Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • صدر مملکت سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    صدر مملکت سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    کوئٹہ: صدر مملکت آصف علی زرداری سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری اہم سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچے جہاں ہوائی اڈے پر اُن کا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور دیگر حکام نے استقبال کیا، صدر مملکت کو بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اورترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، صدر مملکت کے اعزاز میں وزیرِاعلٰی بلوچستان عشائیہ دیں گے جس میں آصف علی زرداری نومنتخب ممبران اسمبلی سے ملاقات بھی کریں گے۔

    جیل میں بیٹھے شخص کے آرٹیکل غیر ملکی جریدوں میں کیسے چھپ رہے ہیں، شرجیل …v

    سونا مزید مہنگا نئی قیمت2 لاکھ 40 ہزار 500 روپے ہو گئی

    دوسری جانب گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا،نئے گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل کی تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ہوئی جہاں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے ان سے حلف لیا گورنر بلوچستان کی تقریب حلف برداری میں سبکدوش گورنر ملک عبدالولی کاکڑ اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بھی شریک ہوئے،اس کے علاوہ تقریب میں صوبائی وزرا، اراکین اسمبلی، سیاسی شخصیات اورحکام بھی شریک تھے۔

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس، کمیشن کی رپورٹ پر چیف جسٹس برہمv

  • چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او  شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    نصیر آباد کا کمشنر ، ڈی آئی جی، ڈی سی اور ایس ایس پی ”بندوق کے سائے میں“
    چھتر کے دو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایک صحافی
    چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوتا ہے

    آغا نیاز مگسی

    ضلع نصیر آباد کا چھتر شہر عام شہریوں خواہ سرکاری افسران کے لیے نو گو ایریا بلکہ سندھ اور پنجاب کے ڈاکوؤں کے ”کچے“ کے علاقہ کی مانند ہے یہاں پر کوئی بھی محفوظ نہیں ہے ۔ گزشتہ 40 سال سے بلوچستان حکومت چھتر کے علاقہ کو محفوظ علاقہ نہیں بنا سکی اور نہ ہی یہاں پر اسسٹنٹ کمشنر کو اس کے دفتر میں بٹھا سکی ہے ما سوائے دو اسسٹنٹ کمشنرز کے ۔ 1995 میں سردارزادہ سرفراز احمد ڈومکی کو اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا گیا۔ وہ پہلے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو اپنے دفتر میں بیٹھنے لگے اور اسی دور میں چھتر کی تاریخ کا واحد صحافی میں (آغا نیاز مگسی) تھا جو وہاں ڈیرہ مراد جمالی سے روزنامہ انتخاب حب \کراچی کے نامہ نگار کی حیثیت سے رپورٹنگ کرنے کے لیے گیا جہاں مجھے دیکھ کر چھتر کے مکین حیران ہو گئے میں نے سرفراز خان ڈومکی سے ملاقات کر کے وہاں کی انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مجید شاہ کہیری کے ساتھ چھتر شاہ کا جائزہ لیا اور یہاں کے شہریوں کے مسائل معلوم کیے۔ چھتر کے شہریوں نے مجھے ایک مرشد کی طرح کا احترام اور پروٹوکول دیا تھا اور وہ رات میں نے وہاں قیام کیا تھا ۔ سرفراز خان ڈومکی نے اپنے والد سردار چاکر خان ڈومکی کی وفات پر اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے سے استعفی دے دیا اور اپنے والد کی جگہ ڈومکی قبیلے کا سردار بنا ۔ سردار سرفراز خان اس وقت بلوچستان کے صوبائی وزیر بلدیات ہیں ۔ سردار سرفراز کے کافی عرصہ بعد محمد عظیم عمرانی دوسرے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو وہاں اپنے دفترمیں بیٹھنے لگے اس کے بعد آج تک دوسرا کوئی اسسٹنٹ کمشنر چھتر میں نہیں بیٹھ سکا ہے .

    وہاں کے امن و امان کی صورتحال اور خوف کا یہ عالم ہے کہ نصیر آباد کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سخت سیکورٹی اور پیرا ملٹری فورس کے تعاون کے بغیر چھتر کا ”وزٹ“ تک نہیں کر سکتے ۔ چھتر کا ایس ایچ او مقرر ہونا اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط کرنے کے مترادف ہے چناںچہ چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی بجائے ہر وقت اپنی جان بچانے کی فکر میں رہتا ہے ۔ چھتر اور اس کے گرد و نواح کے شہری ایف سی \پیراملٹری فورس کی وجہ سے وہاں مقیم ہیں ورنہ چھتر کا علاقہ عام شہریوں کی آبادی سے خالی اور کچے کی طرح ڈاکوؤں کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ۔ جس علاقے کا اسسٹنٹ کمشنر اپنے دفتر نہیں بیٹھ سکتا اور جہاں کا کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی بندوق کے سائے میں کئی سال بعد ایک دو گھنٹے کا وزٹ کر کے آئے تو اس علاقہ کے مکینوں کی زندگی کس طرح گزرتی ہے اس صورتحال کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے ۔

    بلوچستان سے بگٹی قبیلے کے کچھ افراد کچے کے ڈاکوؤں سے لڑنے کے لیے گئے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ وہ چھتر کو ڈاکوؤں سے کب خالی کرائیں گے .؟

  • کوئٹہ:  سیکریٹریز  ، ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایسپیز کی تقرریوں اور تبادلوں کا عمل آخری مرحلے میں داخل

    کوئٹہ: سیکریٹریز ، ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایسپیز کی تقرریوں اور تبادلوں کا عمل آخری مرحلے میں داخل

    کوئٹہ: (آغا نیاز مگسی) بلوچستان میں ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پی کے عہدے بچانے اور حاصل کرنے کا عمل آخری مرحلے میں داخل، صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : بلوچستان میں حکومت سازی مکمل ہونے کے بعد پولیس و انتظامی مشینری کے لیے محکموں کے سیکریٹریز ، ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایسپیز کی تقرریوں اور تبادلوں کا عمل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ذرائع کےمطابق سیکریٹری ؐ ڈی سی اور ایس ایس پی کے عہدوں کی بولیاں کروڑوں روپے تک لگائی جا رہی ہیں نگران حکومت میں تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی اپنی کرسی بچانے کےلیے ہر ممکن ذرائع استعمال کر رہے ہیں اور کھڈے لائن افسران ان عہدوں کے حصول کے لیے بہت زیادہ سرگرم ہو چکے ہیں جن میں کچھ کو کامیابی حاصل ہو چکی ہے تاہم بلوچستان کا گرین بیلٹ نصیر آباد ڈویزن ابھی تک جوڑ توڑ کے مرحلے میں ہے جس کی وجہ سے نصیر آباد ڈویزن کی پولیس اور انتظامیہ مشینری غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے ڈی سی اور ایس پی کے عہدوں کے لیے مبینہ طور پر کروڑوں روپے بطور مٹھائی کی پیشکش کی خبریں گردش میں ہیں-

    آسٹریلیا پولیس نے چاقو سے حملہ کرنیوالے نوجوان لڑکے کو گولی مار دی

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

    اسرائیل میں قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کی نشریات معطل کردی گئیں

  • بلوچستان، بارودی سرنگ کے دھماکے،ایک جاں بحق،20 زخمی

    بلوچستان، بارودی سرنگ کے دھماکے،ایک جاں بحق،20 زخمی

    بلوچستان کے ضلع دکی میں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص کی موت ہوئی ہے جبکہ 20 افراد زخمی ہوئے ہیں

    اطلاع پرپولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، زخمیوں کو علاج معالجہ کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، واقعہ ضلع دکی کے علاقہ ٹھیکیدار ندی میں پیش آیا،پولیس حکام کے مطابق پہلا دھماکا بارودی سرنگ سے کوئلے کا ٹرک ٹکرانے سے ہوا اور دوسرا دھماکا تب ہوا جب لوگ اس مقام پر جمع ہوئے ،دوسرے دھماکے میں زیادہ نقصان ہوا، بیس افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں‌کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن کا علاج معالجہ جاری ہے،

    دھماکے سے دکی پریس کلب کے صدر اللہ نور ناصر بال بال بچ گئے جوپہلے دھماکے کے بعد موقع پر پہنچے اور کوریج کر رہے تھے،

  • صوبے کے درجے سے لیکر اٹھارویں آئینی ترمیم تک بلوچستان کو حقوق پارلیمان نے دیئے،میر سرفراز بگٹی

    صوبے کے درجے سے لیکر اٹھارویں آئینی ترمیم تک بلوچستان کو حقوق پارلیمان نے دیئے،میر سرفراز بگٹی

    تربت: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کو حقوق بندوق نہیں پارلیمان سے ملے ہیں،صوبے کا درجہ ملنے سے لے کر اٹھارویں آئینی ترمیم تک بلوچستان کو حقوق پارلیمان نے دیئے-

    باغی ٹی وی : تربت میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو حقوق بندوق نہیں پارلیمان سے ملے ہیں،صوبے کا درجہ ملنے سے لے کر اٹھارویں آئینی ترمیم تک بلوچستان کو حقوق پارلیمان نے دیئے،بندوق سے آزادی نہیں مل سکتی آج بھی مسئلہ پارلیمان ہی حل کرے گی،کوئی بھی مسئلہ اگر مذاکرات سے حل ہوتا ہے تو مذاکرات سے کون انکار کرسکتا ہے، مذاکرات چاہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس سے کریں ، کوئی مذاکرات ہی نہیں چاہتا تو کیا کیا جائے ، اگر کوئی مذاکرات کے بجائے طاقت کا راستہ اپناتا ہے تو آئین ہمیں یہ حق دیتا ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کریں ، اگر کوئی امن وامان خراب کرتا ہے معصوم لوگوں کو نشانہ بناتا ہے تو ریاست اس کے خلاف کارروائی کرے گی،لاپتہ افراد سمیت تمام حل طلب مسائل پرپارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے، ایک بھی شہری لاپتہ نہیں ہونا چاہیے، بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، جہاں ضرورت ہوگی دہشتگردوں کیخلاف سمارٹ ٹارگٹڈ کارروائی کی جائے گی۔

  • سیکیورٹی فورسز نے  ہرنائی میں مسافر گاڑیوں کو روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام بنا دی

    سیکیورٹی فورسز نے ہرنائی میں مسافر گاڑیوں کو روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام بنا دی

    ہرنائی: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا اور دوسرا زخمی ہوگیا، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی سنجاوی روڈ ہرنائی پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کو روکنے کی کوشش ناکام بنا دی جس سے کئی معصوم جانیں بچ گئیں-

    باغی ٹی وی :آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، دہشت گردوں نے سنجاوی روڈ ہرنائی پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور دہشت گردوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا،اس کے بعد علاقے میں کسی بھی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن بھی کیا گیا، سکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔

    پنجاب پولیس کی افسر شاندار کارکردگی پر عالمی ایوارڈ کیلئے منتخب

    سندھ اسمبلی کے پارلیمانی سفر کے 87 سال مکمل ،بلاول بھٹو کا پیغام جاری

    کراچی: غیرقانونی چیکنگ پر ٹریفک پولیس کے 17 افسران اور اہلکار معطل

  • ضمنی الیکشن: کوہلو میں  پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ حملہ

    ضمنی الیکشن: کوہلو میں پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ حملہ

    کوہلو: بلوچستان کے ضلع کوہلو میں ضمنی الیکشن کی ری پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ حملہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی :لیویز حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کوہلو کے حلقہ پی بی 9 میں آج ری پولنگ ہورہی ہے جہاں نساؤ پولنگ اسٹیشن کے قریب نامعلوم سمت سے راکٹ داغا گیا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، کوہلو میں آج علی الصبح نساؤ روڈ پر بارودی سرنگ کا دھماکا بھی ہوا تھا جس میں وڈیرہ رب نوازمحفوظ رہے جب کہ ان کی گاڑی کوشدید نقصان پہنچا تھا، حلقہ پی بی 9 کے 4 اسٹیشنز میں آج ری پولنگ ہورہی ہے مگر صبح ساڑھے 6 بجے کوہلو سے نکلنے والا پولنگ عملہ اب تک نساؤ پولنگ اسٹیشن نہ پہنچ سکا جس کی وجہ سے پولنگ کا عمل شروع نا ہوسکا۔

    دوسری جانب محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) سے فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد مارے گئے،سی ٹی ڈی حکام کے مطابق فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں خیبرپختونخوا سے پنجاب میں داخل ہونے والے 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے،دونوں دہشتگرد بھکرکے قریب سی ٹی ڈ ی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے، دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے، مارے گئے دہشتگرد حساس تنصیبات پر حملوں میں ملوث تھے اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔

  • ضمنی الیکشن کے دوران موبائل سروس کی بندش،پی ٹی اے  کا اعلامیہ جاری

    ضمنی الیکشن کے دوران موبائل سروس کی بندش،پی ٹی اے کا اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: ملک میں کل ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران موبائل سروس کی بندش سے متعلق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی اے نے اعلامیے میں کہا کہ وزارت داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں 21 اور 22 اپریل 2024 کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران پنجاب اور بلوچستان کے چند اضلاع میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل رہے گی، یہ فیصلہ انتخابی عمل کو بلا تعطل اور شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے ۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے وفاقی حکومت نے سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی کے دستے تعینات کرنے کی منظوری دے دی، سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی کے دستے کوئیک ر سپانس فورس کے طور پر استعمال ہوں گے، سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی کے دستے دوسرے اور تیسرے ٹیئر کے طور پر استعمال ہوں گے، وفاقی حکومت کی جانے سے منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے احکامات جاری کر دئیے ہیں ، اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی کے دستے آج سے 22 تک 21 حلقوں میں دستیاب ہوں گے۔

    ڈاکٹر سوما گھوش ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو ضمنی انتخابات میں سکیورٹی فراہم کرنے کی در خواست کی تھی، قومی اور صوبائی اسملی کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخاب کل ہونے جا رہے ہیں۔

    20 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    تحریک انصاف کی بدقسمتی ہے ہر پروپیگنڈا خود ہی ایکسپوز ہوجاتا ہے،عظمیٰ بخاری

  • بلوچستان میں بارشوں سے تباہی،امدادی کاروائیاں جاری

    بلوچستان میں بارشوں سے تباہی،امدادی کاروائیاں جاری

    پاک فوج اور ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی سول انتظامیہ کےہمراہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے پیش نظر امدادی کارروائیاں جاری ہیں

    بلوچستان کے علاقوں چمن، نوشکی اور قلعہ عبداللہ کےنواحی علاقوں سے مشینوں کے ذریعے پانی کا اخراج جاری ہے، شہریوں‌ کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا جارہا ہے، پاک فوج کی جانب سے سیلاب زدگان میں پکا ہوا کھانا تقسیم کیا جارہا ہے،سیلاب زدگان کی مددکیلئے چمن کےعلاقے زرقوم کلی میں ایف سی بلوچستان کی جانب سےفری میڈیکل کیمپ قائم کردیا گیا ہے،میڈیکل کیمپ میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف تعینات ہے،تمام سیلاب زدگان کومفت ادویات اورکھانے پینےکی اشیاء فراہم کی جارہی ہیں، ایف سی کی جانب سے پی ڈی ایم اے کو مکمل معاونت فراہم کی جارہی ہے،ایمرجنسی کیمپس کیلئے فلڈریلیف آشیاء جس میں گیس سیلنڈرز اور ٹینٹس شامل ہیں سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچا دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے بلوچستان کا کہنا ہےکہ شمال مشرقی اور مغرب میں مغربی موسمی لہرکمزورپڑگئی ہے اور بارشیں تھم گئی ہیں،تاہم بلوچستان کے علاقوں میں طوفانی بارشوں سے مواصلاتی رابطہ نظام شدید متاثرہوا ہے اور رابطہ سڑکوں کوبری طرح سے نقصان پہنچاہے،چمن ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں تک پہنچ رہی ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں،متاثرہ بالائی علاقوں میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے خیمے، خوراک اور گھریلوسامان فراہم کیا گیا ہے مگر لینڈلائن، پی ٹی سی ایل، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز اب بھی معطل ہے، کوژک ٹاپ کے مختلف مقامات پرلینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹادیا گیا اور کوئٹہ چمن شاہراہ ہر قسم کی آمدورفت کیلئے کھول دی گئی ہے جب کہ پی ڈی ایم اے کی مشینری رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں

    بلوچستان میں 12 اپریل سے اب تک جاری بارشوں سے11 اضلاع متاثر ہوئے جبکہ مختلف واقعات میں 15افراد کی موت ہوئی ہےجبکہ 10زخمی ہوئے ہیں،گوادر میں چار روز بعد بھی گھروں اور تعلیمی اداروں سے پانی نہیں نکالا جاسکا ، گوادر کے مرادی گاؤں میں اب بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے، تباہی کے باعث گاؤں کے متعدد افراد 4 روز سے اونچی جگہ پر محصور ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔چاغی میں بارش سے 35 مکانات تباہ اور 65 کو جزوی نقصان پہنچا گواد اور پشین میں بارش سے 30 مکانات کو نقصان پہنچا، صوبے میں بارش سے ایک پل سمیت 6 سڑکیں متاثر ہوئیں

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مزید سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے ،این ڈی ایم اے

    وزیراعظم کا صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

    سیلاب نے بلوچستان میں تباہی مچا دی، کراچی کا رابطہ منقطع

    بلوچستان میں طوفانی بارش، چھتیں گرنے سے 9 افراد زخمی، لڑکی جاں بحق

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

    دوران پرواز 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنیوالے کو ملی سزا

  • میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

    میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

    میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

    قصے اورکہانیاں \ آغا نیاز مگسی

    میر ظفر اللہ خان جمالی کو پاکستان کے تیرہویں اور بلوچستان سے منتخب ہونے والے پہلے وزیر اعظم کا اعزاز حاصل رہا ہے وہ اس سے قبل بلوچستان کے وزیر اعلی، جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1985 میں ہونے والے غیر جماعتی عام انتخابات میں بلوچستان کے ضلع نصیر آباد سے ایم این اے منتخب ہو کر وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں پانی و بجلی کے وفاقی وزیر رہے اس کے علاوہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے جنرل ایوب خان کے مقابلے میں وہ انتخابات کے دورن محترمہ فاطمہ جناح کے سیکورٹی گارڈ اور پولنگ ایجنٹ بھی رہے ۔ ۔ میر ظفر اللہ جمالی کا 2 دسمر 2020 میں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالاجی راولپنڈی کے ہسپتال میں انتقال ہوا۔ میر ظفر اللہ جمالی کے چچا زاد بھائی میر جعفر خان جمالی کے فرزند میر تاج محمد جمالی بلوچستان کے وزیر اعلی رہے ان کے بھائی میر سکندر حیات جمالی وفاقی سیکریٹری اور بلوچستان کے چیف سیکریٹری رہے ان کے ایک اور قریبی رشتہ دار میر جان محمد جمالی ایک بار بلوچستان کے وزیر اعلی دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دو بار سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین رہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اپنے علاقہ کو پختہ سڑکیں تک نہیں دے سکے کوئی طبی ادارہ یا ہسپتال اور کوئی یونیورسٹی نہیں دے سکے میر ظفر اللہ جمالی نے اپنے علاقے میں صرف ایک کیڈٹ کالج قائم کیا لیکن اس کے باوجود میر ظفر اللہ جمالی جب تک زندہ رہے وہ خود بھی اور میر جان محمد جمالی بھی فرشتوں کے ووٹ سے کامیابی حاصل کرتے رہے یہ دونوں رہنما کسی ایک جماعت میں جم کر نہیں رہے بلکہ ہر اس جماعت میں شامل ہوتے رہے جہاں سے انہیں اقتدار میں آنے کی امید نظر آتی تھی لیکن جوں ہی میر ظفر اللہ جمالی کی وفات ہوئی تو ناکامیاں ان کے خاندان کا مقدر بن گئیں یا یوں کہا جائے کہ ان کی آزمائشیں شروع ہو گئی ہیں ۔ میر ظفر اللہ جمالی نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے چھوٹے فرزند اور جانشین عمر خان کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل کرا لیا تھا اور پھر ان کو صوبائی وزیربھی بنوا لیا تھا۔

    11 اپریل 2024 کو عید الفطر کے دوسرے روز ہمارا روجھان جمالی جانے کا اتفاق ہوا روجھان جمالی میں میر ظفر اللہ خان جمالی کے لیے جو نشست مختص تھی اس نشست پر ہمیں ظفر اللہ خان کے پوتے اور میر عمر خان جمالی کے فرزند میر عبدالوہاب جمالی براجمان نظر آئے ۔ میر ظفر اللہ جمالی نے اپنے چھوٹے فرزند میر عمر خان کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کر دیا تھا میر صاحب کی وفات کے بعد میر عمر خان اس نشست پر بیٹھا کرتے ہیں ظفر اللہ خان کے دوسرے بیٹے اس نشت پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ میر عبدالوہاب کے اس مخصوص نشست پر بیٹھنے سے جمالی قبیلے کو یہ ایک پیغام دیا گیا ہے کہ میر عمر خان کا یہ برخوردار ان کا سیاسی و قبائلی جانشین ہے ۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نے ایچی سن کالج اور اس کے بعد لارنس کالج میں تعلیم حاصل کی تھی پھر ان کے فرزند میر عمر خان جمالی نے بھی ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی اور اب میر عبدالوہاب جمالی بھی ایچی سن کالج میں زیر تعلیم ہیں ۔ میر ظفر اللہ جمالی کی مخصوص نشست پر بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ابھی باضابطہ طور پر جانشینی کی تربیت شروع ہو چکی ہے اور سیاسی قیادت و رہنمائی کے لیے ان کی ذہن سازی کی جا رہی ہے ۔ میر ظفر اللہ جمالی کی وفات کے بعد پہلی بار 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں میر ظفر اللہ کے دو بیٹے میجر رٹائر جاوید خان جمالی قومی اسمبلی اور عمر خان جمالی صوبائی اسمبلی کی نشست پر ہار گئے اس کے علاوہ میر جان محمد جمالی بھی شکست سےدوچار ہوئے میر ظفر اللہ جمالی کے نااہل قرار پانے والے بھتیجے سابق صوبائی وزیر میرفائق جمالی کی اہلیہ محترمہ راحت جمالی بھی صوبائی اسمبلی کی نشست ہار گئیں تاہم پی پی پی کی جانب سے راحت جمالی کو خواتین کی مخصوص نشست کے لیے سینیٹر بنایا گیا۔ میر ظفر اللہ جمالی کے فرزند اور سیاسی جانشین خود میر ظفر اللہ جمالی اور ان کے بیٹے سابق صوبائی وزیر عمر خان جمالی کی خراب کارکردگی کا ان کی شکست کی وجہ ہے جبکہ عمر خان نے ابھی سے اپنے کمسن بیٹے میر عبدالوہاب جمالی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا ہے ۔ میر ظفراللہ جمالی کی مخصوص نشست پر صرف عمر خان اور عبدالوہاب بیٹھ سکتے ہیں اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ ہم نے اس دوران دیکھا اور محسوس کیا کہ عمر خان کی غیر موجودگی میں صرف میر عبداوہاب بیٹھ سکتے ہیں جبکہ اس دوران میر ظفر اللہ کے بیٹے میر جاوید جمالی اس نشست کو صرف حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہے تھے مگر اس نشست پر بیٹھ نہیں سکے کیوں کہ مسئلہ ”جانشینی“ کا ہے ۔