباؤ کی وجہ سے انکا یہ عمل دل کے عارضے کو بڑھا بھی سکتا ہے۔

    ڈاکٹر فیاض شال کوں ہیں‌؟
    ڈاکٹر شال اس وقت تکوما پارک، میری لینڈ کے واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ہیں، ساتھ ہی واشنگٹن، ڈی سی، امریکہ میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن میں انٹروینشنل کارڈیو ویسکولر میڈیسن کے پروفیسر اور ڈائریکٹر ہیں۔

    1977 میں، ڈاکٹر شال امریکہ چلے گئے اور والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں کارڈیالوجی فیلوشپ مکمل کی۔بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرمیجر فیاض نے 1980 میں والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں ریاستہائے متحدہ کی ملٹری (آرمی، نیوی، ایئر فورس) میں پہلا پی ٹی سی اے کیا۔

    کہا جاتا ہے کہ نوازشریف کو پاکستان مخالف عالمی قوتوں کی مدد حاصل ہے اورانہیں قوتوں نے یہ میڈیکل رپورٹ تیار کرنے میں بھارتی نژاز امریکی میجر ڈاکٹرفیاض شال کو ذمہ داری سونپی تھی

    حقائق کے مطابق 1979 اور 2003 کے درمیان، ڈاکٹرفیاض شال جارج ٹاؤن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن، جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن اور یونیفارمڈ سروسز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں طبی تقرریوں کو برقرار رکھا، جب کہ واشنگٹن ایڈونٹسٹ اسپتال اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسپتال دونوں میں انٹروینشنل کارڈیالوجی میں کام کررہے ہیں‌

    بھارتی نژاد امریکی فوج کے میجر ڈاکٹرفیاض شال امریکن کالج آف فزیشنز، برطانیہ کے رائل کالج آف فزیشنز، یونائیٹڈ کنگڈم کی جنرل میڈیکل کونسل، امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔ وہ امریکن کالج آف کارڈیالوجی، امریکن کالج آف چیسٹ فزیشنز، امریکن کالج آف فزیشنز، امریکن کالج آف انجیوولوجی اور دی سوسائٹی فار کارڈیک انجیوگرافی اینڈ انٹروینشنز کے فیلو ہیں۔اور امریکی فوج اور خفیہ اداروں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں‌

    ڈاکٹرفیاض شال واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں 1987 سے 1998 اور پوری دنیا میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کی دیگر تکنیکوں (بشمول کورونری، کیروٹڈ اور دیگر پیری فیرل اور نان کارڈیک مداخلت جیسے والوولوپلاسٹی، IHSS کے لیے ابلیٹیو ٹیکنیک وغیرہ) کے لائیو سیشنز کے ذریعے تعلیم دے رہے ہیں۔ . اس قسم کے تدریسی سیمینار سیٹلائٹ کے ذریعے یا CATH لیب سے براہ راست مقامی نشریات کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    ہائی رسک والے مریض کے ساتھ کام کرنے میں ایک انقلاب برپا کرنے والے ڈاکٹر شال پہلے انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ تھے جنہوں نے ایکلیپس ہولمیم لیزر کے ساتھ ساتھ اینجیو ٹریکس میکانیکل ڈیوائس (1999) کو پرکیوٹینیئس ٹرانسلومینل مایوکارڈیل ریواسکولرائزیشن کے لیے استعمال کیا جو آخری مرحلے کے ایتھروسکلروٹک کے تحقیقاتی علاج میں تھا۔

    دل کی بیماری (مریض جن کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے)۔ اس نے دونوں طریقہ کار کو تحقیق کے ایک حصے کے طور پر دنیا میں سب سے پہلے نئی دہلی، ہندوستان میں کیا۔ وہ 1985 میں واشنگٹن ڈی سی میٹروپولیٹن ایریا میں مائٹرل والوولوپلاسٹی کرنے والے پہلے بھی تھے۔

    بھارتی نژاد امریکی میجر ڈاکٹر فیاض شال معروف بین الاقوامی گروئنٹزگ سوسائٹی کے رکن ہیں

  • وزیراعظم عمران خان کا ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کو فون، حوثیوں کے میزائل حملے کی مذمت

    وزیراعظم عمران خان کا ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کو فون، حوثیوں کے میزائل حملے کی مذمت

    اسلام آباد : وزیراعظم پاکستان اور ابوظہبی کے ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، حوثیوں کے میزائل حملے کی مذمت ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف حوثیوں کی جانب سے میزائل حملے کی حالیہ کوشش کی شدید مذمت کی۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم اور ابوظہبی کے ولی عہد کے ٹیلیفونک رابطے میں عمران خان نے متحدہ عرب امارات کے بروقت اور موثر فضائی دفاعی ردعمل کی تعریف کی۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حوثی باغیوں کے میزائل حملوں میں حالیہ اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔

    انہوں نے مذاکرات کے ذریعے علاقائی امن و سلامتی کی کوششوں میں پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    ٹیلیفونک رابطے میں وزیراعظم عمران خان اور ابوظہبی کے ولی عہد نے اعلیٰ سطح پر روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

  • دورہ چین مضبوط تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو گا: وزیراعظم کومزید "پٹّی "پڑھا دی گئی

    دورہ چین مضبوط تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو گا: وزیراعظم کومزید "پٹّی "پڑھا دی گئی

    اسلام آباد:شدت سے دورہ چین کا انتظار ہورہا ہے:دورہ چین مضبوط تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو گا: اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دورہ چین دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

    وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، مشیر قومی سلامتی معید یوسف ، وفاقی وزیر شوکت ترین، فواد چودھری ، اسد عمر، حماد اظہر، عبدالرزاق داؤد اور فرخ حبیب شریک ہوئے۔

    اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو پاکستان اور چین کے مابین سی پیک، سپیشل اکنامک زونز، سرمایہ کاری، تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے جاری ٹھوس منصوبوں پر ہونے والی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    انڈسٹریل زونز پر تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایم تھری اکنامک زون میں صنعتوں کے قیام کیلئے 600 ایکڑ اراضی میسر کردی گئی ہے، بجلی کی فراہمی کے بعد انفراسٹرکچر پر کام تیزی سے جاری ہے، سرمایہ کاری بورڈ کی طرف سے مقامی و بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے حکومت کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا ۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا دورہ چین دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو گا، پاکستان چین کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے تمام اقدامات کی معینہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں اور کہا پاکستان خطے بھر میں صنعتوں میں سرمایہ کاری کیلئے اس وقت موزوں ترین ملک ہے، صنعتوں میں بیرونی سرمایہ کاری سے نہ صرف روزگار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر سپیشل اکنامک زونز کا نظام پلگ اینڈ پلے ماڈل پر یقینی بنا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم تین روزہ دورے پر کل چین روانہ ہوں گے ،چینی صدراور ہم منصب سے ملاقاتیں شیڈول ہیں ، دونوں ملکوں کے درمیان متعدد ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط ہونگے اور عمران خان ونٹر اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔