Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • چینی قرضے ملک وقوم پر بوجھ بن گئے:سالانہ سود 36.3 ارب تک جاپہنچا

    چینی قرضے ملک وقوم پر بوجھ بن گئے:سالانہ سود 36.3 ارب تک جاپہنچا

    سلام آباد: قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کے لیے چین کی جانب سے 4.5 ارب ڈالر کی کرنسی تبادلہ فیسیلیٹی پر واجب الادا سود کی رقم میں 39 فیصد اضافہ ہوگیاجس کے باعث گزشتہ مالی سال میں پاکستان کو اس مد میں36.3ارب روپے ادا کرنے پڑے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مالی سال 2021-22 کے لیے سالانہ فنانشل اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 4.5 ارب ڈالر مالیت کی چینی ٹریڈ فنانس فیسیلیٹی کے استعمال پر پاکستان کو سالانہ سود کی مد میں 36.3 ارب روپے ادا کرنے پڑے۔

    اس سے پچھلے سال پاکستان نے سود کی مد میں26.1 ارب روپے ادا کیے تھے یعنی اس رقم میں صرف ایک سال میں 39 فیصد اضافہ ہوگیا، جو 10.2ارب روپے بنتا ہے۔
    اسٹیٹ بینک نے چائنا پاکستان کرنسی سواپ ارینجمنٹ کے تحت ٹریڈ فنانس فیسیلیٹی کی پوری مجموعی رقم سے استفادہ کیا، جو 4.5 ارب ڈالر یا 30 ارب یوان بنتی ہے۔

    یاد رہے کہ دوطرفہ تجارت اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ، شارٹ ٹرم لیکوڈیٹی سپورٹ اور فریقین کی باہمی رضامندی سے طے ہونے والے کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پیپلز بینک آف چائنا کے مابین دسمبر 2011ء میں دوطرفہ کرنسی سواپ معاہدہ (سی ایس اے) طے پایا تھا۔

    مالی سال2021ء میں اس معاہدے کی بالائی حد تین سالہ مدت کے لیے 20 ارب یوان سے بڑھا کر 30 ارب یوان یا 4.5 ارب ڈالر کردی گئی تھی۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے رواں ماہ بیجنگ کا دورہ کیا اور چینی وزیراعظم سے ٹریڈ فنانس فیسیلیٹی کی بالائی حد میں مزید 10ارب یوان یا 1.5 ارب ڈالر اضافے کی درخواست کی تھی۔

    اگر یہ درخواست چین کی جانب سے منظور کرلی گئی تو رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو اس کے عوض 50 ارب روپے سود ادا کرنا پڑے گا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • کراچی جم خانہ میں‌ 45 واں گولڈ کپ،زبردست مقابلے

    کراچی جم خانہ میں‌ 45 واں گولڈ کپ،زبردست مقابلے

    کراچی:شہر قائد کے مشہور جم خانہ کلب جسے کراچی جم خانہ کلب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، اس میں خواجہ احتشام الدین میموریل بریج گولڈ کپ ہوا ،جس میں 12 ٹیموں نے حصہ لیا اور زبردست کھیل پیش کیا اور کامیابیاں حاصل کیں

    کراچی جم خانہ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ پہلے اورابتدائی مقابلے میں اس ٹورنا منٹ میں شرکت کرنے والی ٹیم نمبر6 کاشف شاہ – انیس الرحمان – شیخ عبدالمقیت – وجاہت علی سوری کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی اور 71.99 پوائنٹس اسکور کیے

    جبکہ ایڈوانچر مقابلوں میں ٹیم نمبر 8 نے محمد نسیم آرزو – سرفراز احمد – سلیم ذکی – شاہین اقبال 64.90 پوائنٹس لیے ، ایسے ہی ٹیم نمبر3 جس میں‌فاطمہ رضا – انور ممتاز قزلباش – ضیاء ہے – اظہر اقبال شامل تھے نے 64.68 پوائٹس اسکورحاصل کیئے

     

     

    جیزی گروپ میں ٹیم نمبر 4 جس میں مرزا ضیاء اللہ بیگ – سید حسین جعفر – مسعود مظہر – میجر زیدی – راشد الغازی شامل تھے 63.13 کا اسکورحاصل کرکے کامیابی حاصل کی ،جبکہ رئیل اسٹیٹ گروپ میں جس میں محمد مبشر پوری – خالد محی الدین – حامد محی الدین – تحسین گھی والا نے کھیل کا مظآہرہ کیا ، اس ٹیم نے 61.47 کا اسکورحاصل کیا

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”570684″ /]

    مائنڈ اسپورٹس کی ٹیم جس میں اصغر عباس زیدی – طارق رشید خان – کام۔ سمیع‘ افضال احمد شیخ شامل تھے ، اس ٹیم نے 57.68 اسکورحاصل کیے، ایسے ہی کے بی اے کی ٹیم جس کا 10واں نمبرتھا، اور جس میں مشاہد حسن صدیقی – طارق ظفر صدیقی – ایس عابد ممتاز – ظفر ذکی – منہاج قدوائی – فرحت عباس شامل تھے ، اس ٹیم نے 47.45 اسکورحاصل کیا

    KG گروپ میں عثمان خالد ذکی – اطہر سعید – طاہر دادا – عثمان اے انصاری – زینت ازورپر مشتمل ٹیم تھی ، اس نے 44.92 پوائٹ اسکورکیئےایسے ہی چیس وی گروپ میں جس میں فاروق غفار – سلیم چامڈیا – اکبر حیات خان – عابد بھائیلہ – عزیر داؤد نے کھیل پیش کیا ، اس ٹیم نے 43.73 کا اسکورحاصل کیا افق مرحلے میں روبینہ سعید ہے – قدسیہ ڈوسا – محمود ڈوسا – میرانگ بائرمجی نے 39.74 پوائنٹس حاصل کیئے،کے جی جے کی درجہ بندی میں جس میں ندیم کاظمی – جلال خان – شیخ حبیب الرحمان – فضل احمد – فیروز کھنڈ والا – کلیم باکزہ شامل تھے ، اس گروپ نے 23.53 اسکورحاصل کیے،ایسے ہی دی پنک ٹیم نوچھی کریئر جس میں نادرہ شیخ – چینو ایوب – لیلیٰ ہاشوانی – طاہرہ نقوی شامل تھیں نے 16.78 سب سے کم اسکورحاصل کیا

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • عالمی بینک؛ کشن گنگا و ریٹلی ہائیڈرو منصوبوں پر پاکستانی اعتراض سماعت کیلیے منظور

    عالمی بینک؛ کشن گنگا و ریٹلی ہائیڈرو منصوبوں پر پاکستانی اعتراض سماعت کیلیے منظور

    نئی دہلی: بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کو عالمی فورم پر بڑی کامیابی مل گئی، بھارت کے کشن گنگا اور ریٹلی ہائیڈرو منصوبے پر پاکستانی اعتراض کو سماعت کیلئے قبول کر لیا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی بینک دونوں منصوبوں کے ڈیزائن 21 نومبر کو ثالثی عدالت کے حوالے کرے گا۔پاکستان کی جانب سے قانونی اور آبی ماہرین پر مشتمل وفد واشنگٹن روانہ ہوگا، وفد میں سیکرٹری آبی وسائل،انڈس واٹر کمشنر اور ماہرین شامل ہوں گے، ڈیزائن اور اعتراضات کی دستاویزات حوالگی تقریب میں بھارتی وفد بھی شریک ہوگا۔

    واضح رہے کہ بھارت دریائے جہلم پر 330 میگا واٹ کا کشن گنکا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، اس ڈیم میں بھارت 7 لاکھ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرے گا، جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ ڈیم میں ایک لاکھ کیوبک میٹر سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہو۔ پاکستان نے ڈیم کے اسپل ویز کی چوڑائی پر بھی اعتراض کر رکھا ہے۔

    دوسری جانب بھارت دریائے چناب پر بھی 850 میگاواٹ کا ریٹلی ڈیم بھی تعمیر کر رہا ہے، اور اس ڈیم میں ایک کروڑ 40 لاکھ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ یہاں پر پاکستان کا مقف ہے ذخیرہ کی گنجائش 8.8 ملین کیوبک میٹر سے زیادہ نہ ہو۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    لاہور:آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا دن عالمی طور پر منایا جارہا ہے،تفصیلات کے مطابق اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے جس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہے‘

    تفصیلات کے مطابق آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے جاں بحق اور زخمی افراد کی یاد کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس دن کو منانے کے لئےآج لاہور ٹریفک پولیس بھی تقریباًت کا انعقاد کر رہی ہے۔

    اس دن کا مقصد نہ صرف ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرنا ہے بلکہ اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا بھی ہے۔

    حادثات ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔حادثات قسمت میں نہیں بلکہ ہماری غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کیوجہ سے رونماں ہوتے ہیں۔

    دہشت گردی سے زیادہ جانیں ٹریفک حادثات میں ضائع ہورہی ہیں اور70 سے 80 فیصد حادثات ڈرائیور کا ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ پانچ سے دس فیصد حادثات دیگر روڈ یوزرز کی غلطی کی وجہ سے رونماں ہوتے ہیں تاہم گاڑی میں مکینکل خرابی، ٹائروں کا درست حالت میں نہ ہونا بھی حادثات کا سبب بنتا ہے ۔

    صرف یہ ہی نہیں بلکہ نامناسب روڈ انفراسٹرکچر بھی حادثات کا باعث بنتا ہے۔ حادثات میں سب سے زیادہ 21 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد شامل ہے اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہےاور انہیں بتایا جارہا ہے کہ محفوظ سفر کےلئے قوانین کا احترام کتنا ضروری ہے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال :مگرٹرمپ ابھی بھی دور

    ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال :مگرٹرمپ ابھی بھی دور

    واشنگٹن:ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کر دیا لیکن اب سابق امریکی صدر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ پر واپسی سے مبہم انداز میں انکار کردیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر کی حیثیت سے ٹوئٹر پر انتہائی فعال تھے، وہ مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ کو اپنی رائے، اہم حکومتی فیصلوں کے اعلان اور مخالفین پر تنقید کے لئے باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے۔

    6 جنوری 2021 کو ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹوئٹراکاؤنٹ کو اشتعال انگیز ٹوئٹ کی وجہ سے بلاک کیا گیا تھا، اس وقت ان کے فالوورز کی تعداد 8 کروڑ 80 لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

    گزشتہ ماہ ٹوئٹر کو خریدنے والے ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ کی بحالی کے معاملے پر صارفین کی رائے معلوم کرنے کے لیے ایک سروے کرایا تھا۔

    24 گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس سروے میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ صارفین نے اپنی رائے دی۔ 51.8 فیصد صارفین نے اکاؤنٹ کی بحالی جب کہ 48.2 فیصد صارفین نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

    سروے ختم ہونے کے بعد ایلون مسک نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کردیا ہے جس کے تحت ٹرمپ کو بحال کر دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر واپسی کے حوالے سے مبہم جواب دیا ہے، انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ’میں سن رہا ہوں میری ٹوئٹر پر واپسی کے لیے بھی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ہیں لیکن مجھے اس پلیٹ فارم پر جانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر رہ چکے ہیں اور وہ اپنی پارٹی (ری پبلکن پارٹی ) کی جانب سے 2024 کے صدارتی انتخاب میں امیدواروں کی دوڑ میں شامل ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    لاہور:پاکستانی ڈراما نگاری کی کہکشاں سے ایک روشن ستارہ تھیں،حسینہ معین کو سب حسینہ آپا بھی کہتے تھے کیونکہ وہ اس قدر شفقت اور محبت سے لبریز لہجے میں گفتگو کرتی تھیں کہ کوئی وجہ نہ ہوتی کہ ان سے ذاتی تعلق نہ بنا لیا جائے۔ وہ پورے پاکستان کی حسینہ آپا تھیں۔ ان کی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں تصور کیا جائے تو یہ 10، 20 برسوں کی بات نہیں بلکہ نصف صدی پر پھیلا ہوا سلسلہ ہے۔ انہیں دیکھنے کے بعد ہمیں سمجھ آتا ہے کہ کسی فن کے لیے اپنی زندگی کو تج دینا کیا ہوتا ہے اور کسی پیشے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردینے کی قربانی کیا ہوتی ہے۔

    حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں اور 26 مارچ 2021ء کو کراچی میں انتقال کیا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی کے چند برس ہندوستان میں گزارے، پھر اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کرکے راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ چند برسوں کے بعد 1950ء کی دہائی میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی منتقل ہوگئیں۔ 1960ء میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین سے گریجویشن کیا اور جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ کے موضوع پر ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرتے ہی وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں۔ طویل عرصہ خدمات انجام دیں اور پرنسپل کے عہدے تک پہنچیں۔

    ریڈیو پاکستان سے لکھنے کا پیشہ ورانہ آغاز کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مشہور زمانہ پروگرام ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ کے لیے صوتی کھیل لکھے۔ ڈراما نگاری کے حوالے سے ان کی زندگی میں ڈرامائی موڑ تب آیا جب 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے انہیں ایک ڈراما لکھنے کی پیشکش کی گئی۔ معروف شاعر افتخار عارف اسکرپٹنگ کے شعبے کے سربراہ تھے، انہوں نے حسینہ آپا کو راغب کیا کہ وہ ڈراما نگاری کریں۔ انہوں نے اس وقت عید کے لیے ایک خصوصی کھیل ’عید کا جوڑا‘ لکھا جس کے مرکزی کرداروں میں نیلوفر علیم اور طلعت حسین تھے جبکہ معاون کرداروں میں عشرت ہاشمی اور خالد نظامی تھے۔ یہ ڈراما بہت پسند کیا گیا۔

    انہوں نے اسی دور میں کچھ ڈرامے تھیٹر کے لیے بھی لکھے جو اسٹیج بھی ہوئے، مگر بہت جلد ان کی پوری توجہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کی طرف ہوگئی۔ 1970ء کی دہائی سے لے کر اگلے 40 برس تک وہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کرتی رہیں اور بے پناہ شہرت سمیٹی۔ ان کی پہلی ڈراما سیریل ’شہزوری‘ تھی جس کو انہوں نے مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول سے ماخوذ کیا تھا۔ اس ڈراما سیریل نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس کے بعد حسینہ معین پاکستان میں ایک مقبول ڈراما نگار بن چکی تھیں۔

    حسینہ معین کا شمار ایسے قلم کاروں میں ہوتا تھا، جن کی وجہ شہرت کتاب نہیں بلکہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کا میڈیم رہا۔ انہوں نے پاکستان میں ادبی رجحان کی ایک نئی جہت کو متعارف کروایا۔ وہ جہت ٹیلی وژن کے لیے ’اصل اسکرپٹ‘ تخلیق کرنا تھا۔

    ماضی میں ریڈیو پاکستان کی حد تک تو اسکرپٹ کا عمل دخل تھا، مگر پاکستان ٹیلی وژن شروع ہوا تو ابتدائی طور پر جتنے ڈرامے بنائے گئے ان کی بنیاد پاکستانی ناول نگاروں کے لکھے ہوئے ناول ہوتے تھے۔ ان ناولوں سے کہانیاں ماخوذ کرکے انہیں ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ پہلی مرتبہ حسینہ معین نے کسی کہانی کو ماخوذ کیے بنا، ٹی وی کی ضرورت کے مطابق، اسکرین کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اوریجنل اسکرپٹ لکھا اور اس پر کامیاب ڈراما بنا، اس ڈرامے کا نام ’کرن کہانی‘ تھا۔ پاکستانی ٹیلی وژن کے لیے یہ ان کا دوسرا ڈراما تھا۔

    اس کے بعد سے حسینہ معین نے بے شمار کہانیاں تخلیق کیں، اور وہ سب اسکرپٹس کی شکل میں تخلیق ہوئیں۔ کبھی ان اسکرپٹ کردہ کہانیوں کے ذریعے اسٹیج پر کھیل پیش کیے گئے، تو کبھی ان کو ریڈیو اور کبھی فلم کے پردے پر نشر کیا گیا۔ انہوں نے تھیٹر، ریڈیو اور پھر ٹیلی وژن کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے، صرف یہی نہیں بلکہ ٹیلی وژن کے لیے ٹیلی فلمیں بھی لکھیں۔ مختلف مواقع پر خصوصی طور پر لکھے گئے ڈراموں کی روداد الگ ہے۔ 40، 50 سال پر محیط ان کی پیشہ ورانہ زندگی، ان کے لکھے گئے ڈراموں، طویل دورانیے کے کھیلوں، ٹیلی فلموں اور فیچر فلموں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

    ڈراما سیریل کی فہرست
    حسینہ معین کے لکھے گئے ڈراموں میں ’شہزوری’، ’کرن کہانی’، ’انکل عرفی’، ’زیر زبر پیش’، ’پرچھائیاں’، ’ان کہی’، ’تنہائیاں’، ’دھوپ کنارے’، ’رومی’، ’بندش’، ’دُھند’، ’بالائے جان’، ’آہٹ’، ’پڑوسی’، ’کسک’، ’تان سین’، ’قہار’، ’جانے انجانے’، ’پل دو پل’، ’دیس پردیس’، ’آنسو’، ’دی کیسل’، ’ایک امید’، ’شاید کہ بہار آئے’، ’تیرے آجانے سے’، ’میرے درد کو جو زباں ملی’، ’تم سے مل کر’، ’اک نئے موڑ پر’، ’کیسا یہ جنون، آئینہ’، ’چھوٹی سی کہانی’، ’کشمکش’، ’تنہا’، ’سارے موسم اپنے ہیں’، ’تنہائیاں نئے سلسلے’، ’میری بہن مایا’، ’انجانے نگر’ اور ’محبت ہوگئی تم سے’ شامل ہیں۔

    حسینہ معین 26 مارچ 2021ء کو 79 سال کی عمر میں کراچی میں حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئیں۔ حسینہ معین کو ان کی وفات سے پہلے، 22 مارچ 2021ء کو کورونا وائرس ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تھی۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • کراچی:شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا

    کراچی:شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا

    کراچی: قصبہ موڑ اسلامیہ کالونی میں شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا اور فرار ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق پیرآباد کے علاقے قصبہ موڑ اسلامیہ کالونی پراچہ اسپتال کے قریب گھر میں جھگڑے کے دوران تیز دھار آلے کے وار سے ایک خاتون زخمی ہوگئی،

    اس حوالے سےپولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی خاتون کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں خاتون دوران علاج خون زیادہ بہہ جانے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔

    جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 50 سالہ یاسمین زوجہ صابری کے نام سے کی گئی۔ ورثا نے پولیس کارروائی کروانے سے انکار کر دیا اور لاش گھر لے گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کو اس کے شوہر نے گھریلو جھگڑے کے دوران چھری کے وار سے کر کے قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگیا، مقتولہ کی لاش کے ہمراہ آنے والے درجنوں افراد شدید مشتعل تھے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے لانڈھی مسلم آباد میں 8 سالہ بچی کے اغواء اور قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں تفیشی ٹیم نے 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا

    کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کا ڈی این اے کرایا جائے گا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے ایک پھر جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے

    ایس ایس پی ملیر نے بچی کے والد کو ابتدائی تفیش سے آگاہ کیا ،اس کے ساتھ ساتھ فرانزک کرائم ٹیم نے شواہد جمع کرکے لیبارٹری روانہ کردئیے ،مقدمہ کے انداج اور غفلت برتنے پر ایس ایچ او سمیت 3 افسران کو معطل کردیا گیا،

    ایس ایس پی ملیرعرفان بہادرکا کہنا تھا کہ لواحقین کی ہر ممکن مدد کرنے اور تفتیش میں کسی بھی صورت لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی،

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • بلوچستان، تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سے ٹرین سروس بحال

    بلوچستان، تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سے ٹرین سروس بحال

    لاہور:بلوچستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث تین ماہ سے تعطل کا شکار ٹرین سروس آج سے بحال کر دی جائے گی۔ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان سے تین ماہ بعد آج پہلی ترین پشاور کیلئے روانہ ہوگی جوکہ جعفر ایکسپریس مچھ اسٹیشن سے پشاور تک جائے گی۔

    ریلوے حکام نے بتایا کہ مسافروں کو کوئٹہ اسٹیشن سے مچھ اسٹیشن ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچایا جارہا ہے، 10 بوگیوں پر مشتمل ٹرین آج 11 بجے مچھ سے روانہ ہوگی، کوئٹہ تا مچھ ریلوے کا رابطہ منقطع ہے۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ بولان کے علاقے میں سیلاب کے باعث ریلوے ٹریک پل سیلاب میں بہہ گیا تھا، پل کی تعمیر کا کام جنوری میں مکمل ہوگا۔

    خیال رہے کہ بارشوں کے باعث بولان ریلوے ٹریک پل بہہ جانے کی وجہ سے ریل سروس 3 ماہ سے معطل تھی۔ترجمان ریلوے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عوام ایکسپریس آج بحال نہیں ہو رہی، آج 20 نومبر کو اب صرف ایک ٹرین جعفر ایکسپریس بحال کی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پشاور سے مچھ کے درمیان چلے گی، مچھ سے کوئٹہ کے درمیان مسافروں کو بسوں کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ریلوے نے پہلے بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کو 20 نومبر کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا، اب بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کے بجائے جعفرایکسپریس کو بحال کیا جائے گا۔

    چند روز قبل چیف ایگزیکٹو ریلوے اور فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے کی مختلف سیکشنز کی سالانہ انسپکشن کا نیا شیڈول جاری کر دیا تھا۔

    چیف ایگزیکٹو ریلوے سلمان صادق شیخ اور ایف جی آئی آر راولپنڈی، کراچی اور سکھر ڈویزن کی انسپکشن کریں گے، جس کا عمل تین مرحلوں میں 21 نومبر سے 21 دسمبر تک جاری رہے گا جبکہ پاکستان ریلوے انتظامیہ نے اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 21 نومبر کو لالہ موسیٰ سے راولپنڈی 157 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی جبکہ 22 نومبر کو کندیاں، خوشاب، سرگودھا 130 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ دوسرے مرحلے میں 5 دسمبر کو کھوکھرا پار سے میر پور خاص تک 126 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی جبکہ 6 دسمبر کو کراچی اور 7 دسمبر کو کراچی کینٹ سے حیدر آباد 173 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن ہو گی۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ تیسرے مرحلے میں 20 دسمبر کو خانپور سے روہڑی تک 212 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق 21 دسمبر کو سکھر سے جیکب آباد تک 80 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن ہوگی جبکہ معائنے کے دوران ٹریک، ریلوے اسٹیشنوں کی عمارات، پل سمیت دیگر تنصیبات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ انسپکشن کے دوران مختلف ریلوے اسٹیشنوں کی آمدن اور وہاں مسافروں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ ریلوے افسروں اور ملازمین کی ڈیوٹیوں اور ان کے کام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • بھارت کے پہلےٹاک شو’ پھول کھلے ہیں گلشن گلشن ‘کی میزبان تبسم انتقال کرگئیں

    بھارت کے پہلےٹاک شو’ پھول کھلے ہیں گلشن گلشن ‘کی میزبان تبسم انتقال کرگئیں

    نئی دہلی:1947 میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے کیرئیر کا آغاز کرنے والی بھارتی اداکارہ اور بھارتی ٹیلی ویژن کے پہلے ٹاک شو ’پھول کھلے ہیں گلشن گلشن ‘کی میزبان تبسم انتقال کرگئیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ تبسم کے بیٹے ہوشانگ نے میڈیا کو بتایا کہ والدہ کو چند روز قبل اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، انھیں معدے کے مسائل تھے اور ہم ان کے روٹین چیک اپ کے لیے اسپتال گئے تھے تاہم انھیں جمعے کے روز دو مرتبہ دل کا دورہ پڑا جس کے نتیجے میں وہ انتقال کرگئیں۔

    اداکارہ کے بیٹے کا مزید کہنا تھا کہ والدہ بالکل صحت مند تھیں، ہم نے 10 دن قبل ہی پروگرام کی عکسبندی کی تھی اور اگلے ہفتے پھر شوٹنگ کا پلان تھا۔

    یاد رہے کہ اداکارہ تبسم نے 1947 میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا اور وہ بے بی تبسم کے نام سے مشہور تھیں، انہوں نے 1972 سے 1993 تک پھول کھلے ہیں گلشن گلشن کی میزبانی کی۔

    2006میں وہ پروگرام ’پیار کے دو نام، ایک رادھا، ایک شیام‘ سے ٹی وی اسکرین پر واپس آئی تھیں۔

    دلکش چہرے، خوبصورت آواز اور دوٹوک سوال کے سبب 78 سالہ تبسم آخری وقت تک اپنےشوزکے سبب مداحوں میں خوب مقبول رہیں جبکہ برصغیرکی پاپ کوئین نازیہ حسن کا خوبصورت انٹرویو بھی تبسم کے ساتھ یادوں کا حصہ بن گیا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • پشاور:اسٹریٹ لائٹس کے فقدان کے باعث اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ

    پشاور:اسٹریٹ لائٹس کے فقدان کے باعث اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ

    پشاور:قتل، چوری ، ڈکیتی اور اغوا سمیت دیگر جرائم میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، شہر میں رواں سال اب تک 390 افراد قتل ہو چکے ہیں۔

    پولیس نے جرائم میں اضافے کی وجہ اسٹریٹ لائٹس کے فقدان کو بھی قرار دیا ہے جب کہ میئر پشاور کا کہنا ہےکہ جلد اسٹریٹ لائٹس کی جلد شروع کریں گے۔

    پشاور میں اندرون شہر کے اکثر علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے یا پھر خراب ہونے کے باعث گلیاں ، محلے اور کوچے اندھیرا چھاتے ہی تاریکی میں ڈوب جاتے ہیں جس سے نہ صرف شہریوں کو آمدورفت میں دقت کا سامنا رہتا ہے بلکہ راہزن بھی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں کو لوٹتے ہیں۔

    پشاور میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اسٹریٹ کرائمز بڑھ رہے ہیں اور پولیس بھی جرائم میں اضافے کی وجہ اسٹریٹ لائٹس کے فقدان کو قرار دے رہی ہے۔

    پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران اندرون شہر کے مختلف علاقوں میں 5 ہزار سے زیادہ شہریوں سے موبائل فونز اور نقدی چھینی گئی۔

    پشاور میں رواں سال اب تک 390 افراد قتل ہو چکے ہیں جب کہ ڈکیتی کی 282 اور چوری کی 248 وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں، چوری ہونے والی 70 فیصد گاڑیاں منشیات کی اسمگلنگ اور باقی دہشت گردی اور ڈکیتی میں استعمال ہو رہی ہیں۔

    اندرون شہر میں جہاں اسٹریٹ لائٹس کا فقدان ہے وہیں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب نہیں کیے گئے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راہزن واردات کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا