Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • بشریٰ عمران خان سے ملنے پہنچ گئیں

    بشریٰ عمران خان سے ملنے پہنچ گئیں

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اسلام آباد میں عدالت پیشی کے بعد اپنے شوہر کو ملنے اٹک جیل گئیں

    بشریٰ بی بی جب اٹک جیل کے باہر پہنچیں تو جیل حکام نے انہیں ملنے سے روک دیا تا ہم بعد میں مذاکرات ہوئے تو حکام نے بشریٰ بی بی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی تا ہم عمران خان کی لیگل ٹیم کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، عمران خان کے وکیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کو اجازت مل گئی ہے وہ 2 بجے خان صاحب سے ملنے کے لیے اندر جائیں گی لیکن لیگل ٹیم کو اجازت نہیں ملی .قانونی طور پر جیل رولز کے مطابق ہم کسی وقت بھی مل سکتے ہیں

    دو بجنے کے بعد بشریٰ بی بی عمران خان کو ملنے اندر چلی گئیں، بشریٰ اور عمران خان کی ملاقات جاری ہے

    بشریٰ بی بی عمران خان سے ملاقات کے بعد واپس اسلام آباد آئیں گی، بشریٰ بی بی کی ملاقات کے بعد عمران خان کے وکلا‌ کی پریس کانفرنس بھی متوقع ہے

     بشریٰ بی بی کی ڈائرئ منظر عام پر آ گئی

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ پانچ اگست کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو عدالت نے سزا سنائی،جس کے بعد انہیں زمان پارک سے گرفتار کیا گیا، عدالت نے عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی عمران خان کو پانچ سال کے لئے نااہل کر دیا،

  • بشریٰ بی بی عدالت پیش،شامل تفتیش ہوں ورنہ ضمانت خارج ہو گی، عدالت

    بشریٰ بی بی عدالت پیش،شامل تفتیش ہوں ورنہ ضمانت خارج ہو گی، عدالت

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف 9 مئی واقعات سے متعلق درج مقدمے میں وکیل سلمان صفدر پیش ہوئے۔

    پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی مجرم ہیں اور جیل میں قید ہیں عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کافی جلدی ہے بات کرنے کی، جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی شامل تفتیش ہوئے ہیں؟ تفتیشی افسر نے عدالت میں کہ چیئرمین پی ٹی آئی چند مقدمات میں شامل تفتیش نہیں ہوئے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر تمام 6 مقدمات میں ایک ہی نوعیت کا الزام ہے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ عمران خان صرف ایک مقدمے میں شامل تفتیش ہوئے۔

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نے پراسیکیوشن کی گزشتہ سماعت پر شکایت لگائی تھی پراسیکیوشن سے شامل تفتیش ہونے کیلئے رابطہ کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت جیل میں موجود ہیں ان کے خلاف گزشتہ 71 سال میں کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے

    دوران سماعت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کمرہ عدالت پہنچیں تو جج نے پولیس کو ہدایت کی کہ ان کو کمرہ عدالت میں احترام سے بٹھایا جائے ۔ تھانہ کہسار کے تفتیشی افسر کے آنے پر بشریٰ بی بی کو شامل تفتیش کیا جائے گا وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بشریٰ بی بی سے متعلق سکیورٹی خدشات ہیں، یہیں پر تفتیش کر لیں یا آئندہ سماعت پر کر لیں ،جج محمد سہیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تھانے کے ماحول کا اندازہ ہے ڈی آئی جی آفس پاس ہی ہے عزت کے ساتھ بٹھایا جائے گا بعد ازاں بشریٰ بی بی کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئیں، سیشن جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کو شامل تفتیش ہونے کا آخری موقع دیا جا رہا ہے۔ورنہ ضمانت خارج کردی جائے گی

    تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 7 ستمبر تک توسیع کر دی گئی،

    کاشانہ معاملہ، افشاں لطیف کا حکومت کے خلاف انتہائی اقدام

    کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

    کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

    کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

    افشاں لطیف کے خدشات درست ثابت،کاشانہ اسکینڈل کے اہم راز جاننے والی اقرا کائنات کی پراسرار حالات میں موت

    کم عمر بچیوں کی شادی نہ کروانے پر کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

    کاشانہ کیس،بات پارلیمنٹ تک پہنچ گئی، رحمان ملک نے بڑا حکم دے دیا

  • عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا حکم

    عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل میں سہولیات،ملاقات اور اڈیالہ جیل منتقلی کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    عدالت نےچیئرمین پی ٹی آئی کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا ایک بار پھر حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جائے نماز اور قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ بھی فراہم کیا جائے، وکلا، خاندان کے افراد اور دوستوں کو چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں،آئندہ سماعت پر فریقین گھر کے کھانے کی اجازت سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر عامر فاروق نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی وجوہات پراٹک جیل میں رکھا گیا ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی سے متعلق آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرائیں، وکیل کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے جانے پر ملنے کی اجازت نہ دی گئی، ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق جیل میں ملاقات کے اوقات 8 سے 2 بجے تک ہیں، 3 بجے تک ملنے دیا جاسکتا ہے،ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق مقررہ اوقات کے بعد ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عدالت کو بتایا گیا کہ قیدی سے روزانہ کی بنیاد پر ملاقات میں قانونی طور پر کوئی قدغن نہیں، تاہم روزانہ کی بنیاد پر ملاقات سپریٹنڈٹ جیل کی اجازت سے مشروط ہوتی ہے،بتایا گیا کہ بہتر ہوگا کہ وکلا ہفتے میں ایک یا دو بار ملاقات کیلئے اٹک جیل جائیں تاکہ بندوبست کرنے میں آسانی ہو، وکلاء کے مطابق اٹک جیل میں بی کلاس سہولیات موجود ہی نہیں ہیں، وکلاء نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کا مقصد بی کلاس سہولیات مہیا نہ کرنا ہے، وکلاء کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو چھوٹے کمرے میں قید کر رکھا ہے، گھر کے کھانے کی اجازت بھی نہیں، ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا جیل مینو کے مطابق جانچ پڑتال کے بعد دیا جاتا ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • عدالت نے بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا

    عدالت نے بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا

    190 ملین پاونڈ کیس میں بشری بی بی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی
    بشریٰ بی بی عدالت میں پیش ہوئیں،جج محمد بشیر نے استفسارکیا کہ بشری بی بی کے وارنٹ تو جاری نہیں ہوئے، تفتیشی افسر کہاں ہیں، ادھر کھڑے ہو جائیں،سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ابھی گرفتار کرنے کے حوالے سے کوئی آرڈر نہیں ہیں، بشریٰ بی بی کے وکیل نے کہا کہ مستقبل کے حوالے سے کوئی ضمانت دے دیں،جج محمد بشیرنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے، لگ بھی نہیں رہا، جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ یہ کیس انکوائری کی سٹیج پر ہے یا انوسٹیگیشن کی؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اب انویسٹی گیشن میں تبدیل ہو گیا ہے، سردار مظفر عباسی نے کہا کہ کیا ملزم تین سال جیل میں رہے تو کیا تین سال تک اس کا انتظار کیا جائے گا، خواجہ حارث نے کہا کہ ہماری آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمیں ایک موقع دیں،ہم کوئی جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہے،

    عدالت نے بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا ،جج محمد بشیرنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ نا ہو کہ شام کو انہیں پکڑ لیں، سردار مظفر عباسی ، شرجیل میمن کیس میں ان کی گرفتاری کا حوالہ پیش کر رہے ہیں،سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ملزم اگر ایک کیس میں گرفتار ہو یہ نہیں کہ اسے دوسرے مقدمات میں گرفتار نہیں کر سکتے، خواجہ حارث نے کہا کہ ہم ایک ایسے کی بات کر رہے ہیں جس میں درخواست گزار ایک مقدمے میں گرفتار ہے، خواجہ حارث نے دونوں مقدمات کی سماعت سے استثنی کی درخواست دائر کر دی اور کہا کہ میری عدالت سے استدعا ہے کہ کیس کی سماعت ملتوی کی جائے،

    القادر ٹرسٹ کیس ،توشہ خانہ نیب کیس، عمران خان کی درخواست ضمانت خارج
    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ، جو اب سنا دیا ہے، عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں عمران خان کی ضمانت خارج کر دی، اسلام آباد کی احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ نیب کیس میں عمران خان کی ضمانت خارج کردی

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • بشری بی بی نے زمان پارک چھوڑ دیا، کالی گاڑیوں میں روانہ

    بشری بی بی نے زمان پارک چھوڑ دیا، کالی گاڑیوں میں روانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی زمان پارک سے اسلام آباد روانہ ہو گئی ہیں دوسری جانب زمان پارک میں سیکیورٹی کے لئے تعینات پولیس نفری کو ہٹا لیا گیا

    بشری بی بی اسلام آباد روانہ ہوئی ہیں،عمران خان کے وکلاء کی کوشش ہے کہ بشریٰ کی عمران خان سے جیل میں ملاقات ہو جائے تاہم گزشتہ روز عدالت نے کہا تھا کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے، آج بشریٰ بی بی اسلام آباد کہاں جا کر ٹھہرتی ہین اور کس کس سے ملاقاتیں ہوتی ہیں اس بارے ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا، بشری بی بی کالی گاڑی پر زمان پارک سے روانہ ہوئی ہیں ، عمران خان کی گرفتاری کے بعد بشری بی بی نے مبینہ طور پر کالے کپڑے ہی پہن رکھے ہیں

    دوسری جانب زمان پارک میں پولیس نے آپریشن کرتے ہوئے گھر کے باہر لگے سیکورٹی بیرئر ہٹا دیئے،لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کاروائی کی اور کرین کی مدد سے بیریئر، کنکریٹ ہٹا دئئے، اور ٹرک میں رکھ کر لے گئے، زمان پارک جو عمران خان کے ہوتے ہوئے نو گو ایریا بنا ہوا تھا اسکو کلیئر کروا لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ پانچ اگست کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو عدالت نے سزا سنائی،جس کے بعد انہیں زمان پارک سے گرفتار کیا گیا، عدالت نے عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی عمران خان کو پانچ سال کے لئے نااہل کر دیا،

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • اہم مواقعوں پر بشری بی بی کی سیاسی معاملات میں مداخلت تباہ کن ثابت ہوئی،سینئیر صحافی

    اہم مواقعوں پر بشری بی بی کی سیاسی معاملات میں مداخلت تباہ کن ثابت ہوئی،سینئیر صحافی

    سینئر صحافی کامران خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ٹوئٹ انہوں نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کر چکے ہیں کہ بشری بی بی ان کی روحانی سرپرست تھیں۔یہ سب کچھ ایک روحانی حد میں رہتا تو اس میں کوئی حرج نہ تھا تاہم اہم مواقعوں پر بشری بی بی کی سیاسی معاملات میں مداخلت تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔


    کامران خان نے پانچ اہم سیاسی موڑ پر بشری بی بی کی مداخلت کے حوالے سے بتایا کہ عمران خان کی سب غلطیوں کی ماں اہم سیاسی اور قومی اہمیت کے معاملات پر بشری بی بی کے توہم پرستانہ حساب کتاب سے راہنمائی اور اجازت لینا تھی بشریٰ بی بی کے صوفیانہ حسابات پر عمل کرتے ہوئے عمران خان نے یکطرفہ طور پر پنجاب اور کے پی کے حکومتیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

    جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا

    کامران خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کو پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے استعفوں کا اعلان کرنے پر مجبور کیا۔ پی ٹی آئی کے تقریباً ہر ایم این اے کی مخالفت کے باوجود، بی بی نے خان کو باز نہیں آنے دیا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان سے زیادہ، بشریٰ بی بی چاہتی تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر برقرار رہیں اور بعد ازاں جنرل باجوہ کی جگہ آرمی چیف بنیں۔ اس پیش رفت نے خان کے COAS باجوہ اور ان کے کور کمانڈرز کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

    کامران خان نے کہا کہ بشریٰ بی بی عثمان بزدار کی سب سے بڑی حمایتی تھیں۔ انہوں نے کچھ صوفیانہ حسابات کی بنیاد پر خان کو قائل کیا کہ اقتدار میں ان کی بقا کا تعلق بزدار کے بطور وزیراعلیٰ رہنے سے ہے۔

  • فرح گوگی کی پنجاب میں لوٹ مار،بزدار بھی تھے ساتھ، اہم تفصیلات

    فرح گوگی کی پنجاب میں لوٹ مار،بزدار بھی تھے ساتھ، اہم تفصیلات

    بزدار دور حکومت میں سب سے زیادہ کرپٹ بیوروکریٹس کی تفصیلات سامنے آ گئیں-

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کی پنجاب میں دور حکومت کے دوران فرح گوگی اور بزدار کے لیے کام کرنیوالے کرپٹ ترین بیوروکریٹس کی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی، عثمان بزدار وزیر اعلی پنجاب گئے تو فرح گوگی کے ذریعے بشری بی بی نے کمائی کی ۔بیورو کریٹ اور پولیس افسران پی ٹی آئی حکومت کے دوران نہ صرف وفاداریاں نبھاتے رہے بلکہ کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے

    ڈاکٹر راحیل صدیق، وزیراعلیٰ کےپرنسپل سیکرٹری (کنکشن- بزدار، فرح خان، جنوبی پنجاب گرڈ، اور شہباز شریف حکومت کے خلاف مخبر)۔ اس نےٹرانسفر پوسٹنگ میں رشوت لینا شروع کی جب اس نےپہلے طارق بخاری پی ایم ایس سےبھاری رقم لی اور دسمبر 2018 میں اسے بطور ڈی سی شیخوپورہ تعینات کیا۔ اس کے بعد اس طرح کے واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ بھاری رشوت کی وصولی کے بعد لاہور میں شراب کا لائسنس جاری کروانے میں وہ بنیادی کردار تھا اور جہاں ڈی پی او ساہیوال تیمور بزدار نے فرح خان اور بزدار سے حصہ لیا۔ نیب نے ابتدائی طور پر کیس اٹھایا جس میں بزدار اور راحیل صدیق نے اس وقت کے ڈی جی ایکسائز مسٹر گوندل کو قربانی کا بکرا بنایا-

    ڈاکٹر شعیب اکبر، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری – (بزدار، فرح خان اور جنوبی پنجاب گرڈ)۔ راحیل صدیق کے جانے کے بعد ڈاکٹر شعیب نے اپنے آقاؤں یعنی بزدار اور فرح خان کی حمایت حاصل کی اور کرپشن میں ملوث ہونے کے نئے طریقے تجویز کئے لاہور رنگ روڈ اراضی اسکینڈل (بحریہ ٹاؤن لاہور شہرت) میں ان کے اور آصف بلال لودھی کےملوث ہونےکی شکایات پر انہیں وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔

    طاہر خورشید ، سابق کمشنر ڈی جی خان، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری۔ (کنکشن – بزدار اور ان کا خاندان، فرح خان، احسن گجر، خاور مانیکا، موسٰی مانیکا)۔ اس نے بدعنوانی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور اے سی سےکمشنر اور سیکرٹریز تک کی پوسٹنگ/ ٹرانسفرز اور تمام ترقیاتی منصوبوں میں پیسے بٹورے اور انہیں بزدار، ان کے بھائیوں، فرح خان اور مانیکاس کے ساتھ شیئر کیا۔

    اس کی منی مائٹنگ اور بدعنوان طریقوں میں مندرجہ ذیل لوگوں کی مدد کی گئی جنہوں نے براہ راست افسران، پراجیکٹس وغیرہ سے پیسے بٹورنے کے لیے مافیا کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا اور بزدار، فرح، ٹی کے گروپ (عامر جان سیکرٹری انرجی، دی) کی جانب سے پیسہ اکٹھا کرنے والوں کا کردار ادا کیا۔ ان میں محکمہ توانائی، محکمہ صحت میں کرپٹ ترین افسر، کیپٹن اسد اللہ سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، نور مینگل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ آصف اقبال لودھی کمشنر لاہور، شہریار سلطان سیکرٹری فوڈ/سروسز، صائمہ سعید سیکرٹری سروسز، مبشر ماکن پی ایس او بزدار، حیدر علی پی ایس او وزیراعلیٰ۔ کیپٹن اعجاز پی ایس او کو وزیراعلیٰ/ڈی سی ڈی جی خان، طاہر فاروق ایڈیشنل سیکرٹری وزیراعلیٰ/ڈی سی ڈی جی خان، محمد اختر پی ایس او وزیراعلیٰ، احمد رضا سرور سیکرٹری کوآپریٹوز، نعیم بخاری سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی، کیپٹن عثمان یونس سیکرٹری صحت، نبیل اعوان سیکرٹری صحت موسیٰ رضا پولیٹیکل اسسٹنٹ ڈی جی خان/ڈی سی بھکر/مظفر گڑھ۔مہتاب وسیم ڈی سی منڈی بہاؤالدین/ڈی سی رحیم یار خان۔خواجہ سہیل ڈی جی ایف ڈی اے/ڈی سی گوجرانوالہ۔دانش افضل ڈی سی لاہور/ڈی سی گوجرانوالہ۔ عامر کریم پی ایس او بزدار اور ڈی سی ملتان۔ مدثر ریاض ملک/ کمشنر ڈی جی خان، ڈی سی لاہور/ ڈی جی سوشل ویلفیئر۔ صالحہ سعید سابق ڈی سی لاہور، ڈی جی ایکسائز اور سپیشل سیکرٹری صحت کرپٹ ترین خاتون رہیں جنہیں قریبی رشتہ دار عائشہ حمید اور عثمان معظم کی مدد ملی، جو فرح خان اور بزدار کے ماتحت کرپٹ گروہ کے دو ارکان ہیں۔

    بابر حیات نے پٹواری نظام کو بحال کرنے اور ایس ایس حکومت کے ڈیجیٹل اقدامات کو ختم کرنے کے لیے رقوم اکٹھی کیں اور پٹواریوں کی بھرتی میں بھاری رقوم اکٹھی کیں۔ احمد عزیز تارڑ ڈی جی ایل ڈی اے، سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ جنہوں نے ایل ڈی اے کو اس کرپٹ مافیا کے لیے فروخت کر رکھا تھا۔ سارہ اسلم سابق سیکرٹری تعلیم۔ ارم بخاری سابق سیکرٹری توانائی، سیکرٹری تعلیم اور ٹی کے کے بیچ میٹ۔ (اس گروہ نے پنجاب کے پورے انتظامی سیٹ اپ کو غلام بنا لیا اور یہاں تک کہ اے سی اور اے ڈی سی آر کی پوسٹنگ ٹرانسفرز کو بھی نہیں بخشا گیا ان سے پیسے بٹورے گئے۔

    ٹی کے گروپ کے اہم ممبران میں طاہر خورشید گروپ دوسرے امیر جان، شہریار سلطان، کیپٹن عثمان یونس تھے۔ ، نبیل اعوان، عمران سکندر، افتخار سہو، مدثر ریاض ملک، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، نور الامین مینگل، احمد رضا سرور وغیرہ گروپ بعد میں حامد ش، افتخار سہو، ثاقب ظفر، ظفر اقبال کی شمولیت کے ساتھ بڑھا دیا گیا۔ کمشنر بہاولپور، جاوید بخاری، ڈاکٹر فرح، دانش افضال، بابر تارڑ، علی مرے کرپٹ زنجیر کا حصہ تھے جن کی سرپرستی بزدار، راجہ بشارت، آصف نقی، ہاشم ڈوگر کیپٹن اسد سی اینڈ ڈبلیو کے سڑے ہوئے انڈے تھے، ان تمام کرپٹ افسران کو تحفظ فراہم کیا گیاپنکی، فرح، بزدار اور پنکی، مانیکاس اور گجر کے لیے مالیاتی خدمات کے لیے باری باری وزیر اعلیٰ آفس کی سرپرستی کی۔

    شیریار سلطان ( بشریٰ پنکی، فرح خان اور ٹی کے) گدی نشین ہونے کی وجہ سے اس کے بشریٰ بی بی اورعمران خان سے بہت گہرے تعلقات تھے۔ مبینہ طور پر وہ بشریٰ بی بی کا جاسوس تھا اورعمران خان کو ایس ایس فیملی کے بارے میں معلومات بھی دیتا تھا۔ وہ فوڈ سکینڈل میں ملوث تھے اور انہوں نے بطور سیکرٹری فوڈ اور اس سے قبل ڈائریکٹر فوڈ کے طور پر بھاری رقوم حاصل کیں۔ انہوں نے سیکرٹری کوآپریٹو کے طور پر بھی کام کیا اور TK کے ٹول کے طور پر اپنے، خاندان کے افراد، بشریٰ پنکی، فرح خان اور بزدار کے لیے مختلف کوآپریٹو سوسائٹیز میں تقریباً 40 پلاٹوں کا انتظام کیا یہ ایک کرپٹ آدمی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

    جاوید اختر محمود، سابق کمشنر ملتان ( بزدار، ٹی کے اور فرح خان ) انہوں نے بزدار فیملی اور ٹی کے کو سنبھالا اور کمشنر ملتان کی حیثیت سے انہیں ماہانہ بھاری رقم ادا کی۔

    6. *نور مینگل، سابق ڈی سی لیہ، ساہیوال* (بزدار، فرح خان اور ٹی کے)۔ انہوں نے بزدار کو پہلے ڈی سی لیہ اور پھر ڈی سی ساہیوال کی حیثیت سے 5 کروڑ روپے ادا کئے۔ اس نے روپے کمائے۔ دونوں سلاٹسں سے 30 کروڑ۔ اس نے ابتدائی طور پر پنجاب میں اترنے کے لیے بلوچی گرڈ کا استعمال کیا اور پھر فرح خان اور ٹی کے کو بھاری رقوم دے کر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی پوسٹنگ اور پھر کمشنر پنڈی کی حیثیت سے ٹی کے/ فرح خان چین کا حصہ بن گئے۔

    7. ذیشان جاوید بزدار۔ ( عثمان بزدار، عمر بزدار) انہیں پہلے ڈی سی ساہیوال اور پھر ڈی سی سیالکوٹ لگایا گیذ انہوں نے گزشتہ سال سیالکوٹ کے انتخابات میں دھاندلی کی تھی۔ وہ بزدار کا فرنٹ مین تھا اور اس کے لیے پیسے جمع کرتا تھا۔

    8. بابر بشیر۔ (کنکشن – عثمان بزدار اور عمر بزدار) اس نے روپے ادا کئے۔ بزدار کو پہلے ڈی سی لیہ اور پھر ڈی سی ساہیوال کی حیثیت سے 5 کروڑ روپے دیئے دونوں سلاٹس سے 30 کروڑ روپے بٹورے-

    9. امیر عقیق۔ (کنکشن – فرح خان گروپ) کو فرح گروپ کو بھاری رشوت دینے کے بعد ڈی سی اوکاڑہ اور پھر ڈی سی پنڈی تعینات کیا گیا۔ شہباز شریف کے دور میں ان کے خلاف اے سی ای پنجاب نے مقدمہ درج کیا تھا۔

    ڈاکٹر ذیشان ڈی ایس ٹو سی ایم۔ وزیراعلیٰ سابق اے ڈی سی آر ٹوبہ ٹیک سنگھ امیر جان سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ کے فرنٹ مین تھے جنہوں نے پیسے اور آئی فون لے کر کئی افسران کی پوسٹنگ کا انتظام کیا۔ اس نے رشوت لے کر کئی اے ڈی سی آرز کی تعیناتی کی۔

    رانا عبدالشکور۔ رجسٹرار کوآپریٹوز پنجاب۔ (رابطے – بزدار، فرح خان، راجہ بشارت اور مونس الٰہی)۔ راجہ بشارت اور مونس الٰہی کی حمایت سے شکور نے ایک میڈیا ٹائیکون اور راجہ بشارت منسٹر کوآپریٹو کی ایجنسی کے ذریعے فرح خان کے ساتھ معاہدہ کیا اور رجسٹرار کوآپریٹوز کے طور پر ان کی تعیناتی کے لیے 5 کروڑ ادا کیے۔ اس نے اپنے پیشرو رجسٹرار کوآپریٹوز کو معزول کر دیا جو پہلے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر تعینات تھے اور فرح خان کی سربراہی میں اس گروپ کے پلاٹوں کے غیر قانونی مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

    منظور ناصر، ڈی جی ACE پنجاب۔ (کنکشن-بزدار، فرح خان، بزدار برادران، فیاض چوہان، راجہ جہانگیر انور)۔ وہ پیسے اور مشہوری کی خاطر اپنی ماں کو بیچنے کے لیے مشہور ہے۔ انہیں راحیل صدیقی نے ڈی سی گوجرانوالہ اور بعد ازاں ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور سی ای او ٹیوٹا، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور پھر فرح، بزدار برادران اور شہزاد اکبر کی مداخلت پر ڈی جی اے سی ای کے طور پر تعینات کیا تھا۔

    انہوں نے شیخ رشید کی ہدایت پر راولپنڈی سے پی ایم ایل این کے سینیٹر کو گرفتار کیا۔ منظور ناصر نے ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک، سی ای او ٹیوٹا اور ڈی جی اینٹی کرپشن کی پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے مختلف اوقات میں 4 کروڑ ادا کیے۔ واضح رہے کہ سابق ڈی جی اینٹی کرپشن پولیس نے منظور ناصر کو جگہ دینے سے قبل اپنے دو سال کے دور میں ایک ارب روپے سے زائد کمائے تھے۔

    گوہر نفیس، سابق ڈی جی ACE پنجاب۔ (کنکشن- شہزاد اکبر، سابق ڈپٹی چیئرمین نیب)۔ وہ شہزاد اکبر اور نیب کے کٹھ پتلی رہے ہیں اور پی ایم ایل این کی قیادت کے خلاف انتہائی سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ پنجاب میں اس کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی اور سرکاری ملازمین کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا اور بڑی خوشیاں وصول کیں۔ ان کا کیس نیب نے اٹھایا لیکن شہزاد اکبر کے کہنے پر ان کے خلاف کارروائی ختم کر دی گئی۔

    بلال حیدر، کمشنر PESSI (کنکشن- ٹی کے، بزدار، فرح خان) نے بھی بھرتی ہونے کیلئے روپے ادا کیے فرح خان کو دو بار کمشنر PESSI تعینات کرنے پر دو کروڑ ادا کئے-

    ساجد ظفر اقبال، سابق کمشنر ڈی جی خان، سابق سیکرٹری ٹو سی ایم۔ (کنکشن- بزدار، فرح خان)پہلے دور میں شہباز شریف کے ساتھ خدمات انجام دینے کے بعد، انہوں نے بزدار حکومت کے ساتھ ہاتھ ملایا اور وزیراعلیٰ کے سیکرٹری کوآرڈینیشن بن گئے جس کے بعد ان کی تعیناتی کمشنر ڈی جی خان کی گئی۔ وہ شہباز شریف کے دور حکومت کے خلاف آئی کے کو مخبر تھا۔

    سہیل زمان وٹو، کین کمشنر، سابق ڈی سی ساہیوال۔ (کنکشن- بشریٰ بی بی اور فرح خان سے قریبی تعلق)۔ وہ ایک اوسط درجے کے پیشہ ور تھے جنہیں انتہائی سیاسی طور پر جانا جاتا تھا۔ انہیں شہباز شریف نے ڈی سی بھکر کے طور پر رکھا تھا لیکن شکایات پر ہٹا دیا گیا جب اس نے بھکر میں بشریٰ بی بی کے رشتہ داروں کو زمین الاٹ کی تھی۔ عمران خان کے دور حکومت میں، انہیں پہلے ڈی سی ساہیوال اور پھر کین کمشنر کے طور پر شوگر ملوں کو خراب کرنے کے لیے رکھا گیا۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے ساتھ انہوں نے رمضان شوگر ملز کی انتظامیہ وغیرہ کے ساتھ گڈ گڈی کر کے اپنا دوستانہ امیج بنانا شروع کر دیا –

    آصف بلال لودھی، سیکرٹری کوآرڈینیشن اور کمشنر لاہور (کنکشن- بزدار، فرح خان)۔ انہیں ابتدائی طور پر بزدار کے سیکرٹری کوآرڈ ینیشن کے طور پر رکھا گیا تھا۔ وہاں سے اسے کمشنر لاہور کے طور پر لانچ کیا گیا اور پی ٹی آئی کی مدد سے اس نے بحریہ ٹاؤن کے لیے فوائد حاصل کیے اور اپنے اور فرح خان اور بزدار کے لیے بھاری رقم وصول کی۔ انہیں بلوچستان کے حوالے کر دیا گیا لیکن بعد میں حال ہی میں دوبارہ چیئرمین پی آئی ٹی بننے میں کامیاب ہو گئے۔

    رانا سقراط امان، سابق سیکرٹری کوآرڈینیشن ٹو سی ایم۔ (کنکشن- ٹی کے گروپ بعد میں بزدار اور فرح خان کے ساتھ شامل ہوا)۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے ۔ ٹی کے نے اسے مقامی حکومت کے پروجیکٹ کے پی ڈی کے طور پر اور بعد میں اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے طور پر اپنا ایجنٹ بنا لیا۔ اسے اس کے بیچ کی ساتھی عائشہ حمید سکریٹری کے ذریعے ٹی کے بیٹیوں کی شادی اور آسیہ گل، فیاض موہل اور خواجہ سہیل سمیت چند ڈی سی کی پوسٹنگ کے لیے دولت اکھٹی کرنے کے بدعنوان طریقوں میں ملوث کیا گیا۔

    رانا محمد ارشد، پراجیکٹ ڈائریکٹر رنگ روڈ لاہور، سابق ڈی سی قصور۔ (کنکشن- بزدار فیملی)۔ وہ کرپٹ تھا اور شراب نوشی اور زنانہ حرکات جیسی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اس نے بھیXEN ہائی وے فیاض بزدار کو 3 کروڑ روپے ادا کئے، وزیراعلیٰ بزدار کے فرنٹ مین اور رنگ روڈ پراجیکٹس کے PD کے طور پر پوسٹنگ حاصل کی جہاں سے انہوں نے روپے کمائے۔ مختلف لینڈ مافیا کی طرف سے 12 کروڑ روپے۔ اس سے قبل ڈی سی قصور کی حیثیت سے انہوں نے ایک ارب مالیت کی سرکاری اراضی کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا تھا اور بھاری رقم وصول کی تھی۔ ACE پنجاب میں ایک کیس ابھی زیر التوا ہے لیکن اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے اسلام آباد میں بھی تعینات رہے-

    طارق بخاری، پی ایم ایس آفیسر۔ (کنکشن- بزدار، راحیل صدیق، جاوید قیصرانی) ڈی جی خان میں پولیٹیکل ایجنٹ رہنے کے بعد، اس نے بزدار اور خاندان اور ان کے دوستوں کے ساتھ ایسے تعلقات استوار کیے ہیں جن میں وہ ابتدائی افسران میں شامل تھے بزدار کے بھائی عمر بزدار کو ڈی سی شیخوپورہ اور پھر ڈی جی کوہ سلیمان اتھارٹی بنانے کے لیے 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    اصغر جوئیہ۔ (کنکشن- بزدار، شہزاد اکبر، فرح خان) انہیں 2019 میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور ریجن کے طور پر رکھا گیا تھا اور وہاں سے انہوں نے شہزاد اکبر اور فرح خان کے ساتھ پی ایم ایل این کے سیاسی پیتل کو نچوڑنے کے لیے اپنے تعلقات استوار کیے تھے۔ اس نے بھی ڈی سی شیخوپورہ اور پھر ڈی سی سرگودھا بننے کے لیے 3 کروڑ روپے رشوت دی شیخوپورہ میں مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے۔

    سید موسیٰ رضا۔ (کنکشن- بزدار اور فرح خان) 1.5 کروڑ روپے دے کر پولیٹیکل ایجنٹ ڈی جی خان بنااور پھر ٹی کے اور بزدار کو ڈی سی بھکر اور بعد میں ڈی سی مظفر گڑھ بننے کے لیے 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    رانا شکیل پی ایم ایس۔ (کنکشن- بشریٰ بی بی کے بھائی، فرح اور بزدار، موسیٰ مانیکا)۔ پتوکی قصور سے تعلق رکھنے والے رانا شکیل جن کے والد 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے کے امیدوار تھے۔ وہ اس سے قبل بشریٰ پنکی کی تحصیل دیپالپور کے اے سی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پنکی فیملی کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات تھے اور انہوں نے موسی مانیکا کو پہلے ڈی سی پاکپتن اور پھر ڈی سی شیخوپورہ تعینات کرنے پر 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    عمر شیر چٹھہ۔ (کنکشن- بشریٰ پنکی اور فرح خان) عمر عاشر چٹھہ اپنے دور میں شہباز شریف کے ڈپٹی سیکرٹری اور پی ایس او رہے۔ بعد ازاں اس نے بشریٰ پنکی اور احسن گجر سے تعلقات استوار کیے اور پہلے ڈی سی سیالکوٹ، اس کے بعد میانوالی اور پھر لاہور میں BS-18 بننے کے لیے 3 کروڑ ادا کیے۔ وہ عمران خان کا شہباز شریف کے خلاف مخبری تھا۔

    ذوالفقار گھمن۔ (کنکشن-احسن گجر، بشریٰ پنکی اور فرح خان) اصل میں پراپرٹی ڈیلر ذوالفقار گھمن نے احسن سلیم گجر کے ساتھ پراپرٹی کا مفاد بڑھایا اور زمین کے سودوں میں فرح خان اور احسن گجر کےفرنٹ مین کا کردار ادا کیا جہاں اس نےکمشنرلاہور اور کمشنر گوجرانوالہ دونوں کے طور پر لاہور، قصور اور گوجرانوالہ میں ان کے حق میں زمین کے لین دین کی سہولت فراہم کی۔

    کیپٹن عثمان یونس، سابق سیکرٹری صحت اور کمشنر لاہور۔ (کنکشن- بزدار، فرح خان، شہزاد اکبر)۔ کیپٹن عثمان نے بڑی چالاکی سے ان کا بھیس بدل کر عمران خان کے خاص آدمی کا روپ دھار لیا، اب وہ پی ایم ایل این کی طرف جھکنا شروع ہو گئے ہیں اور ان کی طرف فرمانبرداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پہلے وہ ڈی سی لاہور تھے اور اپنے آپ کو حمزہ شہباز کے ساتھی کے طور پر پیش کرتے تھے جو جونیئر افسران کو دھمکیاں دیتے تھے۔ انہوں نے عمران خان کی حکومت کے آتے ہی رخ بدل لیا اور 4 سال ڈی سی لاہور رہ کر حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے خلاف مخبر بن گئے۔ وہ تشہیر کا بھوکا ہے اور اس نے خود کو ترین خان گروپ کے ساتھ جوڑ دیا اور کووڈ 19 کی مدت کے دوران سیکرٹری صحت کی حیثیت سے کرپشن کے راستے کی قیادت کی۔ وہ طاہر خورشید گروپ کے بنیادی رکن تھے دیگر میں امیر جان، شہریار سلطان، نبیل اعوان، عمران سکندر، افتخار سہو، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، مدثر ریاض ملک، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، نور الامین مینگل ،احمد اور رضا سرور سغیرہ شامل تھے۔

    رفاقت نسوانا، سابق ڈی جی فوڈ اتھارٹی اور اب بطور رجسٹرار کوآپریٹوز تعینات ہیں۔ (کنکشن- فرح خان، ٹی کے گروپ، راجہ بشارت اور مونس الٰہی) ابتدائی طور پر انہوں نے رجسٹرار کوآپریٹوز کی پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے راجہ بشارت کے ذریعے فرح خان کو 2 کروڑ اور ڈی جی فوڈ بننے کے لیے مزید2 کروڑ ادا کیے تھے۔

    عبداللہ سنبل چیئرمین پی اینڈ ڈی۔ (کنکشن – عمران خان کا آدمی)۔ میانوالی سے تعلق رکھتے ہیں اور نیازیوں کی ذیلی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبداللہ سنبل نے خود کو عمران خان کا زیادہ وفادار ثابت کیا اور عمران خان کا معتمد تھا۔ انہوں نے عمران خان کو شہباز شریف اور فیملی کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان تمام کمپنیوں کے بارے میں بصیرت فراہم کی جن پر نیب نے کارروائی کی لیکن کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے میانوالی اور لیہ کے تمام منصوبوں کو فنڈز فراہم کیے جبکہ باقی پنجاب میں ترقی پر سمجھوتہ کیا۔

    احمر سہیل کیفی، ڈی سی پاکپتن۔ (کنکشن- چیئرمین نیب اور بشریٰ پنکی) چیئرمین نیب جاوید اقبال نے اپنے داماد کے بھائی احمر سہیل کیفی کو پہلے ڈائریکٹر ACE لاہور اور پھر ڈی سی پاکپتن کےعہدے پر تعینات کیا احمر کیفی کے والد پی پی ایس سی میں غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے بدنام ہیں کیونکہ وہ اپنے بیٹوں اور بہو سمیت کئی پی ایم ایس اور دیگر افسروں کے انتخاب میں ملوث ہیں۔

    عاصم جاوید ڈی سی چنیوٹ۔ (کنکشن-عامر جان، بزدار، فرح خان) وہ ہوم ڈیپارٹمنٹ رہے اور ڈی سی چنیوٹ کی پوسٹنگ کے لیے ایک کروڑ ادا کیا۔

    چوہدری پرویز الٰہی گروپ۔ سیف، جو دو بار ڈی سی گجرات اور پھر ڈی سی جہلم تعینات رہےاس نے مونس الٰہی کو ان کی تین پوسٹنگ کے لیے 7 کروڑ روپے ادا کئے-

    خرم شہزاد نے مونس الٰہی کو بطور ڈی سی گجرات، ڈی سی رحیم یار خان اور پھر دوبارہ ڈی سی گجرات کے عہدے پر تعیناتی کے لیے 9 کروڑ ادا کیے گئے جبکہ مہتاب وسیم نے مونس الٰہی کو ڈی سی منڈی بہاؤالدین اور ڈی سی رحیم یار خان کی تعیناتی کے لیے 6 کروڑ ادا کیے تھے۔

    پولیس سروس کرپٹ افسران – بزدار فائلیں۔

    اشفاق خان (PSP/DIG)۔ احسن گجر کا پیسہ اکٹھا کرنے والا بندہ۔ دو بار ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رہے، ایک بار آر پی او فیصل آباد، آر پی او سرگودھا اور آر پی او راولپنڈی رہے 3 سالہ دور حکومت میں ایک دن بھی انعامی پوسٹنگ نہیں کی گئی اور بزدار کو 10 کروڑ روپے، فرح خان کو 15 کروڑ ادا کیے گئے۔ اسے مری میں ہونے والی کئی ہلاکتوں میں کلین چٹ دی گئی تھی۔ عمران خان کوشہباز شریف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیں۔

    رانا فیصل (ڈی آئی جی پی ایس پی)۔ وزیراعلیٰ بزدار بھائی کے کہنے پر بطور آر پی او ڈی جی خان اور سرگودھا تعینات ہوئے عمران خان کو کو شہباز شیرف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیںجبکہ عمران محمود ڈی آئی جی۔ امیر تیمور سابق ایس ایس پی اور عثمان بزدار کے چچا کو ادائیگی کے بعد پوسٹ کیا گیا۔

    زعیم اقبال شیخ۔ سابق ڈی آئی جی 3 سال تک ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ رہے جس کے دوران وہ بنیادی طور پر کرپٹ تھے اور BS-21 بورڈ میں ترقی کے لیے مسترد کر دیے گئے۔عمران خان کو شہباز شریف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیں۔

    بی اے ناصر ایڈیشنل آئی جی۔ احسن گجر نے سابق پاکستان رخصت پر کرپٹ پولیس افسر عظیم ارشد کے ذریعے نیٹ استعمال کیا۔ عظیم ارشد ڈی آئی جی وہ شخص تھا جس نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو مقامی پولیس کے ساتھ جھگڑے میں خاور مانیکا کی مدد کرنے کے لیے فون کیا اور پھر مسٹر گوندل کی سیٹ حاصل کی-

    مبشر مکن مرکزی شخص تھا جو عثمان بزدار کی آنکھ اور کان تھے اور عمر سعید ایس ایس پی کو ان کے آبائی شہر میں ڈی پی او کے طور پر تجویز کیا تھا۔ وہ بزدار سے فرح خان کے گھر پیسے پہنچاتا تھا۔

    مسٹر عاطف ایس ایس پی سی ایم سیکرٹریٹ میں رہے جنہوں نے پولیس کے بہت سے معاملات میں ہیرا پھیری کی اور پوسٹنگ کے لیے رشوت دینے پر درمیانی آدمی کے طور پر کام کیا۔

    محمد اختر پی ایس پی نے بزدار کے لیے پی ایس او کے طور پر خدمات انجام دیں اور فرح خان اور بزدار کے لیے پیسے جمع کرنے والے ایجنٹ تھے جبکہ منتظر مہدی PSP نے بطور CTO لاہور تعیناتی کے لیے 4 کروڑ ادا کیے۔ ان کی سفارش فرح خان نے کی تھی۔

    جی ایم ڈوگر سابق سی سی پی او لاہور نے فرنٹ مین مسٹر افتخار بوڈا کے ذریعے وزیراعلیٰ بزدار کو بھاری رقم ادا کی اور اپنی پوسٹنگ کروائی۔ اس نے خرم جانباز ایس ایس پی کی مدد سے انتہائی کرپشن کی اور ان کے ٹرانسفر ہونے تک بہت پیسہ لوٹا۔

    ذیشان اصغر۔ گجر خاندان سے تعلق رکھنے والے کرپٹ سابق چیف سیکرٹری بلوچستان کے بہت قریب اور اپنے قریبی دوست مبشر ماکن کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہیرا پھیری کرکے لاہور میں ایس ایس پی کے عہدے پر تعینات کیا اور کرپشن کرکے اپنے کیرئیر کا نام روشن کیا اور بڑے بڑے وگوں کو رائفلیں پیش کیں جو کہ رقم تھی۔ ایک پٹواری کا بیٹا ہونے کے ناطے لاکھوں روپے لوٹے-

    12. زاہد مروت پی ایس پی نے بطور ڈی پی او اپنے تین ادوار کے لیے مبشر ماکن اور ایس ایس پی عاطف کے ذریعے بھاری رقم ادا کی جبکہ مستنصر فیروز نے فرح خان اور بشریٰ بی بی کو بطور ڈی پی او تین پوسٹنگ کے لیے بھاری رقم ادا کی۔

  • اگست کا مہینہ جیل میں، بشریٰ بی بی زمان پارک سے غائب

    اگست کا مہینہ جیل میں، بشریٰ بی بی زمان پارک سے غائب

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں جب ریکارڈنگ کر رہا تھا تو اطلاع آئی کہ عمران خان سے وکیل کی جیل میں ملاقات ہوئی اور لائحہ عمل طے کیا گیا کہ اب قانونی طور پر کیا کرنا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ضمانت کی کوئی بات نہیں ہوئی، کیونکہ ضمانت انکے وکیلوں کو بھی پتہ ہے نہیں ہو سکتی، اسکی اپیل میں جا سکتے ہیں اور اپیل سپریم کورٹ میں نہیں ہو گی، بلکہ سپیرئر کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جا کر وہ اپیل کر سکتے ہیں، اس اپیل میں ری ٹرائل ہو گا، بیانات ہوں گے، گواہ آئیں گے، ڈیفنس آئے گا، توشہ خانہ کا ریکارڈ آئے گا، اس میں اگر عدالت نے فیصلہ کیا کہ یہ کیس صحیح ہے تو پھر یہ سمجھیں کہ جیل کی مدت پر نظر ثانی ہو سکتی ہے، دو سال، تین سال ، چھ سال یا جتنا بھی ٹائم ہو، حتمی طور پر تو اب عدالت ہی بتائے گی،ہم نہیں بتا سکتے،سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ ہو رہا ہے مختلف، میں نے صبح دیکھا کہ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے کہ عمران خان فرش پر سویا، تہجد پڑی، چہل قدمی کی اور ہشاش بشاش تھے، رونا پھر کس بات کا رو رہے ہیں کہ وکیلوں کو بھی نہیں ملنے دیا جا رہا، قریشی، عمر ایوب نے یہ بات کی اور کہا کہ میڈیکل سہولیات مکمل نہیں ہمیں عمران خان کی صحت کے ھوالہ سے تشویش ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو بیماری کونس ہے جس کی وجہ سے وہ نہیں رہ سکتا؟ ابھی تو دو ماہ جیل میں ہونے کی بجائے، دو دن ہوئے ہیں اور یہ حال ہے کہ سب رو رہے ہیں، گاڑی میں عمران خان کی گرفتاری کی تصویر دیکھ کر اب سمجھ آئی کہ وہ کالا چشمہ کیوں پہنتا ہے؟ خمار گرفتاری سے نہیں آتا، کسی اور چیز سے آتا ہے، جبران الیاس کی قیادت میں ایک جھوٹی بریگیڈ ہے، جج دلاور کے خلاف بھی عجیب قسم کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، عمران خان نے لوگوں کو ٹرینڈ کیا کہ اتنا جھوٹ بولو کہ لوگ سچ جاننے لگ جائیں ،وکیل کہتے ہیں کہ ڈیڑھ ماہ میں ضمانت ہو جائے گی، نہیں ہو سکتی ، اور اگر ہو بھی جائے تو باقی کیسز بھی چل رہے ہیں، اس میں بھی سزائیں ہونی ہیں، یہ جو وقت ہے، اگست کا مہینہ، یہ عمران کے لئے بہت برا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی غائب ہے، زمان پارک میں کسی نے انہیں نہیں دیکھا دو دن سے بتیاں بھی نہیں جلیں، جو لوگ وہاں رہتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ایک بلب تک بھی نہیں چل رہا، کوئی کہتا ہے کہ حراست میں لیتے ہوئے عمران خان کو مارا گیا، خان کا کک کیا کہتا ہے؟ کس پر اعتبار کریں؟ مار پیٹ ہو سکتی ہے اتنے بڑے آدمی کی ، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • "ایدے منہ تے کپڑا پاؤ” عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟

    "ایدے منہ تے کپڑا پاؤ” عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد انکی رہائشگاہ سے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ عدالتی فیصلے کے چند منٹوں بعد ہی عمران خان پولیس کی تحویل میں تھے، توشہ خانہ کیس میں عدالت نے کہا تھا کہ ساڑھے 12 بجے فیصلہ سنائیں گے، اسوقت عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پہنچ چکے تھے مگر عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عدالتی فیصلے کے وقت عمران خان گھرمیں سو رہے تھے، اور بے خبر تھے کہ اچانک پولیس گرفتاری کے لئے پہنچ گئی،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو تصویر سامنے آئی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی آنکھوں میں سوجن ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی نیند میں ہیں،عمران خان کی گرفتاری کے حوالہ سے پی ٹی آئی کے آفیشیل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چئیرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کیلئے زمان پارک میں پولیس کی زبردستی انٹری ،توڑ پھوڑ اور تشدد

    پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پچھلے گیٹ سے پولیس والوں نے زبردستی اندر انٹری کی ہے،پولیس والوں نے توڑ پھوڑ کر کے ، جتنے بھی گارڈز تھے ان کو مار کر ، دروازہ توڑ کر پولیس کی ساری نفری اندر گھسی ہے ۔ اس کے بعد ہم نے فوراً جا کر خان صاحب کو بتایا کہ خان صاحب پولیس آپ کو گرفتار کرنے آ ئی ہے ۔خان صاحب نے کہا کہ میں 5 منٹ میں منہ ہاتھ دھو کر اور تیار ہو کر باہر آ رہا ہوں ۔ خان صاحب نے اندر جا کر اپنا ٹریک سوٹ اور جوتے پہنے ہیں ۔ اتنی دیر میں انہوں نے خان صاحب کے گھر کے مین دروازے کو توڑ کر فورس انٹری کر لی اور ہم جتنا بھی سٹاف تھا ، 5،6 لوگ تھے ان کو انہوں نے ڈنڈے مارے ، ان کے کپڑے پھاڑ دیے ۔ ابھی وہ یہ کر رہی رہے تھے کہ خاں صاحب باہر آ گئے ۔نہ ان کا سٹاف گھبرایا ہوا تھا ، نہ خان صاحب گھبرائے ہوئے تھے وہ بالکل confident تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میں آ رہاہوں میں کہاں جا رہا ہوں ، میں تو خود گرفتاری دینے کیلئے تیار ہوں ، جب میں ساتھ چل رہا ہوں تو تم لوگ کیوں یہ سب کر رہے ہو ۔ جب وہ ان کے ساتھ آرام سے چل رہے تھے تو تو پولیس والے خان صاحب کو گھسیٹ کر، دھکے مار کر کہنے لگے "چل ساڈے نال چل، ایدے منہ تے کپڑا پاؤ”۔پولیس والوں نے ان کہ منہ پر کپڑا ڈالااور ان کو گھسیٹتے ، دھکے دے کر لے کر گئے ہیں ۔ اس سارے scenario میں نہ سٹاف گھبرایا ہوا تھا نہ خان صاحب خود، وہ بالکل کانفیڈنٹ لگ رہے تھے ، کوئی مسئلہ مسائل نہیں تھا۔ خان صاحب نے کہا کہ میں بالکل گرفتاری دینے کیلئے تیار ہوں لیکن ان سے کہو کہ لوگوں کونہ ماریں میں 2 منٹ میں کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں۔ اتنی دیر میں وہ آئے ہیں گھر میں فورس انٹری کی ہے ، بیڈ روم میں گھسنے کی کوشش کی ہے اور اس طرح سے ان کو گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

  • پی ٹی آئی کارکنان کو بھی گرفتار کرنے کی تیاریاں

    پی ٹی آئی کارکنان کو بھی گرفتار کرنے کی تیاریاں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان کو بھی گرفتار کرنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے متحرک کارکنان کو گرفتار کیا جائے گا، اس ضمن میں پولیس نے فہرستیں بنا لی ہیں ، کئی شہرون میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، پنڈی ، اسلام آباد میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیاہے، لاہور میں بھی پولیس کی بھاری نفری گشت کر رہی ہے، تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر بڑا کریک ڈاون شروع کر دیا جائے گا

    دوسری جانب زمان پارک سے اویس نیازی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہاہے کہ وہ زمان پارک کے معاملات دیکھتا تھا، پولیس ابھی بھی زمان پارک موجود ہے، عمران خان کو جب گرفتار کیا گیا تو بشریٰ بی بی بھی زمان پارک میں موجود تھیں، بشریٰ بی بی کو بھی گرفتار کئے جانے کا امکان ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان