Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • ضمنی الیکشن: کوہلو میں  پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ حملہ

    ضمنی الیکشن: کوہلو میں پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ حملہ

    کوہلو: بلوچستان کے ضلع کوہلو میں ضمنی الیکشن کی ری پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ حملہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی :لیویز حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کوہلو کے حلقہ پی بی 9 میں آج ری پولنگ ہورہی ہے جہاں نساؤ پولنگ اسٹیشن کے قریب نامعلوم سمت سے راکٹ داغا گیا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، کوہلو میں آج علی الصبح نساؤ روڈ پر بارودی سرنگ کا دھماکا بھی ہوا تھا جس میں وڈیرہ رب نوازمحفوظ رہے جب کہ ان کی گاڑی کوشدید نقصان پہنچا تھا، حلقہ پی بی 9 کے 4 اسٹیشنز میں آج ری پولنگ ہورہی ہے مگر صبح ساڑھے 6 بجے کوہلو سے نکلنے والا پولنگ عملہ اب تک نساؤ پولنگ اسٹیشن نہ پہنچ سکا جس کی وجہ سے پولنگ کا عمل شروع نا ہوسکا۔

    دوسری جانب محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) سے فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد مارے گئے،سی ٹی ڈی حکام کے مطابق فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں خیبرپختونخوا سے پنجاب میں داخل ہونے والے 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے،دونوں دہشتگرد بھکرکے قریب سی ٹی ڈ ی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے، دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے، مارے گئے دہشتگرد حساس تنصیبات پر حملوں میں ملوث تھے اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔

  • ضمنی الیکشن کے دوران موبائل سروس کی بندش،پی ٹی اے  کا اعلامیہ جاری

    ضمنی الیکشن کے دوران موبائل سروس کی بندش،پی ٹی اے کا اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: ملک میں کل ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران موبائل سروس کی بندش سے متعلق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی اے نے اعلامیے میں کہا کہ وزارت داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں 21 اور 22 اپریل 2024 کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران پنجاب اور بلوچستان کے چند اضلاع میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل رہے گی، یہ فیصلہ انتخابی عمل کو بلا تعطل اور شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے ۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے وفاقی حکومت نے سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی کے دستے تعینات کرنے کی منظوری دے دی، سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی کے دستے کوئیک ر سپانس فورس کے طور پر استعمال ہوں گے، سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی کے دستے دوسرے اور تیسرے ٹیئر کے طور پر استعمال ہوں گے، وفاقی حکومت کی جانے سے منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے احکامات جاری کر دئیے ہیں ، اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی کے دستے آج سے 22 تک 21 حلقوں میں دستیاب ہوں گے۔

    ڈاکٹر سوما گھوش ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو ضمنی انتخابات میں سکیورٹی فراہم کرنے کی در خواست کی تھی، قومی اور صوبائی اسملی کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخاب کل ہونے جا رہے ہیں۔

    20 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    تحریک انصاف کی بدقسمتی ہے ہر پروپیگنڈا خود ہی ایکسپوز ہوجاتا ہے،عظمیٰ بخاری

  • بلوچستان میں بارشوں سے تباہی،امدادی کاروائیاں جاری

    بلوچستان میں بارشوں سے تباہی،امدادی کاروائیاں جاری

    پاک فوج اور ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی سول انتظامیہ کےہمراہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے پیش نظر امدادی کارروائیاں جاری ہیں

    بلوچستان کے علاقوں چمن، نوشکی اور قلعہ عبداللہ کےنواحی علاقوں سے مشینوں کے ذریعے پانی کا اخراج جاری ہے، شہریوں‌ کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا جارہا ہے، پاک فوج کی جانب سے سیلاب زدگان میں پکا ہوا کھانا تقسیم کیا جارہا ہے،سیلاب زدگان کی مددکیلئے چمن کےعلاقے زرقوم کلی میں ایف سی بلوچستان کی جانب سےفری میڈیکل کیمپ قائم کردیا گیا ہے،میڈیکل کیمپ میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف تعینات ہے،تمام سیلاب زدگان کومفت ادویات اورکھانے پینےکی اشیاء فراہم کی جارہی ہیں، ایف سی کی جانب سے پی ڈی ایم اے کو مکمل معاونت فراہم کی جارہی ہے،ایمرجنسی کیمپس کیلئے فلڈریلیف آشیاء جس میں گیس سیلنڈرز اور ٹینٹس شامل ہیں سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچا دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے بلوچستان کا کہنا ہےکہ شمال مشرقی اور مغرب میں مغربی موسمی لہرکمزورپڑگئی ہے اور بارشیں تھم گئی ہیں،تاہم بلوچستان کے علاقوں میں طوفانی بارشوں سے مواصلاتی رابطہ نظام شدید متاثرہوا ہے اور رابطہ سڑکوں کوبری طرح سے نقصان پہنچاہے،چمن ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں تک پہنچ رہی ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں،متاثرہ بالائی علاقوں میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے خیمے، خوراک اور گھریلوسامان فراہم کیا گیا ہے مگر لینڈلائن، پی ٹی سی ایل، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز اب بھی معطل ہے، کوژک ٹاپ کے مختلف مقامات پرلینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹادیا گیا اور کوئٹہ چمن شاہراہ ہر قسم کی آمدورفت کیلئے کھول دی گئی ہے جب کہ پی ڈی ایم اے کی مشینری رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں

    بلوچستان میں 12 اپریل سے اب تک جاری بارشوں سے11 اضلاع متاثر ہوئے جبکہ مختلف واقعات میں 15افراد کی موت ہوئی ہےجبکہ 10زخمی ہوئے ہیں،گوادر میں چار روز بعد بھی گھروں اور تعلیمی اداروں سے پانی نہیں نکالا جاسکا ، گوادر کے مرادی گاؤں میں اب بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے، تباہی کے باعث گاؤں کے متعدد افراد 4 روز سے اونچی جگہ پر محصور ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔چاغی میں بارش سے 35 مکانات تباہ اور 65 کو جزوی نقصان پہنچا گواد اور پشین میں بارش سے 30 مکانات کو نقصان پہنچا، صوبے میں بارش سے ایک پل سمیت 6 سڑکیں متاثر ہوئیں

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مزید سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے ،این ڈی ایم اے

    وزیراعظم کا صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

    سیلاب نے بلوچستان میں تباہی مچا دی، کراچی کا رابطہ منقطع

    بلوچستان میں طوفانی بارش، چھتیں گرنے سے 9 افراد زخمی، لڑکی جاں بحق

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

    دوران پرواز 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنیوالے کو ملی سزا

  • میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

    میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

    میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

    قصے اورکہانیاں \ آغا نیاز مگسی

    میر ظفر اللہ خان جمالی کو پاکستان کے تیرہویں اور بلوچستان سے منتخب ہونے والے پہلے وزیر اعظم کا اعزاز حاصل رہا ہے وہ اس سے قبل بلوچستان کے وزیر اعلی، جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1985 میں ہونے والے غیر جماعتی عام انتخابات میں بلوچستان کے ضلع نصیر آباد سے ایم این اے منتخب ہو کر وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں پانی و بجلی کے وفاقی وزیر رہے اس کے علاوہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے جنرل ایوب خان کے مقابلے میں وہ انتخابات کے دورن محترمہ فاطمہ جناح کے سیکورٹی گارڈ اور پولنگ ایجنٹ بھی رہے ۔ ۔ میر ظفر اللہ جمالی کا 2 دسمر 2020 میں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالاجی راولپنڈی کے ہسپتال میں انتقال ہوا۔ میر ظفر اللہ جمالی کے چچا زاد بھائی میر جعفر خان جمالی کے فرزند میر تاج محمد جمالی بلوچستان کے وزیر اعلی رہے ان کے بھائی میر سکندر حیات جمالی وفاقی سیکریٹری اور بلوچستان کے چیف سیکریٹری رہے ان کے ایک اور قریبی رشتہ دار میر جان محمد جمالی ایک بار بلوچستان کے وزیر اعلی دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دو بار سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین رہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اپنے علاقہ کو پختہ سڑکیں تک نہیں دے سکے کوئی طبی ادارہ یا ہسپتال اور کوئی یونیورسٹی نہیں دے سکے میر ظفر اللہ جمالی نے اپنے علاقے میں صرف ایک کیڈٹ کالج قائم کیا لیکن اس کے باوجود میر ظفر اللہ جمالی جب تک زندہ رہے وہ خود بھی اور میر جان محمد جمالی بھی فرشتوں کے ووٹ سے کامیابی حاصل کرتے رہے یہ دونوں رہنما کسی ایک جماعت میں جم کر نہیں رہے بلکہ ہر اس جماعت میں شامل ہوتے رہے جہاں سے انہیں اقتدار میں آنے کی امید نظر آتی تھی لیکن جوں ہی میر ظفر اللہ جمالی کی وفات ہوئی تو ناکامیاں ان کے خاندان کا مقدر بن گئیں یا یوں کہا جائے کہ ان کی آزمائشیں شروع ہو گئی ہیں ۔ میر ظفر اللہ جمالی نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے چھوٹے فرزند اور جانشین عمر خان کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل کرا لیا تھا اور پھر ان کو صوبائی وزیربھی بنوا لیا تھا۔

    11 اپریل 2024 کو عید الفطر کے دوسرے روز ہمارا روجھان جمالی جانے کا اتفاق ہوا روجھان جمالی میں میر ظفر اللہ خان جمالی کے لیے جو نشست مختص تھی اس نشست پر ہمیں ظفر اللہ خان کے پوتے اور میر عمر خان جمالی کے فرزند میر عبدالوہاب جمالی براجمان نظر آئے ۔ میر ظفر اللہ جمالی نے اپنے چھوٹے فرزند میر عمر خان کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کر دیا تھا میر صاحب کی وفات کے بعد میر عمر خان اس نشست پر بیٹھا کرتے ہیں ظفر اللہ خان کے دوسرے بیٹے اس نشت پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ میر عبدالوہاب کے اس مخصوص نشست پر بیٹھنے سے جمالی قبیلے کو یہ ایک پیغام دیا گیا ہے کہ میر عمر خان کا یہ برخوردار ان کا سیاسی و قبائلی جانشین ہے ۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نے ایچی سن کالج اور اس کے بعد لارنس کالج میں تعلیم حاصل کی تھی پھر ان کے فرزند میر عمر خان جمالی نے بھی ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی اور اب میر عبدالوہاب جمالی بھی ایچی سن کالج میں زیر تعلیم ہیں ۔ میر ظفر اللہ جمالی کی مخصوص نشست پر بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ابھی باضابطہ طور پر جانشینی کی تربیت شروع ہو چکی ہے اور سیاسی قیادت و رہنمائی کے لیے ان کی ذہن سازی کی جا رہی ہے ۔ میر ظفر اللہ جمالی کی وفات کے بعد پہلی بار 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں میر ظفر اللہ کے دو بیٹے میجر رٹائر جاوید خان جمالی قومی اسمبلی اور عمر خان جمالی صوبائی اسمبلی کی نشست پر ہار گئے اس کے علاوہ میر جان محمد جمالی بھی شکست سےدوچار ہوئے میر ظفر اللہ جمالی کے نااہل قرار پانے والے بھتیجے سابق صوبائی وزیر میرفائق جمالی کی اہلیہ محترمہ راحت جمالی بھی صوبائی اسمبلی کی نشست ہار گئیں تاہم پی پی پی کی جانب سے راحت جمالی کو خواتین کی مخصوص نشست کے لیے سینیٹر بنایا گیا۔ میر ظفر اللہ جمالی کے فرزند اور سیاسی جانشین خود میر ظفر اللہ جمالی اور ان کے بیٹے سابق صوبائی وزیر عمر خان جمالی کی خراب کارکردگی کا ان کی شکست کی وجہ ہے جبکہ عمر خان نے ابھی سے اپنے کمسن بیٹے میر عبدالوہاب جمالی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا ہے ۔ میر ظفراللہ جمالی کی مخصوص نشست پر صرف عمر خان اور عبدالوہاب بیٹھ سکتے ہیں اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ ہم نے اس دوران دیکھا اور محسوس کیا کہ عمر خان کی غیر موجودگی میں صرف میر عبداوہاب بیٹھ سکتے ہیں جبکہ اس دوران میر ظفر اللہ کے بیٹے میر جاوید جمالی اس نشست کو صرف حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہے تھے مگر اس نشست پر بیٹھ نہیں سکے کیوں کہ مسئلہ ”جانشینی“ کا ہے ۔

  • گوادر سمیت مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ، ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ

    گوادر سمیت مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ، ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ

    کوئٹہ: گوادر سمیت مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ہورہی ہے، پی ڈی ایم اے کے جاری الرٹ کے مطابق صوبے کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : مغربی ہواؤں کا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہوگیا ،جس کے تحت تفتان، نوکنڈی اور دالبندین سمیت پاک ایران اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے،گوادر میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے جب کہ تیز ہواؤں کے وجہ سے چھوٹی اور بڑی کشتیوں کو نقصانات پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ، گوادر، کیچ، آواران، چاغی، خاران، پسنی ،اورماڑہ، لسبیلہ، خضدار، قلات، نوشکی، جھل مگسی، نصیر آباد، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورالائی، ہرنائی، زیارت، چمن اور قلعہ سیف اللہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی برسات ہوئی۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا میں حالیہ بارش کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 32 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 15 بچے اور 5 خواتین بھی شامل ہیں،حادثات میں 41 افراد زخمی بھی ہوئے،زخمیوں میں 6 خواتین، 28 مرد اور 7 بچے شامل ہیں۔

  • بلوچستان میں طوفانی بارش، چھتیں گرنے سے 9 افراد زخمی، لڑکی جاں بحق

    بلوچستان میں طوفانی بارش، چھتیں گرنے سے 9 افراد زخمی، لڑکی جاں بحق

    جھل مگسی ،باغی ٹی وی (نامہ نگاررحمت اللہ بلوچ)بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشیں جاری ہیں جس دوران چھتیں گرنے کے واقعات میں 9 افراد زخمی اور ایک لڑکی جاں بحق ہوگئی۔

    بلوچستان کے علاقے کوہلو، موسیٰ خیل، ژوب، شیرانی، مستونگ، نوشکی اور قلات میں شدید طوفانی بارش اور ژالہ باری ریکارڈ کی گئی جب کہ چمن، قلعہ عبداللہ، پشین، زیارت، مستونگ، مسلم باغ، کان مہترزئی اور قلات میں ژالہ باری سے باغات اوردرختوں کو نقصان پہنچا، تیز ہواؤں سے کئی علاقوں میں سولرپینلز طوفانی ہوا میں اڑگئے۔طوفانی بارشوں اور ژالہ باری سے سنجاوی، پشین،توبہ کاکڑی، شیلاباغ ، قلعہ عبداللہ اور پشین کے دیہی علاقوں کے زمینی رابطے منقطع اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب پسنی میں وارڈ نمبر 5 میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر 4 بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہوئے، ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا۔ پشین میں 15 کے قریب گھروں کو نقصان پہنچا،سیلابی ریلے کے کے باعث بند ہونے والے ہنہ اوڑک اور چشمہ اچوزئی کے راستے دوبارہ بحال ہوگئے۔ کیچ کے علاقے تمپ میں سیلابی ریلے میں پھنسے 7 افراد کو ریسکیو کیا گیا، درہ بولان میں پنجرہ پل کے مقام پر پانی کا بہاؤجاری ہے، پی ڈی ایم اے کی شہری اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر نہ کرنے کی ہدایت،چشمہ اچوزئی سیلابی ریلے میں گذشتہ رات پھنسی گاڑیوں کو نکال دیا گیا۔ پشین میں بھی درجنوں لوگوں کو ریسکیو کیاگیا.

    ضلع خیبر میں مسلسل بارشوں سےکئی گھر اورحجروں کانقصان،شہریوں کی حکومت سے مدد کی اپیل
    ضلع خیبر کے تحصیل لنڈی کوتل میں بھی مسلسل بارشوں سے نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ،لنڈی کوتل کے علاقہ بھائی خیل میں حاجی ایوب شینواری کے گھر کی چار دیواری گر گئی ہے ،تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ متاثرہ خاندان نے پی ڈی ایم اے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے تاکہ گھر کی چار دیواری دوبارہ تعمیر کی جاسکی۔دوسرے واقعہ میں پاک افغان بارڈر تورخم سے ملحقہ علاقہ میں بارشوں سے گھروں اور حجروں کو نقصان پہنچا ہے، مقامی ذرائع کے مطابق لنڈیکوتل کے علاقہ پسید خیل مورگی خیل میں گزشتہ رات سے جاری مسلسل بارشوں سے خلیل رخمان کی حجرہ کی دیوار اور چھت گر گئی ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔متاثرہ خاندان نے پی ڈی ایم حکام سے مالی تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ حجرہ کی دیوار دوبارہ تعمیر کی جاسکے۔ گزشتہ روز پشاور تورخم ہائی وے پر پل تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے ایک ٹیکسی کار سیلابی ریلے میں بہہ گئی، کار میں سوار افراد کو مقامی لوگوں نے بچالیا۔

    بارشوں سے نقصانات، وزیراعظم کی این ڈی ایم اے کو لائحہ عمل وضع کرنے کی ہدایات
    وزیراعظم شہباز شریف نے بارشوں کے نقصانات سے متعلق این ڈی ایم اے کو حکومتوں کے ساتھ مل کر جامع لائحہ عمل وضع کرنے کی ہدایات کی ہیں، ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج ہمارا پہلا سیکٹوریل ریویو ہے، ہم معیشت پر کئی اجلاس کر چکے ہیں، آج پاور دویژن کا پہلا سیکٹوریل ریویو ہے، ان بارشوں سے ڈیم بھریں گے اور پن بجلی میں فائدہ ہوگا لیکن اس بارش میں کافی جانی نقصانوں کا بھی ضیاع ہوا ہے،این ڈی ایم اے کو ہدایت دی ہے کہ وہاں امدادی سامان پہنچایا جائے جہاں جہاں اس کی ضرورت ہے۔

    دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے بعد واسا نے ہائی الرٹ جاری کردیا ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہیوی مشینری اور واسا کے عملے کو نشیبی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے،پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں گرج چمک کے ساتھ مزید طوفانی بارشوں کے امکانات ہیں، ڈی جی خان ، کوہ سلیمان کے ندی نالوں میں تغیانی متوقع ہے ، مری اور گلیات میں بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے ،آسمانی بجلی کی گرج چمک کے امکانات زیادہ ہیں ۔

    مسلسل بارش کی وجہ سے لوئر دیر لقمانبانڈہ تحصیل خال میں گل دازیب نامی شخص کا مکان گر گیا، اس میں 4 بندے ابھی تک ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں، امدادی کام جاری ہے۔

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

    دوران پرواز 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنیوالے کو ملی سزا

    کپڑے اتارو،مجھے…دکھاؤ، اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کو مرد مجسٹریٹ کا حکم

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    چترال مسلسل بارشوں کی وجہ سے مختلف مقامات پر دو افراد جاں بحق ، کئی گھرمنہدم
    چترال کے طول وعرض میں گزشتہ 24گھنٹو ں سے مسلسل بارشوں کی وجہ سے مختلف مقامات پر دو افراد جان بحق ہوگئے اور کئی گھرمنہدم ہوگئے جبکہ چترال پشاور روڈ، بونی روڈ، گرم چشمہ روڈ، اپر چترال میں بونی تورکھو روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند ہوگئے ہیں جبکہ بمبوریت وادی میں عیدالفطر کے موقع پر آئے ہوئے سینکڑوں سیاح پھنس کر رہ گئے ہیں کیونکہ بمبوریت روڈ ایون گاؤں سے آگے درجنوں مقامات پر بند ہے۔ چترال پشاور روڈ عشریت کے کوچھان گول، دروش کے کڑدام گول اور چمور کھون کے مقام پر سیلابی ملبہ کی وجہ سے بند ہے۔ چومور کھون کے مقام پر ایک غیر مقامی سیاح کی گاڑی کو مقامی افراد نے سیلابی ملبہ سے نکال لی ہیں۔ ایس ایچ او سٹی پولیس اسٹیشن چترال بلبل حسن نے میڈیا کو بتایاکہ ہفتہ کی صبح چیو ڈوک کے مقام پر دوگھر مسلسل بارش کی وجہ سے منہدم ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں ایک خاتون جان بحق ہوگئی جبکہ کئی افراد زخمی ہوگئے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں داخل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ چترال پولیس کے جوان اور ریسکیو 1122کی ایمرجنسی ٹیم نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد ایک کمسن بچی کو منہدم گھر کے ملبے ریسکیو کرنے میں کامیاب ہوگئے جنہیں معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

    اسی طرح اپر چترال کے گاؤں استارو میں ایک چرواہا طوفانی بارش میں راستہ بھول کر پہاڑسے گرکر جان بحق ہوگیا۔ بکرآباد بالا میں بھی دو گھر منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوئی۔ اسی طرح چترال بونی رڈ پر واقع کوغوزی گاؤں میں ایک گھر پر پہاڑی پتھر گرگئی تاہم گھرکے مین معجزانہ طور پر محفوظ رہ گئے۔ کالاش وادی رمبور میں پراکڑاک میں ایک رہائشی مکان منہدم ہوئی لیکن کسی جانی نقصان کی اطلا ع نہیں ملی۔

    چترال بونی کا مصروف ترین روڈ نیردیت، کاری اور شاچار کے مقامات پر پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند ہے جبکہ گرم چشمہ روڈ بیل پھوک، انداختی اوردوسرے متعدد مقامات پر پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے بند ہے اور لوٹ کوہ کی مختلف وادیوں کریم آباد، ارکاری اور سوسوم بھی بارش کی وجہ سے بند بتائی جاتی ہیں۔ اپر چترال میں بونی تورکھو روڈ بھی ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند ہے اور اپر چترال اور گلگت بلتستان کو ملانے والی شندور روڈ بھی بند ہے۔

    دو دن کی بارشوں کے بعد اپر چترال کے ریچ، تریچ، لاسپور میں جبکہ لویر چترال میں گوبور میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 4سے 8انچ تک برف پڑنے کی اطلاع موصول ہوئی ہیں۔چترال ائرپورٹ روڈ بھی چیو پل کے قریب پہاڑی تودہ گرنے سے بند ہے جس کی وجہ سے بلچ اور اس سے اوپر علاقوں کے لوگ لینیک روڈ استعمال کررہے ہیں۔ 1980ء میں تعمیر شدہ چیو پل میں شگاف پڑنے کی وجہ سے فی الحال موٹر گاڑیوں کی ٹریفک کے لئے بند کردی گئی ہے۔اپر چترال میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے تمام سیلولر نیٹ ورک سولر بیٹریوں کے بیک اپ نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں جس کی وجہ سے ٹیلی کمیونیکیشن کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہے اور ان متاثرہ علاقوں میں رابطہ ممکن نہیں رہا۔ ان علاقوں میں لویر چترال کے گرم چشمہ، ارکاری، سوسوم، جنجریت کوہ، شیشی کوہ، کالاش ویلیز، گولین جبکہ اپر چترال کے تریچ، ریچ، کھوت، لاسپور، یارخون، نوگرام، اویر اور دوسرے علاقے شامل ہیں۔ دریں اثناء ڈی سی چترال نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام سرکاری افسران کی تعطیلات منسوخ کر کے اسٹیشن رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی.

    بارشیں،غیر ضروری سفر اور تفریحی مقامات کی طرف جانے سے اجتناب کریں،وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر کا عوام کو مشورہ
    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں سے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے، رومینہ خورشید عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلینجر کا سامنا ہے۔ حالیہ بارشوں سے بلوچستان اور کے پی کے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ ریسکیو و ریلیف کے اداروں سے رابطہ میں ہیں۔ریسکیو اداروں کو ریلیف آپریشن میں تیزی لانے کی ہدایات کی ہیں۔ عوام ریسکیو اداروں سے تعاون کریں، امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔عوام غیر ضروری سفر اور تفریحی مقامات کی طرف جانے سے اجتناب کریں۔

    بلوچستان کو آفت زدہ قرار دے کر زمینداروں کے زرعی بل معاف کئے جائیں، عبدالغفور حیدری
    جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفورحیدری نے ملک بھر میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ انصار الاسلام کے کارکن گھروں سے نکل کر لوگوں کی مدد کو پہنچیں ۔پی ڈی ایم اے بلوچستان کے تمام اضلاع میں اپنی سرگرمیاں تیز کردیں ۔بلوچستان کو آفت زدہ قرار دے کر زمینداروں کے زرعی بل معاف کردیا جائے ۔گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں کچی آبادیاں ملیا میٹ ہوگئی ہے ۔رفاعی ادارے اور پی ڈی ایم اے بلوچستان میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے لوگوں کی مدد کو پہنچیں۔

  • بلوچستان، بس سے اتارکر 9 مسافروں سمیت 11 افراد قتل

    بلوچستان، بس سے اتارکر 9 مسافروں سمیت 11 افراد قتل

    نوشکی میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق 9 افراد کی میتیں کوئٹہ روانہ کر دی گئی ہیں

    لاشوں کو کوئٹہ سے آبائی علاقوں میں بھجوایا جائے گا،جہاں انکی تدفین کی جائے گی، مارے جانے والے تمام افراد کا تعلق پنجاب سے ہے

    نقاب پوش افراد آئے، نو افراد کو اتار ا اور کہا بس کو آگے لے جاؤ، مسافر
    نوشکی واقعہ، بس میں سوار مسافر نے آنکھوں دیکھا حال بتا دیا، نوشکی واقعے کی بس میں سوار دیگر افراد سٹی تھانہ نوشکی میں موجود ہیں،بس میں سوار مسافر سجاد نے واقعی بارے بتاتے ہوئے کہا کہ ہم 15 مرد اور 4 خواتین ایران جا رہے تھے، کوئٹہ سے بس میں سوار ہوئے، بس میں تقریباً 70 افراد سوار تھے، نوشکی کے قریب نقاب پوش بندے گاڑی میں آئے، بس کو روکا، 9 افراد کو بس سے اتارا اور ڈرائیور سے کہا کہ بس کو آگے لے جاؤ، ڈرائیور بس کو آگے تھانے تک لے گیا،ہم لوگ نوشکی تھانے میں موجود ہیں، کچھ مقامی افراد تھے، وہ چلے گئے ہیں،

    نوشکی میں قتل ہونے والے شاہزیب کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اسکے پاس ایران کا ویزہ تھا دیگر مقتولین کے پاس بھی ایران اور عراق کے ویزے تھے یہ سب زیارات کے لئے جا رہے تھے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ نوشکی میں دہشتگرد تنظیم کے ہاتھوں مارے جانے والے مزدوروں کی یہ لاشیں اس ملک کی عدالتیں سے سوال کر رہی ہیں کہ کب تک اس ملک کی عدالتیں ان دہشتگردوں کے لواحقین کے مظلومیت کے ڈارمے دیکھ کر ان دہشتگردوں کو مسنگ پرسن کہہ کر ان دہشتگردوں کو بےعزت بری کر کے مظلوموں کا یوں ہی قتل کرتی رہے گی ؟

    https://twitter.com/Dukhtar_E_B/status/1779052921146978322

    بلوچستان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، ضلع نوشکی میں نا معلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے 2 مختلف واقعات میں 11 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے ہیں،ڈپٹی کمشنر نوشکی کے مطابق نوشکی کے مقام پر قومی شاہراہ پر ایک بس سے مسلح افراد نے 9 مسافروں کو اغوا کیا اور انہیں قریبی پہاڑوں کی جانب لے گئے، مسافر بس کوئٹہ سےتفتان جارہی تھی پولیس کا کہنا ہے کہ نوشکی سے اغوا کیے جانے والے 9 مسافروں کی لاشیں پہاڑی کے قریب پل کے نیچے سے ملیں، مرنے والوں کا تعلق منڈی بہاؤ الدین،گوجرانوالہ اور وزیرآباد سے ہے،پولیس کے مطابق کسی اغوا کار کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی تصدیق نہیں ہوسکی

    نوشکی میں شہید ہونے والوں میں سے زیادہ افراد کا تعلق منڈی بہاوالدین سے ہے ،مسلح افراد نے مسافروں کو نوشکی سے تقریبا ایک کلو میٹر دور کوئٹہ نوشکی تفتان این 40 شاہراہ پر بس سے اتارا تھا،مسلح افراد نے بس میں مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کئے تھے،مغویوں کی لاشیں کچھ فاصلے پر ایک پُل کے نیچے سے ملیں،ایس ایچ او نوشکی اسد مینگل کا کہنا ہے کہ مسافروں کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا،مقتولین کو جسم کے مختلف حصوں میں گولیاں ماری گئیں

    نوشکی، بس واقعہ میں جاں‌بحق افراد کے نام
    1 ساجد عمران ولد محمد عارف ساکن منڈی بہاوالدین
    واسق فاروق ولد محمد فاروق رانا ساکن وزیر آباد
    مزمل حسین ولد محمد علی ساکن منڈی بہاوالدین
    مظہر اقبال ولد محمد اشرف ساکن منڈی بہاوالدین
    محمد ابوبکر ولد محمد اسلم ساکن منڈی بہاوالدین
    محمد قاسم ولد محمد اعظم ساکن منڈی بہاوالدین
    7 جاوید شہزاد ولد محمد ارشد ساکن افضل پور
    تنزیل ولد جاوید ناصر منڈی بہاوالدین
    رانا شاہ زیب ولد عبدالحمید ساکن گجرانوالہ

    نوشکی میں قومی شاہراہ پر گاڑی پر فائرنگ کے ایک اور واقعے میں 2 افرادجاں بحق اور 3 زخمی ہوئے ہیں،ڈی سی نوشکی نے بتایا کہ ایک جاں بحق شخص رکن صوبائی اسمبلی کا رشتے دارہے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے نوشکی میں فائرنگ سے 11 افرادکے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو معاف نہیں کیا جائے گا، معصوم افراد پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کا پیچھا کریں گے، دہشت گردی کے واقعات کا مقصد بلوچستان کے امن کوسبوتاژ کرنا ہے۔

    نوشکی واقعہ،وزیراعظم کا اظہار افسوس،قرار واقعی سزا دی جائے گی،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے میں قومی شاہراہ 40 پر بس مسافروں کے اغواء کے بعد قتل کے اندوہناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے وزیراعظم نے اس لرزہ خیز واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رنج کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، دہشت گردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

    بلوچستان میں خونریزی کرنے والے بلوچستان کی ترقی کے دشمن ہیں، بلاول
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نوشکی بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت کی ہے اور ہدایت کی ہے کہ وزیر اعلی بلوچستان معصوم انسانوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔بلاول زرداری نے نوشکی میں قتل ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ بیگناہ اور معصوم انسانوں کے قاتلوں کو عبرت ناک سزا ملے گی، بلوچستان میں خونریزی کرنے والے بلوچستان کی ترقی کے دشمن ہیں،

    بے رحمی سے بھارتی پراکسیوں کا صفایا کیا جائے۔ جان اچکزئی
    سابق نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ نوشکی میں بے گناہ مزدوروں کے قتل کے بعد بہت ہو گیا۔ مندرجہ ذیل اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔ 1. دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مکمل آپریشن کے لیے بلوچستان کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ 2. BYC اور مہرنگ بلوچ پر پابندی لگائی جائے اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے جو انہیں پروپیگنڈے کے لیے جگہ دیتے ہیں۔ 3. دہشت گردوں کو تیزی سے پھانسی دینے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور دیگر تمام دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو پھانسی دی جائے جو عام عدالتوں میں ٹرائل کے منتظر ہوں۔ 4. لاپتہ افراد اور "ناراض بلوچ” کی تمام باتوں اور نعروں پر پابندی عائد کی جائے۔ 5. ڈرون کی مدد سے سمارٹ کائینیٹک آپریشنز شروع کیے جائیں۔ 6. ایران اور افغانستان میں ان کی پناہ گاہیں ہمیشہ کے لیے تباہ کر دی جائیں۔ 7. بے رحمی سے ان بھارتی پراکسیوں کا صفایا کیا جائے۔

    وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کاکہنا ہے کہ بلوجستان کے ضلع نوشکی میں دہشتگردی کا واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ بے گناہ اور معصوم افراد کی جانیں لینا کسی طور انسانیت نہیں۔ سانحہ نوشکی ملک میں صوبائی منافرت پھیلانے کی گھناؤنی سازش ہے۔ ایسے ملک دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جانبحق افراد کی مغفرت فرمائے، آمین۔ دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

  • نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    قصے اور کہانیاں/آغا نیاز مگسی

    بلوچستان قبائلی نوابوں اور سرداروں کی سرزمین ہے . اس سرزمین میں کٸی نامور قباٸلی سرداروں نے جنم لیا ہے . قیامِ پاکستان سے قبل جو نامور بلوچ سردار گزرے ہیں ان میں سردار چاکر خان رند ، سردار گوہرام خان لاشاری ، خان آف قلات نوری نصیر خان ، میر محراب خان ، میر محمود خان و دیگر اکابرین ہیں لیکن ان میں نواب یوسف عزیز مگسی ان سب سے مختلف ثابت ہوئے اس لیے کہ انہوں نے روایتی قباٸلی سوچ اور جنگ و جدل کے برعکس شعور و آگاہی کی تحریک چلاٸی اور علم کی شمع روشن کرنے کی مہم شروع کی تھی اور بلوچستان کے قبائلی سماج میں سیاسی جدوجہد کی ابتدا بھی انہوں نے کی ۔ اس لیے نواب یوسف عزیز مگسی کو اولین بلوچ قاٸد کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے .

    قیامِ پاکستان کے بعد جو بلوچ نواب اور سردار سیاسی اور قباٸلی لحاظ سے عزت اور شہرت کی بلندیوں پر فاٸز ہوٸے ان میں میر غوث بخش بزنجو جن کو بابائے بلوچستان بھی کہا جاتا ہے ، میر جعفر خان جمالی جن کو فدائے ملت بھی کہا جاتا ہے ، کے علاوہ نواب اکبر خان بگٹی سردار عطا اللّٰہ مینگل نواب خیر بخش مری نواب نوریز خان زہری، سردار دودا خان زہری ، نواب غوث بخش رئیسانی ، میر ظفراللّٰہ خان جمالی و دیگر اکابرین شامل ہیں. اگر ان شخصیات میں سے شارٹ لسٹ بنائی جائے تو ان میں صرف 4 قبائلی سربراہان کے نام آئیں گے جن میں نواب نوریز خان زہری ، نواب اکبر خان بگٹی ، سردار عطا اللّٰہ مینگل اور سردار دودا خان زہری شامل ہیں . سردار دودا خان زہری کا کوئی سیاسی کردار اور کوئی سماجی خدمت نہیں تھی لیکن ان کا نام خوف اور دہشت کی علامت بنا ہواتھا . بلوچستان میں خان آف قلات میر محمود خان احمد زئی چیف آف جھالاوان سردار دودا خان زہری اور نواب اکبر خان بگٹی 3 ایسے قبائلی سربراہ گزرے ہیں جن کا نام لیتے ہوئے بھی لوگوں کے دلوں پر ہیبت طاری ہو جایا کرتی تھی. اس حوالے سے آج بھی ان کی مثالیں دی جاتی ہیں .

    نواب اکبر خان بگٹی کی شخصیت بہت پُراسرار اور دلچسپ تھی. وہ بہت کم گو اور مختصر گفتگو کیا کرتے تھے . اس لیے ان سے کسی کا بے تکلف ہونا بہت مشکل تھا مگر مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ گفتگو میں مجھ سے کافی حد تک بے تکلف تھے اس لیے مجھے ان سے عام نوعیت کے سوالات کے علاوہ ذاتی اور نجی زندگی کے متعلق بھی سوالات کرنے میں آسانی رہتی تھی . نواب بگٹی بہت ضدی، انا پرست اور بہادر انسان تھے ان میں لچک نہیں تھی . کہا جاتا ہے کہ انسان ہو یا دوسرا کچھ جس میں لچک نہیں ہوتی وہ ٹوٹ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ نواب صاحب نے بھی زندگی کے کارِزار میں ٹوٹنا پسند کیا لیکن جھکنا کسی صورت قبول نہیں کیا اور باالاآخر وہ 26 اگست 2006 کو ٹوٹ گئے . وہ تمام عمر کشیدہ سر رہے ، جھکے نہیں . وہ بہت بااصول اور عملیت پسند انسان تھے اور اس میں کبھی بھی مصلحت یا سودیبازی کا شکار نہیں ہوتے تھے . وہ دوستی اور دشمنی خوب نبھاتے تھے خواہ کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو . وہ عدل اور انصاف کا قاٸل تھے . ایک بار ان کے فرزند نوابزادہ طلال بگٹی نے ڈیرہ بگٹی میں اپنے شہر کی ایک ہندو لڑکی سے جنسی زیادتی کر ڈالی جس پر وہ اپنے بیٹے کو قتل کرنا چاہتے تھے مگر لوگ درمیان میں بیچ بچاٶ کرانے آ گٸے . انہوں نے اپنے بیٹے طلال کی اس شرط پر جان بخشی کی کہ وہ ابھی اور اسی وقت ڈیرہ بگٹی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل جاٸے چنانچہ نوابزادہ طلال وہاں سے علاقہ بدر ہو کر چلا گیا اور جب تک نواب صاحب زندہ رہے طلال سے نہ صرف کبھی بھی رابطہ نہیں رکھا بلکہ اسے کبھی واپس آنے نہیں دیا .

    نواب اکبر خان بگٹی کی وفات پر نوابزادہ طلال کی واپسی ممکن ہو سکی . 1977 کو جب جنرل ضیاالحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا تو جب تک ملک میں مارشل لا رہا نواب بگٹی نے قومی زبان اردو میں بات چیت کا بائیکاٹ کیا . اس طرح 8 سال تک انہوں نے اردو میں بات نہیں کی . وہ قانون کا بہت احترام کرتے تھے اور کرپشن کے سخت مخالف تھے بلوچستان میں وہ واحد شخصیت تھے جو پوری دیانتداری کے ساتھ اپنی آمدن کا ٹیکس ادا کیا کرتے تھے . انہوں نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال تک خود کو ڈیرہ بگٹی میں محدود اور محصور کر رکھا اور کہیں باہر نہیں گیا اور اس دوران گوشت کا سالن بھی نہیں کھایا .

    ایک بار میں نے ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے گوشت کا استعمال کیوں ترک کیا حالانکہ وہ بلوچی سجی بڑے شوق سے کھاتے تھے اور دوسرا یہ کہ وہ ڈیرہ بگٹی سے باہر کیوں نہیں جاتے تو انہوں نے بڑا دلچسپ اور حیران کن جواب دیا . انہوں نے کہا کہ میں بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی شخصیت سے متاثر ہوں اس لیے ان کی تقلید کرتے ہوٸے گوشت کا استعمال ترک کیا ہے انہوں نے وضاحت کی کہ بدھ مت مذہب میں صوفی ازم پایا جاتا ہے جس پر عمل کرنے والوں کو شاکاری کہا جاتا ہے وہ لوگ گوشت نہیں کھاتے . ڈیرہ بگٹی سے باہر نہ جانے کے متعلق میرے سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے ڈیرہ بگٹی سے باہر جانا اس لیے چھوڑ دیا ہے کہ تمام دنیا کی نظریں ڈیرہ بگٹی پر لگی ہوٸی ہیں چناں چہ میں اپنی زندگی کا بقیہ حصہ ڈیرہ بگٹی میں گزارنا چاہتا ہوں حالانکہ نواب بگٹی سیر و سیاحت ااور مطالعے کے بڑے شوقین تھے . انہوں نے 22 ممالک کا دورہ کیا تھا جن میں امریکہ اور برطانیہ بھی شامل تھے . جبکہ پاکستان میں لاہور ان کا پسندیدہ شہر تھا . وہ اس سے قبل ہر سال سردیاں گزارنے لاہور جایا کرتے تھے . وہ اتنے خوبصورت اور متاثر کن شخصیت کے مالک تھے کہ لوگ ان کو پہلی نظر میں دیکھنے کے بعد باربار دیکھنے کے آرزومند رہتے تھے ان میں مرد خواہ خواتین دونوں شامل تھے .

    ڈیرہ بگٹی میں نواب بگٹی کے مہمان خانہ میں ان کی نشست و برخاست اور خلوت کے لیے مخصوص کمرے میں ایک شیر کی تصویر آویزاں تھی میں نے ان سے پوچھا اس کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ لندن میں ایک سکھ سردار میرا دوست ہے اس نے یہ تحفہ دیا ہے اس لیے میں نے سنبھال رکھا ہے جس سے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ شاید نواب صاحب نے خود کو شیر سے تشبیہہ دے رکھی ہے اور اس میں کوٸی شک بھی نہیں کہ وہ ایک شیر دل انسان تھے . ان کی پسند بھی بہت دلچسپ تھی . ان کی آٸیڈیل شخصیات 3 تھیں جن میں حکمرانوں میں دنیا کو تباہ کن جنگ میں دھکیلنے والے جرمنی کے سربراہ ہٹلر ، شعرا میں بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور اور مذہبی شخصیات میں بدھ مت کے بانی گوتم بدھ شامل تھے . وہ سخی اور فیاض قسم کے سردار تھے . ڈیرہ بگٹی میں ان کے مہمان خانے میں روزانہ 200 کے لگ بھگ افراد کو ان کی جانب سے مفت کھانا کھلایا جاتا تھا اور وہ کھانا نہایت عمدہ اور لذیذ ہوتا تھا جس میں امیر اور غریب کی کوئی تخصیص نہیں تھی .

    ایک دفعہ مجھے صحافی دوستوں نے نواب بگٹی سے ڈیرہ بگٹی میں خصوصی ملاقات اور انٹرویو کیلٸے وقت مانگنے کا کہا میں نے فون پر ان سے وقت مانگا تو انہوں نے کہا کہ آپ لوگ جب چاہیں آ سکتے ہیں . اس سلسلے میں ایک روز ان کی ہدایت پر دریحان بگٹی نے مجھے فون کرکے معلوم کیا کہ نواب صاحب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کتنے دوست کب اور کس راستے سے اور کون سی سواری پر آٸیں گے سو میں نے اپنے صحافی دوستوں عبدالستار ترین دھنی بخش مگسی شیخ عبدالرزاق اور محمد وارث دیناری سے مشورہ کر کے ان کو شیڈول بتا دیا . جب اور جس دن ہم روانہ ہوئے تو راستے میں ایک پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے میرے صحافی دوستوں کو دوپہر کو اپنے ہاں کھانا کھلانے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے ہمیں ڈیرہ بگٹی جانے میں تاخیر ہو گٸی اور راستے میں ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی میسر نہیں تھی . جب ہم ڈیرہ بگٹی شہر میں داخل ہوئے تو وہاں کے شہری ہمیں بتانے لگے کہ نواب صاحب آپ لوگوں کی تاخیر کے باعث فکر مند ہیں اور باربار پوچھ رہے تھے . جب ہم ان سے ملے تو انہوں نے مسکراتے ہوۓ کہا کہ میں تو بی بی سی میں آپ لوگوں کے ڈیرہ بگٹی جاتے ہوئے اغوا ہونے کی خبر سننے کا منتظر تھا . ان سے اس رات ہماری طویل اور یادگار نشست ہوئی.

    نواب بگٹی بلوچستان کے گورنر وزیر اعلیٰ اور متحدہ پاکستان کے ابتدائی دور میں وزیر دفاع کے عہدے پر بھی فائز رہے . وہ اپنے بگٹی قبیلے میں اتنے مقبول اور قابلِ احترام تھے کہ وہ لوگ ایک برگزیدہ ہستی کی طرح نواب بگٹی کے سر اور داڑھی کی قسم کھا کر کسی بات کا یقین کراتے تھے مگر 24 اگست 2006 کو اس کے اپنے ہی قبیلے کے ہزاروں افراد نے ڈیرہ بگٹی میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد کر کے نواب اکبر بگٹی کو سرداری کے منصب سے ہٹانے اور بگٹی قبیلے میں سرداری نظام کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ان میں ان کے بھتیجے اور ان کے ہی منتخب کردہ ایم پی اے حاجی جمل خان بگٹی بھی شامل تھے جبکہ میں بھی اس جرگے میں میڈیا کوریج کے لیے موجود تھا . اس دن بگٹی قبیلے میں بڑا جوش و خروش محسوس ہو رہا تھا . اس سے صرف 2 روز بعد ہی 26 اگست 2006 کو ضلع کوہلو کے پہاڑوں کی ایک غار میں نواب صاحب کے جانبحق ہونے کا سانحہ پیش آیا . جہاں سے 3 روز بعد ان کی میت برآمد ہوٸی اور ان کی مسخ شدہ لاش کو ڈیرہ بگٹی میں سپرد خاک کیا گیا . ان کی میت کی تدفین کے موقع پر بھی میں وہاں موجود تھا وہ ایک بڑا عبرتناک منظر تھا. ان کی جنازہ نماز اور تدفین میں صرف ایک درجن کے لگ بھگ مقامی افراد شریک ہو سکے تھے جنہوں نے جنازہ نماز کے بعد ان کے تابوت کو بھی لحد میں اتارا تھا جس کے لیے وہاں آنسوں بہانے اور ان کی قبر پر پھول نچھاور کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

  • ہرنائی،گاڑی کے قریب دھماکہ، ایک اہلکار شہید،14 زخمی

    ہرنائی،گاڑی کے قریب دھماکہ، ایک اہلکار شہید،14 زخمی

    ہرنائی،گیس کمپنی کی گاڑی کے قریب بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا ہے

    دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید 14 زخمی ہو گئے ہیں،دھماکے سے زخمی ہونے والے متعدد افرار کی حالت تشویشناک ہے، دھماکے سے زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے ، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی مزید نفری سیکورٹی فورسز اور لیویز فورس جائے واقع کی جانب روانہ ہو گئی ہے

    وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ہرنائی دھماکہ دہشتگردوں کا بزدلانہ وار ہے, بلوچستان کے عوام اور سیکورٹی فورسز متحد ہوکر امن دشمنوں کے خلاف کھڑے ہیں،دہشت اور وحشت پھیلانے والوں کے خلاف جنگ میں فتح امن کی ہوگی،معصوم اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے،افسوسناک واقعہ میں زخمی ہونےوالوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کیں جائیں

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • سینیٹ انتخابات،الیکشن کمیشن نے تیاریاں مکمل کر لیں

    سینیٹ انتخابات،الیکشن کمیشن نے تیاریاں مکمل کر لیں

    سینیٹ انتخابات میں کل 59 امیدوار میدان میں،الیکشن کمیشن نے تیاریاں مکمل کرلیں

    اسلام آباد سے 4، پنجاب سے 9، سندھ سے 20، خیبر پختونخوا سے 26 امیدوار میدان میں ہیں، بلوچستان سے تمام امیدوار بلا مقابلہ سینیڑ منتخب ہوچکے ہیں،پنجاب سے جنرل نشستوں کے امیدوار بھی بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں، بلوچستان سے جنرل، خواتین اور علماء ٹیکنوکریٹ کی نشست پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ،وفاقی دارالحکومت سے جنرل نشست پر 2 اور ٹیکنوکریٹ نشست پر 2 امیدوار میدان میں ہیں،پنجاب سے خواتین نشست پر 4، ٹیکنوکرئٹ علماء نشست پر 3، غیر مسلموں کی نشست پر 2 امیدوار حصہ لے رہے ہیں،سندھ سے جنرل نشست پر 11، خواتین نشست پر 3، ٹیکنوکریٹ نشست پر 4 اور غیر مسلم نشست پر 2 امیدوار میدان میں ہیں،خیبر پختونخوا سے جنرل نشست پر 16، خواتین نشست پر 4، علماء ٹیکنوکریٹ نشست پر 6 امیدوار میدان میں ہیں

    سینیٹ انتخابات میں جنرل نشست پر 29، خواتین نشست پر 11 اور ٹینکوکریٹ نشست پر 15 اور غیر مسلم نشست پر 4 امیداور میدان میں ہیں

    بلوچستان، سینیٹ کی تمام 11 خالی سیٹوں‌پر امیدوار بلامقابلہ منتخب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    پنجاب میں بڑا معرکہ،سات سینیٹر بلا مقابلہ منتخب