Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • افتخار امام صدیقی:ایک شاعر،ایک ادیب جودنیا چھوڑگئےمگریادیں باقی ہیں:

    افتخار امام صدیقی:ایک شاعر،ایک ادیب جودنیا چھوڑگئےمگریادیں باقی ہیں:

    افتخار امام صدیقی

    ہندوستان کے نامور شاعر افتخار امام صدیقی 19؍نومبر 1947ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اعجاز صدیقی تھے اور دادا سیمابؔ اکبر آبادی۔ سیمابؔ اکبر آبادی تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے لیکن افتخار امام صدیقی کے والد اعجاز صدیقی ہندوستان میں ہی رہے۔ اعجاز خود ایک بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔ انہوں نے اپنے تخلیقی کاموں کےساتھ ساتھ ماہنامہ ’شاعر‘ کو بھی نئی آب وتاب کے ساتھ جاری رکھا۔ شاعری، نثر نگار اورماہنامہ ’شاعر‘ کی ادارت، تینوں چیزیں افتخار امام صدیقی کو بھی ورثے میں ملیں اور انہوں نے ان تینوں خانوں میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔

    افتخار امام صدیقی نے زیادہ تر غزلیں کہیں۔ ان کی غزلیں اپنے شدید کلاسیکی رچاو کی وجہ سے بہت مقبول ہوئیں۔ کئی اہم گلوکاروں نے ان کی غزلیں گائیں ہیں۔ خود افتخار امام صدیقی خوبصورت ترنم کے مالک ہیں اور ہندوستان و پاکستان کے مشاعروں میں بہت دلچسپی سے سنے جاتے ہیں۔ افتخار امام صدیقی نے کئی تنقیدی کتابیں بھی لکھیں ہیں۔ ان کا ایک یادگار کام ’شاعر‘ کے وہ خاص شمارے میں جو انہوں نے مشہور ومعروف ادبی شخصیات پر ترتیب دئے ہیں۔ حامد اقبال صدیقی ان کے بھائی ہیں۔

    افتخار امام صدیقی 04؍اپریل 2021ء کو ممبئی میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں آسودہِ خاک ہیں۔

    افتخار امام صدیقی کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں
    مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں

    ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں
    کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں

    وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں
    قدم قدم سفر میں اب کوئی بھی لبِ دعا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہے شور سا طرف طرف کہ سرحدوں کی جنگ میں
    زمیں پہ آدمی نہیں فلک پہ کیا خدا نہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
    دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا

    کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے
    دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا

    درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے
    سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا

    یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر
    یوں بھی ہوگا خود اسی میں اک خلا رہ جائے گا

    دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاں
    یہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہے
    فنا نصیب ہر اک سلسلہ اداسی ہے

    بچھڑ نہ جائے کہیں تو سفر اندھیروں میں
    ترے بغیر ہر اک راستا اداسی ہے

    بتا رہا ہے جو رستہ زمیں دشاؤں کو
    ہمارے گھر کا وہ روشن دیا اداسی ہے

    اداس لمحوں نے کچھ اور کر دیا ہے اداس
    ترے بغیر تو ساری فضا اداسی ہے

    کہیں ضرور خدا کو مری ضرورت ہے
    جو آ رہی ہے فلک سے صدا اداسی ہے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • آج دنیا بھرمیں مردوں کا عالمی دن منایا جارہاہے،اس کے باوجود مرد مسائل کا شکارہیں:دیکشا گروور چلانہ

    آج دنیا بھرمیں مردوں کا عالمی دن منایا جارہاہے،اس کے باوجود مرد مسائل کا شکارہیں:دیکشا گروور چلانہ

    لاہور:آج دنیا بھرمیں مردوں کا عالمی دن منایا جارہاہے،اس کے باوجود مرد مسائل کا شکارہیں:اس حوالے سے مردوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے ماہرخاتون دیکشا گروور چلانہ کہتی ہیں کہ اس دن کے منانے کا مقصد تو تھا کہ مردوں کی صحت،ان کی ضروریات ، ان کے احساسات اور ان کے جزبات کا خیال رکھا جاتا مگرہمارے ہاں معاملات بالکل الٹ ہیں

    ماہرخاتون دیکشا گروور چلانہ کہتی ہیں کہ اس وقت 90 فیصد ایسے مرد بھی معاشرے میں موجود ہیں کہ جن کودوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان کو کوئی پوچھتا تک نہیں ،ان کی مالی مدد ہونی چاہیے تھی لیکن کوئی نہیں کررہا ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ گھروں میں محصور ہیں اور اپنے خیالات اور جزبات کسی تک شیئر نہیں کرسکتے

    ماہرخاتون دیکشا گروور چلانہ کا کہنا تھا کہ اس وقت صورت حال ہے کہ مردوں کی بڑی تعداد شوگر،کینسر اور دیگر کئی دوسری موذی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے کچھ کرسکیں

    بھارت میں تو ایسی ہزاروں مثالیں ہیں‌کہ مرد خودکشیوں پر مجبور ہیں ، مگرحکمران ہیں کہ جن کو پرواہ تک نہیں اور وہ اپنے مردوں کے خیالات ، ان کے احساسات اور ان کے جزبات کااحترام نہیں کرتے ، ہے تو یہ مردوں کا عالمی دن مگرہمارے مرد اب بےچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں‌،مگرکب تک

    دیکشا گروور چلانہ کہتی ہیں‌کہ مَردوں کا عالمی دن منانے کا مقصد ہے کہ مرد بھی اپنی صحت پر ذرا توجہ دیں۔ حالیہ کچھ برسوں میں مَردوں میں ذہنی مسائل کے باعث خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جن کی زیادہ تر تعداد 45 برس سے کم عمر کے مردوں کی ہے۔

    مرد خواتین کے مقابلے میں ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، پھیپھڑوں کے امراض، منہ کا کینسر اور پروسٹیٹ کینسر کا شکار زیادہ ہوتے ہیں۔

     

    ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مرد کو چاہیے کہ اپنی پریشانیوں سے متعلق اہل خانہ سے بات کریں،

    یاد رہے کہ مردوں کا عالمی دن ہر سال19 نومبر کو منایا جاتا ہے۔یہ دن پہلی مرتبہ 19 نومبر 1999 کو منایا گیا تھا۔ صنفِ نازک کے حقوق کیلئے یوں تو ہرسال 8مارچ کو خواتین کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ تاہم، مردوں کے عالمی دن کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں مردوں کے مثبت کردار اور ان کو لاحق مسائل کے تئیں بیداری لانا ہے۔ یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ مرد خود اور اپنے زیر تربیت نوجوانوں کو مرد ہونے کی حیثیت سے ان کی ذمہ داریاں ، مثبت کردار اور اقدار کے بارے میں سکھائیں ۔ اس دن اس بات پر بھی گفتگو کی جاتی ہے کہ مردوں کو بھی ذہنی مسائل لاحق ہوسکتے ہیں جس کی وجہ خودکشی کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

    19نومبر کو مردوں کو اس بات کی بھی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے جذبات کو چھپانے کے بجائے ان کا اظہار کریں تاکہ ان کے ذہنی مسائل میں کمی آسکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ۵؍ بیماریاں ایسی ہیں جو خواتین کی نسبت مردوں کو اپنا زیادہ شکار بناتی ہیں ۔ ان میں ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، پھیپھڑوں کے امراض، منہ کا کینسر اور پروسٹیٹ کینسر شامل ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اطراف موجود مردوں کی ضروریات اور ان کے احساسات کا خیال کریں ۔ان سے بات چیت کر کے انہیں قائل کریں کہ بحیثیت مرد ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے جذبات چھپائے رکھیں اور حالات کا جبر تنہا جھیلتے رہیں

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر

    لاہور:پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخرہے،ویسے تو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کےساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے ، لیکن پچھلے چارپانچ سال سے جس طرح پاک فوج نے ملک کی بیرونی اوراندورنی سلامتی کےلیے بڑی محنت سے کام کیا، ایسے ہی پاک فوج نے ملکی معیشت اور اس کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا بھی مقابلہ کیا ہے

    اس سلسلے میں پاک فوج نے ماضی قریب میں ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہےکہ جس کی مثال اس سےقبل نہیں ملتی،منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے عالمی تنظیم ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان پر جس قدر دباوتھا اور پاکستان کوگرے لسٹ میں ڈال رکھا تھا اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو بہت بڑا نقصان ہورہا تھا بلکہ پاکستان کے اندرونی نقصانات کےساتھ ساتھ بیرونی دنیا سے بھی معاملات بہت خراب ہورہے تھے ،

     

    ایف اے ٹی ایف جیسے ادارے کی سخت ترین پابندیوں اور شرائط کو پورا کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں تھی ، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے آرمی چیف سے درخواست کی کہ پاک فوج اس معاملے پر حکومت کی مدد کرے،اس درخواست کےبعد پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایف اے ٹی ایف سے معاملات بہتر کرنے اورپاکستان کوگرے لسٹ سے باہرنکالنے کےلیے ایک میکنزم تشکیل دیا اوراپنی نگرانی میں ایک خصوصی مانیٹرنگ اورمعاون سیل تیشکیل دیا تاکہ سارے معاملات کی خود نگرانی کرکے پاکستان کواس مشکل سےنکالا جائے

     

    قوم یہ بھی جانتی ہے کہ چند ماہ قبل جب وطن عزیز پاکستان میں سیلاب آیا ہوا تھا ، ہر طرف تباہی مچی ہوئی تھی ، سیاسی جلسے کر رہے تھےتو پاک فوج کے جوان ہمیشہ کی طرف عوام کی مدد کر رہے تھے ، پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں سیلاب سے لوگ مشکل میں ہوں اور پاک فوج کے جوان انکی مدد کو نہ پہنچے ہوں، سوشل میڈیا کارکنان نے افواج پاکستان کی امدادی سرگرمیوں کی بھرپور تعریف کی اور افواج پاکستان سے محبت کا والہانہ اظہار کیا۔

     

    یہ بھی یاد رہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں افواج پاکستان کی امدادی سرگرمیاں جاری اس دن سے لیکر اب تک جاری ہیں اور پاک فوج سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ افواج پاکستان کے 6500 افسران و جوان، سینکڑوں گاڑیاں، کئی ہیلی کاپٹرز، بیسیوں کشتیاں اور کئی نکاسئ آب کی ٹیمیں ملک بھر میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

     

    چند دن قبل بلوچستان میں بارشوں سے سیلابی صورت حال میں بھی پاک فون کے جوانوں نے مقامی افراد کی مدد کی

     

    اس کے علاوہ پاک فوج کی میڈیکل کور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو طبی سہولیات بھی فراہم کی گئیں ۔ افواج پاکستان کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں تین دن کا خشک راشن، پکا ہوا کھانا اور خیمے بھی تقسیم کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افواج پاکستان نے کسی بھی مشکل وقت میں اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑا۔

     

     

    پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے، پاکستان جو کہ دنیا کفر کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اس کے سرپرایک ازلی دشمن بیٹھا ہےجو کسی بھی تاک میں پاکستان کو تہس نہس کردینا چاہتا ہے ، ان حالات میں جب قوم کو جاگنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ پاک فوج کےجوان خود جاگتے ہیں اور قوم کوسکون کی نیند سلانے کے لیے خود ایک آنکھ بھی نہیں جھکپتے ،ان جوانوں کی ایک عظیم داستان ہے

     

     

    اس حوالے سے پاک فوج کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ!

    جوان یہ کون ھیں__آو تمہیں میں یہ بھی بتلا دوں
    ہیں وہ بھی بیٹے ماوں کے ھیں بھائی وہ بھی بہنوں کے

     


    پاک فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتےہوئے کہا گیا ہے کہ "انہیں بھی نیند پیاری ہے تھکن انہیں بھی ہوتی ہے مگر سوچو تمہاری گالیاں سن کر وہ سونے کو چلے جائیں۔۔۔!!

     

     

    خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ مگر سوچو ایک دن سخت چچکتی سردی میں برستے باد بہاراں میں قیامت خیز گرمی میں وہ سونے کو چلے جائیں۔۔۔!!

     

     

    گھروں کواپنے لوٹ آئیں تمہاری نیند کیا ہو گی تمھارا چین کیا ہو گا وطن کی ہر گلی ہر کوچے میں لٹ جائے گی بہار۔۔۔!!
    اے دشمنان گردو پھر تمہارا حال کیا ہو گا تو اب اس فوج کو دینے سے پہلے کوئی بھی گالی زبانوں کو لگاموں سے ذرہ روکے ہی رکھنا۔۔۔!!

     

    تم __ ہی بتاو وہ ھیں مستحق گالی کہ یا پھر دعاؤں کہ۔ گھروں میں تو سکون سے ھو وہ کھائے سینوں__پہ گولی ہر ایک تہوار تم گھر پہ کرو وہ کھیلے خون کی ہولی __!!

    ان حالات میں جب پاک فوج کے خلاف ایک منظم پراپیگنڈہ مہم جاری ہے کہنے والے نے پیغام دیا ہے کہ ذرا ان کی قربانیوں پر بھی ایک نظردوڑا دیں کہ یہ ہیرے جوہماری خاطراپنی جانیں نچھاور کرتے ہیں کیا اس لائق ہیں کہ انکی کردار کشی کی جائے ، ہرگز نہیں ، ہرکز نہیں ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے

     

  • پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے

    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے

    سیارہ مشتری اور مریخ کے درمیان سیارچی پٹی کا ڈیٹا دیکھتے ہوئے پاکستانی طلبا و طالبات نے 14  ممکنہ نئے سیارچے دریافت کئے ہیں۔ فوٹو: فائل

     کراچی: پاکستان بھر سے فلکیات کے شوقین طلبا و طالبات نے بین الاقوامی پروگرام کے تحت 14 نئے ممکنہ سیارچے (ایسٹرائڈز) دریافت کئے ہیں جو سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان موجود مسلسل زیرِ گردش ہیں۔

    واضح رہے کہ سائنس و فلکیات میں عوامی شمولیت کے تحت ایک پروگرام ہے جس میں ہرسال کئی ممالک شامل ہوتے ہیں تاہم پہلی مرتبہ پاکستان اس مہم  میں ’آل پاکستان ایسٹروئڈ سرچ کیمپین‘ (اے پی اے ایس سی) کے نام سے شامل ہوا ہے۔ اس کے تحت یہ دریافتیں ہوئی ہیں جس میں پاکستان کے طول وعرض کے 40 طلبا و طالبات شامل تھے۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا اور انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل سرچ کولیبریشن (آئی اے ایس سی) ہر سال شہریوں کی سائنس میں شمولیت کے تحت یہ پروگرام منعقد کراتی ہے تاکہ فلکیات سے لگاؤ رکھنے والے نوجوانوں کو بامعنی تحقیقی عمل میں شامل کیا جاسکے۔

     

    اس مرتبہ اسلام آباد میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (آئی ایس ٹی) میں ایئرواسپیس انجینیئرنگ کے طالبعلم محمد رحموز صلاح الدین ایوب نے کوشش کی کہ باقاعدہ طور پر پاکستان میں اس میں شامل ہوسکے اور یوں اے پی اے ایس سی کی بنیاد رکھی گئی جس میں کل 40 افراد شریک ہوئے۔ تمام افراد نے فراہم کردہ ڈیٹا سیٹ اور سافٹ ویئر کی مدد سے 21 اکتوبر تا 15 نومبر تک ممکنہ سیارچوں کی نشاندہی کی۔

    سیارچوں کی دریافت کا عمل

    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھر بیٹھے کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی سیارچہ ہے بھی یا نہیں؟ ماہرین باقاعدہ اس کی تربیت فراہم کرتے ہیں، جس کےلیے ایسٹرومیٹریکا نامی سافٹ ویئر فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسٹرومیٹریکا  میں کئی سائنسی پیرامیٹرز ہوتے ہیں جن کی بنا پر طالبعلموں نے اندازہ لگایا کہ آیا کہ یہ سیارچہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اس طرح نظامِ شمسی کے بہت ہی چھوٹے اجسام یعنی دمدارستارے (کومٹ)، سیارچے، یا بونا سیارے (ڈوارف پلانیٹ) ان کے طبعی (فزیکل) خواص کی بنا پر شناخت کی جاتی ہے اور ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ پاکستان کی پہلی مرتبہ شمولیت سے 14 سیارچوں کی دریافت خوش آئند ہے اور امید ہے کہ وہ اپنے تجربے کو مزید وسیع کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستانی اسکولوں، جامعات اور کالجوں کے طلبا و طالبات کو نئی معلومات، عملی فلکیات اور نئے فنون سیکھنے کو ملے جو ان کی خود اعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کا ڈیٹا امریکی جزیرے ہوائی میں واقع مشہور فلکی دوربین سے حاصل کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل محمد رحموز نے 2021 میں بھارتی ٹیم کے ساتھ اپنے تین پاکستانی ساتھیوں کے ساتھ شرکت کی تھی اور کل پانچ سیارچے دریافت کئے تھے جو ایک اہم پیشرفت بھی ہے۔ اس مہم میں محمد رحموز ایوب کے ساتھ، دلآویز صغیر، فریال بتول اور نعمان رؤف پاکستان سے شامل تھے جنہیں ناسا اور آئی اے ایس سی کی جانب سے سند بھی دی گئی تھی جو اوپر کی تصویر میں نمایاں ہیں۔ یہ تمام اسکالر آئی ایس ٹی کی اسپیس سوسائٹی کے فعال رکن ہیں اور پاکستان میں فلکیات پر پہلا جریدہ ’کوسمِک ہیرالڈ‘ بھی جاری کیا ہے۔

    ایسٹرومیٹریکا استعمال کرنے کے لیے اردو زبان میں تدریسی ویڈیو بھی بنائی ہے جس میں نعمان رؤف، فریال بتول اور دلآویز صغیر نےنمایاں کردار ادا کیا ہے۔

     

     

    اس سے قبل آئی اے ایس سی میں بھارت، پولینڈ اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کی ٹیمیں شامل رہی ہیں اور پہلی مرتبہ پاکستان سے شوقیہ فلکیاتی ماہرین کی ایک ٹیم شامل ہوئی ہے جن میں ناصر رضوان کی سربراہی میں اٹک فلکیاتی سوسائٹی اور دیگر انجمنیں شامل ہیں۔ امید ہیں کہ پاکستانی کاوشیں ثمر آور ہوں گی تاہم اس کے لیے مزید ایک سال انتظار کرنا ہوگا۔

    سیارچی پٹی کا تعارف

    ہمارے نظامِ شمسی میں مریخ اور مشتری سیارے کے درمیان لاکھوں کروڑوں چھوٹے بڑے اجسام ایک ساتھ اس طرح گردش کررہے ہیں جس طرح کسی پارک میں بچے گول جھولے میں چکر کاٹتے ہیں۔ ان میں چھوٹے بڑے سیارے اور سیارچے موجود ہیں۔ ان میں سیریس نامی سیارچہ بونا سیارہ ہے جس کا قطر 950 کلو میٹر ہے۔ تاہم ماہرین ہر ایک ممکنہ سیارچے کی چھان پھٹک چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مختلف سافٹ ویئر سے ان پر تحقیق اور درجہ بندی کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں پتھریلے چورے کے شکل میں بھی اجسام موجود ہیں جو ذرے کی جسامت رکھتے ہیں۔

  • بھارت: نجی طورپرتیار کردہ راکٹ کا کامیاب تجربہ

    بھارت: نجی طورپرتیار کردہ راکٹ کا کامیاب تجربہ

    نئی دہلی : بھارت نے نجی کمپنی کے ذریعہ پہلے راکٹ کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے،بھارت کی نجی کمپنی نے نجی سطح پر تیار کردہ راکٹ کامیابی کے ساتھ فضا میں لانچ کرلیا، جس کو بھارت کی تجارتی خلائی صنعت بنانے کی کوششوں میں بڑی پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارت نے ایک نجی کمپنی اسکائی روٹ کے ذریعہ ’وکرم ایس‘ نامی راکٹ کا پہلی بار کامیابی سے تجربہ کرلیا۔رپورٹ کے مطابق 545 کلو وزنی راکٹ کو چنئی کے قریب بھارتی خلائی ایجنسی کی لانچنگ سائٹ سے روانہ کیا گیا جو 89.5 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچا۔

    تاہم اسکائی روٹ ٹیم نے اپنی پہلی لانچنگ کے لیے 80 کلومیٹر کا ہدف مقرر کیا تھا۔

    راکٹ تیار کرنے والی نجی کمپنی کا کہنا تھا کہ راکٹ آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تک اڑان بھرنے اور 83 کلوگرام وزنی مادہ کو 100 کلومیٹر کی بلندی تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ویڈیو فوٹیج میں راکٹ کو خلائی مرکز سے روانہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جہاں حکام نے کہا کہ لانچ کے تقریباً 5 منٹ بعد یہ خلیج بنگال میں جا گرا۔

    بھارتی سرکاری ایجنسی کے سربراہ اور نجی شعبے کی خلائی سرگرمیوں کو مربوط کرنے والے افسر پون گوینکا نے کہا کہ ’مشن پرامبھ کی کامیاب تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے اور یہ آغاز ہے‘۔

    اسکائی روٹ ایرواسپیس نامی خلائی کمپنی بھارتی شہری پون چندنا اور بھرتھ ڈاکا نے شروع کی تھی جس نے چھوٹے سیٹلائٹس لانچ کرنے کے لیے موجودہ پلیٹ فارمز کے مقابلے میں ترقیاتی لاگت میں 90 فیصد تک کمی کا ہدف رکھا ہے۔

    کپنی اگلے سال شروع ہونے والے سیٹلائٹس کی فراہمی کی صلاحیت رکھنے والے راکٹ تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی رہے۔

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • ٹی20ورلڈکپ سیمی فائنل میں شرمناک شکست،بھارتی سلیکشن کمیٹی برطرف

    ٹی20ورلڈکپ سیمی فائنل میں شرمناک شکست،بھارتی سلیکشن کمیٹی برطرف

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں شرمناک شکست پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے پوری سلیکشن کمیٹی کو برطرف کردیا۔
    غیر ملکی میڈیا کے مطابق چیف سلیکٹر چیتن شرما سمیت تمام ارکان کو ٹیم کی ناقص پرفارمنس پر فارغ کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں شرمناک شکست کے بعد بھارتی ٹیم میں بھی چھانٹی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں تبدیلیاں کی جائیں گے اور کئی سینیئرز کھلاڑیوں کو سائیڈ لائن کیا جائے گا۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایشون نے گزشتہ روز ٹی ٹوئنٹی کیرئیر کا اپنا آخری میچ کھیلا اور دنیش کارتک کو بھی اسکواڈ سے نکالا جائے گا جبکہ نے روہت شرما اور کوہلی کے مستقبل کا فیصلہ ان پر ہی چھوڑ دیا ہے۔

    خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلش ٹیم نے بھارت کو شرمناک شکست دی اور 10 وکٹوں سے میچ اپنے نام کرلیا تھا۔

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • برطانیہ کاپاکستان کو’ہائی رسک تھرڈکنٹریز‘کی فہرست     سےنکالنےکےاقدام کاخیرمقدم کرتےہیں:دفترخارجہ

    برطانیہ کاپاکستان کو’ہائی رسک تھرڈکنٹریز‘کی فہرست سےنکالنےکےاقدام کاخیرمقدم کرتےہیں:دفترخارجہ

    اسلام آباد :پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے باضابطہ طور پر پاکستان کو ’’ہائی رسک تھرڈ کنٹریز‘‘ کی فہرست سے نکالنے کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے جمعرات کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ قدم 21 اکتوبرکو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فیصلے کے مطابق اٹھایا گیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے کنٹرول کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی گئی پیش رفت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم برطانیہ کے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں، توقع ہے کہ دیگر ممالک بھی اس تناظر میں پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کریں گے۔ ترجمان نے بھارت کے غیر قانونی زیر مقبوضہ جموں و کشمیرکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کو یہ یاد دلانا چاہتا ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کا واحد اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے انعقاد میں مضمر ہے، کشمیری عوام کو اپنا حق خود ارادیت استعمال کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔

    انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سمیت یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لے اور بھارت کو مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی غیر قانونی کارروائی اور حربوں سے روکے، بھارتی حکومت کو فوری طور پر ان تمام اقدامات کو کالعدم کرنا ہوگا جن کا مقصد کشمیری عوام کی جمہوری اکثریت اور ان کی نسلی شناخت کو چھیننا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی وحشیانہ بھارتی جبر سے آزادی کی منصفانہ جدوجہد میں حمایت جاری رکھے گا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے منسوب بیان کی غلط تشریح بھارت کو اپنے غیر ذمہ دارانہ جوہری رویے سے بری الذمہ قرار دینے کی ایک مکروہ کوشش ہے، پاکستان کی سرزمین پر جوہری صلاحیت کے حامل براہموس میزائل فائر کے واقعہ نے ایک جوہری ریاست کے طور پر بھارت کے طرز عمل کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے جو عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بنتے رہنا چاہئے۔

    ترجمان نے کہا کہ 2021 کے داسو دہشت گرد حملہ کیس کے فیصلے نے ایک بار پھر انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے، ہم نے ایک بار پھر متاثرین کے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے، پاکستان ملک میں چینی کارکنوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لئے پرعزم ہے۔ ترجمان نے توقع ظاہر کی کہ دشمن قوتیں پاک چین ہمہ جہتی سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو کبھی کمزور نہیں کرسکتیں۔

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • ایک دو دن میں نئے آرمی چیف کا نام سامنے آجائے گا، وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

    ایک دو دن میں نئے آرمی چیف کا نام سامنے آجائے گا، وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

    اسلام آباد:وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ ایک دو دن میں نئے آرمی چیف کا نام سامنے آجائے گا۔ تعیناتی پراس سے زیادہ تاخیر شاید مناسب نہیں ہوگا۔

    آرمی چیف کی تعیناتی کب ہوگی؟ نجی ٹی وی سے گفتگو میں وزیر داخلہ رانا ثنا سے سوال ہوا تو رانا ثنااللہ نے جواب دیا کہ ایک دو دن کا معاملہ رہ گیا ہے اور نئے آرمی چیف کا نام پیپر پر آجائے گا۔

    وزیرداخلہ نے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق حساس نوعیت کے فیصلے سے قبل اتفاق رائے ہوتا ہے۔ اہم تعیناتی پر اختیار وزیراعظم کا ہے، اس پر اتفاق رائے ہے۔انہوں نے کہا کہ مشاورت سے مراد کسی کو اختیار نہیں ہوتا۔ وزیراعظم کسی سے بھی پوچھ سکتے ہیں، بالآخر فیصلہ انھوں نے کرنا ہوتا ہے۔

    وزیرداخلہ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری سے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے ان رہنماؤں کو سیاسی فہم رکھنے والے رہنما قرار دیا ہے تاہم عمران خان سے متعلق کہا کہ انھیں اپنی اور کسی دوسرے کی عزت کا کوئی خیال نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے جہاں آرمی چیف کی تقرری سے متعلق اہم ملاقاتیں کی ہیں وہیں وہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بھی ملے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے عارف علوی کے ساتھ ملاقات میں ملک کے اہم ادارے کے سربراہ کی تقرری سمیت دیگر امور پر مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق صدر نے کسی بھی سمری کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے کی یقین دہانی کروا دی۔

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • عالمی دفاعی نمائش آئیڈیاز2022 اختتام پذیر،30 سےزائد ایم او یوز پردستخط

    عالمی دفاعی نمائش آئیڈیاز2022 اختتام پذیر،30 سےزائد ایم او یوز پردستخط

    کراچی:شہرقائد میں جاری عالمی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022ء اختتام پذیر ہوگئی۔جمعہ کو آخری روزبھی آلات حرب اورتربیتی سازوسامان کی نمائش جاری رہی، طلبہ و طالبات نے بھی دفاعی نمائش کادورہ کیا، اختتامی تقریب میں شرکاء کو یادگاری شیلڈزپیش کی گئیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیردفاعی پیدا وار اسرارترین نے کہا پاک فوج، وفاقی اور سندھ حکومت کی مشترکہ کاوشوں سے آئیڈیاز کاکامیاب انعقاد ممکن ہوا۔

    آخری روزوزیربلدیات سندھ ناصرحسین شاہ نے بھی دفاعی نمائش میں شرکت کی،ان کاکہنا تھاکہ نمائش نےپاکستان کےتنہا ہونےکاتاثرمسترد کردیا ہے۔ آئی جی خیبرپختونخوا معظم انصاری بھی نمائش میں شریک ہوئے۔نمائش میں دفاعی مصنوعات سے متعلق 30 سے زائد ایم او یوز پردستخط کیے گئے ہیں، غیر ملکی مندوبین نے دفاعی نمائش کے انعقاد کوسراہا۔

    پاک فوج کا انٹگریٹیڈ الیکٹرانک وارفئیرسسٹم مرکزنگاہ بنارہا، وار فیئرسسٹم سےنہ صرف تیس سے پینتیس کلومیٹرتک دشمن کی گفتگو سنی جاسکتی ہے بلکہ کمیونیکیشن جام بھی کی جاسکتی ہے، کینیڈین کمپنی کاالیکٹرانک ٹینٹ بھی دفاعی نمائش کی زینت بنایا گیا جومحض دس منٹ میں ایک بڑے کمرے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

    پاکستان میں تیار کردہ وینٹی لیٹر بھی دفاعی نمائش کا حصہ بنایا گیا تھا، غیرملکی وینٹی لیٹرکی قیمت تو 70 لاکھ روپے ہے لیکن ملک میں تیار کیے گئے وینٹی لیٹرکی قیمت بیس لاکھ روپے ہے۔

    ڈی جی ڈیپومیجرجنرل عارف ملک کا کہنا تھا گزشتہ آئیڈیاز میں تراسی جب کہ اس بار پچانوے وفود نے شرکت کی ہے۔ 2024 کی آئیڈیاز اٹھارہ سے بائیس نومبر کو کراچی ایکسپو سینٹر میں ہوگی۔

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • کامران اکمل نے چیئرمین پی سی بی سے معافی مانگ لی

    کامران اکمل نے چیئرمین پی سی بی سے معافی مانگ لی

    کرکٹر کامران اکمل نے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ سے معافی مانگ لی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کرکٹر کامران اکمل کو تین روز قبل قانونی نوٹس بھیجا تھا جس میں ان سے چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر جواب طلب کیا گیا، نوٹس میں کہا گیا تھا کہ آپ پاکستان کرکٹ کی نمائندگی کرچکے ہیں ادارے کے چئیرمین کے خلاف بولنا نامناسب ہے۔

    پی سی بی ذرائع کے مطابق کرکٹر کامران اکمل نے گزشتہ روز پی سی بی کی طرف سے بھیجے گئے لیگل نوٹس کا جواب دے دیا ہے جس میں انہوں نے رمیز راجہ سے معافی مانگ لی ہے۔

    کامران اکمل نے کہا کہ رمیز راجہ کے خلاف دانستہ طور پر نہیں بولا، میری ایسی نیت نہیں تھی کہ چئیرمین پی سی بی کے خلاف جان بوجھ کر بولوں۔

    پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ کامران اکمل نے لیگل نوٹس کے جواب میں چئیرمین پی سی بی سے معافی مانگ لی ہے، کامران اکمل کی وضاحت کے بعد چیئرمین پی سی بی نے انکے خلاف کاروائی کرنے سے متعلقہ حکام کو روک دیا ہے، کامران اکمل کے خلاف مزید کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

    یاد رہےکہ بابراعظم کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو آسٹریلیامیں منعقدہ حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں مختلف مواقع پر سابق کپتان وسیم اکرم،وقار یونس، مصباح الحق، شعیب اختر سمیت دیگرسابق کھلاڑیوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑاتھا ، بالخصوص سپر 12 مرحلے میں بھارت اور زمبابوے سےشکست کے بعد قومی ٹیم کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

    کامران اکمل نےبھی اپنےیوٹیوب چینل پر ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا،ان کے تبصرے پی سی بی اوراس کی انتظامیہ کو اچھے نہیں لگے۔ میڈیا نےمعاملےکوقریب سےدیکھنے والےایک ذریعےکاحوالہ دیتےہوئےدعویٰ کیا ہےکہ”میں یہ تو نہیں جانتا کہ انہوں نےکامران پرکیا الزامات عائد کیےہیں لیکن بظاہر قانونی نوٹس اس لیے بھیجا گیا ہےکیونکہ چیئرمین کولگتا ہےکہ کامران نےان کے بارے میں میڈیا میں ہتک آمیز،جھوٹے اورجارحانہ تبصرے کیے ہیں“۔

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار