Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا

  • نوازشریف کےوفادار پیروکار”شیرپُتر”نے پھربڑھک ماردی

    نوازشریف کےوفادار پیروکار”شیرپُتر”نے پھربڑھک ماردی

    لندن:نوازشریف کےوفادار،پیروکار”شیرپُتر”نے پھربڑھک ماردی،اطلاعات کے مطابق لندن میں‌ موجود پاکستانی عدالتوں کو مطلوب سابق وزیراعظم نوازشریف کے سیاسی لخت جگراور تربیت یافتہ بھانجے ، فیصل آباد کے شیر عابد شیر علی نے آج پھر اپنے مخصوص اندازتکلم استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو خاصی چوٹ لگائی ہے

     

     

     

    عابد شیر علی نے چند دن پہلے کے پی کے انتخابات میں پی ٹی آئی کوشکست پرغیرت مند پختونوں کے بارے میں‌ توہین آمیز،انتہائی شرمناک اورلعن طعن پرمشتمل ایسے طعنے دیئے تھے کہ جس کے بعد پختونوں نے سیاست کو پیچھے چھوڑ کرپختونوں کی اجتماعئی عزت ، حمیت اور غیرت کا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا تھا

     

    عابد شیرعلی نے پختونوں کی تذلیل کی انتہا کردی

    https://login.baaghitv.com/abid-sher-ali-puts-an-end-to-humiliation-of-pakhtuns/

     

    اسی عابد شیر علی جو کہ نوازشریف کے تربیت یافتہ بھی ہیں اور ریاست مخالف بیانیے کے ایک روح رواں رہنما بھی ہیں ، آج اپنے تازہ بیان میں‌ کہا ہے کہ تحریک انصاف کے لوگ اپنے علاج کی تیاری کریں، اس میں صحت کارڈ بھی کام نہیں آئے گا۔

    انہوں نے کہا کہ انہیں لاحق بیماری میں سرجری ہوتی ہے اور یہ لوگ جلد ہی آپریشن تھیٹر میں ہوں گے۔

     

     

    عابد شیر علی نے کہا کہ ثاقب نثار اور فائز عیسیٰ دو نمائندہ کردار ہیں۔ پہلا سازش کا، دوسرا آئین کے خلاف جرم کا ارتکاب کرنےسے انکار کا۔ اور اسی پاداش میں اس کی اہلیہ کو ہراساں کرنے جیسے گھٹیا ہتھکنڈے استعمال ہورہے ہیں۔

    نواز لیگ کے رہنما نے کہا کہ حکومت کی ناکامی صرف اتنی سی بات نہیں بلکہ قوم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسے کس بری طرح سے بے وقوف بنایا گیا ہے۔ اس کا ووٹ چرا کر ، مینڈیٹ کو تبدیل کرکے ایک ناجائز حکومت اس پر مسلط کی گئی۔ ووٹ کو عزت دو اسی استحصال کا راستہ روکنے کا لائحہ عمل ہے۔

     

     

    یاد رہے کہ چنددن پہلے

    اطلاعات کے مطابق نوازشریف کے قریبی عزیزاور سابق رکن اسمبلی عابد شیر علی نے کے پی میں بلدیاتی انتخابات پرپی ٹی آئی کوشکست کو پختونوں کی شکست قرار دیتے ہوئے ایسے گھٹیا الفاظ کہے ہیں کہ تین دن گزرنے کے بعد بھی ان الفاظ کی زہرکم ہونے کا نام نہیں لے رہی

    ادھر سوشل میڈیا پر پختون طلبا ، وکلا اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں نوجوانوں نے عابد شیر علی کی طرف سے پختونوں کی تذلیل کوایک طئے شدہ پراکسی کا حصہ قراردیتے ہوئے اسے پختونوں کی غیرت و حمیت پرایک خطرناک حملہ قرار دیا ہے

     

    یاد رہے عابد شیر علی نے کے پی میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کو پختونوں کی شکست قراردیتے ہوئے بہت ہی گھٹیا اورزہریلاطنز کیا تھا اور کہا کہ "لگتا ہے کہ پختون بھائیوں‌ میں سے تبدیلی والا کیڑا نکل گیا ہے،جو آٹھ سال سے ان کو تنگ کررہا تھا ”

    اس بیان کے بعد پختونوں کی طرف سے سخت ردعمل کے تدارک کے لیے نوازشریف،مریم نواز، شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی طرف سے عابد شیر علی کی مذمت میں ایک لفظ تک بھی نہیں بولا گیا اور نہ ہی کسی دوسرے لیگی رہنما نے عابد شیر علی کے ان گھٹیا ، زہریلے اور پختونوں کی توہین آمیز رویے اور ان الفاظ کی اور عابد شیر علی کے اس رویے کی مذمت کی

     

     

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان انتہائی توہین آمیز الفاظ کے سامنے آنے پرپختون بھی پریشان ہیں اور سوشل میڈیا پر یہ باتیں سننے کو عام مل رہی ہیں کہ پختونوں نے آج تک اتنے گھٹیا اور توہین آمیز طنز اور جملے نہیں سنے جو آج پنجاب لاہور کی ایک سیاسی جماعت کے کارندوں کی طرف سے کیے جارہے ہیں ، احسن اقبال نے یہ کہا ہے کہ وہ عابد شیر علی کے موقف کے ساتھ نہیں لیکن انہوں نے عابد شیر علی اور ان کے اس گھٹیا رویے کی مذمت نہیں کی

     

     

    ادھر اطلاعات ہیں کہ پختوںوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر نوازشریف عابد شیر علی کو ان توہین آمیز الفاظ پرپارٹی سے نہیں نکالتے تب تک ان کا یہ احتجاج جاری رہے گا

     

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عابد شیر علی نے پختونوں سے معافی مانگنے سے انکار کردیا ہے اور نوازشریف نے بھی پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے ، اس حوالے سے پختونوں کے غُصے کوٹھنڈا کرنے کے لیے کچھ رسمی الفاظ ادا کیے گئے ہیں اور ساتھ ہی یہ اس جرم کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں‌ اس ٹویٹ کو پختونوں کی تذلیل کے بعد ڈلیٹ کررہا ہوں

    جس میں‌عابد شیر علی لکھتے ہیں‌کہ میں کسی بھائی کی دل آزاری نہیں چاہتا خاص طور پر اپنے پختون بھائیوں کی اسلئے ٹویٹ ڈیلیٹ کررہا ہوں ۔ میرا مطمع نظر عمران خان انتظامیہ پر تنقید ہے کسی بھی طبقے کی دل آزاری نہیں ۔

  • عرب ممالک میں نسوار کے ساتھ فضائی سفر جرم قرار:پٹھان غُصّے میں‌ آگئے

    عرب ممالک میں نسوار کے ساتھ فضائی سفر جرم قرار:پٹھان غُصّے میں‌ آگئے

    لاہور:عرب ممالک میں نسوار کے ساتھ فضائی سفر جرم قرار:پٹھان غُصّے میں‌ آگئے،اطلاعات کے مطابق عرب ممالک نے نسوار کو منشیات کے طور پر فہرست میں شامل کرکے اس کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔

    اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ یہ پابندی مزید سخت ہوسکتی ہے ، ادھر ذرائع کے مطابق مشرق وسطی میں نسوار منشیات کی فہرست میں شامل ہے، نسوار کے ساتھ عرب ممالک کا سفر جرم قرار دے دیاگیا ہے۔

    اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک بھر کے ایئرپورٹس پراس حوالے سے آگاہی کےلئے بینرز بھی آویزاں کر دئیے ہیں۔این ایف نے پاکستانی مسافروں کو عرب ممالک کے سفر کے دوران اپنے ساتھ ’نسوار‘ لے جانے سے منع کر دیا ہے۔

    اے این ایف کی ہدایت کے مطابق عرب ممالک میں نسوارکے ساتھ فضائی سفر کرنا جرم ہے، اگرکسی بھی پاکستانی مسافر سے دوران فضائی سفر نسواربرآمد ہوئی تووہاں کے قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔اس سے قبل سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گٹکا، نسوار اور پان کھانے پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

    خیال رہے کہ بی آرٹی کی لانچنگ کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے بی آر ٹی پر سفر کے دوران نسوار کے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

    انتظامیہ کے اس حکم کے بعد بی آر ٹی پشاور کے سٹیشنوں پر سیکیورٹی کا عملہ تمام مسافروں کی تلاشی لیتا ہے اور اگر کسی سے نسوار، لائٹر، بلیڈ یا چاقو وغیرہ برآمد ہو جائے تو اسے اسی جگہ پر رکھ لیا جاتا ہے اور اس کے بعد مسافر کو سفر کی اجازت دے دی جاتی تھی

    شہریوں کے مطابق یہ عمل اس لحاظ سے بہترین ہے کہ یہ بس میں سفر کرنے والے دیگر مسافروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا بہترین طریقہ ہے اور ویسے بھی کسی کو عوامی مقامات پر ایسی چیزوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

  • اپوزیشن کی خواہش یا  فوج کا دباو:وزیراعظم نے استعفیٰ‌ دے دیا

    اپوزیشن کی خواہش یا فوج کا دباو:وزیراعظم نے استعفیٰ‌ دے دیا

    خرطوم:اپوزیشن کی خواہش یا فوج کا دباو:وزیراعظم نے استعفیٰ‌ دے دیا ،اطلاعات کے مطابق اکتوبر میں فوجی بغاوت کے بعد فوج سے معاہدہ کرکے نومبر میں دوبارہ بحال ہونے والے سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ملک کا مکمل کنٹرول فوج کے پاس چلا گیا ہے۔دراصل2019 میں آمر عمر البشیر کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے سوڈان غیر استحکامی کی صورت حال سے گزر رہا تھا لیکن جب فوجی رہنما جنرل عبدالفتاح البرہان نے 25 اکتوبر کو بغاوت شروع کی اور حمدوک کو حراست میں لیا تو وہاں ہنگامے شروع ہوگئے۔

    عبداللہ حمدوک کو21 نومبر کو اس معاہدے کے تحت بحال کیا گیا تھا جس میں جولائی 2023 میں انتخابات کا وعدہ شامل تھا، لیکن مقامی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ وہ کئی دنوں سے اپنے دفتر سے غیر حاضر تھے اور ان کے ممکنہ استعفے کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔حمدوک نے اتوار کی شام سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’سوڈان ایک خطرناک موڑ سے گزر رہا ہے، جس سے اس کی پوری بقا کو خطرہ ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سویلین اور فوجی فریقین کے درمیان اتفاق رائے کے لیے انہوں نے کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوئے۔نومبر میں حمدوک کی بحالی کے بعد بھی فوجی بغاوت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری رہے ہیں۔ شہریوں کو جنرل برہان کے ملک کو مکمل جمہوریت کی طرف لے جانے کے وعدے پر مکمل اعتماد نہیں۔مظاہرین نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ حمدوک کی بحالی کے معاہدے کا مقصد صرف جرنیلوں کو قانونی حیثیت دینا ہے، جن پر وہ عمر البشیر کی قائم کردہ حکومت کو جاری رکھنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں۔

    اتوار کو ہزاروں مظاہرین نے آنسو گیس، بھاری فوجی تعیناتی اور ٹیلی کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کا مقابلہ کرتے ہوئے سویلین حکومت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دارالحکومت خرطوم میں صدارتی محل کے قریب اور اس کے جڑواں شہر ام درمان میں ہونے والے مظاہروں میں بغاوت کی مذمت کی اور ’عوام کو طاقت‘ کا نعرہ لگایا اور فوج کی بیرکوں میں واپسی کا مطالبہ کیا۔ جمہوریت نواز ڈاکٹرز کمیٹی نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے تین مظاہرین کو ہلاک کیا جن میں سے ایک کے سینے میں گولی لگی۔ جمہوریت کے حامی طبی عملے کے مطابق بغاوت کے بعد اب کم از کم 57 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

    جب سیکورٹی فورسز نے ایمبولینسوں کو زخمیوں تک پہنچنے سے روک دیا تو موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوان کو زخمی مظاہرین کو ہسپتالوں میں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویب مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ سال کے پہلے احتجاج کے موقع پر مظاہروں سے قبل صبح سے موبائل انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا تھا اور شام کو بحال کر دیا گیا تھا۔کارکن مظاہروں کے انعقاد اور ریلیوں کی براہ راست فوٹیج نشر کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔فوج کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے ہونے والے مظاہروں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس اور پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا جاتا رہا ہے۔

  • شہبازشریف نے میری ذمہ داری لگائی ہے کہ 23 مارچ دما دم مست قلندرہوجائے:مولانا فضل الرحمن

    شہبازشریف نے میری ذمہ داری لگائی ہے کہ 23 مارچ دما دم مست قلندرہوجائے:مولانا فضل الرحمن

    پشاور:شہبازشریف نے میری ذمہ داری لگائی ہے کہ 23 مارچ دما دم مست قلندرہوجائے:مولانا فضل الرحمن نے اپنی نیت ظاہر کردی،اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان نوازشریف کا وطن، ن لیگی قائد واپس آئیں، موجودہ حکومت ناجائز اور نااہل ہے ، عوام مسائل کے گرداب میں دھنس گئے ، مہنگائی سے جینا دوبھر ہوگیا ہے اور23مارچ کو شروع ہونے والا مارچ حکمرانوں کی رخصتی کا آغاز ہوگا۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(ف) اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے منی بجٹ پر تنقید کرتےہوئے کہا کہ منی بجٹ پر قومی اسمبلی میں کوئی بحث نہیں ہوئی،ایک نیا بل تیار کیا جارہا ہے جس میں اسٹیٹ بنک آئی ایم ایف کے کنٹرول میں چلا جائے جائے،حکومت اب بھی جو قرضے لے رہی ہے وہ کمرشل بنکوں سے لے رہی ہے ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 23 مارچ کو اسلام اباد کی طرف مارچ کریں گے ، اس حوالے سے پنجاب میں شہباز شریف اور کے پی میری ذمہ داری لگائی گئی، مہنگائی مارچ کی تیاریاں جاری ہیں ، ناجائز اور نااہل حکومت نے ملکی معیشت تباہ کر دی ہے ، اس صورتحال سے ملک کو نکالنا قومی فریضہ ہے ، بلدیاتی الیکشن میں حکمران جماعت کو شکست بھی اپوزیشن کی فتح ہے ، ثابت ہو گیا کہ عوام کو حکومت پر اعتماد نہیں ہے ، اگلا مرحلہ حکمران جماعت کے لیے اس سے بھی برا ہوگا۔

    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پہلے دھرنے اور اب میں فرق ہے ، پی پی پی اور اے این پی کو کبھی بھی اپنا مخالف نہیں سمجھا ، حکمران خوش نا رہیں کہ اپوزیشن آپس میں لڑ رہے ہیں ہم دیگر پارٹیوں کو بھی اپوزیشن کا حصہ سمجھتے ہیں ، ہم ملک میں رہتے ہوئے خود مختار ہیں ، نواز شریف واپس آئیں ان کا وطن ہے ، افغانستان میں امن کی ضرورت ہے اس کے لیے ہمیں بھی کوشش کرنی ہوگی۔

  • پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بچے بیچنے پرمجبورافغان:ہرات کے بدقسمت خاندان کی دردناک کہانی

    پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بچے بیچنے پرمجبورافغان:ہرات کے بدقسمت خاندان کی دردناک کہانی

    ہرات: مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات میں ایک شخص نے اپنے دوسرے بچوں کو زندہ رکھنے اور انھیں کھانا کھلانے کے لیے اپنی ایک 10 سالہ بیٹی کو بیوی کو بتائے بغیر شادی کے لیے فروخت کردیا۔ مایوس باپ نے اس خاندان سے ڈاون پیمنٹ لیا جس نے اسے کھانے کے بدلے خریدا تھا۔

    نابالغ لڑکی کی والدہ عزیز گل نے کہا: ’’میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ کھانا لے آئے کیونکہ میرے پانچ بچوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور وہ باقاعدگی سے کھانا لے کر آنے لگا۔

    جب میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کھانا کہاں سے لاتا ہے، تو اس نے جواب دیا کہ ایک خاندان اسے ہماری 10 سالہ بیٹی کے بدلے روزانہ کی بنیاد پر کھانا دے رہا ہے،”۔ خامہ پریس نیوز ایجنسی نے اس خبرکی رپورٹ کی ہے۔ حال ہی میں، افغانستان میں بہت سے بے سہارا خاندان، جو جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوئے اور غیر ملکی امداد بند ہونے کے بعد بے روزگار ہو گئے، نے اپنے خاندانوں کو کھانا کھلانےکے لیے ایسے مایوس کن فیصلے کیے ہیں۔

    خامہ پریس کے مطابق، 31 دسمبر کو شمالی صوبہ بدخشاں کے رہائشیوں نے ایک اور شخص کو اپنے دو بچوں کو فروخت کرنے سے روکا تاکہ اس کے خاندان کو بھوک سے مرنے سے بچایا جا سکے۔

  • پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کواپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھنے لگی:حلیم عادل شیخ بھی بول اٹھے

    پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کواپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھنے لگی:حلیم عادل شیخ بھی بول اٹھے

    کراچی:پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کواپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھنے لگی:حلیم عادل شیخ بھی بول اٹھے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو دھمکی آمیز ویڈیو موصول ہوئی ہے جس پر انہوں نے ایف آئی اے سائبر کرائم میں درخواست جمع کروادی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے موصول ہونے والی دھمکی پر کہا ہے کہ گزشتہ تین چار روز سے ایک نمبر سے دھمکی آمیز کالز اور اسلحے کی تصاویر موصول ہورہی ہیں جس میں بتایا جارہا ہے کہ مجھ پر حملہ ہوسکتا ہے جس پر میں نے ایف آئی اے کو درخواست بھی جمع کرائی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کل رات سے ایک اور ویڈیو مختلف گروپس میں وائرل ہورہی ہے، ویڈیو میں دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سندھ پولیس مجھ سے ناراض ہوگئی ہے، میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے بے گناہوں کی آواز بنتا ہوں، میری کوئی پولیس سے دشمنی نہیں ہے، اگر کسی پولیس والے کے ساتھ بھی ظلم ہوتا ہے تو میں اس کے ساتھ بھی کھڑا ہوتا ہوں۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے سُکھن تھانے کے پولیس اہلکار نعمان شاہ اور اوباوڑو میں ہیڈ کانسٹیبل سلطان رند کو مارا گیا میں ان کے گھر گیا، شکارپور میں زخمی اور شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے گھر سب سے پہلے میں گیا تھا جب کہ سہراب گوٹھ میں ایس ایچ اور ٹیم نے ڈاکوؤں کو مارا میں نے تھانے جاکر انہیں شاباش اور انعام دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو پولیس کی نہیں اس کے پیچھے سازش ہے، ماحول پیدا کیا جارہا ہے کہ پولیس کی حلیم عادل شیخ سے دشمنی ہے اس کے ڈائریکٹر پروڈیوسر وزیراعلیٰ ہاؤس اور بلاول ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ہیں، مراد علی شاہ اس کے اور اس کو کھوج کر نکالنے کے ذمے دار ہیں،پہلے کلاشنکوف آئی پھر سرکاری جی تھری آئی، میری اگر سیاسی مخالفت ہے تو وہ پی پی سے ہے جسے دشمنی بنادیا گیا ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ اس پوری سازش کے پیچھے آصف زرداری، بلاول زرداری، مراد علی شاہ اور ان کے بہادر بچے ہیں، میں عمران خان کا سپاہی ہوں صرف اللہ کی ذات سے ڈرتا ہوں، ان ظالموں کے خلاف مظلوموں کی جنگ لڑتا رہوں گا۔

  • نوازشریف کوبرطانیہ سے دربدرکروا کرپاکستان لانے کیلئےلاہور ہائیکورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ

    نوازشریف کوبرطانیہ سے دربدرکروا کرپاکستان لانے کیلئےلاہور ہائیکورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ

    کراچی:نوازشریف کوبرطانیہ سے دربدرکروا کرپاکستان لانے کیلئےلاہور ہائیکورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے حکومت شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دے گی۔

    کراچی میں برطانوی خبررساں ادارے سے گفتگو کے دوران وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ شہباز شریف نے بھائی کے واپس آنے سے متعلق ضمانت دی تھی، عدالت عالیہ کو بھی معاملے کا ازخود نوٹس لینا چاہیے۔

    وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ شہباز شریف نے بڑے بھائی کا بیان حلفی جمع کرایا، اگر وہ نوازشرف کو نہیں بلاتے تو جعلی حلف نامہ دینے پر کارروائی ہونی چاہئے۔ نوازشریف کی واپسی کیلئےاٹارنی جنرل کووزیراعظم نے ہدایت دے دی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی منڈی کی وجہ سے اشیا اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔عالمی سطح پر مہنگائی کے اثرات پاکستان پر پڑے ہیں۔ ہم نےانڈسٹری کو بہتر کیا، 32 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کر چکے ہیں، 55 بلین ڈالر واپس کرنےہیں۔ نجی سیکٹر ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کر رہا، نجی کمپنیاں خود منافع کما رہی ہیں مگرملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کرتیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں صحت کارڈ کی سہولت فراہم کر دی، عوام نجی ہسپتالوں سےعلاج کرا سکیں گے۔ سندھ حکومت صوبے میں صحت کارڈ کے منصوبے کا آغاز کرے، احساس راشن پروگرام میں سندھ حکومت حصہ نہیں لے رہی۔

  • عثمان بزدار”زیرو”شہبازشریف”ہیرو”:مگراندھی سیاسی تقلید میں قبول کرنے کے لیے کوئی تیارنہیں‌

    عثمان بزدار”زیرو”شہبازشریف”ہیرو”:مگراندھی سیاسی تقلید میں قبول کرنے کے لیے کوئی تیارنہیں‌

    لاہور:عثمان بزدار”زیرو”شہبازشریف”ہیرو”:مگراندھی سیاسی تقلید میں قبول کرنے کے لیے کوئی تیارنہیں‌ ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کفایت شعاری کی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے کفایت شعاری میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کفایت شعاری مہم میں سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کو پیچھے چھوڑدیا،عثمان بزدار نے شہباز شریف کے دور حکومت کی نسبت پٹرول کی مد میں کم اخراجات کئے۔

    شہبازشریف کےآخری مالی سال اور موجودحکومت کےمالی سال کا موازنہ جاری کردیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کے آخری سال میں قومی وسائل کا بےدریغ استعمال کیاگیا۔

    شہباز شریف کے سال 2017-18 میں اخراجات23 کروڑ 90 لاکھ تھے، عثمان بزدار کے دور میں سال 2020-21 میں اخراجات 14 کروڑ 30 لاکھ رہے، شہبازشریف دور میں مالی سال2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 20 لاکھ خرچ کئے گئے جبکہ عثمان بزدار دور میں مالی سال 2020-21 میں گاڑیوں کی مرمت پر صرف ڈیڑھ کروڑ خرچ ہوئے، یعنی کم وبیش 3 کروڑ روپے بچائے گئے۔

    رپورٹ کے مطابق شہباز شریف دور میں مالی سال 2017-18 میں انٹرٹینمنٹ اور تحائف پر9 کروڑ کا خرچ آیا جبکہ عثمان بزدار دور میں مالی سال 2020-21 میں انٹرٹینمنٹ اور تحائف پر 4 کروڑ 40 لاکھ خرچ کئے گئے۔

    شہبازشریف دور میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کے3 لاکھ 72 ہزار لیٹر ایندھن کا خرچ ہوا جبکہ عثمان بزدار دور میں مالی سال 2020-21 میں گاڑیوں کا2 لاکھ 28 ہزار لیٹر ایندھن خرچ ہوا۔

    اسی طرح شہباز دور میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کے ایندھن کی پر3 کروڑ 50 لاکھ خرچ ہوئے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار دور میں مالی سال 2020-21 میں گاڑیوں کےایندھن پر2 کروڑ 70 لاکھ خرچ کئے گئے۔

    اس موقع پر عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آفس سمیت پنجاب میں شاہ خرچیوں کا کلچرختم کردیا گیا ہے، ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح اڑایا، عوام کے وسائل پر سب سے پہلا حق عوام کاہے نہ کہ اشرافیہ کا، ہم قومی وسائل کی پائی پائی کے امین ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اشرافیہ اور مافیا نے مل کر ملک کے وسائل کو لوٹا ہے، ہم نے مافیا کی لوٹ مار کا خاتمہ کیا ہے۔

  • 10 وزرا اور 20 اراکین اسمبلی کرونا کا شکار:حالات پھرقابو سے باہرہونے لگے

    10 وزرا اور 20 اراکین اسمبلی کرونا کا شکار:حالات پھرقابو سے باہرہونے لگے

    نئی دہلی : 10 وزرا اور 20 اراکین اسمبلی کرونا کا شکار:حالات پھرقابو سے باہرہونے لگے ،اطلاعات کے مطابق کرونا وائرس کی عالمی وبا نے بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے 10 وزرا کو اپنی لپیٹ میں لےلیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس کی مہلک وبا کے نئے نئے ویرینٹ سامنے آرہے ہیں جس کے باعث کم ہوتے کرونا کیسز میں دوبارہ اضافہ شروع ہوجاتا ہے۔

    بھارت وبائی صورتحال کے ابتدائی ایام سے ہی شدید متاثر رہا ہے جہاں یومیہ بنیادوں پر ہزاروں افراد کرونا میں مبتلا ہوکر لقمہ اجل بن رہے تھے۔

    حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ گھنٹوں کے دوران بھارت میں کورونا کے 22775 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 406 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جس کے بعد کرونا متاثرین کی کل تعداد 3 کروڑ 48 لاکھ 61579 افراد جب کہ اموات 4 لاکھ 81486 ہوگئی۔

    میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں کرونا میں مبتلا ہونے والے افراد میں ریاست مہاراشٹرا کے دس وزیر اور بیس اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔

    ادھراطلاعات کے مطابق کورونا کی مزید شکلیں سامنے آرہی ہیں اور جو ماہرین نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ سات سال تک کورونا مختلف انداز میں حملہ آور ہوتا رہے ان دعووں کی تصدیق میں قوت پیدا ہوتی جارہی ہے ، ادھر اسرائیل میں کورونا وائرس نے نئی شکل اختیار کرلی، پہلا کیس رپورٹ

    ابھی دنیا بھر میں کورونا کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کے تابڑ توڑ حملے جاری ہیں کہ اسرائیل میں کورونا نے ایک نئی شکل اختیار کرلی۔اسرائیل میں کورونا وائرس اور فلو انفیکشن کا پہلا مشترکہ کیس سامنے آیا ہے جسے ’’فلورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    سعودی اخبار عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی طبی حکام نے پہلے فلورونا کیس کی تصدیق بھی کی ہے۔مذکورہ فلورونا وائرس ایک خاتون میں پایا گیا ہے جس نے حال ہی میں وسطی اسرائیل کے شہر پیتاہ تکوا کے ایک اسپتال میں بچے کو جنم دیا تھا۔

    نوجوان خاتون کو کورونا ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔ خاتون کی میڈیکل رپورٹس میں فلو اور کورونا وائرس دونوں کے پیتھو جینز کی مشترکہ موجودگی کا پتا چلا ہے۔

    اسرائیل میں سامنے آنے والے کورونا وائرس اور فلو انفیکشن کے امتزاج کو ’’فلورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ ڈیلٹا اور اومیکرون کے امتزاج کو ’’ڈیلمیکرون‘‘ کہا جا رہا ہے۔