Baaghi TV

Tag: بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر

  • جماعت اسلامی نے لیاقت آباد میں پارک و ماڈل اسٹریٹ کا افتتاح کر دیا

    جماعت اسلامی نے لیاقت آباد میں پارک و ماڈل اسٹریٹ کا افتتاح کر دیا

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ٹائون چیئرمین لیاقت آباد فراز حسیب ،وائس چیئرمین اسحاق تیموری،کے ہمراہ یونین کمیٹی نمبر07 سی ایریا میں ٹیپو سلطان پارک اور سید شہاب الدین ماڈل اسٹریٹ کا افتتاح کیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سید شہاب الدین نعمت اللہ خان کے دور میں نائب ناظم لیاقت آباد ٹائون تھے جبکہ موجودہ یوسی چیئر مین تھے جن کا چند ماہ قبل انتقال ہو گیا ۔پارک کی بحالی وماڈل اسٹریٹ کی تعمیر ٹائون چیئر مین اور ان کی ٹیم کی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔علاقہ مکینوں نے جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی کوششوںو عوامی خدمت کو سراہا اور تشکر کا اظہار کیا ۔ علاوہ ازیں منعم ظفر خان نے ’’ہفتہ یکجہتی فلسطین و لبنان ‘‘ اورجماعت اسلامی کی ’’ممبر شپ مہم‘‘ کے سلسلے میں الکرم اسکوائر لیاقت آباد پر قائم کیمپ کا بھی دورہ کیا اور عوام کو ممبر بنایا،منعم ظفر نے کیمپ پر موجود کارکنوں اور علاقہ مکینوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت و دہشت گردی کو روکنے کے لیے پوری امت کو متحد بالخصوص ہمارے حکمرانوں کو بزدلی ترک کرکے اسرائیل کے خلاف مشترکہ طور پر راست اقدام کرنا پڑے گا ۔

    چھوٹے کاروبار کی معاونت کے لئے گورنرہاوس سندھ میں خصوصی سیل قائم

    عوام کے اندر اسرائیل کے حوالے سے کوی ابہام نہیں ، عوام اسرائیل کے خلاف ہیں ، حکمرانوں پر عوامی دبائو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ جماعت اسلامی کے تحت اتوار 6اکتوبر کو 3بجے دن شاہراہ فیصل پر عظیم الشان اور تاریخی ’’الاقصیٰ ملین مارچ ‘‘ منعقد ہوگا ، اہل کراچی اپنی فیملی کے ہمراہ جوق در جوق شریک ہوں اور پوری دنیا کو اسرائیل کے خلاف متحد ہونے کا پیغام دیں ۔
    پارک و ماڈل اسٹریٹ کے افتتاح کے موقع پر منعم ظفر خان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں لیاقت آباد کے لوگوں نے جماعت اسلامی پر اعتماد کا اظہار کیا ،ہم لیاقت آباد ٹائون کے عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے ۔ 10 مہینے میں ہمارے نوجوان ٹاؤن چیئرمین فراز حسیب اور ان کی ٹیم نے لیاقت آباد ٹاون میں مثالی ترقیاتی کام کرکے ثابت کر دیا ہے کہ ہم نے دعوے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد و تعاون سے کام کر کے دکھایا۔
    لیاقت وہ علاقہ ہے جوپورے شہر کو لیڈ کرتا تھا اور لیاقت آباد سے ہی قومی و سیاسی تحریکیں آ گے بڑھتی تھیں لیکن اسے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ۔ اختیارات اور فنڈز کی کمی کے باوجود جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی کوششوں سے لیاقت آباد ایک بار پھر روشن ہو رہا ہے۔ہم نے 10 مہینے میں اختیارات کا رونا نہیں رویا9ٹائون اور 87یوسیز میں اختیارات سے بڑھ کر عوامی خدمت کا فریضہ ہم نے سرانجام دیا ہے، عوام کی خدمت ہمارا ورثہ ہے ، ہمارے بزرگوں نعمت اللہ خان اور عبدالستار افغانی نے عوامی خدمت اور تعمیر و ترقی کی مثالیں قائم کی ۔
    انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے ساتھ مل کر ظالم کو حکمرانوں سے عوام کاحق چھین کر لیں گے۔ جماعت اسلامی عوامی جدوجہداور مزاحمت کے ذریعے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی ۔ کراچی کے وسائل پر کسی کو بھی قبضہ نہیں کرنے دیں گے ،ٹائون چیئرمین لیاقت آباد فراز حسیب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت آباد کے عوام نے ہم پر اعتماد کیا آج صرف 10 مہینے میں لیاقت آباد آگے بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے ہم نے ترقیاتی کام کیے ،پارکس بنائے ،اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کئے ۔
    ترقی کا جو سفر شروع کیا گیا ہے وہ جاری رہے گا ۔ آنے والا وقت بھی عوام کی خدمت اور تعمیر و ترقی کا وقت ہے۔ اس موقع پر فراز حسیب نے لیاقت آباد ٹائون کے سابقہ نائب ناظم سید شہاب الدین کے ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت کی اور ان کی خدمات کو سراہا، فراز حسیب نے یو سی پینل کے افراد اور اہل محلہ اور ان سب کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے ٹائون انتظامیہ کے ساتھ ٹیپو سلطان پارک اور سیدشہاب الدین ماڈل اسٹریٹ بنانے میں تعاون کیا۔
    اس موقع پر لیاقت آباد ٹائون کے کو آرڈی نیٹر صغیر احمد انصاری، مختلف یوسی چیئرمین منتخب بلدیاتی نمائندے، ڈائریکٹر پارکس ریحان ہمدانی، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ ناصر، ڈائریکٹر انفارمیشن فہیم مصطفی اور دیگر بلدیاتی افسران بھی موجود تھے، جبکہ ممبر شپ کیمپ پر نائب امیر کراچی انجینئر سلیم اظہر ،ناظم علاقہ مسعود علی اور جماعت کے دیگر ذمہ داران وکارکنان موجود تھے۔

  • ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہونے پر حکومتی اتحادی ایم کیو ایم ناراض

    ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہونے پر حکومتی اتحادی ایم کیو ایم ناراض

    وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ناراض ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے لئے ترقیاتی فنڈز کا اجرا نہ ہونے پر ایم کیو ایم ناراض ہے، طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد میں پیشرفت نہ ہونا بھی وجہ تنازع ہے۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے ن لیگ کے ساتھ اتحاد پر سوال اٹھا دیئے۔علی خورشیدی نے کہا کہ کارکنان، ووٹر، سپورٹر پوچھ رہے ہیں وفاق میں اتحادی ہونے کا کیا فائدہ ہے، کراچی کی ترقی کے لئے وفاقی حکومت نے توقعات کے مطابق کردار ادا نہیں کیا، لگتاہے کہ سندھ کو ترقی کی دوڑ سے دور نکال دیا ہے۔اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ ہم نے ذاتی ایشوز نہیں کراچی کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔

    گھر سے بھاگنے والی 3نابالغ بچیاں انسانی سمگلرز کے ہتھے چڑھنے سے بچ گئیں

    واضح رہے کہ سندھ میں اور کراچی بلدیہ عظمی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باعث ایم کیو ایم کو فنڈ کے اجرا میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث پارٹی نے کئی دفعہ معاملہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم کے ساتھ اٹھا یا ہے.

  • سندھ میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات 14نومبر ہوں گے

    سندھ میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات 14نومبر ہوں گے

    سندھ کی26اضلاع میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کو موصولاطلاعات میں ترجمان ضلعی الیکشن نے بتایا کہ ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ 14نومبر کو ہوگی، صوبے میں 77مختلف کیٹگری کی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوگا جبکہ کراچی میں مجموعی طور پر 10بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوگا جن میں 4چیئرمین ، 2وائس چیئرمین اور 4وارڈ کونسلر کی نشستوں پر پولنگ ہوگی۔
    خیال رہے صوبے میں 22یوسی چیئرمین، 15وائس چیئرمین ، 29وارڈ ممبرزاور11ممبرز ڈسٹرکٹ کونسل کی نشستیں خالی ہیں۔یاد رہے ضمنی انتخاب کیلئے 7اکتوبر کو پبلک نوٹس جاری ہوگا، 9سے 11اکتوبر تک ریٹرننگ افسران کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاسکتے ہیں۔واضح رہے صدر ٹاؤن کی یوسی 13کی نشست میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ایک سے زائد نشستوں پر کامیابی کے باعث چھوڑی تھی۔

    بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

  • کے ڈی اے میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل،19ملازمین جعلی قرار

    کے ڈی اے میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل،19ملازمین جعلی قرار

    کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں جعلی بھرتیوں کی تحقیقات مکمل ہو گئی۔تحقیقات کے بعد 19 ملازمین جعلی قرار دے دیئے گے۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں جعلی بھرتیوں پر بننے والی کمیٹی نے تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ چند روز میں منظر عام پر لائی جائے گی ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے میں ابتدائی طور پر 53 ملازمین کے ریکارڈ کو چیک کیا گیا زرائع نے انکشاف کیا کہ 53 ملازمین میں سے 19 ملازمین ایسے ہیں جن کی بھرتی کا کوئی ریکارڈ کے ڈی اے کے پاس موجود نہیں ہے ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ 19 ملازمین کے ڈی اے میں سال 2023-2024 میں بھرتی کئے گئے ذرائع کے مطابق 53 مبینہ جعلی بھرتیوں میں11 ملازمین کا ڈیٹا چیک کرنے پر معلوم چلا کہ یہ افراد ڈیزیز کوٹہ پر بھرتی کئے گئے ہیں جبکہ 23 ملازمین کا ریکارڈ ویریفیکیشن کے لئے کے ایم سی بھیجا گیا ہے.
    اگر لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو اسمبلی کی رکنیت کا کوئی فائدہ نہیں،مصطفیٰ کمال
    ذرائع کے مطابق جن 11 ملازمین کا ریکارڈ نہیں ہے ان کو شو کاز نوٹسز بھیج دئیے گئے ہیں آئندہ چند روز میں ان ملازمین کے حوالے سے باقاعدہ اخبارات میں اشتہار دے دیا جائے گا جبکہ اخبارات میں ناموں کے ساتھ اشتہار میں بتا دیا جائے گا کہ ان افراد کا کے ڈی اے میں کوئی ملازمت نہیں ذرائع نے بتایا کہ کے ڈی اے میں آیندہ سے ملازمین کی بھرتی کے وقت ڈی جی کے ڈی اے کی طرف سے میڈیکل رجسٹریشن (ایم آر) نمبر جاری کیا جائے گا واضح رہے کے ڈی اے میں وزیر بلدیات سندھ کے حکم پر جعلی بھرتیوں کے حوالے سے 22 اگست کو 3 رکنی کمیٹی تشکیل کی گئی تھی، جعلی بھرتیوں پر بننے والی کمیٹی کو 14 دنوں میں رپورٹ جمع کرانے کے احکامات دئیے گئے تھے۔

  • کراچی کے حق اور وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ،ْ جماعت اسلامی

    کراچی کے حق اور وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ،ْ جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی کے حق اور وسائل پر کسی کو سانپ نہیں بننے دیں گے ،پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے اداروں اور وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے ،خود کام کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو مقامی بینکویٹ میں جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن کے چیئرمینوں ،وائس چیئرمینوں اور بلدیاتی ذمہ داران کے ہمراہ بلدیاتی رپورٹر کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا .15 ماہ قبل قابض میئر نے زبردستی منتخب ہو کر حلف اٹھایا اس کے بعد کراچی کے شہری پہلے سے زیادہ اذیت اور کرب کا شکار ہوئے ،کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے ماضی میں بھی صرف جماعت اسلامی نے ہی کراچی کا مقدمہ لڑا اور آئندہ بھی لڑیں گے ،عوام کے حقوق اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات لے کر رہیں گے ،جماعت اسلامی کے 9ٹاؤنز میں 10 ماہ کے دوران اختیارات و فنڈز کی کمی کے باوجود مثالی کام کیے گئے ۔

    حکومت کراچی کے مسائل پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    100 سے زائد پارکوں کو بحال کر کے عوام کے لیے کھولا گیا ،بڑے پیمانے پر شجر کاری کی گئی اور اب اربن فاریسٹ بنارہے ہیں ،31 سرکاری سکولوں کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کی گئی ،38 ہزار سے زائد اسٹریٹ لائٹز نصب کی گئیں، 72 ہزار فٹ سے زائد سیوریج لائنوں کا کام کروایا گیا اور 100 ہزار فٹ پانی کی لائنیں ڈلوائی گئی جن سے 1200 گھرانوں نے پینے کے پانی کی سہولت حاصل کی ،ہمارے ٹاؤن چیئرمینوں نے نئی گاڑیاں خریدنے کے بجائے پرانی اور ناقص گاڑیوں کو قابل استعمال بنا کر کروڑوں روپے کی بچت کی ۔ہمارا عزم ہے کہ بقیہ 4سال میں اپنے 9ٹاؤنز کو شہر کے ماڈل ٹاؤن بنائیں گے ۔تقریب سے جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے خطاب کیا۔
    جبکہ ڈپٹی پارلمانی لیڈر قاضی صدر الدین نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن اور 87 یو سیز میں 10 ماہ کے دوران کیے جانے والے تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے کاموں پر مشتمل پریزنٹیشن پیش کی۔اس موقع پر بلدیاتی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے ٹائون چیئر مینز کے ساتھ منعقدہ تقریب کو سراہا اور آئندہ بھی باہمی رابطوں پر زور دیا ۔
    منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے گئے 1973 کے آئین کے تحت اس دور میں بلدیاتی اداروں کو دیے گئے ،اختیارات بھی موجودہ بلدیاتی نظام میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو دینے پر تیار نہیں ،اس کا واضح مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی کو عوامی مسائل کے حل سے کوئی سروکار نہیں ہے یہ صرف مال بنانا چاہتی ہے اور اس نے کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھ رکھا ہے ،16 سال میں کراچی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ،اربوں روپے کا ترقیاتی بجٹ سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن کی نذر ہو چکا ہے۔
    کراچی کے عوام بجلی و پانی کے بحران ،صفائی ستھرائی اور سیوریج کے ناقص انتظام ،سڑکوں کی خستہ حالی ،ٹوٹ پھوٹ اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سمیت بے شمار مسائل کا شکار ہیں۔سڑکوں کی تعمیر و استرکاری میں نا اہلی اور کرپشن واضح طور پر کھل کر سامنے آگئی ہے۔حالیہ بارش سے قبل 4ارب روپے کی بنائی گئی سڑکیں بارش میں بہہ گئی۔ایک ماہ سے زائد وقت ہو گیا ہے 14 سڑکوں کی ناقص تعمیر اور ٹوٹ پھوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آئی اور اس نااہلی و کرپشن کے کسی ذمہ دار کے خلاف عملا کوئی کاروائی نہیں کی گئی ،وزیر اعلی سندھ ،وزیر بلدیات اور قابض مئیر باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں، شرجیل میمن ہر دو ماہ بعد میڈیا پر ا ٓکر اعلان کرتے ہیں کہ ریڈ لائن پروجیکٹ مکمل ہونے والا ہے لیکن 20 کلومیٹر سے زائد سڑک کھود کر رکھ دی گئی ہے اور یونیورسٹی پر سفر عوام کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے لیکن یہ منصوبہ مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔
    منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی کے ساتھ ہمیشہ زیادتی اور حق تلفی کی گئی ہے ،کراچی 42 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے قومی خزانے میں 67 فیصد اور صوبہ سندھ کے بجٹ کا 96 فیصد حصہ کراچی فراہم کرتا ہے لیکن کراچی کو اس حساب سے عملا کچھ نہیں کچھ نہیں دیا جاتا،شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے اور کراچی کے عوام تاجر اور صنعت کار سب پریشان ہیں ۔جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن چیئرمین سندھ حکومت کے دیے گئے اختیارات وسائل سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں اور وہ کام بھی کروا رہے ہیں جو کہ ایم سی کی ذمہ داری ہے ۔
    ہمارے ٹاؤن چیئرمینوں نے اپنے بجٹ سے سرکاری ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کو ممکن بنایا ،کے ایم سی کی ذمہ داری ہے کہ بارش کے فوری بعد جراثیم کش اسپرے کرائے ، کے ایم سی کے پاس گاڑیاں ،عملہ اور وسائل موجود ہیں ،شہر میں بیماریاں پھیل رہی ہیں لیکن کے ایم سی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔جماعت اسلامی نے الخدمت کے تعاون سے ٹاؤن کی سطح پر بلاتخصیص پورے شہر میں جراثیم کش اسپرے مہم شروع کی ہے اور ہم تمام ٹاؤنز میں فیومیگیشن کرائیں گے ۔
    منعم ظفر خان نے کہاکہ کراچی کے عوام کی بڑی بدقسمتی ہے کہ 19سال سے کے فور کا منصوبہ نا مکمل ہے ،نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے اپنے دور میں کے تھری پروجیکٹ مکمل کیا اور کے فور شروع کیا لیکن ان کے بعد آنے والی کسی حکومت نے اسے مکمل نہیں کیا ۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہاکہ بلدیاتی نظام اور اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے میڈیا اپنا کردار اداکرے کیونکہ دنیا بھر کے ملکوں میں شہروںکو اختیارات اور وسائل دیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں تعمیر و ترقی کے کام ہوتے ہیںاور مسائل حل ہوئے ہیں۔
    2001 میں بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیے گئے جس کے نتیجے میں تعمیر و ترقی کے کام کیے گئے لیکن موجودہ بلدیاتی قانون بدنیتی پر مبنی ہے۔ بلدیاتی قوانین میں ابہام پایا جاتا ہے اوریونین کمیٹی کے پاس صفر اختیارات ہیں۔ سندھ حکومت نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے تحت کوڑا اٹھانے کا نظام بنادیا جس میں یونین کمیٹی اور ٹاؤن چیئرمینز کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہے۔
    پورا نظام بدنیتی پر مبنی ہے ۔ٹاؤن کے ایکسین کے پاس صرف 3 لاکھ روپے کی پاور ہے۔ شہر کے وہ تمام ادارے جو سروسز فراہم کرنے والے ہیں ان سب پر سندھ حکومت نے قبضہ کرلیا ہے جس میں صرف اور صرف کرپشن کی جارہی ہے۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی سندھ حکومت ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرچکی ہے ،ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کو بھی سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی میں تبدیل کردیا گیا۔
    اندرون سندھ سے کرپٹ اور نااہل افسران بھارتی کردیے ہیں جو صرف اور صرف مال کمانے میں مصروف ہیں،وزیر بلدیات سعید غنی صرف اور صرف پوسٹنگ وٹرانسفر پر لگے ہوئے ہیں۔ وزارت بلدیات بدترین صورتحال پر ہے اور کرپشن کا اڈہ بنا ہوا ہے۔وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی زبردستی چیئرمین بنائے گئے ہیں جو اینٹی انکروچمنٹ کے ایم سی کے عملے کو اپنے علاقے میں آنے نہیں دیتے۔
    سعید غنی کے بھائی زبردستی پارکنگ کے پیسے جمع کرتے ہیں جس کا کے ایم سی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میگا پروجیکٹ اور کلک کے نام پر فنڈز فضول خرچ کیا جارہا ہے جس میں ٹاؤن چئیرمینز اور یونین کمیٹی کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ سسٹم کے نام پر ہر ادارے میں بدترین کرپشن کا نظام ہے۔ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز کے علاؤہ باقی ٹاؤنز میں کوئی ڈویلپمنٹ کا کام نظر نہیں آرہا۔
    جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے نہ خود کرپشن کرتے ہیں اور نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔ کے ایم سی نے اربوں کھربوں روپے بغیر کسی ٹینڈر کے خرچ کردیے اور بل بنادیے گئے ہیں۔سسٹم کے نام پر کرپشن کا دھندا کراچی کو تباہ و برباد کردے گا۔آج تک سٹی کونسل کی کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی۔ سٹی کونسل میں کوئی بھی فیصلہ رائے شماری سے نہیں کیا جاتا۔کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی ،قابض مئیر آمرانہ سوچ کے تحت کام کررہے ہیں ۔

  • کے ایم سی فائر ہیڈکوارٹر کی تمام ہیلپ لائن بند، بڑا سانحہ رونما ہونے کا خدشہ

    کے ایم سی فائر ہیڈکوارٹر کی تمام ہیلپ لائن بند، بڑا سانحہ رونما ہونے کا خدشہ

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن(کے ایم سی)فائر ہیڈکوارٹر کی تمام ہیلپ لائن بند ہونے سے شہر میں کہیں بھی لگنے والی آگ پر ہنگامی کارروائی ممکن نہیں ہوسکے گی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کا عملہ گزشتہ روز سے ہیلپ لائن مکمل بند ہونے سے پریشان ہے۔شہر میں کہیں بھی لگی آگ پر فوری قابو پانا ہے تو کے ایم سی فائر ٹینڈر کو بر وقت اطلاع دینی لازمی ہے۔لیکن یہ ممکن تب ہوگا جب کے ایم سی فائر ہیڈ کوارٹر کی ہیلپ لائن کام کریں گی۔
    کے ایم سی فائر ہیڈکوارٹر کے باہر ترقیاتی کام تو کیا گیا ہے لیکن کام کے باعث زیر زمین ٹیلی فون لائن میں خرابی پیدا ہوگئی جس سے کراچی کو آگ سے بچانے والے ہیڈکوارٹر کی ہیلپ لائنیں متاثر ہوگئیں۔چیف فائر آفیسر اشتیاق احمد نے بتایا کہ گزشتہ روز سے لائن خراب ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ خرابی جلد دور کردی جائے گی لیکن تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔شہر میں آگ لگنے کی صورت میں فائر بریگیڈ سے بروقت رابطہ نہ ہونے پر کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔حکام کے مطابق ہیلپ لائن ٹھیک ہونے کے بعد فا ئر بریگیڈ فوری کارروائی کرسکے گی۔

    سندھ کی تمام برانچز سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کا اجرا شروع

  • شہر میں سڑکوں کی مرمت کا کام تیز کیا جائے،مئیر کراچی

    شہر میں سڑکوں کی مرمت کا کام تیز کیا جائے،مئیر کراچی

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ تمام اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے کام کی رفتار تیز کی جائے، لوگوں کی تکالیف کو دور کرنا ہی مسائل کا حل ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میئر کراچی کی زیرِ صدارت محکمہ انجینئرنگ کا اجلاس ہوا جس میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کو آئندہ سالوں میں فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہو گی، 10 سی11 ارب روپے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت اور 3 ارب روپے ٹیکسز کی مد میں ملیں گے۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ معیاری کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو ہی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے ٹھیکے دیے جائیں، کے ایم سی کی تمام سڑکوں اور انڈر پاسز کی اسٹریٹ لائٹس فوری ٹھیک کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی ترجیح سڑکوں کی تعمیر اور انفرا اسٹرکچر کی بہتری ہے، عوام کے ایم سی کے اچھے اور معیاری کام کو سراہتی ہے، آئی آئی چندریگر روڈ کی تعمیر ایک اچھی اور معیاری سڑک کے طور پر مکمل کی جائے۔

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    میئر کراچی نے کہا کہ شاہراہ اورنگی، بلوچ کالونی روڈ، میوہ شاہ روڈ کے کام کو تیزی سے مکمل کیا جائے، تمام ٹھیکے میرٹ پر دیے جائیں اور سفارش قبول نہ کی جائے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کے ایم سی نے اس سال نالوں کی صفائی بہتر انداز میں کی ہے۔

    سڑکوں کی ناقص تعمیر کی تحقیقات کرائی جائے ،ْجماعت اسلامی کراچی

  • بلدیہ عظمیٰ کراچی اور المصطفیٰ ویلفیئرسوسائٹی ، کراچی کو ایک بہتر شہر بنانے کے لیے پر عزم

    بلدیہ عظمیٰ کراچی اور المصطفیٰ ویلفیئرسوسائٹی ، کراچی کو ایک بہتر شہر بنانے کے لیے پر عزم

    ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ سماجی و فلاحی تنظیموں نے تعلیمی و طبی شعبے میں شہریوں کی بہترین خدمت کی ہے اور اپنی مثبت سرگرمیوں کی بدولت لوگوں کا اعتماد حاصل کیا ہے- بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر میں مصروف عمل ایسے تمام اداروں کے تعاون سے کراچی کو ایک بہتر شہر بنانے کے لئے پرعزم ہے- یہ بات انہوں نے المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر حاجی محمد حنیف طیب سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہوں نے جمعرات کے روز ایڈمنسٹریٹر کراچی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے تحت شہر میں جاری سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلات بتائیں، انہوں نے کہا کہ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے تحت 500 سے 600 تک یتیم بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں تعلیم کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ یتیم بچوں کے لئے میرا گھر،سینئر سٹیزن کے لئے گوشہ امیر حمزہ، بے سہارا خواتین کے لئے گوشہ خاتون جنت کے نام سے 3 یتیم خانے تعمیر کئے گئے جبکہ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے تحت اسپتال اور شفاء خانے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں شہری مستفید ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلد یہ عظمیٰ کراچی کی طرف سے شہر کی سڑکوں اور شاہراہوں کو بہتر بنانے اور شجرکاری کے لئے کی جانے والی کوششیں قابل قدر ہیں اور اس حوالے سے ہرممکن تعاون کرنا چاہتے ہیں-

    ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے حاجی محمد حنیف طیب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی پر مامور شہر کا مرکزی ادارہ ہے لہٰذا یہ ادارہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، ابتدائی طور پر موجودہ انفراسٹرکچر کو ہی ٹھیک کیا جا رہا ہے جس کے بعد مزید منصوبوں پر کام شروع ہوگا، انہوں نے کہا کہ شہر کے قبرستانوں کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے سماجی و فلاحی تنظیموں کی شمولیت سے مینجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں کیونکہ یہ شہر کی ایک اہم ضرورت ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ بڑے شہروں میں فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیاں چیلنج بن کر سامنے آرہی ہیں جن سے نمٹنے کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے لہٰذا عنقریب بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کر رہے ہیں جس کے دوران 70 ہزار پودے لگائے جائیں گے اور ان کی نگہداشت کا بھی انتظام کیا جائے گا، اس حوالے سے المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی تعاون کرے انہوں نے کہا کہ شہر میں بہتری کے لئے شروع کئے جانے والے کاموں میں سماجی و فلاحی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھرپور ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے جسے کراچی کے لئے نیک فال کہا جاسکتا ہے۔