Baaghi TV

Tag: بلدیاتی انتخابات

  • پی ڈی ایم کا مہنگائی مارچ ملتوی ہونے کا امکان

    پی ڈی ایم کا مہنگائی مارچ ملتوی ہونے کا امکان

    پشاور: اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ نا اہل حکومت سے ہر پاکستانی پریشان و تنگ ہے پی ڈی ایم کے سربراہ نے واضح طور پر کہا کہ ہمارا مطالبہ عام انتخابات کے انعقاد کا ہے۔

    باغی ٹی وی : پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی صوبائی قیادت سے لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورت کی ہے، خیبرپختونخوا میں میری اور پنجاب میں شہبازشریف کی ذمہ داری تھی-

    پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کواپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھنے لگی:حلیم عادل شیخ بھی بول اٹھے

    پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 23 مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے تمام جماعتوں نے جذبے کا اظہار کیا ہے، اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ 23مارچ کو پوری قوم مہنگائی کیخلاف اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی، لانگ مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ سربراہی اجلاس میں ہوگا۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ نااہل حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ وبرباد کردیا ہے، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے، آج لوگ مہنگائی کی وجہ سے خودکشیاں کررہے ہیں، منی بجٹ پر کوئی بحث نہیں کرائی گئی-

    نواز شریف اور ان کے بچوں کو بھی صحت کارڈ دیں گے،یہ ان کا حق ہے:اہم شخصیت کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ منی بجٹ کے بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی میں جانا چاہیے تھا، بل کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کنٹرول کرے گا، اسٹیٹ بینک نے حکومت کو کوئی قرضہ نہیں دیا، حکومت نے اب تک جتنے بھی قرضے لیے وہ کمرشل بینکوں سے لیے، ملک کو معاشی صورتحال سے نکالنا وقت کی ضرورت بن گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں وہ نیوٹرل نظر آئے تو نتائج بھی سب کے سامنے ہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی میں تمام اپوزیشن جماعتیں شہباز شریف کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ہرگز نہ سمجھے کہ ہم میں دراڑیں پیدا ہو گئی ہیں۔

    سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کو کبھی اپنا مخالف نہیں سمجھا، پیپلزپارٹی اور اے این پی کو اپوزیشن کا حصہ سمجھتے ہیں، ہمارا مطالبہ عام انتخابات کا ہے، اور پیپلزپارٹی کے ساتھ ہماری سوچ اور فکر حکومت گرانے پر اتفاق رائےموجود ہے۔

    عثمان بزدار”زیرو”شہبازشریف”ہیرو”:مگراندھی سیاسی تقلید میں…

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو بدترین شکست ہوئی ، کے پی کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج سے ثابت ہو چکا ہے کہ عوام مزید اس حکومت کو برداشت کرنےکو تیار نہیں، اگلے مرحلے میں بھی حکمران جماعت کو ناکامی کاسامنا کرنا پڑے گا اور اس سے برا حشر ہوگا۔

    امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نواز شریف کا اپنا وطن ہے وہ کسی بھی وقت آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دعاگو ہیں کہ نوازشریف خیرخیریت سے واپس آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مکمل امن کی ضرورت ہے۔

    دوسری جانب خبریں ہیں کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے باعث پی ڈی ایم کا لانگ مارچ ملتوی ہونے کا امکان ہے ذرائع پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات 27 مارچ کو ہونے جاریے ہیں، جس کی وجہ سے لانگ مارچ کی تحریک متاثر ہوسکتی ہے، اس لئے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    پنجاب اور خیبر پی کے میں دھند کا راج :بارشوں کی خوشخبری بھی آگئی

  • پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم دے دیا

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم دے دیا

    لاہور:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم دے دیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فوری طور پر پنجاب کے اضلاع میں بلدیاتی ہوم ورک شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی ابھی سے تیاری کرنا ہو گی۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور سینئر رہنماؤں نے مشاورت کی۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، گورنر پنجاب چودھری سرور، وفاقی وزرا فواد چودھری، شفقت محمود اور شہباز گل ، وزیر بلدیات محمود الرشید اور وزیر صحت یاسمین راشد نے شرکت کی۔ اجلاس میں دیرینہ کارکنان نے پارٹی کو مزید پروان چڑھانے کے لیے تجاویز دیں۔

    وزیراعظم نے فوری طور پر پنجاب کے اضلاع میں بلدیاتی ہوم ورک شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی حکمت عملی کی خود نگرانی کروں گا۔ چاہتے ہیں اختیارات کی منتقلی نچلی سطح پر ہو۔ عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل کرنے کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی ابھی سے تیاری کرنا ہو گی، پارٹی کی حکومتی اور سیاسی قیادت مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے، پنجاب کی اعلیٰ قیادت پرانے رہنماؤں سے مشاورت سے لائحہ عمل مرتب کرے۔ پرانے ورکرز اور پارٹی رہنماؤں کی آراء کا ہمشہ احترام کیا۔ صحت انصاف کارڈ کی تقسیم کے عمل کو تیز کیا جائے۔

    وزیرِ اعظم عمران خان سے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملاقات کی جس میں وزیرِ اعظم کو پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، انتظامی امور اور امن و امان کی صوتحال سے آگاہ کیا گیا۔

    ملاقات میں چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل، آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان اور پرنسپل سیکٹری پنجاب عامر جان بھی شریک ہوئے۔

    ملاقات میں پنجاب میں کھاد کی کسانوں کو بلا تعطل فراہمی کیلئے اٹھائے گئے انتظامی اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    وزیرِ اعظم نے صوبے میں انتظامی اور امن و امان کی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مزید بہتری لانے کی ہدایات جاری کیں. اسکے علاوہ حکومت کے فلاحی منصوبوں کے اثرات کو عوام تک پہنچانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کیں۔

  • خیبرپختونخواہ بلدیاتی انتخابات:پی ٹی آئی ساڑھے 8 لاکھ ووٹوں کےساتھ سب سے آگے

    خیبرپختونخواہ بلدیاتی انتخابات:پی ٹی آئی ساڑھے 8 لاکھ ووٹوں کےساتھ سب سے آگے

    خیبرپختونخواہ بلدیاتی انتخابات:پی ٹی آئی ساڑھے 8 لاکھ ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے ،جے یو آئی دوسرے نمبرپر،اطلاعات کے مطابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کےاندراختلافات اورٹکٹوں کی غلط تقسیم کے باوجود پہلے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ تا ہم سب سے زیادہ سیٹیں حاصل نہ کر سکیم

    اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے ذرائع سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں اکثریت نشستیں حاصل نہ کرنے کے باوجود ، پی ٹی آئی کے امیدواروں نے صوبے بھر میں دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

    ان حقائق اور اعدادوشمار کی تصدیق کرتے ہوئے کے پی کے وزیر برائے ہائر ایجوکیشن کمیشن کامران بنگش کی جانب سے کل ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق حکمران سیاسی جماعت نے 848,122 ووٹ حاصل کیے جب کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) نے 47 تحصیلوں میں کامیابی کے باوجود 835,384 ووٹ حاصل کیے ہیں اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) 523,096 کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

     

     

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 276,636 کے چوتھے نمبر ہے ،ن لیگ 270,165 کے ساتھ 5ویں نمبر ہے، جماعت اسلامی (جے آئی) 213,310 ووٹوں کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق پی ٹی آئی کو 12,738 ووٹوں کے ساتھ جے یو آئی (ف) پر برتری حاصل ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف پی ڈی ایم اتحاد کی دو درجن سے زائد قومی وعلاقائی جماعتوں نے ملک کرجے یو آئی ف کو ووٹ دیا اوراسی اتحاد نے ن لیگ کو بھی ووٹ دے کرتین تحصیلوں میں کامیابی دلوائی ہے

     

     

    کامران بنگش نے لکھا تھا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں نے پورے صوبہ میں باقی تمام جماعتوں سے زیادہ ووٹ لئے تاہم الیکشن ڈے پر پولنگ اسٹیشنز پر سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں جس کی تحقیقات ہورہی ہیں۔PTIکےسپورٹرز اور ووٹرز کاتہہ دل سے شکریہ اداکرتے ہیں۔‘

    گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم (مقامی حکومتی نظام) کو اس کی جدید شکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے جیسا کہ کامیاب جمہوریتوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحصیل ناظمین کے براہ راست انتخاب سے گورننس میں بہتری آئے گی اور مستقبل کے رہنما پیدا ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ملک کی 74 سالہ تاریخ میں پہلی بار بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرایا ہے۔

    واضح رہے کہ کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں 17 اضلاع کی 62 تحصیل کونسلوں میں پی ٹی آئی کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) 22 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ پی ٹی آئی کی 14 نشستیں ہیں۔

     

    اس کے علاوہ دیگر تحصیلوں میں 12 آزاد امیدوار منتخب ہوئے ہیں، جب کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) چھ تحصیلوں میں ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ن لیگ نے 3 اور جماعت اسلامی (جے آئی) نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور تحریک اصلاح پاکستان نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔

     

     

    وزیراعظم عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ پی ٹی آئی نے کے پی کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں غلطیاں کیں ہی اور اس کی قیمت پارٹی کو چکانا پڑی ہے۔

    انہوں نے کہا تھا، ”غلط امیدواروں کا انتخاب ایک بڑا سبب تھا۔ اب سے میں ذاتی طور پر پی ٹی آئی کی ایل جی الیکشن کی حکمت عملی کی نگرانی کے پی کے ایل جی الیکشن اور پورے پاکستان میں ایل جی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں کروں گا۔ انشاء اللہ پی ٹی آئی مضبوط ہو کر سامنے آئے گی۔

    کے پی کے بلدیاتی انتخابات کا اگلا مرحلہ 18 اضلاع میں 19 جنوری 2022 کو ہوگا۔

  • پی ٹی آئی کی شکست کے ذمہ داروزرا کے نام سامنے آ گئے:وزارتیں واپس لینے کا امکان

    پی ٹی آئی کی شکست کے ذمہ داروزرا کے نام سامنے آ گئے:وزارتیں واپس لینے کا امکان

    پشاور:خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود بلدیاتی الیکشن میں بدترین کارکردگی کے بعد پی ٹی آئی شکست کے ذمہ داروں کے نام سامنے آ گئے۔

    ذرائع کے مطابق 19 دسمبر کو خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں پشاور، مردان، صوابی، بنوں، ڈی آئی خان و دیگر اضلاع میں ہارنے کی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئی، تحریک انصاف کی شکست میں اضلاع کی سطح پر ذمہ داروں کا تعین کر دیا گیا، تحصیل مئیر پشاو کا ٹکٹ گورنر شاہ فرمان ، کامران اور تیمور سلیم جھگڑا کی سفارش پر دیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مئیر کے ٹکٹ پر سفارش پر ارباب شہزاد خاندان کی مخالفت پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، مردان کے تمام ٹکٹ عاطف خان خان کی سفارش پر دئیے گئےتھے، صوابی میں تمام ٹکٹ سپیکر اسد قیصر اور صوبائی وزیر شہرام ترکئی کی سفارش پر دیئے گئے۔ ناقص کارکردگی پر گورنر، سپیکر اسد قیصر سمیت 4 صوبائی وزراء اور 11 اراکین اسمبلی شکست کے ذمہ دار قرار پائے۔

    متھرا میں ارباب نور عالم اور ایم پی اے ارباب وسیم شکست کا ذمہ دار قرار پائے۔ تحصیل بڈھ بیر میں گورنر شاہ فرمان اورایم این اے ناصر موسی زئی کے درمیان اختلافات پر شکست کا سامناکرنا پڑا۔

    ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بلدیاتی الیکشن کے دوران مخالف امیدوار کی حمایت کرنے پر چارج شیٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹس دیئے جائینگے، پارٹی پالیسی کیخلاف جانے والےایم پی ایزاورایم این ایزکےخلاف کاروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے ایم این ایز،ایم پی ایزکوشوکازکے علاوہ مزید کوئی کاروائی نہیں کی جاسکتی۔

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی ملاقات ہوئی، وزیراعظم کو بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی ناقص کارکردگی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بلدیاتی انتخابات کے مایوس کن نتائج کی وجوہات بتائی گئی۔ رپورٹ میں ساتھ نہ دینے والے ارکان پارلیمنٹ اور سینئر رہنماؤں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰٓ محمود خان کو اگلے مرحلے کی حکمت عملی سے متعلق گائیڈ لائنز دی۔

    ذرائع کے مطابق مہنگائی اور ٹکٹوں کی غلط تقسیم کے ساتھ ساتھ مقامی رہنماوں کے آپسی اختلافات شکست کی بڑی وجہ قرار دیئے گئے۔

     

     

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا براہ راست منتخب تحصیل ناظم گورننس کو بہتر بنائیں گے، ایسے نظام سے مستقبل کے لیڈرز تیار ہوں گے، خیبرپختونخوا بلدیاتی الیکشن پر شور شرابہ کیا جا رہا ہے، کسی کو احساس نہیں کہ یہ انتخابات جدید اور تبدیل شدہ نظام کی شروعات ہیں، ایسا نظام کامیاب جمہوریت میں ہوتا ہے، 74 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہمارے پاس با اختیار بلدیاتی نظام ہے۔

  • واقعی پی ٹی آئی کوپی ٹی آئی نے ہرایا :وزیراعظم کورپورٹ پیش:خانیوال میں شکست کے اسباب بھی شامل

    واقعی پی ٹی آئی کوپی ٹی آئی نے ہرایا :وزیراعظم کورپورٹ پیش:خانیوال میں شکست کے اسباب بھی شامل

    پشاور:واقعی پی ٹی آئی کوپی ٹی آئی نے ہرایا :وزیراعظم کورپورٹ پیش ،اطلاعات کے مطابق وزہراعظم کو رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس میں یہ چیز سامنے آئی ہیں کہ ملک میں پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی ہی ہرا رہی ہے ، بنیادی طور پر یہ رپورٹ کے پی کے انتخابات سے متعلق تھی ، اس رپورٹ میں خانیوال میں ہارکے اسباب بھی شامل ہیں‌

    ذرائع کے مطابق موروثی سیاست پر تنقید کرنے والے عمران خان کی پارٹی میں گورنر، وزرا، ایم پی ایز اور ایم این ایز کے رشتے داروں اور ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ٹکٹ دیے گئے، ان میں سے کئی امیدوار شکست کھا گئے جس کا اعتراف خود پارٹی کے وزراء نے بھی کیا۔

    خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر محمود جان کے بھائی احتشام خان کو پی ٹی آئی کی جانب سے پشاور کی تحصیل متھرا کی چیئرمین شپ کے لیے ٹکٹ دیا گیا مگر ہار ان کا مقدر بنی۔

    تحصیل شاہ عالم کی میئرشپ کے لیے ٹکٹ ایم پی اے ارباب جہانداد کے بھانجے ارباب وقاص خان کو ملا مگر وہ بھی ناکام ثابت ہوئے۔

    اسی طرح صوابی کی تحصیل رزڑ کے لیے صوبائی وزیر شہرام ترکئی کے کزن بلند اقبال کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا گیا مگر وہ اے این پی کے امیدوار سے 22 ہزار ووٹوں سے شکست کھا گئے ۔

    وزیر دفاع پرویز خٹک کے بیٹے اسحاق خٹک کو تحصیل نوشہرہ کے چیئرمین اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے کزن عطا اللہ کو صوابی سے چیئرمین شپ کا ٹکٹ دیا گیا جو دونوں کامیاب ہوئے۔

    وزیراعظم عمران خان کو موصول ہونے والی رپورٹ میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹکٹ اراکین اسمبلی کے رشتے داروں اور منظور نظر افراد کو دیے گئے۔

    خانیوال کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جیتنے والے رانا سلیم جو کہ پی ٹی آئی کے پرانے ورکروں اور ساتھیوں میں سے تھے اور انہوں نے 2018 کا الیکشن بھی پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے لڑا تھا اس مرتبہ رانا سلیم کو ٹکٹ نہ دے کراورن لیگ سے بے وفائی کرنے والے نشاط ڈاہا مرحوم کی بیوہ کوٹکٹ ہی شکست کا سبب بنا

    رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اس بات سے اختلاف تھا کہ ایک نظریاتی اورپرانے ساتھی کو چھوڑ کر ایک منحرف سابق رکن اسمبلی کی بیوہ کوٹکٹ کیوں دیا جارہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ خانیوال کے اس الیکشن میں رانا سلیم کوپی ٹی آئی کے 90 فیصد ورکروں نے ووٹ دے کرعثمان بزدار کے غلط فیصلے کودریائے سندھ میں ڈبو دیا

  • کے پی سے ن لیگ اپنے اختتام کے قریب:اگلے مرحلے میں مکمل صفایا ہونے کا امکان

    کے پی سے ن لیگ اپنے اختتام کے قریب:اگلے مرحلے میں مکمل صفایا ہونے کا امکان

    جاتی امرا :کے پی سے ن لیگ اپنے اختتام کے قریب:اگلے مرحلے میں مکمل صفایا ہونے کا امکان،اطلاعات کےمطابق ن لیگ کی قیادت اس وقت سخت پریشان ہے اورن لیگ میں پریشانی مزید بڑھ رہی ہے،اطلاعات ہیں کہ ن لیگ کو کے پی کے بلدیاتی انتخاب میں جوشکست ہوئی ہے اس شکست نے پارٹی کے وجود کوخطرے میں‌ ڈال دیا ہے

    ادھر ذرائع کے مطاق نوازشریف نے اس شکست کا نوٹس لیا ہے اورپارٹی کوہدایت کی ہےکہ وہ شکست کے اسباب نوٹ کرکے لندن روانہ کریں ، ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پارٹی ویسے ہی دو گروہوں میں واضح تقسیم ہوتی ہوئی نظر آتی ہے ، ن لیگ اور ش لیگ کی صورت میں سامنے آنے والے گروہوں کے بعد اب پارٹی پنجاب کی حد تک رہ گئی ہے

    کے پی میں 64 میں سے صرف 3 نشستیں حاصل کرنے کے بعد جو تصویر سامنے آئی ہے وہ کچھ اس طرح ہے ، ن لیگ نے جو تین نشستیں حاصل کی ہیں ان میں ن لیگ کوجمیعت علما اسلام فضل الرحمان،جمعیت علمائے اسلام نورانی گروپ ، جمعیت علمائے اسلام نیازی گروپ،مرکزی جعمیت اہلحدیث، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی،پی ٹی ایم سمیت ایک درجن کے قریب علاقائی جماعتوں نے سپورٹ کیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسی اتحاد نے جے یو آئی ف کو کے پی میں‌ سپورٹ کرکے حکومت کوٹف ٹائم دیا ہے،

    ادھر انہیں حالات کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا ہے کہ نااہل لیگ کی امیدوں کا مرکز لوکل گورنمنٹ الیکشن ہے۔

    شہباز گِل نے احسن اقبال کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آٹھ برس سے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی مقبول ترین پارٹی ہے،ن لیگ کا خیبر پختونخوا سے صفایا ہو گیا ہے، نااہل لیگ صرف پنجاب کے چند حلقوں کی پارٹی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پہلے فیز کی ناکامی پر خوش ہونے والے کل ہماری جیت پر آنسو بہاتے ملیں گے، خیبرپختونخوا پی ٹی آئی کا قلعہ تھا اور رہے گا، عمران خان پاکستانی عوام کے واحد امید ہیں۔

    اس سے قبل احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا تھا کہ عوام کو مبارک ہو، عمران نیازی نے خیبر پختونخوا کی شکست کا نوٹس لے لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں پی ڈی ایم کی جماعتوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کی حکومت نے عوام سے جھوٹے وعدے کیے اور انتقامی ایجنڈے پر کام کیا۔ ملک میں گیس کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ عوام کی ضرورت کی اشیا کو منافع خوروں کے ہاتھوں میں دے کر سٹہ بازی کروائی۔

  • مہنگائی کا بلدیاتی  انتخابات سے کوئی تعلق نہیں،کامران بنگش

    مہنگائی کا بلدیاتی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں،کامران بنگش

    مہنگائی کا بلدیاتی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں،کامران بنگش
    خیبر پختونخواہ کے صوبائی وزیر کامران بنگش نے کہا ہے کہ 17اضلاع میں پی ٹی آئی کے امیدوار تھے ،

    صوبائی وزیر کامران بنگش کا کہنا تھا کہ ہمارے ناراض ارکان بھی امیدوار تھے،پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف نہیں گرا، مسائل ہرجگہ ہوتے ہیں،وزیراعظم کہہ چکے ہیں ٹکٹ کی غلط تقسیم نے شکست کا موقع پید ا کیا،ہم آگے کمزوریوں کا جائزہ لیں گے اور اصلاح کریں گے،پشاورمیں بلدیاتی انتخابات کی صورتحال عجیب رہی الیکشن سے 3 دن پہلے ایک امیدوار کے والد نے کہا 20 کروڑ روپے جیت کے لیے لگائے دھاندلی کے الزام نہیں لگا رہے ،ایک شخص اعتراف کررہاہے اس کا نوٹس لینا چاہیے،مہنگائی کا بلدیاتی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ، وزرا کا مہنگائی کوبلدیاتی انتخابات میں شکست وجہ قراردینا ان کی آرا ہیں،پی ٹی آئی سے وابستگی ہے ،ہار پر افسوس ہے ،ہم غلطیوں سے سیکھ کرآگے بڑھنے کی کوشش کریں گے

    وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ اس وقت اگر پی ٹی آئی کمزورہوئی توملک بھیڑیوں کےہاتھ لگ جائےگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پو اپنے ٹوئٹ میں خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست پر کہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اورکارکنان ذاتی اختلافات پس پشت ڈالیں عمران خان کی قیادت میں خود کومنظم کریں۔


    انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس وقت اگر پی ٹی آئی کمزورہوئی توملک بھیڑیوں کےہاتھ لگ جائے گا جے یوآئی جیسی شدت پسند جماعتیں پی ٹی آئی کا متبادل نہیں ۔

    بلدیاتی انتخابات،تحریک انصاف کی شکست، وزیراعظم بھی بول پڑے

    انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں قرضوں کی ادائیگیوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی 12.27 ارب ڈالر ہے آئندہ مالی سال 2023 میں غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی 12.5 ارب ڈالر ہوگی۔


    وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 5 سال دور حکومت میں مجموعی قرض ادائیگیاں 55 ارب ڈالر ہوں گی مسلم لیگ ن نے 5 سالہ حکومت میں 27 ارب ڈالر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی۔

    امریکہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    دوسری جانب بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں غلطیاں کیں اور قیمت چکائی، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غلط امیدواروں کا انتخاب سب سے بڑا سبب بنا ، اب سے ذاتی طورپر بلدیاتی انتخابات کی نگرانی کروں گا، دوسرے مرحلے سمیت پورے ملک کے بلدیاتی انتخابات نگرانی کروں گا،آئندہ تحریک انصاف مضبوط بن کرسامنے آئے گی-

    اومی کرون ویریئنٹ کی علامات سامنے آگئیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سیاسی قلعے خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں جے یو آئی نے میدان مار لیا ہے، جے یو آئی کے امیدواروں نے تحریک انصاف حکمران جماعت کو شکست دے دی ہے، بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو میئرز کے الیکشن میں شکست کا سامنا ہے اسی طرح چیئرمین تحصیل کونسلز کے انتخابات میں بھی جے یو آئی (ف) کے امیدواران آگے ہیں پشاور، مردان، بنوں اور کوہاٹ میں میئر کے لیے پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہو سکا-

  • بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے پی ٹی آئی کو کوئی پریشانی نہیں، چوہدری فواد حسین

    بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے پی ٹی آئی کو کوئی پریشانی نہیں، چوہدری فواد حسین

    وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں عمران خان اور پی ٹی آئی کی مقبولیت اب بھی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فواد حسین نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج اور دیگر انتخابات کے نتائج کو دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کا ووٹ بینک مختلف نہیں-

    چوہدری پرویز الہی اورعثمان بزدارکی بلدیاتی الیکشن میں ملکرحصہ لینےکےحوالے سے مشاورت

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں وہ پورا کر دیا میکنزم پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے لیکن ان انتخابات سے پی ٹی آئی کی غیر مقبولیت ظاہر نہیں ہوتی، بلدیاتی انتخابات کا معاملہ مقامی ایشوز پر ہوتا ہے، اس میں قومی رنگ نہیں ہوتا، اس میں اختلافات بھی شامل ہوتے ہیں اس کے علاوہ ان انتخابات میں عام انتخابات کی طرح پارٹی کی لیڈر شپ موجود نہیں ہوتی خیبر پختونخوا میں دوسرے مرحلے کے انتخابات اور پنجاب میں الیکشن متاثر نہیں ہوگا، ہم سمجھتے ہیں کہ مقامی حکومتوں کا نظام ملک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

    افغانستان میں امریکہ کے نمائندہ خصوصی کی آرمی چیف سے ملاقات، افغانستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر…

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بلاول اور مریم کے حوالے نہیں کیا جاسکتا، ان کی حیثیت عمران خان کے مقابلے میں سیاسی بونوں جیسی ہے، خیبر پختونخوا کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے چار چار لوگوں نے کئی جگہوں پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا، پی ٹی آئی کے امیدواروں اور ان آزاد امیدواروں کے ووٹوں کو یکجا کرلیں تو یہ ووٹ بینک پاکستان تحریک انصاف کا ہی ہے۔

    بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والی جے یو آئی کوسینیٹ انتخاب میں ذلت آمیزشکست:شوکت ترین سینیٹر بن گئے

    فواد چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات سے ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے علاوہ بھی خیبر پختونخوا میں دیگر علاقائی جماعتوں کا ووٹ بینک موجود ہے، پاکستان تحریک انصاف کے مدمقابل جماعتوں کا موازنہ کیا جائے تو پنجاب میں پی ٹی آئی کا مقابلہ ایک پارٹی سے جبکہ سندھ میں دوسری اور خیبر پختونخوا میں کسی تیسری جماعت سے ہے۔

    پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی ہی لے ڈوبی: سٹی میئر پشاور کی سیٹ جے یو آئی لے اُڑی

    وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی میں ٹکٹس کی تقسیم کو درست کرلیا جائے اور ایک امیدوار پی ٹی آئی کا الیکشن لڑے تو ووٹ بینک کا درست اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، خیبر پختونخوا میں 17 تحصیل نشستیں پی ٹی آئی نے جیتی ہیں-

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں ہر تحصیل الیکشن میں دو دو تین تین ایم این اے اور ایم پی اے موجود ہوتے ہیں، جب تک وہ اکٹھے نہیں ہوں گے تو ووٹ بینک بھی اکٹھا نہیں ہوسکتا، بلدیاتی انتخابات کے نظام میں ان کا اکٹھا ہونا ہی مشکل ہےاس سے پہلے ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو دیکھا جائے تو پی پی پی اور ن لیگ نے تو چیف منسٹرز کو ڈکٹیٹر بنا کر بٹھا دیا تھا، سندھ میں جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

    بلدیاتی انتخابات نے ثابت کردیا کہ گزشتہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی،مولانا فضل الرحمان

  • بلدیاتی انتخابات نے ثابت کردیا کہ گزشتہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی،مولانا فضل الرحمان

    بلدیاتی انتخابات نے ثابت کردیا کہ گزشتہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی،مولانا فضل الرحمان

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات نے ثابت کردیا ہے کہ گزشتہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے پارلیمانی معاملات میں ہمیشہ جمیعت کو سپورٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی عوام نے پیغام دے دیا ہے کہ یہ جعلی حکومت تھی اور ہے۔

    بلدیاتی الیکشن، پشاور سمیت میئر کی تین سیٹوں میں جے یو آئی آگے

    مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی (ف) پہلے بھی صوبہ خیبر پختونخوا کی بڑی جماعت تھی اور آج بھی ہے پریس کانفرنس میں مولانا عبدالغفور حیدری اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی بھی موجود تھے۔

    پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی ہی لے ڈوبی: سٹی میئر پشاور کی سیٹ جے یو آئی لے اُڑی

    ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک بھر میں کارکنان کی سطح پر تیاریاں شروع ہیں ہمارے صوبے میں بلدیاتی انتخابات آگئے تھے جبکہ دیگر پارٹیاں بھی کچھ مصروف تھیں لیکن ابھی ہمارے پاس دو ماہ ہیں پنجاب میں شہباز شریف 23 مارچ کے پلان پر مشاورت مکمل کریں گے۔

    بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والی جے یو آئی کوسینیٹ انتخاب میں ذلت آمیزشکست:شوکت ترین سینیٹر بن گئے

    امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان عمران خان سے بہتر چلانا جانتے ہیں ہمیں نظام چلانا آتا ہے اور پاکستان کو بہتر طریقے سے چلائیں گے کرپشن کی صرف باتیں کی گئیں لیکن جے یو آئی کے خلاف کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔

    پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ نے طالبان سے صلح کرلی ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات:عالم اسلام کے لیے جدوجہد کوسلام

  • پشاور: نیبر ہڈ کونسل نمبر45 پرووٹرز کے نام لسٹ سے غائب، کارکنان کا احتجاج

    پشاور: نیبر ہڈ کونسل نمبر45 پرووٹرز کے نام لسٹ سے غائب، کارکنان کا احتجاج

    خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں پولنگ کا سلسلہ جاری ہے ،پشاورمیں بدنظمی اور بھدڑ کے باعث پولنگ اسٹیشن پر پولیس اہلکار سمیت 2 افراد زخمی ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی :پولنگ شام 5 بجے تک کسی وقفے کے بغیر جاری رہے گی پہلے مرحلے میں پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، مالا کنڈ، باجوڑ، مردان، صوابی، کرک، بنوں، ٹانک، ہری پور، خیبر، چارسدہ، ہنگو اور مہمند میں انتخابات ہو رہے ہیں۔

    خیبر پختونخوابلدیاتی انتخابات:ایک ہی شخص کی دو بیویاں میدان میں

    خیبر پختونخوا کے ان 17 اضلاع میں 1 کروڑ 26 لاکھ 68 ہزار سے زیادہ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

    سٹی مئیر اور تحصیل چیئرمین کی نشستوں کے لیے 689، ویلیج اور نیبرہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں پر 19 ہزار 285، خواتین کی نشستوں پر 3 ہزار 870، مزدور اور کسان کی نشستوں کے لیے 7 ہزار 428، یوتھ نشستوں پر 6 ہزار 11 اور اقلیتی نشستوں پر 293 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

    بلدیاتی الیکشن میں خواجہ سرا بھی امیدوار

    صوبے میں مجموعی طور پر 9 ہزار 223 پولنگ اسٹیشنز اور 28 ہزار 892 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں، ان میں سے 4 ہزار 188 پولنگ اسٹیشن حساس اور 2 ہزار507 حساس ترین قرار دیئے گئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کےلیے ووٹرز کو مختلف رنگ کے 6 بیلٹ پیپرزدیے جا رہے ہیں ووٹر کو 6 مختلف رنگ کے بیلٹ پیپرز پر 6 ووٹ کاسٹ کرنے ہیں۔ تحصیل چیئرمین یا میئر کے امیدوار کے لیے سفید رنگ کا بیلٹ پیپر ہے جنرل کونسلر کی نشست کے لیے سلیٹی رنگ، خواتین کی سیٹ کے لیے گلابی رنگ کا بیلٹ پیپر مختص کیا گیا ہے۔

    مزدور اور کسان کے لیے ہلکے سبز رنگ، یوتھ کے لیے زرد رنگ اور اقلیت کے لیے بھورے رنگ کے بیلٹ پیپرز ووٹر کو دیے جا رہے ہیں اس طرح سے ہر ووٹرکو ایک وقت میں 6 ووٹ کاسٹ کرنے ہیں ۔الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹرز کی آسانی کےلیے بیلٹ پیپرز کے رنگ مختص کیے گئے ہیں۔

    تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع میں بھی بلدیاتی انتخابات منعقد کیےجا رہے ہیں اور انتخابات کے پہلے فیز میں باجوڑ، ضلع مہمند اور ضلع خیبر میں انتخابات کرائے جائیں گے جبکہ باقی اضلاع میں دوسرے مرحلےمیں انتخابات منعقد کیے جائیں گے-

    خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کل ہو ں گے

    پشاور میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول شاہ عالم پولنگ اسٹیشن میں بے نظمی کا واقعہ پیش آیا ہے جہاں دھکم پیل میں 1 پولیس اہلکار سمیت 2 افراد زخمی ہو گئے گورنمٹ پرائمری اسکول شاہ عالم پولنگ اسٹیشن میں دھکم پیل اور بے نظمی کے باعث 1 شخص کی حالت غیر ہو گئی، جسے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    ووٹرز کے دھکم پیل میں پولیس اہلکار سمیت 2 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملنے پر ایس پی سیکیورٹی محمد نبیل کھوکھر بھاری نفری کے ہمراہ متعلقہ پولنگ اسٹیشن پہنچ گئے انہوں نے کہا کہ لوگ قطاروں میں کھڑے نہ ہو کر خود بے نظمی پیدا کر رہے ہیں پولیس انتخابی عمل میں پر امن ماحول فراہم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

    دوسری جانب پشاور کے نواحی علاقے نیبر ہڈ کونسل نمبر45 پرووٹرز کے نام لسٹ سے غائب

    ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے پر پولنگ کا عمل روک دیا گیا سیاسی جماعت کے کارکنان نے احتجاجاً رنگ روڈ‌کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے عملے کی فہرست میں ووٹرز کا اندراج نہیں ہے مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا مسئلہ حل کیا جائے ہمارے پاس موجود لسٹ میں تمام نام موجود ہیں الیکشن کمیشن عملہ تعاون نہیں کر رہا اگر یہی صورتحال رہی تو وہ پولنگ اسٹیشن میں پولنگ نہیں چلنے دیں گے-

    پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں موجود ہے معاملے کو حل کیا جا رہا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا عملہ بھی معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے-

    جبکہ پشاور کے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول گور گٹھری میں قائم زنانہ پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کا عمل شروع نہ ہو سکا جس کی وجہ سے پولنگ اسٹیشن کے باہر خواتین ووٹرز نے احتجاج کیا مشتعل خواتین ووٹرز کا کہنا تھا کہ ایک گھنٹے سے زیادہ ہو گیا ہے ہمیں ووٹ کاسٹ کرنے نہیں دیا جا رہا۔

    ریٹرنگ آفیسر گل بانو کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وقت پر پولنگ شروع نہیں کرا سکے، انتخابی عمل کے لیے انتظامات کر رہے ہیں، ووٹرز کو اضافی وقت دیں گے۔

    این سی 33 گھنٹہ گھر سے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیدوار نے الیکشن انچارج پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے این سی 33 گھنٹہ گھر سے امیدوار برائے میئر حاجی شیر رحمٰن کی جانب سے الیکشن کمیشن میں تحریری درخواست بھی جمع کرا دی گئی۔

    درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ این سی 33 گھنٹہ گھر میں پی ٹی آئی کے الیکشن انچارج حلیم شیرازی نے دھاندلی کی ہے۔

    اے این پی امیدوار برائے میئر حاجی شیر رحمٰن نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار کے ساتھیوں کو میئر کے بیلٹ پیپرز کی کاپیاں دی گئیں۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس پولنگ اسٹیشن کی انچارج حلیم شیرازی کی اہلیہ ہے، میئر کے بیلٹ پیپرز لیک ہو چکے ہیں، جن کے استعمال ہونے کا خدشہ ہےجبکہ دو اور اسکولوں میں بھی اس قسم کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

    لنڈی کوتل میں بے نظمی و بھگدڑ، ووٹرز نے بیلٹ باکس توڑ دیا

    خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے 3 مختلف پولنگ اسٹیشنز پر بے نظمی اور بھگدڑ کے باعث پولنگ کا عمل روک دیا گیا ہے پولیس کے مطابق ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل 82 میں ووٹرز نے بےنظمی کے دوران بیلٹ باکس توڑ دیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر خیبر کی ایک اور تحصیل جمرود وی سی ون کے پولنگ اسٹیشن پر ووٹر مشتعل ہو گئے جنہوں نے پولنگ اسٹیشن کے اندر الیکشن کے عملے کے خلاف نعرے بازی کی ووٹرز نے شکایت کی ہے کہ راتوں رات ایک پولنگ اسٹیشن کو ختم کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بنوں کی تحصیل بکا خیل کے واقعے کا نوٹس لے لیا چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بکا خیل کے واقعے کے حوالے سے فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    بنوں:تحصیل بکا خیل میں امن و امان کی خراب صورتِ حال، پولنگ ملتوی

    بنوں کی تحصیل بکا خیل میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ ملتوی کر دی گئی ہے، نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا اس ضمن میں چیف الیکشن کمشنر نے 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی، یہ کمیٹی مکمل تحقیقات کر کے 7 روز میں اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو دے گی۔

    سٹی میئر کا امیدوارقتل:ڈی آئی خان میں مئیر کا انتخاب ملتوِی:قتل کی ناقابل یقین وجوہات بیان کی…

    دوسری جانب جے یو آئی رہنما اکرم درانی نے بکا خیل میں پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر شاہ محمد خان پر 5 پولنگ اسٹیشنز پر دھاوا بولنے، انتخابی عملے کے اغواء اور پولنگ سامان ساتھ لے جانے کے الزامات لگائے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ شاہ محمد خان نے پولیس پر فائرنگ بھی کی ہے، پولنگ اسٹیشنز کے یرغمال عملے کو اس وقت 1 پیٹرول پمپ میں رکھا گیا ہے متعلقہ ڈی سی اور ڈی پی او کو تمام صورتِ حال سے آگاہ کر دیا ہے، انتظامیہ آگاہ کیے جانے کے باوجود بے بس ہے۔

    بنوں: 3 پولنگ اسٹیشنز پر مسلح افراد کا حملہ

    خیبر پختون خوا کے ضلع بنوں کے علاقے نرمی خیل میں رات گئے 3 پولنگ اسٹیشنز پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا الیکشن کمشنر حبیب الرحمٰن کے مطابق مسلح ملزمان نرمی خیل کے تینوں پولنگ اسٹیشنز سے پولنگ کا سامان اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے الیکشن کمشنر بنوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے یہ تینوں پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار دیئے گئے تھے۔

    انا لله و انا الیه راجعون:شہری کی کھائی میں پھنسی کار نکالتے ہوئے پولیس اہلکارشہید